Baaghi TV

Tag: جنرل ہسپتال

  • خواتین کا تندرست وتوانا ہونا صحتمند معاشرے کا اہم جزو ،پرنسپل پی جی ایم آئی

    خواتین کا تندرست وتوانا ہونا صحتمند معاشرے کا اہم جزو ،پرنسپل پی جی ایم آئی

    کسی بھی صحت مند معاشرے کی تشکیل اور توانا نسل کے لئے ضروری ہے کہ اُس سوسائٹی میں خواتین تندرست اور مکمل صحت مندہوں، بد قسمتی سے پاکستان میں لاکھوں خواتین خون کی کمی اور غذائی قلت کا شکار ہیں جس کی باعث اُن کی ساری عمر بیماری سے لڑتے گزر جاتی ہے۔اسی طرح ہمارے معاشرے کی پسماندہ روائیت یہ ہے کہ خاندان نورینہ اولاد کو بیٹیوں پر فوقیت دیتے ہیں اور لڑکیوں کو نظر انداز کر کے محض بیٹوں کو اچھی خوراک،لباس،غذااور اعلیٰ تعلیم کا حقدار سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے صنف نازک کے حقوق پامال ہوتے ہیں اور اُن کی صحت نظر انداز ہوجاتی ہے جس سے بہتر خاندان کی تشکیل نہیں ہو پاتی جبکہ دین اسلام میں مرد و خواتین انسانی حقوق کے اعتبار سے برابر ہیں۔

    ان خیالات کااظہار پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے لاہور جنرل ہسپتال میں "خواتین کے حقوق اور معاشرے کی ذمہ داریاں "کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔پروفیسرزہرہ خانم، پروفیسر نازلی حمید، ڈاکٹر مصباح جاوید، ڈاکٹر شبنم طارق، ڈاکٹر لیلیٰ شفیق اور نرسنگ سپرنٹنڈنٹ مسز میمونہ ستار نے بھی اس موقع پر اظہار خیال کیاجہاں خواتین ڈاکٹرز کی بڑی تعداد موجود تھی۔

    پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ ہمیں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اپنے گردوپیش کی سوچ کو بدلنے کے لئے آگاہی مہم اور عملی کوششیں کرنا ہوں گی تاکہ معاشرے میں خواتین کو اُن کا جائز مقام حاصل ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے اور بچوں کی تربیت میں ماں ہی کلیدی کردار ادا کرتی ہے،اس حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے خواتین کو اُن کے حقوق دلوانا ہوں گے تاکہ وہ خاندان میں برابر کا فرد بن کر اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں۔پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ ادارے میں ڈے کئیر سینٹرز کو مزید سہولتیں فراہم کی جائیں گی اور بریسٹ فیڈنگ کے لئے کاؤنٹر بنائے جائیں گے تاکہ یہاں کام کرنے والی خواتین کو عملی سہولتیں حاصل ہو سکیں۔

    میڈیا سے گفتگو میں پرنسپل پی جی ایم آئی کا کہنا تھا کہ خواتین کے حقوق کا سب سے بڑاعلمبردار دین اسلام ہے جس نے زندہ دفن ہونے والی بچیوں کو ماں بہن اور بیٹی کا معزز ترین رتبہ دیا اور ماؤں کے قدموں تلے جنت رکھی۔انہوں نے کہا کہ قبل از اسلام خواتین کو جنسی تسکین کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا لیکن پیغمبر اسلام نے اپنی تعلیمات کے لئے خواتین کو عروج ثریا تک پہنچا دیا،اب یہ معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ خواتین کو اُن کے حقوق جو انہیں خالق حقیقی نے عطا کیے ہیں واپس دلوائیں اور اُن کا تحفظ یقینی بنائیں جس میں سر فہرست عزت نفس کی بحالی اور صحت کی سہولیات تک خواتین کی رسائی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں پروفیسر الفرید ظفرنے کہا کہ بد قسمتی سے موجودہ صورتحال اس کے برعکس ہے اور معاشرے میں خواتین کو صحت کی مکمل سہولیات تک رسائی حاصل نہیں جس کی وجہ سے ہر سال دنیا بھر میں لاکھوں خواتین محض حمل اور زچگی کے دوران اپنی قیمتی جانیں گنوا بیٹھتی ہیں اور ان بدقسمت خواتین کی بڑی تعداد کا تعلق ترقی پذیر ممالک جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ پروفیسرالفرید ظفر نے کہا کہ خواتین کی دوران حمل دیکھ بھال اور صحت پر زیادہ توجہ دی جائے بالخصوص رورل علاقوں میں بسنے والی خواتین کو علاج معالجہ کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کی غرض سے آگاہی مہم وقت کا تقاضا ہے تاکہ دوران زچگی ماں اور بچے کی صحت کو محفوظ بنایا جا سکے۔

