Baaghi TV

Tag: جعفر ایکسپریس حملہ

  • جعفر ایکسپریس حملہ،  ایئر یونیورسٹی میں یکجہتی   امن واک کا انعقاد

    جعفر ایکسپریس حملہ، ایئر یونیورسٹی میں یکجہتی امن واک کا انعقاد

    ایئر یونیورسٹی کی شعور سوسائٹی نے کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلیٹی سوسائٹی کے تعاون سے جعفر ایکسپریس حملے کے متاثرین سے اظہار یکجہتی کے لیے ایک امن واک کا انعقاد کیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات سے بڑی تعداد میں طلبہ نے اس واک میں شرکت کی اور دہشت گردی کے خلاف یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔واک کے دوران طلبہ نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر “11 مارچ – یوم سیاہ”, “ہم متحد ہیں”, “دہشت گردی ہمارا سفر نہیں روک سکتی” اور “جعفر ایکسپریس ہمارے دلوں میں زندہ ہے” جیسے نعرے درج تھے۔ اس موقع پر امن، ہم آہنگی اور دہشت گردی کے خلاف سخت مذمت کا پیغام دیا گیا۔

    واک کے دوران طلبہ نے دہشت گردوں اور دہشت گردی کے مرتکب عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔نوجوانوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ہر صورت امن کے فروغ اور دہشت گردی کی مذمت کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

    پنجاب حکومت کی بھکر ، بہاولنگر میں ایئرپورٹ کی منظوری

    کراچی میں آج یوم القدس ریلی نکالی جائے گی

    گورنر ٹیسوری کا وکیل رہا ، بات کرنے پر وہ ناراض ہو جاتے ہیں،مرتضیٰ وہاب

    کئی بار بانی کی رہائی کیلئے ڈیل ہوئی ، شیر افضل مروت کا انکشاف

  • کوئٹہ سے ٹرین سروس  تاحال بحال نہ ہوسکی،انٹرنیٹ سروس بھی بند

    کوئٹہ سے ٹرین سروس تاحال بحال نہ ہوسکی،انٹرنیٹ سروس بھی بند

    بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد سے کوئٹہ سے ٹرین سروس تاحال معطل ہے جب کہ انٹرنیٹ سروسز کی معطلی کو بھی آج دوسرا دن ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کوئٹہ سے 10 روز گزرنے کے باوجود بھی ٹرین سروس بحال نہیں ہو سکی۔ سانحہ جعفر ایکسپریس کے بعد سے کوئٹہ ریلوے اسٹیشن بند ہے، جس کی وجہ سے مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ خاص طور پر عید الفطر کے موقع پر دیگر شہروں کو جانے والے افراد سخت مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کلیئرنس ملنے کے بعد ہی کوئٹہ سے ٹرین سروس بحال کی جائے گی۔

    دوسری جانب کوئٹہ شہر میں موبائل فون انٹرنیٹ سروس دوسرے روز بھی معطل ہے۔ اطلاعات کے مطابق شہر میں موبائل انٹرنیٹ سروس 2 بجے کے بعد معطل کی گئی، جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔دوسری جانب سرکاری حکام کی جانب سے انٹرنیٹ سروس کی معطلی کی وجہ نہیں بتائی گئی۔

    لاہور سے گرفتار ہونے والے خودکش بمبار کے بارے میں اہم انکشافات

    پیپلز پارٹی کا 6 کینال منصوبے کے خلاف 25 مارچ کو احتجاج کا اعلان

    وفاقی وزرا کی موجیں،عید سے پہلے عیدی،تنخواہوں میں اضافے کی سمری منظور

  • جعفر ایکسپریس کے بازیاب مسافروں کا پاک فوج اور ایف سی کو خراج تحسین

    جعفر ایکسپریس کے بازیاب مسافروں کا پاک فوج اور ایف سی کو خراج تحسین

    جعفر ایکسپریس پر دہشتگردانہ حملے میں بازیاب ہونے والے مسافروں کا کہنا ہے کہ ایف سی کے جوانوں نے ہمارا بہت خیال رکھا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق بازیاب مسافر نے کہا کہ پنیر ریلوے سٹیشن سے ہم مال گاڑی کے ذریعے مشک آئیں ہیں، ایف سی کے جوانوں نے ہماری بہت خدمت کی ہے ہمارا روزہ بھی کھلوایا ہے، مشک میں ہمیں کھانا بھی دیا گیا اور یہاں بھی ہماری بڑی خدمت کی گئی ہے۔ایک بازیاب مسافر نے کہا کہ ” جعفر ایکسپریس سانحہ کے بعد ہمیں پاک آرمی اور ایف سی نے یہاں سبی پہنچایا گیا ہے جہاں سے ہمیں پنجاب روانہ کیا جائے گا“۔

    بازیاب مسافر نے کہا کہ جعفر ایکسپریس میں اچانک دھماکا ہوا اور اس کے بعد فائرنگ کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں، ایف سی نے ہمیں فوری ریسکیو کیا، آٹھ نمبر ٹنل کے قریب کچھ دہشتگردوں نے حملہ کیا، بم دھماکا بھی کیا جس سے ٹریک کو بھی نقصان پہنچا، ایف سی کے جوانوں نے بہت اچھا ردعمل دیا اور دہشتگردوں کی قید سے ڈیڑھ دو سو مسافروں کو رہا کرا لیا ہے۔

    جعفر ایکسپریس حملہ آپریشن مکمل، 33 دہشتگرد جہنم واصل، 21 مسافر، 4 ایف سی جوان شہید

    جعفر ایکسپریس حملہ، امریکا، چین، روس، ایران، ترکیہ اور یورپی یونین کی شدید مذمت

    وزیراعظم کا کل کوئٹہ کے دورے کا امکان

    سرفراز احمد کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کےٹیم ڈائریکٹر مقرر

    شرجیل میمن سے برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنرکی ملاقات

  • جعفر ایکسپریس حملہ، امریکا، چین، روس، ایران، ترکیہ اور یورپی یونین کی شدید مذمت

    جعفر ایکسپریس حملہ، امریکا، چین، روس، ایران، ترکیہ اور یورپی یونین کی شدید مذمت

    دنیا بھر سے جعفر ایکسپریس ٹرین پر حملے کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے، امریکا، چین، ایران، ترکیہ، روس کے بعد یورپی یونین نے بھی دہشت گردی کے واقعے کی مذمت کی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق امریکا نے ٹرین دہشت گردی اور مسافروں کو یرغمال بنانے کی مذمت کی ہے، ترجمان امریکی سفارتخانے کا کہنا تھا کہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں، اس حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔امریکی سفارتخانے کا مزید کہنا تھا کہ بی ایل اے کو امریکا نے عالمی دہشت گرد گروپ قرار دیا ہوا ہے، امریکا متاثرہ افراد سے گہری ہمدردی و تعزیت کا اظہار کرتا ہے۔

    چین نے بھی جعفر ایکسپریس پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردی سے نمٹنے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے پاکستان کی بھرپور حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ترجمان چینی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ چین کسی بھی شکل میں دہشت گردی کی سختی سے مخالفت کرتا ہے، پاکستان کے ساتھ انسداد دہشتگردی اور سیکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے تیار ہیں۔

    روس کی جانب سے بھی دہشت گرد حملے کی مذمت کی گئی ہے، پاکستان میں روس کے سفارت خانے نے جاری بیان میں کہا کہ وحشیانہ حملے کی شدید مذمت کرتےہیں۔یورپی یونین کی سفیر ریناکونیکا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر واقعے کی مذمت کی ہے۔سفیر یورپی یونین ریناکونیکا کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہیں، پاکستان کے عوام اور متاثرین کے اہلخانہ سے تعزیت کرتے ہیں۔

    دریں اثنا، پاکستان میں فرانسیسی سفارتخانے نے بھی ٹرین پر دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرانسیسی سفارتخانہ دہشت گردی کے حملے کی مذمت کرتا ہے۔فرانسیسی سفارتخانے کا کہنا تھا کہ متاثرین اور اہلخانہ کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں، مزید کہا کہ ہم پاکستانی عوام کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز (11 مارچ) دہشت گردوں نے بولان پاک کے علاقے میں ریلوے ٹریک کو دھماکے سے اڑایا، اور جعفر ایکسپریس پر حملہ کر کے 400 سے زائد مسافروں کو یرغمال بنایا۔اگرچہ دور دراز علاقے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا تھا، سیکیورٹی فورسز نے بتایا تھا کہ انہوں نے ڈھاڈر کے علاقے میں بولان پاس میں یرغمالیوں کو بچانے کے لیے ایک بڑے آپریشن کا کیا تھا، جس میں گزشتہ رات تک کم از کم 16 حملہ آور ہلاک کیے جاچکے تھے۔

    آج پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ جعفر ایکسپریس کے یرغمالی مسافر بازیاب ہوگئے اور تمام 33 دہشتگرد ہلاک کردیے گیا، تاہم آپریشن شروع ہونے سے پہلے دہشت گردوں نے 21شہریوں کو شہید کیا۔

    جعفر ایکسپریس حملہ آپریشن مکمل، 33 دہشتگرد جہنم واصل، 21 مسافر، 4 ایف سی جوان شہید

  • بلاول بھٹو،وزیراعلیٰ سندھ اور متحدہ کی جعفر ایکسپریس پر حملے کی شدید مذمت

    بلاول بھٹو،وزیراعلیٰ سندھ اور متحدہ کی جعفر ایکسپریس پر حملے کی شدید مذمت

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کوئٹہ سے پشاور جانے والی ٹرین جعفر ایکسپریس پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دہشتگرد پاکستان کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں، دہشتگردوں کا معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا ایک بزدل عمل ہے۔ بلوچستان گورنمنٹ کا فوری طور پر ایمر جنسی نفاذ موجودہ صورتحال سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرے گا، ٹرین میں موجود مسافروں کے تحفظ کے لئے دعا گو ہوں۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ جعفر ایکسپریس پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم اور بے گناہ لوگوں کو شہید کرنا انتہائی قابل مذمت فعل ہے ، امن سبوتاژ کرنے والے کھبی کامیاب نہیں ہونگے.قوم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ثابت قدیم رہے گی، پاکستان دہشت گردی کے خلاف سخت جنگ لڑ رہا ہے,پاکستانی عوام نے ہمیشہ ملک کا امن خراب کرنے والے عناصر کو مسترد کیا ہے. وزیراعلیٰ سندھ نے جعفر ایکسپرس حملہ کو دہشتگردی کا بزدلانہ فعل قرار دے دیا.

    ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے بلوچستان کے ضلع بولان میں مُسافر ٹرین پر دہشت گردوں کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کعرتے ہوئے کہا کہ وطن دُشمن عناصر اپنے مذموم عزائم کو پورا کرنے میں ہرگز کامیاب نہیں ہوں گے، قانُون نافذ کرنے والے اِدارے مُلک دُشمن عناصر اور اُن کے سہولت کاروں کی سرکوبی کے لئے خاطر خواہ اقدامات کریں.متحدہ قومی موومنٹ ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے، زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لئے دعا گو ہیں . خالد مقبول صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ دہشتگردوں کا صفایا کرنے والے افواج پاکستان کے جوانوں کو سلام، ہماری دعائیں انکے ساتھ ہیں، پاکستان ترقی کے منازل طے کرتا رہے گا، اسطرح کے واقعات ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے.

    جعفرا ایکسپریس حملہ، محسن نقوی کا وزیر اعلیٰ بلوچستان سے رابطہ

    ایران کی بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر حملے کی مذمت

    ٹرین حملے پر آپریشن ہورہا ،بیان بازی سے گریز کرنا چاہئے، رانا ثناء اللہ

    جعفر ایکسپریس حملہ، 104 مسافرباحفاظت باز یاب، 16دہشت گرد ہلاک

  • ایران کی بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر حملے کی مذمت

    ایران کی بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر حملے کی مذمت

    ایران کی جانب سے بلوچستان میں کوئٹہ سے پشاور جانے والی ٹرین جعفر ایکسپریس پر نامعلوم دہشت گردوں کی جانب سے حملے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ایرانی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ تہران مسافروں کے خلاف دہشت گرد کارروائی کی سختی سے مذمت کرتا ہے، شہریوں کے خلاف پر تشدد اقدامات بزدلانہ جرم ہیں۔ایرانی سفارتخانے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں بچوں، خواتین اور بزرگوں سمیت معصوم شہریوں کو یرغمال بنایا گیا، شہریوں کے خلاف پرتشدد اقدامات اور اہم مواصلاتی نظام کو متاثر کرنا انسانیت کے خلاف بزدلانہ جرم ہے۔

    واضح رہے کہ بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز کا کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔سیکیورٹی فورسز نے اب تک 80 یرغمالیوں کو رہا کروادیا بلوچستان کے ریلوے حکام نے تصدیق کی ہے کہ رہائی پانے والے 80 یرغمالی پانیر سے کوئٹہ کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ دہشت گردوں نے جعفر ایکسپریس کو ٹنل میں روک کر مسافروں کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔

    جعفر ایکسپریس حملہ، 104 مسافرباحفاظت باز یاب، 16دہشت گرد ہلاک

    یوکرین نے امریکی عارضی جنگ بندی کی تجویز قبول کر لی

    ٹرین حملے پر آپریشن ہورہا ،بیان بازی سے گریز کرنا چاہئے، رانا ثناء اللہ

    یوکرین نے امریکی عارضی جنگ بندی کی تجویز قبول کر لی

  • ٹرین حملے پر آپریشن ہورہا ،بیان بازی سے گریز کرنا چاہئے، رانا ثناء اللہ

    ٹرین حملے پر آپریشن ہورہا ،بیان بازی سے گریز کرنا چاہئے، رانا ثناء اللہ

    وفاقی مشیر سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ٹرین حملے پر آپریشن ہورہا ہے قبل ازوقت بیان بازی سے گریز کرنا چاہئے، سیاسی اور عسکری قیادت معاملے سے لمحہ بہ لمحہ باخبر ہے.

    باغی ٹی وی کے مطابق رانا ثناء اللہ نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیرداخلہ کو اگر بلوچستان بھیج بھی دیا جاتا تو وہ وہاں جاکر کیا کرلیتے؟ وزیرداخلہ اگر یہاں پریس کانفرنس بھی کردیتے تو اس سے بلوچستا ن میں آپریشن پرکیا اثر پڑنا تھا؟ بلوچستان میں جو دہشتگرد ہیں وہ پاکستان مجرم ہیں، وہاں پر فوج دہشتگردوں کے ساتھ نبرآزما ہے اور ان کو جہنم واصل کررہی ہے اور جانوں کے نذرانے بھی پیش کررہی ہے۔
    وہاں پر دہشتگردوں سے نمٹنے کیلئے کمانڈ موجود ہے، اس وقت کسی قسم کے واویلے یا نیوزکانفرنس کی کوئی ضرورت نہیں، اگر کچھ ایسا ہوگا تو وہ اس آپریشن کو متاثر کرے گا.

    رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ آپریشن مکمل ہونے کے بعد تما م تفصیلات میڈیا کے سامنے رکھی جائیں گی۔اس وقت ساری توجہ آپریشن کی کامیابی اور شہریوں کی بحفاظت بازیابی پر ہے، بولان ٹرین حملے پر آپریشن ہورہا ہے، وہ سب کچھ ہورہا ہے جو ممکن ہے، میں قبل ازوقت کچھ نہیں کہنا چاہتاجس سے آپریشن متاثر ہو۔

    دوسری جانب رات 12 بجے تک کی میڈیا رپورٹس کے مطابق سیکورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران 16 دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی کر دیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ جبکہ 104 یرغمال مسافروں کو رہا کروا لیا گیا۔ بازیاب ہونے والوں میں 58 مرد، 31 خواتین اور 15 بچے شامل ہیں۔ یاد رہے کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر کالعدم بی ایل اے کے دہشت گردوں نے حملہ کیا، دہشت گردوں نے مچھ کی پہاڑیوں میں ٹرین روک کر اسے یرغمال بنایا، ٹرین میں 500 مسافر سوار ہیں، سیکیورٹی فورسز کا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری ہے۔
    منگل کی صبح ساڑھے نو بجے ٹرین کوئٹہ سے روانہ ہوئی، جب ٹرین گڈالار اور پیرو کنری کے علاقے سے گزری تو وہاں نامعلوم مسلح افراد نے ٹرین پر فائرنگ کردی، اور ٹرین روک کر مسافروں کو یرغمال بنا لیا۔

    امریکی اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کا رجحان

    اداکارہ نادیہ حسین کے شوہر سے متعلق مزید انکشافات آ گئے

    یوکرین نے امریکی عارضی جنگ بندی کی تجویز قبول کر لی

    بھارتی یونیورسٹی کے قریب دیوار پر ‘آزاد کشمیر’ اور ‘آزاد فلسطین’ کے نعرے درج

  • جعفر ایکسپریس حملہ، 104 مسافرباحفاظت باز یاب، 16دہشت گرد ہلاک

    جعفر ایکسپریس حملہ، 104 مسافرباحفاظت باز یاب، 16دہشت گرد ہلاک

    کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر حملے اور 500 مسافروں کو یرغمال بنانے کے بعد کلیئرنس آپریشن میں 16 دہشت گرد ہلاک ہوگئے جبکہ فورسز نے 104 مسافروں کو رہا کروالیا ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹس کے مطابق آج صبح ساڑھے نو بجے ٹرین کوئٹہ سے روانہ ہوئی، جب ٹرین گڈالار اور پیرو کنری کے علاقے سے گزری تو وہاں نامعلوم مسلح افراد نے ٹرین پر فائرنگ کردی، جس نتیجے میں ڈرائیور شدید زخمی ہوگیا جو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا، ساتھ ہی متعدد مسافر بھی جاں بحق ہوچکے ہیں۔عینی شاہدین اور لیویز ذرائع کے مطابق مچھ کی پہاڑیوں کے درمیان یہ واقعہ پیش آیا ہے، جہاں جعفر ایکسپریس کو روک دیا گیا بعدازاں فائرنگ کی آوازیں کافی دیر تک آتی رہیں۔

    80 مسافر بازیاب

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کلیئرنس آپریشن کے دوران 80 یرغمال مسافروں کو سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں سے رہا کروا لیا، جن میں 43 مرد، 26 عورتیں اور 11 بچے شامل ہیں۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق باقی مسافروں کی با حفاظت رہائی کے لئے سیکیورٹی فورسز کوشاں ہیں، دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔

    13 دہشت گرد ہلاک

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جعفر ایکسپریس حملہ می ملوث 13 دہشت گردوں کو کلیئرنس آپریشن کے دوران ہلاک کردیا گیا ہے جبکہ آپریشن کے باعث دہشت گرد چھوٹی ٹولیوں میں تقسیم ہوگئے ہیں۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ذرائع نے بتایا کہ زخمی مسافروں کو قریبی ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا جبکہ سیکیورٹی فورسز کی اضافی نفری علاقے میں آپریشن میں حصہ لے رہی ہے۔ریلوے پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریل وہیں روک دی گئی ہے، ٹرین میں کم از کم 500 مسافر سوار ہیں، کئی مسافروں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں تاہم تصدیق کا عمل جاری ہے۔

    ڈی ایس ریلوے کے پی آر او کے مطابق تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے، سبی سے ایمبولینسز جائے وقوع روانہ کردی ہیں۔سیکیورٹی فورسز کے ذرائع کے مطابق یہ مچھ کی پہاڑیوں کا درمیانی علاقہ ہے جس کا سیکیورٹی فورسز نے محاصرہ کرلیا ہے، مزید کانوائے روانہ کردیے گیے ہیں۔ملزمان کے فرار ہونے کی فی الحال کوئی اطلاعات نہیں ہیں بلکہ اطلاعات یہ آرہی ہیں کہ ملزمان نے مسافروں کو یرغمال بنالیا ہے اور قابض ہوکر بیٹھ گئے ہیں اور علاقے میں وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

    دھماکے سے پٹڑی تباہ کرکے ٹرین روکی گئی

    ذرائع کے مطابق ریلوے لائن کو پہلے دھماکا خیز مواد سے تباہ کرکے ٹرین کو روکا گیا پھر فائرنگ کی گئی جس میں ڈرائیور سمیت کئی مسافر جاں بحق ہوئے۔ریلوے حکام کا کہنا ہےکہ ٹرین جہاں پر موجود ہے وہاں موبائل نیٹ ورک کام نہیں کرتا اس لیے رابطے میں مشکلات کا سامنا ہے، جعفر ایکسپریس 9 بوگیوں پر مشتمل ہے جس میں 500 کے قریب مسافر سوار ہیں، مسافروں اور عملے سے رابطے کی کوشش کی جارہی ہے۔

    دہشت گردوں نے معصوم مسافروں کو یرغمال بنایا

    دوسری جانب سیکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ آج بولان پاس، ڈھاڈر کے مقام پر کالعدم بی ایل اے کے دہشت گردوں نے جعفر ایکسپریس پر حملہ کر کے معصوم شہریوں کو ٹارگٹ کیا، جس میں متعدد ہلاکتیں ہوئیں، دہشت گردوں نے جعفر ایکسپریس کو ٹنل میں روک کر مسافروں کو یرغمال بنایا ہوا ہے، انتہائی دشوار گزار اور سڑک سے دور ہونے کے باوجود، سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا ہے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے معصوم مسافروں کو یرغمال بنا رکھا ہے جن میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی ہے، دہشت گرد بیرون ملک اپنے سہولت کاروں سے رابطے میں ہیں، دہشت گردوں کے خاتمے تک کلیئرنس آپریشن جاری رہے گا۔دہشت گردوں کا معصوم مسافروں کو نشانہ بنانا اس بات کی غمازی کرتا ہے کے ان دہشت گردوں کا دین اسلام، پاکستان اور بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان کا 90 فیصد سے زائد علاقہ ہے، جہاں لیویز فورس تعینات ہے۔ فورس کی صرف 40 فیصد نفری حاضر رہتی ہے، جبکہ باقی سرداروں کی ذاتی ملازمت میں ہے۔ پولیس فورس کا دائرہ کار بھی صرف 10 فیصد علاقوں تک محدود ہے۔لیویز فورس کے 83,000 اہلکاروں کو 92 ارب روپے کا خطیر بجٹ دیا جاتا ہے لیکن ان کی کارکردگی اب تک غیر تسلی بخش رہی ہے۔ فورس کی تربیت اور استعداد میں سنگین خامیاں موجود ہیں، جو سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں ناکامی کی بڑی وجہ ہیں۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بولان ایک انتہائی دشوار گزار اور دور دراز علاقہ ہے، جہاں سڑکوں کا مناسب نظام موجود نہیں، اس وقت سیکیورٹی فورسز علاقے میں کلیئرنس آپریشن کر رہی ہیں تاکہ دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔

    انفارمیشن ڈیسک قائم

    جعفر ایکسپریس واقعے کے بعد مسافروں کی معلومات کیلیے ہیلپ ڈیسک قائم کردیا ہے جبکہ پشاور اور کوئٹہ سے جانے والی ٹرینوں کو سبی کے مقام پر روک دیا گیا ہے۔حملے کے ماسٹر مائنڈ افغانستان سے رابطے میں ہیں.سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جعفر ایکسپریس پر بزدلانہ حملے کے دہشت گرد، افغانستان میں اپنے ماسٹر مائنڈ سے رابطے میں ہیں جنہوں نے عورتوں اور بچوں کو ڈھال بنایا ہوا ہے، سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا گھیراؤ کر لیا ہے اور فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔

    ذرائع کے مطابق عورتوں اور بچوں کو ڈھال بنائے جانے، مشکل علاقہ ہونے کی وجہ سے پیچیدہ آپریشن انتہائی اختیاط سے کیا جا رہا ہے، سیکیورٹی فورسز آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رکھیں گی۔

    ’حملے کے بعد سوشل میڈیا پر بھارتی پروپیگنڈا کیا جارہا ہے‘

    دوسری جانب بھارتی میڈیا اور بھارتی حکومت اس واقعے پر کھل کر جشن منارہے ہیں اور بھارتی میڈیا بھرپور انداز میں اس حملے کی رپورٹنگ کر رہا ہے۔بھارتی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بی ایل اے کے پروپیگنڈے اور جعلی خبروں کو ہوا دینے میں مصروف ہیں۔ اس بزدلانہ حملے کے پیچھے بھارت کی مکمل پشت پناہی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اطلاعات کے مطابق بی ایل اے کے دہشت گرد اس وقت بھی اپنے بھارتی اور دیگر غیر ملکی آقاؤں سے رابطے میں ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ جعفر ایکسپریس پر دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے کے بعد انڈین اور ملک دشمن سوشل میڈیا غیر معمولی طور پر متحرک ہے اور گمراہ کن معلومات پھیلا کر جھوٹا پروپیگنڈا پھیلاجارہا ہے۔پروپیگنڈا اور فیک نیوز پھیلانے میں پرانی ویڈیوز، اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز، پرانی تصاویر، فیک واٹس ایپ پیغامات اور پوسٹرز کے ذریعے ہیجان پیدا کرنے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق مذموم سوشل میڈیا مہم کے ذریعے لوگوں میں ہیجان پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے، دہشت گردوں سے جڑے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی پاکستان مخالف زہر اگلنے میں ہندوستانی میڈیا کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہندوستانی میڈیا پاکستان سے باہر بیٹھے خود ساختہ بھگوڑے بلوچ رہنماؤں کے تجزیے دیکھا کر لوگوں کو گمراہ کرنے میں مصروف ہے، عوام سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے گمراہ کن اور من گھڑت پروپیگنڈا کی بجائے مستند ذرائع سے دی جانے والی معلومات پر اکتفا کریں۔

    صدر مملکت اوروزیراعظم کی حملے کی شدید مذمت

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے جعفر ایکسپریس پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نہتے مسافروں پر حملے غیر انسانی اور مذموم عمل ہے، بلوچ قوم ایسے عناصر اور حملوں کو مسترد کرتی ہے۔وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی ڈھاڈر، بولان پاس میں جعفر ایکسپریس پر بزدلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف جاری کاروائی میں سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکار بہادری و پیشہ ورانہ مہارت سے انکا سدباب کر رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ دشوار گزار راستوں کے باوجود آپریشن میں شامل سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کے حوصلے بلند ہیں، سیکورٹی فورسز بروقت کاروائی اور بہادری سے بزدل دہشت گردوں کو پسپائی کی جانب دھکیل رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکار بہت جلد اس آپریشن میں کامیاب ہونگے اور بزدل دھشتگردوں کو انکے انجام تک پہنچائیں گے، بزدلانہ حملہ کرنے والے حیوان صفت دہشت گرد کسی رعایت کے مستحق نہیں اور یہ بلوچستان کی ترقی کے دشمن ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردوں کا رمضان المبارک کے پر امن اور بابرکت مہینے میں معصوم مسافروں کو نشانہ بنانا اس بات کی واضح عکاسی ہے کہ ان دہشت گردوں کا دین اسلام، پاکستان اور بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کی عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے، پاکستان میں بد امنی و انتشار پھیلانے والی ہر سازش کو ناکام بنائیں گے۔ملک دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے، دہشت گردی کی اس جنگ میں پوری قوم اپنی سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

    پنجاب: اسکول ایجوکیشن کیلئے“سی ایم ایجوکیشن کارڈ“ متعارف کرانے کا فیصلہ

    میری ٹائم وزارت میں زمین کے گھپلے کے بعد ایک اور بڑا اسکینڈل