Baaghi TV

Tag: جنوبی پنجاب

  • ملتان کیلئے ایڈیشنل ڈی جی پی آر کی پوسٹ کی منظوری

    ملتان کیلئے ایڈیشنل ڈی جی پی آر کی پوسٹ کی منظوری

    ملتان کیلئے ایڈیشنل ڈی جی پی آر کی پوسٹ کی منظوری

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے ملتان کیلئے ایڈیشنل ڈی جی پی آر کی پوسٹ کی منظوری دے دی

    وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ڈیجیٹل میڈیا ونگ، ڈی جی پی آر کی 5 خالی پوسٹوں پر بھرتی کی منظوری دے دی وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے گورنمنٹ وقارالنساء پوسٹ گریجوایٹ کالج برائے خواتین راولپنڈی کو یونیورسٹی کا درجہ دینے کے چارٹر کی منظوری دے دی

    وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے یورنیورسٹی کے قیام کی سکیم کو رواں مالی سال کے اے ڈی پی میں شامل کرنے کی منظوری دے دی .وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ساہیوال کی ترقی کیلئے18سکیموں کی منظوری دے دی ،عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ ضلع ساہیوال میں 50 کروڑ 50 لاکھ روپے کی لاگت سے سکیموں پر کام شرو ع کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے سپورٹس وظائف، کیش ایوارڈز اور انتقال کرنے والے سابق کھلاڑیوں کے خاندانوں کیلئے 4 کروڑ روپے کی گرانٹ ان ایڈ کی منظوری دے دی

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی زیرصدارت کابینہ سٹینڈنگ کمیٹی برائے فنانس اینڈ ڈویلپمنٹ کااجلاس ہوا، مشیر اقتصادی امور ڈاکٹر سلمان شاہ، ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور، چیف سیکرٹری، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ اور متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز نے اجلاس میں شرکت کی ،صوبائی وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت اور صوبائی وزیر صنعت میاں اسلم اقبال نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی

    سانحہ سیالکوٹ، سری لنکن حکومت کیا چاہتی ہے ؟ وزیر خارجہ نے بتا دیا

    اس دن میرا جذبہ تھا کہ…ملک عدنان نے وزیراعظم ہاؤس میں دل کی بات بتا دی

    پریانتھا کمارا کی نعش کی بے حرمتی کرنے والا ملزم عدالت پیش

    سانحہ سیالکوٹ کے ملزمان بارے بڑا فیصلہ کر لیا گیا

    سانحہ سیالکوٹ، وزیراعظم عمران خان کا بڑا فیصلہ

    سانحہ سیالکوٹ،سری لنکن باشندے کو قتل کرنے کے مقدمے میں اہم پیشرفت

    سانحہ سیالکوٹ،ہاتھ جوڑ کر سری لنکا والوں سے معافی مانگتا ہوں،مولانا طارق جمیل

  • حکومت نے شہباز شریف اور بلاول سے مدد مانگ لی

    حکومت نے شہباز شریف اور بلاول سے مدد مانگ لی

    حکومت نے شہباز شریف اور بلاول سے مدد مانگ لی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی اور پیپلز پارٹی سے رابطہ کیا ہے

    پی ٹی آئی نے پارلیمنٹ میں قانون سازی کیلیے شہباز شریف اور بلاول بھٹو سے مدد مانگ لی وزیر خارجہ نے جنوبی پنجاب صوبے کیلیے آئینی ترمیم کیلئے پارلیمانی رہنماؤں کو مدعو کر لیا وزیر خارجہ کی جانب سے شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کو خطوط ارسال کئے گئے ہیں شاہ محمود قریشی نے جنوبی پنجاب صوبے سے متعلق پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کیلیے نام مانگ لیے وزیر خارجہ کا خط پارلیمنٹ میں قائد حزب اختلاف کے دفتر میں موصول ہو گیا ہے خط میں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے قانون سازی کیلئے مدد کی درخواست کی گئی ہے

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے اس بل کی حمایت کی،جنوبی پنجاب صوبہ علاقے کے لوگوں کی دیرینہ خواہش ہے 35ملین لوگوں کی خواہش پورا کرنے میں بنیادی رکاوٹ ایک آئینی ترمیم ہے آئینی ترمیم کے لیے پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت درکار ہے، ملتان اور بہاولپور میں دو الگ الگ سیکرٹریٹ کا قیام عمل میں لایا گیا،ہماری تشکیل کردہ اسٹیئرنگ کمیٹی نے ملازمتوں کیلئے32فیصد کوٹے کی منظور ی دی، جنوبی پنجاب ڈویژنوں کے لیے 35 فیصد ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا آئینی ترمیم کیلئے تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کو اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا، پارٹی وائس چیئرمین کی حیثیت سے آئینی ترمیمی بل کی تشکیل کیلئے دعوت کا اعادہ کرتا ہوں

    17جنوری کو ن لیگی سینیٹر کی جانب سے سینیٹ میں بل پیش کیا گیا،پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی نے ن لیگی سینیٹر کی طرف سے پیش کیے گئے بل کی حمایت کی،35ملین لوگوں کی خواہش پورا کرنے میں بنیادی رکاوٹ آئینی ترمیم ہے آئینی ترمیم کے لیے اکثریت نہ ہونے کے باوجود کئی اہم عملی اقدامات کیے،

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    پولیس اہلکار نے لڑکی کو منہ بولی بیٹی بنا کر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، نازیبا ویڈیو بھی بنا لیں

    نوجوان لڑکی سے چار افراد کی زیادتی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس ان ایکشن

    خاتون سے زیادتی اور زبردستی شادی کی کوشش کرنے والا ملزم گرفتار

    واش روم استعمال کیا،آرڈر کیوں نہیں دیا؟گلوریا جینز مری کے ملازمین کا حاملہ خاتون پر تشدد،ملزمان گرفتار

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    لاہور میں زیادتی کیسز میں مسلسل اضافہ،نوکری کی بہانے خاتون کے ساتھ ہوٹل میں زیادتی

    ماں بیٹی سے زیادتی کیس میں اہم پیشرفت سامنے آ گئی

    لاہور میں رواں برس جنسی زیادتی کے 369 کیسز، کسی ایک ملزم کو بھی سزا نہ مل سکی

    لاہور میں حوا کی دو اور بیٹیاں لٹ گئیں،اغوا کے بعد جنسی زیادتی

    شوہر نے بھائی اور بھانجے کے ساتھ ملکر بیوی کے ساتھ ایسا کام کیا کہ سب گرفتار ہو گئے

    لڑکیوں سے بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات کی پنجاب اسمبلی میں بھی گونج

    لاہور میں خواتین سے زیادتی کے بڑھتے واقعات،ملزمہ کیا کرتی؟ تہلکہ خیز انکشاف

    نو سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش کرنیوالا سگا پھوپھا گرفتار

    خواتین کو دست درازی سے بچانے کیلئے سی سی پی او لاہور میدان میں آ گئے

    خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے والے اوباش ملزمان گرفتار

    یہ ہے پنجاب،ایک روز میں ایک شہر میں جنسی زیادتی کے چھ کیسزسامنے آ گئے

  • بہت ہو گیا ہمیں الگ گورنر وزیراعلی چاہیے٫یوسف رضا گیلانی نے جنوبی پنجاب کا مقدمہ اٹھا دیا

    بہت ہو گیا ہمیں الگ گورنر وزیراعلی چاہیے٫یوسف رضا گیلانی نے جنوبی پنجاب کا مقدمہ اٹھا دیا

    بہت ہو گیا ہمیں الگ گورنر وزیراعلی چاہیے٫یوسف رضا گیلانی نے جنوبی پنجاب کا مقدمہ اٹھا دیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اپوزیشن لیڈر سینٹ سید یوسف رضا گیلانی نے سینٹ کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ جنوبی پنجاب کے حوالے سے حکومت کہتی ہے کہ ہمارے پاس اکثریت نہیں ہے، جبکہ پیپلزپارٹی کے دورِ حکومت میں بھی اکثریت نا ہونے کے باوجود ہم نے باقی پارٹیز کے ساتھ ملکر اتفاقِ رائے سے آئین میں ترمیم کی-


    یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ میں کہا کہ سینٹ سے صوبہ جنوبی پنجاب کا بل دو تہائی اکثریت سے پاس کرایا، ہم نے ہمیشہ سے صوبہ کا مطالبہ کیا ہے نا کہ سیکرٹریٹ،جنوبی پنجاب کا دارلخلافہ بنانا حکومت کی ذمہ داری نہیں، یہ پارلیمنٹ کا کام ہے صوبہ بن جائے گا تو دارالحکومت کا فیصلہ ہم کریں گے جب سیکریٹریٹ بنے گا پوچھناچاہتا ہوں، لوگوں کو نوکریاں ملیں گی یا نہیں۔

    اگرنون لیگ شریف فیملی سے خودکو علیحدہ ہ کرتی ہے تو یہ مثبت پیشرفت ہوگی ، فواد چودھری


    انہوں نے مزید کہا تھا کہ ہم رعایا نہیں ہیں، ہمیں اپنا صوبہ، وزیراعلیٰ، گورنر، سینٹ نشستیں اور سیکرٹریٹ چاہیئے،جنوبی پنجاب صوبے کے لیے حکومت کے پاس اکثریت نہیں تو ہم سے بات کریں تین سال گزرنے کے باوجود حکومت نے ابھی تک اس مسئلہ پر کسی سیاسی جماعت سے بات نہیں کی-


    سینیٹ اجلاس کے دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی تقریر پر جواب دیتے ہوئے یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ اگر حکومت کے پاس اکثریت نہیں ہے تو ہم سے بات کریں جب ہماری حکومت تھی، ہمارے پاس سادہ اکثریت بھی نہیں تھی، اس کے باوجود اتفاق رائے سے 104 ترامیم کی گئیں۔

    خیال رہے کہ سینیٹ میں اجلاس سے خطاب میں شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ ملتان اور بہاولپور میں جنوبی پنجاب کا سیکریٹریٹ قائم ہوگا سیاست میں کبھی لیٹ نہیں ہوتا، اگر نیت درست اور آپ واقعی چاہتے ہیں کہ صوبہ بنے تو پیپلز پارٹی ساتھ دینے کا وعدہ کرے بحث دارالحکومت یا سیکریٹریٹ کی نہیں ہورہی ہے، بات آگے لے کر چلتے ہیں اوروں سے بات اور اتفاق رائے کی کوشش کرتے ہیں۔

    پاکستان میں قازقستان کے سفیر کی جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات

    اُن کا کہنا تھا کہ جو انتظامی طور پر ممکن تھا وہ اقدامات ہم نے کیے ہیں تاکہ ایک سمت دے دیں آئینی ترمیم اور قرارداد درکار ہے، اس کے لیے ہم سب کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں جنوبی پنجاب صوبے پر ہم ہاتھ بڑھانے کو تیار ہیں، اس پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں کرنا چاہ رہے ہیں جنوبی پنجاب حقیقت اختیار نہیں کرسکا کیونکہ قانونی رکاوٹیں سامنے آتی ہیں، آئیے مل کر راستہ تلاش کرتے ہیں، تیسری بڑی جماعت مسلم لیگ ن سے بھی بات کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ مخدوم یوسف رضا گیلانی 9 جون 1952 کو سرائیکستان کے ضلع ملتان کے ایک ایسے بااثر جاگیردار پیرگھرانے میں پیدا ہوئے جو پچھلی کئی نسلوں سے سیاست میں مضبوطی سے قدم جمائے ہوئے ہے ان کی مادری زبان سرائیکی ہے ملتان کی درگاہ حضرت موسی پاک کا گدی نشین ہونے کی بنا پر ان کا خاندان مریدین یا روحانی پیروکاروں کا بھی وسیع حلقہ رکھتا ہے۔

    یوسف رضا گیلانی نے 1970 میں گریجویشن اور 1976 میں یونیورسٹی سے ایم اے صحافت کیا۔ یوسف رضا گیلانی فروری 2008 کے انتخابات میں ملتان سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر پانچویں مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔ وہ پاکستان کے 24 ویں وزیر اعظم ہیں۔ 2012ء تک مسلسل چار سال وزارت عظمیٰ پر فائز رہنے کے بعد وہ تاریخ میں پاکستان کا سب سے لمبی مدت وزیر اعظم رہنے کا اعزاز حاصل کیا۔ 19 جون 2012ء کو توہین عدالت کے مقدمہ میں سزا کی وجہ سے پارلیمان رکنیت اور وزیر اعظم کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔

    انھوں نے اپنی عملی سیاست کا آغاز سن 1978 میں کیا۔ یوسف رضا گیلانی نے 1983 میں ضلع کونسل کے انتخابات میں حصہ لیا اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اور پیپلز پارٹی کے موجودہ رہنما سید فخر امام کو شکست دیکر چیئرمین ضلع کونسل ملتان منتخب ہوئے۔

    سیالکوٹ بزنس کمیونٹی کیجانب سے پریانتھا کمارا کے اہلخانہ کیلئے 0.1 ملین ڈالر امداد

    1985 میں انہوں نے صدر جنرل ضیاء الحق کے غیر جماعتی انتخابات میں حصہ لیااور وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی کابینہ میں وزیر ہاوسنگ و تعمیرات اور بعد ازاں وزیرِ ریلوے بنائے گئے۔ راجا محمد ایوب انیس سو اٹھاسی میں پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے اور اسی برس ہونے والے عام انتخابات میں انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا اور اپنے مدمقابل نواز شریف کو شکست دی جو قومی اسمبلی کی چار نشستوں پر امیدوار تھے۔

    درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے بہترین حکمت عملی وضع کرنا ہو گی،قریشی

    ان انتخابات میں کامیابی کے بعد یوسف رضا گیلانی ایک مرتبہ پھر وفاقی کابینہ کے رکن بننے اور اس مرتبہ انہیں بینظیر بھٹو کی کابینہ میں سیاحت اور ہاؤسنگ و تعمیرات کی وزارت ملی۔ سیاسی کیرئر کے دوران یوسف رضا گیلانی کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات میں نیب نے ریفرنس دائر کیا اور راولپنڈی کی ایک احتساب عدالت نے ستمبر سنہ دو ہزار چار میں یوسف رضا گیلانی کو قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں تین سو ملازمین غیر قانونی طور پر بھرتی کرنے کے الزام میں دس سال قید با مشقت کی سزا سنائی تاہم سنہ دو ہزار چھ میں یوسف رضا گیلانی کو عدالتی حکم پر رہائی مل گئی ۔

    یوسف رضا گیلانی نے اڈیالہ جیل میں اسیری کے دوران اپنی یاداشتوں پر مبنی پر ایک کتاب’چاہ یوسف سے صدا‘ بھی لکھی۔

    حکومت ایسے اقدامات کرے جس سے عام آدمی کو فائدہ پہنچے،چودھری پرویزالٰہی

  • سیکرٹری ہاؤسنگ جنوبی پنجاب جاوید اختر محمود کا جنوبی پنجاب کے لیے پیکج

    سیکرٹری ہاؤسنگ جنوبی پنجاب جاوید اختر محمود کا جنوبی پنجاب کے لیے پیکج

    ملتان:سیکرٹری ہاؤسنگ جنوبی پنجاب جاوید اختر محمود کا جنوبی پنجاب کے لیے پیکج ،اطلاعات کے مطابق سیکرٹری ہاؤسنگ جنوبی پنجاب جاوید اختر محمود نے کہا ہے کہ تونسہ میں بیوٹیفیکیشن پلان پر تیزی سے عمل درآمد جاری ہے۔ پی ایچ اے کی چار اسکیموں پرترقیاتی کام تیزی سے جاری ہے۔ تونسہ پارک میں عوامی سہولیات کی تمام اشیاء فراہم کی جارہی ہیں۔ صاف پانی اور سیوریج کی سکیموں پر خطیر رقم خرچ کی جارہی ہے۔

    انہوں نے ان خیالات کا اظہار تونسہ میں پی ایچ اے،پی ایچ ای، سیوریج، ٹف ٹائلز، لائٹس، ہسپتال اور بیوٹیفیکیشن پلان کے معائنے اور بریفنگ کے موقع پر کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی سیکرٹری زاہد اقبال، ڈی جی پی ایچ اے سیف الرحمٰن، اسسٹنٹ کمشنر محمد سعد اور سپرنٹنڈنٹ انجینئر ملک جواد بھی موجود تھے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ تونسہ میں بیوٹیفیکیشن پلان پر تیزی سے عمل درآمد جاری ہے۔ تونسہ میں پارک کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔پارک کو فیملیز کے لئے ساز گار بنائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹائلز اور لائٹس کی معیاری انداز میں تنصیب کی جائے۔ شہر میں درختوں کی شجر کاری کو یقینی بنایا جائے انڈس روڈ تونسہ پر درختوں کی شجر کاری کے لئے پی ایچ اے اور پی ایچ ای کو ٹاسک دے دی گیا ہے۔

    پار ک میں جاری ترقیاتی کاموں کا جائز ہ لیتے ہوئے کہا کہ پارک میں عوامی سہولیات کی تمام اشیاء مہیا کی جائیں۔ جنوبی پنجاب میں صاف پانی کی فراہمی کے لئے ہنگامی اقدامات کر رہے ہیں۔ عوامی مسائل کا حل موجود ہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ تونسہ ہسپتال کے دورہ کے موقع پر انہوں نے کہا کہ مریضوں کو بہتریں سہولیات مہیا کی جائیں۔ایمبولینس کو فعال رکھا جائے۔ پارک کے دورہ کے موقع پر سیکرٹری ہاؤسنگ نے شجرکاری کے سلسلے میں پودا لگایا اور ملکی سلامتی کے لئے دعا کی۔
    شعبہ تعلقاتِ عامہ

  • جنوبی پنجاب کی محرومیاں اور ہمارے حکمران ، کون ذمہ دار ، کون غیر ذمہ دار ، پڑھنا نہ بھولیئے

    جنوبی پنجاب کی محرومیاں اور ہمارے حکمران ، کون ذمہ دار ، کون غیر ذمہ دار ، پڑھنا نہ بھولیئے

    لاہور : قیام پاکستان سے لیکر اب تک جنوبی پنجاب سے صدر، وزرائے اعظم ، وزرائے اعلیٰ ، گورنر ، سینیٹرز ، صوبائی اور وفاقی وزراء ہونے کے باوجود اگر جنوبی پنجاب پسماندہ علاقہ ہے تو اس کے قصوروار اور ذمہ دار بھی یہی طاقت ور، وڈیرے، جاگیردار، گدی نشین ، صدر ،وزرائے اعظم ، وزرائے اعلیٰ ، گورنرز، سینیٹرز ، صوبائی اور وفاقی وزرا ء ہیں جو اپنے اپ کو معزز اور کمزوروں اور بے بسوں کو کمی کمین سمجھتے ہیں.

    ہر دور میں اقتدار کے مزے چکھنے والے یہ وڈیرے بڑے بڑے شہروں میں محلات بنا کر رہتے ہیں اور کمی کمین ، غریب بیچارے جنوبی پنجاب کی گردوغبار ، محرومی ، بے بسی اور پسماندگی میں رہ کر وقت پاس کررہے ہیں. اقتدار کا مزہ چھکنے والوں کی اولاد لاہور ، اسلام آباد اور سمندر پار تعلیمی اداروں میں‌ مزے لوٹ رہی ہے اور غریب بیچارے اپنے بچوں کو کھلے آسمان تلے پڑھانے پر مجبور ہیں

    جنوبی پنجاب میں جس طرح انسان زندگیاں بسر کررہے ہیں وہ قدیم تاریخ کے دور کو تازہ کردیتے ہیں. علاج معالجے کی سہولت نہیں ، پینے کے لیے صاف پانی میسر نہیں ، جہاں سے جانور پانی پیتے ہیں وہیں سے انسان پیاس بجھاتے ہیں. غریبوں کے بچے تعلیم حاصل نہیں کرپاتے تو سرداروں اور وڈیروں کی اولاد مہنگے ترین کالجوں اور یونیورسٹیوں میں عیاشیاں کررہے ہیں.100 سے زائد یہ وڈیرے بڑے بڑے عہدوں پر رہ چکے مگر جنوبی پنجاب کے لیے ان کو توفیق نہ ہوسکی کہ کچھ بہتری کا ہی سوج لیں

    پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کی وہ پٹی جو جنوب میں دریائے سندھ کے کنارے واقع ہے اس خطہ کو جنوبی پنجاب کا نام دیا جاتا ہے۔ جنوبی پنجاب ملتان، رحیم یار خان، بہاولپور، بھکر، لیہ، راجن پور، میانوالی، لیہ، ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ ، خوشاب، لودھراں، وہاڑی، بہاولنگر ، خانیوال ، ساہیوال اور پاکپتن پر مشتمل ہے ، یہاں زیادہ تر نواب، وڈیرے ، خان ، مزاری، گورچانی، گیلانی، کھر، نوانی ، شہانی ، لغاری، ڈھانڈلہ، روکھڑی، شادی خیل، اعوان، اولکھ، سیال، شیخ ، رانا ، گجر برادریوں کے زعماء عرصہ دراز سے یہاں سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔ صرف سیاست ہی نہیں یہاں معیشت پر بھی انہیں کا سکہ رائج ہے۔ جنوبی پنجاب کے کئی بڑے نام وزیر اعلیٰ ، گورنر اور وزیر اعظم کے عہدے پر تعینات رہے ہیں، باوجود اس کے وہ یہاں کے عوام کی محرومیوں کے ازالہ کے لیے موثر اقدامات نہ اٹھا سکے ہیں۔ قصہ یہیں پر ختم نہیں ہوتا، سینٹ، قومی اور صوبائی اسمبلی کے ایوانوں میں آج تک چند ایک ناموں کے علاوہ کسی نے آج تک یہاں کے باسیوں کے حقوق کے لیے نہ تو آواز بلند کی اور نہ ہی حکومت وقت سے کوئی موثر مطالبہ کرنے کی جسارت کی ہو۔

    اب حال یہ ہے کہ پاکستان میں1970ء سے اب تک597 بااثر خاندان حکومت پر قابض ہیں۔ان خاندانوں میں سے379کا تعلق پنجاب سے،110کا سندھ،56کا کے پی کے،45کا بلوچستان جبکہ7کا تعلق وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں سے ہے۔ جنوبی پنجاب میں اب یہ شرح64فیصد تک جاپہنچی ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں اب یہ شرح44فیصد،سندھ میں41فیصد،کراچی میں9فیصد،کے پی کے میں28فیصد اور فاٹا میں18فیصد تک جاپہنچی ہے۔1990ء کے نگران وزیراعظم غلام مصطفیٰ جتوئی کے 11افراد مختلف اسمبلیوں میں رہے۔2008ء میں جتوئی کے4بیٹے ملک کے تینوں قانون سازاداروں میں موجود تھے

    راجن پور اور ڈیرہ غازیخان پنجاب کے دو ایسے اضلاع ہیں جہاں پر آج بھی سرداری نظام رائج ہے۔ ان دونوں اضلاع میں بہت سے قبائل آباد ہیں ان میں لغاری، کھوسہ، لُنڈ، بزدار، قیصرانی، نتکانی، گورچانی، دریشک، مزاری خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان قبائل میں سے کچھ قبائل کو ن داری کا درجہ دیا گیا ہے۔ ان میں قیصرانی قبیلہ، بزدار قبیلہ، لُنڈ قبیلہ، کھوسہ قبیلہ، لغاری قبیلہ، دریشک قبیلہ، گورچانی قبیلہ اور مزاری قبیلہ شامل ہیں

    اس وقت جنوبی پنجاب ملکی سیاست اور عدالت میں چھایا ہوا ہے، وزیراعظم عمران خان کا تعلق میانوالی سے ہے، وزیراعلیٰ پنجاب انکے ہمسائے ڈیرہ غازی خان کی تحصیل تونسہ سے ہیں، 18 جنوری کو حلف اٹھانے والے چیف جسٹس آف پاکستان سردار آصف سعید کھوسہ کا تعلق ڈیرہ غازی خان سے ہے، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا تعلق رحیم یار خان سے ہے، اسی طرح متعدد جج بھی اسی علاقے سے ہیں، وزراء کو دیکھیں تو وفاق میں وزارت خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کے پاس ہے، چودھری طارق بشیر چیمہ، مخدوم خسرو بختیار اور زرتاج گل کا تعلق بھی یہیں سے ہے، قومی اسمبلی میں چیف وہپ ملک عامر ڈوگر ملتان سے ہیں، پنجاب کے ڈپٹی سپیکر سردار دوست محمد مزاری، سید حسین جہانیاں گردیزی، زوار حسین وڑائچ، محمد جہاںزیب کھچی، شوکت علی لالیکا، سمیع اللہ چودھری، محمد محسن لغاری، حسنین بہادر دریشک صوبائی وزارت کا قلم دان سنبھالے ہوئے ہیں، چیف سیکرٹری پنجاب یوسف نسیم کھوکھر کا تعلق ملتان سے ہے۔

    چوٹی زیریں کا شہر جو لغاری سرداروں کا گھر ھے۔سردار فاروق خان لفاری۔سردار جعفر خان لغاری MNA مقصود خان لغاری سابقہ وزیر آبپاشی پنجاب و سابقہ ضلع ناظم۔ان کے دادا سر نواب جمال خان چیف آف لغاری قبائل انگریزوں کے دور حکومت میں بھی وزیر تھے۔اس کے تین بیٹے تھے ۔نواب زادہ محمد خان لغاری ہمیشہ سیاست میں رہے MNAاور وزیر رہے۔سردار فاروق خان لغاری کے والد تھے ،نوابزادہ عطامحمد خان لغاری انگریزوں کے دور میں کمشنر ملتان تھے،وبزادہ محمود خان لغاری سیاست اور اقتدار میں رہے ہمیشہ وہ سردار مقصود خان لغاری کے والد تھے۔پھر ان کی اولاد ہمیشہ اقتدار میں رہا ،سردار فاروق خان لغاری ساری زندگی MNA.وفاقی وزیر اور صدر پاکستان بنے،اس کا بیٹا سردار جمال خان لغاری پہلے ضلع کے سوشل ایکشن کمیٹی کے چیرمین بنے۔پھر۔ضلع ناظم۔پھر سینٹر۔اس کے بعد MPA.بنے،سردار اویس خان لغاری ۔مشرف کے دور میں MNA.وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی۔اس کے بعد پھر MNA۔اس کے بعد پھر وفاقی وزیر پانی وبجلی۔چیرمین فورٹ منرو ڈویلپمنٹ اتھارٹی ۔چیرمین جنگلات پراجیکٹ جنوبی پنجاب،سردار جعفر خان لغاری ساری زندگی MNAابھی تک۔ہر حکومت میں اس کا عمل دخل رہا، مینا لغاری MNAبنی تھی مخصوص سیٹ پر،سردار یوسف خان لغاری ہمیشہ MPAرہے،سردار مقصود خان لغاری ہمیشہ MNAاورMPAاور وزیر۔ضلع ناظم رہے،سردار محمد خان لغاری۔MNAاورMPAہمیشہ رہے اور آج بھیMNAہیں،سردار محسن خان لغاری تین مرتبہ MPAایک دفعہ سینٹر اور آج صوبائی وزیر آبپاشی پنجاب ہیں،سردار محمود قادر لغاری۔تحصیل ناظم اور MPA۔سردار منصور خان لغاری MNAاور سینٹر رہے۔سردار احمد خان لغاری ضلع وائس چیر مین رہے۔اتنے اقتدار کے باوجود چوٹی کو ترقی کیوں نہیں دیا۔اپنے قوم کو ترقی کیوں نہیں دیا۔لغاری قوم کو ترقی کیوں نہیں دیا۔کوئی سوال کر سکتا ھے ان سے کسی کو کوئی جرات نہیں کیوں کہ یہ سردار ہیں اور رعایا کمی کمین

    سردار فاروق احمد خان لغاری

    1993ء میں سب سے زیادہ ووٹ لے کر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور بےنظیربھٹو نے انہیں اپنی کابینہ میں وزیر خارجہ بنایا اور صدر پاکستان بننے تک وہ اسی عہدے پر فائز رہے۔ سردار فاروق احمد خان لغاری صدارتی انتخابات میں اپنے مدمقابل حزب اختلاف کے امیدوار سینیٹر وسیم سجاد کو شکست دے کر صدر منتخب ہوئے

    غلام مصطفے کھر
    غلام مصطفی کھر پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک پاکستانی سیاست دان ہیں۔ وہ سابقہ گورنر پنجاب اور وزیر اعلیٰ پنجاب بھی رہ چکے ہیں۔


    مخدوم سجاد حسین قریشی
    سجاد حسین قریشی پاکستان کے صوبے پنجاب کے 30 دسمبر 1985ء سے 9 دسمبر 1988ء تک گورنر رہے۔ ان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا۔ ان کے بیٹے شاہ محمود قریشی پاکستان کے ایک ممتاز سیاست دان ہیں جن کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے۔


    مخدوم احمد محمود 1990ء سے مسلسل تین مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے جبکہ 2001ء سے 2005ء تک انہیں رحیم یار خان کے ضلعی ناظم ہونے کا بھی اعزاز حاصل رہا۔2008ء کے انتخابات میں وہ پنجاب اسمبلی کے رکن بنے۔مخدوم احمد محمود کی پاکستان کی سیاست میں اہم ترین کردار اداکرنے والی شخصیات سے قریبی رشتے داریاں ہیں۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ، مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیر صبغت اللہ شاہ راشدی المعروف پیر پگارا ان کے قریبی عزیز ہیں، جبکہ سابق وفاقی وزیر صحت تسنیم نواز گردیزی ان کے پھوپھی زاد بھائی ہیں۔ان کے علاوہ تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جہانگیرترین، مخدوم احمد محمود کے بہنوئی ہیں۔ سابق صدر فاروق لغاری بھی ان کے قریبی رشتہ داروں میں شامل رہے ہیں۔ان کے والد حسن محمود پیر پگارا سید مردان علی شاہ دوم کے برادر نسبتی تھے۔

    سردار لطیف کھوسہ
    سابق گورنر سلمان تاثیر کی توہین رسالت قانون کے حوالے سے بیانات نے ملکی سیاست اور مذہبی حلقوں میں ہلچل کی سی کیفیت پیدا کر دی۔ جس کا نتیجہ ممتاز قادری کے ہاتھوں سلمان تاثیر کی قتل کی صورت میں سامنے آیا۔ سلمان تاثیر کے قتل کے بعد صدر نے لطیف کھوسہ کو پنجاب کا گورنر مقرر کیا۔

    سردار بلغ شیر مزاری
    انہیں صدر غلام اسحٰق خان نے بطور نگراں وزیر اعظم تعینات کیا،ان کی میعاد اس وقت ختم ہوئی جب سپریم کورٹ آف پاکستان نے صدارتی حکم نامے کو غلط قرار دیا

    سید یوسف رضا گیلانی
    مخدوم یوسف رضا گیلانی 9 جون سنہ 1952 کو سرائیکستان کے ضلع ملتان کے ایک ایسے بااثر جاگیردار پیرگھرانے میں پیدا ہوئے جو پچھلی کئی نسلوں سے سیاست میں مضبوطی سے قدم جمائے ہوئے ہے۔ سید صاحب کی مادری زبان سرائیکی ہے- ملتان کی درگاہ حضرت موسی پاک کا گدی نشین ہونے کی بنا پر ان کا خاندان مریدین یا روحانی پیروکاروں کا بھی وسیع حلقہ رکھتا ہے۔۔ یوسف رضا گیلانی نے 1970 میں گریجویشن اور 1976 میں یونیورسٹی سے ایم اے صحافت کیا۔ یوسف رضا گیلانی فروری 2008 کے انتخابات میں ملتان سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر پانچویں مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔ وہ پاکستان کے 24 ویں وزیر اعظم ہیں۔ 2012ء تک مسلسل چار سال وزارت عظمیٰ پر فائز رہنے کے بعد وہ تاریخ میں پاکستان کا سب سے لمبی مدت وزیر اعظم رہنے کا اعزاز حاصل کیا۔ 19 جون 2012ء کو توہین عدالت کے مقدمہ میں سزا کی وجہ سے پارلیمان رکنیت اور وزیر اعظم کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔

    شاہ محمود قریشی
    شاہ محمود قریشی زرداری حکومت میں پاکستان کے وزیر خارجہ رہے 31 مارچ 2008ء تا فروری 2011ء پیپلز پارٹی کے فعال رکن رہا۔ زرداری حکومت سے بدظن ہو کر وزارت سے استعفی دے دیا اور بالآخر نومبر 2011ء میں زرداری جماعت اور پارلیمان سے بھی مستعفی ہو گئے۔[ اور پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی۔اور اس وقت وہ عمران خان کی کابینہ میں وزیر خارجہ پاکستان کے طور پر خدمات سر انجام دے رہے ہیں

    سردار دوست محمد کھوسہ
    1999ء میں اپنے والد کی چھوڑی ہوئی نشست پر پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔گزشتہ آٹھ سالوں سے وہ مسلم لیگ ن کے ڈیرہ غازی خان کے صدر بھی رہے۔2007-2008 تک تین ماہ وہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھی رہے

    سردار ذوالفقار کھوسہ
    پنجاب کا گورنر 18 اگست 1999ء تا 12 اکتوبر 1999ء۔

    ملک محمد رفیق جوانہ
    ملک محمد رفیق رجوانہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے سابقہ گورنر ہیں، وہ 10 مئی 2015ء سے 18 اگست 2018ء تک اس عہدہ پر فائز رہے۔ ان سے پہلے پنجاب کے گورنر چوہدری محمد سرور تھے جو ایک معروف سیاست دان تھے۔ آپ نے 2 اگست 2013ء کو یہ عہدہ، سابقہ گورنر مخدوم احمد محمود کے استعفی کے بعد سنبھالا تھا۔ 29 جنوری، 2015ء کو انہوں نے گورنر پنجاب کے عہدے سے استعفی دے دیا ان کے استعفٰی کے بعد وفاقی حکومت نے ملک رفیق رجوانہ کو یہ عہدہ دیا۔

    سردار عثمان بزدار
    پنجاب کے موجودہ وزیراعلیٰ ہیں اور بزدار قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں‌

  • جنوبی پنجاب کے مسائل کے حل کے لیے جو کچھ بھی کرنا پڑا کریں گے. والنٹیئر فورس پاکستان

    جنوبی پنجاب کے مسائل کے حل کے لیے جو کچھ بھی کرنا پڑا کریں گے. والنٹیئر فورس پاکستان

    ملتان:جنوبی پنجاب کو محرومیوں سے دور رکھنے کے لیے نوجوانان جنوبی پنجاب نے اپنی خدمات پیش کردیں.حکومت کچھ کرے یا ناں کرے ہم ضرور اس علاقے کی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کریں گے.ان خیالات کا اظہار جنوبی پنجاب کے نوجوانوں پر مشتمل سوشل میڈیا یوتھ گروپ نے اپنے دورہ جنوبی پنجاب کے حوالے سے باغی ٹی وی ذرائع سے کیا .

    یوتھ گروپ کے ترجمان کے مطابق یہ سوشل میڈیا کی ٹیم 18جولائی کو بہاولپور یوتھ سمٹ کے سلسلے میں وکٹوریا گرانڈ مرکری میں ایک بہت بڑا سیمنار کرے گی.جس میں 700 سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے.19 جولائی کو ملتان میں یوتھ سمت کا دوسرا سیمنار ہور ہا ہے .یہ سیمنار ملتان رضا ہال میں ہوگا جس میں 500 کے لگ بھگ افراد کی شرکت متوقع ہے.

    جنوبی پنجاب سوشل میڈیا یوتھ گروپ اس سلسلے میں رحیم یار خان میں بھی آر وائے کے شیخ خیفہ سکول آئڈیٹوریم میں سیمنار ترتیب دیا ہے. ذرائع کے مطابق اس مقام پر 500 سے زائد شرکا ء کی شرکت متوقع ہے.اس تنطیم کے شیڈول کا آخری پروگرام 21 جولائی کو مظفر گڑھ میں‌راشد منہاس کالج میں ہوگا جس میں توقع کی جارہی ہے کہ 1ہزار سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے. یوٹھ گروپ کا کہنا ہے کہ وہ اس خطے کی ترقی کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھیں گے.

  • عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    سردار عثمان بزدار نے پولیٹیکل سائنس مں ایم اے کا ہوا ہے۔عثمان بزدار 2002 سے 2008 تک مسلم لگ۔ ق۔ مشرف دور مں تونسہ کے تحصل ناظم ۔ دوہزار ترہ میں مسلم لگا ن کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا . مگرپیپلز پارٹی کے امیدوار سے ہار گئے۔پھر 2018 میں عثمان بزدار جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کا حصہ بن گئے۔گزشتہ جنرل الیکشن میں عثمان بزدارتونسہ سے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر پہلی بار رکن اسمبلی منتخب ہوئے اور پہلی ہی باری میں صوبے کے سب سے بڑے عہدے کے لیے نامزد ہو گئے۔

    مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    پنجاب کے وزیراعلیٰ بننے سے پہلے وہ کیا تھے کم لوگ ہی جانتے ہیں۔ انھں عمران خان نے وزیراعلیٰ کیوں بنایا یہ بات اور بھی کم لوگ جانتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ بننا جہانگیر ترین نے تھا وہ نااہل ہوئے تو انھوں نے اپنا بندہ بنوا لیا۔ کوئی کہتا ہے کہ پرچی نکالی گئی ہے۔کسی کا اندازہ ہے کہ کسی دعا یا استخارے کے نتیجے میں یہ وزیر اعلی بنے۔ مگراس بات کو تو عقل ماننے کو تیار نہیں کہ عثمان بزدار کو پسماندہ علاقے سے تعلق ہونے کی بنا پر وزیر اعلی بنایا گیا۔چلیں وجہ جو بھی ہو۔اگر ان کے9 سے 10 ماہ کی کارکردگی کا موزانہ سابق وزراء اعلی سے کیا جائے تو بزدارکا دور شایدپنجاب کی تاریخ کا سب سے خراب اوربدترین دور ہے۔اس میں کسی کوکوئی شک و شبہ نہیں کہ عثمان بزدار نالائق اور نااہل ہیں ۔ بظاہر تو عثمان بزدار پاکستان کے سب سے بڑے اور طاقتور صوبے کے سربراہ ہیں ۔مگر ایسی طاقت کا کیا فائدہ جب آپکو استعمال کرنی ہی نہ آتی ہو۔شاید اگلے چا ر سالوں تک عثمان بزدار اپنے اختیارات کو استعمال کر نا سیکھ جائیں مگر تب تک پنجاب کا بٹھہ ضرور بیٹھا جائیں گے۔کیونکہ کوئی ایسا قابل ذکر کام نہیں جووہ اپنے حلقے کے عوام کے لیے اب تک کر سکے ہوں تو پورے پنجاب کے لیے انھوں نے کیا کرنا ہے۔پنجاب کے سیاسی کلچر میں کمزور اور مسکین کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ لوگ طاقتور اور مضبوط حکمران چاہتے ہیں۔

    مزید پڑھیے: پاکستانی آٹوموبائل مافیا کو نکیل کون ڈالے گا ؟. نوید شیخ

    سونے پر سہاگہ کہ عثمان بزدار نے اپنے دفاع کے لیے ترجمانوں کا پورا دستہ تیار کر لیا ہے . یعنی 38 ترجمان مقرر کر لے ہیں. اتنے پنجاب میں ڈسٹرکٹ نہیں ہیں۔ان ترجمانوں سے بھی کوئی فرق نہیں پڑ رہا۔وہ اس لیے کہ پنجاب حکومت کی کارکردگی ہی صفر بٹاصفر ہے۔ صاف بات ہے پنجاب کو ایسے نہیں چلایا جا سکتا۔ تحریک انصاف نے خود بھی شعوری طور پر انکو قبول نہیں کیا ہے ایک جانب تو ان کو وزیر اعلی پنجاب لگا دیا دوسری جانب پارٹی کے ورکر اور لیڈر خود ان کی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں۔پنجاب کوئی بلوچستان نہیں، پنجاب کوئی کے پی نہیں۔ یہ کوئی چھوٹا صوبہ نہں بلکہ ساٹھ فیصد پاکستان ہے۔ یہ پاکستان کا سب سے موثر اور بڑا صوبہ ہے۔ یہاں کمزور وزیر اعلیٰ کیسے کامیا ب ہو سکتاہے۔

    عثمان بزدار کو یہ بات سمجھ ہی نہیں آرہی ہے کہ میڈیا ایک دو دھاری تلوار ہے۔ یہ جتنا باہر کاٹتا ہے اتنا ہی اندر کاٹتا ہے۔ ابھی تک تحریک انصاف نے اپنے سیاسی مخالفین کو جائز و ناجائز گندا کرنے کے لیے میڈیا کا بھر پور استعمال کیا ہے۔ لیکن اب ان کی باری ہے۔
    ڈی پی او پاکپتن کا معاملہ ہو۔ سانحہ ساہوہال ہو۔ ہیلی کوپٹر کا استعمال ہو۔ وزیر اعلی پنجاب کے پروٹوکول کا معاملہ ہو۔ آئی جی پنجاب کی تبدیلیاں ہوں۔ شہروں مں کوڑاکرکٹ کے ڈھیر ہوں۔ ہسپتالوں اور سکولوں کی حالت زار ہو۔ ساہیوال ہسپتال مں اے سی نہ چلنے سے بچوں کی اموات ہوں۔ اربوں کی سبسڈی کے باوجودرمضان بازار فلاپ ہوں۔اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ہو۔ بیوروکریسی میں تقرر وتبادلے ہوں۔مارکیٹ پرائس کمیٹیاں ہوں۔عثمان بزدار کے اپنے حلقے تونسہ میں بغرر بورڈ اور متعلقہ افراد کی منظوری کے 102 افراد میں 1 کروڑ 6 لاکھ روپوں کی تقسیم ہو۔لیہ گرلز کالجز کی طالبات کو دوردراز علاقوں سے لانے والی بسوں کو ڈی جی خان شفٹ کرنے کا معاملہ ہو۔ ہر امتحان مں پنجاب حکومت فیل ہی ہوئی ہے اور اس سب کی ذمہ داری صرف اور صرف عثمان بزدارکی ہے۔

    مزید پڑھیے : ملاوٹ کا ناسور … نوید شیخ

    عثمان بزدار کا موازنہ اچھا یا برا شہباز شریف سے ہی کیا جائے گا۔ اوراب تک کارکردگی میں شہباز شریف عثمان بزدار سے لاکھ درجے بہتر ہی تھے۔پنجاب میں اگر کوئی تحریک انصاف کو کمزور کر رہا ہے تو وہ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار ہی ہیں۔کوئی مانے یا نہ مانے لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کے بعد عثمان بزدار عمران خان کے نمبر ٹو ہیں۔وہ عمران خان کے بعد سب سے اہم ہیں۔ شاہ محمود، جہانگیر ترین، علیم خان، اسد عمر اب اتنے اہم نہیں جتنے سردار عثمان بزدار اہم ہیں۔وزیراعظم عمران خان وزیراعلیٰ بزدار کے بارے میں بار بار فرماتے ہیں. وہ شہباز شریف کی طرح لوٹ مار نہیں کرے گا۔یقینا ایسا ہی ہوگا۔ مگر ممکن ہے عثمان بزدار کی نااہلی سے پنجاب کو مالی طورپر نقصان شہباز شریف کی لوٹ مار سے زیادہ ہو جائے۔

    مزید پڑھئے: رمضان اور ہماری منافقت … نوید شیخ

    عوام کو عثمان بزدار نے دھوکے میں رکھا ہوا ہے۔کوئی اصلاحات نہیں ہوئیں . نہ ہی کوئی کا م ہوا ہے پہلے کی طرح بدحالی عوام کا مقدر دیکھائی دے رہی ہے۔ ویسے ہی لوگ سٹرکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔ پہلے سے بھی زیادہ بے روزگاری۔مہنگائی اور فاقوں مں اضافہ ہورہا ہے۔ ویسے ہی جاگر داری اور طاقت کا نظام قائم ودائم ہے۔پہلے سے بھی زیادہ صرف میڈیا اور ٹویٹر پر جعلی کارکردگی جاری وساری ہے۔ عملی کام صفر ہیں۔پہلے کی طرح ہی ہیلی کاپٹر اور پروٹوکول گاڑیاں استعمال ہو رہی ہیں۔ پہلے ہی کی طرح صرف سب اچھا ہے کی رپورٹ ہے۔ یہ ہے وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی کارکردگی.

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں