Baaghi TV

Tag: جنگ بندی مذاکرات

  • پاک افغان جنگ بندی مذاکرات 25 اکتوبر کو استنبول میں ہوں گے

    پاک افغان جنگ بندی مذاکرات 25 اکتوبر کو استنبول میں ہوں گے

    وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاک افغان جنگ بندی معاہدہ بنیادی طور پر افغان طالبان کے رویے پر منحصر ہے اور معاہدے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کوئی دراندازی نہیں ہونی چاہیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کا دارومدار سرحد پار دہشت گردی روکنے پر ہے اور پاکستان کے اس موقف کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ خواجہ آصف نے برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ سعودی عرب، ترکی اور قطر کی کوششوں سے پاکستانی موقف کی تائید ہوئی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ فتنہ الخوارج افغان طالبان کے ساتھ مل کر سرحد پار سے حملے کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اس لیے معاہدہ اسی صورت میں برقرار رہے گا جب کوئی خلاف ورزی نہ ہو۔

    وزیرِ دفاع نے خبردار کیا کہ کابل کو ’نو گو ایریا‘ سمجھا نہیں جائے گا اور جہاں بھی شدت پسند ہوں، پاکستانی افواج کارروائی کر سکتی ہیں — پاکستان نے بعض مقامات پر جواباً فضائی کارروائیاں بھی کی ہیں۔خواجہ آصف کے مطابق معاہدے پر عملدرآمد کا طریقہ کار طے کرنے کے لیے مذاکرات کا اگلا دور 25 اکتوبر کو استنبول میں منعقد ہوگا

    سعودی عرب میں گھریلو ملازمین سے فیس وصولی پر پابندی، 20 ہزار ریال جرمانہ

    کگیسو ربادا کا کارنامہ: جنوبی افریقہ کا 119 سالہ ٹیسٹ ریکارڈ ٹوٹ گیا

    وزیراعظم سمیت 25 فیصد ارکان اسمبلی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے،فافن رپورٹ

  • حماس کا دوٹوک مؤقف، امریکی صدر کا بیان مسترد کر دیا

    حماس کا دوٹوک مؤقف، امریکی صدر کا بیان مسترد کر دیا

    حماس کے سینئر رہنما عزت الرشیق نے جنگ بندی مذاکرات سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی قیادت کا مؤقف حقیقت کے برخلاف ہے۔

    غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس کے سیاسی ونگ کے اہم رہنما عزت الرشیق نے واضح کیا کہ امریکی صدر ٹرمپ اور ایلچی اسٹیو وٹکوف کی طرف سے حماس کے رویے سے متعلق دیے گئے بیانات گمراہ کن اور ناقابل قبول ہیں۔انہوں نے کہا کہ حماس نے مذاکرات میں سنجیدہ لچک کا مظاہرہ کیا اور ہم اب بھی غزہ کے لیے ایک جامع اور دیرپا معاہدے کے لیے پرعزم ہیں۔

    عزت الرشیق کا کہنا تھا کہ ایسے بیانات مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچاتے ہیں، اور اس قسم کی غیر ذمے دارانہ رائے زمینی حقائق کو نظرانداز کرتی ہے۔ حماس امن اور انصاف پر مبنی حل کی خواہاں ہے اور اسی سمت میں بات چیت جاری رکھنا چاہتی ہے۔

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے کیس پر میرے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر لیا گیا: اسحاق ڈار

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے کیس پر میرے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر لیا گیا: اسحاق ڈار

    ملک بھر میں سونے کی قیمت میں مسلسل تیسرا دن کمی

  • حوثیوں کا بحری جنگ میں نیا حملہ: جنگ بندی مذاکرات مشکل میں،تحریر ، ناصر اسماعیل

    حوثیوں کا بحری جنگ میں نیا حملہ: جنگ بندی مذاکرات مشکل میں،تحریر ، ناصر اسماعیل

    صنعاء/غزہ: یمنی حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر میں اسرائیل سے تجارت کرنے والے ایک اور تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے خلاف جنگ بندی کے مذاکرات میں نئی رکاوٹیں پیدا ہو گئی ہیں۔

    بحری راستوں پر حوثیوں کا کنٹرول
    حوثی ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق:
    – "ہم نے اپنا وعدہ پورا کیا ہے۔ اسرائیل کو سپورٹ کرنے والا کوئی بھی جہاز محفوظ نہیں ہوگا”
    – گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں یونانی پرچم والے جہاز "ٹیوٹر” کو نشانہ بنایا گیا
    – جہاز میں موجود 25 ملاحوں میں سے صرف 6 کو بحفاظت نکالا جا سکا

    غزہ: جنگ کے ایک اور خونریز دن
    مقامی ذرائع کے مطابق:
    – رفح کے علاقے میں اسرائیلی فضائی حملے میں 23 شہری ہلاک
    – متاثرین میں 8 بچے اور 5 خواتین شامل
    – مقامی ہسپتالوں میں زخمیوں کا انبار، طبی سہولیات ناکافی

    مذاکرات کا اہم موڑ
    قطر میں جاری مذاکرات کے بارے میں خصوصی ذرائع کا کہنا ہے:
    – "نطزاریم کوریڈور” پر تنازعہ سب سے بڑی رکاوٹ
    – حماس کا اصرار: اسرائیلی فوجی مکمل انخلا کریں
    – اسرائیلی موقف: سلامتی کے لیے راستہ پر کنٹرول ضروری

