Baaghi TV

Tag: جوہری

  • امریکہ سرحدوں سے فوج ہٹالے ورنہ نتائج سنگین ہوں گے، روس کی دھمکی

    امریکہ سرحدوں سے فوج ہٹالے ورنہ نتائج سنگین ہوں گے، روس کی دھمکی

    ماسکو : امریکہ میں روس کے سفیر اناتولی انتونوف نے واشنگٹن سے مطالبہ کیا کہ وہ غیر ملکی توسیع کی جارحانہ بیان بازی کو ترک کرے اور اپنی فوجی صلاحیت کو روسی سرحدوں سے ہٹائے۔

    انہوں نے واضح الفاظ میں امریکہ کو متنبہ کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ گئے تو بصورت دیگر نتائج کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس پیچھے ہٹنے کے لیے کوئی اور جگہ نہیں ہے اور نیٹو کی افواج روس کی سرحدوں تک پہنچ چکی ہیں۔

    ایلچی نے مزید کہا کہ امریکا روس کے خلاف نہ صرف زمینی بلکہ سمندر اور فضا میں بھی غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تاہم روس اپنے دفاع سے بالکل بھی غافل نہیں ہے۔
    .
    انتونوف نے میڈیا کو بتایا کہ امریکہ روس کے ساتھ مل کر بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے ایک خصوصی ذمہ داری رکھتا ہے جیسا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں بیان کیا گیا ہے۔

    روسی سفارت کار نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ غیرملکی توسیع کی جارحانہ بیان بازی کو ترک کر دیا جائے اور اس بارے میں سوچیں کہ آنے والی نسلیں کیسے ایک ساتھ رہیں گی۔

    ادھرچین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکا نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ جوہری جنگ پر فتح حاصل نہیں کی جا سکتی اور ایسی ہلاکت خیز جنگ کبھی شروع بھی نہیں ہونی چاہیے۔

    دنیا کی پانچ جوہری طاقتوں نے تین دسمبر پیر کے روز جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کا عہد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری جنگ ہرگز کوئی متبادل نہیں ہے۔

    چین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکا نے مشترکہ طور پر جاری کردہ اپنے ایک غیر معمولی بیان میں کہا، ”ہم اس بات میں پختہ یقین رکھتے ہیں کہ ایسے ہتھیاروں کے مزید پھیلاؤ کو روکنا بہت ضروری ہے۔” بیان میں مزید کہا گیا، ”جوہری جنگ جیتی نہیں جا سکتی اور کبھی لڑی بھی نہیں جانی چاہیے۔” پانچوں عالمی طاقتوں نے بیان میں اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ جب تک، ”جوہری ہتھیار موجود رہیں گے اس وقت تک وہ بس، دفاعی مقاصد کو پورا کرنے، جارحیت اور جنگ کو روکنے کے لیے ہی ہوں گے۔”

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل ارکان (پی فائیو) نے، ”جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کو جلد از جلد ختم کرنے اور جوہری تخفیف اسلحہ سے متعلق موثر اقدامات پر نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔” سبھی نے سخت اور موثر بین الاقوامی کنٹرول کے تحت عمومی اور مکمل تخفیف اسلحہ کے معاہدے پر بھی اتفاق کیا۔”

  • ایران کے جوہری پروگرام پر کسی بھی وقت حملہ کرسکتے ہیں‌:نامزد اسرائیلی ائیرچیف

    ایران کے جوہری پروگرام پر کسی بھی وقت حملہ کرسکتے ہیں‌:نامزد اسرائیلی ائیرچیف

    تل ابیب : ایران کے جوہری پروگرام پر کسی بھی وقت حملہ کرسکتے ہیں‌:نامزد اسرائیلی ائیرچیف نے دھمکی دے دی ،اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فضائیہ کے نامزد ائیرچیف نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو اسرائیل کل ہی ایران کے جوہری پروگرام پر حملہ کرسکتا ہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق ایک بیان میں اسرائیلی فضائیہ کے نامزد ائیرچیف جنرل ٹومر بار نے کہا کہ اسرائیل کے پاس ایران کے جوہری پروگرام پر مستقبل قریب یا کل ہی کامیابی سے حملہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

    جنرل ٹومر کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو اسرائیل کامیابی کے ساتھ ایران کے جوہری پروگرام پر کل حملہ کرسکتا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق جنرل ٹومر اپریل میں اسرائیلی فضائیہ کی کمان سنبھالیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ اسرائیل بہت آسانی کے ساتھ ایران کا جوہری پروگرام تباہ کرسکتا ہے، یہ ہم سے صرف ایک ہزار کلو میٹر کے فاصلے پر ہے، کوئی وجہ نہیں کہ ہم اسرائیل کے جوہری پروگرام کو چلنے دیں۔

    یاد رہے کہ امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سولیون کل بدھ کے روز تل ابیب میں اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ اور اسرائیل کے دفاع اور خارجہ امور کے وزرا سے ملاقات کی ہے ۔ سولیون گذشتہ روز ایک روز دورے پر تل ابیب پہنچے تھے۔ دورے کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو زیر بحث لانا ہے۔

    اس سے قبل وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا گیا تھا کہ سولیون ایران اور دیگر موضوعات پر مشاورت کے لیے اسرائیل اور مغربی کنارے کا دورہ کریں گے۔

    قومی سلامتی کے مشیر ایال ہلاتا اور ان کے امریکی ہم منصب جیک سلیوان ایک دو طرفہ فورم کے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں جو ایران اور دیگر علاقائی معاملات پر بات چیت کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

    وائٹ ہاؤس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "وفود نے ایران کی طرف سے لاحق خطرات کے تمام پہلوؤں کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا، بشمول اس کے جوہری پروگرام، خطے میں عدم استحکام کی سرگرمیوں اور دہشت گرد پراکسی گروپوں کی حمایت”۔ انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایران کا تیزی سے آگے بڑھنے والا جوہری پروگرام خطے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

    سلیوان، جو یروشلم کا دورہ کر رہے ہیں، نے ویانا میں جاری جوہری مذاکرات کے بارے میں اسرائیلیوں کو بھی اپ ڈیٹ کیا اور بیان کے مطابق "دونوں فریقوں نے آگے بڑھنے کے لیے خیالات کا تبادلہ کیا۔”

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "عہدیداروں نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکہ اور اسرائیل اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اپنے عزم پر قائم ہیں کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔”