Baaghi TV

Tag: جوہری تنصیبات

  • ایران کے پاس حالات بدلنے اور نئی راہیں نکالنے کی طاقت موجود ہے، ایرانی صدر

    ایران کے پاس حالات بدلنے اور نئی راہیں نکالنے کی طاقت موجود ہے، ایرانی صدر

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے کی قرارداد مسترد ہونے کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سخت ردعمل دیا ہے۔

    ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ ایران ایک بار پھر پابندیوں کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہےپابندیوں سے راستے روکے جا سکتے ہیں لیکن خیالات اور عزم نئے راستے بناتے ہیں،مسعود پزشکیان نے اپنی جوہری تنصیبات کے حوالے سے واضح کیا کہ نطنز اور فردو کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، مگر دشمن یہ نہیں سمجھتے کہ ان تنصیبات کو بنانے والے انسان ہیں اور وہی دوبارہ انہیں تعمیر کر سکتے ہیں،ایران کبھی بھی حد سے بڑھے مطالبات کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا کیونکہ ایران کے پاس حالات بدلنے اور نئی راہیں نکالنے کی طاقت موجود ہے۔

    واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران پر پابندیاں ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی تھی، جس کے بعد ایران پر جوہری اور اقتصادی پابندیاں برقرار رہیں گی اس ووٹنگ میں پاکستان، چین، روس اور الجزائر نے ایران کے حق میں ووٹ دیا۔

    امریکا کی پارٹی سیاست کا حصہ نہیں بنیں گے،پوپ لیو

    انتہاپسندی، غربت اور عدم مساوات امن کے لیے بڑے خطرات ہیں، ،بلاول بھٹو

    بارکھان میں شرپسندوں نے سڑک کی تعمیراتی مشینری کو آگ لگا دی

  • ایران نے آئی اے ای اے کی تکنیکی ٹیم کے دورے کی اجازت دے دی

    ایران نے آئی اے ای اے کی تکنیکی ٹیم کے دورے کی اجازت دے دی

    ایران نے اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے، انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے)، کی ایک تکنیکی ٹیم کو آئندہ چند ہفتوں میں دورہ ایران کی اجازت دے دی ہے تاکہ دونوں جانب تعلقات اور بات چیت کے طریقہ کار پر گفتگو کی جا سکے۔

    یہ اعلان ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیویارک میں میڈیا سے گفتگو میں کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ ٹیم جوہری تنصیبات کے معائنے کے لیے نہیں بلکہ بات چیت کے لیے آئے گی۔آئی اے ای اے نے اس بیان پر کوئی فوری ردعمل نہیں دیا، تاہم اس نے کہا کہ اس کے سربراہ رافیل گروسی ایران کے جوہری معاملے میں شامل تمام فریقین سے مسلسل رابطے میں ہیں۔

    بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے حالیہ مہینوں میں ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والے فضائی حملوں کے بعد ایران میں معائنہ کا عمل دوبارہ شروع کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ تہران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکا جا سکے۔ایران بارہا اپنے جوہری پروگرام کو صرف پرامن اور سول مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی تردید کرتا رہا ہے اور کہتا ہے کہ اس کا کوئی ارادہ جوہری ہتھیار بنانے کا نہیں۔

    یہ حالیہ پیش رفت عالمی سطح پر ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے جاری کشیدگی میں نرمی کی کوششوں کے تناظر میں دیکھی جا رہی ہے۔

    ایرانی صدر کا پاکستان کا متوقع دورہ، تیاریاں حتمی مراحل میں

    اٹلی: چھوٹا طیارہ ہائی وے پر گر کر تباہ، خاتون سمیت 2 افراد ہلاک

    استنبول میں روس یوکرین مذاکرات شروع، جنگ بندی کی امید

  • ایران نے آئی اے ای اے کے کیمرے ہٹا دیے، رافیل گروسی کے داخلے پر پابندی

    ایران نے آئی اے ای اے کے کیمرے ہٹا دیے، رافیل گروسی کے داخلے پر پابندی

    ایران نے اقوام متحدہ کی بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی نگرانی کے تحت نصب کیے گئے کیمروں کو متعدد جوہری تنصیبات سے ہٹا دیا ہے جبکہ ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی کے ملک میں داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ نے 25 جون کو ایک بل منظور کیا جس میں آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون ختم کرنے کی حمایت کی گئی، جس میں رپورٹس، کیمروں کی تنصیب اور معائنے شامل تھے۔ اس فیصلے کے چند روز بعد ایرانی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا کہ ایران نے "بمباری کے بعد” کیمروں کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے اور عالمی اداروں کے دوروں کو مسترد کر دیا ہے۔

    علاوہ ازیں، ایران نے آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی کے ملک میں داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک بیان میں کہا کہ گروسی کا جوہری سائٹس کے دورے کا مطالبہ بدنیتی پر مبنی ہے اور بمباری کے بعد ایسے دورے بے معنی ہیں۔رپورٹس کے مطابق گروسی کو ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے متعلق درست معلومات بھی حاصل نہیں ہو سکیں، جس پر ایران نے مزید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

    ایران کا یہ قدم ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب حالیہ ہفتوں میں اس کی جوہری تنصیبات پر ممکنہ فضائی حملے کیے گئے، جن کا الزام امریکا یا اسرائیل پر عائد کیا جا رہا ہے، تاہم تہران کی جانب سے باضابطہ طور پر کسی ملک کا نام نہیں لیا گیا۔

    علی امین گنڈاپور کے حلقے کے ہسپتالوں میں52 کروڑ کی مالی بدعنوانی بے نقاب

    سانحہ سوات پر پنجاب اسمبلی کی مذمتی قرارداد منظور، وزیراعلیٰ سے استعفے کا مطالبہ

    پنجاب پولیس کے عمر فاروق کا ویسٹ ایشیا بیس بال کپ میں سلور میڈل

    کراچی میں مون سون کی پہلی بارش کے دوران 7 افراد جاں بحق

    Ask ChatGPT

  • ایرانی وزارت خارجہ کا  امریکی و اسرائیلی حملوں سے جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچنے کا اعتراف

    ایرانی وزارت خارجہ کا امریکی و اسرائیلی حملوں سے جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچنے کا اعتراف

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نےحالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران کی جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچنے کا اعتراف کیا ہے-

    قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے ساتھ انٹرویو کے دوران ان سے جب حملوں کے اثرات سے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ "جی ہاں، ہماری جوہری تنصیبات کو بری طرح نقصان پہنچا ہے، یہ بات یقینی ہے کیونکہ ان پر بار بار حملے کیے گئے ہیں تاہم انہوں نے تفصیل بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تکنیکی نوعیت کا معاملہ ہے اور اس پر ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم اور دیگر ادارے کام کر رہے ہیں۔

    <strongایران میں اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں مزید 3 افراد کو پھانسی>یہ کسی اعلیٰ ایرانی عہدیدار کی طرف سے پہلی بار اعتراف ہے کہ امریکی و اسرائیلی حملوں سے جوہری پروگرام کو واقعی نقصان پہنچا ہے اس سے قبل امریکی میڈیا یہ دعویٰ کر چکا ہے کہ حملوں کے باوجود ایران کی ایٹمی تنصیبات مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئیں بلکہ محض چند مہینوں کے لیے پیچھے چلی گئی ہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسی رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ نے ایران کی جوہری صلاحیت مکمل طور پر تباہ کر دی ہے۔

    واضح رہے کہ ہفتے کے روز امریکا نے فردو، نطنز اور اصفہان میں موجود ایران کی تین اہم ایٹمی تنصیبات پر شدید فضائی حملے کیے تھے۔

    امریکی ایئرلائن کا مسافر طیارہ بڑے حادثے سے بال بال بچ گیا

    اوچ شریف: سفیرانِ امن قافلہ کا دورہ، محرم الحرام میں امن و بھائی چارے کے عزم کا اظہار

  • ایران کا امریکی انسپکٹرز کو جوہری تنصیبات کے معائنے کی مشروط اجازت پر غور

    ایران کا امریکی انسپکٹرز کو جوہری تنصیبات کے معائنے کی مشروط اجازت پر غور

    ایران نے عندیہ دیا ہے کہ اگر امریکا کے ساتھ کوئی معاہدہ طے پاتا ہے تو وہ اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے (IAEA) کے ذریعے امریکی انسپکٹرز کو اپنی جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت دینے پر غور کر سکتا ہے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق، ایرانی اٹامک انرجی آرگنائزیشن کے سربراہ محمد اسلامی نے بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ان ممالک کے معائنہ کار جو ایران کے مخالف رہے ہیں، ہمارے لیے پہلے قابلِ قبول نہیں تھے، تاہم اگر کوئی معاہدہ طے پاتا ہے اور تہران کے مطالبات تسلیم کیے جاتے ہیں تو اس پالیسی پر نظرثانی ممکن ہے۔

    محمد اسلامی نے مزید کہا کہ موجودہ مذاکرات میں افزودگی کا معاملہ بالکل نہیں اٹھایا گیا، اور یورینیم کی افزودگی کی شرح کو سیاسی رنگ دینا درست نہیں۔ ان کے مطابق، "افزودگی کا فیصد استعمال کی قسم پر منحصر ہے، اور زیادہ افزودہ یورینیم کا مطلب لازماً فوجی مقاصد نہیں ہوتا۔”ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی اسی موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں یورینیم کی افزودگی جوہری صنعت کا بنیادی حصہ ہے اور اس اصول پر کوئی بھی سمجھوتہ ناقابلِ قبول ہے۔

    ایرانی اور امریکی حکام کے درمیان گزشتہ چند ہفتوں میں جوہری مسئلے پر پانچ دور کی بات چیت ہو چکی ہے، جو 2018 میں امریکا کی یکطرفہ دستبرداری کے بعد اب تک کی اعلیٰ سطحی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ اسماعیل بقائی کے مطابق، مذاکرات کے اگلے دور کے مقام اور وقت پر مشاورت جاری ہے، اور اس کا اعلان عمان کرے گا، جو اس عمل میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان، جو اس وقت عمان کے سرکاری دورے پر ہیں، نے خلیجی ریاست کی ثالثی کی کوششوں کا شکریہ ادا کیا۔فی الحال ایران 60 فیصد تک یورینیم افزودہ کر رہا ہے، جو کہ کسی بھی غیر جوہری ہتھیاروں والی ریاست کے لیے غیرمعمولی حد ہے۔ اگرچہ یہ ہتھیاروں کے لیے درکار 90 فیصد کی سطح سے کم ہے، لیکن 2015 کے معاہدے کی 3.67 فیصد حد سے کہیں زیادہ ہے۔

    فرانس، جرمنی اور برطانیہ — جو معاہدے کے یورپی فریقین ہیں — اس وقت اس امکان پر غور کر رہے ہیں کہ آیا ‘اسنیپ بیک’ میکانزم کو فعال کیا جائے، جس کے تحت ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں بحال ہو سکتی ہیں۔ ایران نے اس اقدام کے خلاف سخت خبردار کیا ہے۔

    ٰیاد رہے کہ 2015 کے جوہری معاہدے سے امریکا کی دستبرداری اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی "زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی کے بعد ایران نے جوہری سرگرمیوں میں تیزی لائی، جس پر مغربی دنیا کو شدید تحفظات ہیں۔ تاہم، ایران مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کر رہا۔

    ایران میں اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے والے شخص کو سزائے موت

    پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش: پہلے ٹی20 میں قومی ٹیم کی بیٹنگ جاری