Baaghi TV

Tag: جناح ہسپتال

  • جناح ہسپتال میں زیرعلاج امریکی خاتون ذہنی مریضہ قرار

    جناح ہسپتال میں زیرعلاج امریکی خاتون ذہنی مریضہ قرار

    کراچی کے جناح ہسپتال میں زیرعلاج امریکی خاتون اونیجا اینڈریو رابنسن کو ذہنی مریضہ قرار دے دیا گیا، خاتون میں بائی پولر ڈس آرڈر کی تشخیص ہوئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق جناح ہسپتال کے شعبہ نفسیات کے سربراہ ڈاکٹر چنی لال نے بتایا کہ ہسپتال کی طبی ماہرین کی ٹیم مسلسل مریضہ کا معائنہ اور ضروری ٹیسٹ کر رہی ہے، مختلف طبی ٹیسٹوں کے بعد خاتون میں نفسیاتی مسائل کی تصدیق ہوئی جس کے بعد انہیں مکمل طبی نگرانی میں رکھا گیا، اس کے علاوہ مریضہ کا ہیموگلوبن لیول انتہائی کم تھا جس کے باعث خاتون کو دو مرتبہ انتقال خون کے عمل سے گزارنا پڑا جب کہ مریضہ کو ہسپتال کا کھانا پسند نہیں اور وہ صرف فاسٹ فوڈ یا اپنی پسند کے کھانے آرڈر کرتی ہے۔

    بتایا جارہا ہے کہ پاکستانی نوجوان کی محبت میں کراچی آنے والی امریکی خاتون کی ذہنی حالت درست نہیں وہ بہکی بہکی باتیں کر رہی ہیں اور ان کے ہاتھوں پیروں میں پر سوجن بھی پائی گئی جس کے باعث اونیجا اینڈریو رابنسن کو جناح ہسپتال منتقل کیا گیا، خاتون کو ہسپتال کے شعبہ نفسیات میں رکھا گیا ہے جہاں ڈاکٹروں نے ان کا معائنہ کیا۔امریکی خاتون اونیجا اینڈریو رابنسن کے بیٹے جیرامیا اینڈریو رابنسن نے انکشاف کیا کہ ان کی والدہ کی ذہنی حالت درست نہیں، والدہ ذہنی مریضہ ہیں اور ان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہے، میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا والدہ پاکستان میں ہیں، والدہ ایک شخص اور اس کے اہلخانہ سے ملنے پاکستان آئی تھیں، انہوں نے دو ہفتے بعد واپس جانا تھا لیکن وہ واپس نہیں گئیں، ہم نے والدہ کی واپسی کا ٹکٹ بھی خریدا تھا لیکن وہ نہیں آئیں۔

    یاد رہے کہ دو بچوں کی ماں 33 سالہ اونیجا اینڈریو رابنسن سوشل میڈیا پر کراچی کے 19 سالہ ندال میمن سے محبت میں مبتلا ہونے کے بعد گزشتہ برس 11 اکتوبر 2024ء کو کراچی پہنچی تاہم ندال میمن کے والدین نے اپنے بیٹے کی امریکی خاتون سے شادی کرانے سے انکار کر دیا، جس کے بعد سے امریکی خاتون کراچی میں دربدر رہیں، اس دوران ان کے ویزے کی مدت ختم ہوئی اور ان کے پاس واپسی کا ٹکٹ بھی نہیں تھا، جس پر کراچی کی ایک این جی او نے ان کی امریکہ واپسی کے لیے ٹکٹ اور مالی مدد بھی فراہم کی لیکن انہوں نے واپس جانے سے انکار کر دیا۔

    طالبان نے خواتین کے ریڈیو اسٹیشن بیگم کو بند کروا دیا

  • جناح اسپتال ، پولیس کی حراست سے خطرناک قیدی فرار

    جناح اسپتال ، پولیس کی حراست سے خطرناک قیدی فرار

    کراچی کے جناح اسپتال سے جیل پولیس کی حراست سے قیدی فرار ہوگیا۔

    پولیس کے مطابق ملزم آغا سلمان گزشتہ روز دوپہر ڈیڑھ بجے جناح اسپتال سے فرار ہوا اور جیل پولیس نے کئی گھنٹوں بعد پولیس کو واقعے کی اطلاع دی۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم فرار ہوا یا کرایا گیا، حقیقت جاننے کیلئے تحقیقات شروع کر دی گئی ہے جبکہ کورٹ پولیس کے اہلکار کی مدعیت میں صدر تھانے میں مقدمہ بھی درج کروا لیا گیا ہے۔پولیس نے یہ بھی بتایا کہ فرار ملزم کیخلاف پنجاب میں قتل اور کراچی میں بھی مقدمات درج ہیں جبکہ ملزم کے خلاف گھر پر قبضہ، خواتین کو حراساں کرنے، چوری اور منشیات فروشی کے مقدمات بھی درج ہیں۔اسی حوالے سے جیل پولیس کا مؤقف تھا کہ قیدی آغا سلمان کو علاج کے لیے کورٹ پولیس کے ذریعے جناح اسپتال بھیجا گیا تھا، کورٹ پولیس کے اہلکاروں کی مبینہ غفلت سے قیدی فرار ہوا، غفلت برتنے والے اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی جبکہ ہیڈ کانسٹیبل کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    نیوزی لینڈ، خالصتان کی آزادی کیلیے ریفرنڈم،ووٹنگ جاری

  • تنخواہوں کی عدم ادائیگی،جناح ہسپتال کراچی کے ڈاکٹرز کا 3 دن کا الٹی میٹم

    تنخواہوں کی عدم ادائیگی،جناح ہسپتال کراچی کے ڈاکٹرز کا 3 دن کا الٹی میٹم

    جناح اسپتال کراچی کے ڈاکٹرز نے انتظامیہ و محکمہ صحت کو تین دن کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ تنخواہیں جاری نہیں کی گئیں تو سروسز کا بائیکاٹ کریں گے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کے مطابق چار ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر جناح اسپتال کراچی کے ڈاکٹرز نے احتجاج کیا۔ڈاکٹرز نے انتظامیہ اور محکمہ صحت سندھ کو تین دن کا الٹی میٹم دے دیا اور کہا اگر بدھ تک تنخواہیں جاری نہیں کی گئیں تو اسپتال کی سروسز کا بائیکاٹ کریں گے۔
    مظاہرین نے کہا کہ ہمیں 4 ماہ سے تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی گئی، ہاؤس آفیسرز اور پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کو تنخواہیں نہیں دی گئی۔جناح اسپتال کے ینگ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ 4ماہ سے تنخواہیں نہیں مل رہی، سنگین ماہی بحران کا شکار ہیں گھر کے امور چلانا مشکل ہوگیا ہے، اس حوالے سے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو صورتحال سے آگاہ کرچکے ہیں۔
    مظاہرین نے کہا اسپتال انتظامیہ مسائل حل کرنے کیلئے سنجیدہ نہیں ہے، دوپہر 12 بجے کے بعد او پی ڈی سروس بند کردیں گے۔ینگ ڈاکٹرز نے کہا کہ اسپتال میں آنیوالے مریضوں کے لئے ایکسرے ،الٹرا ساونڈ ،ایم آر آئی سمیت مختلف ٹیسٹ چیلنج بن چکے ہیں، مریضوں کواسپتال میں ادویات تک فراہم نہیں کی جاتیں، جناح اسپتال کی ایمرجنسی میں بنیادی سہولتیں بھی نہیں۔

