Baaghi TV

Tag: جنگی مشقیں

  • چینی سرحدوں پرامریکہ اوربھارت کی جنگی مشقیں

    چینی سرحدوں پرامریکہ اوربھارت کی جنگی مشقیں

    واشنگٹن: چین کو اشتعال دلانے کی کوشش، واشنگٹن کا بھارت کے ساتھ چینی سرحد پر جنگی مشقوں کا اعلان,اطلاعات کے مطابق چین کو مزید اشتعال دلانے کی کوشش کرتے ہوئے واشنگٹن نے بھارت کے ساتھ متنازع چینی سرحد پر جنگی مشقوں کا اعلان کر دیا۔

    روس یوکرین تنازعہ:توانائی بحران:یورپ کی سلامتی کوخطرات لاحق ہوگئے

    تفصیلات کے مطابق نینسی پلوسی کے دورہ تائیوان کے بعد امریکا کی جانب سے چین کو اشتعال دلانے کی ایک اور کوشش سامنے آ گئی۔ واشنگٹن نے بھارت کے ساتھ چینی سرحد کے قریب جنگی مشقوں کا اعلان کر دیا۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکا اور بھارت کے درمیان فوجی مشقیں اکتوبر میں ہوں گی، مشقوں میں اعلیٰ سطح کی فوجی تربیت پر توجہ مرکوز رکھی جائے گی۔

    روس کےخلاف لڑائی کےلیےامریکہ کی یوکرین کو550 ملین ڈالرزکی تازہ امداد

    دوسری جانب چین اور تائیوان کا تنازعہ خطرناک رخ اختیار کرنے لگا ہے، تائیوان نے بھی جنگی طیاروں کی پروازیں اور بحری گشت بڑھا دیا۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق تائیوان نے ممکنہ چینی حملے کے خلاف ساحل پر نصب میزائل بھی الرٹ کر دیے ہیں۔تائیوان حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ چین کی فوجی مشقیں حملے کی تیاری ہیں، چین کی افواج ہماری فضائی اور بحری حدود میں داخل ہو چکی ہیں۔

    برطانیہ نے روس کے خلاف لڑنے کےلیے یوکرینی فوجیوں کواسکاٹ لینڈ میں ٹریننگ دینا شروع

    پلوسی کے دورے کے موقع پر چین نے رد عمل میں تائیوان کے اطراف سمندر میں کئی میزائل داغ دیے تھے، چین نے تائیوان کے اردگرد بڑے پیمانے پر فوجی مشقیں بھی شروع کر دی تھیں۔

  • یوکرینی شہریوں نے جنگی مشقوں کا آغاز کر دیا

    یوکرینی شہریوں نے جنگی مشقوں کا آغاز کر دیا

    یوکرینی شہریوں نے جنگی مشقوں کا آغاز کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یوکرین پر روس کی جانب سے ممکنہ حملے کے خطرے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

    ایک طرف کئی ممالک اپنے شہریوں کا انخلا کر رہے ہیں وہیں دوسری جانب یوکرینی شہریوں نے جنگی مشقوں کا آغاز کر دیا ہے، یوکرین نیشنل گارڈ ایزوف بٹالین کے سابق اہلکار دارالحکومت کیف میں شہریوں کو لڑنے کی تربیت دے رہے ہیں نیشنل گارڈ کی جانب سے شہریوں کو بندوق کے استعمال اسے چلانے گولہ بارود لوڈ کرنے اور اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے تربیت دی گئی جس سے وہ اپنے دفاع کے لیے استعمال کر سکتے ہیں

    ایک 79 سالہ مقامی رہائشی کا کہنا تھا کہ وہ روسی حملے کی صورت میں اپنے خاندان کے دفاع کے لیے تیار رہنا چاہتی ہیں

    دوسری جانب کینیڈا نے اپنے کچھ فوجیوں کو یوکرین سے یورپ منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے کینیڈین وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فوجیوں کی منتقلی عارضی ہوگی فیصلہ فوجیوں کی حفاظت کے لیے کیا گیا ہے وزارت دفاع کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کینیڈین فوجیوں کی منتقلی کا مقصد یوکرین میں مشن بند کرنا نہیں۔

    قبل ازیں برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سفارتکاری کے ذریعے یوکرین بحران میں کمی کے لیے متحرک ہوگئے ہیں، ترجمان برطانوی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ بورس جانسن اتحادیوں سے مل کر کشیدگی میں کمی کی کوشش کریں گے، یوکرین پر حملہ خود روس کے لیے بھی تباہ کن ہوگا

    یوکرین کے وزیر خارجہ دیمترو کلیبا کا کہنا ہے کہ روس نے سرحدوں پر فوجی اجتماع کے بارے میں رسمی وضاحت کی درخواست کو مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگلے مرحلے میں ہم آئندہ 48 گھنٹوں میں روسی منصوبے پر ٹرانسپرینسی کے بارے میں میٹنگ کی درخواست کریں گے روس یوکرین کی سرحد پر تقریبا ایک لاکھ فوج جمع کرنے باجود اس بات سے انکار کر رہا ہے کہ وہ یوکرین پر کسی قسم کی جارحیت کی منصوبہ بندی کر رہا ہے

    امریکا کا کہنا ہے کہ ماسکو کسی بھی وقت فضائی بمباری کے ساتھ یوکرین کے ساتھ جنگ شروع کرسکتا ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان جاری کشیدگی کی وجہ سے درجن سے زائد ممالک اپنے شہریوں کو یوکرین چھوڑنے کی درخواست کرچکے ہیں کچھ ممالک نے دارالحکومت سے اپنے سفارتی حملے کو بھی واپس بلا لیا کریمیا اور ماسکو کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کی وجہ سے گزشتہ دنوں ہونے والی امریکی صدر جو بائیڈن اور روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ہونے والے ٹیلی فونک مذاکرات بھی کسی نتیجے کے بنا ختم ہوگئے ہیں

    سیکریٹری اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے روس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر روس نے روکرین پر کسی قسم کی جارحیت کی تو وہ اس پر مفلوج کردینے والی پابندیاں عائد کریں گے

    روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ

    ہ برطانیہ سمیت کئی دوسرے ممالک نے بھی اپنے شہریوں کو وہاں سے نکل جانے کی اپیل

    امریکی صدر جوبائیڈن سے جرمن چانسلر اولاف شُولس کی وائٹ ہاوس میں ملاقات

    وس نے یوکرین پر حملے کی 70 فیصد تیاری مکمل کرلی

    بھارت مکاری کا شہنشاہ:مفاد پرمبنی پالیسیاں:چین کے خلاف امریکہ کا اتحادی:یوکرین پرامریکہ کا مخالف

  • روس کی ایران اور چین سے فوجی مشقیں:بیلا روس کےساتھ بھی ہنگامی فوجی مشقیں شروع کرنے کا اعلان

    روس کی ایران اور چین سے فوجی مشقیں:بیلا روس کےساتھ بھی ہنگامی فوجی مشقیں شروع کرنے کا اعلان

    ماسکو:روس کی ایران اور چین فوجی مشقیں جاری: بیلا روس کے ساتھ بھی ہنگامی فوجی مشقیں شروع کرنے کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق روس کی بیلا روس کے ساتھ ہنگامی فوجی مشقیں شروع کےاعلان نے امریکہ اور اتحادیوں‌پر بجلی گرادی ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ امریکہ نے روس کودھمکی آمیز پیغام بھیجنے کا پھرفیصلہ کیا ہے

    اطلاعات کے مطابق روس نے فوجی مشقوں کے لیے 2 فضائی دفاعی سسٹم بیلاروس بھیج دئیے،اور تازہ ترین اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ روس اور بیلاروس کے درمیان فوجی مشقیں 10 فروری کو شروع ہوں گی،اس سلسلے میں‌ فضائی دفاعی میزائل سسٹم اور 12 ایس یُو 35 جنگی طیارے بھی بیلاروس بھیجے جائیں گے،

    روسی دفاعی حکام کے مطابق روسی ایس 400 بیلاروس میں متوقع مشترکہ فوجی مشقوں میں شرکت کریں گے،

    ادھر پہلے ہی ایران، روس اور چین کے بحری بیڑوں نے بحیرہ ہند کے شمال میں وسیع پیمانے کی مشترکہ فوجی مشقیں شروع کر دی ہیں۔

    ادھر ایران کی سرکار ی خبر رساں ایجنسی IRNA کے مطابق "2022 بحری سلامتی بیلٹ ” کے زیرِ عنوان اور "مِل کر امن و سلامتی کے لئے” کے سلوگن کے ساتھ بحیرہ ہند کے شمال میں 17 ہزار مربع کلو میٹر علاقے میں مشترکہ فوجی مشقیں جاری ہیں۔

    خبر کے مطابق مشقوں میں ایران کابحری بیڑہ ، پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے جنگی بحری جہاز اور فضائی یونٹیں اور روس اور چین کے جنگی و لاجسٹک بحری جہاز شامل ہیں ۔

    مشقوں کے ترجمان ایڈمرل مصطفیٰ تاج الدین نے کہا ہے کہ باب المندب، مالاکہ اور آبنائے ہرمز جیسی اہم آبی گزرگاہوں کے ساتھ رابطے کی وجہ سے بحیرہ ہند کا شمالی حصہ اہمیت کا حامل علاقہ ہے۔

    انہوں نے کہا ہے کہ "یہ مشقیں، طلائی تکون کے نام سے معروف اور عالمی تجارت کے لئے کلیدی اہمیت کے حامل علاقے میں، تینوں ممالک کے مفادات کے تحفظ اور پائیدار بحری سلامتی کو یقینی بنانے کی ایک مشترکہ کوشش ہیں”۔

    تاج الدین نے کہا ہے کہ مشقوں میں جلتے ہوئے بحری جہاز کو بچانے، اغوا شدہ بحری جہاز کی رہائی، متعینہ اہداف اور رات کے وقت فضائی اہداف کو نشانہ بنانے جیسے مختلف آپریشن کئے جائیں گے۔

    انہوں نے کہا ہے کہ بین الاقوامی بحری تجارت کی سلامتی کو تقویت دینا، بحری ٹوئرازم اور بحری قزاقوں کے خلاف جدوجہد، تلاش و بچاو کے علاقوں میں معلومات کا تبادلہ اور جنگی چالوں کے آپریشنوں میں تجربات کا تبادلہ مشقوں کے سرفہرست اہداف ہیں۔

    واضح رہے کہ "بحری سلامتی بیلٹ ” کے زیرِ عنوان موجودہ مشقیں ایران، روس اور چین کے درمیان تیسری مشقیں ہیں۔مذکورہ مشقوں کی پہلی مشقیں دسمبر 2019 میں کی گئی تھیں۔