Baaghi TV

Tag: جسٹس منیب اختر

  • چیف جسٹس حج پر روانہ، جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس کا حلف اٹھالیا

    چیف جسٹس حج پر روانہ، جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس کا حلف اٹھالیا

    اسلام آباد: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی جمعہ کی صبح حج پر روانہ ہوگئے۔

    ذرائع کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی عید کے چوتھے روز وطن واپس آئیں گے، جسٹس منیب اختر نے قائمقام چیف جسٹس پاکستان کا حلف اٹھا لیا ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے اُن سے حلف لیا۔

    حلف برداری کی تقریب سپریم کورٹ اسلام آباد میں ہوئی جس میں سپریم کورٹ کے ججز، اٹارنی جنرل آفس کے افسران اور سینئر وکلا نے شرکت کی، جسٹس منیب اختر 6 جون تک بطور قائمقام چیف جسٹس فرائض سر انجام دیں گے، 6 جون سے 10 جون تک جسٹس منصور علی شاہ بطور قائمقام چیف جسٹس فرائض سر انجام دیں گے۔

    پاکستان کا افغانستان میں سفیر تعینات کرنے کا فیصلہ

    چیف جسٹس پاکستان یحییٰ خان آفریدی 10 جون کو پاکستان واپس آئیں گے، جسٹس منیب اختر سنیارٹی لسٹ میں تیسرے نمبر پر ہیں، سینیئر جج جسٹس منصور علی شاہ بھی بیرون ملک ہیں۔

    منشیات فروش گروہ نے 5 موسیقاروں کو قتل کردیا

  • جسٹس منیب اختر کے خلاف سُپریم جوڈیشل کونسل میں  شکایت دائر

    جسٹس منیب اختر کے خلاف سُپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت دائر

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے سینئیر ترین جج جسٹس منیب اختر کے خلاف سُپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت دائر کر دی گئی-

    باغی ٹی وی : جسٹس منیب اختر کے خلاف وکیل شا ہ جہاں خان نے شکایت دائر کی ، جس میں جسٹس منیب اختر کو عہدے سے ہٹانے اور اُن کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے کام سے روکنے کی استدعا کی گئی ہے۔

    درخواست کے متن میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ جسٹس منیب اختر اپنے کنڈکٹ سے عدلیہ بالخصوص سپریم کورٹ کو نقصان پہنچا رہے ہیں، اس لیے جسٹس منیب اختر کو ادارے کو نقصان پہنچانے سے روکا جائے۔

    واضح رہے کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس 8 نومبر کو طلب کیا ہے، چیف جسٹس سپریم جوڈیشل کونسل اجلاس کی صدارت کریں گے، اجلاس میں مختلف ججز کے خلاف آنے والی شکایات کا جائزہ لیا جائے گا۔

    میڈیا لوگوں میں محتسب کے دفاتر بارے آگاہی پیدا کرے،قائمقام صدر

    دوسری طرف چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن کا آج پہلا اجلاس ہوا، جس میں 26 ویں ترمیم کی روشنی میں آئینی بینچوں میں ججز کی نامزدگی پر غور کیا گیا اور 7 رکنی آئینی بینچ تشکیل دے دیا گیا، 7 رکنی آئینی بینچ تشکیل کا فیصلہ سات پانچ کے تناسب سے ہوا، آئینی بینچ سربراہ جسٹس امین الدین ہوں گے، جسٹس امین الدین اور جسٹس عائشہ ملک پنجاب سے آئینی بینچ میں شامل ہوں گے، اس کے علاوہ جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس نعیم اخترافغان بلوچستان کے آئینی بینچ کا حصہ ہیں، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس حسن اظہر رضوی سندھ سے آئینی بینچ کا حصہ ہیں، جسٹس مسرت ہلالی خبیرپختونخواہ بینچ میں شامل ہیں۔

    عمران خان ساری زندگی جیل میں رہنے کو تیار ہے،علیمہ خان

  • چیف جسٹس کے بغیر  جسٹس منیب اختر چمبر میں میٹنگ،منٹس منظر عام پر

    چیف جسٹس کے بغیر جسٹس منیب اختر چمبر میں میٹنگ،منٹس منظر عام پر

    جسٹس منصور علی شاہ جسٹس منیب اختر کی پریکٹس پروسیجر کمیٹی میٹنگ کے منٹس منظر عام پر آگئے

    دستاویز کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے بغیر ججز میٹنگ جسٹس منیب اختر چمبر میں ہوئی، چیف جسٹس آفریدی نے مطلع کرنے کے باوجود کمیٹی کا اجلاس نہیں بلایا،معاملہ فوری نوعیت کا ہونے کیوجہ سے جسٹس منیب اختر چمبر میں کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا،ججز کمیٹی اجلاس میں 26 آئینی کیخلاف درخواستیں 4 نومبر کو لگانے کا فیصلہ ہوا، 26 آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر فل کورٹ سماعت کریگا، کمیٹی نے درخواستوں پر اکثریت سے سماعت مقرر کرنے کا فیصلہ کیا،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے 2 سینئر ترین ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے 26 ویں آئینی ترمیم پر فل کورٹ بینچ کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھا تھا،سپریم کورٹ کے 2 سینئر ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے چیف جسٹس کو مشترکہ خط لکھا خط میں کہا گیا کہ 31 اکتوبر کو آپ سے پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی اجلاس بلانے کی درخواست کی، اجلاس میں 26 آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کو مقرر کرنے پر غور کرنا تھا، 4 نومبر کو آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت مقرر کرنے کا حکم دیا فیصلے سے متعلق رجسڑار آفس کو آگاہ کردیا گیا، جس پر عمل درآمد لازمی ہے، انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے فل کورٹ سماعت کی کازلسٹ جاری نہیں ہوئی، کمیٹی اجلاس کا فیصلہ اب بھی برقرار ہے، جس پر عمل درآمد لازمی ہے۔

  • آرٹیکل 63 اے   نظرثانی اپیل:سٹس منیب اختر  کا  شمولیت سے انکار

    آرٹیکل 63 اے نظرثانی اپیل:سٹس منیب اختر کا شمولیت سے انکار

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منیب اختر نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے فیصلے پر نظرثانی اپیلوں پر تشکیل کردہ لارجر بنچ میں شمولیت سے انکار کردیا-

    باغی ٹی وی : آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے فیصلے پر نظرثانی اپیلوں پر سماعت سپریم کورٹ میں شروع ہوئی تو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس مظہر عالم کمرہ عدالت پہنچے تاہم جسٹس منیب اختر کمرہ عدالت میں نہیں آئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل بینچ میں شامل تھے۔

    چیف جسٹس پاکستان نے اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر بلا لیا اور کہا کہ کیس کے حوالے سے لارجر بینچ آج بنا تھا، کیس کا فیصلہ ماضی میں 5 رکنی بینچ نے سنایا تھا،جسٹس منیب اختر نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط تحریر کر دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس منیب اختر کا خط پڑھ کر سنایا۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ قانون کا تقاضا ہے نظرثانی اپیل پر سماعت وہی بینچ کرے، سابق چیف جسٹس کی جگہ میں نے پوری کی، جسٹس اعجازالاحسن کی جگہ جسٹس امین الدین کو شامل کیا گیا، ہم جسٹس منیب اختر سے درخواست کریں گے کہ بینچ میں بیٹھیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس منیب نے لکھا ہے کہ میں آج اس کیس میں شامل نہیں ہوسکتا، انہوں نے لکھا ہے کہ ان کا خط اس نظر ثانی کیس میں ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم ابھی اٹھ رہے ہیں، جسٹس منیب اختر کو درخواست کررہے ہیں کہ وہ بنچ میں شامل ہوں، جسٹس منیب اختر نے آج مقدمات کی سماعت کی ہے وہ ٹی روم میں بھی موجود تھے ان کا آج کی سماعت میں شامل نہ ہونا ان کی مرضی تھی، ہم کل دوبارہ اس نظرثانی کیس کی سماعت کریں گے، امید کرتے ہیں کہ جسٹس منیب اختر کل سماعت میں شامل ہوں۔

