Baaghi TV

Tag: جسٹس منصور

  • خطاب کے دوران جسٹس منصور علی شاہ کا آئینی بینچ میں نہ ہونے کا تذکرہ

    خطاب کے دوران جسٹس منصور علی شاہ کا آئینی بینچ میں نہ ہونے کا تذکرہ

    سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ عدالت کو بچوں کے حقوق کا احساس ہے۔

    یونیسیف اور فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے زیر اہتمام سیمینار سے سپریم کورٹ کے سینئیر جج جسٹس منصور علی شاہ نےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے بعد بچوں کو عدالت میں سنا جائے گا، ہمیں بچوں کو سننا ہوگا،بچے پیش ہوتے ہیں لیکن ہم نہیں سنتے،خدا کیلئے بچوں کو بھی سنیں، آئندہ کوئی بچہ عدالت میں پیش ہو تو اسکو بھی عدالتی عمل میں شامل کریں، بچے نہ صرف ہمارا مستقبل ہیں، ہمارا حال بھی ہیں، بچے کل کے لوگ نہیں آج کے افراد ہیں۔ماتحت عدلیہ کے ججز کو بتانا چاہتا ہوں بچوں کیلئے انصاف کس قدر اہم ہے،بدقسمتی سے ہمارے سامنے جب بچہ پیش ہوتا ہے ہم اسکو سنتے نہیں ہیں، ایک جج کو کمرہ عدالت میں بچوں کو سننا ہوگا،عدلیہ کو بچوں کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنا چاہیے، بچوں کو عدالتی نظام سے دور رکھنے کی ضرورت ہے، بچوں کو بھی کیسز سے گزرنے میں 15 یا 20 سال نہیں لگنے چاہئیں،ملک میں 25 ملین سے زیادہ بچے اسکول نہیں جا رہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے بچوں کو سائبربلنگ جیسے نئے خطرات کا بھی ذکر کیا۔

    جسٹس منصور علی شاہ نےخطاب کے دوران آئینی بینچ میں نہ ہونے کا تذکرہ کیا،جسٹس منصورعلی شاہ نے ہال میں موجود جسٹس جمال مندوخیل کو مخاطب کر دیا اور کہا کہ بچوں سے متعلق آئین کے آرٹیکل 11 تین کی تشریح کی ضرورت ہے میں اب یہ تشریح کر نہیں سکتا آپ کر سکتے ہیں آئی ایم سوری، مجھے یہ بار بار کہنا پڑ رہا ہے میں مگر اب کیا کروں میں یہ تشریح کر نہیں سکتا ،

    بھاگ کر نہیں جائیں گے، جو کام کر سکتا ہوں وہ جاری رکھوں گا، جسٹس منصور علی شاہ
    سپریم کورٹ کے سینئر جسٹس منصور علی شاہ نے مستعفیٰ ہونے کی تردید کردی ہے، بچوں کے انصاف سے متعلق تقریب سے خطاب کرتے کے بعد جسٹس منصور علی شاہ نے صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے مستعفیٰ ہونے کی خبروں کی تردید کردی،صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپکے مستعفی ہونے سے متعلق افواہیں درست ہیں، جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے جواب دیا کہ پتہ نہیں آپ کو یہ فکر کہاں سے لاحق ہوئی، یہ سب قیاس آرائیاں ہیں ، بھاگ کر نہیں جائیں گے، جو کام کر سکتا ہوں وہ جاری رکھوں گا، ابھی ایک کانفرنس پر آیا اس کے بعد دوسری پر جا رہا ہوں، ہاتھ میں نظام کو جتنا بہتر کرنے کا اختیار ہے وہ استعمال کریں گے۔

    بندوق کی نوک پر ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کا واقعہ،ہیومن رائٹس کونسل کی مذمت

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    لاہور بیورو کیخلاف بغاوت کی خبر کیسےباہر آئی؟ اکرم چوہدری سیخ پا،ذاتی کیفے میں اجلاس میں تلخی

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

  • جسٹس منصور کے خط پر وزیردفاع خواجہ آصف کا ردعمل

    جسٹس منصور کے خط پر وزیردفاع خواجہ آصف کا ردعمل

    اسلام آباد: وزیردفاع خواجہ آصف نے سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو26 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے لکھے گئے خط پر ردعمل دیا ہے-

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان میں وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا کہ نہایت محترم جسٹس منصور علی شاہ صاحب نے اپنے خط میں خدشے کا اظہار فرمایا ہے کہ ان کے خط کے مندرجات پر اگر عمل درآمد نہ ہوا تو عوام کا عدلیہ سے اعتماد اٹھ جائے گا۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ محترم جج صاحب اعلیٰ عدلیہ کے ساتھ عرصہ دراز سے وابستہ ہیں اور اس وابستگی کے دوران عدلیہ کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ اس کے عینی گواہ ہیں، ثاقب نثار صاحب، کھوسہ صاحب، اعجاز احسن، مظاہر نقوی اور بہت سے صاحبان عدلیہ کے وقار کو پامال کرنے والے چند نام ہیں، نام اور بھی بہت ہیں، محترم شاہ صاحب اس وقت عوام کے اعتماد مجروح ہونے کا آپ کو خیال نہیں آیا یا یہ شکایت کسی ذاتی وجہ سے ہے،یہ سیلیکٹیو سینس آف جسٹس آپ کے مقام کو زیب نہیں دیتا۔

    قبل ازیں اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی کے معاملے جسٹس منصور علی شاہ نے جوڈیشل کمیشن کو بھی خط لکھ دیا ہے، جس میں انہوں نے رولز بنائے بغیر ججز کی تعیناتی پر تحفظات کا اظہار کیا،جسٹس منصورعلی شاہ نے جوڈیشل کمیشن کو لکھے گئے خط میں کہا کہ ججز تعیناتی سے پہلے واضح رولز بنائے جائیں، ججز تعیناتی کیلئے واضح پالیسی اور کرائیٹیریا بنانا ضروری ہے۔

    انہوں نے خط میں لکھا کہ میں ججز تعیناتی پر رولز بنانے والی کمیٹی کی سربراہی کر چکا ہوں، جس میں ججز کی تعیناتی سے متعلق رولز کا پیمانہ طے کیا گیا تھا،ججز کی قابلیت اور ورک لوڈ منیجمنٹ کی صلاحیت کو رولز میں شامل کیا جانا تھا، آرٹیکل 175 اے کے مطابق ابھی تک رولز بنائے ہی نہیں گئے۔

  • جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر  نے  چیف جسٹس کو خط لکھ دیا

    جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے چیف جسٹس کو خط لکھ دیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے 2 سینئر ترین ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے 26 ویں آئینی ترمیم پر فل کورٹ بینچ کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ دیا-

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ کے 2 سینئر ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے چیف جسٹس کو مشترکہ خط لکھا خط میں کہا گیا کہ 31 اکتوبر کو آپ سے پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی اجلاس بلانے کی درخواست کی، اجلاس میں 26 آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کو مقرر کرنے پر غور کرنا تھا، 4 نومبر کو آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت مقرر کرنے کا حکم دیا فیصلے سے متعلق رجسڑار آفس کو آگاہ کردیا گیا، جس پر عمل درآمد لازمی ہے، انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے فل کورٹ سماعت کی کازلسٹ جاری نہیں ہوئی، کمیٹی اجلاس کا فیصلہ اب بھی برقرار ہے، جس پر عمل درآمد لازمی ہے۔

    سینئر ججز کی جانب سے خط میں مطالبہ کیا گیا کہ 26 آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کو رواں ہفتے لازمی سماعت کے لیے مقرر کیا جائے، رجسٹرار سپریم کورٹ کمیٹی کے 31 اکتوبر کے فیصلے کو ویب سائٹ پر جاری کرے۔

    واضح رہے کہ 2 سینئر ترین ججوں جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے 31 اکتوبر کو چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 کے تحت کام کرنے والی کمیٹی کا فوری اجلاس بلانے کے لیے خط لکھا تھا تاہم اس کے باوجود چیف جسٹس نے اجلاس نہیں بلایا، جس پر دو ارکان جسٹس منصور اور جسٹس منیب نے جسٹس منیب اختر کے چیمبر میں اجلاس کیا۔

    کمیٹی کے دونوں ارکان نے اکثریت سے فیصلہ کیا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستیں 4 نومبر کو فل کورٹ میں سماعت کیلئے لگائی جائیں، تاہم آئینی درخواستوں کو لگانے کیلئے کوئی کاز لسٹ جاری نہیں کی گئی تاہم جسٹس منصورشاہ اور جسٹس منیب دونوں نے گذشتہ روز چیف جسٹس آفریدی کو ایک اور خط لکھا جس میں انہوں نے اپنے فیصلے کے مطابق 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف آئینی پٹیشن کو طے نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا۔

    یاد رہے کہ 20 ستمبر کو صدر مملکت آصف زرداری کے دستخط بعد سپریم کورٹ ترمیمی پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس 2024 نافذ ہو گیا تھا، آرڈیننس کے مطابق چیف جسٹس آٖف پاکستان، سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج اور چیف جسٹس کے نامزد جج پر مشتمل کمیٹی کیس مقرر کرے گی، اس سے قبل چیف جسٹس اور 2 سینئر ترین ججوں کا تین رکنی بینچ مقدمات مقرر کرتا تھاسابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کمیٹی میں سینئر جج جسٹس منیب اختر کو ہٹا کر جسٹس امین الدین خان کو شامل کر لیا تھا۔

    بعد ازاں، 23 ستمبر کو جسٹس منصور علی شاہ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس کے بعد نئی تشکیل کردہ ججز کمیٹی کا حصہ بننے سے معذرت کرتے ہوئے پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کو خط لکھ دیا تھاجسٹس منصور علی شاہ نے کہا تھا کہ آرڈیننس کے اجرا کے چند گھنٹوں میں وجوہات بتائے بغیر نئی کمیٹی کی تشکیل کیسے ہوئی؟ اُس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دوسرے اور تیسرے نمبر کے سینئر ترین جج کو کمیٹی کے لیے کیوں نہیں چنا؟۔

  • 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری پر جسٹس منصور اور جسٹس عائشہ کے ریمارکس

    26ویں آئینی ترمیم کی منظوری پر جسٹس منصور اور جسٹس عائشہ کے ریمارکس

    اسلام آباد: سینیٹ اور قومی اسمبلی سے منظور ہونے والی 26ویں آئینی ترمیم سے متعلق جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عائشہ ملک نے بھی ریمارکس دئیے ہیں۔

    باغی ٹی وی : موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی کے قیام سے متعلق کیس پر سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ کا ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے دلچسپ مکالمہ ہوا،جسٹس منصور کا استفسار نے کیا موسمیاتی تبدیلی کے چیئرمین کا نوٹیفکیشن جاری ہوچکا؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ابھی نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ’اٹارنی جنرل کدھر ہیں‘ جس پرایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ’اٹارنی جنرل گزشتہ رات مصروف رہےاس لیے نہیں آئے،جسٹس منصور علی شاہ نے مسکراتے ہوئے استفسار کیا کہ ’اب تو ساری مصروفیت ختم ہو چکی ہوگی، عدالت نے کیس کی سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی کردی۔

    عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل پیش ہوں، مسابقتی کمیشن سےمتعلق اپیل پرسماعت کے دوران منصورشاہ نے آئین بینچ کا تذکرہ کیا کہا کہ کیا یہ کیس اب آئینی بنچ میں جائے گایاہم بھی سن سکتے ہیں، اب لگتا ہے یہ سوال سپریم کورٹ میں ہر روز اٹھے گا۔

    وکیل فروع نسیم نے کہا کہ سیاسی کیسز اب آئینی کیسز بن چکے ہیں، جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیئے کہ چلیں جی اب آپ جانیں اور آپ کے آئینی بینچ جانیں۔

    جسٹس منصور شاہ نے کہا کہ تین ہفتوں تک کیس کی سماعت ملتوی کر رہے ہیں، جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیئے کہ نئی ترمیم پڑھ لیں، آرٹیکل199 والا کیس یہاں نہیں سن سکتے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ویسےبھی ہمیں خود سمجھنے میں زرا وقت لگے گا۔

  • جسٹس منصور علی شاہ کےتمام مقدمات ڈی لسٹ  کر دیئے گئے

    جسٹس منصور علی شاہ کےتمام مقدمات ڈی لسٹ کر دیئے گئے

    اسلام آباد: جسٹس منصور علی شاہ کی عدم حاضری پر مقرر کیے گئے مقدمات ڈی لسٹ کر دیئے گئے-

    باغی ٹی وی : جسٹس منصور علی شاہ کے سپریم کورٹ نہ آنے کے باعث ان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے سامنے مقرر کیے گئے مقدمات ڈی لسٹ کر دیے گئے جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کیسز سننے تھے،جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل دو رکنی بینچ کو کیسز منتقل کیے گئے، دو رکنی بینچ نے کورٹ روم پر چھ میں کیسز سننے تھے لیکن دو رکنی بینچ کچھ دیر بیٹھ کر اٹھ گیا۔

    پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس 2024: درخواستوں کے قابل سماعت ہونے سے متعلق دلائل طلب

    آرٹیکل 63 اے: نظرثانی اپیلوں پر تیسری سماعت آج ہو گی

    ایران کی جانب سے اگلا حملہ اس سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہوگا،ایرانی سپریم …

  • سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل نہیں کرنا تو پھر کوئی اور نظام لے آئیں،جسٹس منصور علی شاہ

    سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل نہیں کرنا تو پھر کوئی اور نظام لے آئیں،جسٹس منصور علی شاہ

    سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے اسلام آباد میں‌ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل نہیں کرنا تو پھر کوئی اور نظام لے آئیں، اپنے اختیارات کے مطابق فیصلے پر عملدرآمد کراؤں گا،

    جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد نہیں کیا جاسکتا،یہ نہیں ہو سکتا کہ سپریم کو رٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد ر آمد نہ ہو ،فیصلوں پر کسی قسم کا ایگزیکٹو اوور ریچ نہیں ہونا چاہیے۔ ایک بات ذہن نشین کر لیں یہ ہو نہیں سکتا کہ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ ہو ،، عدالتی فیصلے سے انحراف آئین کے بنیادی ڈھانچے کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے ،سپریم کورٹ کا فیصلہ غلط ہے یا ٹھیک، یہ طے بھی سپریم کورٹ نے کرنا ہے،ایگزیکٹو کو سپریم کورٹ کے فیصلے ہر صورت عمل کرنا ہے یہی آئینی ذمہ داری ہے،

    جسٹس منصور علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ میرے اچھے دوست ہیں، سپریم کو رٹ اپنا اختیار آئینِ پاکستان سے لیتی ہے، فیصلوں پر عمل کرنا لازمی آئینی تقاضہ ہے، کسی کے پاس کوئی چوائس نہیں کہ وہ بیان کرے یہ ٹھیک ہے یا غلط، نیا نظام بنانا چاہتے ہیں تو بنا لیں، معاملات ایسے نہیں چلیں گے،میں نے دیکھا کہ2014کے فیصلے پر اب عملدرآمد ہوا ہے،

    ہر مذہب ایک دوسرے کو جگہ دے رہا ہے لیکن ہم کیوں اتنے تنگ نظر ہیں،جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس منصور علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ قرار دے چکی کہ پاکستان میں رہنے والے تمام شہریوں کے حقوق برابر ہیں،بین المذاہب ہم آہنگی پر مباحثے کی ضرورت ہے، تمام مذاہب دوسرے مذاہب کو جگہ دیتے ہیں تو ان کے ماننے والے کیوں نہیں دیتے؟ہر مذہب ایک دوسرے کو جگہ دے رہا ہے لیکن ہم کیوں اتنے تنگ نظر ہیں،اقلیتوں سے متعلق فیصلے پر عملدرآمد کے حوالے سے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی سے بات کرونگا،بطور شہری کہہ رہا ہوں تحمل سے معاشرے میں امن آئے گا، تحمل کے سبب نہ صرف معاشرہ ترقی کرے گا بلکہ اس سے نوکریوں میں اضافہ ہوگا، عدم برداشت کے سبب معاشرے میں بدامنی آتی ہے اور تقسیم پیدا ہوتی ہے، تشدد سے ملک معاشی بدحالی کا شکار ہوگا ترقی رک جائے گی

    چینی سفیر کی جانب سے ارشد ندیم کو مبارکباد

    اللہ کی مدد،ارشد ندیم نے تاریخ رقم کر دی،سارے ریکارڈ توڑ دیئے

    مولانا فضل الرحمان کی ارشد ندیم کو گولڈ میڈل جیتنے پر مبارکباد

    ایک میڈل انکو بھی دے دیں،جس نے قوم کی جان چھوڑ دی،خواجہ آصف

    جنرل (ر ) عارف حسن عہدے پر ہوتے تو آج ہم جشن نہ منا رہے ہوتے،مبشر لقمان

    ارشد ندیم نے اپنی محنت سے اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتا۔بلاول

    ارشدندیم کو قومی اسمبلی میں‌خراج تحسین ،سحر کامران نے کی قرارداد پیش

    سینیٹ اجلاس میں ارشد ندیم کو مدعو کرنے کا فیصلہ

    ارشد ندیم نے گولڈ میڈل جیتا وہ بھی میرا بیٹا ہے،بھارتی جیولین تھرور نیرج چوپڑا کی والدہ

    گولڈ میڈل پاکستانی قوم کے نام کرتا ہوں، ارشد ندیم

    بیٹے کو گلے لگانے کیلئے بے چین ہوں،والدہ ارشد ندیم

    افواج پاکستان کے سربراہان کی ارشد ندیم کو گولڈ میڈل جیتنے پر مبارکباد

    پیرس اولمپکس: ارشد ندیم نے پاکستان کو 40 سال بعد اولمپک گولڈ مڈل جتوا دیا

    کرکٹر بننا تھالیکن عدم سہولت کی وجہ سے کرکٹ چھوڑی،ارشد ندیم

  • نیب ترامیم سے متعلق کیس،جسٹس منصور علی شاہ کا اختلافی نوٹ جاری

    نیب ترامیم سے متعلق کیس،جسٹس منصور علی شاہ کا اختلافی نوٹ جاری

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم سے متعلق کیس،جسٹس منصور علی شاہ کا 27صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ جاری کر دیا گیا

    جسٹس منصور علی شاہ نے اختلافی نوٹ میں کہا کہ عدلیہ قانون سازی کا اس وقت جائزہ لے سکتی ہے جب وہ بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہو، قانون سازوں کے مفاد کو سامنے رکھ کر جانچنا پارلیمنٹ اور جمہوریت کو نیچا دکھانے کے مترادف ہے،سپریم کورٹ نے 15 ستمبر کو نیب ترامیم کو کالعدم قرار دیا تھا،2ایک کی اکثریت سے فیصلہ جاری کیاگیا تھا،اداروں کے درمیان توازن اسی صورت قائم رہ سکتا ہے جب احترام کا باہمی تعلق قائم ہو، پارلیمانی نظام حکومت میں عدلیہ کو ایگزیکٹو یا مقننہ کے مخالف کے طور پر نہیں دیکھا جاتا،عدلیہ کو اس وقت تک تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے جب تک آئینی حدود کی خلاف ورزی نہ ہو، نیب ترامیم کے حوالے درخواست گزار کے بنیادی حقوق کا موقف غیر یقینی ہیں،درخواست گزار کاموقف تسلیم کیا گیا تو پارلیمان کیلئے کسی بھی موضوع پر قانون سازی مشکل ہوگی

    اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ پارلیمان کی جانب سے بنائے گئے قوانین بالاخر کسی نہ کسی انداز میں بنیادی حقوق تک پہنچتے ہیں ،درخواست گزار نیب ترامیم کو عوامی مفاد کے برعکس ثابت کرنے میں ناکام رہا ،درخواست آئین کے آرٹیکل 8(2) کے مد نظر درخواست کو میرٹس لیس ہونے کی وجہ سے خارج کرتا ہوں،

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سماعت کیلئے مقرر

    آئین ہماری اور پاکستان کی پہچان ، آئین کے محافظ ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف کیورواٹیو ریویو،اٹارنی جنرل چیف جسٹس کے چمبر میں پیش 

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

    سپریم کورٹ نے نیب قوانین کو کالعدم قراردے دیا ,

    واضح رہے کہ فیصلے میں سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کی متعدد شقوں کو آئین کے برعکس قرار دے دیا.سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ کالعدم قرار دی شقوں کے تحت نیب قانون کے تحت کاروائی کرے ،سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ احتساب عدالتوں کے نیب ترامیم کی روشنی میں دیے گئے احکامات کالعدم قرار دیئے جاتے ہیں،آمدن سے زیادہ اثاثہ جات والی ترامیم سرکاری افسران کی حد تک برقرار رہیں گی،پلی بارگین کے حوالے سے کی گئی نیب ترمیم کالعدم قرار دے دی گئی ہیں،عوامی عہدوں پر بیٹھے تمام افراد کے مقدمات بحال کر دیئے گئے ہیں ، نیب ترامیم کے سیکشن 10 اور سیکشن14 کی پہلی ترمیم کالعدم قرار دی جاتی ہیں ،نیب کو سات دن میں تمام ریکارڈ متعلقہ عدالتوں بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے،تمام تحقیقات اور انکوائریز بحال کرنے کا حکم دیا گیا ہے، نیب کو 50 کروڑ روپے سے کم مالیت کے کرپشن کیسز کی تحقیقات کی اجازت مل گئی،سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ کرپشن کیسز جہاں رکے تھے وہیں سے 7 روز میں شروع کیے جائیں،سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کی کچھ شقیں کالعدم قراردی ہیں عدالت نے فیصلے میں کہا کہ نیب ترامیم سے مفاد عامہ کے آئین میں درج حقوق متاثر ہوئے نیب ترامیم کے تحت بند کی گئی تمام تحقیقات اور انکوائریز بحال کی جائیں

    نیب ترامیم کیس ،آخری سماعت میں کیا ہوا تھا،پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں