Baaghi TV

Tag: جھیل

  • ایشیاکپ 2025:بھارت نے اسکواڈ کا اعلان کر دیا

    ایشیاکپ 2025:بھارت نے اسکواڈ کا اعلان کر دیا

    بھارت نے ایشیا کپ 2025 کے لیے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق سوریا کمار یادیو کو بھارتی ٹیم کا کپتان برقرار رکھا گیا ہے جبکہ شبھمن گل نائب کپتان ہوں گے، شبھمن گل کی ٹی ٹوئںٹی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے انہیں اکشر پٹیل کی جگہ ٹیم کا نائب کپتان مقرر کیا گیا ہے،یشسوی جیسوال اور شریاس ایئر اسکواڈ میں جگہ بنانے میں ناکام رہے۔

    اسکواڈ میں ہاردک پانڈیا، اکشر پٹیل، شیوام دوبے، رنکو سنگھ، وکٹ کیپرز کے طور پر جیتیش شرما اور سنجو سیمسن کو اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہےباؤلنگ میں جسپریت بمرا، ارشدیپ سنگھ، ہرشت رانا اور کلدیپ یادیو کو منتخب کیا گیا ہے، ورون چکرورتی، تلک ورما، ابھیشیک شرما بھی اسکواڈ کا حصہ ہیں۔

    ادھربھارت کے سابق کرکٹر کیدار جادھو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایشیا کپ میں پاکستان اور بھارت کا میچ نہیں ہوگا،بھارت کے پاس پاکستان سمیت کسی بھی ٹیم کو شکست دینے کی صلاحیت موجود ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ میچ نہیں ہونا چاہیے اور میں اعتماد کے ساتھ کہتا ہوں کہ بھارت نہیں کھیلے گا،میرے خیال میں بھارتی ٹیم کو پاکستان سے نہیں کھیلنا چاہیے، بھارتی ٹیم جہاں بھی کھیلے گی وہ ہمیشہ جیتے گی۔

  • گلیشیئرز پگھلنے سے پاکستان اور بھارت کوشدید خطرہ

    گلیشیئرز پگھلنے سے پاکستان اور بھارت کوشدید خطرہ

    ایک نئی تحقیق میں ماہرین نے خبردار کیا ہےکہ مستقبل میں گلیشیئرز پگھلنے سے بننے والی جھیلیں پھٹنے کے باعث آنے والے سیلابوں سے پاکستان اور بھارت سمیت دنیا بھر میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد لوگ متاثر ہو سکتے ہیں، جس میں آدھے سے زیادہ لوگوں کا تعلق پاکستان، بھارت، چین اور پیرو سے ہو سکتا ہے جبکہ سب سے زیادہ خطرہ پاکستان کو درپیش ہوگا۔

    باغی ٹی وی: نیچر کمیونیکیشن نامی سائنسی جریدے میں شائع شدہ تحقیقمیں سائنسدانوں کی جانب سے دنیا بھر میں مستقبل میں آنے والے سیلابوں کے حوالے سے پہلی مرتبہ ممکنہ متاثرین کی تعداد کا جائزہ لیا گیا ہے تحقیق میں کہا گیا ہے کہ پہاڑوں پر گلیشیئرز پگھلنے کی رفتار سے مستقبل میں تباہ کن سیلابوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

    اقوام متحدہ کا پاکستان میں 5 ہزار گلیشیئرز کی میپنگ کروانے کا فیصلہ

    تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پہاڑوں پر گلیشیئرز پگھلنے سے پانی بہہ کر جھیلوں میں جمع ہوجاتا ہے تاہم جب یہ جھیلیں اپنے قدرتی حصار کو توڑدیں گی تو یہ پانی طوفانی رفتار سے وادیوں میں تباہی مچا سکتا ہے، خاص طور پر انسانی نقصان کا اندیشہ اس صورت میں کہیں زیادہ بڑھ جاتا ہے جب بڑی تعداد میں لوگ ان جھیلوں کے قریب آباد ہوں۔