    پاک انڈونیشیا کے مابین گہرا رشتہ احترام اور اقدار پر مشتمل ہیں،گورنر سندھ

  • ایف آئی اے نے جناح اسپتال میں غبن کی تحقیقات شروع کردیں

    ایف آئی اے نے جناح اسپتال میں غبن کی تحقیقات شروع کردیں

    فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)نے جناح اسپتال میں غبن کی تحقیقات شروع کردیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے کی جانب سے جناح اسپتال کی ایڈمنسٹریٹو آفیسر کو نوٹس جاری کردیے گئے ہیں۔نوٹس میں کہا گیا ہے کہ جناح اسپتال کراچی کے ایڈمنسٹریٹیو افسر تمام ریکارڈ سمیت ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم کے افسر کے روبرو پیش ہوں۔ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ کشمیر روڈ پر گھر پر چھاپے کے دوران معصوم احمد نامی شخص سے پوچھ گچھ کی گئی، جس نے اسپتال کے لیے ممنوعہ اسمگل دوائیں، لینس خریدنے کا انکشاف کیا۔ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ غیرقانونی طور پر دواں، سرجیکل آلات کی خریداری میں 78 کروڑ روپے کا غبن ہوا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ این آئی سی ایچ میں دواں، سرجیل آلات کی خریداری میں 25 کروڑ کا غبن کیا گیا ہے۔جناح اسپتال کی جانب سے کمیشن اور کک بیکس کے لیے بلیک مارکیٹ سے ادویات خریدنے کا بھی انکشاف ہوا ہے، غیر قانونی کام میں ملوث گروہ میں محکمہ صحت کے افسران شامل ہیں۔اسپتال کی شعبہ خریداری کے ذمہ داران میں غیرقانونی دواں کے بیوپاری بھی شامل ہیں۔

    صدر مملکت کی کراچی میں ڈپٹی کمشنر ذاکر بلوچ شہید کے گھر آمد

    کراچی میں سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسیز مریضوں سے بھرنے لگیں

    کے الیکٹرک کی رات میں بھی لوڈ شیڈنگ جاری، شہری اذیت میں مبتلا

  • لڑکا اور لڑکی ہسپتال میں 18 سالہ لڑکی کی لاش چھوڑ کر فرار

    لڑکا اور لڑکی ہسپتال میں 18 سالہ لڑکی کی لاش چھوڑ کر فرار

    شہر قائد کراچی میں ایک لڑکا اور لڑکی ہسپتال میں 18 سالہ لڑکی کی لاش چھوڑ کر فرار ہو گئے، پولیس نے کاروائی شروع کر دی ہے

    پولیس کاروائی کرتے ہوئے اس گاڑی کے مالک تک پہنچ گئی جس گاڑی پر لاش ہسپتال لائی گئی تھی، پولیس کے مطابق گاڑی ندیم نامی شخص کی ہے، گاڑی کا مالک پرانا گولیمار کے علاقے میں رہتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ میں گاڑی کرائے پر دی گئی، گاڑی کے مالک نے کرائے پر کار لینے والے شخص کا پتہ دیا ہے،پولیس وہاں کاروائی کرے گی، کراچی میں لڑکی کی لاش ہسپتال چھوڑنے کے معاملے کی تفتیش کیلئے پولیس ٹیم گاڑی کے مالک کے گھر پہنچ گئی۔

    کراچی کے جناح ہسپتال میں لڑکا اور لڑکی ،ایک اٹھارہ سالہ لڑکی کو ہسپتال لائے اور ڈاکٹر کو کہا کہ اس کو چیک کریں،اسکی طبیعت خراب ہے تا ہم اسکے بعد وہ فوری غائب ہو گئے،ڈاکٹروں نے لڑکی کو چیک کیا تو اسکی موت ہو چکی تھی،لڑکی کی لاش ہسپتال میں لانے والوں کی تلاش جاری ہے، اس ضمن میں پولیس نے سی سی ٹی وی سے مدد لی اور گاڑی ٹریس کی اور گاڑی کے مالک تک پہنچی،پولیس حکام کے مطابق لڑکی کو لانے والی لڑکی نے اپنا نام سحرش بتایا تھا اور مریضہ لڑکی کا نام عائشہ لکھوایا تھا، ہسپتال میں لڑکی اور لڑکے نے بتایا تھا کہ کہ وہ اس لڑکی کو ڈی ایچ اے سے لائے ہیں، رپورٹس کے مطابق لڑکی کی موت زیادہ نشے کی وجہ سے ہوئی ہے،

