Baaghi TV

Tag: جناح ہاؤس

  • اعجاز چوہدری کو جیل میں بی کلاس کی فراہمی کی درخواست پر سماعت ملتوی

    اعجاز چوہدری کو جیل میں بی کلاس کی فراہمی کی درخواست پر سماعت ملتوی

    تحریک انصاف کے سینیٹر اعجاز چوہدری کو جیل میں بی کلاس کی فراہمی کیلئے انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت ہوئی،

    لاہور ہائیکورٹ نے ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ سمیت دیگر کو 7 اگست کے لئے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ۔جسٹس ساجد محمود سیٹھی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سلمیٰ اعجاز کی انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کی ، اپیل کنندہ کے شوہر کو جیل میں سہولیات فراہم نہ کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا ہے ،لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ اعجاز چودھری سینیٹر ہیں لیکن اس کے باوجود اپیل کنندہ کے شوہر کو جیل مینول کے تحت بی کلاس میں نہیں رکھا گیا،اعجاز چوہدری کو سیاسی بنیادوں پر مقدمہ میں ملوث کیا گیا،ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ کو اعجاز چوہدری کو بی کلاس کی اجازت کیلئے درخواست دی لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی،اعجاز چوہدری کو جیل میں بی کلاس فراہم کی جائے اپیل پر مزید سماعت 7 اگست کو ہوگی

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

  • فوجی عدالتیں،102 افراد کی فہرست سپریم کورٹ میں پیش

    فوجی عدالتیں،102 افراد کی فہرست سپریم کورٹ میں پیش

    سپریم کورٹ: فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان عمرعطاء بندیال کی سربراہی میں 6 رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان روسٹرم پر آگئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے سامنے فیصل صدیقی کی فل کورٹ کیلئے درخواست ہے، ایک درخواست خواجہ احمد حسین کی بھی ہے،وکیل جواد ایس خواجہ نے کہا کہ میرے موکل چاہتے ہیں کہ ان کے نام کے ساتھ چیف جسٹس نہ لگایا جائے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم اسی وجہ سے ان کی عزت کرتے ہیں، فیصل صدیقی کے آنے تک خواجہ احمد حسین کو سن لیتے ہیں،وکیل خواجہ حسین احمد وکیل درخواست گزارنے کہا کہ میرے موکل سابق چیف جسٹس ہیں ،میرے موکل کی ہدایت ہے کہ عدالت میرے ساتھ خصوصی برتاوکی بجائے عام شہری کی طرح کرے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ گوشہ نشین انسان ہیں، سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی آئینی درخواست غیر سیاسی ہے، کیا فیصل صدیقی صاحب چھپ رہے ہیں،

    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے فوج کی تحویل میں موجود 102 افراد کی فہرست عدالت میں پیش کردی ،فہرست کے ساتھ نو مئی کو حملے کی جگہوں کا بھی بتایا گیا ہے ،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ زیر حراست سات ملزمان جی ایچ کیو حملے میں ملوث ہیں، تین ملزمان نے آرمی انسٹیٹیوٹ پر حملہ کیا، ستائیس ملزمان نے کور کمانڈر ہاوس لاہور میں حملہ کیا،چار ملزمان ملتان، دس ملزمان گوجرانوالہ گریژن حملے میں ملوث ہیں، آٹھ ملزمان آئی ایس آئی آفس فیصل آباد، پانچ ملزمان پی ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث ہیں،چودہ ملزمان چکدرہ محلے میں ملوث ہیں،سات ملزمان نے پنجاب رجمنٹ سینٹر مردان میں حملہ کیا،تین ملزمان ایبٹ آباد، دس ملزمان بنوں گریژن حملے میں ملوث ہیں،زیر حراست ملزمان کی گرفتاری سی سی ٹی وی کمیرے اوردیگر شواہد کی بنیاد پر کی گئی،

