Baaghi TV

Tag: جنوبی ایشیا

  • بلاول بھٹو کی فرانسیسی مندوب سے ملاقات بھارتی جارحیت علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے

    بلاول بھٹو کی فرانسیسی مندوب سے ملاقات بھارتی جارحیت علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے

    اقوام متحدہ میں فرانس کے مستقل نمائندے جیروم بونافون نے پاکستان کے اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد سے ملاقات کی، جس کی قیادت بلاول بھٹو زرداری کر رہے تھے۔

    ملاقات میں جنوبی ایشیا میں بھارت کی حالیہ فوجی کارروائیوں اور خطے میں بڑھتے ہوئے کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔بلاول بھٹو نے فرانسیسی مندوب کو بتایا کہ بھارت نے پہلگام حملے کا الزام بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر عائد کیا، جو خطرناک نتائج کا باعث بن رہا ہے۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے فوجی حملے، شہریوں کی ہلاکتیں، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔

    فرانسیسی نمائندے نے خطے میں امن و استحکام کے لیے فرانس کی حمایت کا یقین دلایا اور کہا کہ پاکستان اور بھارت کو مکالمے کے ذریعے تنازعات کا حل نکالنا چاہیے۔ انہوں نے صبر، بات چیت اور عالمی ذمہ داریوں کی پاسداری پر زور دیا۔

    مثالی قدم، ملیر جیل سے فرار قیدی کو ماں نے خود جیل حکام کے حوالے کر دیا

    سندھ طاس معاہدے کی معطلی خطے میں تناؤ بڑھا سکتی ہے، طارق فاطمی

    ملک بھر میں سونے کی قیمت میں آج بھی اضافہ

    امارات میں میڈیا قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے، پاکستانیوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت

  • جنوبی ایشیا میں تنازعات کسی بھی وقت قابو سے باہر ہو سکتے ہیں،جنرل ساحر شمشاد

    جنوبی ایشیا میں تنازعات کسی بھی وقت قابو سے باہر ہو سکتے ہیں،جنرل ساحر شمشاد

    سنگاپور : چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے خبردار کیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں کئی غیر حل شدہ تنازعات اب بھی متحرک ہیں جو کسی بھی وقت قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔

    سنگاپور میں شنگریلاڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین جنرل ساحرشمشاد مرزا نے کہا کہ ایشیا پیسیفک اکیسویں صدی کا جیو پولیٹیکل کاک پٹ بن چکا ہے، جہاں اسٹریٹیجک کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہےکرائسس مینجمینٹ میکنزم آج بھی کسی حد تک نازک، اور ادارہ جاتی سطح پر غیر مساوی ہے جس کی وجہ سے تنازعات کی شدت کم کرنے کے لیے مؤثر مکالمہ اور تعاون کا فقدان ہے۔

    انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ جنوبی ایشیا کو ایشیا پیسیفک کی استحکام سے متعلق مکالمے سے الگ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہاں تنازع کشمیر سمیت کئی بنیادی مسائل حل طلب ہیں،ایسے فعال تنازعات کسی بھی وقت بھڑک سکتے ہیں، جن سے نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سلامتی کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

    اسرائیل نے عرب وزرائے خارجہ کا مغربی کنارے کا دورہ روک دیا

    چیئرمین جوائنٹ چیفس نے کہا کہ پائیدار کرائسس مینجمنٹ کے لیے باہمی برداشت، واضح ریڈ لائنز اور مساوی رویہ ناگزیر ہےجب تک فریقین کو برابری کا درجہ نہیں دیا جاتا، کوئی بھی اسٹریٹجک فریم ورک مؤثر ثابت نہیں ہو سکتا ایڈہاک اقدامات ناکافی ہیں خطے کو ایسے ادارہ جاتی پروٹوکولز، فعال ہاٹ لائنز، کشیدگی میں کمی کے لیے طے شدہ طریقہ کار، اور مشترکہ کرائسس مینجمنٹ مشقوں کی ضرورت ہے۔