    انہوں نے کہا کہ ہم جسٹس منیب کو راضی کرنے کی کوشش کریں گے ورنہ بینچ کی تشکیل نو ہو گی، امید ہے جسٹس منیب اختر دوبارہ بینچ میں شامل ہو جائیں گے، جسٹس منیب اختر بینچ میں شامل ہوتے ہیں یا نہیں، دونوں صورتوں میں کل کیس کی سماعت ہوگی۔

    جسٹس منیب اختر نے اپنے خط میں لکھا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی نے یہ بینچ تشکیل دیا ہے، کمیٹی کے تشکیل کردہ بینچ کا حصہ نہیں بن سکتا بینچ میں بیٹھنے سے انکار نہیں کر رہا، بینچ میں شامل نہ ہونے کا غلط مطلب نہ لیا جائے اور میرے خط کو نظر ثانی کیس ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جسٹس منیب کا خط عدالتی فائل کا حصہ نہیں بن سکتا، ایسے خط کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے کی روایت نہیں ہے مناسب ہوتا جسٹس منیب اختر بینچ میں آکر اپنی رائے دیتے، میں نے اختلافی رائے کو ہمیشہ حوصلہ افزائی کی ہے، نظر ثانی کیس 2 سال سے زائد عرصہ سے زیر التوا ہے 63 اے کا مقدمہ بڑا اہم ہے، جسٹس منیب اختر رائے کا احترام ہے لیکن ایک بار بینچ بن چکا ہو تو کیس سننے سے معذرت صرف عدالت میں ہی ہو سکتی ہے۔

    دوران سماعت پی ٹی آئی کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر روسٹرم پر آگئے اور انہوں نے کمیٹی پر تحفظات کا اظہار کردیا اور کہا کہ کمیٹی تب ہی بینچ بنا سکتی ہے جب تینوں ممبران موجود ہوں، بعدازاں سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے تشریح کے فیصلے پر نظرثانی اپیلوں پر سماعت کل صبح ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کر دی۔

  • جسٹس منیب اختر کا چیف جسٹس  کی صدارت جوڈیشیل کمیشن کے اجلاس سے واک آؤٹ

    جسٹس منیب اختر کا چیف جسٹس کی صدارت جوڈیشیل کمیشن کے اجلاس سے واک آؤٹ

    اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی کے لیے رولز بنانے کے معاملے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا،

    سپریم کورٹ کے جج جسٹس منیب اختر نے جوڈیشل کمیشن اجلاس مؤخر کرنے کی تجویز دی، جس پر جوڈیشل کمیشن نے اجلاس مؤخر کرنے کی تجویز سے اختلاف کیا تو جسٹس منیب اختر جوڈیشل کمیشن اجلاس سے واک آوٹ کرگئے ہیں، جوڈیشل کمیشن مجوزہ رولز 2024 سے متعلق چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اہم اجلاس جاری ہے،اجلاس میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس امین الدین اجلاس میں شریک ہیں، ہائیکورٹ کے چیف جسٹسز بھی اجلاس میں شریک ہیں،جسٹس ریٹائرڈ منظور ملک ،اٹارنی جنرل اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ بھی شریک ہیں،چاروں صوبائی وزرا قانون سمیت ہائیکورٹس کے سینئر ججز بھی شریک ہیں،جوڈیشل کمیشن اجلاس میں ججز تقرری کے لیے رولز کا جائزہ لیا جارہا ہے، ہائیکورٹس میں خالی آسامیوں پر تقرریوں کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔

    دوران اجلاس جسٹس منیب اختر نے جوڈیشل کمیشن اجلاس مؤخر کی تجویز دی، جس پر کمیشن نے اجلاس مؤخر کرنے کی تجویز سے اختلاف کیا تو جسٹس منیب اختر نے جوڈیشل کمیشن اجلاس سے واک آؤٹ کردیا، جسٹس منصور علی شاہ نے اجلاس میں مجوزہ سفارشات کا مسودہ پڑھا۔ جسٹس منیب اختر کی رائے ہے کہ آئینی ترمیم کا معاملہ حتمی ہونے تک اجلاس موخر کیا جائے،مئی میں بھی جوڈیشل کمیشن کا اجلاس آئینی ترمیم کی وجہ سے ہی موخر کیا گیا تھا،

