Baaghi TV

Tag: جوائے لینڈ‘

  • انڈین میوزک ادارے ٹی سیریز نےفلم "جوائے لینڈ” کا گانا چوری کر لیا

    انڈین میوزک ادارے ٹی سیریز نےفلم "جوائے لینڈ” کا گانا چوری کر لیا

    کراچی: انڈین میوزک ادارے ٹی سیریز نے پاکستا نی فلم ” جوائے لینڈ” کا گانا چوری کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: موسیقار فراست انیس نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے جس میں جوائے لینڈ کے گانے ’بیبا‘ اور ٹی سیریز کے گانے کے کچھ حصوں کا موازنہ کیا گیا ہے-

    انہوں نے کہا کہ یہ کتنی شرمندگی کی بات ہے کہ ٹی سیریز ہمارے کام کو چوری کررہا ہے اور وہ بھی صرف اس لئے کی یہ گانا دنیا بھر میں ٹرینڈ پر ہے۔

    موسیقار نے کہا کہ میں اور میرے بھائیوں نے اس گانے کو جہاں تک پہنچانے کے لیے دن رات کام کیا براہ کرم کچھ شرم کریں اور پاکستان کے ایک عمدہ گانے کو برباد نہیں کرنا چاہئے، اگر آپ گانا دوبارہ پیش کرنا چاہتے ہیں، تو آپ کو اصل چیزوں کے ساتھ کرنا چاہیے تھا-

    فراست انیس کے مطابق انہیں انڈین مداحوں کی طرف سے مکمل حمایت اور مدد ملی ہے اور وہ اس پر ان کے شکر گزار ہیں۔

    انہوں نے مداحوں سے درخواست کی کہ اس سستی کاپی کے کمنٹ سیکشن پر بھی ہمارا ساتھ دیں۔ سرحد پار سننے والوں کا ہمیشہ شکر گزار رہوں گا-

    انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیم نے ای میل کے ذریعے ٹی سیریز سے رابطہ کیا ہے لیکن ان کی طرف سے ابھی تک ہمیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔

  • ثروت گیلانی ہیں کس سیاستدان کی دیوانی ؟

    ثروت گیلانی ہیں کس سیاستدان کی دیوانی ؟

    اداکارہ ثرت گیلانی جن کی فلم جوائے لینڈ حال ہی میں‌آسکر کے لئے شارٹ‌لسٹ ہوئی ہے . انہوں نے اپنے اانٹرویو میں‌ کہا ہے کہ مجھے ایک ہی سیاستدان پسند ہے اور اسکا نام ہے عمران خان. انہوں نے کہا کہ اس ملک کے مسائل عمران خان ہی حل کر سکتے ہیں. انہوں نے کہا کہ میں‌ بچپن میں ایک ٹام بوائے کی طرح‌ تھی ، میں نے اپنا بچپن بہت اچھا گزارا. مجھے چھٹیاں گزارنے کےلئے روم بہت پسند ہے. ثروت گیلانی نے کہا کہ میری سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ میں‌دوسروں‌پر بہت جلد اعتبار کرلیتی ہوں . انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں میوزک میرے موڈ کے

    حساب سے سنتی ہوں. مجھے ذائقہ دار کھانا بہت پسند ہے اور جب وقت ملے اپنے بچوں کے لئے خود بھی کھانا بنا لیتی ہوں. انہوں نے کہا کہ عورت کی حقیقی آزادی یہ ہے کہ اسکو اس کےتمام حقوق ملیں اور مرد کے برابر حقوق ملیں. یاد رہے کہ ثروت گیلانی کی فلم جوائے لینڈ کو اسی برس کانز فلم فیسیٹول میں ایوارڈ سے نوازا گیا اور اب فلم آسکر کے لئے شارٹ‌لسٹ‌ہو چکی ہے امید کی جا رہی ہے کہ فلم آسکر ضرور جیتے گی . اس حوالے سے ثروت سمیت پوری ٹیم کافی پرامید اور خوش ہےکہ انکی فلم پہلی پاکستانی فلم بن گئی ہے جو آسکر کے لئے شارٹ‌لسٹ‌ہوئی ہے.

  • جوائے لینڈ آسکر لئے ہونے شارٹ لسٹ ہونے والی پہلی پاکستانی فلم بن گئی

    جوائے لینڈ آسکر لئے ہونے شارٹ لسٹ ہونے والی پہلی پاکستانی فلم بن گئی

    فلم جوائے لینڈ جس کی ریلیز پاکستان میں ایک بڑا ایشو رہی. اس فلم کو صرف سندھ میں ریلیز کیا گیا پنجاب میں پابندی رہی. جوائے لینڈ نے دنیا کے سب سے بڑے فلمی میلے میں ایوارڈ جیتا اسکے بعد دنیا کے دوسرے فلمی میلوں میں بھی پذیرائی حاصل کی .اس فلم کے حوالے سے تازہ اطلاعات یہ ہیں کہ یہ فلم آسکر کےلئے شارٹ لسٹ ہوگئی ہے. پاکستان کی یہ پہلی فلم ہے جو آسکر کے لئے نامزد اور پھر شارٹ لسٹ ہوئی ہے. اس ھوالے سے فلم کی پوری کاسٹ کافی خوش اور مطمئن ہے کہ جوائے لینڈ آسکر ایوارڈ حاصل کریگی. اس فلم کے پرڈیوسر سرمد سلطان کھوسٹ ہیں جن کی

    صلاحیتوں سے کسی کو انکار ممکن نہیں ہے ان کی ڈائریکشن میں تیار ہونے والی فلم کملی بھی اس سال ریلیز ہوئی وہ فلم بھی سرمد کھوسٹ کے ٹیلینٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے. جوائے لینڈ کے ڈائریکٹر صائم صادق ہیں. کاسٹ میں علینا خان، ثروت گیلانی راستی فاروق و دیگر شامل ہیں. فلم کی کہانی ایک ایسے نوجوان کے گرد اور مخنث ڈانسر کے گرد گھومتی ہے جو ڈانس کلب میں کام کرنے کے دوران ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔

    یاد رہے کہ جوائے لینڈ کو کانز کے اعلیٰ ترین کوئیر پام‘ ایوارڈ سے نوازا گیا تھا جو کہ خصوصی طور پر ہم جنس پرست یا پھر مخنث افراد کی کہانیوں پر مبنی فلموں کو دیا جاتا ہے۔

    بین جوائے لینڈ مہم پر اعتراض اور جواب :از طہ منیب

    پاکستان میں پابندی کے بعد فلم جوائے لینڈ کیا آسکر کی نامزدگی کےلئے بھی نااہل ہو جائیگی؟

     شرمین عبید چنائے کا کہنا ہے کہ یہ فلم آسکر ضرور جیتے گی

    جوائے لینڈ پر پابندی کی درخواست سندھ ہائی کورٹ‌نے مسترد کر دی

    عثمان پیرزادہ نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہےکہ فلم جوائے لینڈ‌ کو بین کئے جانا بہت ہی افسوسناک ہے

    لاہور ہائیکورٹ میں متنازع فلم جوائے لینڈ کی پاکستان میں نمائش کے خلاف درخواست دائر 

    جوائے لینڈ کا بین کیا جانا قابل افسوس ہے ملالہ یوسفزئی

    مرکزی فلم سنسر بورڈ کے فل بورڈ نے فلم جوائے لینڈ کے بعض حصے حذف کر نے کے بعد نمائش کی اجازت دے دی۔

