Baaghi TV

Tag: جنگ کا خطرہ

  • جنگ کا خطرہ برقرار،اگلے  تین چار دن اہم  ہیں ، خواجہ آصف

    جنگ کا خطرہ برقرار،اگلے تین چار دن اہم ہیں ، خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ جنگ کا خطرہ برقرارہے اور اگلے تین چار دن اہم ہیں، جنگ مسلط کی گئی تو پوری طاقت سے جواب دی جائے گا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق خواجہ آصف نے برطانوی خبر ایجنسی کو انٹرویو میں کہا کہ وزیر دفاع نے کہا کہ اس صورت حال میں ہمیں کچھ اسٹریٹجک فیصلے کرنا ضروری تھے اور وہ فیصلے کرلیےگئے ہیں، بھارت کی بیان بازی بڑھ رہی ہے، پاکستانی فوج نے حکومت کو بھارتی حملے کے امکان سے آگاہ کر دیا ہے۔ پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد بھارت کی طرف سے حملے کا امکان ہے، اسی خدشے کے پیش نظر ہم نے سرحد پر اپنی فوجی قوت بڑھادی ہے، انہوں نے کہا کہ چند روز میں جنگ کا خطرہ ضرور موجود ہے لیکن کشیدگی کم بھی ہو سکتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور طریقے جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تینوں مسلح افواج وطن کے دفاع کے لیے ہر دم تیار ہیں۔ دونوں ممالک کو جوہری آپشن استعمال کرنے سے باز رہنا چاہیے، پاکستان ہائی الرٹ ہے اور اپنے ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال صرف اس صورت میں کرے گا جب ہمارے وجود کے لیے براہ راست خطرہ موجود ہو۔

    وزیر دفاع نے مزید کہا کہ پہلگام واقعے پر تحقیقات کی پیشکش کا بھارت کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا، ہم چاہتے ہیں کہ اس معاملے پر بھارت کا جھوٹ بے نقاب کیا جائے۔

    تنازعات اور ناقص کارکردگی،کے الیکٹرک نے سرمایہ کاروں کی توجہ کھو دی

    مودی سرکار ہر پاکستانی سے خوف کھانے لگی، کرکٹرز کے بھی چینل بلاک

    پاکستان میں ذیقعد 1446 ہجری کا چاند نظر آگیا

    بھارتی فوج کے مظالم، کٹھ پتلی وزیراعلیٰ بھی بول پڑے

    بھارت کی درخواست پر خواجہ آصف کا اکاؤنٹ بلاک

  • شمالی کوریا نے ایک بار پھر امریکہ کو حیران کردیا

    شمالی کوریا نے ایک بار پھر امریکہ کو حیران کردیا

    پیانگ یانگ: شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ ان کا کہنا ہے کہ ان کی سائنس و ٹیکنالوجی ڈویژن نے دو نئے میزائل کے کامیاب تجربے کر لیے ہیں اور ہم جنوبی کوریا کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ امریکہ کے ساتھ نئی جنگی مشقیں کرنے سے باز رہے
    شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے میزائل کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا ہے لیکن اتنا ضرور بتایا گیا ہے یہ میزائل نئے ٹیکٹیکل گائڈڈ میزائل ہیں
    دوسری طرف امریکہ کے 30000 فوجی جوان جنوبی کورین فورسز کیساتھ مشترکہ فوجی مشکیں کرنے کیلئے سیول میں پہلے سے موجود ہیں اور اسی تناظر میں شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ ان نے جنوبی کوریا کو خبردار کیا ہے کہ یہ میزائل جنوبی امریکہ کیلئے ایک سنجیدہ وارننگ ہے.