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ 9 مئی کے واقعات میں بہت سارے لوگ ملوث تھے،عدالت نے کہا کہ کس طرح فرق کیا گیا کہ یہ لوگ آرمی تنصیبات پر حملوں میں ملوث ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ فوجی مجسموں کو گرانے کے سلسلے کسی کو نہیں اٹھایا گیا کیونکہ یہ کسی جرم کی ذیل میں نہیں آتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو وہ لوگ ہیں جن کا کورٹ مارشل کیا جانا چاہیئے،ہمیں دیکھنا ہو گا کہ آپ کا دعوی سچائی پر مبنی ہے کہ نہیں، جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس درخواست میں ایک معاملہ اٹھایا گیا کہ جس طرح سویلینز کو تحویل میں لیا گیا وہ قانون کے مطابق نہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی ہم صرف آئین کی خلاف ورزی کے معاملے کو دیکھ رہے ہیں، جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پک اینڈ چوز کرنے کی قانون اجازت نہیں دیتا، اگر انکوائری ہوئی تو ریکارڈ پر کیوں نہیں ؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ پک اینڈ چوز نہیں کیا بہت احتیاط برتی گئی،جو لوگ براہ راست ملوث تھے انہیں ہی ملٹری کورٹس بھیجا گیا،کور کمانڈر ہاوس میں جو لوگ داخل ہوئے انہیں ملٹری کورٹس بھیجا گیا،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی انکوائری ہوئی ہے تو ریکارڈ پر کیوں نہیں ، اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ انکوائری ریکارڈ پر موجود ہے سر،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں کہ صرف ان افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جنہوں نے فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچایا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ کور کمانڈر ہاؤس کو نقصان پہنچانے والوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یعنی حکومت ان 102 افراد کا حکومت کورٹ مارشل کرنا چاہتی ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ صرف تنصیبات کے اندر جانے والوں کو ہی حراست میں لیا گیا ہے، تمام گرفتار ملزمان کیخلاف براہ راست شواہد موجود ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی فورم پر شواہد پیش ہونا چاہیئے جو حکومتی دعوے کو پرکھ سکے،جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ قانون اجازت نہیں دیتا کہ مجمع میں سے صرف چند افراد کا انتخاب کیا جائے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سرگودھا میں مجسموں کو نقصان پہنچانے والے کسی کو فوج نے حراست میں نہیں لیا،فوجی تنصیبات اور گورنر ہاوس میں آگ لگانے اور توڑ پھوڑ کرنے والوں کو ہی پکڑا گیا ہے، جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجسٹریٹ کے آرڈر میں ملزمان کو ملٹری کورٹس بھیجنے کی وجوہات کا ذکر نہیں، جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ بظاہر لگتا ہے ملزمان کے خلاف مواد کے نام پر صرف فوٹو گراف ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ان سوالات پر آپ پوری طرح تیار نہیں ،ہمارے سامنے ابھی وہ معاملہ ہے بھی نہیں ہم نے معاملے کی آئینی حیشت کو دیکھنا ہے، وکیل فیصل صدیقی نے ایک درخواست اپنے موکل کی طرف سے فل کورٹ کی دی ہے، ہم پہلے فیصل صدیقی کو سن لیتے ہیں، فیصل صدیقی نے فل کورٹ بینچ کے تشکیل دینے کی درخواست پر دلائل شروع کردئیے،فیصل صدیقی نے عدالت میں کہا کہ حکومت کی جانب سے بنچ پر جو اعتراضات اٹھائے گے ہماری درخواست کا اس سے تعلق نہیں، پہلے میں واضح کرونگا کہ ہماری درخواست الگ کیوں ہے، سیاست دانوں اور وزراء کی جانب سے عدالتی فیصلوں کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے گئے،جب اداروں کے درمیان تصادم کا خطرہ ہو تو فل کورٹ بنانی چاہئے،فل کورٹ کا بنایا جانا ضروری ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کچھ ججز نے کیس سننے سے معذرت کی ہے تو فل کورٹ کیسے بنائیں،فیصل صدیقی نے کہا کہ اس کا جواب ایف بی علی کیس میں ہے،

    سپریم کورٹ کا فل کورٹ تشکیل دینے کی درخواستیں پہلے سننے کا فیصلہ
    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سپریم کورٹ ایک فیصلے میں قرار دے چکی ہے اگر ایک جج کیس سننے سے انکار کرے تو اسے وہ کیس سننے کا نہیں کہا جاسکتا ہے،عدالتی تاریخ میں ملٹری کورٹس کیسز فل کورٹ نے ہی سنے ہیں،حکومت کا سپریم کورٹ کیلئے توہین آمیز رویہ ہے،جسٹس یحیی آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جن تین ججز کی آپ بات کر رہے ہیں انہوں نے ملٹری کورٹس کیس سننے سے انکار نہیں کیا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ جس انداز میں عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اس کا حل نکالنا چاہیے، جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا دیگر درخواست گزاران کا بھی یہی موقف ہے، ،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں صرف اپنی بات کر رہا ہوں اگر کچھ ماہ کی تاخیر ہوجائے تو مسلہ نہیں،

    فل کورٹ بنے گا یا نہیں؟ سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر بنچ جلد کسی رائے پر پہنچ گیا تو 15 منٹ میں آگاہ کردیا جائے گا،اگر کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو کل مقدمے کی سماعت کریں گے،

    درخواست گزاروں کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے بھی فل کورٹ کی مخالفت کر دی ،سپریم کورٹ بار کے وکیل عابد زبیری نے بھی فل کورٹ کی مخالفت کر دی چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل شعیب شاہین نے بھی فل کورٹ کی مخالفت کر دی، اعتزاز احسن نے کہا کہ ہمیں اس بینچ پو مکمل اعتماد ہے ،عدالت نے تمام دستیاب ججوں کو بینچ میں شامل کیا تھا،دو ججوں کے اٹھ جانے کے بعد یہ ایک طرح کا فل کورٹ بینچ ہی ہے، میں خود 1980 میں 80 دیگر وکلاء کے ساتھ گرفتار ہور تھا،ہم مارشل لاء کے خلاف کھڑے ہوئے تھے دو ججز اٹھنے سے کوئی تنازعہ موجود نہیں 102 افراد کو ملٹری کے بجائے جوڈیشل حراست میں رکھا جائے ،اعتزاز احسن کے وکیل لطیف کھوسہ روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ ہم نے بھی فل کورٹ کا کہا تھا مگر دو ججز بینچ چھوڑ گئے اور ایک پر اعتراض کیا گیا،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں اعتزاز احسن کی حمایت کرتا ہوں کہ اس کیس کا جلد فیصلہ کیا جائے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر بینچ اس کیس میں جلد کسی رائے پر آجاتے ہے تو پندرہ منٹ میں آگاہ کردیا جائے گا ،اگر فیصلہ میں تاخیر ہوئی تو وکلا کو اگاہ کردیا جائے گا ہم ججز آپس میں مشاورت کریں گے ،اگر کسی نتیجے پر نہ پہنچے تو کل مقدمے کی سماعت کریں گے اگر آج تاخیر ہوئی تو دفتر آپکو آگاہ کردے گا

    چیف جسٹس کی سربراہی میں 6 رکنی بینچ کمرہ عدالت اٹھ گیا ،سول سوسائٹی کی جانب سے فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا کی گئی تھی

    سویلنز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل معاملہ ،مقدمہ فل کورٹ سنے گی یا موجودہ 6 رکنی بینچ محفوظ فیصلہ کل سنایا جائے گا ،رجسڑار سپریم کورٹ نے کیس کی کاز لسٹ جاری کردی ،کل دن بارہ بجے سپریم کورٹ کا چھ رکنی بینچ فیصلہ سنائے گا

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے ,تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہونے والے جلاؤ گھیراؤ،ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد دن بدن بے نقاب ہو رہے ہیں، واقعات میں ملوث تمام افراد کی شناخت ہو چکی ہے ،جناح ہاؤس لاہور میں حملہ کرنیوالے ایک اور شرپسند کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں شرپسند نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تحریک انصاف کا کارکن اور قیادت کے کہنے پر حملہ کیا ہے،

    تحریک انصاف کے کارکن شرپسند عاشق خان کو گرفتار کیا تھا جو جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ میں ملوث تھا، عاشق خان نے جلاؤ گھیراؤ کے دوران نہ صرف پاک فوج کے خلاف نعرے لگائے بلکہ کارکنان کو حملے کے لئے بھی اکسایا، عاشق خان نے حملے کے لئے لوگوں کا کہا کہ میں کورکمانڈر ہاؤس کی جانب گامزن ہوں اس پر حملہ کریں، عاشق نے اعتراف کیا کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری پر زمان پارک میں طے ہوا تھا کہ کورکمانڈر ہاؤس پر حملہ کرنا ہے حملے کی ہدایات ہمیں زمان پارک میں پہلے سے ملتی رہیں، جب سے پی ٹی آئی کی حکومت گئی پاک فوج کے خلاف ہماری ذہن سازی کی جاتی رہی تھی ہمارے ذہن میں فوج کے خلاف نفرت کو ابھارا جاتا رہا ہمارے ذہنوں میں فوج کیلئے نفرت بھری گئی ۔ یہی سوچ ہمیں کورکمانڈر ہاؤس لے گئی اور ہم حملہ آور ہو گئے

    جناح ہاؤس حملے میں مبینہ طور پر پی ٹی آئی کی قیادت ملوث ہے واقعہ کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کی آڈیو بھی لیک ہوئی تھیں، ایک شرپسند کا ویڈیو بیان سامنے آیا تھا جس میں شرپسند نے اپنے جرم کا اعتراف کیا حاشر درانی کا تعلق بھی لاہور سے ہی تھا اور اس نے ویڈیو بیان میں کہا کہ جناح ہاؤس میں دوران حملہ میں انقلاب کے نعرے لگاتا رہا جس میں انقلاب مبارک ہو اور آزادی مبارک ہو کے نعرے شامل تھے

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • نومئی واقعات،عمران خان کو جے آئی ٹی نے چوتھی بار طلب کر لیا

    نومئی واقعات،عمران خان کو جے آئی ٹی نے چوتھی بار طلب کر لیا

    نو مئی کو جناح ہاوس پر حملہ اور جلاو گھیراو کا معاملہ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم نے چیئرمین پی ٹی آئی کو طلب کرلیا

    چیئرمین پی ٹی آئی کو جمعہ کے روز طلب کیا گیا ہے،چیئرمین پی ٹی آئی کو تمام نامزد مقدمات میں طلب کیا گیا ہے،ر چِیئرمیں پی ٹی آئی کو جے آئی ٹی نے چوتھی مرتبہ طلب کیا ہے، عمران خان صرف ایک مرتبہ اب تک پیش ہوئے اور اس پیشی کے دوران جے آئی ٹی کے ممبران کو دھمکانے پر ان کے خلاف تھانہ قلعہ گجر سنگھ میں رپٹ درج ہے ،

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نومئی واقعات کیس میں جے آئی ٹی کے سامنے جب پیش ہوئے تھے تو اسوقت جے آئی ٹی کے سوالات کے جواب میں عمران خان نے تسلیم کر لیا کہ نو مئی کا واقعہ منظم منصوبہ بندی کے تحت ہوا،لیکن منصوبہ بندی کہیں اور ہوئی تھی، عمران خان جے آئی ٹی کے اراکین کو دھمکیاں بھی دیتے رہے،میں پھر آؤں گا،آپکو تمام کاروائیوں کا جواب دینا ہو گا

    میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان سے جے آئی ٹی نے جو سوال کئے اور عمران خان نے جواب دیئے، اندرونی کہانی سامنے آئی،عمران خان سے جو سوال کئے گئے اس میں عمران خان نے سوالات کے جواب دئے ساتھ ہی دھمکی بھی لگاتے رہے، عمران خان جے آئی ٹی کے سامنے ایک گھنٹہ رہے، جے آئی ٹی ایک ڈی آئی جی، ایک ایس ایس پی اور 4 ایس پیز پر مشتمل تھی،

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     مراد سعید کے گھر پر پولیس نے چھاپہ

    اوریا مقبول جان کو رات گئے گرفتار 

  • خدیجہ شاہ،یاسمین راشد،صنم جاوید،اعجازچودھری کے ریمانڈ میں توسیع

    خدیجہ شاہ،یاسمین راشد،صنم جاوید،اعجازچودھری کے ریمانڈ میں توسیع

    جناح ہاؤس حملہ اور جلاؤ گھیراؤ کا مقدمہ ،عدالت نے خدیجہ شاہ اور صنم جاوید سمیت دیگر کے جوڈیشل ریمانڈ میں 12 دن کی توسیع کردی

    عدالت نے خدیجہ شاہ اور دیگر کو 12 اگست کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا ،خدیجہ شاہ ،صنم جاوید سمیت دیگر کو جوڈیشل ریمانڈ ختم ہونے پر پیش کیا گیا تفتیشی افسر نے خواتین ملزمان کی جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کی استدعا کی اور کہا کہ مقدمہ کا چالان کی تیاری کے مرحلہ میں ہے مہلت دی جائے ،انسداد دہشت گردی عدالت کی جج عبہر گل خان نے سماعت کی ،ملزمان کے خلاف تھانہ سرور روڑ پولیس نے مقدمہ درج کررکھا ہے ملزمان پر جناح ہاؤس حملہ اور جلاؤ گھیراؤ کا الزام ہے

    اعجاز چوہدری کے جوڈیشل ریمانڈ میں 7 روز کی توسیع
    انسداد دہشت گردی عدالت ،نو مئی کو تھانہ شادمان کو نزر آتش کرنے اور توڑ پھوڑ کا معاملہ .پی ٹی آئی رہنما اعجاز چوہدری کے جوڈیشل ریمانڈ پر سماعت ہوئی ،عدالت نے اعجاز چوہدری کے جوڈیشل ریمانڈ میں 7 روز کی توسیع کر دی عدالت نے اعجاز چوہدری کو 7 اگست کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا، اعجاز چوہدری کو جوڈیشل ریمانڈ ختم ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا انسداد دہشت گردی عدالت کی ایڈمن جج عبہر گل نے سماعت کی اعجاز چوہدری اور دیگر کیخلاف تھانہ شادمان میں مقدمہ درج ہے ملزمان نے نو مئی کو تھانہ شادمان کو جلایا اور توڑ پھوڑ کی

    ڈاکٹر یاسمین راشد کے جوڈیشل ریمانڈ میں 4 دن کی توسیع
    شیر پاؤ پل پر اداروں کیخلاف تقریر اور جلاؤ گھیرا کا معاملہ عدالت نے ڈاکٹر یاسمین راشد کے جوڈیشل ریمانڈ میں 4 دن کی توسیع کر دی ،ڈاکٹر یاسمین راشد کو جوڈیشل ریمانڈ کی مدت ختم ہونے پرعدالت پیش کیا گیا تھا، عدالت نے یاسمین راشد کو 4 اگست کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا، دیگر مقدمات کو ساتھ ملانے کیلئے جوڈیشل ریمانڈ میں 4 دن کی توسیع کی گئی ،عدالت نے تفتیشی افسر کو آئندہ سماعت پر مقدمہ کا چالان پیش کرنے کا حکم بھی دیا، تھانہ سرور روڑ پولیس نے ڈاکٹر یاسمین راشد اور دیگر کیخلاف مقدمہ نمبر 97/23 درج کر رکھا ہے

    پولیس نے خدیجہ شاہ کے خلاف درج مقدمے میں کورکمانڈر ہاؤس لاہور پر حملے سے متعلق الزامات عائد کئے ہیں،خدیجہ شاہ جیل میں ہیں، امریکی حکام نے بھی خدیجہ شاہ سے ملاقات کی ہے، خدیجہ شاہ نے ایک ویڈیو بیان جاری کر کے معافی بھی مانگی تھی، خدیجہ شاہ کو عدالت پیش کیا گیا تا ہم وہ خاموش رہیں اور سوالوں کے جواب نہیں دیئے ، خدیجہ شاہ نے خود تھانے میں پیش ہو کر گرفتاری دی تھی ،انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں تحریک انصاف کی خاتون رہنما خدیجہ شاہ کو پولیس نے پیش کیا تو اس موقع پر خدیجہ شاہ کے منہ پر کپڑا ڈالا گیا تھا، خدیجہ شاہ نے ہاتھ میں تسبح پکڑ رکھی تھی،

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    عدالت نے خدیجہ شاہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کردیا

  • اعجاز چوہدری کو جیل میں بی کلاس کی سہولیات فراہم کرنیکی درخواست،سماعت ملتوی

    اعجاز چوہدری کو جیل میں بی کلاس کی سہولیات فراہم کرنیکی درخواست،سماعت ملتوی

    لاہور ہائیکورٹ: پی ٹی آئی رہنماء سینیٹر اعجاز چوہدری کو جیل میں بی کلاس کی سہولیات فراہم کرنےکی درخواست پر سماعت ہوئی

    دورکنی بنچ نے درخواست پر سماعت یکم اگست تک ملتوی کردی ،عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو ایڈشنل چیف سیکرٹری ہوم پنجاب کے فیصلے کی کاپی لف کرنے کی ہدایت کر دی، جسٹس شجاعت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک درخواست واپس لینے کی بنا پر دوسری درخواست کیسے قابل سماعت ہے ۔ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ پہلی درخواست ایڈشنل چیف سیکرٹری ہوم پنجاب سے رجوع کرنے کے لیے واپس لی ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم نے بی کلاس دینے کی درخواست مسترد کر دی۔

    جسٹس شجاعت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایڈشنل چیف سیکرٹری ہوم کے فیصلے کو چیلنج کیا ؟وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میں نئی درخواست لے کر آیا ہوں

    جسٹس شجاعت علی خان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سلمی اعجاز چوہدری کی درخواست پر سماعت کی ،یہ درخواست اعجاز چوہدری کی اہلیہ سلمی اعجاز نے اپنے وکیل مہر فیاض کےتوسط سے دائر کی ہے درخواست میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم، آئی جی جیل اور سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل کو فریق بنایا گیا، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ عدالت نے اعجاز چوہدری کو جیل میں بی کلاس کی سہولیات فراہم کرنے کی درخواست کا فیصلہ کرنے کی ہدایت کی۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم نے کسی قانونی جواز کےبغیر درخواست مسترد کردی۔ سینیٹر اعجاز چوہدری پر صرف الزام ہے وہ سزا یافتہ نہیں ہیں۔ اعجاز چوہدری سیاسی جماعت کے عہدیدار اور عمر رسیدہ شہری ہیں،نو مئی کے واقعات کے بعد درخواست گزار کےخاوند کو گرفتار کر کے جیل میں رکھا گیا ہے۔ جیل میں اعجاز چوہدری کو قانون کے مطابق سہولیات فراہم نہیں کی جارہی،اعجاز چوہدری کو جیل میں ادویات، کھانا فراہم کرنے سمیت سہولیات نہیں دی جارہی عدالت جیل حکام کو اعجاز چوہدری کو جیل میں بی کلاس جیل کی سہولیات فراہم کرنے کا حکم دے۔

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

  • جناح ہاؤس مقدمہ: چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتار کیا جائے یہ ضمانت کا کیس ہی نہیں ہے،اسپیشل پراسیکیوٹر

    جناح ہاؤس مقدمہ: چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتار کیا جائے یہ ضمانت کا کیس ہی نہیں ہے،اسپیشل پراسیکیوٹر

    لاہور: اسپیشل پراسیکیوٹر فرہاد علی شاہ کا کہنا ہے کہ جناح ہاؤس مقدمے کی تفتیش میں چیئرمین پی ٹی آئی قصور وار قرار پائے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی: جے آئی ٹی نے عمران خان کو قصوروار قرار دے دیا ہے جبکہ بتایا جارہا ہے کہ تفتیش کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان قصور وار پائے گئے ہیں خیال رہے کہ عمران خان 9 مئی کے واقعات کے حوالے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے تھے جس میں ان کو ویڈیوز بھی دیکھائی گئی تھی اور انہوں نے جے آئی ٹی کے سوالوں کے جواب دیئے تھے-

    لاہور میں میڈیا سے گفتگو کے دوران اسپیشل پراسیکیوٹر فرہاد علی شاہ نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی حد تک تفتیش مکمل کرلی گئی ہے، جناح ہاؤس مقدمے کی تفتیش میں چیئرمین پی ٹی آئی قصور وار قرار پائے گئے ہیں چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف ثبوت اکٹھے کرلیے گئے ہیں، وہ تمام کیسز میں گناہگار ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی کو اعانت جرم میں چارج کیا جا رہا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتار نہ کیا گیا تو ثبوت صفحہ مثل پر لانے میں رکاوٹ ہو گی لہٰذا چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتار کیا جائے یہ ضمانت کا کیس ہی نہیں ہے۔

    چترال :گلیشئیر پھٹنے سے بڑے پیمانے پر تباہی

    یاد رہے کہ اس سے قبل 9 مئی کے واقعات سے متعلق مقدمات میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونےکی اندرونی کہانی یہ تھی کہ جے آئی ٹی نے چیئرمین پی ٹی آئی سے 9 مئی سے متعلق سوالات کیے، جے آئی ٹی ایک ڈی آئی جی، ایک ایس ایس پی اور 4 ایس پیز پر مشتمل تھی، عمران خان ایک گھنٹہ اندر رہے اور ان سے تمام سوالات کا نفرنس روم میں کیے گئے۔

    کاروبار کے دوران انڈیکس میں 600 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ

    ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی ارکان کا عمران خان سے کہنا تھا کہ ہم آپ سے صرف پروفیشنل سوالات کریں گے۔ عمران خان سے سوال کیا گیا کہ 9 مئی کو پورے ملک میں جو ہوا اس کی پلاننگ تھی یا اتفاق ؟ اس پر چیئرمین پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ پلاننگ کہیں اور سے ہوئی اس سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ جے آئی ٹی جانب سے پوچھا گیا تھا کہ آپ کے لوگ کنٹونمنٹ میں کیوں گئے تھے؟ اس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ جب کمانڈر مجھے گرفتار کرے گا تو لوگوں نے وہیں جانا تھا-

    وکیل قتل کیس؛ عمران خان کی درخواست پر سماعت کرنے والا بینچ تبدیل کردیا گیا

  • خدیجہ شاہ،اعجاز چودھری و دیگر کے ریمانڈ میں توسیع

    خدیجہ شاہ،اعجاز چودھری و دیگر کے ریمانڈ میں توسیع

    جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ کا مقدمہ ،تحریک انصاف کی خواتین کارکنان خدیجہ شاہ ،صنم جاوید سمیت دیگر کو جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد عدالت پیش کر دیا گیا

    اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، خدیجہ شاہ کو قیدیوں والی گاڑی میں لایا گیا،نو مئی جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے مقدمات،ڈاکٹر یاسمین راشد ،اعجاز چوہدری ،خدیجہ شاہ ،عمر سرفراز چیمہ سمیت دیگر کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی، پولیس نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمان کے خلاف چالان تیاری کے مراحل میں ہے عدالت مہلت فراہم کرے ،عدالت نے پولیس کی استدعا کو منظور کرلیا

    عدالت نے ڈاکٹر یاسمین راشد کی کینٹ میں توڑ پھوڑ کے مقدمے میں 31 جولائی تک ریمانڈ میں توسیع کردی ،عدالت نے عمر سرفراز چیمہ ،خدیجہ شاہ ،اعجاز چوہدری سمیت دیگر کے جوڈیشل ریمانڈ میں 3 اگست تک توسیع کردی ،خدیجہ شاہ ،صنم جاوید سمیت دیگر کے خلاف تھانہ سرور روڑ میں جناح ہاؤس کا مقدمہ درج ہے ،میاں محمود الرشید کو جناح ہاؤس توڑ پھوڑ میں تھانہ سرور روڑ سمیت دیگر مقدمات میں پیش کیا گیا ،عمر سرفراز چیمہ کو عسکری ٹاور توڑ پھوڑ تھانہ گلبرگ کے مقدمے میں پیش کیا گیا ،اعجاز چوہدری کو تھانہ ریس کورس پولیس کے مقدمے میں پیش کیا گیا

    دوسری جانب جناح ہاؤس،عسکری ٹاور کیس میں گرفتار خدیجہ شاہ کی لاہور ہائی کورٹ میں درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی،خدیجہ شاہ سمیت 9مئی کےواقعات کے 96 ملزموں کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی،عدالت نے اسی نوعیت کی ضمانت کی تمام درخواستیں یکجا کرنے کی ہدایت کر دی،عدالت نے ضمانت کی تمام درخواستوں کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی،عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئےمتعلقہ حکام سے ریکارڈ اور جواب طلب کیا ہوا ہے ،جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں دو رکنی بنچ سماعت کی

    خدیجہ شاہ سمیت دیگر ملزموں نے نومئی کےمقدمات میں ضمانت پر رہائی کیلئے عدالت سے رجوع کیا ہے،خدیجہ شاہ کی جانب سے درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے حقائق کے برعکس ضمانت مسترد کی۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت ان درخواست ضمانت منظور کرے ،سابق وزیر خزانہ سلمان شاہ کی بیٹی خدیجہ شاہ نے سمیر کھوسہ ایڈووکیٹ کی وساطت درخواست ضمانت دائر کی،لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ گلبرگ پولیس اسٹیشن نے عسکری ٹاور میں آتش زنی اور توڑ پھوڑ کا مقدمہ درج کیا تھا جو پولیس کی جانب سے الزامات عائد کیے گئے ہیں وہ بے بنیاد ہیں خدیجہ شاہ کسی قسم کی توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث نہیں تھی،لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخؤاست میں درخواستگزار کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ عدالت عسکری ٹاور توڑ پھوڑ کیس میں بعد از گرفتاری ضمانت منظور کرے

    پولیس نے خدیجہ شاہ کے خلاف درج مقدمے میں کورکمانڈر ہاؤس لاہور پر حملے سے متعلق الزامات عائد کئے ہیں،خدیجہ شاہ جیل میں ہیں، امریکی حکام نے بھی خدیجہ شاہ سے ملاقات کی ہے، خدیجہ شاہ نے ایک ویڈیو بیان جاری کر کے معافی بھی مانگی تھی، خدیجہ شاہ کو عدالت پیش کیا گیا تا ہم وہ خاموش رہیں اور سوالوں کے جواب نہیں دیئے ، خدیجہ شاہ نے خود تھانے میں پیش ہو کر گرفتاری دی تھی ،انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں تحریک انصاف کی خاتون رہنما خدیجہ شاہ کو پولیس نے پیش کیا تو اس موقع پر خدیجہ شاہ کے منہ پر کپڑا ڈالا گیا تھا، خدیجہ شاہ نے ہاتھ میں تسبح پکڑ رکھی تھی،

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    عدالت نے خدیجہ شاہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کردیا

  • سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں سے متعلق درخواستیں، فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں سے متعلق درخواستیں، فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں سے متعلق خصوصی عدالتوں کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی
    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی،لارجر بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر شامل ہیں ،جسٹس یحیی آفریدی، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی،جسٹس عاٸشہ ملک بینچ کا حصہ ہیں ،سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عابد زبیری نے دلائل دیئے.وفاقی حکومت نے گزشتہ روز تحریری جواب جمع کروایا وفاقی حکومت نے ایک بار پھر فل کورٹ بنانے کی استدعا کی ہے

    وکیل صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ میں نے ایک متفرق درخواست دائر کی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں ،وکیل صدر سپریم کورٹ بار نے کہاکہ 1999 سپریم کورٹ میں لیاقت حسین کیس سے اصول طے ہے کہ فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل نہیں ہو سکتا ،میں نے اپنا جواب عدالت میں جمع کرا دیا ہے، پانچ نکات پر عدالت کی معاونت کروں گا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی رائے آنا اچھا ہوگا، عابد زبیری نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 83اے پر دلائل کا آغاز کروں گا، آرٹیکل 83A کے تحت سویلینز کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں نہیں ہوسکتا،

    عابد زبیری نے کہا کہ سوال ہے کہ کیا آئینی ترمیم کے بغیر سویلینز کا فوجی عدالتوں ٹرائل ہوسکتا ہے،جسٹس یحیی آفریدی نے استفسار کیا کہ اپنا موقف واضح کریں کہ کیا ملزمان کا تعلق جوڑنا ٹرائل کے لیے کافی ہوگا؟ کیا آئینی ترمیم کے بغیر سویلینز کا ٹرائل ہو ہی نہیں سکتا؟ عابد زبیری نے کہا کہ سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل آئینی ترمیم کے بغیر نہیں ہوسکتا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ آپ کہہ رہے ہیں ملزمان کا تعلق ٹرائل کے لئے پہلی ضرورت ہے؟ آپ کے مطابق تعلق جوڑنے اور آئینی ترمیم کے بعد ہی سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہوسکتا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لیاقت حسین کیس میں آئینی ترمیم کے بغیر ٹرائل کیا گیا تھا،فوج سے اندرونی تعلق ہو تو کیا پھر آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں؟

    سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیس میں اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل کا آغاز کر دیا۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کے سامنے اکسیویں آئینی ترمیم اور لیاقت حسین کیس کو بھی زیر بحث لایا گیا،جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ
    سوال یہ ہے کہ سویلینز پر آرمی ایکٹ کا اطلاق کیسے ہوسکتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ لیاقت حسین کیس میں 9 رکنی بنچ تھا،عدالت کے 23 جون کے حکمنامے کو پڑھوں گا

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خوشی ہے آرمی کے زیرحراست افراد کو خاندان سے ملنے دیا جارہا ہے سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کی فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد کردی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسوقت ججز دستیاب نہیں، فل کورٹ تشکیل دینا ناممکن ہے تمام ججز پر مشتمل بنچ بنانا تکنیکی بنیاد پر ہی ممکن نہیں تین ججز نے کیس سننے سے معذرت کی، کچھ ججز ملک میں نہیں ہیں،جسٹس اطہر من اللہ ملک سے باہر ہیں،ہم آپ کو تفصیل سے سننے کیلئے وقت دیں گے

    ‏وفاقی حکومت کی فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد‏ کر دی گئی، عرفان قادر نے روسٹرم پر آکر بات کرنے کی کوشش کی جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ محترم آپ مہربانی فرما کر بیٹھ جائیں آپ کو بعد میں سنیں گے،سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیخلاف کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی

    وفاقی حکومت نے آرمی عدالتوں کیخلاف درخواستوں پر سپریم کورٹ میں جواب جمع کروایا جس میں کہا گیا ہے کہ دفاعی تنصیبات اور فوجی دفاترپر حملہ براہ راست قومی سلامتی کا معاملہ ہے، غیرملکی طاقتیں پاکستان کی قومی سلامتی اور فوج کو کمزور کرنا چاہتی ہیں، کلبھوشن جادھو اور شکیل آفریدی کے واقعات اس بات کے ثبوت ہیں۔

    سینئر قانون دان اعتزاز احسن اور لطیف کھوسہ نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کی ہے، لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ملٹری کورٹس سولین کے ٹرائل نہیں کر سکتے عابد زبیری صاحب کے دلائل مکمل ہوئے عابد زبیری نے بھی ہمارے موقف کو دوہرایا کہ ملٹری کورٹس میں سویلین کے ٹرائل نہیں ہو سکتے آرٹیکل 8 میں 2ڈی کو قلعدم قرار دیا جائے یہ آرٹیکل 4 اور 9 کے خلاف ہیں اٹارنی جنرل کا خیال تھا کہ فل کورٹ بنائی جائے ہم نے خود استدعا کی کہ فل کورٹ بنائی جائے جسٹس عائشہ نے کہا کہ آپکو کیسے پتہ کہ چیف جسٹس نے بینج کی تشکیل میں سب سے مشاورت نہیں کی ہماری کوشش تھی کہ ججز میں تقسیم کو ختم کیا جائے سب مل کر بیٹھیں اور فیصلہ کریں چیف جسٹس نے واضح کیا کہ تمام میسر جج صاحبان کو بینج میں شامل کیا گیا دو جج صاحبان اپنی مرضی سے الگ ہوئے اور ایک پر اعتراض ہوا اٹارنی جنرل کے بیان سے واضح ہو گیا کہ حکومت نے اپنی شکست قبول کر لی ہے چیف جسٹس نے واضح کیا کہ ججز میسر نہیں ہیں جس کی وجہ سے فل کورٹ نہیں بن سکتی وفاقی وزیر کہتے ہیں تین جج صاحبان پر اعتراض ہے اور دوسری جانب فل کورٹ کی اپیل سمجھ نہیں آتی امید ہے کہ اس ہفتے اس کیس کا فیصلہ آ جائے گا کہ سویلین کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل ہو سکتا ہے کہ نہیں ہم کبھی خاموش نہیں رہے

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے ,تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہونے والے جلاؤ گھیراؤ،ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد دن بدن بے نقاب ہو رہے ہیں، واقعات میں ملوث تمام افراد کی شناخت ہو چکی ہے ،جناح ہاؤس لاہور میں حملہ کرنیوالے ایک اور شرپسند کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں شرپسند نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تحریک انصاف کا کارکن اور قیادت کے کہنے پر حملہ کیا ہے،

    تحریک انصاف کے کارکن شرپسند عاشق خان کو گرفتار کیا تھا جو جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ میں ملوث تھا، عاشق خان نے جلاؤ گھیراؤ کے دوران نہ صرف پاک فوج کے خلاف نعرے لگائے بلکہ کارکنان کو حملے کے لئے بھی اکسایا، عاشق خان نے حملے کے لئے لوگوں کا کہا کہ میں کورکمانڈر ہاؤس کی جانب گامزن ہوں اس پر حملہ کریں، عاشق نے اعتراف کیا کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری پر زمان پارک میں طے ہوا تھا کہ کورکمانڈر ہاؤس پر حملہ کرنا ہے حملے کی ہدایات ہمیں زمان پارک میں پہلے سے ملتی رہیں، جب سے پی ٹی آئی کی حکومت گئی پاک فوج کے خلاف ہماری ذہن سازی کی جاتی رہی تھی ہمارے ذہن میں فوج کے خلاف نفرت کو ابھارا جاتا رہا ہمارے ذہنوں میں فوج کیلئے نفرت بھری گئی ۔ یہی سوچ ہمیں کورکمانڈر ہاؤس لے گئی اور ہم حملہ آور ہو گئے