    ایاز امیر کی بہو کا پوسٹمارٹم مکمل،سارہ کے قتل کی وجہ کا تعین نہ ہوسکا

    پہلے مارا، گھسیٹ کر واش روم لے گیا،ایاز امیر کے بیٹے نے سفاکیت کی انتہا کر دی

    سر پر ڈمبل مارا،آلہ قتل بھی خود برآمد کروایا،ایاز امیر کے بیٹے کیخلاف مقدمہ درج

     سارہ انعام کے والد انعام الرحمان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی ہے

    سارہ انعام قتل کیس،مرکزی ملزم شاہنواز امیر پر فرد جرم عائد

  • علی وزیرخرابی صحت کے باعث سینٹرل جیل سے جناح اسپتال منتقل

    علی وزیرخرابی صحت کے باعث سینٹرل جیل سے جناح اسپتال منتقل

    کراچی.: پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما علی وزیر کو سینٹرل جیل سے جناح اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : جیل پولیس کے مطابق پی ٹی ایم کے اسیر رہنما کو کمر میں درد اور بلڈ پریشر کی شکایت کے بعد پولیس کی بھاری نفری کی نگرانی میں جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔

    بینظیر بھٹو کے اصول ہمارے لئے ہمیشہ مشعل راہ رہیں گے،بلاول

    پولیس حکام کے مطابق علی وزیر کو علاج کی غرض سے بکتر بند میں اسپتال لایا گیا جب کہ ان کی حفاظت پر جیل پولیس کے علاوہ علاقہ پولیس کی بھی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔

    علی وزیر کو دسمبر 2020 میں پشاور سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اُن کے خلاف کراچی کے تھانہ سہراب گوٹھ میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ ان پر پی ٹی ایم کی ایک ریلی کے دوران ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز اور تضحیک آمیز تقریر کرنے جیسے الزامات عائد ہیں جس پر انھیں گرفتار کیا گیا تھا۔

    نومبر 2021 میں سپریم کورٹ نے ان کی درخواست ضمانت منظور کر لی تھی لیکن ان کے خلاف شاہ لطیف تھانے میں بھی ایک ایف آئی درج تھی جس کی بنیاد پر انھیں رہائی نہیں مل سکی تھی۔ شاہ لطیف تھانے میں درج ایف آئی آر کے لیے اُن کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی-

    عامر لیاقت کی قبر کشائی کا فیصلہ،سابقہ اہلیہ کا اپیل دائر کرنے کا اعلان

    میر کلام وزیر نے کہا تھا کہ علی وزیر کی ایک مقدمے میں ضمانت منظور ہوتی ہے تو دوسرا مقدمہ اور ایف آئی آر درج کر کے گرفتاری عمل میں لائی جاتی ہے۔

    پشتون تحفظ تحریک کیا ہے؟

    پشتون تحفظ تحریک پاکستان کے قبائلی علاقوں میں رہنے والے پشتونوں کی سماجی تحریک ہے جس کا آغاز مئی 2014 میں ہوا۔ اپنے آغاز میں اس تحریک کی بنیاد محسود تحفظ تحریک کے نام سے ہوئی جس کا مقصد جنگ سے متاثرہ وزیرستان اور سابق وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں زمینی مسماریوں کا خاتمہ اور سیکورٹی چوکیوں پر پشتونوں کی ذلت کی روک تھام کرنا تھا-

    جنوری 2018 ء میں نقیب اللہ محسود کی کراچی میں پولیس مقابلے کے دوران ماروائےعدالت ہلاکت کے بعد اس تحریک کو عروج ملا اس کی مقبولیت میں اضافہ ہونے کی وجہ سے اس کا نام "محسود تحفظ تحریک” سے تبدیل کر کے "پشتون تحفظ تحریک” رکھا گیا۔ اس تحریک کے سربراہ انسانی حقوق کے کارکن منظور پشتین ہیں جب کہ اہم رہنماؤں میں علی وزیر اور محسن داوڑ شامل ہیں-

  • لاہور میں بھی منکی پو کس کے دو کیسز رپورٹ

    لاہور میں بھی منکی پو کس کے دو کیسز رپورٹ

    لاہور: پاکستان میں بھی منکی پاکس کے دو کیسز سامنے آگئے ہیں-

    باغی ٹی وی :پاکستان میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) نے منکی پوکس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر ہیلتھ الرٹ جاری کیا ہے-

    باخبر ذرائع کے مطابق لاہور میں منکی پوکس کے دو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جو جناح ہسپتال میں زیر علاج ہیں متاثرہ افراد کو فی الحال الگ تھلگ کر دیا گیا ہے اور اور فی الحال ہسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں زیر علاج ہیں-

    منکی پاکس یورپ کے بعد امریکا پہنچ گئی،پہلا کیس رپورٹ

    واضح رہے کہ قبل ازیں پاکستان میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) نے ہدایت کی تھی کہ صحت عامہ سے منسلک تمام قومی و صوبائی حکام منکی پوکس کے مشتبہ متاثرین کی جانچ کے لیے ہائی الرٹ پر رہیں۔ جبکہ ایئرپورٹس سمیت داخلی راستوں پر مسافروں کی نگرانی کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔

    جاری کردہ الرٹ میں کہا گیا تھا کہ حفاظتی اقدامات کے لیے وقت پر تشخیص اہم ہے لہذا تمام سرکاری و نجی ہسپتال متاثرین کے علاج اور آئسولیشن (مریض کو تنہائی میں رکھنے) کے انتظامات کریں۔ این آئی ایچ نے یہ بھی وضاحت کی ہے فی الحال پاکستان میں منکی پوکس کا کوئی مصدقہ کیس موجود نہیں ہے۔

    دوسری طرف وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے صوبے میں ’منکی پوکس کے پھیلاؤ کے خدشے‘ کے پیش نظر محکمہ صحت کو چوکس رہنے کا حکم دیا تھا انہوں نے کہا تھاکہ ‘منکی پوکس کے مرض سے بچاؤ کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر فی الفور اختیار کی جائیں۔ ائیر پورٹس پر مسافروں کی سکریننگ کا موثر میکنزم وضع کیا جائے۔

    آئندہ دنوں میں مختلف ممالک میں منکی پاکس کے مزید کیسز بھی سامنے آسکتے ہیں،ڈبلیو ایچ او

    اس حوالے سے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا تھا کہ افریقہ کے باہر منکی پوکس کے پھیلاؤ پر قابو پایا جاسکتا ہے اور عام طور پر افریقہ میں اس کے متاثرین کی تشخیص نہیں کی جاتی۔ برطانیہ میں اب تک منکی پوکس کے 56 متاثرین سامنے آئے ہیں جن کی جلد پر دانے نکلتے ہیں اور انھیں بخار کی شکایت ہوتی ہے۔ یورپ، امریکہ اور آسٹریلیا میں اس کے متاثرین کی تشخیص ہوئی ہے۔

    ماہرین کو ڈر ہے کہ اس کے متاثرین کی تعداد بڑھ سکتی ہے لیکن وسیع پیمانے پر آبادی کو درپیش خطرہ کم بتایا گیا ہے مرکزی اور مغربی افریقہ کے دوردراز علاقوں میں یہ وائرس عام ہے۔

    ڈبلیو ایچ او نے کہا تھا کہ اب تک 12 ایسےممالک میں منکی پاکس کے کیسز سامنے آچکے ہیں جہاں اس سے پہلےیہ وائرس موجود نہیں تھارپورٹ ہونے والے کیسزمیں 92 مصدقہ اور 28 مشتبہ کیسز شامل ہیں خدشہ ہے کہ یہ وائرس دوسرے ممالک میں بھی پھیل سکتا ہے۔اس خدشے کے پیش نظر ان ممالک کی نگرانی بھی بڑھا دی گئی ہے جہاں ابھی تک یہ بیماری رپورٹ نہیں ہوئی اب تک کی معلومات کے مطابق یہ وائرس انسانوں سے دوسرے انسانوں کو قریبی جسمانی رابطے کے باعث لاحق ہو رہا ہے۔

    متعدی بیماریوں کے ماہر ڈبلیو ایچ او کے اہلکار ڈیوڈ ہیمن نے کہا تھا کہ اب یہ جنسی طور پر منتقل ہونے والے انفیکشن کی طرح پھیل رہا ہے اور دنیا بھر میں اس کی منتقلی کا خطرہ بڑھ گیا ہے انسانوں کا قریبی رابطہ اس وائرس کی منتقلی کا ذریعہ ہے۔ کیونکہ اس بیماری کے بعد پیدا ہونے والے مخصوص گھاؤ متعدی ہوتے ہیں بیمار بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے والدین اور طبی عملے کے افراد خطرے میں ہیں۔

    بہت سے کیسز کی نشاندہی جنسی صحت کے کلینکس میں کی گئی ہے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کہا تھا کہ وہ آئندہ دنوں میں منکی پاکس کے پھیلاؤ کو روکنے سے متعلق رہنمائی اور مشورے بھی فراہم کریں گے۔

    یہ بیماری منکی پوکس نامی وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے، جو چیچک جیسے وائرس کی شاخ میں سے ہے یہ زیادہ تر وسطی اور مغربی افریقی ممالک کے دور دراز علاقوں میں، ٹراپیکل بارش کے جنگلات کے قریب پایا جاتا ہےاس وائرس کی دو اہم اقسام، مغربی افریقی اور وسطی افریقی ہیں –

    موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ،لوگوں کی ننید کا دورانیہ کم ہو گیا

    ابتدائی علامات میں بخار، سر درد، سوجن، کمر میں درد، پٹھوں میں درد اور عام طور کسی بھی چیز کا دل نہ چاہنا شامل ہیں ایک بار جب بخار جاتا رہتا ہے تو جسم پر دانے آ سکتے ہیں جو اکثر چہرے پر شروع ہوتے ہیں، پھر جسم کے دوسرے حصوں، عام طور پر ہاتھوں کی ہتھیلیوں اور پاؤں کے تلوے تک پھیل جاتے ہیں دانے انتہائی خارش یا تکلیف دہ ہو سکتے ہیں۔ دانے میں بدلنے سے قبل یہ مختلف مراحل سے گزرتے ہیں اور بعد میں یہ دانے سوکھ کر گر جاتے ہیں لیکن بعد میں زخموں سے داغ پڑ سکتے ہیں انفیکشن عام طور پر خود ہی ختم ہو جاتا ہے اور 14 سے 21 دنوں کے درمیان رہتا ہے۔

    جب کوئی متاثرہ شخص کے ساتھ قریبی رابطے میں ہوتا ہے تو اس میں منکی پوکس پھیل سکتا ہے۔ یہ وائرس ٹوٹی اور پھٹی ہوئی جلد،سانس کی نالی یا آنکھوں، ناک یا منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہو سکتا ہےاسے پہلے جنسی طور پر منتقل ہونے والے انفیکشن کے طور پر بیان نہیں کیا گیا تھا، لیکن یہ جنسی تعلقات کے دوران براہ راست رابطے سے منتقل ہو سکتا ہے یہ بندروں، چوہوں اور گلہریوں جیسے متاثرہ جانوروں کے رابطے میں آنے سے بھی پھیل سکتا ہے یا وائرس سے آلودہ اشیاء، جیسے بستر اور کپڑوں سے بھی پھیل سکتا ہے۔

    برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق یہ ایک نایاب وائرل انفیکشن ہے جو اثرات کے اعتبار سے عام طور پر ہلکا ہوتا ہے اور اس سے زیادہ تر لوگ چند ہفتوں میں ٹھیک ہو جاتے ہیں وائرس لوگوں کے درمیان آسانی سے نہیں پھیلتا اور اس لیے اس کا بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کے حوالے سے خطرہ بہت کم بتایا جاتا ہے منکی پوکس کے لیے کوئی مخصوص ویکسین موجود نہیں ہے، لیکن چیچک کا ٹیکہ 85 فیصد تحفظ فراہم کرتا ہے کیونکہ دونوں وائرس کافی ایک جیسے ہیں۔

  • فرارملزم علاج معالجے کیلئے ہسپتال پہنچا اور پکڑا گیا

    فرارملزم علاج معالجے کیلئے ہسپتال پہنچا اور پکڑا گیا

    تھانہ کورنگی کی حدود لنک روڈ کورنگی نمبر ڈیرھ پولیس مقابلے میں فرار ہونے والے تین ملزمان میں دو لٹیرے بھائی ، عادی جرائم پیشہ گرفتار جن میں سے ایک زخمی حالت میں گرفتار

    امروز بوقت 12:05 بجے تین موٹر سائیکل سوار ملزمان اسلحہ کے زور پر لنک روڈ کورنگی نمبر ڈیرھ حدود تھانہ کورنگی عوام سے لوٹ مار میں مصروف تھے- پولیس پارٹی معمول کی پیٹرولنگ میں مصروف تھی جیسے ہی پولیس موبائل لنک روڈ کورنگی نمبر ڈیرھ پہنچی تو عوام سے اسلحہ کے زور پر لوٹ مار کرنے والے تین موٹر سائیکل سوار ملزمان نے پولیس کو دیکھتے ہی پولیس پارٹی پر فائرنگ شروع کردی- جس سے دو گولیاں پولیس موبائل کے سامنے والے شیشے پر لگی جس سے شیشے میں سوراخ ہوا- پولیس پارٹی کی جوابی فائرنگ سے موٹر سائیکل سوار ملزمان کا ایک پیچھے بیٹھا ایک ساتھی زخمی ہوا۔

    موٹر سائیکل سوار ملزمان عوام کی بھیٹر اور ٹریفک کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ھوگئے- مذکورہ واقعہ کا مقدمہ الزام نمبر 85/21 بجرم 353 /324/34 ت پ 7ATA تھانہ کورنگی میں درج کیا گیا تھا- زخمی ملزم بلغرض علاج معالجے کیلئے جناح ہسپتال پہنچا اور اپنی شناخت چھپانے کی کوشش کی اور بتایا کے مجھے شاہ لطیف ٹاون میں دوران ڈکیتی مزاحمت پر گولی لگی ہے اور ملزمان فرار ہوگئے ہیں- جناح ہسپتال سے ایم ایل او کی انٹری چلنے کے بعد تھانہ کورنگی کی پولیس پارٹی جناح ہسپتال پہنچی اور مذکورہ ملزم کو شناخت کیا گیا.

    ملزم کی شناخت ظفر خان ولد ہمیش گل کے نام سے ہوئی جسکا مزید کریمنل ریکارڈ چیک کیا گیا تو ملزم عادی جرائم پیشہ نکلا اور سے قبل بھی تھانہ شاہ لطیف ٹاون میں مقدمہ الزام نمبر 484/2020 بجرم دفعہ 6/9B منشیات برآمدگی میں گرفتار ہو چکا ہے- گرفتار زخمی ملزم کے دوسرے بھائی کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جسکی شناخت فرید گل ولد ہمیش گل کے نام ہوئی ہے جو کے عادی جرائم پیشہ ہے اور تھانہ صدر میں مقدمہ الزام نمبر 313/15 بجرم دفعہ 6/9A منشیات برآمدگی میں گرفتار ہو چکا ہے- گرفتار ملزم کی باقاعدہ گرفتاری تھانہ کورنگی میں مقدمہ الزام نمبر 85/21 بجرم 353 /324/34 ت پ 7ATA کے تحت عمل میں لائی گئی ہے-

    . گرفتار ملزمان سے دیگر ایک مفرور ساتھی کے بارے میں مزید تفتیش کی جارہی ہے.