Baaghi TV

Tag: جسٹس مظاہر نقوی

  • صدر مملکت نے جسٹس مظاہر نقوی کو برطرف کرنے کی منظوری دیدی

    صدر مملکت نے جسٹس مظاہر نقوی کو برطرف کرنے کی منظوری دیدی

    اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے جسٹس مظاہر نقوی کو برطرف کرنے کی منظوری دے دی۔

    باغی ٹی وی :صد مملکت کی جانب سے برطرفی کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق جج مظاہر نقوی کی برطرفی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا، نوٹیفکیشن کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل نے مظاہر نقوی کو جوڈیشل مِس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دیا تھا، مظاہر نقوی کے بطور جج مستعفی ہونےکا نوٹیفکیشن بھی واپس لےلیا گیا۔

    واضح رہے کہ رواں ماہ سپریم جوڈیشل کونسل نےمظاہر نقوی کو برطرف کرنےکی سفارش کر تے ہوئے اپنی رائے منظوری کے لیے صدر مملکت کو بھجوائی تھی کہا گیا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے مظاہر نقوی کے خلاف 9 شکایات کا جائزہ لیا، ان شکایات کا جائزہ آئین کےآرٹیکل 206 کی شق (6) کے تحت لیا گیا، مظاہر نقوی ان شکایات میں مس کنڈکٹ کےمرتکب پائےگئے جس کے باعث انہیں جج کے عہدے سے ہٹا دینا چاہیے تھا۔

    پیپلز پارٹی کابینہ کا حصہ کیوں نہیں بنی؟عمران خان نے بتا دیا

    چیف جسٹس کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سے متعلق مقدمہ لائیو چلانے کی ہدایت

    اسلام آباد آنیوالی پی آئی اے کی پرواز میں خرابی،انجینئرز کی ٹیم استنبول روانہ

  • جوڈیشل کونسل میں شکایات:جسٹس مظاہر نے  رجسٹرار سپریم کورٹ کے نوٹس کا جواب جمع کرادیا

    جوڈیشل کونسل میں شکایات:جسٹس مظاہر نے رجسٹرار سپریم کورٹ کے نوٹس کا جواب جمع کرادیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت کے معاملے پر رجسٹرار سپریم کورٹ کے نوٹس کا جواب جمع کرادیا۔

    باغی ٹی وی: جسٹس مظاہرنقوی نے جواب کی کاپی سپریم کورٹ کی 3 رکنی کمیٹی کوبھی بھجوادی جس میں کہا گیا ہےکہ میں نے2 آئینی درخواستیں سپریم کورٹ میں دائرکر رکھی ہیں، میری درخواستوں پر تاحال نمبر نہیں لگایا گیا، آئینی درخواستوں کوجلد مقررکرنے کے لیے متفرق درخواست بھی دائرکی لیکن مقدمہ نہیں لگا،آئینی درخواستیں مقررنہ ہونا پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کیخلاف ورزی ہےیہ آئینی درخواستیں 3 رکنی کمیٹی کے سامنے رکھی جائیں اور اور میری دونوں آئینی درخواستوں کو سماعت کیلئے مقرر کیا جائے

    ایک اور پی ٹی آئی رہنما اشتہاری قرار

    جسٹس مظاہر نے جواب میں کہا کہ اسسٹنٹ رجسٹرارنے پوچھا میں اپنی درخواست کی پیروی چاہتاہوں یا نہیں؟ رجسٹرارکو اختیار نہیں کہ آئینی درخواست کے قابل سماعت ہونےکا فیصلہ کرے، قانون کےمطابق ججزکی 3 رکنی کمیٹی ہی درخواست کا جائزہ لے سکتی ہے، میرے وکیل نےکبھی نہیں کہا تھا کہ الزامات واضح ہونےکے بعد قانونی اعتراض نہیں کریں گے، میری سپریم کورٹ تعیناتی کی مخالفت والےاعتراض پرچیف جسٹس نے وضاحت کی تھی، چیف جسٹس کی وضاحت کے بعد صرف اس اعتراض سے دستبرداری اختیارکی تھی اور اعتراض واپس یہ سمجھ کرلیا تھاکہ جوڈیشل کونسل غلطی تسلیم کرتے ہوئے شوکاز واپس لےگی۔

    ‎سیاسی و جذباتی بیانات سے نہیں پالیسی اقدامات سے معیشت بحال ہوگی،شہباز شریف

    جسٹس مظاہر نے جواب میں استدعا کی ہےکہ 20 نومبرکو دائرپہلی آئینی درخواست کی بھرپورپیروی کروں گا، میرے خلاف جاری شوکاز نوٹس واپس لیا جائے جب کہ جسٹس مظاہرنے رجسٹرار نوٹس کے جواب کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کی بھی استدعا کی ہے۔

    واضح رہےکہ جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت کے معاملے پر کونسل کی جانب سے جاری شوکاز نوٹسز کو سپریم کورٹ میں بھی چیلنج کررکھا ہے-

    سائفر کیس: عمران خان اور شاہ محمود پر12 دسمبر کو فرد جرم عائد کی …

  • جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کوشوکاز نوٹس جاری

    جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کوشوکاز نوٹس جاری

    اسلام آباد: سپریم جوڈیشل کونسل نے سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کو تفصیلی شوکاز نوٹس جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف درج درخواست پر شکایت کنندہ کے دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت ہوا جس میں جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف شکایات کا جائزہ لیا گیا، اجلاس میں سامنے آئے شواہد کی روشنی میں جسٹس مظاہر نقوی کو نوٹس جاری کیا گیا۔

    کایت کنندہ اور جسٹس مظاہر نقوی کے دلائل کو بغور جائزہ لینے کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے اُن سے 14 دن میں جواب طلب کرلیا اجلاس میں سامنے آئے شواہد کی روشنی میں نوٹس جاری کیا گیا ہے، 14 روز کے بعد جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف مزید کارروائی کا تعین کیا جائے گا۔

    پاکستان اور قزاخستان کے درمیان ریاستی میڈیا اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے پر …

    ذرائع کے مطابق جسٹس مظاہر نقوی کو شوکاز نوٹس 4:1 کی اکثریت سے جاری کیا گیا چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی، جسٹس سردار طارق، جسٹس امیر بھٹی اور جسٹس نعیم افغان نے شوکاز جاری کرنے کے حق میں رائے دی جبکہ جسٹس اعجازالاحسن نے شوکاز نوٹس جاری کرنے کی حمایت نہیں کی، شوکاز میں 10 معاملات پر جسٹس مظاہر نقوی سے وضاحت مانگی گئی ہے۔

    دوسری جانب جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کیخلاف درخواست بھی دائر کردی ہے،جسٹس مظاہر نقوی نے شوکاز میں اپنےخلاف شکایات کی تفصیل درج نہ ہونے پر اعتراض کیاتھا، کونسل نے مسلسل 3 دن جسٹس مظاہرنقوی کے خلاف شکایات اور ان کے اعتراضات کا جائزہ لیا۔

    وفاق تمام صوبوں میں وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائے،نگران وزیراعظم کی ہدایت

    واضح رہے کہ جسٹس مظاہر نقوی کو27 اکتوبر کے کونسل اجلاس میں بھی شوکازجاری کیاگیا تھا، جس پر جسٹس مظاہر نقوی نے تین ممبران کی موجودگی پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

    جسٹس مظاہر نقوی پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور سپریم کورٹ جج اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنی آمدن سے زیادہ مہنگی لاہور میں جائیدادیں خریدی ہیں لہذا سپریم جوڈیشل کونسل اس کو فروخت کرے اور اعلیٰ عدلیہ کے جج کے خلاف کارروائی کرے۔

    شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملے میں 2 اہلکار شہید

  • سپریم جوڈیشل کونسل نے مظاہرنقوی کو شوکاز نوٹس جاری کردیا

    سپریم جوڈیشل کونسل نے مظاہرنقوی کو شوکاز نوٹس جاری کردیا

    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی زیرصدارت سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہوا،

    اجلاس میں ججز کیخلاف زیرالتوا شکایات کا جائزہ لیا گیا، سپریم جوڈیشل کونسل اجلاس میں جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس اعجازالاحسن شریک ہوئے،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ امیر بھٹی اور چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس نعیم اختر افغان بھی شریک ہوئے،رجسٹرار سپریم کورٹ اور اٹارنی جنرل بھی اجلاس میں شریک ہوئے،

    اجلاس میں سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف شکایات موصول ہوئی تھیں اور یہ معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں اٹھایا گیا تھا، سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہرنقوی کو شوکاز نوٹس جاری کردیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ شوکاز نوٹس مبینہ آڈیو لیک پر جاری کیاگیا.جوڈیشل کونسل اجلاس میں سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال کیخلاف مس کنڈکٹ کی شکایات کا جائزہ بھی لیا گیا

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

    یاد رہے کہ گزشہ دنوں ملک کی بار کونسلز نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی آڈیو لیک کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف بلوچستان بار کونسل سمیت دیگر نے ریفرنسز دائر کر رکھے ہیں۔

    میاں داؤد ایڈووکیٹ کی جانب سے سیکرٹری سپریم جوڈیشل کونسل کو جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف ریفرنس بھجوایا گیا تھا، جس میں سپریم کورٹ کے جج اور ان کے اہلخانہ کی جائیدادوں کی تحقیقات کرنے کی استدعا کی گئی تھی ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے اثاثے 3 ارب روپے سے زائد مالیت کے ہیں ان فیڈرل ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک کنال کا پلاٹ ہےسپریم کورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک کنال کا پلاٹ، گلبرگ تھری لاہور میں 2 کنال 4 مرلے کا پلاٹ، سینٹ جون پارک لاہور کینٹ میں 4 کنال کا پلاٹ اور گوجرانوالہ الائیڈ پارک میں غیر ظاہر شدہ پلازہ بھی شامل ہے

    ریفرنس میں معزز جج کے عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ معزز جج کے کاروباری، بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ریفرنس میں معزز جج کےعمران خان اور پرویز الہیٰ وغیرہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ خفیہ قریبی تعلقات کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