Baaghi TV

Tag: جشن آزادی

  • ہمیں دیکھنا چاہیے کہ پچھتر برسوں میں کیا کھویا کیا پایا قیصر نظامانی

    ہمیں دیکھنا چاہیے کہ پچھتر برسوں میں کیا کھویا کیا پایا قیصر نظامانی

    اداکار قیصر خان نظامانی نے کہا کہ اس ملک کو بنے ہوئے پچھتر سال ہو گئے ہیں لیکن آج بھی ایسا لگتا ہے کہ ہم وہیں کے وہیں کھڑے ہیں جہاں 1947 میں تھے۔ ہمیں یہ دیکھنا اور سوچنا چاہیے کہ آزادی کے اتنے برسوں کے بعد ہم نے کیا کھویا کیا پایا۔ اگر ہم صدق دل سے بیٹھیں اور سوچیں تو محسوس ہو گا کہ ہم نے کیا کیا کھویا ہے۔ ہم آج کے دن ہی یہ طے کر لیں کہ ہم نے ماضی میں جو غلطیاں کی تھیں انہیں نہیں دہرائیں گے تو یقینا ہم بہتری کی طرف ہی جائیں گے۔

    اس ملک میں ہر نسل کا انسان بستا ہے یہ ہم سب کا ملک ہے ہم اس کے وارث ہیں ہمیں اپنے بچوں کو بتانا چاہیے کہ پاکستان سے محبت کتنی ضروری ہے ۔ قیصر خان نظامانی نے کہا کہ اس روز میں اپنی گاڑی پر خاص طور پر پاکستان کا جھنڈا لگا کر باہر نکلتا ہوں اور فخر مھسوس کرتا ہوں کہ میں پاکستانی ہوں۔ یاد رہے کہ اداکار قیصر خان نظامانی نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن اب وہ الگ ہو چکے ہیں اور خود کو سیاست سے ہی الگ کر لیا ہے ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی جماعت کو سپورٹ کریں لیکن مقصد پاکستان کی بہتری ہی ہونا چاہیے.

  • میرا پاکستان میری پہچان ہے عارف لوہار

    میرا پاکستان میری پہچان ہے عارف لوہار

    جشن آزادی کے موقع پر فوک گلوکار عارف لوہار کہتے ہیں کہ میرا ملک پاکستان میری پہچان ہے میں دنیا میں کہیں بھی جاتا ہوں تو پاکستانی ہی کہلایا جاتا ہوں جس پر مجھے فخر ہے میرے والد نے بھی ساری دنیا میں پاکستان کی نمائندگی کی میں بھی کررہا ہوں اور میرے بچے بھی کررہے ہیں۔ ہم نے ہمیشہ پاکستانی لباس پہنا میرے والد بھی پاکستانی لباس پہنتے تھے میں بھی پہنتا ہوں اور میرے بچے بھی پاکستانی لباس زیب تن کرتے ہیں۔ عارف لوہار نے

    کہا کہ اس ملک کو ہم نے بہت قربانیوں کے بعد حاصل کیا تھا ہمیں اس چیز کا ہر دم احساس رہنا چاہیے۔ سیاستدانوں کو آپسی اختلافات بھلا کر ملک و قوم کا سوچنا چاہیے،سیاسی اختلافات ہونے چاہیں ذاتی نہیں۔ اس ملک میں ہر طرح کا موسم ہے ہماری خوش نصیبی ہے کہ ہم اس ملک کے باسی ہیں پاکستانی ہیں۔ مجھے اپنے وطن کی مٹی سے محبت ہے اس کی خوشبو میرے رگ رگ میں بستی ہے۔ہمیں اس ملک کی ترقی کے لئے اپنا حصہ ڈالنا چاہیے آو اس موقع پر عزم کریں کہ ملک کی سربلندی کے لئے ہمیشہ کوشاں رہیں گے۔ میری دعا ہے کہ میرا ملک ہنستا رہے بستا رہے اور ہماری قوم متحد رہے.