    جناح ہاؤس حملے میں مبینہ طور پر پی ٹی آئی کی قیادت ملوث ہے واقعہ کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کی آڈیو بھی لیک ہوئی تھیں، ایک شرپسند کا ویڈیو بیان سامنے آیا تھا جس میں شرپسند نے اپنے جرم کا اعتراف کیا حاشر درانی کا تعلق بھی لاہور سے ہی تھا اور اس نے ویڈیو بیان میں کہا کہ جناح ہاؤس میں دوران حملہ میں انقلاب کے نعرے لگاتا رہا جس میں انقلاب مبارک ہو اور آزادی مبارک ہو کے نعرے شامل تھے

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • میں پھر آؤں گا،عمران خان کی جے آئی ٹی اراکین کو دھمکیاں

    میں پھر آؤں گا،عمران خان کی جے آئی ٹی اراکین کو دھمکیاں

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نومئی واقعات کیس میں جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے،

    جے آئی ٹی کے سوالات کے جواب میں عمران خان نے تسلیم کر لیا کہ نو مئی کا واقعہ منظم منصوبہ بندی کے تحت ہوا،لیکن منصوبہ بندی کہیں اور ہوئی تھی، عمران خان جے آئی ٹی کے اراکین کو دھمکیاں بھی دیتے رہے،میں پھر آؤں گا،آپکو تمام کاروائیوں کا جواب دینا ہو گا

    میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان سے جے آئی ٹی نے جو سوال کئے اور عمران خان نے جواب دیئے، اندرونی کہانی سامنے آئی،عمران خان سے جو سوال کئے گئے اس میں عمران خان نے سوالات کے جواب دئے ساتھ ہی دھمکی بھی لگاتے رہے، عمران خان جے آئی ٹی کے سامنے ایک گھنٹہ رہے، جے آئی ٹی ایک ڈی آئی جی، ایک ایس ایس پی اور 4 ایس پیز پر مشتمل تھی،

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل
    پشاور ہائی کورٹ، سونے کے قیمتوں کے تعین پر سماعت
    اسمبلیاں تحلیل کرنے کی بجائے مدت پوری کرنے دینی چاہئے،نیئر بخاری
    واشنگٹن پاکستانی سفارتخانے کی پرانی عمارت کس نے خریدی؟
    نجی تعلیمی اداروں کو بلا معاوضہ پلاٹ الاٹ کرنے کا فیصلہ
    روپیہ کی قدر میں اضافے کو بریک، ڈالر ایک بار پھر مہنگا

    عمران خان سے سوال کیا گیا کہ 9 مئی کو پورے ملک میں جو ہوا اس کی پلاننگ تھی یا اتفاق ؟ اس پر عمران خان نے جواب دیا کہ پلاننگ کہیں اور سے ہوئی اس سے میرا کوئی تعلق نہیں ، پوچھا گیا کہ آپ کے لوگ کنٹونمنٹ میں کیوں گئے تھے؟ اس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ جب کمانڈر مجھے گرفتار کرے گا تو لوگوں نے وہیں جانا تھا ،پوچھا گیا کہ ثبوت ہیں کہ آپ نے انہیں مشتعل کیا اور احکامات دیے، اس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ سب لوگ اپنی مرضی سے ان مقامات پرگئے، اس دن جو ہوا سب ایک سازش تھی

    جے آئی ٹی نے چیئرمین پی ٹی آئی کو مختلف ویڈیوز اور تصاویر بھی دکھائیں لیکن انہوں نے ماننے سے ہی انکار کردیا اور کہا یہ میرے لوگ نہیں ، عمران خان کا کہنا تھا کہ میں واپس آؤں گا اور آپ کو اپنی ان تمام کارروائیوں کا جواب دینا ہوگا۔

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     مراد سعید کے گھر پر پولیس نے چھاپہ

    اوریا مقبول جان کو رات گئے گرفتار 

  • جناح ہاؤس حملہ کیس، عمران خان کو جے آئی ٹی نے طلب کر لیا

    جناح ہاؤس حملہ کیس، عمران خان کو جے آئی ٹی نے طلب کر لیا

    جناح ہاؤس حملہ کیس، جے آئی ٹی نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو آج طلب کرلیا،

    جے آئی ٹی نے 9 مئی کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہونیوالی ہنگامہ آرائی، جلاؤ گھیراؤ کیس، جناح ہاؤس پر حملے معاملے میں طلب کیا ہے عمران خان سہہ پہر 4 بجے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کے سامنے پیش ہوں گے جے آئی ٹی اس سے قبل بھی دو مرتبہ چئیرمین پی ٹی آئی کو طلب کرچکی ہے مگر وہ پیش نہیں ہوئے تھے، جے آئی ٹی نے آج تیسری بار عمران خان کو طلب کیا ہے

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     مراد سعید کے گھر پر پولیس نے چھاپہ

    اوریا مقبول جان کو رات گئے گرفتار 

    پولیس ذرائع کے مطابق ڈی آئی جی کامران عادل کی سربراہی میں بننے والی جے آئی ٹی نے عمران خان کو طلب کیا،عمران خان کو انویسٹی گیشن ہیڈکوارٹرز قلعہ گجر سنگھ میں طلب کیا گیا ہے جہاں جے آئی ٹی ان سے 9 مئی کے واقعات کے بارے میں تفتیش کرے گی۔ تاہم پولیس ذرائع نے بتایا کہ عمران خان متعدد تھانوں میں درج مقدمات میں نامزد ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق 9 مئی کے واقعات پر پنجاب حکومت نے 10 مختلف جے آئی ٹیزبنا رکھی ہیں۔

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں