Baaghi TV

Tag: جو بائیڈن

  • جو بائیڈن میں پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص

    جو بائیڈن میں پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص

    واشنگٹن:سابق امریکی صدر 82 سالہ جو بائیڈن کو پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص ہوئی ہے، جو ہڈیوں تک پھیل چکا ہےاور وہ اس وقت اپنے معالجین کے ساتھ علاج کے آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔

    جو بائیڈن کی آفس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعہ کے روز سابق صدر کو جارحانہ نوعیت کے پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص ہوئی طبی رپورٹس کے مطابق اس بیماری کا پھیلاؤ ہڈیوں تک ہو چکا ہے، جس کے بعد بائیڈن اور ان کے اہل خانہ نے اپنے معالجین سے مشورہ کیا ہے تاکہ علاج کے مختلف آپشنز پر غور کیا جا سکے۔

    جو بائیڈن کی صدارت کی مدت 20 جنوری کو ختم ہوئی تھی، اور اس وقت سابق صدر عوامی زندگی سے کسی حد تک الگ ہو چکے ہیں، تاہم ان کی صحت کے حوالے سے یہ نئی تشخیص ان کے مداحوں اور عالمی رہنماؤں کے لیے تشویش کا باعث بنی ہے۔

    آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جوبائیڈن اور ان کے اہل خانہ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوبائیڈن کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں ڈونلڈ ٹرمپ نےکہا کہ بائیڈن کو کینسر کی تشخیص کا سن کر اہلیہ میلانیا اورمیں افسردہ ہیں۔

    پروسٹیٹ کینسر مردوں میں سب سے عام کینسر ہے، جو پروسٹیٹ گلینڈ میں پیدا ہوتا ہے۔ پروسٹیٹ ایک چھوٹا غدود ہے جو مردوں کے تولیدی نظام کا حصہ ہوتا ہے۔

    پاک چائنہ دفاعی تعاون جنگی برتری میں تبدیل،عالمی میڈیا کا واضح اعتراف

  • وزیرِاعظم شہباز شریف اور امریکی صدر جوبائیڈن کے درمیان ملاقات

    وزیرِاعظم شہباز شریف اور امریکی صدر جوبائیڈن کے درمیان ملاقات

    اسلام آباد: وزیرِاعظم شہباز شریف اور امریکی صدر جوبائیڈن کے درمیان ملاقات ہوئی ہے –

    باغی ٹی وی: وزیراعظم آفس سے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیرِاعظم شہباز شریف نے گزشتہ شب امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شریک سربراہانِ حکومت کے اعزاز میں دیئے جانے والے عشائیے میں شرکت کی۔

    عشائیے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی صدر جو بائیڈن نے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا،عشائیے میں دیگر ممالک کے سربراہان مملکت نے بھی شرکت کی۔

    پائیدار اور مضبوط ترقی کی جانب پیش قدمی اب بھی پاکستان کیلئے چیلنج ہے،آئی ایم …

    لاہور:پی ٹی آئی کوجلسے کی اجازت نہ دینے کیٌخلاف درخواست سماعت کیلئے مکمل

    اے این ایف کی کارروائیاں: 12 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی منشیات برآمد

  • امریکی صدارتی انتخابات: بائیڈن اور ٹرمپ میں مباحثے کا آغاز آج سے

    امریکی صدارتی انتخابات: بائیڈن اور ٹرمپ میں مباحثے کا آغاز آج سے

    امریکی صدارتی انتخابات میں مباحثے کاآغاز آج سے ہورہا ہے، جو بائیڈن اور ڈونلڈ ٹرمپ میں پہلا مباحثہ اٹلانٹا میں شیڈول ہے۔

    صدر جو بائیڈن اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ٹیلی وژن مباحثے میں آمنے سامنے آ رہے ہیں جو پانچ نومبر 2024 میں ہونے والے الیکشن کے لیے جاری ان کی مہم کا انتہائی اہم موڑ ہے،امریکہ میں ہر چار سال کے بعد ہونے والے صدارتی الیکشن میں امیدواروں کی مہم کےدوران ٹی وی پر مباحثے کی دہائیوں پرانی روایت ہےالبتہ اس بار خلافِ روایت یہ مباحثہ الیکشن سے کئی ماہ قبل ہو رہا ہے۔

    اس سے قبل 2020 کے الیکشن سے پہلے جو بائیڈن اور ٹرمپ کے درمیان بھی صدارتی مہم کے دوران مباحثے ہوئے تھے، لیکن یہ سلسلہ الیکشن سے صرف دو ماہ قبل شروع ہوا تھا،جمعرات کو ہونے والا دو بدو مباحثہ اس اعتبار سے بھی منفرد ہے کہ اس کے دو نو ں ہی شرکا منصبِ صدارت پر فائز رہے ہیں، اس کے علاوہ اکتوبر 2020 میں ہونے والے مباحثے کے بعد یہ پہلا موقع ہو گا جب وہ ایک دوسرے کا سامنا کریں گے۔

    جارجیا کے انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے مک کیمش پویلین میں نشریاتی ادارے سی این این کے تحت پہلے صدارتی مباحثے کے انتظامات کو آخری شکل دے دی گئی ہیں بائیڈن اور ٹرمپ کے درمیان مباحثہ 27 جون کو ہو رہا ہے۔

    صدر بائیڈن نے جمعرات کو ہونے والے مباحثے پر آمادگی ظاہر کرنے کے بعد وسطِ مئی میں اس موضوع پر پہلی مرتبہ بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ 2020 میں مجھ سے دو مباحثوں میں ہار چکے ہیں۔ اس کے بعد سے وہ کبھی بحث کے لیے سامنے نہیں آئے،ٹرمپ نے رواں برس کے آغاز میں صدارتی دوڑ کے لیے ری پبلکن نامزدگی کے دیگر امیدواروں کے ساتھ مباحثے سے بھی گریز کیا تھا۔

    بائیڈن کا کہنا تھا کہ اب وہ (ٹرمپ) یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ مجھ سے ایک بار پھر بحث کرنا چاہتے ہیں خیر، اس سے بڑھ کر خوشی کی بات کیا ہو گی۔

    اس مباحثے میں ممکنہ طور پر ٹرمپ اپنے مقابل جو بائیڈن کو معیشت کو درست انداز میں نہ چلانے، جنوب مغربی امریکہ کی میکسیکو کے ساتھ سرحد پر ناقص کنٹرول اور ہزاروں مہاجرین کو امریکہ میں داخل ہونے دینے کے لیے موردِ الزام ٹھہرا سکتے ہیں۔

    ماضی کے تجربات کو دیکھتے ہوئے اس بار مباحثے کو شائستگی کے دائرے میں رکھنے کے لیے اس کے میزبان ’سی این این‘ کئی ضابطے بنائے ہیں اور بحث کا مکمل خاکہ فراہم کیا ہے اس بار کے مباحثے میں مقرر کا مائیک صرف بات کرتے وقت کھولا جائے گابات ختم ہوتے ہی مائیک بند کردیا جائے گا دوسری تبدیلی یہ کی گئی ہے کہ اس بار مباحثے کے دوران اسٹوڈیو میں سامعین نہیں ہوں گے۔

    مباحثے کا دورانیہ 90 منٹ ہو گا جس میں امیدوار کوئی تمہیدی گفتگو نہیں کریں گے بلکہ صرف میزبانوں کے سوالوں کا جواب دیں گے،دونوں امیدواروں کو سوال کا جواب دینے کے لیے دو منٹ کا وقت دیا جائے گا،مقابل امیدوار کی کسی بات کی تردید یا اس پر کوئی اعتراض کرنے کے لیے دوسرے امیدوار کو ایک منٹ دیا جائے گا اور اس تردید یا اعتراض کے جواب الجواب کے لیے پہلے مقرر کو بھی ایک منٹ دیا جائے گا میزبان اپنی صوابدید پر ایک اضافی منٹ بھی دے سکتے ہیں۔

    ہر امیدوار کو گفتگو کے لیے دیا گیا وقت ختم ہونے سے پانچ سیکنڈ قبل سرخ بتی جلنا بجھنا شروع کر دے گی اور وقت ختم ہوتے ہی بتی مکمل طور پر سرخ ہو جائے گی مقررین کو اسٹیج پر پہلے سے لکھے ہوئے نوٹس یا کوئی اور چیز ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔ ہر امیدوار کو پانی کی بوتل اور لکھنے کے لیے قلم و کاغذ دیے جائیں گے۔

    مباحثے کے لیے اسٹیج پر ایک جیسے پوڈیمز رکھے گئے ہیں ان پوڈیمز پر سے صدر بائیڈن دائیں اور ٹرمپ اسکرین کے بائیں جانب نظر آئیں گے۔ اسٹیج پر دائیں اور بائیں کھڑے ہونے کا یہ فیصلہ ٹاس کر کے کیا گیا تھا جو بائیڈن جیت گئے تھےدونوں امیدواروں کے درمیان 90 منٹ تک جاری رہنے والے اس مباحثے میں اشتہاروں کے لیے دو وقفے ہوں گے۔ اس وقفے کے دوران امیدوار اپنے عملے کے افراد سے بھی نہیں مل سکیں گے اس بار روایت کے برخلاف کمرشل وقفوں کے دوران کارپوریٹ اسپانسر شپ کی اجازت دی گئی ہے، مباحثے کے اختتام پر دونوں امیدواروں کو اختتامی گفتگو کے لیے دو، دو منٹ دئیے جائیں گے جس میں پہلے بائیڈن اور آخر میں ٹرمپ بات کریں گے، یہ ترتیب بھی پوڈیم کے لیے ہونے والے ٹاس کے طریقہ کار سے متعین کی گئی ہے۔

  • شہری نے امریکی صدر کو بے وقوف بنا دیا

    شہری نے امریکی صدر کو بے وقوف بنا دیا

    واشنگٹن: وائٹ ہاؤس میں کرسمس کے موقع پر لائیو کالر نے امریکی صدر کو بےوقوف بنا دیا۔

    باغی ٹی وی :امریکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کرسمس کے موقع پر خاتون اول کے ہمراہ لائیو کال پر لوگوں سے بات کر رہےتھےکہ اس دوران ایک ویڈیو کال پر بچوں کے والد نے مکالمے کے اختتام پر امریکی صدر کو “let’s go, Brandon” کہا لیکن امریکی صدر اس طنزیہ جملے کو سمجھنے سے قاصر رہے اور انہوں نے کالر کے اس جملے پر آمادگی کا اظہار کر دیا۔

    رپورٹس کے مطابق امریکی صدر اور خاتون اول نے بچوں سے بات کرنے کے بعد ان کے والد جیرڈ سے بات کی اور گفتگو کے آخری مرحلے میں جوبائیڈن نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ آپ کی کرسمس شاندار گزرے گی تاہم کالر جیرڈ نے کہا کہ ہاں اور مجھے بھی امید ہےکہ آپ لوگوں کی کرسمس بھی بہت اچھی گزرے گی-

    طالبان حکومت نے افغان الیکشن کمیشن کو تحلیل کر دیا

    واضح رہے کہ “let’s go, Brandon” کی اصطلاح کو قدامت پسندوں سے جوڑا جاتا ہے جو سابق امریکی صدر ڈولڈ ٹرمپ کے حامیوں کا سیاسی نعرے ہے اور وہ اسے جوبائیڈن کے لیے استعمال کرتے ہیں جس کا مفہوم “جوبائیڈن دفع ہوجاؤ” سے جوڑا جاتا ہے جیرڈ کے اس جملے کو امریکی صدر فوری سمجھ نہیں سکے اور کہا کہ میں متفق ہوں۔

    امریکہ نے عارضی ورک ویزے کے لیے انٹرویو کی شرط ختم کر دی

    واضح رہے کہ تین امریکی ریٹائرڈ جرنیلوں‌ نے امریکا میں‌ فوجی بغاوت کا خدشہ ظاہر کیا ہے ان کا کہنا تھا کہ اگر 2024 کے انتخابی نتائج کوفوج کے بعض حصوں نے قبول نہیں کیا جو ایک ‘ٹرمپ جیسی شخصیت’ کو چاہتے ہیں، تو امریکا میں خانہ جنگی شروع ہو سکتی ہے۔

    یہ تشویش ناک دعویٰ سابق آرمی میجر جنرل پال ایٹن، سابق بریگیڈیئر جنرل اسٹیون اینڈرسن اور سابق آرمی میجر جنرل انتونیو ٹیگوبا نے واشنگٹن پوسٹ کے ایک کالم میں کیا۔

    امریکا میں‌ فوجی بغاوت کا خدشہ

    ان ریٹائرڈ امریکی جنریلوں نے جمعے کو متنبہ کیا تھا کہ اگر 2024 کے انتخابات کے بعد بغاوت کی ایک اور کوشش کی گئی تو امریکا کی منقسم فوج ایک نئی خانہ جنگی کو ہوا دے سکتی ہے، کیوں کہ 6 جنوری کے حملوں میں 10 میں سے 1 سے زیادہ افراد کا فوجی سروس ریکارڈ پایا گیا تھا۔

    جرنیلوں نے لکھا تھا کہ جیسے جیسے ہم امریکی دارالحکومت میں مہلک بغاوت کی پہلی برسی کے قریب پہنچ رہے ہیں، 2024 کے صدارتی انتخابات کے بعد اور ہماری فوج کے اندر مہلک انتشار کے امکانات کے بارے میں ہماری (یعنی سب سابق سینئر فوجی حکام کی) فکر مندی بڑھتی جا رہی ہے، جو تمام امریکیوں کو شدید خطرے دوچار کر دے گا۔انھوں نے مزید کہا کہ اگلی بار بغاوت کے کامیاب ہونے کے بارے میں سوچ کر ہم اپنی ہڈیوں میں سنسناہٹ محسوس کر رہے ہیں۔

    امریکا اور اسرائیلی وفود کے درمیان اہم مذاکرات:ایرانی جوہری پروگرام کوخطے لیے خطرہ…