  • اس ملک نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے حمیرا ارشد

    اس ملک نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے حمیرا ارشد

    گلوکارہ حمیرا ارشد نے جشن آزادی کے موقع پر کہا ہے کہ ہم خوش نصیب ہیں کہ ایک آزاد ملک میں سانس لے رہے ہیں۔اس ملک نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے ہماری بھی ذمہ داری ہیں کہ اس کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ میں نے اپنے ملک کی دنیا بھر میں نمائندگی کی ہے اور میرا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے جب کوئی کہتا ہے کہ حمیرا ارشد پاکستانی گلوکارہ ہیں۔ میرے کیرئیر میں اب تک کئی بار ایسا ہو چکا ہے کہ بیرون ملک جشن آزادی منائی۔اس بار بھی میں بیرون ملک

    جشن آزادی منارہی ہوں۔ میں امریکہ میں ہوں۔اور باہر کے ملکوں کی سر زمین پر پاکستان کی آزادی منانا اور پاکستان کا جھنڈا لہرانے کا جو مزہ ہے اسکو کیسے بیان کروں میرے پاس الفاظ نہیں ہے۔ ہمارے ملک میں ہر چیز ہے ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے۔ حمیرا ارشد نے کہا کہ اس موقع پر میں سب سے کہنا چاہوں گی کہ نفرتوں کو بھلا کر ایک دوسرے کےلئے دل صاف کریں اور اس ملک کو امن کا گہوارہ بنائیں۔میں دل کی گہرائیوں سے تمام پاکستانیوں کو جشن آزادی کی مبارکباد دینا چاہوں گی اور دعا کروں گی کہ ہمارا ملک ہر قسم کی آفت اور پریشانی سے محفوظ رہے.

  • پاکستان پر ہماری جان بھی قربان ہے صائمہ نور

    پاکستان پر ہماری جان بھی قربان ہے صائمہ نور

    جشن آزادی پوری قوم کی طرح فنکار برادری بھی جوش و خروش سے مناتی ہے۔ اداکارہ میگھا نے اس موقع پر کہا ہے کہ ہمارا دل کشمیر کے ساتھ دھڑکتا ہے ، کشمیر کو جلد سے جلد پاکستان کا حصہ بنایا جانا چاہیے ہمارے کشمیری بھائی بھی پاکستان کا جشن آزادی مناتے ہیں ۔ اسی طرح سے اداکارہ صائمہ نور نے کہا کہ پاکستان نے ہمیں پہچان دی ہے پاکستان کے وجود سے ہم ہیں۔ ہماری جان بھی اپنے ملک کے لئے قربان ہیں ہم اس کی حفاظت کے لئے ہر دم تیار ہیں۔اداکارہ صائمہ نور نے کہا کہ یہ دن ہمیں یکجہتی کا پیغام دیتا ہے ہمیں محبتیں بانٹنی چاہیں

    اور اپنے ملک کے جھنڈے کا احترام کرنا چاہیے۔ افتخار ٹھاکر نے کاکہا کہ علامہ اقبال نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا وہ ایسا نہیں تھا جس میں ایک دوسرے کو نیچا دکھایا جائے ایک دوسرے کے لئے زندگی کا دائرہ تنگ کیا جائے۔ ہماری سیاسی لڑائی جھگڑے ہی ختم نہیں ہوتے ،سیاستدانوں کو عوام کا سوچنا چاہیے۔ اسی طرح سے حمیرا ارشد کا بھی کہنا ہے کہ ہمارا ملک ہماری دھرتی دنیا میں سب سے خوبصورت ہے یہاں ہر طرح کا موسم ہے ، ہر نعمت سے مالا مال ہیں ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے۔جشن آزادی کے موقع میں سب مداحوں سے کہنا چاہوں گی کہ پاکستان ہمارا گھر ہے اپنے گھر کی مل جل کر حفاظت کیجیے۔

