Baaghi TV

Tag: جسٹس محسن اختر کیانی

  • ہم ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ہی 25 کروڑ عوام کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں،  جسٹس محسن اختر کیانی

    ہم ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ہی 25 کروڑ عوام کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں، جسٹس محسن اختر کیانی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ہی 25 کروڑ عوام کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں-

    باغی ٹی وی : اسلام آباد میں منعقدہ نیشنل لرننگ اینڈ شئیرنگ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ دنیا میں ابھی آئیڈیاز پر بات ہو رہی ہے، عدلیہ میں ٹیکنالوجی کی شمولیت ہوچکی ہےٹیکنالوجی کے ذریعے صنفی تشدد کے تدارک کے قوانین بنا دیئے گئے، میری عمر کے لوگ اب نہیں سیکھ سکتے، نئی نسل کو ٹیکنالوجی کے ذریعے تبدیلی لانی ہے ہم تو موبائل میں ای میل کاپی پیسٹ نہیں کر سکتے۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ جسٹس مشیر عالم نے سپریم کورٹ کے کمیٹی کے سربراہ کے طور پر ہمیں ٹیکنالوجی سکھائی، ہم ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ہی 25 کروڑ عوام کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں، پاکستان میں سائبر کرائم ونگ کے پاس 15 لیب ہیں جن میں صرف دو خواتین ہیں، ہر سطح پر ٹیکنالوجی کا استعمال ہو گا تو ٹیکنالوجی سے صنفی تشدد کا تدارک ممکن ہو گا۔

    صوبہ میں امن کے حوالے سے صورتحال تسلی بخش نہیں،گورنر خیبرپختونخوا

    جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ اگر ہم یہ دیکھیں کہ ملزمان بری کیوں ہوتے ہیں بجائے اس کے کہ سزا کسے ہوتی ہے تو مسائل حل ہو سکتے ہیں، میری ذاتی رائے ہے کہ جج چیمبر میں بیٹھ کر ایک ہی طرح سے سوچنا شروع کر دیتا ہے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر جوائنٹ مشقیں ہونی چاہیں تا کہ جج کا وژن وسیع ہو، جو بھی جماعت حکومت میں آتی ہے وہ اپنے منشور کے حساب سے چیزوں کو دیکھتی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان کو ہمیشہ ترجیح دی ہے،سرفراز بگٹی

    انہوں نے کہا کہ کسی بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا پاکستان میں ریجنل دفتر نہیں ہے اور شکایات کا ازالہ نہیں ہوتا پاکستان میں میاں نواز شریف کی حکومت میں پنجاب فارنزک لیب بنی، اس وقت صنفی تشدد پر حکومت سندھ کی پالیسیز مثالی ہیں، نیشنل فارنزک اتھارٹی کا قیام ہو رہا ہے اور اس کے لیے سیاسی کوشش چاہیے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے گندم کے کاشتکا روں کیلئے پیکج کا اعلان کر دیا

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کے ریمارکس  پارلیمنٹ پر حملہ ہیں، اسپیکر قومی اسمبلی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کے ریمارکس پارلیمنٹ پر حملہ ہیں، اسپیکر قومی اسمبلی

    اسلام آباد: اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کے ریمارکس پارلیمنٹ پر حملہ ہیں-

    باغی ٹی وی: اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے اسمبلی اجلاس کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کے ریمارکس پر رولنگ دیتے ہوئے کہ کہ جج کا بیان پارلیمنٹ پر حملہ ہے، کسی کو پارلیمنٹ کے بارے میں بیان بازی کاحق نہیں ہےاسپیکر ایاز صادق نے وفاقی وزیر قانون کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ جج کو یہ پیغام پہنچائیں کہ پارلیمنٹ سپریم ہے الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن کو الگ الگ خطوط لکھ دیے ہیں۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے نتائج روکنے کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ عدلیہ، پارلیمنٹ اور انتظامیہ سمیت تمام ستون گرچکے ہیں، عدلیہ کا ستون ہوا میں ہے مگر ہم پھر بھی مایوس نہیں ہیں۔

    توجہ دی جائے تو سرکاری سکولوں کے بچے پوری دنیا فتح کرسکتے ہیں،مریم نواز

    دوسری جانب دوسری جانب اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا وقت تبدیل کردیا پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس کا شیڈول تبدیل کردیا گیا، جس کے مطابق پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کل 12 فروری کو نہیں ہوگا۔

