Baaghi TV

Tag: جماعة الدعوة

  • "علماء کی گرفتاریاں، مسئلہ جماعة الدعوة نہیں اسلام اور کشمیر ہیں” تحریر: محمد عبداللہ

    "علماء کی گرفتاریاں، مسئلہ جماعة الدعوة نہیں اسلام اور کشمیر ہیں” تحریر: محمد عبداللہ

    حالیہ دنوں میں جماعةالدعوة سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کو زیر حراست لیا گیا ہے جن پر الزام ہے کہ یہ افراد دہشت گردوں کی مالی معاونت کرتے رہے. اسی الزام میں جماعة الدعوة کے امیر اور یونیورسٹی آف انجییئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے سابق پروفیسر حافظ محمدسعید اور انکے برادر نسبتی اور جماعة الدعوة کے نائب امیر عبدالرحمن مکی کو بھی پچھلے کچھ عرصہ سے زیر حراست رکھا ہوا ہے. ان گرفتاریوں پر پاکستان کے محب وطن اور کشمیر سے جذباتی تعلق رکھنے والے حلقوں میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے اور بالخصوص حالیہ گرفتاریوں میں ایک بزرگ عالم دین حافظ عبدالسلام بن محمد بھٹوی کی گرفتاری پر پاکستان کے مذہبی اور علمی حلقے بھی شدید مضطرب اور سراپا احتجاج ہیں کہ 74سالہ ایک ایسے عالم دین جو مفسر قران ہیں، جو بے پایاں علمی خدمات سرانجام دے چکے، جو پچھلے تقریباً 55 سال سے تدریس کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں اور پاکستان میں ہزاروں علماء ان کے شاگرد ہیں ان کو اس پیرانہ سالی میں دہشت گردی کی مالی معاونت میں گرفتار کرنا کیا معنی رکھتا ہے.

    کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ
    پاکستان کی عوام اس وقت شش و پنج کا شکار ہے کہ سابقہ حکمرانوں اور موجودہ حکمرانوں میں کیا فرق ہے کہ یہ بھی اسی روش پر چل نکلے ہیں جس پر ماضی میں پاکستان کے حکمران چلتے رہے کہ غیروں کے کہنے پر سر تسلیم خم کرتے ہوئے اپنے ہی لوگوں کو اور بالخصوص ان لوگوں کو پس دیوار زندان دھکیل دینا جو خالصتاً پاکستان کے نام پر جی اٹھتے ہیں اور پاکستان ہی پر مر مٹتے ہیں جن کی صبح و شام پاکستان کی مالا جپتے ہوئے ہوتی ہے جو ہر مشکل و آفت میں پاکستان کا سہارا بنے، جو ہر مصیبت اور تنگی میں دست و بازو بنے اور جو پاکستان کے خلاف ہونے والی ہر سازش کے سامنے آہنی دیوار بنے انہی لوگوں پر عرصہ حیات تنگ کرکے حکومت پاکستان کن کو خوش کرنا چاہتی ہے اور کونسے مقاصد پورا کرنا چاہتی ہے. ایسی مذہبی اور جہادی جماعتیں جن پر پاکستان کے اندر کوئی ایف آئی آر تک درج نہیں ہے اور جو کبھی پاکستان کے لیے اندرونی طور پر مسائل پیدا کرنے کا باعث نہیں بنیں بلکہ ہمیشہ مسائل کو حل کرنے میں ممدو معاون ثابت ہوئی ہیں ان پر پابندیاں اور گرفتاریاں نہایت پریشان کن ہیں.

    ریاست پاکستان کا بیانیہ …. محمد عبداللہ
    ماضی میں بھی پاکستان کے حکمرانوں کا یہی طرز عمل رہا اور ان کی طرف سے دیئے گئے غیر ذمہ دارانہ بیانات اور خارجہ سطح پر برتی گئی مجرمانہ پہلو تہی نے پاکستان کو مسائل کے کنوؤں میں گرایا اور آج پاکستان بین الاقوامی سطح پر جن شدید مسائل سے دوچار ہے وہ انہی کے اعمال کا شاخسانہ ہے جس کی سزاء اس محب وطن اور علماء کے طبقے کو سب سے زیادہ بھگتنی پڑ رہی ہے لیکن تحریک انصاف کی حکومت بنی تو امید کی اک کرن نظر آئی کہ اب پاکستان کشکول نہیں پکڑے گا جس کی وجہ سے ہم بین الاقوامی سطح پر عزت اور جرات کے ساتھ کوئی قدم اٹھاسکیں گے اور کشمیر کی مسئلہ جو پچھلے ستر سال سے الجھا ہوا ہے اس پر عمران خان کی توجہ اور سنجیدگی دیکھ کر بھی امید بندھی تھی کہ یہ نیا بھی اب پار لگے گی لیکن ماضی کے حکمرانوں کی غلطیوں اور بھارت کے مضبوط پراپیگنڈے نے پاکستان کے ہاتھ کچھ اس طرح سے جکڑے ہیں کہ یہ چاہ کر بھی اپنی مرضی کے مطابق فیصلے کرنے سے قاصر ہیں اور انکی مجبوری ہے کہ یہ عالمی سامراج کے سامنے سر تسلیم خم کرکے ان کے کیے گئے فیصلوں آمین کہیتے رہیں.

    امریکہ کی جنگ میں شامل ہونا پاکستان کی غلطی، کیا نئے پاکستان کا بیانیہ بھی نیا ہوگا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ
    یہ سارے معاملات اور مسائل اس وجہ سے ہیں کہ بھارت یہ سمجھتا ہے کہ اگر ان لوگوں کی آوازیں بند نہ کی گئیں اور ان کے قدم نہ روکے گئے تو بات کشمیر کی آزادی تک نہیں رکے گی مسئلہ بہت آگے تک جائے گا اور بھارت کے کئی ٹکڑوں پر منتج ہوگا یہی وجہ ہے کہ اس کے مسلسل کیے گئے پراپیگنڈے آج رنگ لا رہے ہیں ایک طرف تو اس نے ساری کشمیری قیادت کو پابند سلاسل کیا ہوا ہے اور دوسری طرف پاکستان میں بھی کشمیر کے نام لیواؤں پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں، اور عالمی سامراج بھارت کی ہاں میں ہاں ملاکر پاکستان کے ہاتھ مزید باندھتا چلا جا رہا ہے. عالمی سامراج اور بڑی طاقتیں بھی اسلام سے خوفزدہ ہیں اور وہ بھی بخوبی سمجھتے ہیں کہ اگر اس خطے میں ان کا ضدی بچہ بھارت کمزور پڑگیا اور پاکستان کے قدم مضبوط ہوگئے تو پورا خطہ اسلامائز ہوکر ان کے لیے شدید خطرات کا باعث بنے گا یہی وجہ ہے کہ وہ بھی بھارت کے ہمرکاب ہوکر ایف اے ٹی ایف اور دیگر پابندیوں کی صورت پاکستان پر مسلط ہیں اور ہمارے لیے مسلسل مسائل پیدا کررہے ہیں اور پاکستان اپنے شدید ابتر معاشی، سیاسی، بین الاقوامی حالات کے پیش نظر مضبوط فیصلے لینے سے قاصر ہے.

    مصنف کے بارے میں جانیے اور ان کے مزید مضامین پڑھیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • حافظ سعید محب وطن یا ملک دشمن ؟؟ صالح عبداللہ جتوئی

    حافظ سعید محب وطن یا ملک دشمن ؟؟ صالح عبداللہ جتوئی

    خدمت انسانیت کی بدولت میں بچپن سے ایک بندے کا فین ہوں جس نے دین کی پرچار بھی خوب کی اور انسانیت کی خدمت بھی بلاتفریق سرانجام دی خواہ ہندو ہو یا سکھ عیسائی ہو یا مسلمان چھوٹا ہو یا بڑا سب ان کی خدمت اور محبت کے گرویدہ ہیں.

    انہوں نے کبھی بھی فرقہ پرستی فتنہ و فساد کی لہر کو ہوا نہیں دی بلکہ ایسی چیزوں کا رد کیا ہے اور مسلمانوں کو ایک ہو کے اسلام کی تعلیمات پہ عمل پیرا ہونے کی تلقین کی ہے.

    سادہ لباس والے منہ پہ داڑھی سجاۓ یہ معصوم لوگ جن کے پاس انسانیت کی خدمت کے علاوہ کوئی پہچان نہیں ان کو محض دوسروں کی خوشنودی کے لیے بار بار بین کر دیا جاتا ہے اور وہ ہمیشہ اپنے رب پہ بھروسہ رکھتے ہوۓ صبر و استقامت کا دامن مضبوطی سے تھام لیتے ہیں.

    یہ واحد جماعت اور شخصیت ہے جنہوں نے تحریک آزادی کشمیر میں نئی روح پھونکی اور اس تحریک کو جاری و ساری رکھتے ہوۓ مزید تقویت بخشی جس کی وجہ سے کشمیری بھی ان سے بے پناہ محبت کرنے لگ گئے.

    یہ وہ جماعت ہے جو تھر کے ریگستانوں میں بھی بلکتے بچوں کا سہارا بن جاتے ہیں اور ان کو راشن مہیا کرتے ہیں حالانکہ تمام وسائل ہونے کے باوجود وہاں کی گورنمنٹ تمام وسائل کو اپنی عیاشیوں اور مے کدوں کی نظر کر دیتے ہیں اور باتیں بناتے ہیں وہ خدمتگاروں پہ.

    مجھے اپنے انتخاب پہ فخر بھی وتا ہے اور حیرانگی بھی بہت ہوتی ہے کہ یہ کیسے لوگ ہے جن پہ جب بھی کوئی پابندی لگتی ہے الزام لگتے ہیں کیس بنتے ہیں یا نظر بندیاں اور پکڑ دھکڑ شروع ہو جاتی ہے لیکن ان کی طرف سے کوئی گالی گلوچ والا سین نہیں ہوتا اور نہ ہی سڑکیں بند ہوتی ہیں یہاں تک کہ وہ اپنا سامان بھی سرکاری تحویل میں لینے والوں کی گاڑیوں میں خود رکھواتے ہیں.

    اس ملک میں جو بھی مصائب آۓ چاہے زلزلہ ہو یا سیلاب آندھی ہو یا طوفان انہوں نے بغیر سرکاری وسائل کے قوم کی خوب اچھے طریقے سے خدمت کی اور ان کو راشن پہچانے کے ساتھ ساتھ ان کو گھر بھی تعمیر کر کے دیے.

    بلوچستان میں ناراض بلوچوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے میں حافظ سعید کا بہت بڑا کردار رہا ہے ان کی وجہ سے بلوچستان میں بھی پاکستان کا جھنڈا لہرایا گیا.

    یہ وہی حافظ سعید ہیں جنہوں نے سب سے پہلے فتنہ و فساد پھیلانے والے تکفیری طالبانوں (داعش و ٹی ٹی پی) کو دہشت گرد قرار دیا اور اس پہ کئی کتابوں کو بھی شائع کروایا.

    محب وطن پاکستانی ہونے کے ناطے انہوں نے کبھی بھی توڑ پھوڑ والا راستہ نہیں اپنایا بلکہ اپنے تمام کارکنان کو بھی پرامن رہنے کی تربیت بھی دی اور کسی قسم کا کوئی جلاؤ گھیراؤ کرنے سے بھی منع کیا.

    ایک بے قصور آدمی جس کا جرم صرف اور صرف انسانیت کی خدمت ہے اور اسے بار بار بین کر دیا جاتا ہے لیکن پھر جب کوئی ثبوت نہیں ملتا تو عدالتیں کئی دفعہ اس کو کلین چٹ دے چکی ہیں کیونکہ ان کا کوئی جرم تو نہیں ہے کوئی تو پھر بار بار کیوں پابندی لگا دی جاتی ہے کیوں کفار کو خوش کر کے محب وطن پاکستانیوں کو تنگ کیا جاتا ہے ہم دوسروں سے بناتے بناتے اپنوں سے ہی بگاڑ رہے ہیں آخر کیوں؟

    گھر کی خاطر
    سو دکھ جھیلیں
    گھر تو آخر اپنا ہے

    بے قصور ہونے کے باوجود اس بندے نے کبھی بھی ریاست سے ٹکرانے توڑ پھوڑ فتنہ و فساد کا کبھی نہیں سوچا کیونکہ یہ محب وطن پاکستانی ہیں ان کا مقصد خدمت ہے اور یہ کام نہیں رکے گا اور پاکستان ترقی بھی کرے گا لیکن پھر بھی بتا دیں کیا جرم ہے ان کا؟

    زندگی کاٹی ہے جبر مسلسل میں
    نا جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

    خدمت انسانیت اپنا راستہ خود بنا لیتی ہے یہ پابندیاں پکڑ دھکڑ سب عارضی ہیں ان شاء اللہ یہ جماعت اور حافظ سعید ہمیشہ کی طرح عدالتوں سے رجوع کریں گے اور ہمیشہ کی طرح سرخرو بھی ہوں گے کیونکہ یہ ملک کو توڑنے والے اور ریاست سے ٹکرانے والے نہیں ہیں اور نہ ہی انہوں نے کبھی اپنی فوج کو للکارا ہے یہ تو امن کے داعی ہیں اور پاکستان کا نام روشن کرنے والے ہیں.

    دوسری طرف جو سیاستدان جیلوں میں قید ہیں انہوں نے اقتدار کی آڑ میں اس ملک کو بہت نقصان پہنچایا ہے کرپشن ہو یا غداری چوری ہو یا بغاوت سب جرم کیے ہیں انہوں نے کبھی یہ اداروں سے ٹکراتے ہیں کبھی عدالتوں سے اور کبھی اپنی ہی فوج پہ گولیاں چلا دیتے ہیں اور کونسا ایسا کام ہے جو انہوں نے اس ملک کے خلاف نہ کیا ہو؟

    کیا چوروں کرپٹ لوگوں اور غنڈوں کا انسانیت کے خدمتگاروں سے موازنہ کیا جا سکتا ہے؟
    بالکل بھی نہیں کیونکہ ہمیں پاکستان سے محبت کرنے والوں سے محبت ہے اور اس کے دشمنوں سے سخت دشمنی ہے.
    اللہ اس ملک کا حامی و ناصر ہو آمین ثمہ آمین
    پاکستان پائندہ باد

  • حافظ محمد سعید کی مقدمات کے خلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

    حافظ محمد سعید کی مقدمات کے خلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

    جماعۃ الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید و دیگر رہنماوں کی جانب سے دہشت گردی کے مقدمات کے خلاف دائر درخواست عدالت نے سماعت کے لئے مقرر کر دی

    دہشت گردی کے مقدمات، حافظ محمد سعید نے اہم قدم اٹھا لیا

    کالعدم جماعۃ الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں حافظ محمد سعید و دیگر کی درخواست پر سماعت 15 جولائی کو ہو گی، لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس شہرام سرور چوہدری کی سربراہی میں دو رکنی بینچ درخواست پر سماعت کرے گا.

    جماعۃ الدعوۃ کے مرکزی رہنما حافظ عبدالرحمان مکی کو کیوں گرفتار کیا گیا؟

    واضح رہے کہ جماعۃ الدعوۃ کے سربراہ نے سی ٹی ڈی کی جانب سے دہشت گردی کے مقدمات قائم کرنے پر لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ حافظ محمد سعید و دیگر رہنماؤن پر درج مقدمات ختم کیے جائیں، عدالت میں دائردرخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ وہ ریاست کے خلاف اقدامات میں ہرگز ملوث نہیں ہیں، انڈین لابی کا حافظ محمد سعید پر ممبئی حملوں میں ملوث ہونے بیان حقائق کے منافی ہے

     

    کالعدم تنظیموں کے خلاف پنجاب حکومت نے کاروائی کی تفصیلات بتا دیں

    کالعدم تنظیموں کے مزید مدارس اور سکول حکومتی تحویل میں

    واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی کے ادارے کاونٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ سی ٹی ڈی نے کالعدم تنظیموں کے رہنماوں کے خلاف مقدمات درج کر لئے ہیں. دہشتگردوں کی مالی معاونت کےالزام پرجماعۃ الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کیخلاف بھی دہشتگردی ایکٹ کےتحت مقدمہ درج کیا گیا تھا ،

    کالعدم تنظیموں سے روابط، گیارہ مزید تنظیموں پر حکومت نے پابندی لگا دی