    علاقائی ردعمل
    – ترکی: زبانی مذمت کے باوجود اسرائیل سے تجارت جاری
    – آذربائیجان: تیل کی ترسیل کے بدلے جدید اسلحہ حاصل کر رہا
    – ایران: حوثیوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے

    انسانی حقوق کی پامالی
    اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کا دعویٰ:
    – "غزہ میں انسانی المیہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے”
    – "امریکی پابندیاں حقائق کو چھپانے کی کوشش”

    اختتامیہ:
    صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ آنے والے دنوں میں نہ صرف بحیرہ احمر میں بحری تجارت کو خطرات لاحق ہوں گے، بلکہ غزہ میں انسانی المیے میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے فوری اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔

  • روس سے جنگ بندی مذاکرات،امریکہ کا یوکرین کو شریک نہ کرنے کا انکشاف

    روس سے جنگ بندی مذاکرات،امریکہ کا یوکرین کو شریک نہ کرنے کا انکشاف

    یوکرین حکومت کے ایک ذرائع نے بتایا ہے کہ کیف کو امریکا اور روس کے درمیان یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں مدعو نہیں کیا گیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرین کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی کیتھ کیلوگ نے کہا تھا کہ کیف پیر کو سعودی عرب میں ہونے والے مذاکرات میں شامل ہوگا، لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ یوکرین کاکوئی بھی وفد سعودی عرب میں موجود نہیں ہوگا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ یورپی رہنماؤں کو بھی مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے نہیں کہا گیا اور وہ پیرس میں فرانسیسی صدر کی جانب سے منعقد ہونے والے ہنگامی سربراہی اجلاس میں ملاقات کریں گے، کیونکہ خدشہ ہے کہ ’براعظم یورپ مذاکرات سے باہر ہو چکا‘ ہے۔یہ الگ الگ ملاقاتیں ایک ہنگامہ خیز ہفتے کے بعد ہوئی ہیں، جس میں واشنگٹن نے یوکرین کی جنگ کے بارے میں اپنے نقطہ نظر میں زبردست تبدیلی کا اشارہ دیا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے مشرق وسطیٰ کے سفیر اسٹیو وٹکوف نے تصدیق کی ہے کہ وہ سعودی عرب جا رہے ہیں، جہاں وہ امریکا اور روس کے درمیان تنازع کے خاتمے کے لیے ہونے والی پہلی بات چیت میں شرکت کریں گے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز انکشاف کیا تھا کہ وٹکوف نے پیوٹن سے پہلے ہی تین گھنٹے کی طویل ملاقات کی تھی۔ارب پتی رئیل اسٹیٹ ڈیولپر اور ٹرمپ کے دوست وٹکوف رواں ہفتے ماسکو میں ایک امریکی استاد کی رہائی کے لیے موجود تھے، جنہیں چرس رکھنے کے الزام میں قید کیا گیا تھا۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز بھی سعودی عرب میں روسی مذاکرات کاروں سے ملاقات کرنے والے ہیں۔بدھ کے روز ہونے والی اس کال سے ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان براہ راست رابطے پر 3 سال کی دوری ختم ہو گئی ہے۔زیلنسکی نے امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک ’این بی سی‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ یوکرین کے بارے میں امریکا اور روس کے درمیان کسی بھی فیصلے کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔وٹکوف نے کہا کہ امریکی حکام یوکرین کے حکام سے الگ سے بات کر رہے ہیں، اور یوکرین ’ مذاکرات کا حصہ‘ ہے لیکن انہوں نے یہ اشارہ نہیں دیا کہ آیا وہ کیف کی سعودی عرب میں موجودگی کی توقع رکھتے ہیں یا نہیں۔

    دریں اثنا امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سعودی عرب کے مذاکرات کو زیادہ اہمیت نہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک ملاقات سے جنگ ختم نہیں ہوگی، اور یوکرین، روس اور تیسرے فریقوں کے درمیان ثالثی کا باضابطہ مذاکراتی عمل ابھی تک شروع نہیں کیا گیا ہے۔تاہم انہوں نے ’سی بی ایس نیوز‘ کو بتایا کہ آئندہ چند روز اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا پیوٹن امن کے حصول کے لیے سنجیدہ ہیں یا نہیں۔اس پس منظر میں یورپی رہنماؤں کا ایک گروپ ، جن میں برطانیہ کے کیر اسٹارمر ، نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے ، جرمنی کے چانسلر اولف شولز اور یورپی کمیشن کی ارسلا وان ڈیر لیئن شامل ہیں ، پیرس میں ملاقات کریں گے۔

    فرانسیسی صدر ایمانول میکرون یوکرین اور یورپی سلامتی کے بارے میں سہ پہر کو ایک غیر رسمی اجلاس منعقد کریں گے۔سربراہ اجلاس سے قبل سر کیر نے کہا تھا کہ برطانیہ ضرورت پڑنے پر اپنے فوجیوں کو زمین پر تعینات کرکے یوکرین کو سلامتی کی ضمانت دینے کے لیے تیار ہے۔برطانوی اخبار ’ڈیلی ٹیلی گراف‘ میں لکھتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اگر ہم مستقبل میں پیوٹن کو مزید جارحیت سے روکنا چاہتے ہیں تو یوکرین میں دیرپا امن کا حصول ضروری ہے۔اس سے قبل یوکرین میں امریکا کے سفیر کیلوگ نے یورپ کو سعودی عرب میں مدعو نہ کیے جانے کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ماضی میں ہونے والے مذاکرات بہت سے فریقوں کی شمولیت کی وجہ سے ناکام ہو چکے ہیں۔