Baaghi TV

Tag: جمعیت علمائے اسلام (ف)

  • ایم کیو ایم وفد کی مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات، آئینی ترمیم پر مشاورت

    ایم کیو ایم وفد کی مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات، آئینی ترمیم پر مشاورت

    متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے وفد نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کی، جس میں مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ایم کیو ایم رہنماؤں نے مولانا فضل الرحمٰن سے اُن کی رہائش گاہ پر ملاقات کی، جس میں ترمیم سے متعلق تجاویز اور ممکنہ سیاسی اتفاقِ رائے پر بات چیت کی گئی۔ملاقات میں ایم کیو ایم کی جانب سے گورنر سندھ کامران ٹیسوری، فاروق ستار، خالد مقبول صدیقی اور خواجہ اظہار الحسن شریک تھے، جب کہ جے یو آئی (ف) کی جانب سے سینیٹر مولانا عطا الرحمٰن، سینیٹر مولانا عطا الحق درویش، مولانا اسجد محمود، اسلم غوری اور مولانا صلاح الدین ایوبی موجود تھے۔

    قبل ازیں، وزیراعظم آفس سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ ایم کیو ایم کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں 7 رکنی وفد نے وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کی تھی، جس میں مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم پر مشاورت کی گئی

    پیپلز پارٹی نے این ایف سی فارمولے میں تبدیلی کی تجویز مسترد کر دی

    بیوی کی اجازت کے بغیر شوہر دوسری شادی نہیں کر سکتا، کیرالہ ہائی کورٹ

    ایران کی پاک سعودی دفاعی معاہدے میں شمولیت کی خواہش

    راولپنڈی میں خاتون ریپ کے بعد قتل، تین ملزمان گرفتار

  • جے یو آئی کی  ٹرمپ کو نوبل انعام کے لیے نامزد کرنے کی مخالفت میں قرارداد جمع

    جے یو آئی کی ٹرمپ کو نوبل انعام کے لیے نامزد کرنے کی مخالفت میں قرارداد جمع

    جمعیت علمائے اسلام (ف) نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل انعام کے لیے نامزد کرنے کی مخالفت میں سینیٹ میں قرارداد جمع کرا دی ہے، جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ کے لیے کی گئی نامزدگی کی سفارش فوری واپس لی جائے۔

    جے یو آئی (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ کی جانب سے جمع کرائی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایران پر امریکی حملے کے بعد صدر ٹرمپ کو نوبل انعام کے لیے نامزد کرنا افسوسناک ہے۔قرارداد میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ امریکی صدر کے احکامات پر ایران پر بمباری کی گئی، جو بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق اور ایران کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، جو قابل مذمت ہے۔

    سینیٹ میں اس قرارداد کے ساتھ ساتھ امریکی صدر کو نوبل انعام دینے کے خلاف باقاعدہ تحریک بھی جمع کرائی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان نے ماضی میں پاک-بھارت کشیدگی کے دوران صدر ٹرمپ کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے انہیں 2026 کے نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کی سفارش کی تھی، جس پر اب سیاسی حلقوں میں اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔

    ٹرمپ کا دعویٰ امریکی میڈیا نے جھوٹا قرار دے دیا

    وزیراعظم کا سعودی سفیر سے رابطہ، امن کی بحالی پر مل کر کام کرنے پر اتفاق

    وزیراعظم کا قطری سفیر سے رابطہ، ایران کے میزائل حملے پر تشویش کا اظہار

    سعودی شہزادہ فیصل بن خالد بن سعود انتقال کرگئے

    اسرائیلی جارحیت نے بھارت کو پاکستان کے خلاف خطرناک حکمت عملی اپنانے پر اُکسایا

  • ارسا ایکٹ کےخلاف پورے سندھ میں احتجاج کیا جائے گا، راشد محمود سومرو

    ارسا ایکٹ کےخلاف پورے سندھ میں احتجاج کیا جائے گا، راشد محمود سومرو

    ے یو آئی کے صوبائی جنرل سیکریٹری علامہ راشد محمود سومرو کی 18 اکتوبر کو ارسا ایکٹ میں ترمیم کرکے سندھو دریا سے 6 کینالوں کو بنانے کی سازش کے خلاف کراچی سے نکلنے والے کارواں میں بھرپور شرکت کی ہدایت کی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جمعیت علماء اسلام سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو نے کہا ہے کہ ارسا ایکٹ میں ترمیم کرکے سندھو دریا پر 6 کینالوں کو نکالنے کی سازش کے خلاف 18 اکتوبر کو سیاسی، مذہبی اور قوم پرست تنظیموں کی جانب سے کراچی سے شروع ہونے والے احتجاج میں جے یو آئی کے کارکنان کوجھنڈوںسمیت بھرپور شرکت کی ہدایت کی ہے، انہوں نے کہا کہ سندھودریا پر ڈاکہ لگانے نہیں دینگے۔انہوں نے کہا کہ پریس کلب ملیر کراچی سے 18اکتوبر کو ایک بڑا کارواں شروع ہوگا جو18اکتوبر کو ٹھٹہ اور 19 اکتوبر کو بدین پہنچے گا۔انہوں نے ملیر، گھگر پھاٹک، سجاول، ٹھٹہ اور بدین اور دیگر جگہوں کے عہدیداران اور کارکنان کو بھرپور شرکت کی ہدایت کی ہے۔ علامہ راشد محمود سومرو نے کہا کہ ارسا ایکٹ میں متضاد ترامیم کے خلاف سلسلہ وار پورے سندھ میں احتجاج کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ جے یو آئی اسلام کی سربلندی، دین کی چوکیداری اور سندھ کے باسیوں کے حقوق کی جہدوجہد جاری رکھے گی اور سندھ کو ایک بار پھر باب الاسلام بنائینگے۔ انہوں نے کہا کہ خود ان پروگراموں میں شرکت کی کوشش کرونگا۔

    ایم کیو ایم کا شہر میں بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ پر شدید تشویش کا اظہار

    بچوں کی اسمگلنگ کا کیس، صارم برنی کی درخواستِ ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    کراچی کے مختلف علاقوں میں لوڈشیڈنگ 12 گھنٹوں سے متجاوز

    میڈیکل ٹورازم کو فروغ دینے کے لیے نجی شعبے کو مکمل تعاون فراہم کیا جائیگا ،وزیر صحت سندھ

  • سندھ باب الاسلام اور جمعیت علماءاسلام کی دھرتی ہے، مولانا فضل الرحمان

    سندھ باب الاسلام اور جمعیت علماءاسلام کی دھرتی ہے، مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علماءاسلام کے زیراہتمام گاما اسٹیڈیم میرپور خاص میں مفتی محمود کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہاہیکہ سندھ باب الاسلام اور جمعیت علماءاسلام کی دھرتی ہے مفتی محمود رح کی علمی فقاہت اور جس مقام پر آپ فائز تھے اسکو علماء اکابر ہی جانتے ہیں اور جہاں مفتی صاحب رح کی سیاسی زندگی کا جائزہ لیا جاتا ہے تو آج پاکستان کے اندر جو آئین موجود ہے اور اگر یہ آئین مستحکم ہے تو ہم سب پاکستانی ہے اس آئین کی اسلامی حیثیت ہے اور اسلام بنیادی اثاث ہے ہمارا آئین 1974 بنا اس آئین کو مستحکم کرنے اور اسکو مضبوط کرنے کیلئے مفتی محمود رح نے اہم کردار ادا کیا جن سیات دانوں کو ہم ووٹ دیتے ہیں اور انکو مستحکم کرتے ہیں آج ہمارا آئین ان ہی حکمرانوں کی وجہ سے غیر مستحکم ہیں خیبرپختون خواہ ،پنجاب اور سندھ بلوچستان کی عوام کو اب چاہئے کہ وہ ان حکمرانوں کو گریبانوں سے پکڑ کر اپنا احتساب لیں اس ملک کی بنیادوں مین علماء کرام کا اہم کردار ہے اور قرارداد پاکستان علماء کرام کی وجہ سے ہی وجود مین آیا جب ان 1974 کو قادیانیوں کے خلاف تحریک چلی اور انکو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا اور ان پر جرح کی گئی تو ان ہی علماء نے قادیانیوں کو چار زانوں چت کیا اور جب گزشتہ روز سپریم کورٹ میں ختم نبوت اور قادیانیوں کے متعلق مسئلہ سامنے آیا تو ہم سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اور وہاں سے وہ فیصلہ لیکر نکلیں جو ان 1974 سے زیادہ مضبوط ہے جو بھی شخص پاکستان کے اندر ختم نبوت پر شپ خون مارنے کی کوشش کرےگا تو ہم اسکا سر کچل کر رکھ دیں گے قادیانی اک چھوٹا سا ٹکڑا جو پوری امت مسلمہ کو کافر کیوں کہہ رہا ہے یہ بات ہمارے نااہل حکمرانوں کو سمجھ نہی آتی الیکشن میں ۱۹۷۳ میں دھاندلی ہوئی تو اسکو مفتی محمود رح نے یکسر مسترد کیا تھا آج ہم اپنے قائد کے روح کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ ہم بھی دھاندلی زدہ حکومت کو مسترد کرتے ہیں اسمبلی کے اندر اک آئینی ترتمیم لائی گئی اور اس پر میں نے پارلمنٹ میں تقریر کی اور اس پر انکو بریف کیا تو اگلے دن یہ سب میرے گھر آئے اور انکے پاس مسودہ تک نہی تھا اور یہ لوگ آئین میں ترمیم پر بضد تھے اور جو مسودہ رات کی تاریکی میں کالی تھیلی میں میرے پاس پیش کیا تو اس مسودے میں آئین کی تباہی تھی عوام کی تباہی تھی سپریم کورٹ کی تباہی تھی جو ہم نے مسترد کیا اور الحمداللہ وہ آئینی ترمیم پاس نہ کرسکیں ،اس طرح کٹھ پتلی اسملبیوں سے اپنی مرضی کا آئین پاس کرتے ہو تو ہم تمہارے اس طرح کے آئینی ترمیم کو مسترد کرتے ہیں جس طرح ختم نبوت کے مسئلے میں ہم نے دوبارہ فیصلہ لیا اسی طرح ہم نے آئینی ترمیم ہم نے ہاتھ میں لے لیا ہے پاکستان کے آئین پر میرے اور آپکے قائد مفتی محمود رح نے دستخط کئے ہیں اور اس آئین کی چوکیداری جمعیت علماء اسلام کے اک اک کارکن کی زمہ داری ہے اگر کوئی عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالتا ہے اور عوام کے مینڈیٹ پر شب خون مارتا ہے تو ایسے لوگوں کو ہم ہرگز اجازت نہیں دیں گے ۔
    آج پاکستان جےیو آئی اور دینی مدارس کی وجہ سے محفوظ ہے اگر ہم نے ہاتھ کھینچ لیا تو پھر ہم دیکھیں گے کہ آپ لوگ کہاں کھڑے ہو فلسطین کے مسلمان شہید ہورہے ہیں اور ہمارے حکمران سمیت اقوام متحدہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ اس موقع پر جمعیت علماءاسلام آزاد جموں کشمیر کے امیر مولانا سعید یوسف ،صوبہ سندھ کے امیر مولانا سائیں عبدالقیوم ہالیجوی ، مرکزی ڈپٹی جنرل سیکٹری مولانا محمد امجد خان ،خیبر پختوان خواہ کے امیر مولانا عطاء الرحمن ،صوبہ پنجاب کے سیکٹری جنرل حافظ نصیراحمداحرار،صوبہ بلوچستان کے جنرل سیکٹری آغا سید محمود شاہ ، مرکزی ڈیجیٹل میڈیا کوآرڈینیٹر انجینئر ضیاءالرحمن، مولانا سمیع الحق سواتی اور دیگر ذمہ داران موجود تھے۔

    سندھ باب الاسلام اور جمعیت علماءاسلام کی دھرتی ہے، مولانا فضل الرحمان

  • مولانا فضل الرحمان کی اسپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات

    مولانا فضل الرحمان کی اسپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات

    اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ موجودہ اتحادی حکومت نے مشکلات کے باوجود عوام دوست بجٹ پیش کیا ہے، جب کہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے پارلیمان کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کے گھر جاکر ملاقات کی جبکہ ملاقات میں وفاقی وزیر برائے مواصلات مولانا اسعد محمود، خرم پرویز راجہ اور شاہ رخ راجہ بھی موجود تھے۔

    واضح رہے کہ اس ملاقات میں اہم سیاسی اور معاشی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، جب کہ مولانا فضل الرحمان نے اسپیکر قومی اسمبلی سے گزشتہ دنوں پیش آنے والے حادثے سے متعلق خیریت دریافت کی۔ اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ موجودہ اتحادی حکومت نے مشکلات کے باوجود عوام دوست بجٹ پیش کیا ہے، سابق حکومت نے ملک کو بحرانوں سے دو چار کیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بہکی بہکی باتیں،عمران کی ذہنی حالت تشویشناک، مبشر لقمان کا اہم ویلاگ
    آئی سی سی ورلڈ کپ سے پہلے دوسرا بڑا اپ سیٹ ہو گیا
    عمران خان کیخلاف مقدمات کی تفصیلات فراہمی تک کاروائی روکی جائے، وکیل
    یونان کشتی حادثہ کے بعد کاروائیاں،35 انسانی سمگلرز گرفتار
    نومئی واقعات،خواتین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہیں ہو گا
    سویڈن واقع پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آف پاکستان نے فارن آفس میں مذمتی قرارداد جمع کرا دی
    مولانا فضل الرحمان نے ایوان کی کارروائی خوش اسلوبی سے چلانے پر اسپیکر قومی اسمبلی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے پارلیمان کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے، موجودہ حکومت نے ملک میں معاشی استحکام لانے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔

  • جمعیت علمائے اسلام ف نے اپنی جماعت کے وزرا کے محکموں کا بتا دیا

    جمعیت علمائے اسلام ف نے اپنی جماعت کے وزرا کے محکموں کا بتا دیا

    جمعیت علمائے اسلام ف نے اپنی جماعت کے وزرا کے محکموں کا بتا دیا-

    باغی ٹی وی : جمعیت علمائے اسلام ف کے فیس بک آفیشل پیج کے مطابق سینیٹر طلحہ محمود کو وفاقی وزیر سیفران کا عہدہ ملا اور مفتی عبدالشکور کو وفاقی وزیر مذہبی اموراور اسعد محمد کو وفاقی وزیر مواصلات کا عہدہ ملا جبکہ جے یو آئی ف کے مولانا عبدالواسیع کو وزیرہاؤسنگ کا عہدہ ملنے پر مبارکباد دی گئی-

    پیپلز پارٹی کو کون کونسی وزارتیں ملیں ؟ نام آ گئے

    دریں اثنا پاکستان پیپلز پارٹی کو ملنے والی وزارتوں کے نام سامنے آئے تھے جن میں چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹوزرداری بطور وزیرخارجہ حلف اٹھائیں گے بلاول بھٹو برطانیہ جارہے ہیں واپسی پر وہ بطور وزیرخارجہ حلف اٹھائیں گے-

    سید خورشید وفاقی وزیر آبی وسائل ہوں گے سید نوید قمروزیر تجارت منتخب ہوئے ہیں جبکہ شیری رحمان موسمیاتی تبدیلی کی وزیرہوں گی عبدالقادروزیر قومی صحت جبکہ شازیہ مری بینظیر انکم سپورٹ ( بی آئی ایس پی) اور مرتضیٰ محمود وزیر انڈسٹریز منتخب ہو ئے ہیں قمر زمان کائرہ مشیر کشمیر آفیئرز اور حنا ربانی کھر وزیر مملکت برائے خارجہ امور کا عہدہ سنبھالا-

    ساجد طوری اوورسیز ،احسان مزاری آئی پی سی اور عابد بھایو نجکاری کے وزیر ہوں گے جبکہ سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر وزیرمملکت برائے قانون وانصاف کا عہدہ سنبھالا-

    وزیراعظم شہباز شریف کی 34 رکنی وفاقی کابینہ نے حلف اٹھا لیا

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی کابینہ نے حلف اٹھالیا ہے وفاقی کابینہ کی تقریب حلف برداری ایوان صدر میں ہوئی تھی جہاں چیئرمین سینیٹ و قائم مقام صدر صادق سنجرانی نے پہلے وفاقی وزرا سے حلف لیا جس کے بعد انہوں نے وزرائے مملکت سے حلف لیا وزیراعظم شہبا ز شریف بھی تقریب میں موجود تھے-

    کابینہ میں 31 وفاقی وزرا اور 3 وزرائے مملکت ہیں جب کہ تین مشیر بھی کابینہ کا حصہ ہیں وفاقی کابینہ میں (ن) لیگ کے 14 اور پیپلزپارٹی کے 9 ارکان شامل ہیں۔

    وفاقی وزرا میں مسلم لیگ ن سے خواجہ محمد آصف احسن اقبال رانا ثناء اللہ سردار ایازصادق رانا تنویرحسین خرم دستگیر مریم اورنگزیب خواجہ سعد رفیق میاں جاوید لطیف ریاض حسین پیرزادہ مرتضی جاوید عباسی اعظم نزیر تارڑ نے حلف لیا-

    ترین گروپ کے عون چوہدری کو وزیراعظم ہاؤس میں اہم ذمہ داریاں سونپ دی گئیں

    پیپلز پارٹی سے سید خورشید شاہ نوید قمر شیری رحمان عبدالقادر پٹیل شازیہ مری سید مرتضی محمود ساجد توری احسان الرحمان عابد حسین بھائیو نے جبکہ جے یو آئی سے اسد محمود عبدالواسیع عبدلشکور محمد طلحہ محمود جبکہ ایم کیو ایم سے سید امین الحق اور فیصل سبزواری ،اسرار ترین شاہزین بگٹی اور طارق بشیر چیمہ نے بھی عہدوں حلف اٹھایا-

    وزرائے مملکت میں عائشہ غوث پاشا ،حنا ربانی کھر، عبدالرحمن خان کانجو اور مصطفے نواز کھوکھر حلف لیا اور قمر زمان کائرہ ، انجینئیر امیر مقام اور مفتاح اسماعیل نے مشیر کا عہدہ سنبھالا-

    علاوہ ازیں ترین گروپ کے عون چوہدری وزیر اعظم کے مشیر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیں گے، جس کی سمری کابینہ ڈویژن نے تیار کرلی ہے کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری سمری کے مطابق وزیراعظم آئین کے آرٹیکل 93 (1) کے تحت 5 مشیر تعینات کرنے کے مجاز ہیں عون چوہدری کو بحیثیت مشیر تعینات کی سمری منظوری کیلئے صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو بھیجی جائے گی۔

  • 8 مارچ کو "عورت مارچ” ہوا تو مزاحمت کریں گے، جے یو آئی (ف)

    8 مارچ کو "عورت مارچ” ہوا تو مزاحمت کریں گے، جے یو آئی (ف)

    اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ خواتین کے حقوق کے نام پر بیہودگی کرنے کی کوشش کی گئی تو بزور طاقت روکیں گے۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد میں ’یومِ حجاب‘ سے متعلق ایک تقریب میں خطاب کے دوران جے یو آئی (ف) کے رہنما عبدالمجید ہزاروی نے اعلان کیا کہ اسلام آباد میں اگر 8 مارچ کو بیہودگی کرنے کی کوشش کی گئی تو مزاحمت کریں گے، خواتین کے حقوق کے نام پر بے حیائی پھیلائی جارہی ہے۔

    عورت مارچ کو روکا جائے،وزیر مذہبی امور کے خط کے بعد بحث جاری

    علاوہ ازیں جے یو آئی (ف) کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ بھارت کے مسلمانوں اور بالخصوص حجاب کے دفاع کے لیے قربانیاں پیش کر رہی ہیں، آج بھارت کا چہرہ واشگاہ ہوگیا بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دہشتگردوں پر میں لعنت بھیجتا ہوں جنہوں نے بھارت کا سیکولر چہرہ مسخ کیا، میں انسانی حقوق کے دعویداروں کو کہنا چاہتا ہوں کہ تم اندھے ہو کیا تمہاری آنکھوں پر پٹی بندھی ہے۔

    شاہد خاقان عباسی کا وزیراعظم کو اوپن چیلنج

    مولانا عبدالغفور حیدری نے او آئی سی کو مخاطب کرکے کہا کہ خواب غفلت سے اٹھ کر غیرت کرنا چاہیے، عام مسلمانوں کی عزت و عصمت محفوظ نہیں ہیں جبکہ اقوام متحدہ امریکا کی لونڈی بنی ہوئی ہے، کیا اقوام متحدہ بھارت کے مظالم نہیں دیکھ رہا؟ اب ہمارے اسلامی شعائر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور بھی سیاسی پارٹیاں ہےلیکن جے یو آئی (ف) نے ثابت کیا کہ مذہب کے حوالے سے قدغن لگانے والوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہوں گے۔

    حنا پرویز بٹ "عورت مارچ” کے حق میں کھڑی ہو گئیں

    قبل ازیں وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے عورت مارچ کے انعقاد کی اجازت نہ دینے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ورت مارچ سے یہ تاثر ملتا ہے کہ مسئلہ حقوق نسواں سے زیادہ اسلامی نظام معاشرت سے ہے وفاقی وزیر مذہبی امورپیر نورالحق قادری نے وزیر اعظم عمران خان کو لکھے گئے خط میں کہا کہ ہر سال عورتوں کے حقوق اور ن کے احترام کے عہد کو دہرانے کے لیے 8 مارچ کا دنیوم خواتین کے طور پر منایا جاتا ہے جس میں حقوق نسواں کے علمبردار افراد اور ادارے خواتین کے حقوق کو بیان کرتے ہیں اور ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو ختم کرنے کا عزم دوہراتے ہیں-

    وزیراعظم کا بیان دھمکی،اس سے بڑی توہین عدالت نہیں ہوسکتی ،لطیف کھوسہ

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گزشتہ کچھ سالوں سے ‘عورت مارچ’ کے نام سے خواتین کے حقوق سے متعلق آگاہی اور شعور بیدار کرنے کی مہم شروع کی گئی ہے، بظاہر عورت مارچ کو حقوق نسواں کے تحفظ کا عنوان دیا گیا ہے لیکن اس مارچ میں جس طرح کے بینرز، پلے کارڈز اور نعروں کا اظہار کیا جاتا ہے اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ مسئلہ حقوق نسواں سے زیادہ اسلامی نظام معاشرت سے ہے

    موجودہ نسل کو زمانے کے مذہبی بہروپیوں سے بچانے کے لئے میدان عمل میں نکلے ہیں