    سفید کوٹ پہننا اپنی زندگی دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے وقف کرنے کا عزم: پروفیسر الفرید ظفر

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

  • جنرل ہسپتال کاایک اوراہم اقدام "انفیکشن پریونشن اینڈ کنٹرول”کے نام سے آن لائن ایپ متعارف

    جنرل ہسپتال کاایک اوراہم اقدام "انفیکشن پریونشن اینڈ کنٹرول”کے نام سے آن لائن ایپ متعارف

    جنرل ہسپتال کاایک اور اہم اقدام، "انفیکشن پریونشن اینڈ کنٹرول” کے نام سے آن لائن ایپ متعارف

    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد الفرید ظفرنے کہا ہے کہ ہسپتالوں میں انفیکشن کی روک تھام، عام لوگوں کو حفظان صحت کے اصولوں کے بارے آگاہی اور احتیاطی تدابیر کے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کرنے کیلئے لاہور جنرل ہسپتال میں با ضابطہ طور پر ” انفیکشن پریونشن اینڈ کنڑول "کے نام سے آن لائن ایپ اور ویب سائٹ کا اجراء کر د یا گیا ہے جس میں ہاتھ دھونے سے لے کر آپریشن تھیٹر تک سٹرلائزیشن کے بارے میں اردو اور انگریزی میں تمام ضروری معلومات اپ لوڈ کی گئیں ہیں تاکہ شہری گھر بیٹھے اس ایپ سے استفادہ کر سکیں۔اس حوالے سے منعقدہ خصوصی تقریب میں عالمی ادارہ صحت جنیوا کے سینئر کنسلٹنٹ پروفیسر نظام دمانی،پروفیسر ارشد تقی، پروفیسر فیصل سلطان اور سی ای او ہیلتھ کئیر کمیشن ڈاکٹر ثاقب عزیز نے خصوصی شرکت کی۔ پروفیسر جودت سلیم اور ڈاکٹر آمنہ آصف نے ایپ سے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ اس ایپ سے میڈیکل پروفیشن سے وابستہ افراد اور عوام انفیکشن کے بارے اہم معلومات، روک تھام اور بچاؤ کے حوالے سے گائیڈ لائن حاصل کر سکتے ہیں کیونکہ انفیکشن سے پاک ماحول ہسپتالوں کے بنیادی ایس او پیز کا حصہ ہے تاکہ ہسپتال آنے والے مریض جلد صحت یاب ہو کر ڈسچار ج ہو سکیں اور کوئی نئی بیماری اپنے ساتھ نہ لے کر جائیں۔

    پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں عوامی سطح پر صحت عامہ کو مضبوط بنانے کیلئے پہلے ہی ایسے اقدامات کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ہمیں بھی جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہسپتالوں میں مریضوں کی بڑی تعداد اور بیڈز ایکوپنسی ریٹ کنٹرول کرنے کی غرض سے یہ امر اور زیادہ ضروری ہے کہ وہاں صفائی ستھرائی کا خصوصی خیال رکھا جائے اور اس سے ہیلتھ انڈیکیٹرز کوبھی مزید بہتر بنایا جائے جس کے لئے مذکورہ ایپ انتہائی مدد گار ثابت ہوگی۔ اس موقع پر لاہور کے مختلف میڈیکل کالجز کے پرنسپلز ، پروفیسرز،طب سے وابستہ افراد کی کثیر تعداد، ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم،ڈاکٹر عرفان ملک اور ڈاکٹر عبدزالعزیز و دیگر بھی موجود تھے۔ مقررین نے کہا کہ ویب سائٹ لانچ کرنے کا مقصد انفیکشن کنٹرول اور اس سے بچاؤ کیلئے ہیلتھ پروفیشن کے ساتھ شہریوں کو اُن کی دہلیز پر ضروری معلومات و احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرنا ہے تاکہ وہ اپنے ڈور سٹیپ پر ہی جس وقت چاہیں اس سے با آسانی استفادہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں کے آپریشن تھیٹرز،وارڈز،لانڈریز، بیڈ شیٹ،طبی آلات کو انفیکشن سے پاک رکھنا ہسپتال کے بنیادی ایس و پیز کا حصہ ہے جس کا ہمیں ہر حال میں خیال رکھنا ہوگا۔پروفیسر الفرید ظفر نے مزید کہا کہ گھریلو سطح پر بھی صفائی ستھرائی کو یقینی بنانے اور انفیکشن کی روک تھام کے لئے صابن سے ہاتھ دھونے کا طریقہ اور دیگر معلومات تک رسائی ہر شہری کا حق ہے تاکہ انفرادی سطح پر بھی لو گ اپنی صحت کا تحفظ کر سکیں اور ایک صحت مند معاشرہ وجود میں آئے۔

