Baaghi TV

Tag: جنگل

  • جنگل میں کھڑی کار سے 52 کلو سونا،15 کروڑ نقدی برآمد

    جنگل میں کھڑی کار سے 52 کلو سونا،15 کروڑ نقدی برآمد

    بھوپال، مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ نے ایک بڑی کارروائی کے دوران 52 کلوگرام سونا اور 15 کروڑ روپے نقدی برآمد کیے ہیں۔ یہ انکشاف آئی ٹی اور پولیس کے مشترکہ آپریشن میں ہوا، جس میں 100 سے زائد پولیس اہلکاروں نے حصہ لیا۔

    ذرائع کے مطابق، یہ کارروائی بھوپال کے قریب واقع مینڈوری کے جنگلاتی علاقے میں کی گئی، جہاں جنگل میں کھڑی ایک کار سے بڑی مقدار میں سونا اور نقدی برآمد ہوئی۔ اس کارروائی نے انکم ٹیکس کے افسران کو حیرت میں ڈال دیا، اور تمام سونا اور نقدی کو فوری طور پر ضبط کر لیا گیا۔ اس کے علاوہ، مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ اس بڑی مقدار میں دولت کے ماخذ کا پتا چلایا جا سکے۔بھارتی میڈیا کے مطابق یہ چھاپہ بھوپال اور اندور کی ایک معروف تعمیراتی کمپنی پر ٹیکس چوری اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے شبہ کے تحت مارا گیا تھا۔ اس سے قبل محکمہ انکم ٹیکس نے اس کمپنی کے 51 مختلف ٹھکانوں پر بھی چھاپے مارے تھے، جہاں سے اہم دستاویزات اور ثبوت بھی برآمد ہوئے تھے۔

    محکمہ انکم ٹیکس کے حکام کا کہنا ہے کہ جنگل سے برآمد ہونے والی نقدی اور سونا ایک بڑی مالی سازش کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ افسران اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ یہ دولت کہاں سے آئی اور اسے کس مقصد کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔ آئی ٹی حکام اس معاملے کی مزید گہرائی سے جانچ کر رہے ہیں تاکہ اس کے پیچھے چھپے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جا سکے۔یہ انکشاف مدھیہ پردیش میں سیاسی اور سماجی حلقوں میں ہلچل مچانے کا باعث بن چکا ہے۔ مقامی شہریوں اور میڈیا میں اس واقعے کی گونج ہے اور مختلف نظریات سامنے آ رہے ہیں کہ آیا یہ صرف ٹیکس چوری کا معاملہ ہے یا اس میں کوئی اور گہری سازش چھپی ہوئی ہے۔

    آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ اور پولیس کی مشترکہ کارروائی کے دوران اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ اس قسم کے آپریشن کے ذریعے ان غیر قانونی سرگرمیوں کو قابو پانے میں مدد ملے گی، جو ریاست میں کرپشن اور ٹیکس چوری کی شکل میں نظر آ رہی ہیں۔محکمہ انکم ٹیکس نے اس معاملے کی تحقیقات تیز کر دی ہیں اور مزید افراد کے ان سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ معاملہ ریاست کے اعلیٰ حکام کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے، اور آئندہ دنوں میں اس کی مزید تفصیلات منظرِ عام پر آ سکتی ہیں۔

    2017 سے کیس زیر التوا،ریاست حکومت گرانے،لانے میں مصروف،جسٹس اطہرمن اللہ

    اسلامک یونیورسٹی کے انتظامی امور پر چیف جسٹس کو خط

  • طبی ماہرین کی ٹیم نے کامیابی سےانیلہ نامی ریچھ کی  نکیل کو اتار دیا

    طبی ماہرین کی ٹیم نے کامیابی سےانیلہ نامی ریچھ کی نکیل کو اتار دیا

    فور پاز کی طبی ماہرین کی ٹیم نے انیلہ نامی ریچھ کی کامیابی سے نکیل کو اتار دیا دیگر سات ریچھوں کی بھی طبی دیکھ بھال کی جائے گی۔

    پاکستان میں جنگلی حیات کے تحفظ اور جانوروں کی فلاح و بہبود کی ایک بین الاقوامی تنظیم فور پاز نے اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے ساتھ مل کر پنجاب کے محکمہ جنگلی حیات کے ذریعے بچائے گئے آٹھ ریچھوں کا طبی دیکھ بھال شروع کر دیا۔ پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے پنجاب کا محکمہ جنگلی حیات نے ریچھوں کو بحفاظت ریسکیو کیا اور ان کے تحفظ اور طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ان کو اسلام آباد وائلڈ لائف کے حوالے کر دیا۔ ائی ڈبلیو ایم بی نے فور پاز کے ماہر جانوروں کے ڈاکٹروں کو تعاون کی درخواست کی اور اس سلسلے انیلہ نامی ریچھ کا جامع طبی معائنہ کیا گیا، جس کے دوران ٹیم نے ناک کا پن (نکیل)ہٹایا اور شکاریوں کے ہاتھوں زخمی ہونے والے ٹوٹے ہوئے دانتوں کا علاج کیا۔ مزید برآں، دیگر زخموں کی نشاندہی کی گئی اور ان کا کامیابی سے علاج کیا گیا، جس سے انیلہ کی صحت اور مستقبل کی صحت کو یقینی بنایا گیا۔

    فور پاز آنے والے دنوں میں پنجاب وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے بچائے گئے باقی سات ریچھوں کا معائنہ کرنے کے لیے تیار ہیں، انہیں ضروری طبی سہولت اور دیکھ بھال فراہم کی جائے گی۔ مزید برآں، فور پاز نے پرانے چڑیا گھر کے مقام پر ریچھوں کے لیے مستقل پناہ گاہ کے قیام کی سفارش کی ہے، جو ان بچائے گئے جانوروں کو پھلنے پھولنے کے لیے ایک محفوظ اور موزوں ماحول فراہم کرے گا۔فور پاز، آئی ڈبلیو ایم بی، اور پنجاب وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے درمیان یہ تعاون پاکستان میں جنگلی حیات کے تحفظ کی کوششوں میں ایک اہم قدم ہے۔ یہ ملک کی قیمتی جنگلی حیات کے تحفظ اور تحفظ میں سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں کے درمیان تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔فور پاوز جانوروں کی فلاح و بہبود کی ایک بین الاقوامی تنظیم ہے جو جانوروں کو بچانے، انہیں جامع دیکھ بھال فراہم کرنے اور ان کے تحفظ کی وکالت کرنے کے لیے وقف ہے۔

    راولپنڈی میں جنگلی ریچھ آبادی میں داخل ہوگیا

    وزیراعلٰی پنجاب کا جنگلی جانوروں کے تحفظ کیلئے وائلڈ لائف ریسکیو فورس کے قیام کا حکم

    ایچی سن کالج،گورنر پنجاب کا حکمنامہ،شہباز شریف کے قریبی احد چیمہ کے بیٹوں کی فیس معاف

    عالمی یوم جنگلات ،پنجاب کی تاریخ کی سب سے بڑی شجرکاری مہم 2024 شروع

    گوادر پورٹ اتھارٹی کمپلکس پر بی ایل اے کا حملہ ناکام بنادیا گیا، تمام 8 دہشتگرد ہلاک

    پاک فوج کیخلاف مہم چلانے والوں کا پی ٹی آئی سے تعلق نہیں، زین قریشی

    بیٹے نے میرے لیے اضافی بندوبست کردیا،شہید کیپٹن احمد کے والد کے جذبات

    مبشر لقمان کے ساتھ احترام کا رشتہ ہے اور رہے گا، شیر افضل مروت

    مبشر لقمان کو شیر افضل مروت کی جانب سے دیا گیا انٹرویو سننے کے لئے یہاں کلک کریں،

    دعا اور خواہش ہے حالیہ انتخابات ملک میں معاشی استحکام لائیں،آرمی چیف

  • بارکھان کوہلو سرحدی پہاڑ پر لگی آگ پر 25گھنٹے بعد قابو پالیا گیا

    بارکھان کوہلو سرحدی پہاڑ پر لگی آگ پر 25گھنٹے بعد قابو پالیا گیا

    کوہلو اور بارکھان کے وسط میں واقع کوہ سلیمان،کوہ جاندران جنگل شدید آگ کی لپیٹ میں آ گیا تھاآگ کے شعلے دور دارز علاقوں سے دکھائی دے رہے تھے تا ہم اب آگ پر قابو پا لیا گیا ہے،مختلف اداروں اور انتظامیہ نے آگ بجھانے میں حصہ لیا۔جنگل میں آگ لگنے سے سینکڑوں درخت اور قیمتی جڑی بوٹیاں جل کر راکھ ہوگئیں۔

