Baaghi TV

Tag: جوڈیشل کمیشن اجلاس

  • جوڈیشل کمیشن کا اجلاس: لاہور ہائیکورٹ کے 11 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری

    جوڈیشل کمیشن کا اجلاس: لاہور ہائیکورٹ کے 11 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری

    اسلام آ باد:جوڈیشل کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کے 11 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دیدی۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا، اجلاس کے اعلامیے کے مطابق جوڈیشل کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کے 11 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دیدی ہے لاہور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل جج حسن نواز مخدوم، جسٹس ملک وقار حیدر اعوان اور جسٹس سردار اکبر علی کی مستقلی کی منظوری دی گئی ہےاسی طرح جسٹس سید احسن رضا، جسٹس ملک جاوید اقبال اور جسٹس محمد جواد ظفر کو بھی مستقل جج بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ‎
اسرائیل سے متعلق پاکستان کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں، دفتر خارجہ

    جوڈیشل کمیشن اجلاس کے اعلامیے کے مطابق جسٹس خالد اسحاق، جسٹس ملک محمد اویس خالد اور جسٹس چوہدری سلطان محمود کی مستقلی کی بھی منظوری دی گئی ہے جبکہ جسٹس تنویر احمد شیخ اور جسٹس عبہر گل کو بھی مستقل جج مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے لاہور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل جج راجا غضنفر علی خان کو مستقل نہیں کیا جا سکا جب کہ ایڈیشنل جج طارق محمود باجوہ کو 6 ماہ کی توسیع دینے کی منظوری دی گئی ہے پی ٹی آئی کے دو ممبران جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں مسلسل غیر حاضر ہو رہے ہیں۔

    چین نے امریکی و اسرائیلی سائبر سیکیورٹی سافٹ ویئر پر پابندی عائد کر دی

  • جوڈیشل کمیشن اجلاس کا اعلامیہ جاری

    جوڈیشل کمیشن اجلاس کا اعلامیہ جاری

    چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرِ صدارت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اجلاس منعقد ہوا-

    اجلاس کا باضابطہ اعلامیہ بھی جاری کر دیا گیا،اعلامیے کے مطابق اجلاس کے دوران جوڈیشل کمیشن نے 12 میں سے 10 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دے دی-

    اعلامیے کے مطابق جن ججز کو مستقل کیا گیا ان میں جسٹس میراں محمد شاہ، جسٹس تسلیم سلطانہ، جسٹس ریاضت علی سحر، جسٹس محمد حسن اکبر، جسٹس عبدالحامد بھرگی، جسٹس جان علی جونیجو، جسٹس ناصر احمد بھنبوڑو، جسٹس علی حیدر ادا، جسٹس عثمان علی اور جسٹس محمد جعفر رضا شامل ہیں جبکہ جوڈیشل کمیشن نے جسٹس خالد حسین شہانی اور جسٹس فیاض الحسن شاہ کو چھ ماہ کے لیے توسیع دینے کی منظوری دی۔

    اجلاس میں سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کی مدت میں بھی چھ ماہ کی توسیع کا فیصلہ کیا گیا اس کے ساتھ ہی آئینی بینچ کے لیے جسٹس امجد علی، جسٹس حسن اکبر اور جسٹس عثمان علی ہادی کو نامزد کر دیا گیا۔

    پینٹنگ کی ماہر چمپینزی 49 برس کی عمر میں چل بسی

    اسلام آباد میں درختوں کی بے دریغ کٹائی انتہائی تشویشناک ہے،شیری رحمان

    کراچی نے انتشار کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے،شرجیل میمن

  • جوڈیشل کمیشن میں  اتفاق رائے سےاہم فیصلے

    جوڈیشل کمیشن میں اتفاق رائے سےاہم فیصلے

    ججز تقرری کیلئے جوڈیشل کمیشن میں اہم فیصلوں پر اتفاق رائے ہوگیا۔

    باغی ٹی کی رپورٹ کے مطابق جوڈیشل کمیشن کے آج کے اجلاس کی کارروائی کے اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں جسٹس منصور علی شاہ نے اراکین کو رولز کے بارے میں بریف کیا۔چیف جسٹس آف پاکستان نے اراکین اور شریک چیئرمین کا رولز ڈرافٹ کرنے پر شکریہ ادا کیا۔اعلامیے کے مطابق اجلاس میں یقینی بنایا گیا کہ ڈرافٹ رولز آئین سے مطابقت رکھتے ہوں جبکہ تجاویز پر اتفاق رائے پیدا کیا گیا۔اجلاس کے اختتام پر فیصلہ کیا گیا کہ چیف جسٹس اور سینئر جج رولز ڈرافٹ کارروائی کے مطابق رولز ڈرافٹ کریں، آیندہ اجلاس 28 ستمبر کو ہوگا جبکہ ترامیم کے مجوزہ ڈرافٹ میں کچھ تبدیلیوں پر اتفاق رائے ہوا۔نیا ڈرافٹ آئندہ اجلاس میں اراکین کے سامنے پیش کیا جائے گا۔جوڈیشل کمیشن کا آئندہ اجلاس 28 ستمبر صبح 10 بجے ہوگا۔

    دوست ممالک نے قرض پروگرام ممکن بنایا، وزیراعظم

    اجلاس سے قبل رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی شریک ہوں گے، اجلاس میں جسٹس (ر) منظور ملک، اٹارنی جنرل منصور اعوان اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ بھی شریک ہوں گے۔عام طور پر ہائی کورٹس کے سینئر ترین ججز ممبر نہ ہونے کے باعث جوڈیشل کمیشن اجلاس میں شرکت نہیں کرتے، تاہم ذرائع نے بتایا تھا کہ ہائی کورٹس کے اجلاس میں چیف جسٹس اور سینئر ترین ججز کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا ہے، اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے قانون بھی شریک ہوں گے، عام حالات میں جس ہائی کورٹ میں ججز تعیناتی ہوتی ہے اس کے متعلقہ چیف جسٹس اور وزیر قانون اجلاس میں شرکت کرتے ہیں۔

    پی ٹی آئی رہنماؤں کی پریس کانفرنس،صحافیوں نے بائیکاٹ کر دیا

    اجلاس میں مجوزہ جوڈیشل کمیشن رولز 2024 کا جائزہ لیا جائے گا اور جوڈیشل کمیشن رولز 2024 کی منظوری کے بعد ججز کی تقرریاں کی جائیں گی، اسلام آباد ہائی کورٹ سمیت پانچوں صوبائی ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کو خط ارسال کیا جاچکا ہے، خط میں ہائی کورٹس سے ججز کے تقرر کے لیے امیدواروں کی تلاش کی درخواست کی گئی ہے۔یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس وقت دو ججز کی اسامیاں خالی ہیں جبکہ لاہور ہائی کورٹ میں 24 ججز کی آسامیاں خالی ہیں، صدر مملکت نے پشاور ہائی کورٹ میں ججز کی تعداد 20 سے بڑھا کر 30 کردی ہے۔پشاور ہائی کورٹ میں اس وقت 13 ججز خدمات سرانجام دے رہے ہیں جبکہ وہاں کل 17ججز کی تعیناتیاں ہونی ہیں، سندھ ہائی کورٹ میں 11 اور بلوچستان ہائی کورٹ میں 4 ججز کی آسامیاں خالی ہیں۔سپریم کورٹ میں بھی ججز کی تعداد 17 سے بڑھا کر 23 کرنے سے متعلق بل متعلقہ کمیٹی میں زیر غور ہے، اس سے قبل رولز میں ترمیم کے لیے گزشتہ اجلاس 3 مئی کو بلایا گیا تھا، وزیر قانون نے کمیشن کو بتایا تھا کہ وفاقی حکومت آئین کے آرٹیکل 175 میں ترمیم کا ارادہ رکھتی ہے جس کے بعد کمیٹی نے رولز میں ترمیم کی منظوری کا معاملہ ملتوی کردیا تھا۔

  • جسٹس عائشہ ملک کی تقرری، پاکستان بار کونسل کا عدالتی بائیکاٹ کا اعلان

    جسٹس عائشہ ملک کی تقرری، پاکستان بار کونسل کا عدالتی بائیکاٹ کا اعلان

    جسٹس عائشہ ملک کی تقرری کے باعث پاکستان بار کونسل نے جوڈیشل کمیشن اجلاس کے دن ہڑتال اور عدالتی بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل خوش دل خان نے پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار کے دیگرعہدیداروں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 6 جنوری کو جوڈیشل کمیشن اجلاس کے روز ہڑتال اور عدالتی بائیکاٹ کیا جائے گا۔

    جعلی میٹرک سرٹیفکیٹ کاانکشاف، ایڈووکیٹ صفدر شاہین کے خلاف مقدمہ درج

    خوش دل خان نے کہا کہ کسی جج سے ہماری ذاتی دشمنی نہیں ہے، سمجھ سے بالاتر ہے کہ جسٹس عائشہ ملک کو لانے کا مقصد کیا ہے چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد اگلے ماہ ریٹائر ہورہے ہیں، خود چیف جسٹس کہہ چکے ہیں کہ ججز کی تقرری کا معاملہ نئے چیف جسٹس پر چھوڑنا چاہئے۔

    پاکستان میں جمادی الثانی کا چاند نظر نہیں آیا

    وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل نے کہا کہ ہمارا مطالبہ وہی ہے کہ سینیارٹی کے اصول کو کسی صورت نظر انداز نہیں کرنا چاہیے ججز تقرری میں سنیارٹی کا اصول ہر صورت سامنے رکھنا چاہیے۔

    محکمہ موسمیات کی کراچی میں بارش کی پیش گوئی

    واضح رہے کہ سابق سول جج اور سپریم کورٹ آف پاکستان (ایس سی پی) کے ایڈووکیٹ صفدر شاہین پیرزادہ کے خلاف میٹرک کا جعلی سرٹیفکیٹ رکھنے پر فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کر لی گئی ہے س حوالے سے رفاقت علی ولد محمد اسماعیل نے ایف آئی آر درج کرائی گئی جس میں موقف اپنایا گیا کہ ایس ایچ او تھانہ سول لائنز کو رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ لاہور سے موصول ہونے والے لیٹر نمبر کی روشنی میں مقدمہ کا اندراج جس میں ربورڈ آف انٹر میڈیٹ گوجرانوالہ سے میٹرک کا سرٹیفکیٹ جعلی قرار دیا گیا ہے اور رپورٹ مذکورہ خط کے ساتھ منسلک ہے۔

    مذکورہ خط کی تعمیل میں معزز وائس چیئرمین پنجاب بار کونسل نے یکم دسمبر 2021 کو فوجداری مقدمہ یو ایس 420 ، 468 اور 471 کے اندراج کا حکم جاری کیا ہے، جسے لیگل پریکٹیشنرز اور بار کونسل ایکٹ 1973 کے سیکشن 58 کے ساتھ رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ (LHC) کے خط نمبر 18802 مورخہ 27.10.2021 کی روشنی میں پولیس سٹیشن سول لائنز لاہور میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    سرگودھا : تھانہ جھال چکیاں پولیس کی کارواٸی ۔ منشیات فروش رنگے ہاتھوں گرفتار ۔