  • فلم جوائے لینڈ کی نمائش پر پابندی لگوانے کی ایک اور کوشش ناکام

    فلم جوائے لینڈ کی نمائش پر پابندی لگوانے کی ایک اور کوشش ناکام

    فلم جوائے لینڈ جس کو پنجاب میں‌تاحال نمائش کی اجازت نہیں ملی ، صوبہ سندھ میں اس فلم کی نمائش کامیابی سے جاری ہے ، لوگوں کی ایک بڑی تعداد فلم دیکھنے کےلئے سینما گھروں کا رخ کررہی ہے. تاہم ایک طبقہ ایسا ہے کہ جو مسلسل اس کوشش میں ہے کہ فلم کی نمائش کو کسی نہ کسی طریقے سے روکا جائے. ایسی ہی ایک کوشش پہلے بھی ہو چکی ہے لیکن سندھ کی ایک عدالت نے اس کوشش کو ناکام بناتے ہوئے کہا کہ فلم دیکھے بغیر کوئی کیسے کہہ سکتا ہے کہ فلم کی نمائش پر روک لگا دی جائے . ایسی ہی ایک کوشش حال ہی میں کی گئی ہے اور سندھ ہائی کوٹ میں ایک شہری نے درخواست دیکر کہا کہ فلم کی نمائش پر پابندی لگائی جائے کیونکہ یہ غیر اخلاقی کہانی پر مبنی ہے. اس پر عدالت نے کہا کہ کوئی بھی عدالت اس چیز کا فیصلہ نہیں کر سکتی ہے کہ کون سی فلم دیکھی جا سکتی ہے اور کونسی نہیں غیر ضروری سنسر شپ آزادی

    رائے پر قدغن لگانے کے مترداف ہے لہذا ہم ایسا نہیں‌کر سکتے . عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ فلم کو سنسر بورڈ نے مکمل جانچ کے بعد نمائش کی اجازت دی۔ عدالتی حکم میں کہا گیا کہ درخواست گزار نے فلم کے سرٹیفیکیشن کے عمل میں کسی قانونی خامی کی نشاندہی نہیں کی۔عدالتی فیصلے میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ آرٹیکل 19 کے تحت فلم ساز کو بھی اظہار رائے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ کوئی معقول وجہ ہو تو سنسر بورڈ یا صوبائی مجاز اتھارٹی ہی فلم پر پابندی لگا سکتی ہے۔یوں‌جوائے لینڈ کی ریلیز پر پابندی کی درخواست ایک بار پھر مسترد کر دی گئی ہے.

  • غیرضروری سینسر شپ سے معاشرے کا دم گھٹتا ہے،جوائے لینڈ پر پابندی عدالت کا بڑا فیصلہ

    غیرضروری سینسر شپ سے معاشرے کا دم گھٹتا ہے،جوائے لینڈ پر پابندی عدالت کا بڑا فیصلہ

    فلم جوائے لینڈ کی ریلیز کے خلاف درخواست پر محفوظ فیصلہ سنا دیا گیا

    سندھ ہائی کورٹ نے ابتدائی سماعت کے بعد درخواست مسترد کر دی،سندھ ہائیکورٹ نے کہا کہ غیر ضروری سینسر شپ سے معاشرے کا دم گھٹتا ہے ،غیر ضروری سینسر شپ معاشرے کی تخلیقی صلاحیتوں کو روکتا ہے سینسر بورڈ یا متعلقہ ادارہ ہی فلم پر پابندی کا اختیار رکھتا ہے اور اسی نے ضابطے کے مطابق فلم کا جائزہ لے کر نمائش کا سرٹیفکیٹ جاری کیا،ایک فرد کی وجہ سے کسی کی آزادی اظہار رائے پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی ہرشہری کو آزادی اظہار رائے کا حق حاصل ہے ہائیکورٹ کو اختیار نہیں کہ فلم ساز کی آزادی اظہار رائے پر پابندی عائد کرے

    بین جوائے لینڈ مہم پر اعتراض اور جواب :از طہ منیب

    پاکستان میں پابندی کے بعد فلم جوائے لینڈ کیا آسکر کی نامزدگی کےلئے بھی نااہل ہو جائیگی؟

    درخواست گزار نے سندھ ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا کہ فلم جوائے لینڈ ہم جنس پرستی کو فروغ دینے کیلئے بنائی گئی ہے جس کی اسلام اجازت نہیں دیتا آزادی اظہار رائے سے متعلق آئین کا آرٹیکل 19-A واضح ہے ۔ آزادی اظہار رائے کی بھی حدود اور قیود ہیں اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی نہیں کی جاسکتی فلم جوائے لینڈ کے خلاف اسلامی نظریاتی کونسل اور مفتی تقی عثمانی کے بیانات بھی آئے ہیں۔ فلم کے ذریعے ٹرانسجینڈرز کیلئے ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے

     شرمین عبید چنائے کا کہنا ہے کہ یہ فلم آسکر ضرور جیتے گی

    جوائے لینڈ پر پابندی کی درخواست سندھ ہائی کورٹ‌نے مسترد کر دی

    عثمان پیرزادہ نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہےکہ فلم جوائے لینڈ‌ کو بین کئے جانا بہت ہی افسوسناک ہے

    لاہور ہائیکورٹ میں متنازع فلم جوائے لینڈ کی پاکستان میں نمائش کے خلاف درخواست دائر 

    جوائے لینڈ کا بین کیا جانا قابل افسوس ہے ملالہ یوسفزئی

    مرکزی فلم سنسر بورڈ کے فل بورڈ نے فلم جوائے لینڈ کے بعض حصے حذف کر نے کے بعد نمائش کی اجازت دے دی۔

  • جوائے لینڈ کے بارے میں شرمین عبید چنائے کا بڑا دعوی

    جوائے لینڈ کے بارے میں شرمین عبید چنائے کا بڑا دعوی

    فلم جوائے لینڈ جو ریلیز سے قبل رہی کافی چرچا میں ، اس فلم کو پاکستان کی طرف سے ٓآسکر کے لئے نامزد کر دیا گیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ فلم آسکر کے لئے منتخب ہوتی ہے یا نہیں ۔ تاہم شرمین عبید چنائے کا کہنا ہے کہ یہ فلم آسکر ضرور جیتے گی۔ انہوں نے کہا کہ جوائے لینڈ بہت اچھی فلم ہے اور اس کی کہانی ہماری سوسائٹی کے مسائل کو ڈسکس کرتی ہے۔ ہم کب تک اپنے مسائل کوکمروں میں بند کرکے رکھیں گے۔ ہم کیوں ان کو نظر انداز کرنا چاہتے ہیں۔ ہماری سوسائٹی کے جو مسائل ہیں ان پر اگر ہم فلم کی کہانی کی صورت میں بات کرتے ہیں تو اس میں برا کیا ہے؟ کیوں ہم آنکھیں بند کر نا چاہتے ہیں؟ شرمین عبید چنائے نے کہا کہ مجھے بہت امید ہے کہ ہماری فلم نہ صرف آسکر کے لئے منتخب ہو

    گی بلکہ ایوارڈ بھی حاصل کرے گی اس فلم کی کہانی سوئے ہوئے ضمیروں کو جگاتی ہے۔ یاد رہے کہ شرمین عبید چنائے پاکستان میں اس جیوری کی سربراہ ہیں جو پاکستانی فلموں کی آسکر کے لئے نامزدگی کا فیصلہ کرتی ہیں۔ جوائے لینڈ کو ڈائریکٹر صائم صادق نے ڈائریکٹ کیا ہے جبکہ پرڈیوس سرمد سلطان کھوسٹ نے کیا ہے۔ فلم کی کہانی ایک ٹرانسجینڈر کے گرد گھومتی ہے پاکستان میں اس قسم کی فلم پہلے کبھی نہیں بنی۔

  • حقیقت سے کب تک آنکھیں چرا کر سلگھتے موضوعات پر بننے والی فلموں‌پر پابندی لگاتے رہیں گے؟‌فصیح باری خنا

    حقیقت سے کب تک آنکھیں چرا کر سلگھتے موضوعات پر بننے والی فلموں‌پر پابندی لگاتے رہیں گے؟‌فصیح باری خنا

