Baaghi TV

Tag: جنسی جرائم

  • حمزہ یوسف نے  ایلون مسک کو "دنیا کا سب سے خطرناک آدمی” قرار دے دیا

    حمزہ یوسف نے ایلون مسک کو "دنیا کا سب سے خطرناک آدمی” قرار دے دیا

    اسکاٹ لینڈ کے سابق رہنما حمزہ یوسف نے دنیا کے معروف کاروباری شخصیت ایلون مسک کو "دنیا کا سب سے خطرناک آدمی” قرار دے دیا ہے۔

    حمزہ یوسف نے اپنے بیان میں ایلون مسک کی تفرقہ انگیز بیان بازی کی سخت مذمت کرتے ہوئے ان سے فوری اور فیصلہ کن کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایلون مسک نہ صرف سوشل میڈیا پر غلط معلومات اور نقصان دہ نظریات پھیلا رہے ہیں، بلکہ جمہوریت کو بھی نقصان پہنچانے کے لیے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کر رہے ہیں۔حمزہ یوسف نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ یہ مسئلہ صرف ایک ٹوئٹ یا کسی فرد کے بارے میں نہیں ہے بلکہ یہ ایک وسیع تر عمل ہے جس میں طاقتور افراد اور بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کرکے تفرقہ انگیزی اور تعصب کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایلون مسک کی انتہائی دائیں بازو کے ساتھ ہمدردیاں ہیں جو مسلمان مخالف نفرت انگیزی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

    حمزہ یوسف کا کہنا تھا کہ اگر ایلون مسک 1930 کی دہائی میں ہوتے تو ان کے اعمال اور بیان بازی سے ایسا لگتا ہے کہ وہ اس وقت کے خطرناک دائیں بازو کی پاپولزم کو بڑھاوا دے رہے ہوتے۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ تاریخ میں ہم نے ہمیشہ دیکھا ہے کہ جب کسی کمیونٹی کے خلاف نفرت کو بے قابو ہونے دیا گیا، تو اس کے تباہ کن نتائج سامنے آئے۔حمزہ یوسف نے ایلون مسک پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ انہوں نے جمہوریت کو تباہ کرنے اور برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کا تختہ الٹنے کی کوشش کی۔ اس الزام کے تحت ایلون مسک نے برطانوی حکومت اور سیاست دانوں پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں، جن میں گرومنگ گینگ جرائم کو چھپانے کا الزام شامل ہے۔ ایلون مسک نے وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کی برطرفی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

    ایلون مسک کے یہ اشتعال انگیز بیانات، جن میں انہوں نے مہاجرین اور اسلام مخالف بیانات دیے، اور انتہائی دائیں بازو کی شخصیات کی کھلے عام حمایت کی، نے برطانیہ اور یورپ میں شدید ردعمل پیدا کیا ہے۔ ان کے بیانات پر بحث چھڑ گئی ہے، جس میں سوشل میڈیا کے کردار، آزادیٔ اظہار اور غیر ملکی اثر و رسوخ پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

    اس کے علاوہ، ایلون مسک نے برطانیہ میں جنسی جرائم سے متعلق ایک اور بحث چھیڑی، جب امریکی برطانوی سوشل میڈیا انفلوئنسر اینڈریو ٹیٹ کے بیان پر تبصرہ کیا تھا۔ اینڈریو ٹیٹ نے برطانیہ میں جرائم کو مسلمانوں سے جوڑا تھا، جس پر ایلون مسک نے اس بات کو درست قرار دیا۔ برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے ایلون مسک کی ان تنقیدوں کو مسترد کرتے ہوئے ان کی مخالفت کی تھی۔ ایلون مسک نے برطانیہ کی سیف گارڈنگ وزیر جیس فلپ پر بھی تنقید کی، اور ان پر گرومنگ گینگز کے خلاف قانونی کارروائی کرنے میں ناکامی کا الزام عائد کیا تھا۔

    ٹیکس نہ دینے والوں سے ٹیکس وصول کیا جائے گا، وزیراعظم

    توشہ خانہ ٹو کیس، بشریٰ کی عدم پیشی،عدالت کا اظہار برہمی

    لاس اینجلس میں آگ ،اداکارہ نورا فتیحی کیسے نکلیں؟

  • کم عمر لڑکیوں سے جنسی زیادتی،برطانیہ میں سات افراد پر فردجرم عائد

    کم عمر لڑکیوں سے جنسی زیادتی،برطانیہ میں سات افراد پر فردجرم عائد

    کم عمر لڑکیوں سے جنسی زیادتی کا کیس، برطانیہ میں سات افراد پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے

    برطانوی عدالت نے ملزمان محمد عمار، محمد ضمیر، عابد صدیقی، محمد سیاب، یاسرعجائیبی، طاہر یاسین اور رامین باری پر فرد جرم عائد کی ہے، ملزمان نے جن لڑکیوں سے جنسی زیادتی کی تھی انکی عمریں 11 سے 16 برس تھیں، ملزمان لڑکیوں کو چلڈرن ہاؤس سے لے کر گئے اور متعدد بار جنسی زیادتی کی.”‎شیفیلڈ کراؤن کورٹ نے نو ہفتے تک جاری مقدمے کی سماعت کے بعد ملزمان کو مجرم قرار دینے کا فیصلہ سنایا”۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق 2014 میں ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں رودرہیم میں 1997 سے لیکر 2013 تک برطانیہ میں مقیم پاکستانی افراد کے ایک گینگ کی طرف سے 1400 لڑکیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کے انکشاف کے بعد آپریشن اسٹوو وڈ کے نام سے تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا ،برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کے مطابق کمسن لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات سپر مارکیٹ، قبرستان، پارک، کار اور بچوں کی نرسری کے عقب سمیت مختلف مقامات پر ہوئے تھے،ایک بچی کو ہوٹل میں دو افراد نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا،

    قبل ازیں برطانیہ میں کم عمر لڑکیوں کو متعدد بار جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے 24 ملزمان کو سزا سنائی گئی ہے،جن ملزمان کو عدالت نے سزا سنائی وہ ویسٹ یارکشائر میں 1999 سے 2012 کے درمیان متعدد کم سن لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی، بدسلوکی اور اسمگلنگ کے مرتکب پائے گئے ہیں، اس کیس کی ابتدا 2018 میں 8 بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی تحقیقات کے دوران ان ملزمان کی گرفتاریوں سے ہوئی، تحقیقات کے دوران ملزمان کا پورا نیٹ ورک پکڑا گیا اور دیگر بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات بھی سامنے آئے،

    ٹاٹا موٹرز کی کینٹین میں سموسوں سے کنڈوم،تمباکو،پتھرنکل آئے،مقدمہ درج

    شادی کی ضد مہنگی پڑ گئی،ملزم نے خاتون کو پارک میں زندہ جلا دیا

    خبردار، حق خطیب سے بڑا فنکار آ گیا، سائنس ہار گئی،ہاتھ سے موبائل کی بیٹری چارج

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    سوشل میڈیا پر دوستی،پھر عریاں تصاویر،پھر زیادتی،کم عمر لڑکیاں‌بنتی ہیں زیادہ شکار

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    سوشل میڈیا پر رابطہ،دبئی ویزے کے چکر میں خاتون عزت لٹوا بیٹھی

    زبردستی دوستی کرنے والے ملزم کو خاتون نے شوہر کی مدد سے پکڑوا دیا

    دوران دوستی باہمی رضامندی سے جنسی عمل کو شادی کے بعد "زیادتی” قرار دے کر مقدمہ درج

    خاتون کو برہنہ کر کے تشدد ،بنائی گئی ویڈیو،آٹھ ملزمان گرفتار

  • پاکستانی سیاستدان پر برطانیہ میں جنسی جرائم کا مقدمہ

    پاکستانی سیاستدان پر برطانیہ میں جنسی جرائم کا مقدمہ

    پاکستانی برطانیہ جا کر بھی برے کاموں سے باز نہ آئے، پاکستانی سیاستدان پر برطانیہ میں کمسن بچوں سے جنسی جرائم کے الزام کا مقدمہ درج کیا گیا ہے

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے علاقے مانسہرہ کا سیاستدان محمد خرم خان برطانیہ گیا تو کمسن بچوں کے ساتھ بری حرکات کیں جس پر برطانیہ میں محمد خرم خان پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے،نجی ٹی وی کے مطابق محمد خرم خان کا تعلق معروف سیاسی گھرانے سے ہے، خرم خان کی عمر 60 برس ہے، وہ اپنے بیٹے کی لاگریجویشن کی تقریب میں شرکت کے لئے برطانیہ گئے تھے، لیکن مبینہ طور پر جنسی مقاصد کے لیے ایک بچے کے ساتھ مشغول ہوگئے اور جاسوسوں کے ہاتھوں پکڑے گئے

    کراؤن کورٹ میں استغاثہ نے جج کو بتایا کہ محمد خرم خان پر دو الزامات عائد کیے گئے ہیں ،ملزم نے 16 سالہ اور 17 سالہ بچی کو جنسی تعلقات کی پیشکش کی،ملزم محمدخرم خان کو بذریعہ ویڈیو لنک عدالت میں پیش کیا گیا، برطانیہ میں کم عمر نابالغ لڑکی کے ساتھ زبردستی جنسی تعلق قائم کرنے کے الزام میں کیس درج کیا گیا ہے

    سوشل میڈیا پر صارفین نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزم ،پاکستانی سیاستدان خرم خان کا تعلق تحریک انصاف سے ہے،سید عدنان بادشاہ کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کے سینئیر رہنما محمد خرم خان پر لندن میں بچوں سے مبینہ جنسی جرائم کے مقدمہ درج ،شہزادہ گستاسپ کے کزن نے 16 سالہ بچی اور 17 سالہ بچی کو سیکس کی آفر کی۔ تمام ثبوت عدالت میں پیش ۔ یہ وہی خاندان ہے جس نے نوازشریف سے حالیہ الیکشن میں دھاندلی کے زریعے سیٹ جیتا ہے۔

  • لفٹ کے بہانے بیوہ خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی،قبرستان میں بچے کے ساتھ بدفعلی

    لفٹ کے بہانے بیوہ خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی،قبرستان میں بچے کے ساتھ بدفعلی

    پنجاب میں خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں کمی نہ آ سکی

    سرگودھا میں بیوہ عور ت کو کار میں لفٹ دے کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا، نارووال میں اوباش گینگ خواتین سے زیادتی میں ملوث ہے، سرگودھا میں ہی قبرستان میں آٹھ سالہ بچے کو بدفعلی کو نشانہ بنا دیا گیا،پولیس نے واقعات کا مقدمہ درج کر لیا ہے

    سرگودھا میں بیوہ عورت کو کار میں لفٹ دے کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا، سرگودھا کے چک 85 جھال کے قریب تین کار سواروں نے چنیوٹ کی بیوہ عورت (ن) کو لفٹ دی اور باری باری زیادتی کا نشانہ بناتے ہوئے فرار ہو گئے۔ چک 90 جنوبی میں 8 سالہ بچے ناصر زبیر کو اوباش نے قبرستان کے قریب بدفعلی کا نشانہ بنایا اور فرار ہونے کی کوشش کی تا ہم بچے کی جانب سے چیخ و پکار کرنے پر اہل علاقہ نے ملزمان کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا،

    وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے نارووال کے علاقے بدو ملی میں اوباش گینگ کا خواتین سے زیادتی کے مبینہ واقعات کا نوٹس لیا ہے،وزیرِاعلیٰ مریم نواز شریف نے انسپیکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کرلی، وزیرِاعلیٰ مریم نواز شریف نےاوباش گینگ کی فوری گرفتاری کا حکم دیا اور کہا کہ عصمت دری میں ملوث سماج دشمن گینگ کو قرار واقعی سزا دلوائی جائے-

    لاہور میں ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن نے 2بچوں سے زیادتی کرنے والا ملزم استاد کو گرفتار کرا دیا، ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر بچوں سے بدفعلی کرنے کی اطلاع موصول ہوئی، استاد کی جانب سے بچوں کو بدفعلی کا نشانہ بنایا گیا ہے،جن کی عمریں 8 اور 9 سال ہیں۔ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن نے فوری پولیس کو موقع پر بھجوایا۔پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے ملزم کو حراست میں لے لیا۔

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

    سرکاری اداروں کا یہ کام ہے کہ کرپٹ افسران کو بچانے کی کوشش کرے؟چیف جسٹس برہم

  • بچوں سے جنسی جرائم  پر پرنسپل کو 15 برس قید کی سزا

    بچوں سے جنسی جرائم پر پرنسپل کو 15 برس قید کی سزا

    آسٹریلیا: الٹرا آرتھوڈوکس یہودی اسکول کے سابق پرنسپل کو دو طالب علموں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں 15 سال قید کی سزا سنائی ہے-

    باغی ٹی وی : اس سزا سے بہنوں ڈیسی ایرلِچ اور ایلی سیپر کی طرف سے انصاف کے لیے کئی دہائیوں سے جاری لڑائی کا خاتمہ ہو گیا ہے سزا سنائے جانے پرلیفر رو پڑی، ملکا لیفر کو اپریل میں 18 جنسی جرائم کا مجرم قرار دیا گیا تھا اس وقت ان کی عمر 37 اور 41 کے درمیان تھی جس میں 16 یا 17 سال کی عمر کے بچے کی عصمت دری اور غیر اخلاقی حملے شامل تھے اسے نو دیگر الزامات سے بری کر دیا گیا، جن میں بہن بھائیوں کی بڑی بہن نکول میئر کے خلاف پانچ الزامات بھی شامل ہیں۔

    تینوں بہنیں جمعرات کو وکٹورین کاؤنٹی کی عدالت میں تھیں جب جج مارک گیمبل نے ان کی سزا سنائی اور لیفر کو کم از کم 15سال قید کی سزا سنائی لیفر ذاتی طور پر وہاں نہیں تھی، اور اس کے بجائے میلبورن کیحفاظتی جیل ڈیم فلس فراسٹ سینٹر سے ویڈیو لنک کے ذریعے کارروائی دیکھی۔

    بھارت میں زیر تعمیر ریلوے پل گرنے سے 17 افراد ہلاک متعدد زخمی

    سابق پرنسپل، 56 سالہ لیفر نے تمام الزامات کے لیے قصوروار نہ ہونے کی استدعا کی تھی لیفر، جس کے پاس اسرائیلی شہریت بھی ہے، پر 2008 میں یہ الزامات سامنے آئے تھے، اسے 2021 میں اسرائیل سے آسٹریلیا کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

    تین بہنوں نے لیفر پر الزام لگایا ہے کہ اس نے انہیں میلبورن کے اسکول ، بند عملے کے دفاتر میں، اسکول کے کیمپوں میں اور لیفر کے گھر پر 2003 اور 2007 کے درمیان، جب وہ نوعمر تھے، جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھاعدالت نے لیفر کو ان میں سے دو کے خلاف جرائم کا مجرم پایا۔

    یوکرین کے ماسکو پرڈرون حملے،زیر تعمیر عمارت نشانہ

    شکایت کنندگان میں سے ایک نے فیصلےکے بعد عدالت کے باہر نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہماری توقعات بہت کم تھیں کیونکہ خواتین مجرموں کی بہت کم اطلاع دی جاتی ہے اور ہمارے پاس اس کے ثبوت کے لیے کچھ بھی نہیں ہے اور ہم صرف اس بات پر بہت شکر گزار ہیں کہ ہم نے اس عین لمحے میں درست محسوس کیا-

    بینک میں خواتین کے باتھ روم میں خفیہ کیمرے کا انکشاف

  • نادرا نے جنسی مجرموں کی قومی رجسٹری کا اجرا کر دیا

    نادرا نے جنسی مجرموں کی قومی رجسٹری کا اجرا کر دیا

    نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے پاکستان میں پہلی بار جنسی مجرموں کی قومی رجسٹری این ایس او آر کا اجرا کر دیا ہے-

    باغی ٹی وی: چیئرمین نادرا طارق ملک کے مطابق کسی بھی فرد کو ملازم رکھنے سے پہلے اس کا 13 ہندسوں کا شناختی کارڈ نمبر شارٹ کوڈ 7000 پر ایس ایم ایس کر کے تصدیق کی جا سکتی ہے کہ آیا وہ جنسی مجرم ہے یا نہیں۔ مجرم ہونے کی صورت میں اردو میں اس طرح کا جواب موصول ہو سکتا ہے: نام اور ولدیت۔ خبردار! یہ شخص ایک مجرم ہے، اسے بچوں کے قریب جانے کی اجازت نہ دی جائے-

    ہم نے اپنے اداروں کا تحفظ کرنا ہے اور ججز کے بگاڑ کو سیدھا کرنا ہے،مولانا فضل الرحمان

    جنسی جرائم میں سزایافتہ افراد کے اس ڈیٹا بیس کی بدولت شہری اور ادارے ملک بھر میں کسی بھی جگہ سے ایسے افراد کی شناخت اور ٹریکنگ کرسکتے ہیں جوبچوں اورخواتین کی بےحرمتی سمیت جنسی جرائم میں سزا یافتہ ہیں اس سلسلے میں قانون نافذ کرنے والے مختلف اداروں اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ روابط بھی قائم کر دئیے گئے ہیں جن کی بدولت اس رجسٹری میں براہ راست تازہ ترین معلومات کا اضافہ ہوتا رہے گا۔

    ہم نے اپنے اداروں کا تحفظ کرنا ہے اور ججز کے بگاڑ کو سیدھا کرنا …

    اس سہولت کا مقصد جنسی تشدد اور بدسلوکی کی روک تھام کے سلسلے میں شہریوں اور اداروں کو ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے جہاں سے وہ اپنی ضرورت کے مطابق فوری معلومات حاصل کر سکیں۔ شہریوں، ملازم رکھنے والے اداروں اور محکموں کو تصدیقی ایس ایم ایس کے ذریعے ایسے مجرموں کے بارے میں خبردار کر دیا جائے گا۔

    کراچی سے تحریک انصاف کو خدا حافظ کہہ دیا ،ملک سے جلد ان سیاسی …

  • بچوں کے جنسی جرائم کا مکمل خاتمہ کیا جائے،قومی اسمبلی اجلاس میں قرارداد منظور

    بچوں کے جنسی جرائم کا مکمل خاتمہ کیا جائے،قومی اسمبلی اجلاس میں قرارداد منظور

    بچوں کے جنسی جرائم کا مکمل خاتمہ کیا جائے،قومی اسمبلی اجلاس میں قرارداد منظور
    راجہ پرویز اشرف کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا

    وزیر مملکت خزانہ عائشہ غوث پاشا نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں آدھے کاروبار بغیر کسی ٹیکس چل رہے ہیں،پاکستانی ٹیکس پیئرز کو سوچنا چاہیے کہ ملک کی معیشت میں انکا حصہ ہونا چاہیے، ایف بی آر کو اپنی پالیسی بدلنے کی ضرورت ہے، ایف بی آر کو نئے ٹیکس نادہندگان کو رجسٹر کرنا چاہیے، ملک ڈیفالٹ ہونے کا کوئی خدشہ نہیں جب حکومت میں آئے تو ڈیفالٹ کے بادل منڈلا رہے تھےحکومت میں آئے تو آئی ایم ایف کا پروگرام بند تھا اب شروع ہو چکا ہے،

    قومی اسمبلی اجلاس،بچوں کے عالمی دن سے متعلق قرارداد پیش کر دی گئی قرارداد ن لیگ کی رکن قومی اسمبلی مہناز اکبر عزیز نے پیش کی ،قرارداد میں کہا گیا کہ بچوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، بچوں کے جنسی جرائم کا مکمل خاتمہ کیا جائے، بچوں کے جنسی جرائم کا مکمل خاتمہ کیا جائے، تعلیم ہر بچے کا آئینی حق ہے، صنفی امتیاز ختم ہونا چاہیے، ایوان بچوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق اقوام متحدہ کے چارٹر پر عمل درآمد کا احاطہ کرتا ہے،بچوں کے عالمی دن سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی،قرارداد میں مزید کہا گیا کہ ہم اپنے بچوں اور آنے والے نسلوں کو پرامن اور مہذب معاشرہ دینے کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں، بچے ہمارا سرمایہ ہیں اس سرمائے کو محفوظ معاشرہ فراہم کرنا ہمارا فرض ہے

    قومی اسمبلی اجلاس میں وقفہ سوالات ،وزیر تجارت نوید قمر نے تحریری جواب جمع کرواتے ہوئے کہا کہ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے تحت 2017 سے ایران سےمذاکرات جاری ہیں، ایران سے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت مذاکرات کے چار دور ہوچکے ہیں،ایران سے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت مذاکرات کا چوتھا دور 2019 میں ہوا، بینکنگ چینلز کی عدم موجودگی اور ایران پر پابندیاں عائد ہونے کے باعث تاخیر کا شکار ہوا،

    لڑکی بن کر لڑکوں کی نازیبا ویڈیوز بنا کر بلیک میل کرنیوالا ملزم گرفتار

    سال 2020 کا پہلا چائلڈ پورنوگرافی کیس رجسٹرڈ،ملزم لڑکی کی آواز میں لڑکیوں سے کرتا تھا بات

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    چائلڈ پورنوگرافی ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلانے کا کیس، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    چائلڈ پورنوگرافی میں‌ ملوث ملزم گرفتار،کتنی اخلاق باختہ ویڈیوز شیطان صفت کے پاس برآمد ہوئیں

    لڑکی کو نازیبا ،فحش تصاویر بھیجنے والا ملزم گرفتار

  • چندی گڑھ یونیورسٹی سانحہ — سیدرا صدف

    چندی گڑھ یونیورسٹی سانحہ — سیدرا صدف

    چندی گڑھ یونیورسٹی پنجاب (انڈیا) میں سانحہ پیش آیا ہے۔ایک طلبا نے مبینہ طور پر اپنے بوائے فرینڈ کے کہنے پر یونیورسٹی فیلوز کے ساٹھ سے زائد ایم ایس ایس تب بنائے جب وہ نہا رہی تھیں۔۔۔دعوی کیا جا رہا ہے کہ متاثرہ لڑکیوں میں سے کچھ نے خودکشی کی کوشش کی ہے۔۔جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے واقعہ تو قبول کیا ہے لیکن خود کشی کے کسی کیس سے انکار کیا ہے۔۔۔۔۔معاملے کی تحقیقات البتہ جاری ہیں۔۔۔انتہائی افسوسناک ہے کہ ایک لڑکی نے ہی دوسری لڑکیوں کی پرائیوسی پیسوں کے عوض بیچ دی۔۔

    سوشل میڈیا پر وائرل وڈیوز میں کچھ لڑکیاں بےہوش نظر آ رہی ہیں۔۔بھارتی میڈیا کے مطابق قریب آٹھ لڑکیوں نے خودکشی کی کوشش کی ہے۔۔ہو سکتا ہے کہ خودکشی نہ ہو ذہنی دباؤ کے باعث لڑکیاں بےہوش ہو رہی ہوں۔۔۔لیکن اصل معاملہ ہی ذہنی دباؤ اور خوف ہے۔۔۔

    پاکستان ہو یا بھارت ابھی تک جنسی جرائم میں خواتین وکٹم ہونے کے باوجود معاشرے کی سپورٹ نہیں حقارت برداشت کرتی ہیں۔۔۔آہستہ آہستہ معاشرہ بدل رہا ہے لیکن ابھی بھی منزل بہت دور ہے۔۔۔

    چونکہ جنسی جرائم واضح اکثریت کے ساتھ خواتین کے خلاف ہوتے ہیں تو انکو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ اس میں آپکا کوئی قصور نہیں ہے۔۔آپکی عزت کو کچھ نہیں ہوا بلکہ عزت اسکی خراب ہوئی جس نے جرم کیا ہے۔۔۔

    معاشرے میں مجموعی طور پر جنسی جرائم سے متاثرہ افراد کے حق میں سوچ پیدا ہونے سے انکے سروائیو کرنے کے چانسز بڑھ جاتے ہیں۔۔۔

    عامر خان ایک ریپ وکٹم خاتون سے گفتگو کر رہے تھے کہ زندگی کی طرف واپس کیسے آئیں۔۔ان خاتون نے بہت خوبصورت جواب دیا جو کچھ ردوبدل کے ساتھ کوٹ کر رپی ہوں۔۔

    "میری عزت میری شلوار میں نہیں تھی جو چلی گئی۔۔ عزت اسکی گئی جس نے جرم کیا۔۔۔میری عزت کیوں جاتی۔۔۔”

  • جنسی زیادتی کے مجرموں کی رکھی جائے گی تمام نقل و حرکت پر نظر

    جنسی زیادتی کے مجرموں کی رکھی جائے گی تمام نقل و حرکت پر نظر

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس سینیٹر محسن عزیز کی زیر صدارت آج پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    کمیٹی نے فوجداری قوانین (ترمیمی) بل، 2022 (پی پی سی میں نئے سیکشن 52B، 512، 513 اور 514 کا اضافہ اور سی آر پی سی کے شیڈول ٹو میں ترامیم) کا تفصیلی جائزہ لیا۔ مجوزہ بل قومی اسمبلی سے منظورِی کے بعد سینیٹ بھیجا گیا تھا۔ اس بل کا مقصد جبری گمشدگیوں کے گھناؤنے جرم کے مرتکب مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ہے تاکہ ان خاندانوں جن کے پیارے گمشدہ ہیں کُچھ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ سیکریٹری داخلہ کا کہنا تھا کہ مجوزہ بل پر مزید غور کےلیے جلد وزیر قانون کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا جائے گا اور اس کمیٹی کی رپورٹ آنے تک بل کو موخر کر دیا جائے۔ وزارت قانون کے عہدیداران کا موقف تھا کہ بل میں تجویز کی گئی ترامیم موجودہ قانون میں پہلے سے ہی موجود ہیں اور اس حوالے سے نئی قانون سازی کی ضرورت نہیں ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کمیٹی ممبران کی رائے کے مطابق بل پر بحث کو ایک مہینے کے لیے موخر کر دیا۔

    سینیٹر محسن عزیز کی طرف سے پیش کیے گئے انسداد عصمت دری (تحقیقات اور مقدمہ) (ترمیمی) بل، 2022 (نئی دفعہ 24A، 24B اور 24C کا اندراج) پر غور کیا گیا۔ بل کا مقصد جنسی جرائم میں ملوث افراد کی ملک کے اندر نقل و حرکت پر نظر رکھنا ہے تاکہ اس طرح کے لوگ ملک میں کسی دوسرے شہر میں جا کر دوبارہ ایسے جرائم کا ارتکاب نہ کر سکیں۔ وزیر مملکت برائے قانون سینیٹر شہادت اعوان نے صوبوں کی رائے لیے بغیر بل کی منظوری کی مخالفت کی۔ کمیٹی ممبران نے اکثریت کے ساتھ بل کو منظور کر لیا۔

    کمیٹی اجلاس میں سینیٹر فوزیہ ارشد کی جانب سے پیش کردہ اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری میٹرنٹی بینیفٹس (ترمیمی) بل، 2022 پر غور کیا گیا۔ کمیٹی ارکان نے مناسب بحث کے بعد بل کو متفقہ طور پر منظور کر لیا۔سینیٹر فوزیہ ارشد کی طرف سے متعارف کرائے گئے کیپيٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ترمیمی) بل2022 کا جائزہ لیا گیا۔ بل کا مقصد وفاقی دارالحکومت کے مختلف سیکٹرز میں ہاؤسنگ پراجیکٹس کی تکمیل میں تاخیر کے حوالے سے ذمے دار افراد اور سزا کا تعین کرنا ہے۔ سی ڈی اے اور چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے بل کی متعدد شقوں میں ترمیم کی درخواست کی گئی۔ چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ ان پراجیکٹس کے حوالے سےاس طرح کا طریقہ کار وضع کیا جائے کہ جاری منصوبہ جات کی تکمیل تک نئے منصوبے اور اسکیمز نہ شروع کی جائیں تا کہ پراجیکٹس کو بروقت گرانٹس جاری کی جا سکیں۔ کمیٹی ممبران نے ترامیم کے بعد بل کو منظور کر لیا۔

    رات بھر زیادتی کے بعد برہنہ حالت میں نرس کو سڑک پر ملزمان پھینک گئے

    دو کمسن لڑکیوں کو برہنہ کر کے گھمانے والے کیس میں اہم پیشرفت

    ماموں کی بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا گرفتار

    پانی پینے کے بہانے گھر میں گھس کر لڑکی سے گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

    کمیٹی کی سابقہ ہدایات کی روشنی میں شعبہ لائبریریز کو سیکٹر H-9 اسلام آباد منتقل کرنے کے حوالے سے سینیٹر فدا محمد خان کے پوچھے گئے سوال پر غور کیا گیا۔ چیف کمشنر اسلام آباد نے کمیٹی کو یقین دھانی کرائی کہ ایک ہفتے کے اندر متعلقہ شعبے میں ڈائریکٹر جنرل کو تعیناتی کر دی جائیگی۔ چیئرمین کمیٹی نے ہدایات دیں کہ ڈائریکٹر جنرل کی تعیناتی اور شعبے کی منتقلی سے ملازمین کی سینیارٹی متاثر نہیں ہونی چاہیے۔کمیٹی اجلاس میں سینیٹرز مولا بخش چانڈیو، سیف اللہ ابڑو، شہادت اعوان، فوزیہ ارشد، کامل علی آغا، دلاور خان، فدا محمد، چیف کمشنر اسلام آباد، سی ڈی اے اور وزارت داخلہ کے حکام نے شرکت کی

  • لارڈ نذیر احمد: دارالامرا کے سابق رکن بچوں پر جنسی حملے کے مجرم قرار

    لارڈ نذیر احمد: دارالامرا کے سابق رکن بچوں پر جنسی حملے کے مجرم قرار

    برطانیہ کی لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے دارالامرا کے سابق رکن لارڈ نذیر احمد کو ستّر کی دہائی میں دو بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے مرتکب قراردیئے گئے اوریوں آج ایک لمبی بحث بھی اپنے اختتام کو پہنچ گئی

    تفصیلات کے مطابق لارڈ احمد آف روتھرہیم کو ایک لڑکے کے خلاف سنگین جنسی حملے اور ایک کمسن لڑکی کے ریپ کی کوشش کرنے کا مجرم پایا گیا۔اس حوالے سے شیفیلڈ کراؤن کورٹ کو بتایا گیا کہ سلسلہ وار جنسی حملے روتھرہیم میں تب ہوئے جب وہ ٹین ایجر تھے۔

    برطانیہ کے ہاؤس آف لارڈز کے سابق رکن لارڈ نذیر کو 1970 کی دہائی میں نوجوان لڑکے پر سنگین جنسی حملے اور لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کی کوشش کرنے کا مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ایک خاتون نے شیفیلڈ کراؤن کورٹ کو بتایا کہ نذیر احمد، جو پہلے لارڈ احمد آف رودرہم تھے، نے اس پر اس وقت حملہ کیا جب وہ 16 یا 17 سال کے تھے لیکن وہ ان سے بہت کم عمر تھیں۔

    لارڈ نذیر نے اسی عرصے کے دوران ایک لڑکے پر بھی جنسی حملہ کیا اور انہیں عصمت دری کی کوشش کے دو الزامات کا مجرم پایا گیا۔

     

     

    2016 میں خاتون کے پولیس کے پاس جانے کے بعد اس نے متاثرہ مرد سے فون پر بات کی۔جیوری نے ان کی گفتگو کی ایک ریکارڈنگ سنی، جو اس شخص کے ای میل کرنے کے بعد ہوئی جس میں اس نے کہا کہ اس کے پاس ‘اس بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے کے خلاف ثبوت’ ہیں۔

    نذیر احمد پر ان کے دو بڑے بھائیوں 71 سالہ محمد فاروق اور 65 سالہ محمد طارق کے ساتھ فرد جرم عائد کی گئی تھی، لیکن دونوں کو مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے اَن فٹ سمجھا گیا۔

    خیال رہے کہ گذشتہ سال مارچ میں شواہد کے افشا میں مسائل کی وجہ سے پہلے مقدمے کی سماعت روک دی گئی تھی۔
    نذیر احمد نے نومبر 2020 میں ایک کنڈکٹ کمیٹی کی رپورٹ کے مندرجات کو پڑھنے کے بعد ہاؤس آف لارڈز سے استعفیٰ دے دیا تھا جس میں پتا چلا کہ انہوں نے اُن سے مدد مانگنے والی ایک مجبور عورت کے ساتھ جنسی استحصال کیا۔