Baaghi TV

Tag: جمعیت علمائے اسلام

  • کیسا اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جہاں  زنا کو سہولت دی جا رہی ہے؟مولانا فضل الرحمان

    کیسا اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جہاں زنا کو سہولت دی جا رہی ہے؟مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ کیسا اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جہاں نکاح میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں اور زنا کو سہولت دی جا رہی ہے؟-

    اسلام آباد میں ایک اہم نشست سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے انکشاف کیا کہ انہوں نے 26ویں آئینی ترمیم کے 35 نکات سے حکومت کو دستبردار ہونے پر مجبور کیا، جس کے بعد ترمیم 22 نکات تک محدود ہوئی، اور اس پر بھی ان کی طرف سے مزید اصلاحات تجویز کی گئیں، وفاقی شرعی عدالت نے 31 دسمبر 2027 تک سود کے خاتمے کا حتمی فیصلہ دے دیا ہے، اور اب آئینی ترمیم کے بعد یہ باقاعدہ دستور کا حصہ بن چکا ہے کہ یکم جنوری 2028 سے سود کا مکمل خاتمہ ہوگا، اگر کسی نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی تو وہ ایک سال کے اندر فیصلہ ہو کر نافذ العمل ہوگا، کیونکہ شرعی عدالت کا فیصلہ اپیل دائر ہوتے ہی معطل ہوجاتا ہے۔

    مولانا فضل الرحمان نے معاشرتی اقدار کو نظرانداز کر کے بنائے گئے قوانین پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 18 سال سے کم عمر کی شادی پر سزا کا قانون تو بنا دیا گیا، مگر غیرت کے نام پر قتل کی روک تھام کے نام پر روایات کو بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے کیسا اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جہاں نکاح میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں اور زنا کو سہولت دی جا رہی ہے؟ قانون سازی کرتے وقت ملک کے رواج کو بھی دیکھنا چاہیے تاکہ معاشرتی اقدار پامال نہ ہوں۔

    بین اسٹوکس کی آئی سی سی پر تنقید

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پہلے اسلامی نظریاتی کونسل کی صرف سفارشات پیش کی جاتی تھیں، اب ان پر بحث ہوگی، انہوں نے واضح کیا کہ ’کون ہے جو جائز نکاح کے راستے میں رکاوٹ کھڑی کرے اور بے راہ روی کو راستہ دے؟انہوں نے غیرت کے نام پر قتل کو بھی شدید مذمت کا نشانہ بناتے ہوئے اسے غیرشرعی اور غیرانسانی عمل قرار دیا۔

    افغانستان پر امریکی حملے کے وقت متحدہ مجلس عمل کے کردار کو یاد کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ ہم نے اس وقت بھی اتحاد امت کے لیے قربانیاں دیں، جیلیں کاٹیں، مگر پاکستان میں دینی مقاصد کے لیے اسلحہ اٹھانے کو ہم نے حرام قرار دیا،سوات سے وزیرستان تک آپریشن ہوئے، مگر بے گھر ہونے والے آج بھی دربدر ہیں، ریاست کہاں ہے؟-

    مولانا فضل الرحمان نے بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں حکومتی رٹ نہ ہونے پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ دہشتگرد دن دیہاڑے دندناتے پھرتے ہیں، مگر کوئی پو چھنے والا نہیں،جو لوگ افغانستان گئے تھے، وہ کیسے گئے اور واپس کیوں آئے؟ ریاست اپنی ناکامیوں کا بوجھ ہم پر مت ڈالے۔

    امریکی صدر نے پانچ طیارے گرانے کا بیان ایک بار پھر دہرا دیا

    مولانا فضل الرحمان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں اور پاکستان میں مسلح جدوجہد کو غیرشرعی اور حرام قرار دے چکے ہیں،ہمیں ایک جرأت مندانہ موقف لینے کی ضرورت ہے، تاکہ ملک کو موجودہ افراتفری سے نکالا جا سکے، دہشتگردی کا خاتمہ ابھی بہت دور ہے، اور حکومت کو سنجیدگی سے اپنے وعدوں اور آئینی ذمہ داریوں پر عمل کرنا ہوگا، ورنہ قوم مزید تباہی کی طرف جائے گی۔

  • سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ فرخ کھوکھر جمعیت علمائے اسلام میں شامل

    سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ فرخ کھوکھر جمعیت علمائے اسلام میں شامل

    معروف سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ فرخ کھوکھر نے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) میں شمولیت کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ ان کا اعلان پارٹی سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی موجودگی میں اسلام آباد میں واقع ان کے ڈیرے پر ہونے والی تقریب کے دوران کیا گیا۔

    فرخ کھوکھر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا گھرانہ سیاسی پس منظر رکھتا ہے اور ان کے والد پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو موجودہ سیاسی و معاشی حالات سے نکالنے کے لیے وہ جے یو آئی کے پلیٹ فارم سے اپنا کردار ادا کریں گے.تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے فرخ کھوکھر کی جے یو آئی میں شمولیت کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ ملک اس وقت شدید معاشی بحران سے گزر رہا ہے، مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان میں آئین و قانون کی بالادستی چاہتے ہیں، ہمسایہ ممالک ترقی کر رہے ہیں جبکہ پاکستان مسلسل پستی کا شکار ہے، جب تک عام آدمی کی زندگی میں بہتری نہیں آئے گی، ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔تقریب میں پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    کراچی میں آج مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال، کاروباری مراکز بند رہیں گے

    بھارت،ایک ہی دن 100 کے قریب اسکولوں کو بم کی دھمکی موصول

    اسلام آباد ایکسائز کا نئی پالیسی کا نفاذ، ملکیتی نمبر پلیٹس کا اجراء

  • فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے جدوجہد جاری رہے گی، مولانا فضل الرحمن

    فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے جدوجہد جاری رہے گی، مولانا فضل الرحمن

    جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف اور فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی ۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے ، سیاسی یا معاشی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کرنے والوں کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نےکراچی میں شاہراہ قائدین پر جمعیت علمائے اسلام کے تحت اسرائیل مردہ باد ملین مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ ملین مارچ سے جمعیت علمائے اسلام سندھ کے امیر سائیں عبدالقیوم ہالیجوی ، جنرل سیکرٹری مولانا راشد محمود سومرو ، مرکزی رہنما انجینئر ضیاء الرحمن ، قاری محمد عثمان ، مولانا عبدالکریم عابد ، عبدالرزاق ، حاجی عبدالمالک تالپور ،مولانا سمیع الحق سواتی ، مولانا نور الحق اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ مولانا فضل الرحمن کے اسٹیج پر ان کا فقیدالمثال استقبال کیا گیا ۔ شرکاء نے ہاتھوں میں فلسطین کے پرچم اٹھا رکھے تھے ۔ شرکاء نے اسرائیل مردہ باد اور فلسطین کی حمایت میں نعرے لگائے ۔ ملین مارچ سے خطاب کے لیے بڑا اسٹیج تیار کیا گیا تھا ۔ جلسہ گاہ میں مولانا فضل الرحمن کو فلسطینی پرچم پہنایا گیا ۔

    مولانا فضل الرحمن نے ملین مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے اجتماع نے اہل عرب اور غزہ کو حوصلہ دیا ہے ۔ فلسطینی عوام تنہا نہیں ہیں ۔ ہم خون کے آخری قطرے تک ان کے ساتھ ہیں ۔ مسلمان حکمران اپنی غیرت کا مظاہرہ کریں اور فلسطینیوں کی مدد کریں ۔ آج ایک ملین کراچی کی عوام آپ کو بیدار کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ آپ اپنا فرض پورا کرکے غزہ کی مدد کریں ۔ 60 ہزار سے زائد مردوں ، 55بچوں اور 20 ہزار خواتین کی شہادت ہوئی ہے ۔ لیکن اسلامی ممالک کے حکمران امریکہ کے پٹھو بن چکے ہیں ۔ وہ اسرائیل کی غلامی کر رہے ہیں ۔ آج سب کو اٹھ کھڑا ہونا ہو گا اور اسرائیل کی جارحیت کو روکنا ہو گا ۔ اسرائیل کوئی ملک نہیں ۔ اس نے فلسطین پر قبضہ کیا ہوا ہے ۔ 77 سال ہو گئے ہیں ۔

    انہوں نے کہا کہ آج دنیا کی معیشت تبدیل ہو رہی ہے ۔ ایشیا ء کی معیشت پر قبضہ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے ۔ یہاں کی معدنیات اور قدرتی وسائل پر ان کی نظریں ہیں ۔ انشاء اللہ جلد عالمی معیشت ایشیاء کے ہاتھ میں آئے گی اور امریکا اسی پر پریشان ہے ۔ ہم امریکا کو پیغام دیتے ہیں کہ وہ عرب دنیا میں مداخلت بند کرے اور مسلمانوں کا خون نہ بہائے ۔ افغانستان امریکا کے لیے ایک سبق ہے ۔ ایسا نہ ہو کہ امریکا اپنی دفاعی قوت اور اہمیت کھو بیٹھے ۔ آج یہاں پر بیٹھے لاکھوں لوگوں نے فلسطینیوں کے موقف کی حمایت کی ہے ۔ اسرائیل کے حوالے سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور قیام پاکستان کا واضح موقف ہے کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے اور کسی کو اس موقف سے روح گردانی کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ علمائے کرام نے مجلس اتحاد امت کے پلیٹ فارم سے جو جہاد کا فتویٰ دیا ہے ، ہم سب اس کی تائید کرتے ہیں ۔ اسرائیلی وزیر اعظم کو عالمی عدالت انصاف نے جنگی مجرم قرار دیا ہے ، اس کو پھانسی دی جائے ۔ غزہ کے مسلمانوں کی اخلاقی ، سفارتی اور ہر طرح کی امداد ہم سب پر فرض ہے ۔

    جے یو آئی سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ عالمی قوتیں ایک ایسے عمل میں اسرائیل کو حمایت اور تائید دے رہے ہیں ، جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے ۔ ایک صدی پہلے تک کرہ ارض پر اسرائیل نام کی کوئی ریاست نہیں تھی ۔ جنگ عظیم دوئم کے بعد اسرائیل کو مسلط کیا گیا ہے ۔ لیگ آف نیشن نے یہاں ان کو بسانے کی تجویز دی تھی ۔ اس میں طے یہ ہوا تھا کہ کسی کو یہاں پر آباد نہیں کیا جائے گا ۔ فلسطینیوں پر اپنی سرزمین بیچنے کا الزام بے بنیاد ہے ۔ برطانیہ نے ایک سازش کے تحت فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضہ کرایا ۔برطانیہ کی عادت ہے کہ وہ دنیا میں تنازعات چھوڑ دیتا ہے ۔ برصغیر سے چلا گیا اور کشمیر کا تنازع چھوڑ گیا ۔ یہ عادت اس لیے تاکہ لوگ لڑتے رہیں ۔ جب بہت سی ریاستیں وجود میں آئیں تو برطانیہ نے عرب دنیا میں اسرائیل کا تنازعہ چھوڑ دیا ۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور افغانستان میں لوگوں کے شرعی قصاص پر بھی اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں ۔ مگر 60 ہزار سے زائد انسانوں کو شہید ، ایک لاکھ سے زائد زخمی اور لاکھوں کو بے گھر کرنے پر سب خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔ پورے غزہ کو صفہ ہستی سے مٹایا گیا ۔ امریکا کے ہاتھوں سے انسانی خون ٹپک رہا ہے ۔ اسے اب قیادت کا کوئی حق حاصل نہیں ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ جے یو آئی نے پورے ملک میں فلسطینیوں کے حق میں احتجاج کیا ہے ۔ ہمیں اسرائیل کی سازش کو سمجھنا چاہئے ۔ جب قرار داد پاکستان لائی گئی تو قائد اعظم نے اس قرار داد میں اس بات کو حصہ بنایا کہ یہودی ریاست ناقابل تسلیم ہے ۔ اسرائیل کا پاکستان کے حوالے سے نظریہ غیر مبہم رہا ہے ۔اس کے باوجود اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں مقاصد پاکستان کے خلاف ہیں ۔ پاکستانیوں نے تمہارے اس احتجاج ، نعروں اور اجتماعات سے آج بھی صہیونی قوتیں خوف زدہ ہیں ۔ اسرائیل کے ساتھ سفارتی ، معاشی تعلقات کرنا یا راہ ہموار کرنا آپ کے لیے آسان نہیں ہو گا ۔ پاکستانی حکمرانوں تم اسرائیل کو تسلیم کرا سکو گے اور نا ہی قادیانیوں کو دوبارہ مسلمان تسلیم کرانے پر کامیاب ہوں گے ۔ جس نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی جانب قدم بڑھایا یا کوشش کی اس کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ میں مقتدر قوتوں ، سول بیورو کریسی ، جاگیر داروں کو بتانا چاہتا ہوں کہ یورپ ، امریکا اور اسرائیل کی غلامی سے کام نہیں چلے گا ۔ آپ عوام کے جذبات کا احترام کریں ۔ ہم وہ قوتیں ہیں ، جس نے تمہارے آقاوں کی زبانیں روکیں ۔ تم ہمیں ایوان سے باہر رکھ سکتے ہو لیکن عوام سے دور نہیں کر سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو جنگی مجرم قرار دے چکی ہے ۔ اس کو بھی پھانسی دینا ہو گی ۔ جنگی مجرم کا ساتھ دینے والا بھی جنگی مجرم ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جو امریکا اور اسرائیل کی حمایت کر رہے ہیں ، وہ فلسطینیوں کے قاتل ہیں ۔ ہم فلسطینیوں اور حماس کے ساتھ ہیں ۔

    انہوں نے کہا کہ تم نے افغانوں اور امارت اسلامیہ کو دہشت گرد کہا اور پھر ان سے معاہدہ کیا اور اب حماس کو دہشت گرد کہہ رہو ۔ اب تمہاری یہ دہری پالیسی نہیں چلے گی ۔ انہوں نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے نعروں اور اجتماعات سے کئی اسلامی ممالک جاگ چکے ہیں ۔ ہم اس جدوجہد کو جاری رکھیں گے ۔ تم فلسطینی آبادیوں کو بم مار کر تباہ کر سکتے ہیں ۔ لیکن تم مجاہدین کو ختم نہیں کر سکتے ۔ یہ مجاہدین تمہیں ختم کر دیں گے ۔ انہوںنے کہا کہ تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام نے اسلامی جارحیت کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا ہے ۔ہم اس کی مکمل تائید کرتے ہیں ۔ اب 27 اپریل مینار پاکستان لاہور میں ” مردہ باد اسرائیل ملین مارچ ” ہو گا ۔ جے یو آئی سندھ کے سیکرٹری جنرل راشد محمود سومرو نے کہا کہ حکومت کو کینال بنانے کا منصوبہ واپس لینا ہو گا ۔ سندھ کے کسانوںکی جنگ لڑیں گے ۔ کراچی میں ٹینکر مافیا کے خلاف آواز بھی جے یو آئی بلند کرے گی ۔ سندھ میں جاگیرداروں کا راج نہیں چلے گا ۔ ہم غزہ کی آواز ہیں ۔ یہ انسانوں کا سمندر ہے ۔ اس کے ذریعہ امریکا اور اسرائیل کو پیغام دے رہے ہیں کہ وہ اب غزہ میں ظلم بند کریں ۔ مولانا فضل الرحمن کے نام پر صہیونیوں پر زلزلہ طاری ہو جاتا ہے ۔ سرحد کھول دیں ہم فلسطینیوں کا تحفظ کریں گے ۔