    نئے شیڈول کے مطابق پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 17 فروری کو دن 11 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہو گا جبکہ اجلاس میں مختلف بل قانون سازی کے لیے پیش کیے جائیں گے۔

    امریکی دھمکیوں پر امت مسلمہ خاموش رہنے کی بجائےاتحادو یکجہتی کا مظاہرہ کرے.خالد مسعود سندھو

    علاوہ ازیں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے گرفتار رکن میاں غوث کے پروڈکشن آرڈرجاری کردیئےاسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے پروڈکشن آرڈر جاری ہونے کے بعد تحریک انصاف کے گرفتار رکن میاں غوث کی پارلیمنٹ ہاآس آمد ہوئی اور سردار ایاز صادق سے ان کے چیمبر میں ملاقات کی۔

    وزیراعظم پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے صدر کا دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال

    میاں غوث نے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے پر اسپیکر قومی اسمبلی کا شکریہ ادا کیا جبکہ سردار ایاز صادق کی اجازت سے میاں غوث کو پارلیمنٹ لاجز میں فیملی سے ملنے کی اجازت بھی دی گئی، پی ٹی آئی کے میاں غوث قومی اسمبلی کا اجلاس ختم ہونے کے بعد پار لیمنٹ پہنچے تھے، اجلاس ختم ہونے کے بعد میاں غوث کو دوبارہ پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔

    توجہ دی جائے تو سرکاری سکولوں کے بچے پوری دنیا فتح کرسکتے ہیں،مریم نواز

  • ہمیں وہ آزاد جج چاہییں جو عدلیہ کا تقدس برقرار رکھیں،جسٹس محسن اختر کیانی

    ہمیں وہ آزاد جج چاہییں جو عدلیہ کا تقدس برقرار رکھیں،جسٹس محسن اختر کیانی

    اسلام آباد: جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا ہے کہ مضبوط میڈیا چاہیے جو لوگوں کے سامنے ہر چیز سامنے رکھے ، مضبوط بار چاہیے جن میں سے ججز منتخب کیے جائیں، ہر بار کا حق ہے کہ اس کو جگہ ملے ،26ویں آئینی ترمیم کی بنیاد ایک خط ہے، جس نے پورے ملک کا نظام بدل کررکھ دیا ہے۔

    باغی ٹی وی ائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مضبوط میڈیا چاہیے جو لوگوں کے سامنے ہر چیز سامنے رکھے مضبوط بار چاہیے جن میں سے ججز منتخب کیے جائیں۔ ہر بار کا حق ہے کہ اس کو جگہ ملے ہم جلد اسلام آباد سے ڈیپوٹیشن پر آئے ججز کو واپس بھیجیں گے ہم اپنے اسلام آباد کے ہی ججز کو یہاں تعینات کریں گے۔

    جسٹس محسن کیانی نے کہا کہ جو فریش تعیناتیاں ہوئیں، وہ بھی اسلام آباد سے ہوں گی یہ امیج بنا ہوا ہے کہ باہر سے ججز یہاں تعینات ہو جاتے ہیں اور یہاں کے ججز کا حق ختم ہو جاتا ہے ہونا یہ چاہیے کہ جو جج تعینات ہو وہ اسلام آباد بار سے ہو مجھ سے متعلق جو تعریفی کلمات کہے گئے، میں خود کو اس کے قابل نہیں سمجھتا، میری والدہ نے کہا تھا کہ کوئی تمہیں چڑھائے تو مغرور نہ ہو جانا۔

    پی ٹی آئی نہ آئی،مذاکرات بارے سپیکر ایاز صادق نے اعلان کر دیا

    جسٹس محسن کیانی نے کہا کہ جو جدوجہد اسلام آباد ہائیکورٹ بار کونسل اور ایسوسی ایشن کر رہے ہیں وہ قابلِ تعریف ہےقانون کی درست تشریح سے ہی پاکستان کو ترقی کی منازل پر دیکھ سکتے ہیں، چاہے 26ویں آئینی ترمیم ہی ہو، آپ کو اپنے اداروں سے مایوس نہیں کر سکتے،اس طرح کے مراحل پاکستان کی تاریخ میں آتے رہے ہیں۔

    لاہور ہائیکورٹ،جیلوں میں ہلاک ہونے والے قیدیوں کی پوسٹمارٹم رپورٹس طلب

    انہوں نے کہا کہ ایک خط نے پورے ملک کے نظام کو تبدیل کر کے رکھ دیا ہے 26ویں آئینی ترمیم ایک خط کی بنیاد پر کی گئی ہے، میرا خیال ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کو بالآخر سپریم کورٹ کا فل کورٹ بینچ ہی سنے گا یہ ایشو پاکستان کے عوام اور نظام کی بقا کے لیے حل ہو گا، ہمیں وہ آزاد جج چاہییں جو عدلیہ کا تقدس برقرار رکھیں، لوگوں کی امید آج عدلیہ، پارلیمان اور میڈیا سے ہے۔

    رمضان شوگر ملز ریفرنس،مدعی کمرہ عدالت میں بیان سے منحرف

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،کشمیری شہری کے لاپتہ ہونے پرسیکرٹری داخلہ و  دفاع کو نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ،کشمیری شہری کے لاپتہ ہونے پرسیکرٹری داخلہ و دفاع کو نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ .آزاد کشمیر کے لاپتہ شہری خواجہ خورشید کی بازیابی کی درخواست پر سماعت ہوئی
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی،لاپتہ شہری کی اہلیہ خلیقہ خورشید نے بازیابی درخواست دائر کر رکھی ہے.شہری خواجہ خورشید 7 جون سے راولپنڈی سے لاپتہ ہیں ،راولپنڈی پولیس نے لاپتہ خواجہ خورشید کے بھائی کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا.

    جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ یہ بندہ راولپنڈی سے لاپتہ ہوا ہے؟ وکیل نے کہا کہ جی، راولپنڈی سے جی 13 اسلام آباد بلایا گیا اور وہاں سے کوئی اٹھا کر لے گیا، یہ وہی کیس ہے جس طرح احمد فرہاد کیس تھا، جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ یہ کہاں کا رہنے والا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ خواجہ خورشید کشمیر وادی نیلم کا رہنے والا ہے، راولپنڈی سے اسلام آباد کے علاقے جی 13 بلایا گیا وہاں سے 8 دن سے لاپتہ ہے، شریف آدمی ہے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکرٹری داخلہ و سیکرٹری دفاع کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا ،عدالت نے حکم دیا کہ سیکرٹریز آئی ایس آئی، ایم آئی اور ایف آئی اے سے معلوم کر کے ریورٹ جمع کرائیں، سیکرٹری دفاع راولپنڈی، اسلام آباد اور آزاد کشمیر کے سیکٹر کمانڈرز سے رپورٹ لے کر آگاہ کریں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے مسنگ پرسن کی اہلیہ خلیفہ خورشید کی درخواست پر احکامات جاری کیے

    احمد فرہاد کی بازیابی کیس، گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری

    وفاقی حکومت نے شاعر اور صحافی احمد فرہاد کی گرفتاری ظاہر کر دی

    اسلام آباد ہائیکورٹ،اٹارنی جنرل کی احمد فرہاد کی بازیابی کی یقین دہانی پر سماعت ملتوی

    عدالت کا احمد فرہاد کے طبی معائنے کا حکم

  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکٹر کمانڈر آئی ایس آئی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکٹر کمانڈر آئی ایس آئی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا

    لاپتہ شاعر احمد فرہاد کی بازیابی کیس کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

    جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس پر سماعت کی، درخواست گزار کی وکیل ایمان مزاری اور سینئر صحافی حامد میر بھی عدالت میں موجود تھے،احمد فرہاد کیس میں احمد فرہاد کو پیش نا کیا جا سکا،وفاقی حکومت نے احمد فرہاد کی بازیابی کے لیے مزید وقت مانگ لیا،اٹارنی جنرل منصور اعوان روسٹرم پر آگئے۔ اور کہا کہ کچھ سی ڈی آرز ملی ہیں، ان کے زریعے ٹریسں کر رہے ہیں،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں ریاست ناکام ہو چکی ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ابھی اس کو ریاست کی ناکامی نا کہیں، اگر ہم نا پیش کر سکے تو مان لوں گا کہ ریاست ناکام ہو گئی ،جسٹس محسن اخترکیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ احمد فرہاد کی بازیابی کا کیس نہیں رہا، یہ پوری قوم کی بازیابی کا مقدمہ ہے،

    آئی ایس آئی کے کام کرنے کے طریقہ کار اور بجٹ سمیت تمام تفصیلات طلب
    جسٹس محسن اختر کیانی نے سیکرٹری دفاع سے آئی ایس آئی کے کام کرنے کے طریقہ کار اور بجٹ سمیت تمام تفصیلات مانگ لیں ، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئی ایس آئی کے کام کرنے کا طریقہ کار کیا ہے، سیکٹر کمانڈر کا کیا کام ہے؟ طے کرنا ہے کہ ایجنسیاں چھپ کر نہیں بلکہ ایک واضح طریقہ کار کے تحت کام کریں گی، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ سیکریٹری دفاع کو کہیں کہ پیش ہو کر ان سوالات کا جواب دیں کہ کیسے کسی شخص سے متعلق آئی ایس آئی تحقیق کرتی ہے؟ کون کون سی سطح پر کام کیا جاتا ہے؟ آئی ایس آئی عوامی پیسے پر ہی کام کر رہی ہے، ہر ادارہ عوام کو جواب دہ ہے،ہم ججز بھی جوابدہ ہیں،اگر ادارے قابل احتساب نا ہوں اور ان کے احتساب کا کوئی طریقہ کار بھی نا ہو تو ہم کیا کریں گے؟”احمد فرہاد کا بازیاب ہونا پیچھے رہ گیا اب پورے پاکستان کے لاپتہ افراد سے متعلق گائیڈ لائن اس کیس میں طے ہو گی،آئی ایس آئی اور ایم آئی کا دائرہ اختیار کیا ہے؟ میں تو ابھی بھی یہی مانتا ہوں کہ متعلقہ ادارہ صرف پولیس کا ہے، ایف آئی اے تحقیقاتی ادارہ ہے، انٹیلی جنس ایجنسیوں نے بھی پولیس کی ہی معاونت کرنا ہوتی ہے،”ایسی کوئی ایجنسی پاکستان میں کام نہیں کر سکتی جس کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نا ہو، ہم ایجنسیز کے طریقہ کار سے متعلق judge made law بنائیں گے،

    طے کرنا ہے ایجنسیاں چھپ کر نہیں واضح طریقہ کار کے تحت کام کرینگی،جسٹس محسن اختر کیانی
    کانگریس میں کئی کئی گھنٹے سی آئی اے ایجنٹ جواب دیتا ہے، آپ بھی ڈی جی آئی ایس آئی کو بلا لیا کریں ،جسٹس محسن اختر کیانی
    اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئی ایس آئی تو وزیر اعظم آفس کے ماتحت ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا یہ تو اور آسان ہو گیا، کل کو وزیراعظم کو بلا کر پوچھیں تو کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے، آئی ایس آئی اور ایم آئی کے کام کرنے کا اندرونی طریقہ کار کیا ہے یہ واضح ہونا چاہئے، ان ایجنسیوں نے کئی اچھے کام کیے ہیں، بندہ برآمد کر لینا حل نہیں ہے بلکہ قانونی طریقہ کار بنانا ہے کہ آئندہ پولیس خفیہ ایجنسیوں والوں کو بلا کر پوچھ سکے، ایجنسیوں کے رول آف بزنس بتانا ہوں گے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ انٹیلے جنس اہجنسیوں کا سیکیورٹی کے حوالے سے طریقہ کار تو طے ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہاکانگریس میں کئی کئی گھنٹے سی آئی اے ایجنٹ جواب دیتا ہے، آپ بھی ڈی جی آئی ایس آئی کو بلا لیا کریں ،دس دن ہو گئے، پتا نہیں اس بیچارے کا کیا حال ہو گا، اس کیس میں صحافیوں، انسانی حقوق کے نمائندوں اور سابق آئی جیز کو معاون مقرر کروں گا، دیکھیں نا ایجنسیوں پر الزام لگا ہے، موجودہ کیس میں واضح الزام آئی ایس آئی پر ہے، جن کا بندہ مرا ہو یا غائب ہو انہیں پتا ہوتا ہے کہ براہ راست کون ملوث ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں اس الزام کی واضح نفی کر چکا کہ احمد فرہاد آئی ایس آئی کے پاس نہیں ہے، ابھی احمد فرہاد کی بازیابی کی امید ختم نہیں ہوئی، ہو گی تو عدالت کو خود بتا دوں گا۔وکیل ایمان مزاری نے کہا کہ احمد فرہاد سے وڈیو بیان لینا چاہ رہے ہیں کہ وہ باہر آ کر ویسے نہیں بولے گا جیسے بولتا تھا، مشروط رہائی کا کہا جا رہا ہے، احمد فرہاد کی جان کو خطرہ لاحق ہے،

    تحفظ قانون دے گا، کسی سے دشمنی کی بات نا کریں۔جسٹس محسن اختر کیانی
    صحافی احمد فرہاد کیس میں جسٹس محسن اختر کیانی کے سامنے حامد میر پیش ہو گئے اور کہا کہ گزشتہ سماعت کے بعد حکومت نے پیمرا کے ذریعے میڈیا کے خلاف اعلان جنگ شروع کردیا ہے۔ جو سوال آپ نے ایجنسیز سے پوچھے ہیں کیا ہم ان کی کوریج کر سکتے ہیں؟جسٹس محسن اخترکیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بالکل آپ اس عدالت کی کارروائی کور کریں، اس پر کوئی پابندی نہیں، میں اس کیس کی آئندہ سماعت براہ راست دکھانے کا حکم دوں گا اور آئندہ جو بھی لاپتہ افراد کا کیس اس عدالت میں ہوگا وہ براہ راست دکھایا جائے گا، پیمرا کی پابندی عدالت پر تو نہیں ہے، پیمرا کا نوٹیفکیشن تو میرے سامنے نہیں ہے مگر آرڈر کروں گا سماعت براہ راست ہو، ہر دور میں کچھ صحافیوں کی آواز کسی کو ناپسند ہوتی ہے، یہ چلتا ہوا سلسلہ ہے۔وزیر قانون نے جو بھی پریس کانفرنس کی وہ تو اپنی ڈیوٹی کر رہے تھے، یاد رکھیں گے یہ صرف وقت کی بات ہے کل کو آپ دوسری جانب کھڑے ہوں گے،، تحفظ قانون دے گا، کسی سے دشمنی کی بات نا کریں۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لوگ پولیس کو جانتے ہیں، ایجنسیوں کو نہیں، یا تو ایجنسیوں کے بھی تھانے بنا دیں تا کہ لوگ سیدھا انہی کے پاس جائیں، یا قانون بنا دیں کہ ایجنسیاں 90 یا 100 دن کسی کو تحویل میں رکھیں گی،احمد فرہاد کیس میں لاپتہ افراد کے معاملے پر آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے اپنا طریقہ کار بتایا تو جسٹس محسن اختر کیانی نے کہامجھے ایسی کوئی مثال دیں کہ پولیس نے انٹیلی جنس افسر کو مس کنڈکٹ پر پکڑا ہو۔یہ حکومت تو جبر کے دور سے گزر کر آئی ہے اسے تو سمجھنا چاہیے، صحافیوں کی خبر سے اتنی تکلیف کیوں ہوتی ہے؟ جو اخبار بھی اپنے اینگل سے جبر چھاپتا ہے تو لوگوں کو پتا چلتا ہے،کوئی پارلیمنٹ میں ہمارے متعلق بات کر کے گا کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اب سے براہ راست دکھائیں گے تا کہ سب خود ہی فیصلہ کر لیں

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکٹر کمانڈر آئی ایس آئی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا،عدالت نے حکم دیا کہ احمد فرہاد کیس کی آئندہ سماعت پر سیکٹر کمانڈر آئی ایس آئی سیکریٹری دفاع کے ساتھ ذاتی حیثیت میں پیش ہوں،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیکٹر کمانڈر کی حیثیت ایک ایس ایچ او سے اوپر نہیں، وہ ایک کھرا انسان ہے، پہلے بیان دیں پھر پیش ہوں۔عدالت نے کیس کی سماعت 29 مئی تک ملتوی کر دی.

    اسلام آباد ہائیکورٹ،اٹارنی جنرل کی احمد فرہاد کی بازیابی کی یقین دہانی پر سماعت ملتوی

    سرکاری اداروں کا یہ کام ہے کہ کرپٹ افسران کو بچانے کی کوشش کرے؟چیف جسٹس برہم

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    احمد فرہاد کی بازیابی درخواست ،سیکرٹری دفاع و داخلہ ذاتی حیثیت میں طلب