Baaghi TV

Tag: جسٹس یحییٰ آفریدی

  • سپریم کورٹ آئینی بینچ کی مدت میں6 ماہ کی توسیع

    سپریم کورٹ آئینی بینچ کی مدت میں6 ماہ کی توسیع

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن اجلاسوں میں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کو 6 ماہ کے لیے توسیع اور ججز تعیناتی سے متعلق قوانین کی منظوری دے دی گئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کمیشن کے دوسرے اجلاس میں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کو 6 ماہ کے لیے توسیع دی گئی، عدالت عظمیٰ کے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔سپریم کورٹ کے اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ججز کی تعیناتی کے لیے رولز کے مسودے کا جائزہ لینے کے لیے جوڈیشل کمیشن کے دو اجلاسوں کی سربراہی کی، پہلے اجلاس کا آغاز صبح 11 بجے ہوا جو 8 گھنٹے تک جاری رہا جس میں ججوں کی تقرری رولز کے مسودے کا جائزہ لیا گیا۔جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ جوڈیشل کمیشن نے اجلاس کے دوران مانگی گئی عوامی رائے کا بھی جائزہ لیا۔دوران اجلاس آئینی بینچ کی تشکیل برقرار رکھنے کا فیصلہ 7، 6 کے تناسب سے ہوا، ووٹنگ میں 7 ممبران نے بینچ برقرار رکھنے کے حق میں فیصلہ دیا۔اجلاس میں جسٹس جمال مندوخیل نے تمام سپریم کورٹ ججز کو آئینی بینچ میں شامل کرنے کی تجویز دی۔جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں ججوں کی تعیناتی سے متعلق کچھ رولز میں معمولی تبدیلی کے ساتھ قوانین کی منظوری بھی دی گئی۔ججز تعیناتی کے حتمی مسودے میں نئے ایڈیشنل ججز کے لیے میڈیکل ٹیسٹ کی شرط نکال دی گئی ہے جبکہ کسی امیدوار کی انٹیلی جنس رپورٹ لینا یا نہ لینا کمیشن کی صوابدید ہو گا۔رپورٹ کے مطابق مسودے میں ہائی کورٹ چیف جسٹس کے لیے 3 نام زیر غور آئیں گے، سینئر جج کو چیف جسٹس ہائی کورٹ نہ بنانے پر وجوہات بتانا لازمی ہوں گی۔مسودے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں ججوں کی تعیناتی کے لیے ہائی کورٹ سے 5 نام تجویز کیے جائیں گے۔ججز قوانین کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن اجلاس میں نئے رولز کے تحت ایڈیشنل ججز کے لیے نامزدگیاں 3 جنوری تک طلب کی گئی ہیں جبکہ ان ججز کے لیے نامزدگیاں متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے ذریعے بھیجی جائیں گی۔

    غیر قانونی ماہی گیری میں ملوث 10ٹرالرز ضبط

  • جسٹس  یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس  آف پاکستان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری

    جسٹس یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری

    اسلام آباد:وزارت قانون نے یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : وزارت قانون نے نئے جسٹس یحییٰ آفریدی کا بطور نئے چیف جسٹس آف پاکستان تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، صدر مملکت کی منظوری کے بعد چیف جسٹس کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا،وزارت قانون و انصاف کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس یحییٰ آفریدی 26اکتوبر کو حلف اٹھائیں گے،جسٹس یحییٰ آفریدی کی تعیناتی 3سال کیلئے کی گئی ہے۔

    صدر مملکت نے تعیناتی آئین کے آرٹیکل 175 اے (3)، 177 اور 179 کے تحت کی، صدر مملکت آصف علی زرداری نے جسٹس یحییٰ آفریدی سے 26 اکتوبر کو چیف جسٹس کے عہدے کا حلف لینے کی بھی منظوری دے دی۔

    اسرائیلی فوج کا حزب اللہ کے قائم مقام سربراہ ہاشم صفی الدین کو بھی …

    واضح رہے کہ چیف جسٹس کی تعیناتی کے لیے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی نے گزشتہ روز سپریم کورٹ کے جج یحیٰی آفریدی کو اگلے چیف جسٹس آف پاکستان کے طور پر نامزد کیا تھا چیف جسٹس پاکستان کی تقریری کیلئے سنیارٹی کے لحاظ سے جسٹس منصور علی شاہ پہلے، جسٹس منیب اختر دوسرے اور جسٹس یحییٰ آفریدی تیسرے نمبر پر تھےتاہم پارلیمانی خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں دوتہائی اکثریت نے یحییٰ آفریدی کے نام کی منظوری دی۔

    کمیٹی میں پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) نے جسٹس منصور علی شاہ کا نام تجویز کیا تھا جبکہ مسلم لیگ (ن) اور دیگر جماعتوں کے ارکان نے یحییٰ آفریدی کے نام پر اصرار کیا جب کہ پی ٹی اراکین نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا کمیٹی نے یحییٰ آفریدی کا نام وزیر اعظم کو ارسال تھا اور ان کی ایڈوائس پر اسے صدر مملکت کو بھیجا گیا تھا۔

    بجلی استعمال ہو نہ ہو کپیسٹی پیمنٹ کرنا پڑےگی،نپیرا نے کے الیکٹرک صارفین پر بم …

    صدر مملکت نے جسٹس یحییٰ آفریدی بطور چیف جسٹس آف پاکستان کی منظوری دے دی وہ پاکستان کے 30 ویں چیف جسٹس آف پاکستان ہوں گے جو 26 اکتوبر کو عہدے کا حلف لیں گے صدر مملکت نے جسٹس یحییٰ کی تقرری آئین کے آرٹیکل 175 اے (3)، 177 اور 179 کے تحت 26 اکتوبر سے اگلے تین سال تک کے لئے کی ہےجبکہ موجودہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی مدت 25 اکتوبر کو مکمل ہو رہی ہے۔

  • مخصوص نشستوں  سے متعلق کیس:جسٹس یحییٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ جاری

    مخصوص نشستوں سے متعلق کیس:جسٹس یحییٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ جاری

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جج جسٹس یحییٰ آفریدی نے مخصوص نشستوں کے کیس سے متعلق فیصلے میں اپنا اختلافی نوٹ جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی : جسٹس یحییٰ آفریدی نے 26 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ تحریر کیا جس میں انہوں نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کے حصول کے لیے آئینی تقاضوں پر پورا نہیں اترتی اس لیے سنی اتحاد کونسل کی درخواستیں مسترد کی جاتی ہیں۔

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ تحریک انصاف سیاسی جماعت ہے اور مخصوص نشستوں کیلئے اہل ہے مگر پی ٹی آئی اس عدالت کے سامنے فریق نہیں بنی،3 جون سے کیس چل رہا تھا، پی ٹی آئی نے 26 جون تک کوئی درخواست نہیں دی، 26 جون کو پی ٹی آئی کی فریق بننے کی درخواست آئی، بیرسٹر گوہر نے جاری کیس میں معاونت کی درخواست دی مگر پی ٹی آئی نے اپنے حق میں کسی ڈکلیریشن کی استدعا نہیں کی، الیکشن کمیشن فریقین کو سن کر 7 روز میں فیصلہ کرے اور مخصوص نشستوں کے نوٹیفکیشن کا دوبارہ جائزہ لے۔

  • پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ ،جسٹس یحییٰ آفریدی کا اضافی نوٹ جاری

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ ،جسٹس یحییٰ آفریدی کا اضافی نوٹ جاری

    اسلام آباد: سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تفصیلی فیصلے میں جسٹس یحییٰ آفریدی کا اضافی نوٹ جاری کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : 24 صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ میں جسٹس یحییٰ آفریدی نے لکھا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں اپیل کا حق دینے کا سیکشن 5 کالعدم قرار دیا جاتا ہے، آرٹیکل 184 تین کے فیصلوں کے خلاف اپیل کا حق دینا آئینی ترمیم سے ممکن ہے اپیل کا حق دینا بلا شبہ ایک مثبت اقدام ہے، اگر پارلیمنٹ 184 تین کے کیسز میں اپیل دینا چاہتی ہے تو آئینی ترمیم کا درست راستہ اپنائے، سادہ قانون سازی سے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کا سیکشن 5 پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار سے تجاوز ہے۔

    بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے پر سماعت،فیصلہ محفوظ

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے اضافی نوٹ میں کہا کہ اٹارنی جنرل اور ایکٹ کے حامی تمام وکلاء پارلیمنٹ کی مداخلت کا دفاع کرنے میں ناکام رہے، پارلیمنٹ نے سپریم کورٹ کے فیصلوں میں اپیل کا حق دے کر ایک نیا دائرہ اختیار متعارف کرایا پارلیمنٹ سادہ قانون سازی سے سپریم کورٹ کے اصل دائرہ اختیار میں اپیل شامل نہیں کر سکتا۔

    ڈیرہ اسماعیل خان میں سیکیورٹی فورسز پر حملے کے اہم شواہد مل گئے

    واضح رہے کہ جسٹس یحییٰ آفریدی پریکٹس اینڈ پروسیجر کا سیکشن 5 کالعدم قرار دینے والے 6 ججز میں شامل تھے۔

  • از خود نوٹس کے اختیار کا استعمال انتہائی احتیاط کا متقاضی ہے،جسٹس اطہر من اللہ،میرا سماعت کو سننے کا کوئی فائدہ نہیں،جسٹس یحییٰ آفریدی

    از خود نوٹس کے اختیار کا استعمال انتہائی احتیاط کا متقاضی ہے،جسٹس اطہر من اللہ،میرا سماعت کو سننے کا کوئی فائدہ نہیں،جسٹس یحییٰ آفریدی

    اسلام آباد: جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ اسمبلیاں توڑنے کی آئینی اور قانونی حیثیت دیکھنا نا گزیر ہے۔

    باغی ٹی وی: پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات کے معاملے پر سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کے حوالے سے جسٹس اطہر من اللّٰہ نے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ میں نے چیف جسٹس پاکستان کا آرڈر پڑھ لیا ہے،چیف جسٹس کے اوپن کورٹ میں دیا گیا آرڈر تحریری حکم نامے سے مطابقت نہیں رکھتا-

    چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا صوبائی اسمبلیاں توڑنے کی آئینی اور قانونی حیثیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کیا صوبائی اسمبلیاں جمہوریت کے آئینی اصولوں کو روند کر توڑی گئیں؟ ہمارے سامنے رکھے گئے سوال کو علیحدہ نہیں دیکھا جا سکتا۔

    جسٹس اطہر من اللّٰہ نے اپنے نوٹ میں سوال کیا ہے کہ کیا صوبائی اسمبلیاں جمہوریت کے آئینی اصولوں کو روند کر توڑی گئیں؟

    ان کا کہنا ہے کہ اسمبلیاں توڑنے کی قانونی حیثیت پر سوالات بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی سے متعلق ہیں، ہمارے سامنے آنے والا معاملہ پہلے ہی صوبائی آئینی عدالت کے سامنے موجود ہے اس معاملے کا سپریم کورٹ آنا ابھی قبل از وقت ہےکسی اور معاملے کو دیکھنے سے پہلے چیف جسٹس نے مجھ سے اس معاملے پر سوالات مانگے ہیں-

    کیا صوبائی اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس دینا وزیرِ اعلیٰ کا حتمی اختیار ہے جس کی آئینی وجوہات کو دیکھنا ضروری نہیں؟

    کیا وزیرِ اعلیٰ اپنی آزادانہ رائے پر اسمبلی توڑ سکتا ہے یا کسی کی رائے پر؟

    کیا کسی بنیاد پر وزیرِ اعلیٰ کی ایڈوائس کو آئینی طور پر مسترد کیا جا سکتا ہے اور اسمبلی بحال کی جا سکتی ہے؟

    جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ میں نےجب عدالت میں آئینی نکات اٹھائےتو چیف جسٹس نے انہیں شامل کرنے پر اتفاق کیا، میرے سوالات پر بینچ کے کسی رکن نے اعتراض نہیں کیا، کھلی عدالت میں میرے سوالات کو شامل کر کے حکم نامہ لکھوایا گیا۔

    جسٹس اطہر من اللّٰہ نے یہ بھی کہا کہ اس عدالت کی آئین کی تشریح کے عام لوگوں اور آنے والی نسلوں پر اثرات ہیں، از خود نوٹس کے اختیار کا استعمال انتہائی احتیاط کا متقاضی ہے، یہ ناگزیر ہے کہ آئینی خلاف ورزیوں اور آئینی تشریح کے اہم معاملات کو فل کورٹ سنے، چیف جسٹس کے از خود نوٹس کے اختیار کی آئینی تشریح بھی ضروری ہوگئی ہے۔

    دوسری جانب جسٹس یحییٰ نے اپنے احتلافی نوٹ میں لکھا کہ فیصلہ جاری کرنے کے لیے عدالتی اختیارات کا استعمال ٹھیک نہیں ہو گا، معاملہ ابھی لاہور ہائیکورٹ اور پشاور ہائیکورٹ میں زیرِ التواء ہے جس پر فیصلہ ہونا باقی ہے، سپریم کورٹ کا دائرہ کار انڈی پینڈنٹ ہے جس کا دیگر عدالتوں میں زیرِ التواء معاملے سے تعلق نہیں۔

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے لکھا کہ ماحول چارج ہے، سیاسی جماعتوں کا نکتہ نظر بھی ہے، عدالت تحمل کا مظاہرہ کرے، عدالت کی خواہش پر ردِ عمل سے بچنے کے لیے ایسا کرنا چاہیے، سپریم کورٹ کی سماعت کے دوران ریمارکس یا فیصلہ جاری کرنا پارٹیوں کے دعوؤں کے ساتھ تعصب ہو گا، یہ ہائی کورٹ کے قانونی دائرہ اختیار کی بھی توہین ہو گی۔

    اپنے نوٹ میں جسٹس یحییٰ آفریدی نے لکھا کہ اس طرح ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار پربھی اثر ہو گا، ہائی کورٹ قانون کو عزت اور پختگی سے چلانے کا حق رکھتی ہےمیں تینوں درخواستوں کومسترد کرتا ہوں، ہمارے لیےآرٹیکل 184 (3) کا استعمال تینوں درخواستوں پر درست نہیں ہو گا میرا سماعت کو سننے کا کوئی فائدہ نہیں، میں بینچ پر اپنے آپ کو برقرار رکھنے کا فیصلہ چیف جسٹس پر چھوڑتا ہوں۔