    جے یو آئی کے رہنما مولانا ضیاء الرحمن نے کہاکہ فلسطین کے مسئلے پر امت مسلمہ کے حکمران خاموش ہیں ۔ آج کا یہ مجمع انہیں یہ پیغام دیتا ہے کہ وہ خواب غفلت ختم کر دیں اور مظلوم فلسطینیوںکا ساتھ دیں ۔ جے یو آئی کے رہنما مولانا محمد صالح نے کہا کہ آج کا یہ ملین مارچ عہد کرتا ہے ہم اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ ہیں ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چولستان کینال کا منصوبہ ختم کیا جائے ۔ جے یو آئی کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات مولانا سمیع سواتی نے کہا کہ یہ مارچ فلسطین کے مظلوم عوام کی حمایت میں منعقد کیا گیا ہے ۔ اسرائیلی دہشت گرد نہتے فلسطینیوں کو نشانہ بنا رہا ہے ۔ اسلامی ممالک کے حکمرانوں کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے ۔ امت مسلمہ کو اسرائیلی مظالم روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ۔ جے یو آئی کے رہنما مولانا عبدالکریم عابد نے کہا کہ ہم غزہ کے مسلمانوں کے ساتھ ہیں اور ان کے لیے ہر ممکن مدد کی کوشش کریں گے ۔

    ننکانہ: بیساکھی میلے کی خوشی میں شاندار آتشبازی، فضاء رنگ و نور سے جگمگا اٹھی

    آرمی چیف سے امریکی وفد کی ملاقات، آئی ٹی میں تعاون کی یادداشتوں پر دستخط

    جماعت اسلامی کی 22 اپریل کو پہیہ جام ہڑتال کی کال

    خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 6 دہشت گرد ہلاک

  • جے یو آئی کراچی کا رہنما  کی گرفتاری پر شدید احتجاج

    جے یو آئی کراچی کا رہنما کی گرفتاری پر شدید احتجاج

    جمعیت علمائے اسلام (ف)یوسی شاہ مرید گڈاپ کے امیر اور مدرسہ شمس العلوم کے بانی قاری عبدالجبار سہتانی کو رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں جھوٹے مقدمے میں گرفتار کرلیا گیا، جس پر جے یو آئی رہنماؤں اور کارکنان نے شدید احتجاج کیا ہے۔

    جے یو آئی کے مطابق قاری عبدالجبار سہتانی کو لینڈ مافیا کے دبا پر پولیس کی ملی بھگت سے نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ گزشتہ سال بھی ان پر اسی طرح کا بے بنیاد مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس سے وہ بعد میں باعزت بری ہو گئے تھے۔جے یو آئی سندھ کے ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات مولانا سمیع الحق سواتی نے سوال اٹھایا کہ پولیس قبضہ مافیا کے آلہ کار کے طور پر کیوں استعمال ہو رہی ہی انہوں نے کہا کہ یہ رویہ ناقابل برداشت ہے اور ہم اپنے رہنما کی رہائی تک خاموش نہیں بیٹھیں گے۔

    اطلاعات کے مطابق قاری عبدالجبار سہتانی کو گزشتہ رات تراویح کے بعد جامعہ شمس العلوم دریا خان گوٹھ گڈاپ سے گرفتار کیا گیا، بعد ازاں ان کی گرفتاری کورنگی انڈسٹریل تھانے میں ظاہر کی گئی۔حیران کن طور پر ایف آئی آر میں ان کا نام موجود نہیں، لیکن انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کرنے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے۔ادھر جے یو آئی ضلع ملیر کے امیر مولانا احسان اللہ ٹکروی اور سیکریٹری مولانا اجمل شاہ شیرازی نے قاری عبدالجبار سہتانی کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں رہا نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔

    جے یو آئی گڈاپ ٹان کے امیر مولانا عبدالقیوم لنڈ، سیکریٹری جنرل حافظ حمداللہ حقانی، مولانا نذیر احمد نندوانی اور دیگر کارکنان نے گڈاپ تھانے کے باہر احتجاج کرتے ہوئے جعلی مقدمے میں اندراج پر قاری عبدالجبار سہتانی کی گرفتاری کی شدید مذمت کی۔جے یو آئی رہنماں نے وزیراعلی سندھ، وزیر داخلہ اور آئی جی سندھ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ پولیس قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی کرے اور قاری عبدالجبار سہتانی کو فی الفور رہا کیا جائے۔

    شہباز شریف کے مشیر بننے کے بعد پرویز خٹک کیخلاف کرپشن کیس بند

    کراچی میں ایک خوفناک ٹریفک حادثہ، ڈرائیور گرفتار

    جھوٹا نکاح، ملزم کی دوستوں سمیت کئی ماہ 13 سالہ لڑکی کی عصمت دری

  • جے یو آئی کے مرکزی رہنما حافظ حسین احمد انتقال کرگئے

    جے یو آئی کے مرکزی رہنما حافظ حسین احمد انتقال کرگئے

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی رہنما اور سابق سینیٹر حافظ حسین احمد کوئٹہ میں انتقال کرگئے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق حافظ حسین احمد گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے، ان کی تدفین کل کوئٹہ میں ہوگی۔حافظ حسین احمد کا شمار مولانا فضل الرحمن کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا۔ حافظ حسین احمد کا انتقال بدھ کے روز اُن کے کوئٹہ میں واقع گھر پر ہوا۔جے یو آئی نے بھی حافظ حسین احمد کے انتقال کی تصدیق کی اور اُن کے بچھڑنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے بڑا نقصان قرار دیا ہے۔

    دوسری جانب اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اُن کی تدفین آبائی علاقے میں کی جائے گی جبکہ نماز جنازہ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر ان کے انتقال کی خبر دی گئی۔واضح رہے کہ دسمبر 2022 میں اختلافات ختم کر کے حافظ حسین احمد دوبارہ جمعیت علمائے اسلام (ف) میں شامل ہو گئے تھے۔

    اوچ شریف: ڈینگی آگاہی اور صفائی مہم، پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کا سکولوں کا دورہ

  • پشاور میں فائرنگ سے جمعیت علمائے اسلام کے رہنما جاں بحق

    پشاور میں فائرنگ سے جمعیت علمائے اسلام کے رہنما جاں بحق

    معروف عالم دین اور جمیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا قاضی ظہور احمد کو بڈھ بیر احمد خیل میں فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔

    پشاور پولیس کےمطابق بڈھ بیر میں جمعیت علمائے اسلام کے رہنما اور معروف عالم دین مولانا قاضی ظہور احمد کو نامعلوم افراد نے گولیاں ما کر قتل کیا، مولانا نماز عشا کے بعد درس سے فارغ ہو کرگھر جا رہے تھے کہ انہیں شانہ بنایا گیا۔پولیس نے بتایا کہ جائے وقوع سے 30 بور پستول کے 2 خول برآمد ہوئے ہیں اور واقعے کا مقدمہ مقتول کے بھائی عطا اللہ کی مدعیت میں درج کر دیا گیا ہے۔

    جمعیت علمائے اسلام نے بیان میں کہا کہ مولانا قاضی ظہوراحمد طویل عرصے سے جے یو آئی سے وابستہ تھے، انہوں نےپارٹی کے لیے کافی جدوجہد کی اور پارٹی کے لیے ان کی قابل قدر خدمات ہیں۔پولیس نے بتایا کہ واقعے کے حوالے سے ابتدائی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔پشاور پولیس کے سنئیر افسر نے ایکسپریس کو بتایا کہ حتمی طور پر کہنا قبل ازوقت ہوگا کہ قتل کی اصل وجہ کیا ہے تاہم ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے شواہد اکھٹے کیے جا رہے ہیں۔

    پارٹی کو متحرک کریں، اہم رہنما کا نواز شریف کو خط

    سراج الحق کی خیبر میں امن کے قیام کے لیے تعاون کی پیشکش

    ملکی سیاست میں ہلچل، آئی پی پی نے اہم فیصلہ کرلیا

    شمالی کوریا کااسٹریٹجک کروز میزائل کا تجربہ

  • دینی مدارس بل، وزیراعظم نے مولانا کو بلا لیا

    دینی مدارس بل، وزیراعظم نے مولانا کو بلا لیا

    وزیراعظم شہبازشریف نے مدارس رجسٹریشن بل کے معاملے پر جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو ملاقات کیلئے بلالیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اس معاملے پر سربراہ جمعیت مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کرکے ملاقات کے لئے بلا لیا ہے ۔مولانا فضل الرحمان کل دن 3 بجے وزیراعظم ہاؤس میں شہباز شریف سے ملاقات کریں گے جس میں مولانا اتحاد تنظیمات مدارس کا موقف وزیراعظم کے سامنے رکھیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے رابطے کے بعد مولانا فضل الرحمان کا مفتی تقی عثمانی سے بھی رابطہ ہوا ہے،مولانا فضل الرحمان نے مفتی تقی عثمانی سے کل کی ملاقات سے متعلق مشاورت کی۔واضح رہے کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ مدارس بل اب ایکٹ بن چکا ہے اب ہم کوئی ترمیم قبول نہیں کریں گے اور یہ بات نہ مانی گئی تو پھر ایوان کی بجائے میدان میں فیصلہ ہوگا۔

    پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست ہے، عارف علوی

    گورنرسندھ کا مہاجر کلچر ڈے منانے کا اعلان

    190 ملین پاؤنڈ کتنی بڑی کرپشن کا کیس , عمران خان قومی مجرم

  • یوم یکجہتی کشمیر پر پاکستانی قوم بھارتی مظالم کیخلاف احتجاجی مظاہرے کرے،مولانا عبد الغفور

    یوم یکجہتی کشمیر پر پاکستانی قوم بھارتی مظالم کیخلاف احتجاجی مظاہرے کرے،مولانا عبد الغفور

    کوئٹہ: جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی جنرل سیکریٹری سینیٹر مولانا عبد الغفور حیدری نے 5 فروری کو یوم يكجہتی كشمير كے موقع پر پاكستانی قوم اپنے كشميری بھائيوں سے اظہارِ يكجہتی کیلیے احتجاجی مظاہرے كرنے کی اپیل کی ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سینیٹر مولانا عبد الغفور حیدری نے عوام الناس بالخصوص كاركنان سے اپيل کی کہ يوم يكجہتی كشمير كے موقع پر اضلاع، تحصيل اور يونين كونسل كی سطح پر پريس كلب كے سامنے احتجاجی مظاہرے كريں۔

    حکومت کا پانچ فروری کوعام تعطیل کا اعلان

    انہوں نے کہا کہ بھارت کے ظلم كو واشگاف كريں اور ان مظالم كی مذمت كريں تاكہ مسئلے كشمير اقوام سامنے اجاگر كيا جاسكے اوربھارت كے مظالم پوری دنيا كے سامنے عياں ہوں۔

    واضح رہے کہ سندھ حکومت نے 5 فروری کو عام تعطیل کا اعلان کردیا جس کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا ہے نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ یوم یکجہتی کمشیر کی مناسبت سے سندھ میں عام تعطیل ہوگی اور تمام سرکاری و نجی دفاتر، تعلیمی ادارے اور بازار بند رہیں گے کہ وفاقی حکومت اس سے پہلے ہی پانچ فروری کو عام تعطیل کا اعلان کرچکی ہے، 5 فروری ہر سال وفاقی حکومت کے گزیٹڈ ہالیڈے کی فہرست میں شامل ہوتا ہے-

    وزیراعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری مسترد کردی

    خیال رہے کہ یہ دن منانے کا سلسلہ گذشتہ 30 سال سے بلا تعطل جاری ہے جس میں پاکستان اور دنیا کے کئی ممالک میں بسنے والے پاکستانیوں کی سیاسی اور مذہبی جماعتیں احتجاجی جلسے منعقد کرتی ہیں اور سرکاری سطح پر تقریبات کا انعقاد ہوتا ہے شیخ عبداللہ اور اندرا گاندھی کے درمیان ہونے والے معاہدے کے وقت 1975 میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 28 فروری کوکشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا دن منانے کا اعلان کیا، تاہم کئی سالوں بعد یہ بدل کر 5 فروری ہو گیا –

    نہرو و سلامتی کونسل نے مقبوضہ کشمیر کے باسیوں سے رائے شماری کا وعدہ کیا تھا کہ ریفرنڈم کروایا جائے گا جس میں مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کو حق دیا جائے گا کہ وہ انتخاب کر سکیں کہ انہوں نے الحاق ہندوستان کرنا ہے یا پاکستان یا کہ آزاد خود مختار کشمیراب تک مقبوضہ کشمیر کو عالمی متنازع علاقہ تسلیم کرتے ہوئے متعدد قرار دادیں منظور کی جا چکی ہیں جن میں بھارت کو مقبوضہ کشمیر سے اپنی فوجیں نکالنے اور سلامتی کونسل و بھارت کے وعدے کیمطابق ریفرنڈم کروانے کا کہا جا چکا ہے تاکہ کشمیری رائے شماری کے ذریعے اپنی آزادی کا انتخاب کر سکیں مگر ہر بار بھارت انکاری رہا مگر افسوس کہ سلامتی کونسل و عالمی برادری اب تک کچھ بھی نہیں کر پائیں-

     میں تین ارب ٹن کوئلے کے ذخائر برآمد

    سلامتی کونسل و بھارت کو اس کا کیا گیا وعدہ یاد کرواتے ہوئے 5 فروری کو پوری دنیا میں یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے تاکہ دنیا بھارت پر دباؤ ڈال کر کشمیریوں کو ان کا حق رائے شماری دے مگر بھارت و تمام عالم کفر جانتا ہے کہ 1947 سے اب تک سخت بھارتی پہرے و ظلم و جبر میں رہتے ہوئے کشمیری ایک ہی نعرہ لگا رہے ہیں کشمیر بنے گا پاکستان ،تیرا میرا رشتہ کیا لا الہ الا اللہ اور اسی نعرے پر عمل پیرا ہو کر کشمیری اب تک لاکھوں شہادتیں ہزاروں ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت دری ہونے کے باوجود اسی نعرے پر قائم ہیں-

    پی ایس ایل 7: ملتان سلطانزنے کوئٹہ گلیڈی ایٹر کوشکست دے دی

    ویسے تو ہر وقت پاکستانی پرچم مقبوضہ وادی کشمیر کے گلی محلوں و گھروں میں لہراتا ہے مگر 5 فروری کو بطور خاص ہر گھر میں پاکستانی پرچم لہرایا جاتا ہے اور انڈین فوج کی ایک سپیشل ونگ ان پرچموں کو اتارتی ہے مگر کشمیری پھر اس سبز ہلالی پرچم کو لہراتے ہیں جہاں 5 فروری کو کشمیری غیور مسلمان بھارت و سلامتی کونسل کی وعدہ خلافی کے خلاف پوری دنیا میں احتجاج کرتے ہیں وہاں پاکستانی قوم بھی اپنے کشمیری بھائیوں کیساتھ سلامتی کونسل و بھارت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ان کو اپنے کشمیری بھائیوں کی آزادی کی صدا سنواتے ہیں اور دنیا کو باور کرواتے ہیں کہ کشمیریوں کا نعرہ تیرا میرا رشتہ کیا ؟ لا الہ الا اللہ کے تحت ہم یک دل یک جان ہیں اور جہاں کشمیریوں کا پسینہ گرنے گا وہاں پاکستانیوں کا خون گرے گا-

    ریاست مدینہ میں کرکٹ، وزیراعظم عمران خان کے نام کھلا خط