    بارکھان کوہلو سرحدی پہاڑ پر لگی آگ پر 25گھنٹے بعد قابو پایا گیا۔  آگ لگنے کے بعد وزیر اعلیٰ بلوچستان نے امدادی ٹیم کو جلد بارکھان پہنچنے کی ہدایت دی تھی جس پر ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ٹیمیں امدادی سامان کے ساتھ روانہ کر دی تھیں، اسی سانحے کے بارے میں ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ آگ نے تقریباََ سو ایکڑ رقبے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔تاہم مختلف اداروں کی کاوشوں کے بعد آگ پر قابو پا لیا گیا،ڈی سی بارکھان بلال شبیر کا کہنا ہے کہ جندران کے پہاڑوں پر گزشتہ روز لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ، بارکھان ، پی ڈی ایم اے ،ضلعی انتظامیہ، ایف سی اورمحکمہ جنگلات نے آگ پر قابو پایا، کوئی انسانی جان و املاک اور جانوروں کا نقصان نہیں ہوا، تقریباً 100 ایکڑ سے زائد رقبے پر آگ پھیل چکی تھی،

    وزیر اعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے بارکھان کے پہاڑی جنگلات میں لگی آگ پر قابو پانے پر پی ڈی ایم اے، ایف سی، ضلعی انتظامیہ محکمہ جنگلات اور لیویز فورس کے جوانوں کو شاباش دی گی، وزیر اعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اظہار اطمینان کیا کہ مشترکہ کارروائی کی بدولت جنگلات میں لگی آگ پر قابو پا لیا گیا، تیز ہواؤں اور خشک جنگلی گھاس کی موجودگی کے پیش نظر ٹیموں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر میں اسٹینڈ بائی رکھا جائے، مشکل اور دشوار گزار پہاڑی جنگلات میں آگ بجھانے کی کارروائی میں حصہ لینے والے تمام جوانوں کی محنت اورکارکردگی کو سراہتے ہیں،

    آگ لگنے کی وجہ کا ابھی تک تعین نہیں ہو سکا ہے۔اہل علاقہ کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے آگ بجھانے کی کوششیں بہت تاخیر سے شروع ہوئیں جس کے نتیجے میں جنگل کے ایک بڑے علاقے کو نقصان پہنچا۔

    خیبرپختونخواہ حکومت کا کمال،تعلیمی اداروں میں اساتذہ کو تنخواہیں نہیں مل رہیں، سوشل میڈیا انفلونسرز کیلئے 87 کروڑ مختص

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    سوشل میڈیا پر عمران خان کی کامیابی کا راز فاش

    سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی دیرینہ دوست فرح گوگی کا ایک اور بڑا سکینڈل منظر عام پر آ

  • استور کے جنگل میں آگ پر تاحال قابو نہ پایا جاسکا،ہزاروں درخت جل گئے

    استور کے جنگل میں آگ پر تاحال قابو نہ پایا جاسکا،ہزاروں درخت جل گئے

    گلگت بلتستان کے علاقے استور کے ڈشکن کے جنگل میں گزشتہ روز سے لگی آگ پر قابو نہیں پایا جاسکا ہے۔

    باغی ٹی وی: استور میں ڈشکن کے مقام پر جنگل میں گزشتہ روز آگ لگ گئی تھی جو کہ پھیلتی جارہی ہے،آگ کی وجہ سے ہزاروں قیمتی درخت جل گئے ہیں جب کہ نایاب نسل کی جنگلی حیاتیات کو بھی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے آگ لگنے کی وجوہات اب تک معلوم نہیں ہوسکی-

    مقامی آبادی کے ساتھ محکمہ جنگلات اور دیگر ریسکیو کی ٹیمیں آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہیں جنگل دور افتادہ اور مشکل گزار پہاڑوں کے اوپر ہونے سے امدادی کارروائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    پی ٹی آئی کے آفیشل اکاؤنٹ سے جعلی ویڈیو شئیر کرنے پررانا ثناء اللہ کا …

    جاپان میں نئے جان لیوا وائرس کا انکشاف

    میڈیا رپورٹس کے مطابق آخری خبریں آنے تک ڈشکن کے جنگل میں لگنے والی آگ کی شدت میں کمی آنے لگی تھی، تاہم آگ کے بے قابو شعلوں کے باعث اس وقت تک جنگل کے درختوں کو کافی نقصان پہنچا ہے۔

    ضلع استور پاکستان کے صوبہ گلگت بلتستان کا ایک ضلع ہے۔ گلگت بلتستان کے سب سے مشہور کھیل پولو فیسٹیول ضلع استور کے گاؤں راما میں منعقد ہوتاہے ضلع استور گلگت بلتستان کے ان خوبصورت علاقوں میں شمار کیا جاتاہے جواپنی قدرتی حُسن سے مالامال ہے۔ ضلع استور جو سطح سمندر سے 2،600 میٹر بلندی پر واقع ہے گلگت شہر سے 120 کیلومیٹر پر واقع جو گلگت سے جگلوٹ شمال کی جانب اور مشرق کی جانب اسکردو جبکہ جنوب کی جانب چترال واقع ہےوادی استور گلگت بلتستان کا ایک پہاڑی اور دور افتادہ علاقہ ہے۔ انتظامی طور پر یہ وادی ضلع دیامر میں شامل تھی-

    فیصل آباد سے بدنام زمانہ انتہائی مطلوب انسانی اسمگلر کو گرفتار

    آئی ایم ایف کا اعتراض،بجٹ میں پیش کردہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم واپس لے لی گئی

    انسانی اسمگلنگ میں ایجنٹ مافیا کے ساتھ اداروں کے افسرملوث ہوتے ہیں،وزیر دفاع

  • امریکہ:گرمی کا قہر،دسیوں ہزارایکڑجنگل تباہ،ہلاکتیں،ہسپتال مریضوں سے بھرگئے

    امریکہ:گرمی کا قہر،دسیوں ہزارایکڑجنگل تباہ،ہلاکتیں،ہسپتال مریضوں سے بھرگئے

    واشنگٹن:امریکہ:گرمی کا قہر،دسیوں ہزارایکڑجنگل تباہ،ہلاکتیں،اطلاعات ہیں کہ امریکی ہسپتال مریضوں سے بھرگئےامریکہ کے مختلف علاقوں میں گرمی اور بڑھتے درجہ حرارت سے بحرانی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور اب وہاں متعدد افراد کے مرنے اور دسیوں ہزار ایکڑ جنگلات کے جل کر راکھ ہو جانے کی خبر ہے۔

    امریکی ذرائع ابلاغ نے اعلان کیا ہے کہ شمال مغربی ریاست آئیداہو میں گرمی کی شدت سے اب تک دسیوں ہزار ایکڑ میں پھیلے جنگلات جل کر راکھ ہو چکے ہیں جبکہ سات افراد کو بھی اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ فائر فائٹنگ آپریشن کے دوران ایک ہیلی کاپٹر بھی اس ریاست میں گر کر تباہ ہو گیا جس میں سوار دونوں پائلٹ مارے گئے۔ یہ واقعہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اپنی نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے۔

    گزشتہ ہفتے بھی نیومیکسیکو کے جنگلات میں لگی آگ بجھانے کے آپریشن میں شرکت کے بعد واپس جا رہے چار افراد ایک ہیلی کاپٹر سانحے میں ہلاک ہو گئے تھے۔اس سے قبل گزشتہ مہینے بھی الاسکا کے جنگلات کی آگ بجھانے کے عمل میں شامل ایک شخص ہیلی کاپٹر گرنے کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔

    امریکہ کے جنوب مرکزی علاقوں سے شمال مشرقی و مغربی علاقوں تک گرمی کی ایک شدید لہر ہے جس نے دسیوں لاکھوں امریکی شہریوں کی زندگی کو متاثر کیا ہے اور جنگلات میں آتش زدگی کے دسیوں واقعات پیش آ چکے ہیں۔رپورٹ کے مطابق کم از کم دس کروڑ امریکیوں کو ہیٹ ویو چیلنج کا سامنا ہے۔