  • قصوریوں کا جشن آزادی کشمیریوں کے نام

    قصوریوں کا جشن آزادی کشمیریوں کے نام

    قصور
    قصوریوں کا جشن آزادی کشمیریوں کے نام، ڈی سی قصور کی جانب سے پورے شہر میں کشمیریوں کے مظالم دنیا کے دکھانے کیلئے بینرز،فلیکس لگوا دیئے گئے،سرکاری و نجی عمارتوں کیساتھ پاکستان کے جھنڈے کیساتھ کشمیر کا جھنڈا بھی لازم
    تفصیلات کے مطابق قصوریوں نے جشن آزادی پاکستان کشمیریوں کے نام کیا ہے جس کی خصوصی کاوش ڈی سی قصور منظر علی جاوید نے کی ہے ان کی طرف سے وادی کشمیر پر جاری مظالم پر مبنی بینرز و فلیکس چھپوا کر پورے شہر میں لگا دیئے گئے تاکہ دنیا تک مظلوم کشمیریوں کی آواز پہنچ سکے نیز ضلع بھر میں تمام سرکاری و نجی عمارتوں پر پاکستانی پرچم کیساتھ کشمیر کا پرچم بھی لہرایا جا رہا ہے تاکہ دنیا کو پیغام دیا جا سکے کہ پاکستانی قوم اپنے مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی آزادی کی خاطر ہر قسم کی قربانی دینے کیلئے تیار ہے

  • 14 اگست تحریک آزادی سے تحریک کشمیر تک —  محمد عبداللہ اکبر

    14 اگست تحریک آزادی سے تحریک کشمیر تک — محمد عبداللہ اکبر

    چودہ اگست نام سنتے ہی دل دماغ تھم جاتے ہیں اور ذہن چند دہائیاں قبل کے زمانے میں غوطے کھانے لگتا ہے۔
    نسلِ نو سے تعلق ہونے کی بنا پر کچھ جدت کی لہروں سے تھپیڑے کھا کے اس وقت بڑے ٹھنڈے جذبے سینے میں سموئے بیٹھا ہوں اس لیے شائد وہ والا خلوص، وہ جذبے، وہ ہمت کی داستانیں اور وہ جرات کے علمبرداروں کی ترجمانی میرا قلم اس شدت کے ساتھ نہ کر سکے۔
    ہاں بزرگوں سے وہ جذبے ان کی زبانی ضرور سن چکا ہوں۔ مجھے یاد ہے اپنا کچھ سال پرانا چودہ اگست جب چند الڑ سے جوان جو میرے ہی ہم عمر تھے بابا جی کے سامنے سے اپنے چہروں کو ہلال اور ستاروں سے مزین کئے ہوئے سائلنسر اتارے سیٹیاں بجاتے ہوئے گزرے۔
    میری نظریں گزرنے والے ان جوانوں کا تعاقب کرنے میں محو تھیں کہ اپنے پہلو سے انا للہ وانا الیہ راجعون کی آواز سنی۔ ایک لمحے کے لیے مڑ کے بابا جی کی طرف دیکھا تو یہ الفاظ انہی بابا جی کے تھے جنہوں نے تحریک آزادئ پاکستان میں اپنے جگر گوشوں کو آنکھوں کے سامنے ہندوں کے نیزوں پہ لٹکتے اور اپنی بیٹیوں کی دراؤں کو ان کی برچھوں کے ساتھ لہراتے  دیکھا۔
    میں بزرگوں کے اس جملے کا پس منظر بہت اچھے طریقے سے سمجھ گیا تھا پر پھر بھی سوال کر لیا کہ بابا جی آپ شائد کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ کہنے لگے بیٹا میں کچھ نہیں کہنا چاہتا لیکن بابا جی کی داڑھی کو تر کرنے والے آنسو مجھے بابا جی کے جذبات اور نکلنے والے الفاظ بہت اچھے انداز سے سمجھا چکے تھے کے بابا جی کیا کہنا چاہتے ہیں۔
    خیر بابا جی نے کہا بیٹا جب قوموں کی نوجوان نسل کو انکی مقصدیت اور نظریے سے دور کر دیا جائے تو ایسے واقعات کا اپنی آنکھوں کے سامنے ہونا کچھ بعید نہیں۔ کہتے پاکستان بنانے میں ہمارا کوئی کمال نہیں، یہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے اگر اللہ نے اس نعمت کو ہماری جھولی میں کچھ لے کے اور آپکی جھولی میں بنا کچھ لئے ڈال دیا ہے تو اس کے تقاضے آج کی نسل کے لیے اتنے ہی بڑے ہیں۔
    ان تقاضوں کو پورا کرنا ہے تو بس مقصدیت پاکستان اور نظریہ پاکستان کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
    تب ہی میں نے ان کے پاس کشمیر میں بننے والی حالیہ چند دنوں کی صورت حال کا تذکرہ کیا تو کہنے لگے کہ بیٹا کشمیری بڑے خالص جذبوں کے ساتھ کھڑے ہیں باقی جو اللہ کو جو منظور ہو گا وہی ہونا ہے۔

    یہ بات تو اٹل ہے کہ ظلم جب حد سے بڑھتا یے تو مٹ جاتا ہے۔ کشمیر میں چلنے والی حالیہ ظلم کی لہر اگرچہ بہت بڑی ہے پر آگے سے کشمیریوں کے جذبے بھی اتنے ہی بڑے ہیں یہی وجہ ہے کہ جنرل راوت نے اپنے ایک انٹرویو میں یہ اعتراف کیا کہ سنگ باز لوگوں سے نمٹنا بندوق سے زیادہ مشکل ہے۔ اور اس نے یہ بات بھی کہی کہ ’’کاش سنگ بازوں کے ہاتھ میں بندوق ہوتی، کاش وہ ہم پر پتھر نہیں گولیاں چلاتے، پھر مجھے مزہ آتا پھر میں وہی کرتا جو میں چاہتا ہوں۔‘‘ اس جملے کو سلیس کرنا ہو تو مطلب یہ ہے کہ ’’کاش سب سنگ باز جنگ باز ہوتے، تو کھیل کا مزہ آجاتا۔‘‘

    یہ گویا کشمیر انتضاضہ کی اخلاقی فتح  ہے جس کافخریہ اعلان خود ایک جنرل کررہا ہے جو ایک ارب پچیس کروڑ آبادی والے ملک کا سپہ سالار  ہے۔
    یہ بات روزِ روشن کی طرح پوری دنیا پر عیاں ہے کہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کثیر تعداد موجود ہے۔ جب 313 کے عزائم بلند اود جواں ہوں تو شکست ایک ہزار کی تعداد والے لشکر کے نصیب میں ہی ہوتی ہے۔

    لیکن ظاہر سی بات ہے کہ نہایت غیر متناسب جنگ میں طاقت ور فریق ہی غالب رہتا ہے۔
    لیکن وہ ظلم کر کے نہ ظاہری طور پہ تحریک آزادی کو دبا سکے ہیں اور نہ ہی باطنی طور پر۔ 
    کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑنے کے باوجود بھارت سرکار ان کی تحریک آزادی کو دبانے کے قابل نہیں ہو سکے۔
    انڈیا کا کشمیر میں پچس ہزار نئی فوجی کمک داخل کرنا بھی انڈیا کی کشمیر میں ہار کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔
    اس وقت پاکستان کی عوام سیاسی و عسکری قوت کشمیر کے لیے اپنے عزائم واضح کر چکے ہیں کہ کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ ہے۔ اور اس شہ رگ کو پاکستان کسی بھی قیمت پر ضائع کرنے کے موڈ میں نہیں یے اور اسی طرح پاکستان کی کشمیر والے معاملے پہ سفارتی سطح پر کی جانے والی کوششیں بھی قابل ستائش ہیں۔
    کشمیری بھی حالیہ کرفیو اور آرٹیکلز کو ختم کرنے کے باجود کسی قسم کی ڈھیل اور ڈیل کے موڈ میں نہیں۔
    چند گھنٹوں کے لیے ختم کئے جانے والے کرفیو میں کشمیری واضح پیغام دے چکے ہیں کہ

    ایک ہی نعرہ ہے، آزادی کا نعرہ ہے
    ایک ہی مقصد ہے، آزادی مقصد ہے
    آؤ ستم گرو ہُنر آزماتے ہیں
    تم تیر آزماؤ ‛ہم جگر آزماتے ہیں