Baaghi TV

Tag: جمشید ظفر

  • جمشید ظفر کی موت کس وجہ سے ہوئی بیٹے مومن علی نے بتا دیا

    جمشید ظفر کی موت کس وجہ سے ہوئی بیٹے مومن علی نے بتا دیا

    فلم انڈسٹری کے نامور پرڈیوسر جمشید ظفر گزشتہ روز انتقال کر گئے کہا جا رہا ہے ان کا انتقال گردوں کے عارضے کی وجہ سے ہوا ہے لیکن ان کے بیٹے مومن علی نے بتا دیا ہے کہ اصل میں ان کے والد کی موت کی وجہ کیا ہے.مومن کہتے ہیں کہ ان کے والد گزشتہ دس باراں برس سے گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے اور پچھلے کوئی چھ ماہ سے ان کے ڈائیلاسسز چل رہے تھے لیکن ڈائیلاسز کی وجہ سے ان کا انتقال نہیں ہوا بلکہ ان کو چند دن قبل سٹروک ہوا تھا اور آٹھ دس دن ہسپتال میں رہنے کے

    بعد خالق حقیقی سے جا ملے.ان کا مزید کہنا ہے کہ جب ہم اپنے والد جمشید ظفر کو ہستپال لیکر گئے تو شروع کے دو تین دن تو ڈاکٹروں کو سمجھ ہی نہیں آئی کہ جمشید ظفر کو ہوا کیا ہے.سٹروک بنایا گیا جس کے بعد کچھ دن وہ زندہ رہے اور پھر چل بسے.مومن علی کا مزید کہنا ہے کہ ان کے والد نے اپنی زندگی کو بہت خوبصورت انداز سے جیا انہوں نے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ انجوائے کیا .میں نے ان کو زندگی کے آخری بیس سال مکمل طور پر چینج دیکھا وہ نمازیں پڑھتے تھے اور میرے ساتھ میرے بزنس میں مدد کرتے تھے.وہ نہایت ہی کم گو تھے اور کوشش کرتے تھے کہ ان کی وجہ سے کسی کا دل نہ دکھے .

  • پروڈیوسر جمشید ظفر کی نمازہ جنازہ ادا کر دی گئی

    پروڈیوسر جمشید ظفر کی نمازہ جنازہ ادا کر دی گئی

    فلمساز جمشید ظفر کے انتقال پر فلم انڈسٹری سے جڑے لوگ صدمے کا شکار ہیں. ان کے انتقال کی خبر ان کے دوستوں پر بجلی بن کر گری. کسی نے یقین کیا اور کسی نے نہیں.مرحوم کا نمازہ جنازہ ادا کرکے ان کو سپرد خاک کر دیا گیا ہے. ان کے جنازے میں ہدایتکار سید نور، فلمساز مسعود بٹ ، غلام محی الدین ، سہیل ملک ، اعجاز کامران، شہزاد گل ، جان ریمبو، ایوب خاور و دیگر نے شرکت کی. ان کے نماز جنازہ میں صرف فلم انڈسٹری سے جڑے لوگوں نے ہی شرکت نہیں کی بلکہ سیاسی و سماجی حلقوں سے بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی. ان کے جنازے میں موجود ہر آنکھ اشکبار تھی ہر کسی کا کہنا تھا کہ اس کا جمشید ظفر سے بہت اچھا تعلق تھا وہ بہت عاجز انسان تھے اور بہترین پرڈیوسر بھی تھے.
    یاد رہے کہ گزشتہ روز جمشید ظفر کا انتقال ہو گیا تھا وہ گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے انہوں‌ نے نوے کی دہائی میں بہترین فلمیں‌ بنائیں ایسی فلمیں‌ کہ جنہوں نے فلم انڈسٹری کو مزید پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کیا. جمشید ظفر کے حوالے سے ان کے تمام ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ کام کے دوران بہت ہی نرم رویہ رکھتے تھے کبھی کسی پر غصہ نہیں‌ کرتے تھے اور دوستی تعلق کو نبھانا بھی بہت اچھی طرح‌ جانتے تھے. انہوں نے نہ صرف فلمیں بنائیں بلکہ جو فلمیں بنا رہے تھے ان کو مشکل پڑنے پر ان کی مدد بھی کرتے رہے.

  • جمشید ظفر ایک بڑے اور متحرک پرڈیوسر  تھے شان شاہد

    جمشید ظفر ایک بڑے اور متحرک پرڈیوسر تھے شان شاہد

    جمشید ظفر کے انتقال کی خبر پر شوبز انڈسٹری سے جڑے لوگ اور فلمی شائقین کافی رنجیدہ ہیں. جمشید کافی عرصے سے فلم انڈسٹری کی رونقوں سے دور تھے. انہوں نے چھ ماہ قبل جب اپنے بیٹے کی شادی کی تو فلم انڈسٹری کی تقریبا شخصیات کو مدعو کیا. حال ہی میں‌ وہ سرمد سلطان کھوسٹ کی فلم کملی کے پریمئیر پر بھی دکھائی دئیے. ان کے انتقال پر فلمسٹار شان شاہد کا کہنا ہے کہ میں نے ان کے ساتھ بہت زیادہ کام تو نہیں کیا لیکن ان کا کام دیکھا تو ہے بہت اچھا کام کیا انہوں نے.نوے کی دہائی میں ان کی فلموں کے حوالے سے بہت زیادہ کنٹریبیوشن رہی. انہوں نے نوے کی دہائی کے اوائل میں بہت زیادہ کام کیا بطور پرڈیوسر ان کے کریڈٹ پر ایسی شاندار فلمیں ہیں کہ جن کو آج بھی شائقین پسند کرتے ہیں.وہ ایک بڑے پرڈیوسر تھے میرا ان کے ساتھ بہت اچھا تعلق تھا.جمشید ظفر نوے کی دہائی کے آخر تک خاصے ایکٹیو رہے لیکن اس کے بعد انہوں نے تھوڑی دوری اختیار کر لی ان کا انتقال یقینا ہم سب کے لئے دکھ کی بات ہے. شان شاہد نے یہ بھی کہا کہ فلم پرڈیوسر ایسوسی ایشن کے جب صدر تھے تو فلم انڈسٹری کے لئے یقینا اچھے کام کئے.
    یاد رہے کہ جمشید ظفر گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے.

  • جمشید ظفر کا انتقال فلمی دنیا کا بہت بڑا نقصان ہے مصطفی قریشی

    جمشید ظفر کا انتقال فلمی دنیا کا بہت بڑا نقصان ہے مصطفی قریشی

    اداکار مصطفی قریشی نے کہا کہ ہے فلم انڈسٹری جب بہت بلندیوں پر تھی، فلمیں‌بہت زیادہ بزنس دے رہیں تھیں، کروڑ ہا روپے حکومت کے خزانے میں‌ ریونیو کی صورت میں دیتی تھی اس وقت سال میں دو سو فلمیں بنتی تھیں. جمشید ظفر اس وقت بہت بڑا نام تھے وہ ہر دوسری فلم کو پرڈیوس کر رہے تھے شمیم آراء نے بطور ڈائریکٹر جتنی بھی فلمیں‌ بنائیں ان کو فنانس جمشید ظفر نے ہی کیا تھا. جمشید ظفر کا شمار فلم انڈسٹری کے نامور پرڈیوسرز میں‌ہوتا تھا. ان کی بہت سلجھی ہوئی سوچ تھی اور یہی سوچ فلموں میں بھی نظر آتی تھی، بعض لوگوں نے گندی فلمیں بھی بنائیں لیکن جمشید ظفر کبھی بھی ان میں سے ایک نہیں‌ رہے. میں‌جمشید ظفر کی بہت ساری فلموں میں‌ کام کیا ان کے ساتھ کام کرنے بہت مزا آتا تھا نہایت ہی نفیس انسان تھے.ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر کسی پرڈیوسر کو پیسے کی کمی ہو جاتی تھی تو جمشید ظفر اسکی مدد کیا کرتے تھے اسکی مثال یہ ہے کہ ہم ایک فلم کی شوٹنگ کے

    لئے ترکی گئے ہوئے تھے تو وہاں اس فلم کے پرڈیوسر کے پاس پیسوں کی کمی ہو گئی ادائیگی کرنے کےلئے پیسے نہ تھے تو جمشید ظفر نے اس پرڈیوسر کی مدد کی تو یوں وہ دوسروں‌ کے کام بھی آیا کرتے تھے. پچانوے فیصد ڈائریکٹر اور فنانسرز تو انتقال کر چکے ہیں جمشید ظفر جیسے اکا دکا لوگ ہیں آج جمشید ظفر بھی چل بسے. فلم انڈسٹری پہلے ہی نقصان میں جا رہی تھی بلکہ انڈسٹری ہے ہی کہاں.بلکہ میں‌ تو یہ کہوں گا کہ جمشید ظفرکا انتقال فلمی دنیا کا بہت بڑا نقصان ہے .

  • جمشید ظفر نے فلم انڈسٹری اور فنکاروں کے لئے بہت کام کیا نشو

    جمشید ظفر نے فلم انڈسٹری اور فنکاروں کے لئے بہت کام کیا نشو

    ماضی کی نامور اداکارہ نشو نے کہا کہ میری جمشید ظفر سے بہت ملاقاتیں ہیں انہوں‌ نے پاکستان فلم انڈسٹری کو جو فلمیں‌ دیں‌ ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں ان کا شاندار کام ان کو ہمیشہ زندہ رکھے گا.مجھے ان کے انتقال کی خبر نے نہایت ہی افسردہ کر دیا ہے. نشو نے مزید کہا کہ جمشید ظفر نہایت ہی فرینڈلی تھے، ذمہ دار شخص تھے وہ جانتے تھے کہ کام کیسے کرنا ہے اور اپنی ذمہ داریوں‌ کو کیسے نبھانا ہے. وہ جب پرڈیوسر ایسوسی ایشن کے صدر تھے انہوں نے اپنی ذمہ داریوں‌ کو ذمہ داری سے نبھایا انہوں نے فلم انڈسٹری کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا، ایسے اقدامات کئے کہ جس سے انڈسٹری کو سہارا ملے ان کے قدامات قابل غور بھی ہیں اور قابل فخر بھی ہیں.جمشید ظفر نے ایسی فلمیں بنائیں کہ جنہوں‌ نے فلم انڈسٹری کو سنبھالا دئیے ر کھا.آج ایک ایسا شخص دنیا سے چلا گیا ہے جو پاکستان فلم انڈسٹری کا پلر تھا.ان کا نعم البدل کوئی بھی نہیں‌ہو سکتا.
    بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
    اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
    میرا ان سے صرف کام کی حد تک تعلق نہیں تھا میرے ان سے فیملی تعلقات تھے میرا بیٹا حمزہ پاشا اور جمشید ظفر کا بیٹا مومن آپس میں‌بہت دوست ہیں ہمارا ایک دوسرے کے گھروں میں بہت زیادہ آنا جانا تھا.ابھی چھ ماہ پہلے ہی تو ان کے بیٹے کی شادی میں‌ ہم شریک ہوئے. صرف ان کے ساتھ کام کرکے بہت کچھ سیکھنے کو نہیں‌ ملتا تھا بلکہ ان کی محفل میں‌ بیٹھ کر بھی بہت کچھ سیکھنے کو ملتا تھا.

  • مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا جمشید نہیں‌ رہے ریمبو

    مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا جمشید نہیں‌ رہے ریمبو

    اداکار ریمبو کہتے ہیں‌ کہ جمشید ظفر انتقال کر گئے ہیں مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا ہے کوئی کہہ رہا جب کہ جمشید دنیا سے چلے گئے تو دل نہیں‌ مان رہا. وہ بیمار تھے مجھے اتنا تو پتہ تھا لیکن اتنی جلدی ہمیں چھوڑ جائیں گے آئیڈیا نہیں تھا. ریمبو نے کہا کہ ہم نے ایک ساتھ بہت زیادہ کام کیا کچھ نہیں تو دس فلمیں تو ایکساتھ کی ہی تھیں. اُس دور میں بننے والی فلمیں ساری تقریبا باہر کے ملک میں‌ بنتی تھیں ملک میں کم ہی فلمیں بنتی تھیں اور جمشید ظفر نے مجھے جس فلم میں‌ بھی لیا وہ میرے لئے یادگار بن گئی. وہ بہت زیادہ عاجز انسان تھے دھیمہ بولتے تھے عام فلمسازوں والی ان میں‌ کوئی بات ہی نہیں تھی.ان کو ہم نے کبھی یہ کہتے نہیں‌ سنا کہ وقت پر نہ آئے تو یہ کر دوں گا وہ کردوں گا. مجھے یاد ہے کہ میں اگر کبھی لیٹ بھی پہنچتا تھا میں‌ کیا کاسٹ کا کوئی بھی بندہ لیٹ پہنچتا تھا تو جمشید ظفر ڈانٹتے نہیں تھے نہ ہی کہتے تھے کہ تم لوگوں کی وجہ سے میرا نقصان ہو گیا ہے بلکہ وہ تو کہہ دیا کرتے تھے کوئی نہیں ہم کل یہ کام کر لیں گے. کبھی کسی آرٹسٹ کو ڈیٹ دینے میں اوپر نیچے ہو جاتی تو برہم نہیں‌ ہوتے تھے بلکہ کہتے تھے کوئی نہیں‌ مینج کر لیں‌ گے. ہم چند لوگوں‌ کا گروپ تھا جس میں بابر علی ، ریما ، صاحبہ اور میں ہم سب کے ساتھ وہ بہت محبت کرتے تھے.ہر وقت ہنستے مسکراتے رہتے تھے. جمشید ظفر نہایت ہی ملنسار تھے ان کے ساتھ تعلق کام کی حد تک نہیں تھا بلکہ ان کی فیملی کے ساتھ بھی ہمارا تعلق تھا.

  • نوے کی دہائی میں سپر ہٹ فلمیں بنانے والے جمشید ظفر دنیا چھوڑ گئے

    نوے کی دہائی میں سپر ہٹ فلمیں بنانے والے جمشید ظفر دنیا چھوڑ گئے

    نوے کی دہائی میں‌ پاکستان فلم اندسٹری کو لازوال فلمیں دینے والے جمشید ظفر انتقال کر گئے ہیں.اُس دور کے تمام بڑے آرٹسٹوں کے ساتھ کیا. جمشید ظفر فلم پرڈیوسیر ایسوسی ایشن کے بانی ہیں.منجھے ہوئے فلم ساز اور پرڈیوسر جمشید ظفر ڈسٹری بیوٹر بھی رہے انہوں‌ نے کچھ فلمیں بھی ڈستڑی بیوٹ کیں. ایک عرصہ سے فلم انڈسٹری سے پیچھے ہٹ گئے تھے ان کے کام کرنے کا انداز نہایت ہی سنجیدہ تھا جب پنجابی فلموں‌ نے زور پکڑا تو وہ گھر بیٹھ گئے کسی سے ناراضگی کا اظہار نہیں کیا.ویسے تو ان کے کریڈٹ پر بے شمار ہٹ فلمیں ہیں لیکن دوپٹہ جل رہا ہے ،ڈاکو ،کرفیو جیسی فموں‌ نے انکی شہرت میں مزید اضافہ کیا. فلمسٹار میرا نے خصوصی طور پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جمشید ظفر نہایت ہی شفیق انسان تھے عاجزی ان یمں‌ کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی میں نے ان کے ساتھ بہت سار فلموں میں کام کیا وہ مجھے فلم انڈسٹری کے ماتھے کا جھومر کہا کرتے تھے.فلمسٹار ریشم نے کہا کہ میں نے ان کے ساتھ دوپٹہ جل رہا ہے کی تھی بہت خوبصورت یادیں ہیں جو دل کو راحت دیتی ہیں ان کی طبیعت میں‌گرمی نہیں‌تھی وہ کسی سے بھی غصے یا بدتمیزی سے بات نہ کرتے میری ان کے ساتھ پہلی ملاقات سید نور کے زریعے ہوئے تھی اس کے بعد مجھے فلم دوپٹہ جل رہا ہے ملی. یاد رہے کہ جمشید ظفر نے فلم انڈسٹری کے لئے بہت سے اقدامات کئے ان کی وجہ سے فنکاروں‌کو بہت سارے فوائد ملے. پرڈیوسر ایسوسی ایشن کےساتھ جب تک منسلک رہے فنکاروں‌ کی سنی جاتی رہی . جمشید ظفر نے چند ماہ قبل اپنے بیٹے کی شادی کی تھی جس میں فلم انڈسٹری سے جڑے تمام ستاروں کو بلایا وہ گردوں کے عارضوں میں‌ مبتلا تھے طبیعت کچھ اچھی نہیں‌رہتی تھی.