  • مارگلہ ہلز پرآگ لگا کر ویڈیو بنانے والی خاتون ٹک ٹاکر کے خلاف مقدمہ درج

    مارگلہ ہلز پرآگ لگا کر ویڈیو بنانے والی خاتون ٹک ٹاکر کے خلاف مقدمہ درج

    مارگلہ ہلز میں آگ لگا کر ویڈیو بنانے والی خاتون ٹک ٹاکر کے 3 ساتھی گرفتار کر لئے گئے ہیں

    گرفتار افراد میں پروڈیوسر، کیمرہ مین اور ویڈیو ایڈیٹر شامل ہیں تینوں افراد کو تھانہ کوہسار منتقل کردیا گیا ،ملزمان کی نشاندہی پر خاتون ٹک ٹاکر کی گرفتاری کے لیے پولیس ٹیم لاہور روانہ ہو گئی ہے پولیس کا کہنا ہے کہ جلد خاتون ٹک ٹاکرکو بھی گرفتار کرلیا جائے گا،

    قبل ازیں مارگلہ ہلز پر آگ کے قریب ویڈیو بنانے والی خاتون ٹک ٹاکر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ،مقدمہ تھانہ کوہسار میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر شعبہ ماحولیات سی ڈی اے کی مدعیت میں درج کیا گیا ،درج ایف آئی آر میں کہا گیا کہ سوشل میڈیا پر ڈولی نامی ٹک ٹاکر کی ویڈیو گردش کررہی ہے خاتون جنگل میں آگ لگا کر ویڈیو شوٹ کروارہی تھی، مبینہ طور پر مارگلہ ہلز نیشنل پارک کا علاقہ ہے جہاں آتشزدگی کے متعددواقعات ہوئے ہیں،آگ سے چرند پرند پودوں اور درختوں وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا ہے ،

    سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں مارگلہ پہاڑیوں پر لگی آگ اور اس کے پاس ماڈل کو فوٹو شوٹ کرتے دیکھا جا سکتا ہے ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے

    سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ محکمہ جنگلات کو جواب دینا پڑے گا کہ انہوں نے اجازت کیسے دی؟اگر نہیں دی تو کہاں سو رہے تھے؟ اگر آگ پھیل جاتی تو نقصان کا ذمہ دار کون ہوتا؟ متعلقہ افسران اور اس خاتون ڈولی کیخلاف سخت کاروائی ہونی چاہیئے-

    ایک صارف نے کہا کہ اس خاتون کا نام ڈولی ہے، یہ لاہور کے علاقے گلبرگ میں پہلے مین بلیوارڈ پر میک اپ سیلون چلاتی تھی اور تب اس کے پاس جدید ماڈل کی مرسڈیز ہوتی تھی، اس کےبعد انہوں نے ایم ایم عالم کے عقب میں اپنا پارلر شفٹ کیا۔ بہت اوپر تعلقات کے باوجود وجہ شہرت ٹک ٹاکر ہونا ہے۔

    قبل ازیں ایبٹ آباد میں بھی ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا جس کے بعد پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے ٹک ٹاکر کو گرفتار کر لیا تھا،محکمہ جنگلات و وائلڈ لائف ایبٹ آباد ریجن نے ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کی خاطر جنگل کو آگ لگانے والے ٹک ٹاکر کے خلاف درخواست دی تھی، نوجوان کی ویڈیو وائرل ہو گئی تھی جس کے بعد محکمہ حرکت میں آیا اور مقدمہ درج کروا کر ملزم کو گرفتار کر لیا گیا، حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی جائے گی

    دو خواجہ سراؤں کا قتل،پولیس نے خواجہ سراؤں کو دھکے مار کر تھانے سے نکال دیا

    پشاور میں پہلی بار خواجہ سراء کو منتخب کر لیا گیا، آخر کس عہدے کیلئے؟

    خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزمان گرفتار

    دوستی نہ کرنے کا جرم، خواجہ سراؤں پر گولیاں چلا دی گئیں

    مردان میں خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالے ملزما ن گرفتار

  • جنگل میں رہنے والی عورت جو مردار کھاتی اور جانوروں کی کھال پہنتی ہے

    جنگل میں رہنے والی عورت جو مردار کھاتی اور جانوروں کی کھال پہنتی ہے

    برطانوی خاتون کا کہنا ہے کہ غاروں میں پتھر کے عہد کی زندگی سے انہیں بچپن میں ہی محبت ہوگئی تھی-

    باغی ٹی وی : غیرملکی میڈیا کے مطابق برطانوی خاتون سارہ ڈے نے خود کو غار میں رہنے والی عورت قرار دیا ہےوہ خیمےمیں رہتی ہیں،مردارجانورکھاتی ہیں اور ان کی کھال سے تن ڈھانپتی ہیں پیشے کے لحاظ سے 34 سالہ سارہ ڈے بچوں کو تاریخ اور مشکل حالات میں زندہ رہنے کے طریقے سکھاتی ہیں لیکن وہ خود شہر چھوڑ کر جنگلات میں جاتی ہیں۔

    برطانیہ: 20 سالہ لڑکی نے اپنی پیدائش سے متعلق ڈاکٹر کیخلاف انوکھا مقدمہ جیت لیا

    گاڑیوں کی ٹکر سے ہلاک ہونے والے جانور سارہ ڈے کی غذا بنتے ہیں جبکہ وہ جڑی بوٹیوں سے علاج کرتی ہیں اور حیوانات کی کھال سے لباس بناتی ہیں سارہ نے کبوتر کے پر، خرگوش، گلہری اور چوہے کا گوشت بھی کھایا ہے جن کی لاشیں ہفتے میں ایک مرتبہ مل ہی جاتی ہیں جو کاروں کی ٹکر سے مرجاتے ہیں لیکن وہ 24 گھنٹے سے زائد پرانی لاش نہیں کھاتیں وہ گرم اور حال میں ہی مرا ہوا جانور کھانا پسند کرتی ہیں۔

    شہزادی کیٹ مڈلٹن محقق بن گئیں


    سارہ نے بتایا کہ اگر جانور نہ ملے تو وہ پودے اور جنگلی پھل کھاکرگزارہ کرتی ہیں تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ بعض پھل اور جڑی بوٹیاں بیمار بھی کرسکتی ہیں اسی لیے وہ ان کی مکمل معلومات پر زور دیتی ہیں پھر کھانسی اور بخار یا دردسر میں بھی وہ جڑی بوتیوں سے خود اپنا علاج کرتی ہیں مثلاً جنگلی چیری کے درخت سے حاصل ہونے والی گوند سے وہ گلے کی خراش اور درد سر کا علاج کررہی ہیں اگر کبھی کو ہرن کی لاش مل جائے تو وہ اس کی کھال سے اپنے جسم کو ڈھانپتی ہیں جانوروں کی ہڈیوں کو وہ مختلف اوزار اور ہتھیاروں میں ڈھالتی ہیں

    سارہ ڈے کا کہنا ہے کہ غاروں میں پتھر کے عہد کی زندگی سے انہیں بچپن میں ہی محبت ہوگئی تھی اگرچہ ان کا گھرشہر میں ہے اور وہ اسکول میں پڑھاتی ہیں لیکن زیادہ تر جنگل میں ہی رہتی ہیں۔

    دو کبوتروں کی شاہانہ زندگی ، جن پر سالانہ 9 لاکھ روپے خرچ کئے جاتے ہیں

  • رنگ باز

    رنگ باز

    معاشرہ انسانوں کا جنگل ہے۔ جہاں رہتے ہوئے انسان کو آئے روز مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انسانوں کا واسطہ انسانوں سے ہی پڑتاہے۔ ہر انسان مجبور یوں ، ضرورتوں اور مفادات کا غلام ہے۔ وہ روز باہر نکلتاہے تاکہ اس جنگل میں اپنی صلاحیت اور حیثیت کے مطابق اپنا حصہ گھر لا سکے۔ صبح ہوتے ہی انسانوں کا ریلا گھروں سے نکلتاہے جو بظاہر تو الگ الگ کام دھندے کرتے نظر آتے ہیں مگر ان سب کے پیچھے ایک مقصد کارفرما ہوتاہے کہ اس انسانوں سے بھرے جنگل میں وہ اپنا حصہ کیسے حاصل کریں۔
    کسی نے کیاخوب کہا ہے کہ ” بندہ بندے دا دارو اے تے بندے ای بندے دا مارو اے ”
    اس کاروبار زندگی میں سب انسان برسرپیکار نظر آتے ہیں. کچھ ایمانداری سے کچھ بے ایمانی سے ، کوئی زور زبردستی اور دھونس دھاندلی سے ، کوئی پیار اخلاق اور رواداری سے کوئی مانگے تانگے سے اپنا اپنا حصہ اکٹھا کرتا پھرتا ہے۔ کسی کو اسکی سوچ کے مطابق، کسی کو کم اور کسی کو اپنی اوقات سے کہیں زیادہ حصہ ملتاہے اور کسی کو لاکھ کوشش کے باوجود بھی کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ جنہیں معقول حصہ ملتاہے وہ صبر شکر کرتے ہیں ،جنہیں کم ملتاہے وہ واویلا مچاتے ہیں. اور کجن کا ہاتھ بڑے حصے پر پڑ جاتا ہے وہ اپنا حصہ لے کرآگے آگے اور جنہیں حصہ نہیں ملتا اُسکے آگے پیچھے چلتے کچھ دُم ہلاتے نظر آتے ہیں کہ شائد کچھ انہیں بھی مل جائے .
    کچھ راہ میں صرف چھینا جھپٹی کے لیے بیٹھے رہتے ہیں ۔اور دوسروں کا حصہ چھین کر اتراتے پھر تے ہیں ۔ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کچھ نہیں کرتے مگر اُن کی بڑی دھاک ہوتی ہے اور انہیں اُن کا حصہ اُن کے گھر پہنچ جاتاہے۔

    جن کے پاس اُن کی ضرورت سے کہیں زیادہ جمع ہوجاتاہے اُن کی حوس بھی اُتنی ہی بڑھ جاتی ہے وہ بڑے بڑے کارخانے اور فیکٹریاں بناتے ہیں ۔دولت کو کئی گُنا کرنے کے طریقے اپناتے ہیں ۔ اور دولت اور جائیدادوں کے انبار لگاتے ہیں اورپھر اُن میں سے اکثر خود کو خدا ترس عوام دوست اور سخی ثابت کرنے کے لیے خیراتی ادارے ، ہسپتال اور مفت کھانوں کے دسترخوان بھی سجاتے نظر آتے ہیں۔ مگر اپنے کارخانوں میں کام کرنے والوں کو دو وقت کی روٹی تو دور وقت پر مزدوری تک دینے سے بھی ان کی جان جاتی ہے۔

    رنگ باز کسی رام چوبارے سے، کسی گلی کے نکڑ سے، کسی کھڑکی کے پیچھے سے نیشنل جیوگرافی کے کسی فوٹو گرافر کی طرح سب کا تماشا دیکھ رہا ہوتا ہے کہ کیسے خود کو اشرف المخلوق کہنے والے انسان اپنے حصے کی تلاش میں مارا مارا پھرتاہے۔ کوئی مارا ماری کرتا پھرتاہے ۔کچھ دست گریباں ہیں ۔کچھ کو دووقت کی روٹی میسر نہیں اور کچھ کے پاس دولت کے انبار لگے ہوئے ہیں ۔
    لیکن وہ خود کونسا فرشتا ہوتاہے یا پھر اُس کے لیے کونسا من وسلوا اُترتاہے ۔اُسے بھی پیٹ لگا ہوتاہے ۔اس لئے اسے بھی روزباہر نکلنا پڑتاہے ۔ لوگوں سے ملنا پڑتاہے اپنا حصہ ڈھونڈنا پڑتاہے۔
    لیکن رنگ باز کسی کا حق نہیں مارتا۔ کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ اپنے فن سے وہ اپنا حصہ کماتاہے ۔رنگ باز ایک ایسا کریکٹر ہے ۔جو ہر معاشرے میں پایا جاتاہے ۔ رنگ باز کی جو تعریف ہم سُنتے آئے ہیں وہ حقیقت میں رنگ باز نہیں بلکہ موقع پر ست کی تعریف ہے ۔
    رنگ باز تو کوئی الگ ہی مخلوق ہے۔وہ زندنگی میں رنگ بھرتاہے ،انسانوں کو ہنساتاہے ، انہیں حیران کرتاہے ، انہیں سوچنے پر مجبور کرنے والا کردارہے ۔ رنگ باز زندگی سے چڑتانہیں ، جھگڑتا نہیں، زندگی سے بھاگتا نہیں بلکہ زندگی کو گلے لگا کر اس کے رنگوں اور اسکے انگوں کا لُطف اُٹھاتاہے ۔اور زندگی سے الجھتے لوگوں بھی رنگ سمیٹنے کی دعوت دیتاہے ۔

    رنگ باز انسانوں کے معاشرے کا وہ کردار ہے جو سب کچھ سمجھتے ہوئے بھی انجان بنا رہتاہے۔ وہ سب کوالُجھا ہوا چھوڑ کر خود اُلجھن سے نکل جاتاہے ۔ رنگ باز ایسا فنکار ہوتاہے جو اپنے فن سے آشنا ہوتاہے لیکن اپنے فن کو بے جاحصہ حاصل کرنے میں ضائع نہیں کرتا۔وہ اُتنا حصہ لیتاہے جتنی اُسکی ضرورت ہوتی ہے۔ رنگ باز ایک الگ ہی طرح کا انسان ہوتاہے ۔اسے انسانوں سے ملنے اُن سے باتیں کرنے انہیں ہنسانے اور کبھی انہیں الجھانے میں زیادہ لُطف آتاہے ۔ کبھی کوئی اسے جوکر کہتاہے ،کوئی مسخرہ سمجھتا ہے کوئی باتونی تو کوئی چول یا پھر جوکر .مگر رنگ باز سب کی سُن کر ہنستا آگے بڑھ جاتاہے ۔

    رنگ باز کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتا مگر اپنی ذہانت اور چکنی چیڑی باتوں سے خود کو تھوڑا بہت فائدہ ضرور پہنچا تاہے ۔ رنگ باز بہت ہی ہنس مکھ، حاضر جواب ،اور صورتحال کے مطابق ڈھلنے والا یا پھر یوں کہیے کہ صورتحال کو اپنے حق میں ڈھالنے کی صلاحیت رکھتاہے۔ مگر وہ موقع پرست نہیں ہوتا بلکہ موقع کا درست استعمال جانتاہے ۔ مفت کے مشورے دینے میں اُس سے بڑھ کر کوئی نہیں ہوتا مگر غلط مشورہ نہیں دیتا۔ کوئی راستہ پوچھ لے تو گھر تک چھوڑ کرآنے میں خوشی محسوس کرتاہے ۔

    لوگ اپنی زندگیوں میں سارا دن اپنے تھوڑے بہت حصے کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں۔ لیکن رنگ باز زندگی کے رنگوں کی تلاش میں پھرتاہے ۔۔ وہ رنگ اکٹھے کرتا ہے بانٹاہے ، بکھیرتاہے ۔اورزندگی میں رنگ بھرتاہے۔کیونکہ اُس کی بھوک بہت کم ہوتی ہے ۔
    وہ لوگوں کی خوشی میں بھی بن بلائے پہنچ جاتاہے تو دُکھ میں بھی۔ چاہے کرسیاں لگوانی ہوں یا کھانا تقسیم کروانا ہووہ سب سے آگے نطر آتاہے ۔ آخرمیں خود بھی پیٹ پھر کر کھانا کھا کر چلتا بنتاہے۔
    لوگ اپنی زندگیوں سے ایسے جونجتے پھر تے ہیں ایسے لڑتے پھرتے ہیں کہ زندگی کے رنگوں کو دیکھنے کی حس کھوبیٹھتے ہیں ۔لیکن رنگ باز نہ صرف خود ان رنگوں سے لطف اندوز ہوتاہے بلکہ اورں کو بھی رنگ بانٹتا اورکبھی آئینہ دکھاتا گزر جاتاہے۔۔ رنگ باز کوڈھونڈنا مشکل نہیں ۔ وہ پہاڑوں کی بلندیوں پر نہیں بستا۔۔ آپ کے ارد گرد ہی کہیں گھومتا پھر تا ہے۔