    برطانیہ کی نیو کاسل یونیورسٹی کے فزیکل جیوگرافر اور تحقیق کے شریک مصنف اسٹوؤرٹ ڈننگ کا کہنا ہےکہ بڑھتےہوئےدرجہ حرارت میں گلیشیئرز سے بننے والی جھیلیں پھٹنے کے باعث سیلابوں کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ تازہ تحقیق کا مقصد صرف گلیشیئرز سے بننے والی جھیلوں کی تعداد معلوم کرنا نہیں تھا بلکہ اس میں ہم نے ان لوگوں کو بھی توجہ کامرکزرکھا ہےجو کہ سیلاب کی آفت سے متاثرہو سکتے ہیں2006 سے 2016 تک مجموعی طور پر 332 گیگا ٹن برف گلیشیئرز سے پگھل کر جھیلوں کی صورت اختیار کر چکی ہے 1990 سے عالمی سطح پر گلیشیئرز پگھلنے سے بننے والی جھیلوں کی تعداد میں تقریباً 50 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    پاکستان میں گلیشیئر پگھلنے سے بننے والی جھیلوں میں گزشتہ تین برس میں غیرمعمولی اضافہ

    تحقیق کے مطابق ایشیا کے اونچے پھاڑوں میں 2000 گیلیشیئرز سے بننے والی جھیلوں کے قریب تقریباً 90 لاکھ لوگ آباد ہیں اور صرف 2021 میں بھارت کے شمالی پہاڑوں پر ایک جھیل کے پھٹنے سے 100 سے زائد لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔

    تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ شمالی امریکا کے الپس (Alps) گلیشیئرز کے مقابلے میں ایشیا کے گلیشیئرز اچھی طرح مانیٹر نہیں ہوتے اس لیے ان میں سے بیشتر پر وقت کے ساتھ کیا تبدیلیاں آ رہی ہیں اس کا انداز لگانا تھوڑا مشکل ہے۔

    جولائی 2022 میں شائع شدہ ایک تحقیق کے مطابق 1990 سے 2015 تک ہمالیہ کے گلیشیئرز میں 11 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، اسی عرصے کے دوران ہمالیہ سلسلے میں موجود جھیلوں کی تعداد میں 9 فیصد اضافہ جبکہ جھیلوں کے اراضی میں 14 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    ایک تحقیق کے مطابق ہمالیہ کے پہاڑی سلسلوں میں 200 سے زائد گلیشیئرز پگھلنے سے بننے والی جھیلیں خطرناک صورت اختیار کر چکی ہیں جس سے کسی بھی وقت وہاں آباد لوگوں کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

    آنے والی نسلیں شدید موسمی اثرات کا سامنا کریں گی ، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

  • منچھر جھیل کے سیلابی پانی میں کمی نہ آ سکی

    منچھر جھیل کے سیلابی پانی میں کمی نہ آ سکی

    سیہون شریف،منچھر جھیل کے سیلابی پانی میں کمی نہ آ سکی

    یونین کونسل، جعفرآباد اور بوبک پر پانی کا دباؤ برقرار ہے، مختلف دیہات میں 10 فٹ سیلابی پانی تاحال موجود ہے، آر ڈی 50 سے 52 تک لگایا گیا کٹ ایک ہزار فٹ ہوگیا ،پانی کا بہاؤ تیزی سے آبادی کی طرف جاری ہے، متاثرین کا کہنا ہے کہ منچھر جھیل کے کٹ بند کرکے نکاسی آب کا عمل شروع کیا جائے،

    قبل ازیں وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت شہروں اور زرعی زمینوں سے پانی کی نکاسی سے متعلق اجلاس ہوا، اجلاس میں بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیاکہ دریا میں پانی گڈو ، سکھر اور کوٹری بیراج پر معمول کے مطابق بہہ رہا ہے منچھر جھیل میں پانی کی سطح کم ہو کر 177.35 ہوگئی ہے، خیرپور ناتھن شاہ،دادو روڈ پر بھی 5.85 فٹ سے 2 فٹ کم ہوا ، و ایف بندپر شگاف کو بند کیا گیا ، منچھر جھیل کے آر ڈی 14 پر بریچ بھی بند کیا جا رہا ہے، ایل بی او ڈی میں پانی کی سطح زیادہ تھی ، آر ڈی 7 اور 18 پر 2 شگاف پڑے تھے جوبند کیے گئے ،ب

    دوسری جانب سیلاب متاثرین کے کیمپوں میں بیماریاں پھیل چکی ہیں، محکمہ صحت سندھ کے مطابق حیدرآباد کے ریلیف کیمپوں میں ملیریا کے مشتبہ 69 اور تصدیق شدہ 10 کیسز رپورٹ ہوئے، 173 افراد کو سانس کی تکلیف کی شکایت ہوئی ، ریلیف کیمپس میں 43 افراد ڈائریامیں مبتلا ہوگئے ،108 سیلاب متاثرین ریلیف کیمپس میں جلدی امراض میں مبتلا ہوئے ہیں‌، آنکھوں کے انفیکشن کے 15 کیسز رپورٹ ہوئے ،

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

  • منچھر جھیل میں بند پر مزید دو کٹ لگا دیئے گئے

    منچھر جھیل میں بند پر مزید دو کٹ لگا دیئے گئے

    سندھ کے محکمہ آبپاشی کے مطابق منچھر جھیل میں بند پر مزید دو کٹ لگا دیے گئے۔ کٹ آر ڈی 50 اور آر ڈی 52 پر لگائے گئے ہیں۔ سیہون کے قریب منچھر جھیل میں آرڈی 55 پر لگائے گئے شگاف سے پانی نکلنے لگا ہے۔

    مقامی افراد کے مطابق آر ڈی 55 جھیل کا نشیبی حصہ ہے، آر ڈی 55 پر کٹ لگانے سے جھیل سے پانی کا اخراج تیزی سے ہوگا۔ مقامی افراد کا کہنا تھا کہ شگاف لگانے کی اصل جگہ یہی تھی۔ آرڈی 55 پر شگاف پہلے لگا دیتے تو صورتحال اتنی خراب نہیں ہوتی.

    اس سے قبل پاکستان کی سب سے بڑی منچھر جھیل پر کٹ لگانے کے بعد سیہون شریف کے متعدد دیہات زیر آب آ گئے۔منچھر جھیل پر کٹ لگانے سے دیہات زیر آب آگئےجھیل کا سیلابی پانی تیزی سے مزید دیہاتوں کی طرف بڑھ رہا ہے،باغ یوسف کے مقام سے کٹ لگانے کے بعد سیلابی ریلے قریبی بستوں تک پہنچ گئے یونین کونسل بوبک، آراضی اور یونین کونسل چنا کے بھی سیکڑوں دیہات ڈوب گئے۔

    باجارا شہر اور جہانگارا شہر بھی مکمل طور پر زیر آب آ گئے علاقہ مکینوں نے کشتیوں کے ذریعے نقل مکانی شروع کر دی۔ کئی مقامات پر موٹرسائیکلیں اور گاڑیاں سیلابی ریلے میں پھنس گئیں منچھر کو کٹ لگانے کے باوجود بھی جھیل سے پانی کا دباؤ کم نہ ہوسکا پانی کی سطح میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق بوبک بند پر دانستر نہر کے گیٹ بھی کمزور ہوگئے ہیں۔ بوبک بند کو نقصان پہنچا تو ایک لاکھ سے زائد آبادی متاثر ہونے کا خدشہ ہےماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بند ٹوٹنے سے 300 سے زائد دیہات زیر آب آ سکتے ہیں-

    باغ یوسف آر ڈی 14 سےکٹ لگانے سے منچھر جھیل سے پانی کا دباؤ کم نہیں ہوا، آر ڈی 55 اور آر ڈی 80 سےکٹ لگایا جاسکتا ہے محکمہ آبپاشی ذرائع کے مطابق بوبک میں آرڈی 62 سے دانستر ریگولیٹر کے گیٹ سے پانی اوور فلو ہو رہا ہے۔

  • تونسہ بیراج سے آنے والا اونچے درجے کا ریلہ سکھر بیراج میں داخل ہو گیا

    تونسہ بیراج سے آنے والا اونچے درجے کا ریلہ سکھر بیراج میں داخل ہو گیا

    پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ میں دریائے سندھ پر واقع تونسہ بیراج سے آنے والا اونچے درجے کا ریلہ سکھر بیراج میں داخل ہو گیا۔انچارج کنٹرول روم سکھر بیراج نے بتایا ہے کہ سکھر بیراج پر گزشتہ 24 گھنٹوں میں 15 ہزار کیوسک پانی میں کمی ہوئی ہے، جبکہ آئندہ 24 گھنٹوں میں پانی کی سطح مزید کم ہو گی۔انہوں نے بتایا ہے کہ سکھر بیراج پر پانی کی آمد اور اخراج دونوں 5 لاکھ 44 ہزار 650 کیوسک ریکارڈ ہوئے ہیں۔انچارج کنٹرول روم کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیلاب کی صورتِ حال کے پیش نظر تمام نہریں بند ہیں۔

    دوسری جانب منچھر جھیل پر صورتِ حال مزید خراب ہو گئی جس کے بعد علاقہ مکینوں کو جھیل پر نہ جانے اور قریبی علاقے خالی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ اس وقت منچھر جھیل پر خطرے کی صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے، عوام غیر ضروری طور پر منچھر جھیل کے بند پر نہ جائیں۔

    انہوں نے کہا کہ منچھر جھیل کو باغِ یوسف کے مقام پر، آر ڈی 14 پر کٹ لگایا گیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ آر ڈی 54 سے آر ڈی 58 تک منچھر جھیل کے بند پر دباؤ ہے، اگلے 24 سے 48 گھنٹے اہم ہیں۔علاقہ مکینوں کو جھیل کے قریبی علاقے خالی کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔

    قبل ازیں ڈپٹی کمشنر فرید الدین کا کہنا ہے کہ اس وقت منچھر جھیل پر خطرے کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے، عوام غیر ضروری طور پر منچھر جھیل کے بند پر نہ جائیں۔انہوں نے کہا کہ آر ڈی 54 سے آر ڈی 58 تک منچھر جھیل کے بند پر دباؤ ہے، اگلے 24 سے 48 گھنٹے اہم ہیں، منچھر جھیل کو کٹ نہیں لگائیں گے، آخری وقت تک کوشش کریں گے۔

    منچھر جھیل میں طغیانی کے باعث بند پر پناہ لینے والوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا، طغیانی کی وجہ سے علاقے میں سانپ نکل آئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بند آر ڈی 62 پر شہری محمد قاسم ملاح کو سانپ نے کاٹ لیا، متاثرہ شخص کو علاج کے لیے 18 کلو میٹر دور سیہون لے جایا گیا۔

    دوسری جانب ریسکیو ذرائع نے بتایا ہے کہ دادو میں سیلاب زدہ علاقوں میں تیز ہواؤں کے باعث بندوں میں پانی کی لہریں اٹھنے لگیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جوہی اور میہڑ کے رنگ بندوں پر پانی کی لہروں نے دباؤ بڑھا دیا ہے، جہاں پر بڑی تعداد میں شہری بھی پہنچ گئے ہیں۔

    دوسری جانب ضلع دادو میں میہڑ اور جوہی شہر کے رنگ بندوں پربھی پانی کا دباؤ ہے، شہری بوریوں میں مٹی بھر کر بندوں کو مضبوط کرنے میں مصروف ہیں۔مٹیاری کے قریب روہڑی کینال کے مقام چھنڈن شاخ کا ٹوٹنےوالاگیٹ کئی گھنٹےبعدبھی نہ بن سکا، مٹیاری شہرسمیت قومی شاہراہ زیرآب آنےکا خدشہ ہے۔

  • بارشوں اور سیلاب سےسندھ میں 100کلو میٹر چوڑی جھیل وجود میں آگئی،ناسا نے تصویر جاری کر دی

    بارشوں اور سیلاب سےسندھ میں 100کلو میٹر چوڑی جھیل وجود میں آگئی،ناسا نے تصویر جاری کر دی

    پاکستان میں شدید بارشوں اور تباہ کُن سیلاب سے سندھ میں 100کلو میٹر چوڑی جھیل وجود میں آگئی۔

    باغی ٹی وی : ” سی این این” کے مطابق پاکستان میں شدید بارشوں اور تباہ کُن سیلاب سے صوبے سندھ میں 100کلو میٹر چوڑی جھیل بن گئی ہے۔

    امریکا کے خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کی جانب سے سندھ میں بننے والی جھیل کی خلاسے تصویر لی گئی جسے اپنی ویب سائٹ پر بھی جاری کیا گیا ہے، تصویر میں سندھ میں بننے والی بڑی جھیل نمایاں ہے۔

    کراچی میں نامعلوم افراد نے خواجہ سرا کو قتل کر دیا

    نئی سیٹلائٹ تصاویر جو کہ پاکستان کے ریکارڈ سیلاب کی حد کو ظاہر کرتی ہیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ کس طرح ایک بہتے ہوئے دریائے سندھ نے صوبہ سندھ کے ایک حصے کو 100 کلومیٹر چوڑی اندرون ملک جھیل میں تبدیل کر دیا ہے۔

    28 اگست کو NASA کے MODIS سیٹلائٹ سینسر سے لی گئی نئی تصاویر، یہ ظاہر کرتی ہیں کہ 4 اگست اور 28 اگست کے درمیان سیلاب کا پانی کتنا پھیلااور کس طرح موسلا دھار بارش اور بہنے والے دریائے سندھ کے جنوب میں صوبہ سندھ کا بیشتر حصہ ڈوب گیا ہے-

    امریکی میڈیا کے مطابق سیٹلائٹ سے لی گئی تصویر میں گہرا نیلا رنگ سیلابی جھیل کی نشاندہی کر رہا ہے جبکہ سیٹلائٹ تصاویر میں شدید بارشوں اور سیلاب سے سندھ کا بڑا حصہ ڈوبا نظر آ رہا ہے۔

    تصویر کے بیچ میں، گہرے نیلے رنگ کا ایک بڑا علاقہ دریائے سندھ ہے اور تقریباً 100 کلومیٹر (62 میل) چوڑے علاقے کو سیلاب میں بہا رہا ہے، جو کبھی زرعی کھیت تھے اور اب ایک بڑی اندرونی جھیل میں بدل گئے ہیں-

    سیلاب زدہ علاقے میں میڈیکل کیمپ کیلئے ادویات کی خریداری

    ناسا کی ارتھ آبزرویٹری کے مطابق دریائے سندھ کے کنارے آباد علاقوں کو بدترین سیلاب کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یکم اگست اور 26 اگست کے درمیان، دریا سے گزرنے والے صوبوں میں سے ایک، سندھ میں 443 ملی میٹر (ڈیڑھ فٹ سے زیادہ) بارش ہوئی – جو اوسط سے 780 فیصد زیادہ ہے۔

    پچھلے سال اسی تاریخ کو اسی سیٹلائٹ کے ذریعے لی گئی تصویر سے یہ ایک چونکا دینے والی تبدیلی ہے، جس میں دریا اور اس کے معاون ندیوں کو دکھایا گیا ہے جو کہ چھوٹے، تنگ بینڈز کے مقابلے میں دکھائی دیتے ہیں، جو ملک کے کسی ایک علاقے میں ہونے والے نقصان کی حد کو نمایاں کرتے ہیں۔

    پاکستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق، 1961 میں ریکارڈ شروع ہونے کے بعد سے اس سال کا مون سون پہلے ہی ملک کا سب سے زیادہ تر ہے، اور سیزن میں ابھی ایک مہینہ باقی ہے۔

    سندھ اور بلوچستان دونوں صوبوں میں، بارش اوسط سے 500 فیصد زیادہ رہی ہے، جس نے پورے دیہات اور کھیتی باڑی کو لپیٹ میں لے لیا، عمارتیں منہدم کر دیں اور فصلیں تباہ کر دیں جبکہ آنے والے دنوں میں خطے میں زیادہ تر خشک موسم کی توقع ہے،ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی کم ہونے میں دن لگیں گے۔

    پاکستان کی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے اتوار کو کہا تھا کہ ملک کے کچھ حصےایک چھوٹے سمندر سے مشابہت رکھتے ہیں” اور یہ کہ “جب تک یہ ختم ہو جائے گا، ہمارے پاس پاکستان کا ایک چوتھائی یا ایک تہائی پانی زیر آب آ جائے گا۔

    محکمہ موسمیات کی سندھ میں ستمبر کے مہینے میں معمول سے زائد بارشوں کی پیشگوئی