Baaghi TV

Tag: جمیل احمد

  • پاکستان میں بچت کی شرح جی ڈی پی کا صرف 7.4 فیصد ہے،گورنر اسٹیٹ بینک

    پاکستان میں بچت کی شرح جی ڈی پی کا صرف 7.4 فیصد ہے،گورنر اسٹیٹ بینک

    پیر کو کراچی کے نجی ہوٹل میں ’بینکوں کے لیے کیپٹل مارکیٹوں کے امکانات‘ کے موضوع پر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےگورنر،اسٹیٹ،بینک جمیل احمد نے کہا کہ اگرچہ میکرو اکنامک حالات بہتر ہوئے ہیں، مہنگائی کم ہو رہی ہے اور نمو بتدریج بحال ہو رہی ہے، لیکن ملک میں بچت کی کم سطح جیسے بنیادی مسائل برقرار ہیں۔

    اسٹیٹ بینک کے اعلامیہ کے مطابق،تقریب میں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، چیئرپرسن پاکستان اسٹاک ایکسچینج ڈاکٹر شمشاد اختر، چیئر مین سیکیورٹیز ایند ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) عاکف سعید، پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او۹ فرخ سبزواری، بینکوں کے صدور، سی ای اوز اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔

    گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ پاکستان میں بچت کی شرح جی ڈی پی کا صرف 7.4 فیصد ہے، جب کہ جنوبی ایشیا میں یہ 27 فیصد ہے، چنانچہ ملک کو بیرونی قرضوں پر زیادہ انحصار کرنا پڑتا ہے، جو بیرونی کھاتے پر بار بار دباؤ اور عروج و زوال کے چکر (بوم بسٹ سائیکل) کا باعث بنتا ہے۔

    صوابی میں کلاؤڈ برسٹ سے تباہی

    انہوں نے قومی بچتوں کو متحرک کرکے نفع بخش سرمایہ کاری کی طرف انہیں منتقل کرنے میں بڑی کیپٹل مارکیٹوں کی اہمیت پر زور دیا، کہا کہ پوری طرح تشکیل شدہ، گہری اور متنوع کیپٹل مارکیٹوں کی ضرورت ہے جس کے ساتھ مستحکم بینکاری نظام بھی موجود ہو، تاکہ ملک کی پائیدار اقتصادی ترقی کو سہارا دیا جاسکے۔

    گورنر نے اسٹیٹ بینک کی حالیہ اصلاحات پر روشنی ڈالی، جن کا مقصد ملکی بانڈز کی مارکیٹ میں شمولیت کو بڑھانا ہے، ان اصلاحات میں غیر بینک اداروں کی اسپیشل پرپز پرائمری ڈیلرز کے طور پر شمولیت اور انویسٹر پورٹ فولیو سیکورٹیز (آئی پی ایس) اکاؤنٹس کی مائکرو فنانس بینکوں، سنٹرل ڈپازٹری کمپنی (سی ڈی سی) اور نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ (این سی سی پی ایل) تک توسیع شامل ہے یہ اصلاحات ڈیجیٹل بینکاری صارفین کے لیے سرمایہ کاری کے نئے مواقع فراہم کرتی ہیں اور مارکیٹ کی وسیع تر تشکیل کی بنیاد ہیں۔

    خیبرپختونخوا،متاثرین کیلئے 456 ریلیف کیمپس،400 ریسکیو آپریشن ،وزیراعظم کو بریفنگ

    جمیل احمد نے سرکاری بانڈ کی مارکیٹ میں پیش رفت کے باوجود کارپوریٹ قرضہ اور ایکویٹی مارکیٹوں کی سست روی پر تشویش کا اظہار کیا،کہاکہ واجب الادا کارپوریٹ بانڈز مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے ایک فیصد سے بھی کم ہیں جبکہ ثانوی بازار میں ان کی سرگرمیاں محدود ہیں اور غیر مالی شعبوں کی شمولیت بھی نہ ہونے کے برابر ہے، اسی طرح ایکویٹی مارکیٹ کی رسائی بھی محدود ہے، جہاں سرمایہ کاروں کے اکاؤنٹ اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن (سرمایہ بندی) ہم سر معیشتوں کے مقابلے میں خاصی کم ہیں،ضابطہ کاروں، مالی اداروں، سرکاری اداروں اور سرمایہ کاروں کے مابین ہم آہنگ کوششوں کی ضرورت ہے، تاکہ مالی خواندگی کو فروغ دیا جا سکے، شمولیت کو بڑھایا جا سکے اور ایک شفاف، جدت پسند مارکیٹ ایکو سسٹم تشکیل دیا جا سکے-

    یورپ ہمارے میزائلوں کی پہنچ میں ہے،ایران

  • گزشتہ دو برس کے دوران مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی آئی ، گورنراسٹیٹ بینک

    گزشتہ دو برس کے دوران مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی آئی ، گورنراسٹیٹ بینک

    کراچی:اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے کہاہے کہ گزشتہ دو برس کے دوران مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے-

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے عالمی مالیاتی و سرمایہ کاری اداروں جے پی مورگن، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ، ڈوئچے، جیفریز اور بڑی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کے سینئر عہدیداروں سے اعلیٰ سطح ملاقاتوں کے دوران پاکستان کی بہتری کی جانب گامزن معاشی استحکام اور مستقبل کے بارے میں اعتماد کا اظہار کیا،یہ ملاقاتیں واشنگٹن ڈی سی میں آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اسپرنگ اجلاسوں کے موقع پر ہوئیں

    گورنر جمیل احمد نے ایک بریفنگ کے دوران شرکاء کو پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے میں حاصل ہونے والی نمایاں پیشرفت سے آگاہ کیا اور بتایا کہ دانشمندانہ مالیاتی پالیسی اور مسلسل مالیاتی استحکام کی کوششوں کے نتیجے میں ملک میں معاشی استحکام حاصل ہوا ہے۔

    پی ایس ایل کی براڈ کاسٹ کمپنی میں شامل بھارتی عملے کو واپس بھیج دیاگیا

    جمیل احمد نے بتایا کہ گزشتہ دو برس کے دوران مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے اور مارچ 2025ء میں یہ کم ہو کر 0.7 فیصد کی کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر آگئی ہے، اسی طرح بنیادی مہنگائی بھی 22 فیصد سے گھٹ کر سنگل ڈیجٹ میں آ گئی ہے اور توقع ہے کہ آنے والے مہینوں میں یہ مزید کم ہوگی،آگے چل کر افراط زر 5 سے 7 فیصد کے ہدفی دائرے میں مستحکم رہنے کی توقع ہے۔

    گورنر نے بتایا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں معیار اور مقدار دونوں لحاظ سے نمایاں بہتری آئی ہے، اسٹیٹ بینک کے زرمباد لہ کے ذخائر فروری 2023 میں کم ترین سطح پر آنے کے بعد 3 گنا سے زیادہ بڑھ چکے ہیں جبکہ فارورڈ واجبات میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، ذخائر میں موجودہ اضافہ کسی نئے بیرونی قرضے کے حصول کی وجہ سے نہیں بلکہ جاری کھاتے میں سرپلس کے نتیجے میں زرمبادلہ کی خریداری کے ذریعے ہوا ہے۔

    سندھ طاس معاہدہ نشانہ اور پہلگام واقعہ بہانہ ہے،حنیف عباسی

    گورنر نے یہ بھی کہا کہ جون 2022 کے بعد سے پاکستان کے عوامی شعبے کے بیرونی قرضے، مقدار اور جی ڈی پی کے تناسب دونوں اعتبار سے، کم ہو گئے ہیں، یہ بہتری اسٹیٹ بینک کی اس پالیسی کا نتیجہ ہے جس کا مقصد معیشت کو بیرونی جھٹکوں سے بچانے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرنا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک کا ہدف ہے کہ جون 2025 تک زرمبادلہ کے ذخائر کو 14 ارب ڈالر تک لے جایا جائے معاشی حالا ت کے مستحکم ہونے کے ساتھ پاکستان کی جی ڈی پی نمو بھی بتدریج بحال ہو رہی ہے اور مالی سال 2025 میں اس کے تقریباً 3 فیصد رہنے کی توقع ہے، معیشت میں ہونے والی بہتری کو بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے بھی تسلیم کیا ہے۔

    ریاستی دہشت گردی میں اسرائیل اور بھارت پیش پیش ہیں،نعیم الرحمان

    گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ پالیسی سازوں کی توجہ معاشی استحکام کو برقرار رکھنے اور معیشت کے مختلف شعبوں میں ساختی اصلاحات متعارف کرانے پر مرکوز رہی ہے،اصلاحاتی ایجنڈے پر پیش رفت جاری رکھتے ہوئے پاکستان پائیدار اقتصادی ترقی اور عوام کی سماجی و اقتصادی بہتری کے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوگا۔

  • پاکستان میں سیاسی استحکام کے بغیر سرمایہ کاری کا ماحول پیدا نہیں ہوسکتا ہے،گورنر اسٹیٹ بینک

    پاکستان میں سیاسی استحکام کے بغیر سرمایہ کاری کا ماحول پیدا نہیں ہوسکتا ہے،گورنر اسٹیٹ بینک

    اسلام آباد: گورنراسٹیٹ بینک جمیل احمد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیاسی استحکام کے بغیر سرمایہ کاری کا ماحول پیدا نہیں ہوسکتا ہے-

    باغی ٹی وی: گورنراسٹیٹ بینک جمیل احمد کا کہنا ہے کہ ملک میں پر ہر شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں،پاکستان کو آگے بڑھانے کے لیے مل جل کر کام کرنا ہوگا،غیر ملکی سرمایہ کاری اسی صورت میں آئے گی جب مقامی سرمایہ کار مطمئن ہوگا،سرمایہ کاری کرنے والوں کو سہولت دینگے تو دیگر بھی سرمایہ کاری کریں گے-

    گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ براہ راست بیرونی سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر کیلئے سیاسی استحکام ضروری ہے، سیاسی جماعتوں، تمام سٹیک ہولڈرز اور اداروں کو استحکام کیلئے کام کرنا ہو گا،سرمایہ کاری کیلئےسازگارماحول دینا تمام سٹیک ہولڈرزکی ذمہ داری ہے،سرمایہ کاروں کا ہاتھ پکڑنے کی ضرورت ہے انکے مسائل کے حل کی ضرورت ہے-

    گورنراسٹیٹ بینک جمیل احمد کا کہنا تھا کہ حکومتوں میں طویل مدتی پالیسیوں کا فقدان ہے،پائیدار اور طویل مدتی پالیسی نہ ہونا ملک ترقی میں رکاوٹ کا باعث ہے،دنیا بھر میں دنیا میں 2 ارب لوگوں کو پینےکا صاف پانی میسرنہیں،کوروناکی وبا کے بعدانفراسٹرکچرکے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ضرورت بڑھ گئی ہے-

    انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے 80ہزار ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے،پاکستان کو انفرسٹرکچر کے منصوبوں کی کمی کا سامنا ہے-

  • جمیل احمد نے گورنر اسٹیٹ بینک کے عہدہ کی ذمے داریاں سنبھال لیں

    جمیل احمد نے گورنر اسٹیٹ بینک کے عہدہ کی ذمے داریاں سنبھال لیں

    اسلام آباد: جمیل احمد نے گورنر اسٹیٹ بینک کے عہدہ کی ذمے داریاں سنبھال لیں۔

    باغی ٹی وی : صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے تقررنامہ پر دستخط کے بعد جمیل احمد نے گورنر اسٹیٹ بینک کے عہدے کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔


    اسٹیٹ بینک کے آفیشل ٹویٹر پر جاری ٹویٹ کے مطابق جمیل احمدکی تقرری صدر مملکت نے اسٹیٹ بینک کے ایکٹ 1956 کے آرٹیکل 11اے(1) کی روشنی میں 5 سال کی مدت کے لیے عمل میں لائی ہے۔

    پی آئی اے کی پرواز میں ایئر ہوسٹس کو ہراساں کرنے کا واقعہ، شکایت پر نہیں ہوئی…

    جمیل احمد کا 30 سال سے زائد مختلف اہم عہدوں پر سٹیٹ بنک آف پاکستان اور سعودی مرکزی بنک میں تجربہ ہے۔جمیل احمد نے 1988میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا، وہ 1994 سے آئی سی ایم اے پاکستان کے فیلو ہیں۔

    جمیل احمد نے بطور ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک بینکوں کی ڈیجیٹلائزیشن کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، رضا باقر کی مدت پوری ہونے کے بعد مستقل گورنر اسٹیٹ بینک کا عہدہ مئی سے خالی تھا، ڈاکٹر مرتضی سید قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک کے فرائض انجام دے رہے تھے۔

    26 سال سے زیادہ کا تجربہ رکھنے والے جمیل احمد ایک ماہر بینکر ہیں، وہ اس سے قبل مرکزی بینک کے ڈپٹی گورنر کے طور پر بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔

    مریم اورنگزیب کی صدرلاہور پریس کلب اعظم چوہدری کو دھمکی کی مزمت

    جمیل احمد نے 11 اپریل 2017 سے 15 اکتوبر 2018 تک اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر (بینکنگ اور ایف ایم آر ایم) کے طور پر خدمات سرانجام دی تھیں۔

    بطور ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک تعینات ہونے سے قبل انہوں نے آپریشنز، بینکنگ پالیسی اینڈ ریگولیشنز ڈپارٹمنٹ، ڈیولپمنٹ فنانس ڈپارٹمنٹ اور فنانشل ریسورس مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ گروپ ہیڈ کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

    وہ سعودی عربین مانیٹری ایجنسی (سما) کے لیے بھی کام کر چکے ہیں گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے 1988 میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اے مکمل کیا تھا۔

    وہ 1994 سے انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان کے فیلو ممبر، 1993 سے انسٹی ٹیوٹ آف بینکرز پاکستان کے فیلو ممبر اور 1992 سے فیلو ممبر انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ سیکریٹریز آف پاکستان ہیں۔

    عمران خان کے خلاف ٹویٹ،صحافی وقار ستی کیخلاف مقدمہ درج

  • سابق قومی چیمپئن اور نمبر ون ٹینس سٹار انتقال کر گئے

    سابق قومی چیمپئن اور نمبر ون ٹینس سٹار انتقال کر گئے

    پاکستان کے سابق چیمپئن اور نمبر 1 ٹینس کھلاڑی جمیل احمد (جمی) ہارٹ اٹیک کے باعث لاہور میں انتقال کر گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : تفصیلا ت کے مطابق پاکستان کے سابق قومی چیمپئین کا شمار ملک کے اسپورٹس لیجنڈز میں کیا جاتا ہے انہوں نے ڈیوس کپ میں پاکستان کی نمائندگی کی۔

    کرکٹر عمر اکمل فکسنگ کیس ، ڈیڈ لائن میں ایک بار پھر توسیع


    جمیل احمد (جمی) کچھ عرصہ سے علیل تھے جمیل احمد کے انتقال پر پاکستان ٹینس فیڈریشن کے عہدیداروں اور کھلاڑیوں نے گہرے دُکھ کا اظہار کیا ہے۔


    ان کی نماز جنازہ آج صبح دس بجے بھٹہ چوک لاہور میں ادا کی گئی-

    امام الحق نے اپنی شادی بابراعظم کی شادی سے مشرو ط کردی

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کے آخر میں =اکستان کے سابق ٹینس پلیئر خواجہ سعید حئی 91 برس کی عمر میں کراچی میں انتقال کرگئے تھے انہوں نے پاکستان کی جانب سے3 گرینڈ سلم میں شرکت کی تھی اور ومبلڈن، یو ایس اوپن، فرنچ اوپن اور ڈیوس کپ میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی خواجہ سعیدحئی نےکئی مرتبہ ڈیوس کپ میں پاکستان کی بطور کپتان اوربطورکھلاڑی نمائندگی کی تھی-

    علاوہ ازیں پاکستان ٹینس فیڈریشن کے سینیئر نائب صدر بھی رہے۔

    پاکستان اورسری لنکا کے مابین ویمنز سیریز کیلئےمیچ آفیشلز کا اعلان