    بیٹے کی جانب سے اہلیہ کے قتل کے بعد ایاز امیر کا موقف بھی آ گیا

    پہلے مارا، گھسیٹ کر واش روم لے گیا،ایاز امیر کے بیٹے نے سفاکیت کی انتہا کر دی

    آج ہمیں انصاف مل گیا،نور مقدم کے والد کی فیصلے کے بعد گفتگو

    ویڈیو:ڈاکوؤں سے مقابلہ کے دوران شہید کانسٹیبل کی نماز جنازہ ادا

    ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم کا کہنا تھا کہ ایل جی ایچ نے مذکورہ ایپ کا اجراء کر کے عوامی سطح پر شعور و آگاہی پھیلانے کا اپنا فرض پورا کیا ہے اب یہ معالجین اور عوام کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایل جی ایچ کی انتظامیہ اور طبی ماہرین کی جانب سے شروع کی گئی آن لائن ایپ "انفیکشن پریونشن اینڈ کنٹرول(IPAC) "سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ ڈاکٹر عرفان ملک اور ڈاکٹر احمد نعیم نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ہسپتال آمدو رفت کے دوران سگریٹ نوشی سے اجتناب اور جگہ جگہ تھوکنے سے گریز کیا کریں،مریض سے مصافحہ کرتے وقت ہاتھ دھونا نہ بھولیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کی عادت کو اپنا لیں تو کئی بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ پرنسپل نے تقریب کے اختتام پر معزز مہمانوں کو شیلڈز پیش کیں اور ان کا شکریہ ادا کیا۔

  • جنرل ہسپتال سے اغواء ہونیوالے نومولود بچے کو قصور سے بازیاب کروا لیا گیا ہے ۔ڈی آئی جی انویسٹی گیشن

    جنرل ہسپتال سے اغواء ہونیوالے نومولود بچے کو قصور سے بازیاب کروا لیا گیا ہے ۔ڈی آئی جی انویسٹی گیشن

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایس ایس پی انویسٹی گیشن عمران کشور کی پریس کانفرنس کے دوران میڈیا نمائندوں سے گفتگو ہوئی ۔اس پریس کانفرنس میں ایس پی انویسٹی گیشن ماڈل ٹاؤن،ڈی ایس پیز، انچارج انویسٹی گیشن سمیت دیگر افسران نے شرکت کی ۔

    مزید تفصیلات کے مطابق جنرل ہسپتال سے اغواء ہونیوالے نومولود بچے کو قصور سے بازیاب کروا لیا گیا ہے ۔ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کامران عادل کی ہدایت پربچے کی بحفاظت بازیابی کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی

    اس حوالے سے سپیشل انویسٹی گیشن پولیس ٹیم نے نومولود بچے کی اغواء کار خاتون کو خاوند اور سہولت کار سمیت گرفتار کر لیا۔
    گرفتار ملزمان میں حفیظ اورنگزیب اس کی بیوی فوزیہ اورسہولت کار عبدالسبحان شامل، عمران کشور نے اس حوالے سے بتایا ۔

    ،ایس ایس پی انویسٹی گیشن سے پتا چلا کہ ملزمہ فوزیہ الصبح4بجے اپنے شوہر کے ساتھ جنرل ہسپتال گئی ۔پھر اس کے بعد ملزمہ نے اولاد نہ ہونے کے بہانے بچے کو پیار کرنے کا ڈرامہ کیا اور بچے کے لے کر رفو چکر ہو گئی،عمران کشور نے مزید بتایا ۔

    ایس ایس پی انویسٹی گیشن کے مطابق ملزمان کو قصور سے گرفتار کر کے بچے کو بحفاظت بایاب کروایا گیا۔،ایس ایس پی کے مطابق ملزمان اس سے قبل بھی جنرل ہسپتال سے بچہ چرانے کی کوشش کر چکے ہیں لیکن ناکام رہے ۔

    عمران کشور نے بتایا کہ ملزم عبدالحفیظ رابری کے 7 مقدمات میں ریکارڈ یافتہ بھی ہے،

    ایس پی انویسٹی گیشن ماڈل ٹاؤن زین عاصم کی سربراہی میں انچارج سی آر او حسین فاروق اور ان کی ٹیم،انچارج انویسٹی گیشن نشتر کالونی
    عدنان مسعود، انچارج انویسٹی گیشن کوٹ لکھپت غلام مرتضی ہمراہ ٹیم نے ملزمان کو گرفتار کر لیا ۔

  • جنرل ہسپتال میں اومیکرون کی تشخیصی سہولت فراہم، رپورٹ اسی روز ملے گی

    جنرل ہسپتال میں اومیکرون کی تشخیصی سہولت فراہم، رپورٹ اسی روز ملے گی

    جنرل ہسپتال میں اومیکرون کی تشخیصی سہولت فراہم، رپورٹ اسی روز ملے گی
    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفرنے بتایا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدار اور وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشدکی ہدایت پر کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون کی تشخیص کے لئے لاہور جنرل ہسپتال کی سینٹرل ریسرچ لیب میں مطلوبہ سہولت فراہم کر دی گئی ہے اور اس ٹیسٹ کی رپورٹ اسی روز متعلقہ فرد کو فراہم کر دی جائے گی جبکہ ایل جی ایچ میں اب تک کوویڈ 19کے 1لاکھ 37 ہزار 600 مریضوں کے بلا معاوضہ ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔پروفیسرالفرید ظفرکا کہنا تھا اگر مریض نجی لیبارٹریوں سے مذکورہ ٹیسٹ کرواتے تو مجموعی طور پر 89 کروڑ44 لاکھ روپے کے اخراجات برداشت کرنا پڑتے جبکہ یہاں یہ سہولت حکومتی خرچے پر بلا معاوضہ فراہم کی گئی ہے۔ اس موقع پر ایم ایس ڈاکٹر عامر غفور مفتی،ڈائریکٹر سینٹرل ریسرچ لیب ڈاکٹر غزالہ روبی، ڈاکٹر عبدالعزیز و دیگر بھی موجود تھے۔

    پروفیسرالفرید ظفرنے سینٹرل ریسرچ لیب کے سٹاف کی پیشہ وارانہ لگن اور محنت کو سراہتے ہوئے کہا کہ کورونا انتہائی متعددی وائرس ہے جو فوری طور پر دوسرے شخص کو منتقل ہو جاتا ہے لیکن لیب کے عملے نے اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے پوری دلجمعی کے ساتھ اپنے فرائض سر انجام دیے ہیں جو قابل ستائش اقدام ہے۔پرنسپل پی جی ایم آئی کا کہنا تھا کہ جنرل ہسپتال میں حکومتی اور محکمہ سپیشلائزڈ کے احکامات کی روشنی میں اومیکرون کی تشخیص کی سہولت بھی مفت فراہم کی جائے گی تاہم اس وبا ء کو دنیا بھر میں انتہائی خطرناک اور تیزی سے پھیلنے والا وائرس قرار دیا گیا ہے لہذا لوگوں کو چاہیے کہ وہ ایک مرتبہ پھر کورونا سے بچاؤ کے ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کریں تاکہ اس جان لیوا بیماری سے اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکیں۔ ایم ایس ڈاکٹر عامر غفور مفتی نے کہا کہ ماہرین نے کورونا ویکسین کی دونوں ڈوز لگوانے والے افراد کو تلقین کی ہے کہ وہ بوسٹر ڈوز لگوانا نہ بھولیں خصوصی طور پر ایسے افراد جو پہلے بھی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں یا ضعیف العمر ہیں انہیں اس حوالے سے خصوصی احتیاط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ کورونا کی نئی قسم اومیکرون سے خود کو اور اہل خانہ کو محفوظ رکھ سکیں۔

    میڈیا سے گفتگو میں پروفیسر الفرید ظفرنے کہا کہ گزشتہ دو سال سے ذرائع ابلاغ کے ذریعے بھرپور آگاہی مہم چلائی جا رہی ہے اور کورونا کے حوالے سے معلومات ہر شخص تک پہنچ چکی ہیں لہذا شہریوں کا فرض ہے کہ وہ اپنی قومی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے ماسک کا استعمال اور سماجی فاصلہ کا خیال رکھیں،ہجوم والی جگہ پر جانے سے گریز کریں اور مصافحہ کرنے کی بجائے اسلام و علیکم کہنے کو ترجیح دیں تاکہ ماضی میں کوویڈ 19سے نمٹنے کی طرح اومیکرون کا بھی احسن انداز میں سامنا کیا جائے اور پاکستان نے دیگر ممالک کے مقابلے میں جو بہتر کامیابی حاصل کی ہے اسے برقرار رکھا جا سکے۔

    گائے کا پیشاب پینے سے کرونا وائرس ہو گا ختم،ہندو مہاسبھا کے صدر کے علاج پر سب حیران

    وفاقی دارالحکومت میں بھی کرونا وائرس کا مشتبہ کیس سامنے آ گیا

    کرونا وائرس، بچاؤ کے لئے کیا کیا جائے؟ وفاقی کالجز کے پروفیسرزنے دی تجاویز

    کرونا وائرس سے کتنے پاکستانی چین میں متاثر ہوئے؟ ترجمان دفتر خارجہ نے بتا دیا

    کرونا وائرس ، معاون خصوصی برائے صحت نے ہسپتال سربراہان کو دیں اہم ہدایات

    اومیکرون،15 ممالک کے شہریوں پاکستان کا سفر نہیں کرسکیں گے

    پاکستان میں کرونا سے مزید 9 اموات

    برطانیہ میں اومیکرون کے پھیلاؤ میں تیزی

    پاکستان میں پہلےاومی کرون کیس کی تصدیق

    اومیکرون کا خدشہ ،برطانیہ سے پاکستان آنے والی پروازوں بارے نیا حکمنامہ

    کرونا کو معمولی قرار دینے والے کک باکسنگ کے سابق عالمی چیمپئین کی موت

    بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سارو گنگولی بھی کرونا کا شکار

  • زچگی کیلئے تربیت یافتہ گائناکالوجسٹ کی خدمات سے استفادہ کرنا چاہیے، ماہر گائناکالوجسٹ

    زچگی کیلئے تربیت یافتہ گائناکالوجسٹ کی خدمات سے استفادہ کرنا چاہیے، ماہر گائناکالوجسٹ

    جنرل ہسپتال میں 3 روزہ کلینکل کورس کا اختتام، صوبہ بھر سے سینئر گائنی ڈاکٹرز نے شرکت کی۔ پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا ہے کہ میڈیکل میں مہارت کیلئے تربیتی ورکشاپس کاانعقاد اور شرکت ضروری ہے ہیلتھ پروفیشنلز کی کامیابی غریب مریضوں کو صحت یابی سے ہمکنار کرنا ہے، ہرمریض وی آئی پی ہونا چاہیے
    ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کی صحت،خصوصاً حمل و زچگی کے معاملات کو سنجیدہ نہیں لیا جاتاجس سے پیچیدگیاں ہوتی ہیں
    سربراہ ایل جی ایچ کا کہنا ہے کہ زچگی کیلئے تربیت یافتہ گائناکالوجسٹ کی خدمات سے استفادہ کرنا چاہیے۔
    پاکستان کو ایک صحت مند قوم بنانے کیلئے زچہ و بچہ کی صحت پر خصوصی توجہ دینا ہو گی: ۔ پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج و معروف گائناکالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے کہا ہے کہ طب کے شعبہ میں اعلی ترین مہارت کے درجے پر پہنچنے کیلئے باقاعدگی کے ساتھ تربیتی ورکشاپس کا انعقاد و تحقیقی کام میں وقت لگانا اور سینئر اساتذہ ڈاکٹرز کے تجربات کی روشنی میں اپنی پیشہ وارانہ قابلیت میں مسلسل اضافہ انتہائی ضروری ہے تاکہ ینگ ڈاکٹرز بھی اُن کے نقش قدم پر چل کر دکھی انسانیت کی بہتر سے بہتر انداز میں خدمت کر سکیں۔ ان خیالات کا اظہارپرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر الفرید ظفر نے جنرل ہسپتال میں گائنی کے شعبے میں اعلی مہارت کیلئے منعقدہ 3 روزہ کلینکل ایگزیم کورس کے اختتامی سیشن کے شرکاء میں سرٹیفکیٹس تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ورکشاپ کا اہتمام جنرل ہسپتال کی گائنی یونٹ 2کی پروفیسر ڈاکٹر فائقہ سلیم بیگ نے کیا تھا جس میں صوبہ بھر سے ایم ایس، ایف سی پی ایس اور ایم سی پی ایس کرنے والے ڈاکٹرز کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ دوران ورکشاپ ملک کے مایہ ناز گائناکالوجسٹس نے نوجوان ڈاکٹروں کو لیکچرز بھی دیے اور ان کو جدید طریقہ علاج کے بارے میں روشناس کروایا۔پرنسپل علامہ اقبال میڈیکل کالج پروفیسر عارف تجمل،پروفیسر محمد طیب،پروفیسر ارشد چوہان، پروفیسر روبینہ سہیل، پروفیسر عالیہ بشیر، پروفیسر ڈاکٹر مہرالنساء، پروفیسر ڈاکٹر فرح، پروفیسر فرحت ناز، پروفیسر نائلہ طارق، پروفیسر عاصمہ گل، ڈاکٹر لیلیٰ شفیق اور ڈاکٹر عائشہ افتخار نے لانگ اور شارٹ سرجری کے متعلق نوجوان ڈاکٹرز کو مستقبل کیلئے مفید معلومات فراہم کرنے کے ساتھ رہنمائی بھی کی اور سوال و جواب کے سیشن بھی ہوئے۔
    پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ ہیلتھ پروفیشنلز کے سامنے سب سے بڑی کامیابی غریب و نادار مریضوں کا علاج کر کے انہیں صحتیابی سے ہمکنار کرنا ہوتا ہے لہذا ڈاکٹر کیلئے ہر مریض کا درجہ وی آئی پی ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے خطیر بجٹ اور دیگر سہولیات کا ایک ہی بنیادی مقصد شہریوں کو بہتر علاج معالجہ کی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے جس کیلئے موجودہ حکومت تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تربیتی ورکشاپ میں آگاہی و معلومات کی فراہمی سے ڈاکٹرز کو آئندہ اپنے سالانہ امتحانات میں آسانیاں پیدا ہونگی اور وہ مکمل اعتماد کے ساتھ پیشہ وارانہ تعلیم کے امتحانات دے سکیں گے جس سے ان کی کامیابی کے امکانات زیادہ روشن ہو سکیں گے اور وہ عملی زندگی میں بہتر سے بہتر خدمات سر انجام دے سکیں گے۔
    صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں بعض سماجی اور روایتی اقدار کی وجہ سے خواتین اور بچوں کی صحت نظر انداز ہو رہی ہے اور خاندان کے افراد خواتین کی صحت،خصوصاً حمل و زچگی کے معاملات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے جس کی وجہ سے اکثر خواتین کو پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ہر سال ہزاروں خواتین حمل و زچگی کے دوران اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح نومولود بچوں میں بھی شرح اموات بہت زیادہ ہے لہذا پاکستان کو ایک صحت مند قوم بنانے کیلئے خواتین اور ماؤں کی صحت پر خصوصی توجہ دینا ہو گی۔ بالخصوص دیہی خواتین اور ان کے خاندانوں میں شعور بیدار کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ وہ غیر تربیت یافتہ دائیوں سے اپنی جانوں کو خطرات میں ڈالنے کی بجائے دوران حمل کسی مستند لیڈی ڈاکٹر یا کوالیفائیڈ ایل ایچ وی سے معائنہ کروائیں تاکہ وقت آنے پر کسی منفی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا ڈاکٹروں کی پیشہ وارانہ تربیت اور ان کی میڈیکل ایجوکیشن کو اپ ڈیٹ کرنے کیلئے پی جی ایم آئی و ایل جی ایچ مختلف تربیتی کورسز، سیمینار و ورکشاپ کا انعقاد آئندہ بھی کرتا رہے گاتاکہ انہیں زیادہ سے زیادہ معاونت مل سکے۔

  • لاہور جنرل ہسپتال کے ملازمین کی رہائشی کالونی کی تعمیر کے لیے سرکاری اراضی کی فراہمی

    لاہور جنرل ہسپتال کے ملازمین کی رہائشی کالونی کی تعمیر کے لیے سرکاری اراضی کی فراہمی

    پی جی ایم آئی و امیر الدین میڈیکل کالج کو زمین دینے کیلئے پنجاب حکومت سے رپورٹ طلب کی گئی ۔
    ایم این اے ڈاکٹر سیمی بخاری نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی، طبی اداروں کی مشکلات سے آگاہ کیا
    میڈیکل سٹوڈنٹس کے ہاسٹلز، جنرل ہسپتال ملازمین کی رہائشی کالونی کیلئے سرکاری اراضی کی نشاندہی کرنے کے احکامات جاری۔
    وزیر اعظم پاکستان نے امیر الدین میڈیکل کالج و پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کے کیمپس،میڈیکل سٹوڈنٹس کے لئے ہاسٹلز اور لاہور جنرل ہسپتال کے ملازمین کی رہائشی کالونی کی تعمیر کے لیے سرکاری اراضی کی فراہمی کی نشاندہی کے لئے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر سیمی بخاری کی درخواست پر صوبائی حکومت سے رپورٹ طلب کر لی۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر سیمی بخاری نے پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر کی دعوت پر لاہور جنرل ہسپتال کا دورہ کیا تھا جہاں ان کے علم میں یہ دیرینہ مسئلہ لایا گیا تھا اور انہوں نے اس کے حل کی یقین دہانی کروائی تھی۔ واضح رہے کہ ایم این اے ڈاکٹر سیمی بخاری نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے ملاقات کے دوران دونوں طبی اداروں کی بلڈنگ، طلباء و طالبات کے ہاسٹل اور ملازمین کی رہائشی کالونی کیلئے زمین فراہم کرنے کی استدعا کی تھی۔ وزیر اعظم سیکرٹریٹ کی طرف سے جاری ہونے والے اس مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ پنجاب حکومت اس ضمن میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کرے اور اس مسئلے کے حل کے لئے جلد از جلد کاروائی عمل میں لائی جائے۔
    پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر نے ڈاکٹر سیمی بخاری کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ واحد ادارہ ہے جہاں پاکستان کے علاوہ دیگر ملکوں سے بھی ڈاکٹرز سپیشلائزیشن کے لئے آتے ہیں اور اس ادارے کے فارغ التحصیل ڈاکٹرز دنیا بھر میں وطن عزیز کا نام روشن کرتے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ 2012میں امیر الدین میڈیکل کالج قائم ہوا دونوں میڈیکل اداروں کی عمارت، گریجویٹ و انڈر گریجویٹ میڈیکل سٹوڈنٹس کیلئے ہاسٹلز اور ایل جی ایچ ملازمین کی رہائشی کالونی نہ ہونے کے باعث خاصی مشکلات درپیش ہیں جس کا ازالہ کرنے کے لئے ایم این اے ڈاکٹر سیمی بخاری کی نشاندہی پر وزیر اعظم سیکرٹریٹ سے چیف سیکرٹری پنجاب کو مراسلہ بھجوا دیا گیا ہے۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ کسی التوا کے بغیر اس معاملے کے حل کی عملی کوششیں کی جائیں گی جو پی جی ایم آئی،امیر الدین میڈیکل کالج اور لاہور جنرل ہسپتال کے لئے خوش آئند امر ہوگا.

  • جنرل ہسپتال نے کینسر مریضوں کو نئی امید سے روشناس کروایا، پرنسپل پی-جی-ایم-آئی

    جنرل ہسپتال نے کینسر مریضوں کو نئی امید سے روشناس کروایا، پرنسپل پی-جی-ایم-آئی

    جنرل ہسپتال میں کینسر سے صحت یاب ہونے والے بچوں میں تحائف تقسیم، والدین خوشی سے نہال
    سرطان کے مرض میں مبتلا بچوں کو مفت طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں:پرنسپل پی جی ایم آئی

    پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ بچوں کو طویل عرصہ تک اپنا دودھ پلا کر خواتین بریسٹ کینسر میں بھی کمی لا سکتی ہیں-
    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفرنے کہا ہے کہ لاہور جنرل ہسپتال بچوں میں کینسر کے علاج معالجے کا منفرد ادارہ ہے جہاں تمام متعلقہ سہولیات بلا معاوضہ فراہم کی جاتی ہیں۔ اسی طرح بچوں کی آنکھوں کے سرطان کا علاج بھی ملک بھر میں صرف اسی علاج گاہ میں ہوتا ہے جہاں تمام جدید سہولیات ایک ہی چھت تلے دستیاب ہیں اور کسی بھی مریض کی ایک پائی بھی خرچ نہیں ہوتی۔

    ان خیالات کا اظہارپرنسپل پروفیسر الفرید ظفر نے بچہ وارڈ میں منعقدہ خصوصی تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے بتایا کہ اس سال کا تھیم” آئی ایم اینڈ آئی ول” ہے جس کا مقصد پر عزم،استقامت اور ثابت قدمی کی علامت ہے اور معالجین کے ساتھ ساتھ مریضوں کو بھی بیماری کے خلاف لڑنے اور کبھی ہار نہ ماننے کے مصمم ارادے کی تلقین دیتا ہے لہذا ہمیں مستقل مزاجی اور اللہ تعالیٰ پر یقین کے ساتھ علاج معالجہ جاری رکھنا چاہیے۔اس موقع پر پروفیسر محمد شاہد، پروفیسر آغاشبیر علی،پروفیسر محمد معین، ڈاکٹر آفتاب انور، ڈاکٹر ثناء ریاض، ڈاکٹر مزمل اعظم، نصرت طاہرہ،زنیرہ انور،شازیہ فاروقی اور ینگ ڈاکٹرز کے علاوہ بچوں کے والدین بھی شریک تھے۔ تقریب میں جنرل ہسپتال سے شفاء یاب ہو کر جانے والے کینسر کے مریض بچوں نے خصوصی طور پر شرکت کی اور اُن میں تحائف بھی تقسیم کیے گئے جبکہ بچوں کے والدین نے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کینسر کا مرض ایک مہلک بیماری ہے جس کے علاج معالجے پرلاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں جو غریب اور متوسط طبقے کیلئے نا ممکن ہے لیکن جنرل ہسپتال کے ڈاکٹروں، نرسز اور انتظامیہ نے انسانیت کی عظیم خدمت کرتے ہوئے ہمارے بچوں کو مفت طبی و تشخیصی سہولیات فراہم کر کے دل جیت لیے ہیں جن کیلئے ہمیشہ ہمارے دلوں سے دعائیں نکلیں گی۔

    پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر الفرید ظفر اور پروفیسر آغا شبیر علی کا مزید کہنا تھا کہ غیر متحرک زندگی گزارنا بھی کینسر کی وجوہات میں سے ایک ہے،30سال سے کم عمری میں بچوں کی پیدائش اور بچوں کو طویل عرصہ تک اپنا دودھ پلا کر خواتین بریسٹ کینسر میں بھی کمی لا سکتی ہیں۔ پاکستان کینسر کے شکار افراد کے حوالے سے ایشیا کا سر فہرست ملک ہے۔انہوں نے کہا کہ ابتدائی سطح پر تشخیص اور مناسب علاج کی سہولیات سے کینسر مکمل طور پر ختم کیا جا سکتا ہے اور عالمی ادارہ صحت کی طرف سے اس ضمن میں خبردار کیا جا چکا ہے کہ 2030تک دنیا بھر میں 3کروڑ سے زائد افراد کینسر کا شکار ہو جائیں گے لہذا کینسر کی وجہ بننے والے انفیکشنز سے بچاؤ کے ٹیکے لگائیں،ورزش کریں اور سادہ زندگی کو شعار بنائیں۔

    پروفیسر محمد شاہد و دیگر ڈاکٹرزنے تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ آج کے دور میں کینسر قابل علاج مرض بن چکا ہے تاہم اس مرض کی تشخیص کا سنتے ہی مریض و لواحقین کے ہوش اُڑ جاتے ہیں، مایوسی چھا جاتی ہے لیکن جنرل ہسپتال کے معالجین اور والدین کی مایوسی کو نئی امید سے روشناس کروایا ہے اور یہ بچے مکمل صحت کے ساتھ نارمل انسان کی طرح زندگی گزار سکیں گے۔تقریب کے اختتام پر صحافیوں کو کینسر کے مرض میں مبتلا بچوں کے لئے خصوصی تیار کردہ کچن بھی دکھایا گیا جس کا مقصد بچوں کو معیاری غذا کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ بچوں میں خون، گلٹی اور آنکھوں کے سرطان کیلئے سرگودھا، خوشاب،میانوالی، شیخوپورہ اور لاہور سمیت دیگر شہروں سے علاج کے لئے آتے ہیں۔تقریب کے اختتام پر کینسر کے مریض بچوں کی صحت کی بحالی کی خوشی میں کیک بھی کاٹا گیا