Baaghi TV

Tag: جسٹس منصور علی شاہ

  • 26ویں آئینی ترمیم: چیف جسٹس  نے آئینی بینچ کا حصہ بننے سے کیوں معذرت کی؟ جسٹس منصور شاہ کو لکھا گیا خط منظر عام پر

    26ویں آئینی ترمیم: چیف جسٹس نے آئینی بینچ کا حصہ بننے سے کیوں معذرت کی؟ جسٹس منصور شاہ کو لکھا گیا خط منظر عام پر

    چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد جسٹس منصور شاہ کو لکھا گیا چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کا جوابی خط،منظر عام پر آگیا ہے۔

    چیف جسٹس پاکستان نے اپنا جوابی خط جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر کے 31 اکتوبر کے اجلاس پر لکھا تھادونوں ججز نے اجلاس میں 26 ویں آئینی ترمیم کو 4 نومبر 2024 کو فل کورٹ کے سامنے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا تھا،چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے آئینی بینچ کا حصہ بننے سے کیوں معذرت کی؟ ان جیسے تمام سوالات کے جوابات میٹنگ منٹس اور چیف جسٹس کے خط میں سامنے آگئے۔

    چیف جسٹس پاکستان کے خط کے متن کے مطابق آرٹیکل 191 اے کے تحت آرٹیکل 183/3 کی درخواست آئینی بینچ ہی سن سکتا ہے، آرٹیکل 191 اے کی ذیلی شق 4 کے تحت ججز آئینی کمیٹی ہی کیس فکس کرنے کا معاملہ دیکھ سکتی ہے اور آئین کے آرٹیکل 191 اے کی ذیلی شق تین اے کے تحت آرٹیکل 184 کی شق تین کے تحت درخواست آئینی بینچ ہی سن سکتا ہے، آرٹیکل 191 اے کی شق چار کے تحت آئینی بینچ کے ججز پر مشتمل کمیٹی کو معاملہ سپرد کیا جاتا ہے نہ کہ ججز ریگولر کمیٹی کو۔

    خط میں کہا گیا کہ ججز کمیٹی 2023 ایکٹ کے تحت تشکیل دی گئی اور کمیٹی کے اپنے بھائی ججز اراکین کی اس تشویش کو سمجھتا ہوں جو چھبیسویں ترمیم کو چیلنج کرنے والی آئینی درخواستوں کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کے حوالے سے ہے، میں نے ذاتی طور پر سپریم کورٹ کے 13 ججز سے رائے لی، جس میں اُن سے پوچھا گیا کہ سپریم کورٹ کے دو ججز (جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر) نے کہا کہ آرٹیکل 184کی شق تین کے تحت دائر کی گئی 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کو فل کورٹ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کیا جائے، کیا ایسا 26ویں آئینی ترمیم کے بعد ہو سکتا ہے؟

    چیف جسٹس نے خطر میں لکھا کہ سپریم کورٹ کے 13 ججز میں سے 9 جج صاحبان کا موقف تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم کو فل کورٹ کے بجائے آئینی بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کیا جائے، جب ججز کی رائے آچکی تو یہ حقائق دونوں بھائی ججوں (جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر) کو بتا دیے گئے اور انھیں 13 ججز کے نقطہ نظر سے بھی آگاہ کر دیا گیا، بطور چیف جسٹس پاکستان فل کورٹ اجلاس بلانے کو مناسب نہیں سمجھا، کیونکہ ایسا کرنے سے نہ صرف ججز کے درمیان انتہائی ضروری باہمی روابط کی روح مجروح ہوتی بلکہ اس سے سپریم کورٹ عوامی تنقید کا نشانہ بھی بن سکتی ہے، جیسا کہ افسوس کے ساتھ ماضی قریب میں ہوتا رہا ہے۔

    چیف جسٹس نے خطر میں لکھا کہ اسی پس منظر میں، چیف جسٹس آف پاکستان کے دفتر کو دوپہر کے بعد کافی دیر سے، میرے دو بھائی ججز کے خطوط موصول ہوئے۔ کمیٹی نے سربمہر لفافوں میں اپنی رائے دی، جس میں انہوں نے کہا کہ وہ کمیٹی کے اجلاس کے انعقاد اور سپریم کورٹ کے فل کورٹ کو آئین کے آرٹیکل 184 کے تحت دائر کردہ 26ویں آئینی ترمیم کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت کا حکم دینے کی درخواست کر رہے ہیں،مجبوراً، میں نے یہ دو خطوط اور ان کے جوابات (سربمہربند لفافوں میں) سیکریٹری جوڈیشل کمیشن کے حوالے کر دیے ہیں تاکہ وہ محفوظ طریقے سے رکھے جائیں، یہاں تک کہ جوڈیشل کمیشن کا اجلاس جو 5 نومبر 2024ء کو بلایا گیا، منعقد ہو۔

    چیف جسٹس نے خطر میں لکھا کہ میں اس اجلاس میں جوڈیشل کمیشن سے درخواست کروں گا کہ وہ میرے علاوہ سپریم کورٹ کے دیگر معزز ججز کو آئینی بینچ کے اراکین کے طور پر نامزد کرے، تاکہ آئین کے آرٹیکل 191 اے کی ذیلی شق (3) کے کلاز (اے) کے تحت تشکیل دی گئی کمیٹی یا آئینی بینچ کے پاس یہ اختیار ہو کہ وہ آرٹیکل 184 کے تحت دائر کردہ 26ویں آئینی ترمیم کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کو پاکستان کے سپریم کورٹ کے فل کورٹ کے سامنے پیش کر سکے۔

    چیف جسٹس نے خط میں واضح کیا کہ سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) ایکٹ 2023 کے تحت بینچز کی تشکیل کے لیے کمیٹی کا اجلاس بلانا یا پاکستان کے سپریم کورٹ کا فل کورٹ تشکیل دینا یقیناً آئین کے واضح حکم کی خلاف ورزی ہوگی۔

  • جسٹس منصور علی شاہ نے قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف اٹھالیا

    جسٹس منصور علی شاہ نے قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف اٹھالیا

    جسٹس منصور علی شاہ نے قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف اٹھالیا۔

    رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جسٹس عائشہ ملک نے جسٹس منصور علی شاہ سے قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف لیاتقریب میں جسٹس شاہد وحید، جسٹس عامر فاروق، جسٹس شاہد بلال اور جسٹس علی باقر نجفی نے شرکت کیں، تقریب میں ایڈوکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز سمیت سینئر وکلا نے بھی شرکت کیں۔

    چیف جسٹس یحییٰ خان آفریدی فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب میں موجود ہیں، وہ 10 جون کو فریضہ حج کی ادائیگی کے بعد پاکستان واپس آئیں گے، جسٹس منصورعلی شاہ 10 جون تک بطور قائم مقام چیف جسٹس ذمہ داریاں نبھائیں گے-

  • جسٹس منصور علی شاہ قائم مقام چیف جسٹس کا حلف اٹھائیں گے

    جسٹس منصور علی شاہ قائم مقام چیف جسٹس کا حلف اٹھائیں گے

    سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ 21 اپریل کو بطور قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

    باغی ٹی وی : حلف برداری کی یہ تقریب سپریم کورٹ میں منعقد ہوگی، جہاں جسٹس منیب اختر اُن سے حلف لیں گے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی پانچ روزہ غیر ملکی دورے پر روانہ ہوں گے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی 20 اپریل کو چین روانہ ہوں گے، جہاں وہ 22 سے 26 اپریل تک چین کے شہر ہانگژو میں ہونے والی ایس سی او عدالتی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔

    ذرائع کے مطابق، چیف جسٹس کے ہمراہ جسٹس امین الدین خان، جسٹس شاہد وحید، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج گوادر ظفر جان اور سینئر سول جج ضلع لکی مروت نادیہ گل وزیر بھی وفد کا حصہ ہوں گے اس دوران، چیف جسٹس پاکستان چین کے ساتھ تاریخی مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی کریں گے۔

    ماضی میں میری زندگی میں ایک بہت پیارا شخص آ چکا ہے،نعیمہ بٹ

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی ایران اور ترکی کے اعلیٰ عدالتی حکام سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی شیڈول ہیں وہ ترکی کی آئینی عدالت کی 63 ویں سالگرہ کی خصوصی تقریبات میں بھی شرکت کریں گے۔

    چیف جسٹس اور ان کا وفد 27 اپریل کو وطن واپس پہنچے گا، اس دوران جسٹس منصور علی شاہ قائم مقام چیف جسٹس کے فرائض انجام دیں گے۔

    ماضی میں میری زندگی میں ایک بہت پیارا شخص آ چکا ہے،نعیمہ بٹ

  • عورت کی شناخت، قانونی حقوق اور خود مختاری شادی کے بعد ختم نہیں ہوتی،سپریم کورٹ

    عورت کی شناخت، قانونی حقوق اور خود مختاری شادی کے بعد ختم نہیں ہوتی،سپریم کورٹ

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سرکاری ملازم کے انتقال کے بعد بیٹی کو نوکری سے محروم کرنے کے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا-

    باغی ٹی وی: 9 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس منصورعلی شاہ نے تحریرکیا جس میں کہا گیا ہے کہ عورت کی شناخت، قانونی حقوق اور خود مختاری شادی کے بعد ختم نہیں ہوتی، عدالت نے شادی شدہ بیٹیوں کو مرحوم والد کے کوٹے پر ملازمت نہ دینا غیر قانونی اور امتیازی قرار د یا-

    سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پی سول سرونٹس رولز کے تحت مرحوم یا طبی بنیادوں پر ریٹائرڈ سرکاری ملازم کے تمام بچے ملازمت کے اہل ہیں، سیکشن افسر کی جانب سے ایک وضاحتی خط کے ذریعے رولز کو تبدیل کرنا غیر قانونی ہے، ایسی ایگزیکٹو ہدایات قا نون سے بالاتر نہیں ہو سکتیں،شادی کی بنیاد پر بیٹیوں کو مرحوم ملازم کے کوٹے سے خارج کرنا امتیازی سلوک ہے، ایسا عمل آئین کے آرٹیکل 25، 27 اور 14 کی خلاف ورزی ہے۔

    پاکستان کا تجربہ میری کوچنگ سے محبت کو کھٹا کر چکا ہے، جیسن گلیسپی

    عدالت نے تحریری فیصلے میں کہا کہ شادی سے عورت کی قانونی حیثیت، اس کی ذات اور خودمختاری ختم نہیں ہو جاتی، مالی خود مختار ی بنیاد ی حق ہے، عورت کے یہ حقوق شادی پر منحصر نہیں ہو سکتے، آئین ازدواجی اکائیوں یا سماجی کرداروں کی بنیاد کی بجائے ہر شہری کو انفرادی حقوق دیتا ہے، اسلام میں بھی عورت کواپنی جائیداد،آمدنی اورمالی معاملات پر مکمل اختیارحاصل ہے، پاکستان نے خوا تین کے خلاف ہرقسم کے امتیازی سلوک کے خاتمے کے عالمی کنونشن کی توثیق کی ہے، اس کنونشن کے تحت شادی کی بنیاد پرملاز مت میں امتیازی سلوک ممنوع ہے۔

    تمام معاشی اشاریے عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان اڑان بھرچکا ہے،عطاء اللہ تارڑ

    عدالتی فیصلے کے مطابق نسوانی قانونی نظریے کے تحت عورت کی معاشی اور قانونی خود مختاری کو تسلیم کرنا چاہیے، ایسی روایات کو ختم کرنا چاہیے جو شادی کی بنیاد پر عورتوں کو عوامی حقوق سے محروم کرتی ہیں، عدالتوں اور انتظامی اداروں کو اپنے فیصلوں میں صنفی حساس اور غیرجانبدار زبان استعمال کرنی چاہیےایسے الفاظ پدرشاہی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں اور آئینی اقدار کے منافی ہیں، یہ اصول طے شدہ ہے کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے عمومی طور پر آئندہ کیلئے لاگو ہوتے ہیں۔

    سپریم کورٹ نے خاتون کو نوکری سے برخاست کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ متعلقہ محکمہ درخواست گزار کو تمام سابقہ مراعات کے ساتھ بحال کرے۔

    "پورا مائیکرو سافٹ خون میں رنگا ہے، مائیکروسافٹ کی تقریب میں فلسطین کے حق میں زبردست احتجاج

  • چیف جسٹس کا بڑا فیصلہ، جسٹس منصور علی شاہ کے تعینات کردہ افسران واپس

    چیف جسٹس کا بڑا فیصلہ، جسٹس منصور علی شاہ کے تعینات کردہ افسران واپس

    چیئرمین فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی اور چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے بڑا اقدام کرتے ہوئے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں ڈیپوٹیشن پر تعینات پانچ جوڈیشل افسران کو واپس لاہور ہائی کورٹ بھجوا دیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے 5 ڈائریکٹرز کو واپس اپنے محکموں میں بجھوانے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، پنجاب سے 5 جوڈیشل افسران کی خدمات لاہور ہائی کورٹ کو واپس کر دیں۔جوڈیشل افسران میں سیشن جج جزیلہ اسلم، ایڈیشنل سیشن جج عامر منیر، ڈاکٹر رائے محمد خان، راجہ جہانزیب اختر، اور سول جج شازیہ منور مخدوم شامل ہیں۔ نوٹی فکیشن میں جوڈیشل افسران کو قواعد کے تحت مقررہ وقت میں لاہور ہائی کورٹ رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ نے بطور انچارج فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی لاہور ہائی کورٹ سے افسران کو ڈیپوٹیشن پر لیا تھا۔جسٹس منصور علی شاہ کے بعد فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کا انچارج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کو بنایا گیا ہے۔

    بحریہ ٹاؤن کراچی کی تمام کمرشل پراپرٹی منجمد

    چین، روس اور ایران جوہری ہتھیاروں پر مذاکرات ، بیجنگ میزبان

    عمرایوب کوبلاول بھٹو پر الزام لگانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے،شرجیل میمن

    تیل وگیس کی پیداوارمیں ہفتہ واربنیادوں پر اضافہ

    کم سن امریکی بچوں کی نازیبا وڈیوز بنانے والا ملزم کراچی سے گرفتار

  • بھٹو ریفرنس فیصلے پر جسٹس منصور علی شاہ کا اضافی نوٹ جاری

    بھٹو ریفرنس فیصلے پر جسٹس منصور علی شاہ کا اضافی نوٹ جاری

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ نے پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی سزا کے خلاف صدارتی ریفرنس کے فیصلے کے 5 ماہ بعد اضافی نوٹ جاری کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جسٹس منصور علی شاہ کا 6 صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ جاری کردیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کا ٹرائل سیاسی ٹرائل کی کلاسیک مثال ہے ذوالفقارعلی بھٹو کیس میں تفتیش کی منظوری غیر قانونی طور پر دی گئی، سیاسی ٹرائل میں من پسند نتائج کے لیےغیر شفاف طریقے آزمائے جاتے ہیں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے نوٹ میں کہا ہے کہ سیاسی ٹرائل میں عموما سابق اتحادیوں کے ہی بیانات لے کر عموما گواہ بنایا جاتا ہےبھٹو نے خود کہا تھا آئین کی چھتری تلے ہی عدلیہ آزاد رہ سکتی ہے اور کہا تھا صحرا میں پھول نہیں کھل سکتے آمرانہ دور میں ججوں کو یاد رکھنا چاہیے ان کی اصل طاقت عہدے پر فائز رہنا نہیں آزادی کو قائم رکھنا ہے، جسٹس دوراب پٹیل نے بھٹو کیس میں جرات مندی سے اختلاف کیا،دوراب پٹیل نے ضیا کے جاری کردہ عبوری آئین کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے نوٹ میں کہا کہ سمجھوتہ کر لینے کی میراث چھوڑنے کے بجائے عہدہ کھودینا ایک چھوٹی سی قربانی ہے، جج کی بہادری کا اندازہ بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنے، مداخلت کے خلاف ثابت قدم رہنے سے لگایا جا سکتا ہے، آمرانہ مداخلتوں کا مقابلہ کرنے میں تاخیر قانون کی حکمرانی کے لیے مہلک ثابت ہو سکتی ہے، دراندازیوں کی فوری مزاحمت اور اصلاح کی جانی چاہیے اور عدلیہ کا کردار انصاف کا دفاع کرنا ہے۔

    واضح رہے کہ سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی جانب سے ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس کا تفصیلی فیصلہ 5 جولائی 2024 کو جاری کیا گیا تھا۔

  • چیف جسٹس کے بغیر  جسٹس منیب اختر چمبر میں میٹنگ،منٹس منظر عام پر

    چیف جسٹس کے بغیر جسٹس منیب اختر چمبر میں میٹنگ،منٹس منظر عام پر

    جسٹس منصور علی شاہ جسٹس منیب اختر کی پریکٹس پروسیجر کمیٹی میٹنگ کے منٹس منظر عام پر آگئے

    دستاویز کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے بغیر ججز میٹنگ جسٹس منیب اختر چمبر میں ہوئی، چیف جسٹس آفریدی نے مطلع کرنے کے باوجود کمیٹی کا اجلاس نہیں بلایا،معاملہ فوری نوعیت کا ہونے کیوجہ سے جسٹس منیب اختر چمبر میں کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا،ججز کمیٹی اجلاس میں 26 آئینی کیخلاف درخواستیں 4 نومبر کو لگانے کا فیصلہ ہوا، 26 آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر فل کورٹ سماعت کریگا، کمیٹی نے درخواستوں پر اکثریت سے سماعت مقرر کرنے کا فیصلہ کیا،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے 2 سینئر ترین ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے 26 ویں آئینی ترمیم پر فل کورٹ بینچ کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھا تھا،سپریم کورٹ کے 2 سینئر ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے چیف جسٹس کو مشترکہ خط لکھا خط میں کہا گیا کہ 31 اکتوبر کو آپ سے پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی اجلاس بلانے کی درخواست کی، اجلاس میں 26 آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کو مقرر کرنے پر غور کرنا تھا، 4 نومبر کو آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت مقرر کرنے کا حکم دیا فیصلے سے متعلق رجسڑار آفس کو آگاہ کردیا گیا، جس پر عمل درآمد لازمی ہے، انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے فل کورٹ سماعت کی کازلسٹ جاری نہیں ہوئی، کمیٹی اجلاس کا فیصلہ اب بھی برقرار ہے، جس پر عمل درآمد لازمی ہے۔

  • عدلیہ میں آنے والی خواتین کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی،جسٹس منصور علی شاہ

    عدلیہ میں آنے والی خواتین کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی،جسٹس منصور علی شاہ

    سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈسٹرکٹ جوڈیشری کے ججزکوجوڈیشل آفیسرکہنا مناسب نہیں سمجھتا،

    جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 34 کہتا ہے خواتین تمام معاملات میں مکمل حصہ لیں، 50فیصد آبادی میں صرف 16فیصد خواتین عدلیہ میں خدمات انجام دے رہی ہیں،عدلیہ میں خواتین کی تعیناتیوں میں قوانین کوبہتربنانا ہوگا ،عدلیہ میں آنے والی خواتین کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی ،عدلیہ میں عالمی بینچ مارک کودیکھتے ہوئے ججز کی کمی ہے ،پروموشنز کے لیے میرٹ کو معیار بنانا ہوگا ،ججز کی ایسوسی ایشن بھی ہونی چاہیے ،یہ عین جمہوری ہے،ایسوسی ایشن بنا کرہم عدلیہ کو درپیش بہت سے مسائل حل کرسکتے ہیں،ہمیں جوڈیشل سروس ایکٹ کی ضرورت ہے ،عدلیہ میں بنائی جانے والی پالیسیزمیں خواتین کی شمولیت ہونی چاہیے،یہ ناانصافی ہو گی کہ صرف مرد حضرات عدلیہ کی پالیسی بنائیں ، سوال یہ ہے کہ عدلیہ میں خواتین کی اتنی کمی کیوں ہے؟

    اڈیالہ جیل میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر دیسی مرغ کھانے سے انقلاب نہیں آتے،عظمیٰ بخاری

    اڈیالہ جیل میں سزا یافتہ عمران خان الیکشن لڑنے کے خواہشمند

    اڈیالہ جیل ،عمران خان کے سیل کی خصوصی تصاویر،باغی ٹی وی پر

    بشریٰ بی بی کو زہر دے کر عمران خان کو جھکانے کی کوشش کی جارہی ہے،زرتاج گل

    کھانے میں زہر،کوئی ثبوت ہے؟ صحافی کے سوال پر بشریٰ بی بی "لال” ہو گئیں

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل 

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

  • ہمارے کام میں کوئی مداخلت نہیں ہونی چاہیے،جسٹس منصور علی شاہ

    ہمارے کام میں کوئی مداخلت نہیں ہونی چاہیے،جسٹس منصور علی شاہ

    سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے کام میں کوئی مداخلت نہیں ہونی چاہیے اگر انصاف ہوگا تو ہی نظام چلے گا ، یہ بات ان کو بھی سمجھ آنی چاہیے ۔

    جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ ریفارمز پبلک اداروں میں جلد نہیں آتی ،اداروں کو ٹھیک کرنے کا یہ صحیح وقت ہے ،ملک میں آزاد عدلیہ کا نظام چاہتے ہیں ،آئین کہتا ہے کہ عدلیہ آزاد ہونی چاہیے،عدلیہ میں ریفارمز کے حوالے سے گذارشات کروں گا ،ادارے کو چلانے کیلئےانفرادی سوچ کو بھلانا ہو گا،اگر یہ کر گئے تو مضبوط عدلیہ ہو گی،کسی سیشن جج سے پوچھوں تو وہ کیس کے بارے میں نہیں بتا سکتے ،میں عدلیہ کی تاریخ سے بہت خوش نہیں ہوں ،ہمیں اسمارٹ ٹیکنالوجی کو ڈسٹرکٹ لیول تک لے کر جانا ہے ،پاکستان میں 24لاکھ کیس زیر التوا ہیں ،ججزکو مخصوص کیسز لگانے کا نظام نہیں ہونا چاہیے ،میرٹ پر کیسز ریفر کیے جا ئیں گے ،پریکٹس اینڈ پروسیجر سے بہتری آئے گی ،موجودہ چیف جسٹس نے اپنی پاورز کو کٹ کر کے کمیٹی بنائی ،بینچ کی تشکیل اور کیسز ریفر کرنا ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ہونی چاہیے،ہمارے سسٹم میں مافیا کام کر رہا ،ٹیکنالوجی سے اس کا خاتمہ ہوگا،20 لاکھ کیسز ڈسٹرکٹ جوڈیشل کے پاس التوا میں ہے ،تنازعات کو حل کرنے کے دنیا میں اور بہت سے طریقے ہیں ،
    دنیا میں ثالثی کا نظام ہے،138 اضلاع میں ثالثی نظام قائم کریں گے،

    جو جج پرفارم نہیں کررہا اُسے سسٹم سے باہر کریں، کرپشن اور نااہلی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے،جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس منصور علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ روز 4ہزار ججز کام کررہے ہیں کچھ فیصلے برے ہوسکتے ہیں، عدالتوں میں کوئی مداخلت نہیں ہونی چاہیے عدالتی نظام میں مداخلت کا مطلب اپنے آپ کو کمزور کرنا ہے یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں جس کی سمجھ نہ آئے۔ اگر عدالتی نظام کمزور ہو گا تو آپ بھی کمزور ہوں گے ،اس معاملے پر زیادہ بات نہیں کرونگا کیونکہ ہم از خود نوٹس میں یہ معاملہ دیکھ رہے ہیں۔جو جج پرفارم نہیں کررہا اُسے سسٹم سے باہر کریں، کرپشن اور نااہلی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے،ایک چیف جسٹس آتے ہیں ایک طرف لے چلتے ہیں، دوسرے چیف جسٹس آتے ہیں دوسری طرف لے چلتے ہیں،برازیل میں سب سے بڑا بجٹ عدلیہ کا ہے اور آرمی کا دوسرا نمبر ہے،

    جسٹس منصور علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ کرکٹ میچ ہارنے پر سٹرائیک کردی جاتی ہے، لوگ اپنے بکریاں زیور فروخت کر کے آتے ہیں اور آگے سٹرائیک ہوتی ہے،اسٹے کلچر کا خاتمہ کرنا ہوگا،،پاکستان میں 1 ہزار افراد کے لیے 1 وکیل ہے۔

    عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں جسٹس منصور علی شاہ نے اس شعر سے تقریر کا اختتام کیا،
    مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے
    منصف ہو تو حشر اُٹھا کیوں نہیں دیتے

    تجوری ہائٹس کا پلاٹ گورنر سندھ کی اہلیہ کے نام پر تھا،سپریم کورٹ میں انکشاف

    چیف جسٹس کا نسلہ ٹاور کی زمین بیچ کر الاٹیز کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم

    قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کو مختص پروٹوکول واپس کردیا

    ہمیں ہندوکمیونٹی کی آپ سے زیادہ فکر ہے،چیف جسٹس کا رکن قومی اسمبلی رمیش کمار سے مکالمہ

    سرکاری اداروں کا یہ کام ہے کہ کرپٹ افسران کو بچانے کی کوشش کرے؟چیف جسٹس برہم

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

  • انتخابات ازخود نوٹس کیس: جسٹس منصورعلی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل کے اختلافی نوٹ

    انتخابات ازخود نوٹس کیس: جسٹس منصورعلی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل کے اختلافی نوٹ

    اسلام آباد: جسٹس منصور علی شاہ نے انتخابات از خود نوٹس کیس بنچ میں سینئر ججز کی عدم شمولیت پر اعتراض اٹھادیا۔

    باغی ٹی وی: واضح رہے کہ انتخابات از خود نوٹس کیس کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے 9 رکنی بینچ سے 4 جج الگ ہوگئے ہیں فیصلے میں جسٹس منصور علی شاہ،جسٹس یحیی آفریدی، جسٹس اطہر من اللہ اور جمال خان مندوخیل کا اختلافی نوٹ شامل ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ میرے پاس بینچ سے الگ ہونے کا کوئی قانونی جواز نہیں، اپنے خدشات کو منظرعام پر لانا چاہتا ہوں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے بنچ میں شامل ایک جج کی آڈیو لیکس کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جج سے متعلق الزامات کا کسی فورم پر جواب نہیں دیا گیا، بار کونسلز نے جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھی دائر کردیا۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے بنچ میں شامل جج پر اعتراض کے ساتھ ساتھ دیگر سینئر ججز کی بنچ پر عدم شمولیت پر بھی اعتراض کیا۔

    انہوں نے کہا کہ 2 سینئر جج صاحبان کو بینچ میں شامل نہیں کیا گیا، عدلیہ پر عوام کے اعتماد کے لیے ضروری ہے کہ اس کی شفافیت برقرار رہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا کہ غلام ڈوگر کیس سے متعلق آڈیو سنجیدہ معاملہ ہے، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی نقوی الیکشن سے متعلق پہلے ہی اپنا ذہن واضح کرچکے ہیں۔

    انہوں نے نوٹ میں کہا کہ دونوں ججز کا موقف ہے کہ انتخابات 90 روز میں ہونے چاہیے، دونوں ججز نے رائے دیتے وقت آڑٹیکل 10 اے پر غور نہیں کیا ان حالات میں چیف جسٹس کا از خود نوٹس لینے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

    جسٹس یحیی آفریدی نے اختلافی نوٹ میں کہا کہ عام انتخابات کا معاملہ پشاور اور لاہور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

    خیال رہے کہ چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس منصور علی شاہ،جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس منیب اختر اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل باقی 5 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت شروع کی، تو چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے بتایا کہ 4 معزز ممبرز جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظاہر علی نقوی، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس یحیی آفریدی نے خود کو بینچ سے الگ کر لیا ہے، اور اب عدالت کا باقی بینچ مقدمہ سنتا رہے گا، اطہر من اللہ اور یحیی آفریدی نے کیس کے حوالے سے اپنا ذہن واضح کر دیا تھا، انہوں نے خود کو بنچ سے الگ کیا۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آئین کی تشریح کیلئے عدالت سماعت جاری رکھے گی، آئین کیا کہتا ہے اس کا دارومدار تشریح پر ہے، کل ساڑھے 9 بجے سماعت شروع کرکے کل ہی ختم کرنے کی کوشش کریں گے، جب تک حکمنامہ ویب سائٹ پر نہ آجائے جاری نہیں کرسکتے-

    چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس جمال مندوخیل کا نوٹ حکمنامہ سے پہلے ہی سوشل میڈیا پر آگیا، مستقبل میں احتیاط کریں گے کہ ایسا واقعہ نہ ہو، جسٹس جمال خان مندوخیل کے نوٹ کو حکم میں شامل ہونے سے پہلے پبلک ہونا غیر مناسب ہے، عدالتی احکامات پہلے ویب سائٹ پر آتے ہیں پھر پبلک ہوتے ہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ پی ٹی آئی وکیل علی ظفر دلائل کا آغاز کرتے ہوئے آگاہ کریں عدالت یہ کیس سنے یا نہیں، آگاہ کیا جائے عدالت یہ مقدمہ سن سکتی ہے یا نہیں، کل ہر صورت مقدمہ کو مکمل کرنا ہے۔

    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ فل کورٹ کے معاملے پر درخواست دائر کی ہے، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ آپ کی درخواست بھی سن کرنمٹائی جائے گی، علی ظفر نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب نےاسمبلی تحلیل کرنے کی سمری گورنرکوارسال کی۔

    سابق اسپیکر پنجاب اسمبلی کے وکیل علی ظفر نے بتایا کہ گورنر پنجاب نے کہا میں نے اسمبلی توڑنے کی سمری دستخط نہیں کی، دستخط نہ کرنے کی وجہ سے الیکشن کی تاریخ نہیں دے سکتا، گورنر نے اپنے جواب میں الیکشن کمشنر کوتاریخ دینے کا کہہ دیا، تاریخ کی نہ الیکشن کمیشن ذمہ داری لے رہا ہے نہ گورنر۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے پوچھا کہ کیا الیکشن میں 90 دن سے تاخیر ہو سکتی ہے؟وکیل علی ظفر نے جواب دیا کہ الیکشن میں ایک گھنٹے کی بھی تاخیر نہیں ہو سکتی، تاریخ کی نہ الیکشن کمیشن زمہ داری لے رہا ہے نہ گورنر ، صدر مملکت نے معاملے پر دو خطوط لکھے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ صدر مملکت کا خط ہائیکورٹ حکم کے متضاد ہے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کمیشن نے تو اپنے جواب میں خود لکھا کہ گورنر سے مشاورت آئین میں نہیں، اگر مشاورت نہیں تو کمیشن پھر خود الیکشن کی تاریخ دے دیتا، الیکشن کمیشن اگر خود تاریخ دیدے تو کیا یہ توہین عدالت ہو گی؟

    علی ظفر نے دلائل دیئے کہ خیبرپختونخوا میں صورتحال مختلف ہے، خیبرپختونخوا میں گورنر نے اسمبلی تحلیل کرنے کے فیصلے پر دستخط کیے ، خیبرپختونخوا میں گورنر الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کر رہا۔

    وکیل الیکشن کمیشن نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں کیس کی اگلی سماعت کل ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ گورنر خیبرپختونخوا کو پشاور ہائیکورٹ میں 21 دن جواب جمع کرانے کے لیے دیے ، پشاور ہائیکورٹ نے 21 دن کا نوٹس کیوں دیا فریقین کو؟ قانونی نقطہ طے کرنا ہے یہ کوئی دیوانی مقدمہ تو نہیں جو اتنا وقت دیا گیا۔

    چیف جسٹس نے آج ہی گورنر خیبرپختونخوا کے سیکرٹری کو جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سیدھا سادھا کیس ہے 18 جنوری سے گورنر تاریخ دینے میں ناکام ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ عدالت نے جائزہ لینا ہے کہ کیا لا اینڈ آڈر یا کسی اور وجہ سے الیکشن میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ 218(3)فری فیئر شفاف انتخابات کا کہتا ہے، الیکشن کمیشن کو شفاف الیکشن کروانے ہیں، کیا گورنر کی مشاورت کی ضرورت ہے یا نہیں، الیکشن کمیشن کا کام انتخابات کرانا ہے، سیکشن 57 کے تحت تاریخ دینے کیلئے الیکشن کمیشن کا کردار مشاورت کا ہے۔

    علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن بے بسی ظاہر کرے تو عدالت کو ایکشن لینا چاہیے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھا کہ الیکشن کی تاریخ دینا ذمہ داری کس کی ہے؟۔ علی ظفر نے جواب دیا کہ الیکشن کی تاریخ کے تعین کا سوال ہی عدالت کے سامنے ہے، پوری قوم کی نظریں عدلیہ پر ہیں قوم آپکی شکرگزار ہوگی۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے بتایا کہ 2018 کے انتخابات کی تاریخ صدر مملکت نے دی تھی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ سماعت کے دوران پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کا مشترکہ بیان پڑھتے ہوئے کہا تھا کہ 2 ججز کے بینچ میں شامل ہونے پر اعتراض ہے اعجازالاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی اپنے آپ کو بینچ سےالگ کردیں۔

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے یہ ازخود نوٹس ایسے وقت میں لیا گیا جب صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پیر کے روز یکطرفہ طور پر پنجاب اور خیبر پختون خوا میں 9 اپریل کو انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا تھا جس کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے اس معاملے پر مشاورت کے لیے ان کی دعوت کو مسترد کر دیا گیا تھا۔

    22 فروری کو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کی درخواست پر پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات میں تاخیر کے معاملے پر از خود نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی سماعت کے لیے 9 رکنی لارجربینچ تشکیل دے دیا تھا۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی درخواست پر لیے گئے از خود نوٹس میں کہا کہ ’عدالت کے دو رکنی بینچ کی جانب سے 16 فروری 2023 کو ایک کیس میں آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت از خود نوٹس لینے کی درخواست کی گئی تھی‘۔

    نوٹس میں کہا گیا کہ انتخابات میں تاخیر کے حوالے سے سپریم کورٹ میں مزید درخواستیں بھی دائر کردی گئی ہیں۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کے معاملے پر از خود نوٹس کی سماعت کے لیے 9 رکنی لارجز بینچ تشکیل دیا ہے، جس میں سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق مسعود شامل نہیں ہیں۔

    یاد رہے کہ 12 جنوری کو وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی نے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کے لیے سمری پر دستخط کر دیے تھے۔

    گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے وزیراعلیٰ کی جانب سے ارسال کی گئی سمری پر دستخط نہیں کیے تھے، جس کے بعد صوبائی اسمبلی 48 گھنٹوں میں از خود تحلیل ہوگئی تھی۔

    بعدازاں 18 جنوری کو گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی نے وزیر اعلیٰ محمود خان کی جانب سے اسمبلی تحلیل کرنے سے متعلق ارسال کی گئی سمری پر دستخط کیے تھےدونوں اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے نئے انتخابات کے لیے تاریخ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

    پی ٹی آئی نے 27 جنوری کو پنجاب میں الیکشن کی تاریخ دینے کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے پی ٹی آئی کی درخواست منظور کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو تاریخ کا فوری اعلان کرنے کا حکم دیا تھا۔

    بعد ازاں الیکشن کمیشن نے گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن سے صوبائی اسمبلی کے عام انتخابات کے لیے مشاورت کی تھی تاہم اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا تھا، گورنر پنجاب نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر اپیل دائر کی تھی اور اس کے بعد الیکشن کمیشن نے بھی انٹراکورٹ اپیل دائر کر دی تھی۔

    دوسری جانب پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان اور گورنر خیبر پختونخوا کو صوبائی اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ طے کرنے کا حکم دینے سے متعلق درخواستوں پر ای سی پی سے الیکشن شیڈول طلب کرلیا تھا۔