    چین ایشیا میں طاقت کا توازن بگاڑنے کی تیاری کر رہا ہے، امریکی وزیر دفاع

    جنرل ساحر نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت، سائبر حملے اور رئیل ٹائم بیٹل فیلڈ سرویلنس جیسے جدید حربے اسٹریٹجک فیصلوں پر گہرے اثرا ت ڈال سکتے ہیں، اس لیے کرائسس مینجمنٹ میکنزم میں ان جدید حقیقتوں کو شامل کیا جانا چاہیےعالمی سطح پر طاقت اور مفادات اب اخلاقیات، اصولوں، ریاستی خودمختاری، علاقائی سالمیت، انسانی حقوق اور انصاف جیسے اقدار سے بالاتر ہو چکے ہیں نظریاتی یا علاقائی اختلافات کو دبانے سے نہیں، بلکہ پُراعتماد مکالمے اور مؤثر اسٹریٹجک کمیونیکیشن سے ہی حل کیا جا سکتا ہے، غلط فہمیاں اور گمراہ کن معلومات کشیدگی کو ہوا دیتی ہیں، اس لیے اسٹریٹجک کمیونیکیشن کو بہتر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    پاکستان بھارت جنگ ہوئی تو میرے پاس کچھ نہیں ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

  • بھارت کی آبی جارحیت  سلامتی و امن کیلئے خطرہ ہے، خالد مقبول صدیقی

    بھارت کی آبی جارحیت سلامتی و امن کیلئے خطرہ ہے، خالد مقبول صدیقی

    متحدہ قومی موومنٹ پاکستان چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ بھارت کی آبی جارحیت جنوبی ایشیا اور عالمی دنیا کی سلامتی و امن کیلئے خطرہ ہے.

    باغی ٹی وی کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مرکز بہادرآباد پر چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے سینئر مرکزی رہنماں ڈاکٹر فاروق ستار، نسرین جلیل، انیس قائمخانی اور سید امین الحق کے ہمراہ پریس کانفرنس کی، ذرائع ابلاغ کے نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ آج کا بھارت ایک مذہبی جنونی ریاست ہے، یہ حقیقت دنیا کے سامنے عیاں ہوچکی ہے کہ بھارت نہ صرف اس پورے خطے بلکہ عالمی دنیا کی سلامتی اور امن کیلئے خطرہ ہے، پاکستان کے عوام نے کبھی کسی مذہبی جنونی کو اپنے سربراہ کو منتخب نہیں کیا جبکہ بھارت میں ایک دہائی سے زائد عرصے سے انتہا پسند ہندں کی سرکار ہے اسلئے بھارت اب ایک سیکولر اسٹیٹ کہلائے جانے کا جواز کھو چکا، انکا کہنا تھا کہ بھارت خطے میں نفرت کے بیج بو رہا ہے جو بڑی تباہی کا موجب ہوگا.

    مقبوضہ کشمیر کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ 07 لاکھ بھارتی فوج کی موجودگی میں مقبوضہ کشمیر ایک عقوبت خانہ بن چکا ہے، بھارت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور مظالم کے خلاف آواز بلند کرنا ہم سب کا عزم ہے، استصواب رائے کشمیری عوام کا عالمی حق ہے، اقوام متحدہ کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پر بھارت کو عالمی دہشتگرد ریاست ڈیکلر کرنا چاہیئے.

    بھارتی آبی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ عالمی بینک کی ثالثی سے ہونے والا بین الاقوامی معاہدہ ہے، جسے یکطرفہ طور پر ختم کرنے کی جرات مودی سرکار کے پاس نہیں، آج پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کے پیچھے پوری قوم کھڑی ہے، افواج پاکستان ملک کی داخلی اور خارجی سلامتی کے محافظ ہیں، ہم اپنے حصے کا صبر و تحمل دکھا چکے، اب باری اقوام متحدہ اور عالمی اداروں کی ہے کہ وہ بھارت کو بین الاقوامی معاہدوں کا پابند کرے.

    متحدہ قومی موومنٹ قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں بھارتی جارحیت کے خلاف قرارداد پیش کرے گی اور پاکستان کے 25 کروڑ عوام افواج پاکستان کے ہمراہ بھارتی جارحیت کا مقابلہ کریں گے، سینئر مرکزی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ کسی بھی واقعے کا الزام پاکستان پر لگا دینا بھارت کی فطرت ہے، سندھ طاس معاہدہ کی رو سے یہ طے پایا تھا کہ مغربی دریاں کا کنٹرول بھارت اور مشرقی دریاں کے 80 فیصد حصے پر پاکستان کا کنڑول ہے، ہر طرح کی بھارتی اشتعال انگیزی کی باوجود پاکستان صبر کا مظاہرہ کر رہا ہے، مودی سرکار کا مشن بھارتی عوام کو گمراہ کرنا ہے، اقوام عالم نوٹس لے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں.

    کشمیر میں لوگوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں اور یہاں تک کہ بھارتی حکومت نے سکھ رہنماوں کو کینیڈا تک جا کر نشانہ بنایا جبکہ آج بھارت نے پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کا عملی نمونہ پوری دنیا کے سامنے پیش کر دیا، ان اقدامات کے ساتھ مودی سرکار نے اپنی ریاست کو تباہی و بربادی کے راستے پر گامزن کردیا ہے جبکہ پاکستانی حکومت اور ریاست مثالی قومی یکجہتی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

    پہلگام بہانہ، بھارتی فورسزکانام نہاد آپریشن،1500سےزائد کشمیری گرفتار

    دوہرا معیار ایک گورکھ دھندہ .تحریر :عائشہ اسحاق

  • تنازعہ کشمیر،اس قضیہ کی آگ جوہری "فلیش پوائنٹ” میں بدلنے کا احتمال رکھتی ہے.وزیر خارجہ

    تنازعہ کشمیر،اس قضیہ کی آگ جوہری "فلیش پوائنٹ” میں بدلنے کا احتمال رکھتی ہے.وزیر خارجہ

    تنازعہ کشمیر،اس قضیہ کی آگ جوہری "فلیش پوائنٹ” میں بدلنے کا احتمال رکھتی ہے.وزیر خارجہ

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ’پرامن اور خوش حال جنوبی ایشیا کے عنوان سے ’اسلام آباد کا نکلیو۔2021‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں ’انسٹی ٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیز‘ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے آج اس مجلس کا اہتمام کیا ہے۔ یہ لائق تحسین اقدام ہے۔ ’انسٹی ٹیوٹ‘ نے ’وژن 2023‘ پر عمل درآمد کے ضمن میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ ’اسلام آباد کانکلیو‘ ان کئی اقدامات میں سے ایک ہے جو ’انسٹی ٹیوٹ‘ نے تحقیق اور مکالمے کے ذریعے پاکستان کے نکتہ نظر کے فروغ دینے کے لئے اٹھائے ہیں۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ ’اسلام آباد کانکلیو‘ انسٹی ٹیوٹ میں کام کرنے والے پانچ مراکز_ فضیلت (Centers of Excellence) کی پانچ سالہ کاوشوں کا نکتہ عروج ہے۔ اس کے ذریعے ممتاز پاکستانی و بین الاقوامی ماہرین کو دو روزہ مکالمے کے لئے جمع کیاگیا ہے جو مختلف نشستوں میں شرکت اور اظہار خیال فرمائیں گے۔

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میری کوشش ہوگی کہ عالمی اور علاقائی منظر نامے کے وسیع بیانیہ کو آپ کی خدمت میں عرض کروں اور پھر امن وترقی کے لئے پاکستان کی سوچ اور بصیرت کا خاکہ آپ کی خدمت میں پیش کروں۔ ہماری دنیا تبدیل ہورہی ہے۔ کثیرالقومیت کے نظریہ کو تنہائی پسندی یا یک طرفہ سوچ کی قوتیں توڑ رہی ہیں۔ ممالک قوم پرستانہ ایجنڈوں کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ طاقت کا اظہار ایک نیا معمول بنتا جارہا ہے۔ بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلہ اور کشمکش بڑھتی جارہی ہے جو تصادم کی طرف کھنچ رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں نئی مخالفتیں اور رقابتیں جنم لے سکتی ہیں اور دنیا کو پھر سے ’دھڑوں‘ کی سیاست کی نذر کررہی ہیں۔ ایک نئی سردجنگ کا ظہور ہوتا محسوس ہوتا ہے۔ ہتھیاروں کے انباروں میں اضافہ اور نئی ابھرتی ہوئی جنگی ٹیکنالوجی سے حربی امور کے بنیادی تقاضے ہی تبدیل ہوتے جارہے ہیں۔ جارحانہ جنگی نظاموں کے منظر عام پر آنے، اشتعال انگیز نظریات کی رونمائی اور جارحانہ جنگی قوت کا اظہار، کشدگیوں کو بڑھانے اور فوجی مہم جوئی جیسے عوامل، پہلے سے سٹرٹیجک عدم استحکام کے شکار ہمارے خطے کے لئے مزید خطرات کا موجب بن رہے ہیں۔ جنوبی ایشیاء میں سٹرٹیجک استحکام کے لئے جوہری صلاحیتوں سے متعلق متفقہ طور پر طے شدہ پابندیاں اور روایتی افواج ناگزیر ہیں۔ جنوبی ایشیاءدنیا کی تقریباً ایک چوتھائ آبادی کا مسکن ہے جہاں ’نیٹ سکیورٹی پروائیڈر‘ جیسے نظریات کا فروغ پانا، خطے کے دیگر ممالک کے جائز سیاسی، معاشی اور سلامتی کے مفادات سے کلیتاً صرف نظر کرنا ہے۔یہاں کے عوام کے درمیان استوار تاریخی، ثقافتی، لسانی، نسلی اور جغرافیائی رابطوں سے قطع نظر، جنوبی ایشیاءتنازعات، جنگی جنون اور عدم اعتماد میں پھنسا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر تنازعہ جموں وکشمیر ایک دیرینہ اور قدیم ترین مسئلے کے طورپر موجود ہے جو تا حال کشمیر کے بہادر عوام کی امنگوں کے مطابق حل کا منتظر ہے۔ اس قضیہ کی آگ جوہری "فلیش پوائنٹ” میں بدلنے کا احتمال رکھتی ہے جو علاقائی اور عالمی سلامتی کے لئے تباہ کن ہوگا۔یہ خطہ چین اور بھارت کے درمیان جنگی محاذ آرائی، نیپال اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازعے اور بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان آبی تنازعہ کا مشاہدہ بھی کرچکا ہے۔ سری لنکا نے اپنی تاریخ کے 25 سال میں خونریز بغاوت کا سامنا کیا ہے۔ افغانستان چار دہائیوں سے تنازعے سے گزرتا آرہا ہے۔

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہمیں قومی سلامتی حکمت عملی میں انسانی سلامتی کو مرکزیت دینے کی ضرورت ہے۔ یعنی سلامتی پر مبنی پالیسیز سے خطے میں ترقی اور خوش حالی کی طرف جانا ہوگا۔ یہ ہے وہ حقیقی چیلنج جس کا آج جنوبی ایشیاء سامنا کررہا ہے۔ پاکستان نے اپنی توجہ تبدیل کرکے جیواکنامکس کی طرف مبذول کی ہے۔ خطے کو جوڑنا آج کا وہ لفظ ہے جسے مرکزیت و مقبولیت حاصل ہے۔ یہ ہمیں قومی اور علاقائی ترقی کے لئے بے پناہ مواقع فراہم کرسکتا ہے۔پاکستان کراچی اور گوادر بندرگاہوں کے ذریعے چین کے مغربی حصوں اور وسط ایشیائی جمہوریتوں کی عالمی سمندروں تک رسائی کا مختصر ترین راستہ فراہم کرتا ہے۔ پاکستان اور چین کی سدا بہار سٹرٹیجک کوآپریٹو شراکت داری کا طرہ امتیاز ’چین پاکستان اقتصادی راہداری‘ (سی پیک) رابطوں کی استواری کا ایک بہترین اور مثالی منصوبہ ہے۔ پاکستان کی معاشی تبدیلی کے ساتھ ساتھ ’سی پیک‘ خطے کو جوڑنے کیلئے بھی ایک اہم راستہ ہے۔جنوبی ایشیاء کی خوش حالی کے لئے خطے میں علاقائی تعاون لازم ہے۔ سارک کو تنگ نظر سیاسی ایجنڈوں سے آزاد کرکے زندہ وفعال کرنے کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے خطے کے اندر تجارت انتہائی کم ہے، تجارت، شاہراتی نظام اور رابطوں میں حائل رکاوٹیں اور پابندیاں دور کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے کسی عالمی یا علاقائی تنازعے کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کیا ہے اور صرف امن وترقی میں شریک کار رہنے کی راہ منتخب کی ہے۔ پاکستان اجتماعیت اور تعاون کی حامل سوچ وفکر پر مبنی وسیع تر معاشی واقتصادی شراکت داری پر زور دے رہا ہے۔

    دو برس تک بیٹی سے مبینہ زیادتی کا مرتکب باپ گرفتار

    اسلحہ کے زور پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی ،برہنہ بنائی گئی ویڈیو وائرل

    طالبات کو کالج کے باہر چھیڑنے والا گرفتار،گھر کی چھت پر لڑکی کے سامنے برہنہ ہونیوالا بھی نہ بچ سکا

    دو سو افراد نے ایک ساتھ کپڑے اتار کر تصویریں بنوا کر ریکارڈ قائم کر دیا

    اسلحہ کے زور پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی ،برہنہ بنائی گئی ویڈیو وائرل

    جناح ہسپتال کا ڈاکٹر گرفتار،نرسز، لیڈی ڈاکٹرز کی پچاس برہنہ ویڈیو برآمد

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بہت سارے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کو معاشی سٹرکچرل وجوہات سے پیدا ہونے والے بہت سارے غیرروایتی سکیورٹی مسائل کا سامنا ہے جن میں ماحولیاتی تغیر، غذا، توانائی اور آبی بحران، آبادی میں اضافے، بے محابہ شہروں کے بڑھنے اور غربت جیسے مسئلے شامل ہیں۔ نہایت فوری نوعیت کی تشویش کا باعث بننے والا مسئلہ، ماحولیاتی تغیر کا ہے جس کے براہ راست اثرات غذا اور آبی سلامتی پر ہوتے ہیں۔ عمران خان حکومت قومی سلامتی کے لیے، لاحق اس سنگین خطرے کا اداراک کرتے ہوئے ان اثرات کو کم سے کم کرنے کے لئے کوششیں کررہی ہے۔ تجارت وسرمایہ کاری، انفراسٹرکچر کی ترقی، انرجی سکیورٹی، زراعت، سیاحت میں تعاون اور عوامی رابطوں میں اضافہ ہماری ترجیحات ہیں۔ ہماری بنیادی دلچسپی پرامن اور مستحکم ’عالمی نظم‘ (انٹرنیشنل آرڈر) ہے جو سب کو اعتماد میں لے کر چلے۔پاکستان پرامن بقائے باہمی، تعاون پر مبنی کثیرالقومیت اور اتفاق رائے کی حامل فیصلہ سازی کے اصولوں کے عزم پر کاربند ہے۔ خطے اور دنیا میں امن، ترقی اور خوش حالی کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لئے ہم اجتماعیت کے حامل عالمی نظام (گلوبل آرڈر) کی ہمیشہ حمایت جاری رکھیں گے۔ ہم بیانیوں کے دور میں جی رہے ہیں۔ پاکستان کے بیانیوں کی تشکیل اور ان کا فروغ ہم سب کے لئے ایک قومی ذمہ داری ہے۔ فیصلہ سازوں اور محقیقین کے درمیان خلیج کو پاٹنا ہوگا اور اتفاق رائے کے حامل بیانیوں کو پیش کرنا ہوگا، ’اسلام آباد کانکلیو‘ جیسے فورمز اس ضمن میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ میں اس مجلس سے سامنے آنے والی سفارشات سے استفادہ کے لئے منتظر ہوں۔