    جوڈیشل کمیشن کے دیگر ممبران نے اجلاس جاری رکھنے کا فیصلہ کیا،چیف جسٹس پاکستان کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن اجلاس جاری ہے، جس میں اہم فیصلے متوقع ہیں

    واضح رہے کہ 28 اگست کو ہائیکورٹس میں نئے ججز کی تقرری کیلئے رولز کا جائزہ لینے کیلئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 13 ستمبر کو طلب کیا تھا۔ چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے ہائیکورٹس میں ججز تقرری کیلئے نام بھی طلب کرتے ہوئے تمام ہائیکورٹس کے چیف جسٹسز کو خط بھی لکھے تھے،خط میں کہا گیا ہے کہ جس ہائیکورٹ میں 5 سے زیادہ نشستیں خالی ہیں فوری نام تجویز کیے جائیں، ڈھائی سال بعد سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد مکمل ہوئی شریعت اپیلٹ بنچ بھی 29 جولائی سے فعال ہے۔

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    وفاقی حکومت کی طرف سے پاکستان بیت المال کو سماعت وگویائی سے محروم بچوں کے لیے فنڈز نہ مل سکے ،

    سماعت سے محروم بچے چلا رہے ہیں ریسٹورینٹ، صدر مملکت بھی وہاں پہنچ گئے، کیا کہا؟

    ویلڈن پاک فوج، سماعت سے محروم افراد سننے اور بولنے لگے

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    حکومتی نااہلی،سماعت سے محروم سینکڑوں بچوں کا مستقل معذور ہونے کا خدشہ

    دوسری جانب حکومت نےکل ہفتے کے روز آئینی قانونی عدالتی اصلاحات پیکج پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا منصوبہ بنا لیا ہے، اس ضمن میں سینیٹ اورقومی اسمبلی کااجلاس کل بلانے کافیصلہ کیا گیا ہے،قومی اسمبلی اجلاس کل دن گیارہ بجے اور سینیٹ اجلاس کل شام چار بجے بلایاگیاہے،کل بلائے گئے اجلاس میں اہم قانون سازی متوقع ہے، قومی اسمبلی اورسینٹ سیکریٹریٹ کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں.

  • شکایت کونسل کے پاس جانے سے پہلے سوشل میڈیا پر چل جاتی ہے،جسٹس منیب اختر

    شکایت کونسل کے پاس جانے سے پہلے سوشل میڈیا پر چل جاتی ہے،جسٹس منیب اختر

    سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی ریگولیٹ کرنے کے حوالے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جج کے مستعفی ہونے کے بعد کونسل کاروائی ختم کردیتی ہے، آرٹیکل 209 میں جج کو عہدے سے ہٹانے کی بات کی گئی ہے جج خود عہدے سے ہٹ جائے تو کچھ نہیں لکھا، درخواست گزار چاہتا کیا ہے کیا کونسل کو عدالت ہدایات دے؟کیا عدالت کونسل کو گائیڈ لائنز دے سکتی ہے ؟آج کل شکایت کونسل کے پاس جانے سے پہلے سوشل میڈیا پر چل جاتی ہے، سنجیدہ معاملہ ہونے کی وجہ سے کیس کو توجہ سے سن رہے ہیں، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ عدالت نے مختلف مقدمات میں کونسل کی کارروائی کا جائزہ لےکر ہدایات دیں ہیں،جسٹس منیب اخترنے کہا کہ ہم نے کونسل کو ہدایت کسی فیصلے میں نہیں دیں، عدالت فیصلہ دے عمل نہ ہو تو کیا پھر کونسل کے خلاف توہین عدالت ہوگی ؟

    جسٹس منیب اختر نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کونسل میں شکایت دینے والے کو ہتھیار دینا چاہ رہی ہیں، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لوگ بغیر میرٹس کے شکایت بھیجتے ہیں،سوشل میڈیا پر لگا دیتے ہیں،
    کونسل کارروائی نہیں کرتی تو یہ انکا فیصلہ ہے،جج کا وقار ہے اور حقوق ہیں، آپ کہہ رہی ہیں کہ جج کے خلاف شکایت آنے پر فوری کاروائی کرنی چاہیے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے کہ کل سترہ ججز کے خلاف شکایات آجائیں، عدالت نے کہا کہ کیس میں مناسب حکم جاری کریں گے،