Baaghi TV

Tag: جون

  • 10 جون تاریخ کے آئینے میں

    10 جون تاریخ کے آئینے میں

    10 جون تاریخ کے آئینے میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    1246ء نصیر الدین محمد شاہ اول دہلی کے حکمراں بنے۔

    1624ء ہالینڈ اور فرانس کے درمیان اسپین مخالف معاہدہ پر دستخط ہوئے۔

    1786ء چین کے سیچوآن صوبہ میں دس دن قبل آئے زلزلہ کی وجہ سے دادو ندی پر بنا پول گرنے سے ایک لاکھ افراد کی موت ہوئی۔

    1866ء نیوزی لینڈ میں ماؤنٹ تارا ویرا آتش فشاں پھٹنے سے 153 افراد ہلاک ہوئے۔

    1907ء چین کی آزادی و سالمیت کو برقرار رکھنے کے لئے فرانس اور جاپان کے درمیان ایک سمجھوتے پر دستخط ہوئے۔

    1931ء ناروے نے مشرقی گرین لینڈ پر قبضہ کیا۔

    1934ء سوویت یونین اور رومانیہ کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہوئے۔

    1940ء دوسری عالمی جنگ کے دوران جنرل ارون، رومیل کی قیادت میں انگلش چینل پہنچے۔

    1940ء اٹلی نے دوسری عالمی جنگ کے دوران فرانس اور برطانیہ کے خلاف اعلان جنگ کیا۔

    1940ء ناروے نے جرمنی کی نازی فوج کے سامنے خود سپردگی کی۔

    1940ء کناڈا نے اٹلی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔

    1944ء دوسری عالمی جنگ کے دوران فرانس کے اوراڈور سر گلین قتل عام میں خواتین اور بچوں سمیت 642 افراد ہلاک کئے گئے۔

    1944ء دوسری عالمی جنگ کے دوران جرمنی کی فوج نے یونان کے 218 لوگوں کا قتل کیا۔

    1945ء آسٹریلیائی فوج برونئی کی خلیج میں داخل ہوئی۔

    1946ء شہنشاہیت ختم ہونے کے بعد اٹلی جمہوری ملک بنا

    10جون1955ء کو کراچی میں بننے والی پہلی فلم ہماری زبان نمائش کے لیے پیش ہوئی۔ اس فلم کے فلم ساز بھارت کے مشہور ہدایت کار محبوب خان کے چھوٹے بھائی ایم آر خان اور مصنف اور ہدایت کار شیخ حسن تھے، موسیقی غلام بنی عبداللطیف نے ترتیب دی تھی اور عکاسی شوکت عباس نے کی تھی جبکہ فلم کے نغمات کے لئے اردو کے معروف شعرا کی غزلوں اور نظموں کا انتخاب کیا گیا تھا۔ ہماری زبان کے اداکاروں میں بینا، شیخ حسن، نعیم ہاشمی، رشیدہ، لڈن اور بندو خان شامل تھے جبکہ اس فلم میں مولوی عبدالحق کو بھی دکھایا گیا تھا۔ یہ فلم بدقسمتی سے کامیاب نہ ہوسکی تاہم اس فلم کے بننے سے کراچی میں فلمی صنعت کی بنیاد پڑ گئی۔

    1957ء ہارولڈ میک ملن برطانیہ کے وزیراعظم بنے۔

    1967ء سوویت یونین نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کئے۔

    1967ء اسرائیل اور شام کے درمیان جنگ بندی کے بعد دونوں کے مابین چھ روزہ جنگ ختم ہوئی۔

    1972ء بامبے کی مڈگاؤں بندرگاہ سے مکمل ایئرکنڈیشنڈ مسافر اور کارگو جہاز ہرش وردھن کو سمندر میں اتارا گیا۔

    1982ء اسرائیلی فوج بیروت کے نزدیک پہنچی۔

    1999ء کوسوو جنگ کے دوران ناٹو فوج نے سربیا کے خلاف ہوائی حملے روکے۔

    1999ء پرائیویٹ بین الاقوامی ہوائی اڈہ نیدون باسیری سے پروازیں شروع۔

    2001ء پوپ جان پال دوم نے رکگا کو بینان کی پہلی خاتون سینٹ قرار دیا۔

    2003ء ناسا کا مریخ روور لانچ کیا گیا۔

    2008ء افغانستان پر امریکی حملے کے دوران پاکستان کے قبائلی علاقے میں امریکی طیاروں کے فضائی حملے میں 11 پاکستانی فوجی اور آٹھ سول افراد شہید ہوئے۔

    10جون 2011ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے پاکستان اور روس کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی تریسٹھویں سالگرہ کے موقع پر ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس کی مالیت آٹھ روپے تھی۔ اس ڈاک ٹکٹ پر پاکستان اور روس کی دو عمارتوں کی تصاویر اور دونوں ممالک کے پرچم بنے تھے اور انگریزی میں PAKISTAN – RUSSIA FRIENDSHIP کے الفاظ تحریر کیے گئے تھے۔ اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن عارف بلگام والانے تیار کیا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • 03 جون تاریخ کے آئینے میں

    03 جون تاریخ کے آئینے میں

    03 جون تاریخ کے آئینے میں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    1915ء میں برطانوی حکومت نے رویندر ناتھ ٹیگور کو ‘نائٹ ہڈ’ کے خطاب سے نوازا

    1929ء پیرو اور چلی کے درمیان سرحدی تنازعہ سلجھا۔

    1962ء میں ایئر فرانس کا بوئنگ 707 طیارہ پیرس سے اڑان بھرنے کے بعد حادثہ کا شکار ہوا جس میں 130 افراد مارے گئے۔

    1947ء میں ہندستانی سیاستدانوں نے ملک کو تقسیم کرنے کے انگریزوں کے منصوبے کو منظور کیا۔3 جون 1947ء وہ تاریخی دن تھا جب انگریز وائسرائے لارڈ مائونٹ بیٹن نے ہندوستان کو دو آزاد مملکتوں میں تقسیم کرنے کا تاریخی اعلان کیا۔ یہ اعلان آل انڈیا ریڈیو کے دہلی اسٹیشن سے کیا گیا۔ اس سے پہلے حکومت برطانیہ کی جانب سے لارڈ مائونٹ بیٹن نے تقریر کی۔ اس کے بعد کانگریس کی جانب سے جواہر لال نہرو، آل انڈیا مسلم لیگ کی جانب سے قائداعظم محمد علی جناح اور سکھوں کے نمائندے کے طور پر سردار بلدیو سنگھ نے تقریریں کیں اوراس منصوبے کو قبول کرنے کا اعلان کیا۔ قائداعظم کی تقریر پاکستان زندہ باد کے تاریخی الفاظ پر اختتام پذیر ہوئی اور کوئی ڈھائی ماہ بعد پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک آزاد اور مسلم مملکت کے طور پر وجود میں آگیا۔

    1950ء فرانسیسی کوہ پیما مورس ہاجورگ اور لوئس لشانیل 88 ہزار فٹ اونچی انا پورنا چوٹی کو فتح کرنے والے دنیا کے پہلے شخص بنے۔

    1965ء اریڈوہائٹ خلاء میں چہل قدمی کرنے والے پہلے امریکی بنے۔

    1971ء کے موسم گرما میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے انگلستان کا دورہ کیا۔ یہ دورہ نتائج کے اعتبار سے نہ سہی مگر پاکستان کی مجموعی پرفارمنس کے لحاظ سے کامیاب ترین دوروں میں شمار کیا جاسکتا ہے پہلے ٹیسٹ میں انگلینڈ کی برتری کو واضح طور پر ختم کرنے کے بعد آخری ٹیسٹ میں انتہائی دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان 25 رنز سے ٹیسٹ ہی نہیں سیریز بھی ہار گیا۔ پہلے ٹیسٹ میں جو 3 سے 8 جون 1971ء تک ایجبسٹن‘ برمنگھم کے میدان میں کھیلا گیا پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف اپنا سب سے زیادہ اسکور کیا۔ ظہیر عباس جو اپنا دوسرا ٹیسٹ میچ کھیل رہے تھے‘274 رنز بنائے جو ڈینس کامپٹن کے بعد انگلینڈ اور پاکستان کے مقابلوں میں سب سے بڑا انفرادی اسکور ہے۔ مشتاق محمد نے 100 اور آصف اقبال نے 104 رنز بنائے۔ ظہیر عباس اور مشتاق محمد نے دوسری وکٹ کی رفاقت میں 291 رنز بنائے جو اب تک اس وکٹ کی رفاقت کا پاکستان کا ریکارڈ ہے۔ اس ٹیسٹ میں پاکستان کے مایہ ناز آل رائونڈر عمران خان نے بھی اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا۔ وہ ان دنوں اوکسفرڈ میں زیر تعلیم تھے اور ان کی عمر 18½ برس تھی۔ پاکستان نے مجموعی طور پر 608 رنز اسکور کیے۔ جواب میں انگلستان کی ٹیم 353 رنز ہی بنا سکی اور اسے فالو آن پر مجبور ہونا پڑا۔ دوسری اننگز میں انگلستان نے 5 وکٹوں کے نقصان پر 229 رنز اسکور کیے یوں یہ میچ ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوگیا۔

    1974ء اسحاق رابن نے اسرائیل میں نئی حکومت تشکیل کی۔

    1977ء امریکہ اور کیوبا نے سفارتی تعلقات کے بارے میں بات چیت کا آغاز کیا۔

    1979ء میکسیکو کے ساحل پر مال بردار بحری جہاز کو حادثہ، 6لاکھ ٹن تیل ضائع ہوگیا۔

    1984ء ہندستانی حکومت نے خالصتانی آزادی پسندوں کے خلاف آپریشن بلیو اسٹار شروع کیا۔ گولڈن ٹیمپل میں تقریباََ تین دن تک چلی کارروائی میں ہزاروں لوگوں کی جان گئی۔

    1989ء چین میں راجدھانی بیجنگ میں مظاہرہ کرنے والے سینکڑوں طلباء فوج کے گولیوں کا شکار ہوئے۔

    1991ء جاپان کے ماوَنڈ انجین آتش فشاں میں دھماکہ۔

    1998ء جرمنی کے لوور ساکسونی میں آئی سی ای ٹرین کے پٹری سے اترنے سے 101 افراد مارے گئے۔

    2013ء۔۔سردار ایاز صادق 03 جون 2013 سے 13 اگست 2018 تک پاکستان کی قومی اسمبلی کے انیسویں اسپیکر رہے۔ سردار ایاز صادق 17 اکتوبر 1954ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔

    2024ء۔۔عمران خان اور شاہ محمود قریشی مشہور زمانہ سائفر کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے باعزت بری ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • نئے مالی سال کا وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائے گا

    نئے مالی سال کا وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائے گا

    اسلام آباد: نئے مالی سال کا وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائے گا-

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ بجٹ تیاریوں کو حتمی شکل دے رہی ہے اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب 10 جون کو بجٹ پیش کریں گے۔دوسری جانب قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی سے وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کی ملاقات ہوئی جس میں وزیرِ خزانہ نے عوام دوست بجٹ کی تیاری پر قائم مقام صدر کو بریفنگ دی، قائم مقام صدر سے ملاقات میں وزیر خزانہ نے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے حکومتی اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔

    قبل ازیں کہا گیا تھا کہ آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ جون کی 7 تاریخ کو قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے کا امکان ہے پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس 5 جون کو بلانے کی تجویز ہے اور نئے مالی سال کا بجٹ 7 جون کو بھی قومی اسمبلی میں پیش کیا جاسکتا ہے ذرائع کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ چین کے پیش نظر بجٹ اجلاس کی تاریخ میں ردوبدل کا بھی امکان ہے متبادل آپشن کے طور پر بجٹ 8 یا 9 جون کو پیش کرنے کی تجویز بھی ہے، قومی اسمبلی میں پیش کرنے سے پہلے قومی اقتصادی کونسل اور وفاقی کابینہ سے بجٹ کی منظوری لی جائے گی۔

    فارمیشن کمانڈرز کانفرنس:9 مئی کے ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے عزم کا …

    پنجاب حکومت کا کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں کم کرانے کا فیصلہ

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی آذربائیجان ہم منصب سے ملاقات

  • 22 جون کوسال کا طویل ترین دن اورمختصر ترین رات ہوگی

    22 جون کوسال کا طویل ترین دن اورمختصر ترین رات ہوگی

    سال کا طویل ترین دن اور مختصر ترین رات کل بروز 22 جون ہوگا،ایسا ہر سال ہی ہوتا ہے اور اس موقع کو خط سرطان (summer solstice) کہا جاتا ہے ۔

    باغی ٹی وی: ماہرین فلکیات کے مطابق اس روز دن کا دورانیہ 14 گھنٹے جبکہ رات 10 گھنٹوں کی ہوگی یکم جولائی کے بعد دن کا دورانیہ تبدریج کم ہونا شروع ہوجائے گا اور دسمبرکی 22 تاریخ کو دن اور رات کا دورانیہ برابر ہو جائے گا 23 دسمبر کے بعد راتوں کا دورانیہ بڑھنا شروع ہوجائے گا دن مختصر ہونا شروع ہوجاتے ہیں ۔ اسی طرح 22 دسمبر سال کا مختصر ترین دن اور رات طویل ترین ہوتی ہے-

    دنیا کے مختلف ممالک میں اسے موسم گرما کا پہلا دن قرار دیا جاتا ہے اور مختلف رسومات ادا کی جاتی ہیں خط سرطان سے مراد زمین کی وہ حالت ہے جب سورج آسمان پر اپنے طویل ترین راستے پر سفر کرتے ہوئے سب سے زیادہ بلندی پر پہنچتا ہے۔

    ٹائی ٹینک کی سیاحت کیلئےگئی لاپتہ آبدوز کی تلاش تاحال جاری

    اس موقع پر قطب شمالی کا رخ لگ بھگ سورج کی جانب ہوتا ہے اور وہاں سورج کی روشنی کا دورانیہ گھنٹوں طویل بلکہ 24 گھنٹے تک بھی پہنچ جاتا ہے شمالی نصف کرے میں خط سرطان 20 سے 22 جون کے دوران ہوتا ہے جبکہ جنوبی نصف کرے میں ایسا 21 یا 22 دسمبر کو ہوتا ہے اور اس وقت وہاں موسم گرما کا آغاز ہوتا ہے۔

    برٹش ائیرویز کا طیارہ 30 ہزار فٹ کی بلندی پر ہچکولے کھانے لگا

    اس کے علاوہ جنوبی نصف کرہ میں دن چھوٹے اور راتیں چھوٹی ہوں گی، جبکہ شمالی نصف کرّہ میں راتیں چھوٹی اور دن لمبے ہوں گے، یہی صورتحال دسمبر میں الٹ ہوجاتی ہے، جب جنوبی نصف کرہ میں راتیں چھوٹی اور دن لمبے جبکہ دوسری جانب دن چھوٹے اور راتیں لمبی ہوجاتی ہیں خط سرطان کو زرخیری سے بھی منسلک کیا جاتا ہے کیونکہ اس عرصے میں فصلوں کی کاشت میں اضافہ ہوتا ہے۔

    ملائشیا نے بھی بھارتی تیجا طیارے خریدنے سے انکار کر دیا

  • ترکیہ زلزے کی پیشگوئی کرنیوالےسیسمولوجسٹ کی جون میں خوفناک زلزلے کی پیشگوئی

    ترکیہ زلزے کی پیشگوئی کرنیوالےسیسمولوجسٹ کی جون میں خوفناک زلزلے کی پیشگوئی

    ڈچ سیسمولوجسٹ فرینک ہوگریبٹس نے ایک بار پھر ایک خوفناک انتباہ جاری کیا ہے-

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ڈچ سیسمولوجسٹ فرینک ہوگریبٹس نے جون کے پہلے ہفتے کے دوران ایک شدید زلزلے کے بارے میں خبردار کیا ہے جسے انہوں نے "زبردست” قرار دیا ہے۔

    جاپان، طوفانی بارشیں،معمولات زندگی معطل، 3 افراد ہلاک


    انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ جون کے پہلے ہفتے میں زبردست شدت کے زلزلے کی وارننگ ۔ اضافی ہوشیار رہیں ساتھ ہی اپنی بات کی تائید میں انہوں نے اہم سیاروں کی پوزیشن کا حوالہ دیا۔

    انہوں نے کہا کہ 4 اپریل سے زمین، مریخ اور یورینس کے درمیان قربت اور پورا چاند بہت نازک صورتحال ہے اور اس کے نتیجے میں بہت بڑا زلزلہ آ سکتا ہے تاہم یہ زمین کی پرت اور اس پر دباؤ کی شدت پر منحصر ہے۔

    ترکیہ کا شمالی کوسووو میں اپنی ایک کمانڈو بٹالین بھیجنے کا اعلان


    ہوگریبٹس نے حالیہ عرصے میں آنے والے کئی زلزلوں یا جھٹکوں کی پیشگوئی کی تھی ان میں سب سے اہم ان کی 6 فروری کو ترکی کی سرزمین پر آنے والے تباہ کن زلزلے کی پیشگوئی تھی جس میں 50,000 سے زیادہ افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی اور بے گھر ہوئے تھے-

    العربیہ کے مطابق ماہرین زلزلہ اور ماہرین ارضیات، ہوگریبٹس کے نظریات کو مسترد کرتے ہیں،کیونکہ بہت سے ماہرین اور مطالعات میں اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ زلزلوں کی تاریخ کی قبل از وقت پیشگوئی نہیں کی جا سکتی تاہم، ہوگریبٹس اپنے نظریات پر قائم ہیں اور سیاروں کی حرکت، ان کے قربت اور زمین پر ان کےاثرات کی وجہ سے آنے والی تبدیلیوں اور زلزلہ کی سرگرمیوں کے بارے میں مزید پیشگوئیاں کرتے رہتے ہیں۔

    جی ایچ کیوحملہ کیس: پولیس کا راجہ بشارت کی گرفتاری کیلئےرہائش گاہ پر چھاپہ

  • دنیا کا اب تک کا سب سے مختصر ترین دن ریکارڈ

    دنیا کا اب تک کا سب سے مختصر ترین دن ریکارڈ

    اس سال 29 جون کو، زمین نے ایک غیر معمولی ریکارڈ قائم کیا، دن کے دورانیے کی پیمائش کا ریکارڈ شروع ہونے کے بعد سے اب تک کا سب سے مختصر ترین دن ریکارڈ کر لیا گیا۔

    باغی ٹی وی : 29 جون کو زمین کا 24 گھنٹے کا ایک عمومی چکر 1.59 ملی سیکنڈ پہلے مکمل ہواجس کے بعد گھڑیوں اور زمین کے چکر کے درمیان مطابقت رکھنے کے لیے ’لِیپ سیکنڈ‘ کا خیال تقویت پا رہا ہےلیپ سیکنڈ کے تحت بین الاقوامی ایٹمی وقت اور شمسی وقت کے درمیان تفریق کو ایک سیکنڈ کی آہنگی سے ختم کیا جاتا ہے۔ ایسا پہلی بار ہوگا جب عالمی سطح پر گھڑیوں کو تیز کیا جائے گا۔

    چاند پر پہلا قدم رکھنے والے خلاءبازوں کے قدموں کے نشان 53 سال بعد بھی موجود

    یہ بات سائنس دانوں کےعلم میں ہےکہ زمین کی گردش کی رفتار میں کمی آئی ہے پچھلے کچھ سالوں میں ریکارڈز میں تیزی سے کمی دیکھی گئی ہے، جس میں چھوٹے دنوں کو زیادہ کثرت سے نوٹ کیا جا رہا ہے 1970 کی دہائی سے اب تک ایٹمی وقت کو درست رکھنے کے لیے 27 بار لیپ سیکنڈز کے استعمال کی ضرورت پیش آئی ہے۔ آخری بار 2016 میں سال کے آخری دن لیپ سیکنڈ کا سہارہ لیا گیا تھا جب ایک سیکنڈ کے لیے گھڑیاں روکی گئیں تھیں تاکہ زمین کے وقت کے ساتھ ہم آہنگی کی جاسکے۔

    لیکن 2020 سے یہ عمل الٹا ہوگیا ہے 29 جون سے قبل مختصر ترین دن 2020 میں 19 جولائی کا تھا جب زمین نے ایک چکر 1.47 ملی سیکنڈز پہلے مکمل کرلیا گیا تھا انسان اس فرق کو محسوس نہیں کر پاتے لیکن یہ سیٹلائٹ اور سمت شناسی کے نظاموں کو متاثر کر سکتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا زمین کے محور کے گرد چکر میں تبدیلی سے ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ دن کے دورانیے میں تبدیلی کی ایک وجہ موسم سرما میں شمالی ہیمسفیئر کی پہاڑیوں پر جمع ہونے والی برف بھی ہوسکتی ہے جو گرمیوں پگھل جاتی ہے۔

    سپین اور یونان میں سال 2022 کے سب سے بڑے "سُپرمون” کے نظارے

    تو کیا دنیا تیز ہو رہی ہے؟ طویل مدت کے دوران – ارضیاتی ٹائم اسکیلز جو ڈائنوسار کے عروج اور زوال کو پلک جھپکتے میں دباتے ہیں – زمین درحقیقت پہلے سے کہیں زیادہ آہستہ گھوم رہی ہے۔ گھڑی کو 1.4 بلین سال پیچھے کریں اور ایک دن 19 گھنٹے سے بھی کم وقت میں گزر جائے گا۔ اوسطاً، پھر، زمین کے دن چھوٹے ہونے کی بجائے لمبے ہوتے جا رہے ہیں، ہر سال ایک سیکنڈ کے تقریباً 74,000ویں حصے سے۔ چاند زیادہ تر اثر کے لئے ذمہ دار ہے: کشش ثقل کی ٹگ سیارے کو تھوڑا سا مسخ کرتی ہے، جو سمندری رگڑ پیدا کرتی ہے جو زمین کی گردش کو مسلسل سست کرتی ہے۔

    گھڑیوں کو سیارے کے چکر کے مطابق رکھنے کے لیے، اقوام متحدہ کی ایک باڈی انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین نے جون یا دسمبر میں کبھی کبھار لیپ سیکنڈز کا اضافہ کیا ہے پہلا لیپ سیکنڈ 1972 میں شامل کیا گیا تھا۔ اگلا موقع دسمبر 2022 میں ہے، حالانکہ زمین اتنی تیزی سے گھوم رہی ہے، اس کی ضرورت کا امکان نہیں ہے۔

    اگرچہ زمین طویل مدت میں سست ہو رہی ہے، لیکن مختصر اوقات میں صورتحال مزید خراب ہے۔ زمین کے اندر ایک پگھلا ہوا کور ہے۔ اس کی سطح بدلتے ہوئے براعظموں، پھولتے ہوئے سمندروں اور معدوم ہونے والے گلیشیئرز کا ایک مجموعہ ہے۔ پورا سیارہ گیسوں کے ایک موٹے کمبل میں لپٹا ہوا ہے اور یہ اپنے محور پر گھومتے ہی لرزتا ہے۔ یہ تمام چیزیں زمین کی گردش کو متاثر کرتی ہیں، اسے تیز کرتی ہیں یا اسے سست کرتی ہیں، حالانکہ تبدیلیاں بنیادی طور پر ناقابل تصور ہیں۔

    کسی خلائی شے کا کسی سیارے کے قریب سے گزرنا بھی نظامِ شمسی کو تباہ کر سکتا ہے،تحقیق

    ناسا کے مطابق، ال نینو سالوں میں تیز ہوائیں سیارے کی گردش کو کم کر سکتی ہیں، جس سے دن کو ملی سیکنڈ کے ایک حصے تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف، زلزلوں کا اثر الٹا ہو سکتا ہے۔ 2004 کے زلزلے نے جس نے بحر ہند میں سونامی کو جنم دیا تھا اس نے اتنی چٹان کو منتقل کر دیا کہ دن کی لمبائی تقریباً تین مائیکرو سیکنڈ تک کم ہو گئی۔

    کوئی بھی چیز جو زمین کے مرکز کی طرف بڑے پیمانے پر حرکت کرتی ہے وہ سیارے کی گردش کو تیز کرے گی، جیسا کہ ایک گھومنے والا آئس سکیٹر جب اپنے بازوؤں میں کھینچتا ہے تو اس کی رفتار تیز ہو جاتی ہے۔ ارضیاتی سرگرمی جو بڑے پیمانے پر مرکز سے باہر کی طرف دھکیلتی ہے اس کا الٹا اثر پڑے گا اور اس کا گھماؤ سست ہو جائے گا-

    یہ تمام مختلف عمل ایک دن کی طوالت کو متاثر کرنے کے لیے کیسے اکٹھے ہوتے ہیں، یہ ایک سوال ہے جس کا جواب سائنسدان ابھی تک تلاش کر رہے ہیں۔ لیکن اگر چھوٹے دنوں کا رجحان طویل عرصے تک جاری رہتا ہے، تو یہ پہلی "منفی لیپ سیکنڈ” کے لیے کالز کا باعث بن سکتا ہے۔ گھڑیوں میں ایک سیکنڈ کا اضافہ کرنے کے بجائے، شہری وقت تیزی سے گھومنے والے سیارے کو برقرار رکھنے کے لیے ایک سیکنڈ چھوڑ دے گا۔ اس کے نتیجے میں اس کے اپنے نتائج ہو سکتے ہیں، کم از کم اس بحث کو دوبارہ شروع نہیں کرنا چاہیے کہ آیا، 5000 سال سے زیادہ کے بعد، سیارے کی حرکت کے ذریعے وقت کی وضاحت ایک ایسا خیال ہے جس کا وقت گزر چکا ہے۔

    نظامِ شمسی کے قریب زمین جیسے دو چٹانی سیارے دریافت