    معروف مصنف فصیح باری خان نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ ہمارے ہاں بننے والی فلموں‌کو سپورٹ کئے جانے کی ضرورت ہے . ہم کب تک انہی معاملات میں پڑے رہیں گے کہ فلاں موضوع ٹھیک نہیں فلاں پہ بات ہو اور فلاں پہ نہ ہو. کب تک ہم نے کبوتر کی طرح‌آنکھیں بند کرکے رکھنی ہیں؟ کیا ٹرانسجینڈر ہماری سوسائٹی کا حصہ نہیں ہیں؟ کیسے انکار کر سکتے ہیں ہم ؟ فصیح باری خان نے کہا کہ ایک منٹ سے پہلے یہ فتوی لگا دینا کہ فلاں

    مواد فحش ہے فلاں دین سے متصادم ہے اس سوچ اور رویے کو تبدیل کیاجانا چاہیے . انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ جوائے لینڈ سمجھدار لوگوں نے بنائی ہے یہ فلم کسی قسم کی ذہنی عیاشی کے لئے نہیں بنائی گئی. میں نے اس فلم کو اپنے سوشل میڈیا پر مکمل سپورٹ کیا . ہمارے سنسر سے ایسے ایسے ڈانس پاس ہو چکے ہیں جو شاید فیملیوں‌کے ساتھ بیٹھ کر دیکھے نہیں جا سکتے . میرا جس قسم کا سکول آف تھاٹ ہے میں بھی سمجھتا ہوں کہ کل کو میں بھی کسی سلگھتے موضوپر فلم بنائوں گا تو میرے سامنے بھی ایسی ہی مشکلات ہوں گی. ہمارے ہاں چند ایک لوگ ایسے ہیں جو صرف گھستے پٹے موضوعات دیکھنا چاہتے ہیں. انہیں سنجیدہ موضوعات پر ننے والی فلمز نہیں دیکھنی شاید .

  • جوائے لینڈ پر پابندی کی درخواست سندھ ہائی کورٹ‌نے مسترد کر دی

    جوائے لینڈ پر پابندی کی درخواست سندھ ہائی کورٹ‌نے مسترد کر دی

    فلم جوانے لینڈ‌ کی ریلیز پاکستان میں چند حلقوں کے لئے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے. حال ہی میں مولوی اقبال حیدر نامی شخص فلم کو بین کروانے نکلا . درخواست گزار نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ جوائے لینڈ فلم آئین کے آرٹیکل 227 کی خلاف ورزی ہے ۔ درخواست گزار کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں اسلام کی روح اور تعلیمات کے خلاف کوئی کام نہیں کیا جاسکتا ۔اس پر سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ نے درخواست گزار سے پوچھا کہ کیا آپ نے فلم دیکھی ہے؟ اس نے کہا کہ نہیں‌تو پھر انہوں نے کہا کہ فلم دیکھے بغیر کس طرح سے اس پر پابندی کی درخواست کی جا سکتی ہے. درخواست گزار نے کہا کہ ہمارا اسلام، ہمارا کلچر اس چیز کی اجازت نہیں دیتا جو فلم میں دکھائی جا رہی ہے. تاہم سندھ ہائی

    کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ نے درخواست مسترد کر دی یوں پابندی کی درخواست کرنے والا خالی ہاتھ لوٹ گیا . یاد رہے کہ فلم جوائے لینڈ نے پاکستان کے سب سے بڑے فلمی میلے کانز میں ایوارڈ جیتا اسی طرح سے اس فلم نے دنیا کے دیگر میلوں میں پذیرائی حاصل کی . جبکہ پاکستان میں اس کی ریلیز ہاں ناں کا شکار رہنے کے بعد اب پنجاب اور سندھ کے سینما گھروں میں دکھائی جا رہی ہے.

  • جوائے لینڈ کو بین کئے جانا افسوسناک تھا عثمان پیرزادہ

    جوائے لینڈ کو بین کئے جانا افسوسناک تھا عثمان پیرزادہ

    سینئر اداکار عثمان پیرزادہ نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہےکہ فلم جوائے لینڈ‌ کو بین کئے جانا بہت ہی افسوسناک ہے. مجھے تو یہ سمجھ نہیں آرہی کہ کیا ٹرانسجینڈر ہماری سوسائٹی کا حصہ نہیں ہیں؟ آپ اس سے انکار کرکے صرف اپنے آپ کو ہی تسلی دے سکتے ہیں. میں نے یہ فلم ٹورنٹو فلم فیسٹیول میں دیکھی تھی اور دس منٹ تک اس فلم کو وہاں شائقین نے سٹینڈینگ اویشن دیا تھا جو کہ پاکستانیوں کے لئے یقینا قابل فخر تھا. انہوں نے مزید کہا کہ کانز فلمی میلہ دنیا کا سب سے بڑا فلمی میلہ ہے یہاں کسی فلم کا ایوارڈ جیتنا آسان کام نہیں ہے یہاں بھی جوائے لینڈ‌کو

    بہت سراہا گیا لیکن پاکستان میں اس فلم کی ھوصلہ شکنی کی گئی جو کہ بہت ہی غلط بات ہے. ہم سب کو ایک دوسرے کو سپورٹ کرنا چاہیے. انہوں نے کہا کہ میں نے منڈی میں‌سیاستدان کا کردار کیا ہے لیکن حقیقی زندگی میں‌میرا سیاست سے نہ کوئی تعلق ہے نہ ہی مجھے اس میں کوئی دلچپسی ہے. میں کسی سیاستدان کو پسند نہیں کرتا لیکن ہر کسی کی سیاسی رائے اور پسند نہ پسند کا احترام کرتا ہوں. میری اہلیہ ثمینہ پیرزادہ کی اپنی پسند ہے وہ اگر عمران خان کو سپورٹ کرتی ہیں تو ٹھیک ہے ان کی مرضی میں ان کو منع نہیں کرتا نہ ہی مجھے کرنا چاہیے.

  • جوائے لینڈ کا بین کیا جانا قابل افسوس ہے ملالہ یوسفزئی

    جوائے لینڈ کا بین کیا جانا قابل افسوس ہے ملالہ یوسفزئی

    فلم جوائے لینڈ جس نے کانز فلمی میلے میں ایوارڈ جیت کر پاکستانیو‌ں کے سر فخر سے بلند کئے ہیں اس کی ریلیز سے ایک ہفتہ قبل اس کا بین کیا جانا یقینا قابل افسوس تھا لیکن صوبہ سندھ نے جوائے لینڈ کی ریلیز کی اجازت دیدی جبکہ پنجاب حکومت نے فلم کی ریلیز پر پابندی عائد کر دی ہے. جوائے لینڈ کی ریلیز کے حوالے سے جو رویہ دیکھنے کو ملا ہے وہ یقینا قابل افسوس ہے اس رویے کی مخالفت جہاں بہت سارے لوگوں نے کی ہے وہیں‌ملالہ یوسفزائی نے بھی کی ہے انہوں‌نے کہا کہ بہت ہی افسوس کی بات ہے کہ جوائے لینڈ جیس فلم جو کہ پاکستانیوں کی

    فلم ہے پاکستانیوں کے لئے ہے انہی کو دیکھنے کو نہیں‌مل رہی ہے. انہوں‌ نے کہا کہ یہ فلم پاکستانیوں کے لئے ایک لو لیٹر ہے اس فلم کو ریلیز کیا جانا چاہیے . یوں ملالہ یوسفزئی بھی فلم جوائے لینڈ کے حق میں بول پڑی ہیں. سوشل میڈیا پر ایک خاص طبقے کی طرف سے اس فلم کو اور اس کے حق میں بولنے والوں کو تنقید کی نشانہ بنایا جا رہا ہے. یاد رہے کہ فلم کو پہلے 18 نومبر کو پاکستان بھر میں نمائش کی اجازت دیدی گئی تھی لیکن بعد میں اس پر پابندی عائد کر دی گئی تاہم اب سندھ میں فلم کی نمائش جاری ہے لیکن پنجاب میں پابندی عائد کر دی گئی ہے.