Baaghi TV

Tag: جہاز

  • بھارت نے  بحیرہ عرب میں  ایران سے منسلک تیل بردار جہاز ضبط کر لیے

    بھارت نے بحیرہ عرب میں ایران سے منسلک تیل بردار جہاز ضبط کر لیے

    بھارت نے چاہ بہار بندرگاہ سے خاموش واپسی کے بعد ایران سے منسلک تیل بردار جہاز بھی ضبط کر لیے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق بھارتی کوسٹ گارڈ نے بحیرہ عرب میں اسمگلنگ کے الزام میں 3 آئل ٹینکرز کو تحویل میں لیا آئل ٹینکرز کو ممبئی سے تقریباً 100 سمندری میل کے فاصلے پر بحیرہ عرب میں قبضے میں لے لیا گیا ضبط کیے گئے بحری جہازوں میں ال جافزیہ، ایسفالٹ اسٹار اور اسٹیلر روبی شامل ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ چاہ بہار سے واپسی کے بعد ایرانی جہازوں کی ضبطی ایران کے لیے بھارت کی جانب سے چھرا گھونپنے کے مترادف ہے۔

  • روس کا امریکا پر بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

    روس کا امریکا پر بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

    روس نے امریکا پر بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی بحرِ اوقیانوس میں امریکی بحریہ کی جانب سے روسی پرچم بردار آئل ٹینکر مارینیرا پر چڑھائی کے بعد اس جہاز سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

    روسی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق امریکی افواج کی جانب سے ٹینکر کو قبضے میں لینا سمندری قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے 1982 کے اقوامِ متحدہ کنونشن برائے قانونِ سمندر کے تحت کھلے سمندروں میں جہاز رانی کی آزادی حاصل ہے اور کسی بھی ریاست کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی دوسری ریاست کے دائرہ اختیار میں رجسٹرڈ جہاز کے خلاف طاقت کا استعمال کرے۔

    ادھر روسی وزارتِ خارجہ نے بھی اس معاملے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکی افواج کی جانب سے مارینیرا ٹینکر پر چڑھائی کی اطلاعات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے روس نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ جہاز پر موجود تمام روسی شہریوں کے ساتھ انسانی سلوک کیا جائے اور ان کی وطن واپسی میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔ یہ بیان روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس کے حوالے سے جاری کیا گیا۔

    قوانین کی خلاف ورزی پر کارروائی:امریکا نے بھارتی طلباء کو خبردار کر دیا

    واضح رہے کہ ‘ڈارک فلیٹ’ کی اصطلاح ان آئل ٹینکروں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو پابندیوں اور نگرانی سے بچنے کے لیے اپنی شناخت یا نقل و حرکت چھپاتے ہیں۔ عالمی قوانین کے تحت تمام تجارتی جہازوں کا کسی نہ کسی ملک میں رجسٹرڈ ہونا لازمی ہوتا ہے تاکہ حفاظتی اور ماحولیاتی ضوابط پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔

    وینزویلا کی تیل برآمدات کے تناظر میں بعض پابندیوں کی زد میں آئے ٹینکر امریکی پابندیوں اور ناکہ بندی سے بچنے کے لیے ‘ڈارک موڈ’ میں سفر کرتے رہے ہیں۔ اس طریقہ کار میں مقام کے بارے میں غلط معلومات دینا، جعلی یا تبدیل شدہ پرچم استعمال کرنا اور دیگر حربے شامل ہیں، جن کے ذریعے پابندیوں کے باوجود خریداروں تک تیل پہنچایا جاتا رہا ہے۔

    امریکی فوج نے وینزویلا سے منسلک روسی آئل ٹینکر قبضے میں لےلیا ۔

  • کراچی: پی این ایس سی کے جہاز میں حادثہ، کریو ممبر جاں بحق

    کراچی: پی این ایس سی کے جہاز میں حادثہ، کریو ممبر جاں بحق

    متحدہ عرب امارات کے فجیرا پورٹ سے پیٹرول لے کر آنے والے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے جہاز میں حادثہ پیش آیا ہے۔

    پی این ایس سی ذرائع کے مطابق متحدہ عرب امارات کے فجیرا پورٹ سے پیٹرول لے کر آنے والے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے جہاز میں حادثہ پیش آیا ہے، حادثہ جہاز کے ایک ٹینک کی صفائی کے دوران پیش آیا، جہاں بے احتیاطی کے باعث ایک کریو ممبر جاں بحق ہوگیا، واقعے میں جہاز کا پمپ مین بھی زخمی ہوا، تاہم اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے،جاں بحق ہونے والے کریو ممبر کی میت گوادر پورٹ سے اس کے آبائی علاقے بھکر روانہ کر دی گئی ہے۔

  • غلطی سے فائر الارم بجنے سے مسافر جہاز سے کود گئے ، 18 زخمی

    غلطی سے فائر الارم بجنے سے مسافر جہاز سے کود گئے ، 18 زخمی

    سپین میں مایورکا ائیر پورٹ پر نجی ائیر لائن کی پرواز میں غلطی سے فائر الارم بجنے سے مسافروں نے جہاز سے چھلانگیں لگا دیں۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق الارم بجنے سے مسافروں میں خوف و ہراس پھیل گیا ، چھلانگیں لگانے کے نتیجے میں 18 مسافر زخمی ہو گئے جس کے بعد مانچسٹر جانے والی پرواز روک دی گئی،بیشتر مسافروں کو معمولی چوٹیں آئیں جبکہ 6 کو اسپتال منتقل کر دیا گیا گیا ، واقعے کے بعد ایئرپورٹ کی ایمرجنسی سروسز کو فوراً الرٹ کیا گیا ، نجی ائیر لائن نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    عینی شاہدین نے بتایا کہ کچھ مسافروں نے گھبراہٹ میں ایمرجنسی دروازے کھولے، طیارے کے ونگ پر چڑھے اور نیچے کود گئے-

    https://x.com/runews/status/1941406687518400798

    دوسری جانب اہور سے اسکردو جانے والی نجی ائیر لائن کی پرواز سے پرندہ ٹکرا گیا جس کے بعد طیارے کو واپس لاہور میں لینڈنگ کرنا پڑی۔

    نجی ائیرلائن کے ترجمان کے مطابق پرواز پی اے 481 کو لاہور سے ٹیک آف کرتے ہوئے برڈ اسٹرائیک کا سامنا ہوا پرواز کو فوری لاہور واپس اتار لیا گیا اور 149 مسافروں کو آف لوڈ کر دیا گیااہور سے اسکردو کے لیے پرواز پی اے 481 منسوخ کر دی گئی ہے، اسکردو سے لاہور کی پرواز بھی منسوخ کردی گئی ہے،پرندہ ٹکرانے سے طیارے کے انجن نمبر 2 کے دو بلیڈ متاثر ہوئے ہیں۔

  • کراچی ایئر پورٹ، آوارہ کتوں نے مشکلات کھڑی کر دیں

    کراچی ایئر پورٹ، آوارہ کتوں نے مشکلات کھڑی کر دیں

    کراچی: کراچی ایئرپورٹ پر آوارہ کتوں کا آزادانہ گھومنا روزانہ کا معمول بن چکا ہے، جس سے نہ صرف ایئرپورٹ کی صفائی متاثر ہو رہی ہے بلکہ یہ کتوں کی موجودگی مسافروں اور طیاروں کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) ان کتوں کو ایئرپورٹ سے دور رکھنے میں ناکام نظر آ رہی ہے، حالانکہ کتوں کی موجودگی ایئرپورٹ کی فلائٹ سیفٹی کو بھی متاثر کر رہی ہے۔

    اتھارٹی کا موقف یہ ہے کہ صوبائی حکومت کے قوانین کے مطابق آوارہ کتوں کو تحفظ فراہم کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ان کتوں کو مارنے کی اجازت نہیں۔ اس صورتحال کی وجہ سے ایئرپورٹ کے مختلف حصوں میں کتوں کی آمدورفت جاری ہے، خاص طور پر جناح ٹرمینل کی پارکنگ میں جہاں ریسٹورنٹس کے قریب کتوں کا آنا جانا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ ایئرپورٹ کے جنرل ایوی ایشن ایریا میں بھی یہ کتوں کی موجودگی خطرے کی گھنٹی بن چکی ہے، جہاں یہ طیاروں کے قریب گھومتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔

    فلائٹ سیفٹی کے ماہرین نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ کے علاقے میں آوارہ کتوں کی موجودگی طیاروں کی حفاظت کے لیے سنگین خطرہ ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ کتوں کی تعداد اور موجودگی مزید بڑھتی ہے تو کسی بڑے حادثے کا خدشہ بھی ہو سکتا ہے۔

    پی اے اے کے ترجمان نے بتایا کہ ایئرپورٹ کے لینڈ سائیڈ ایریا میں آوارہ کتوں کی موجودگی کا نوٹس لیا گیا ہے اور اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایدھی فاؤنڈیشن سے مدد طلب کی گئی ہے تاکہ ان کتوں کو پکڑا جا سکے۔پی اے اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کراچی ایئرپورٹ 3700 ایکڑ پر مشتمل ہے اور یہ گنجان آباد علاقوں سے گھرا ہوا ہے، جس کی وجہ سے آوارہ کتوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی اے اے نے اپنی حدود میں صفائی کے لیے خصوصی انتظامات کر رکھے ہیں اور ضلعی انتظامیہ سے بھی آوارہ کتوں کی روک تھام کے لیے تعاون جاری ہے۔ تاہم، صوبائی قانون آوارہ کتوں کو مارنے کی اجازت نہیں دیتا، جس سے ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

    کراچی ایئرپورٹ پر آوارہ کتوں کے بڑھتے ہوئے مسئلے کو حل کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ ایئرپورٹ کی صفائی اور مسافروں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

    سپریم کورٹ ، ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نے توہین عدالت کا شوکاز نوٹس چیلنج کر دیا

    قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ

  • جنوبی کوریا طیارہ حادثہ "بلیک باکس”  میں‌چار منٹ قبل ریکارڈنگ رک گئی تھی،انکشاف

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ "بلیک باکس” میں‌چار منٹ قبل ریکارڈنگ رک گئی تھی،انکشاف

    جنوبی کوریا میں گزشتہ ماہ پیش آنے والے طیارہ حادثے کی تحقیقات کرنے والے حکام نے کہا ہے کہ حادثے کے شکار مسافر بردار طیارے کے فلائٹ ریکارڈرز اس وقت کام کرنا بند کر چکے تھے جب طیارہ موان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر رن وے پر زمین سے ٹکرا کر پھٹ گیا۔ اس حادثے میں 170 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

    جنوبی کوریا کے حکام، جو اس ملک کے گزشتہ تین دہائیوں میں سب سے مہلک ہوائی حادثے کی تحقیقات کر رہے ہیں، یہ امید کر رہے تھے کہ "بلیک باکسز” سے ملنے والی معلومات یہ وضاحت فراہم کریں گی کہ 29 دسمبر کو بنکاک سے روانہ ہونے والی جیجو ایئر کی پرواز 7C 2216 موان ایئرپورٹ پر زمین سے کس طرح ٹکرا گئی تھی اور آگ کی لپیٹ میں آ گئی تھی۔اس حادثے میں 179 مسافر اور عملے کے ارکان ہلاک ہوئے، جبکہ دو افراد زندہ بچ گئے تھے۔تاہم جنوبی کوریا کی وزارتِ نقل و حمل نے ہفتہ کے روز کہا کہ بوئنگ 737-800 کے کاک پٹ وائس ریکارڈر (CVR) اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر (FDR) تقریباً چار منٹ قبل کام کرنا بند کر چکے تھے۔

    وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ ڈیوائسز ریکارڈنگ کیوں روک چکے تھے اور وزارت اس بات کا تعین کرنے کے لیے کام کرے گی۔

    بیان میں مزید کہا گیا، "CVR اور FDR ڈیٹا حادثے کی تحقیقات کے لیے اہم ہیں، لیکن حادثے کی تحقیقات مختلف ڈیٹا کے تجزیے کے ذریعے کی جاتی ہیں، اس لیے ہم حادثے کے اصل سبب کی درست شناخت کے لیے اپنی بھرپور کوشش کریں گے۔”کاک پٹ وائس ریکارڈر کو ابتدائی طور پر مقامی سطح پر تجزیہ کیا گیا اور بعد میں اسے امریکہ بھیجا گیا تاکہ اس کا مزید جائزہ لیا جا سکے۔ وزارت نے بتایا کہ فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر، جو نقصان پہنچا ہوا تھا اور اس میں کنیکٹر غائب تھا، گزشتہ ہفتے تجزیے کے لیے امریکہ کے نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ بھیجا گیا، کیونکہ جنوبی کوریا کے حکام نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ اس ڈیوائس سے ڈیٹا نکالنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔

    یہ حادثہ 1997 کے بعد جنوبی کوریا کا سب سے مہلک فضائی حادثہ ہے، جب کورین ایئر لائنز کا بوئنگ 747 گوام کے جنگل میں گر کر تباہ ہو گیا تھا جس میں 228 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

    اب تک حادثے کی وجہ واضح نہیں ہو سکی ہے اور تحقیقات میں کئی ماہ لگنے کی توقع ہے۔حادثے کی ویڈیوز میں دکھایا گیا کہ جب طیارہ ایمرجنسی لینڈنگ کر رہا تھا تو نہ پیچھے کا لینڈنگ گیئر نظر آ رہا تھا اور نہ ہی سامنے کا۔ایمرجنسی لینڈنگ سے پہلے پائلٹ نے میڈے کال کی اور "پرندے کا ٹکراؤ” اور "گھومنا” جیسے الفاظ استعمال کیے، حکام کا کہنا ہے کہ کنٹرول ٹاور نے پائلٹ کو علاقے میں پرندوں کی موجودگی سے آگاہ کیا تھا۔ فضائی ماہرین کے مطابق بہت سے ایئرپورٹس پر رن وے کے قریب اس طرح کی تعمیرات نہیں پائی جاتیں۔جنوبی کوریا کی پولیس نے گزشتہ ہفتے جیجو ایئر کے دفتر اور موان ایئرپورٹ کے آپریٹر پر چھاپے مارے تھے اور تحقیقات کے سلسلے میں یہ کارروائیاں کی تھیں،

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ، 181 میں سے دو افراد زندہ کیسے بچے

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ،ایئر پورٹ پر لواحقین کی آہ و بکا،141 لاشوں کی شناخت

  • 2024 میں بروقت   پہنچنے والی  دنیا کی  ایئرلائنز

    2024 میں بروقت پہنچنے والی دنیا کی ایئرلائنز

    دنیا کے سفر میں ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے، اقوام متحدہ نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ عالمی سیاحت 2024 میں وبا سے پہلے کی سطح پر واپس آ گئی ہے۔ اس سال سفر کی دنیا میں کئی چیلنجز بھی رہے ہیں، جن میں سمگلنگ کی کوششیں، چھپ کر سفر کرنے والے مسافر، اور دیگر فضائی مسائل شامل ہیں، لیکن اس کے باوجود ایک اچھی خبر بھی آئی ہے۔

    ایوی ایشن اینالٹکس فرم Cirium نے اپنی سالانہ رپورٹ جاری کی ہے جس میں دنیا کی سب سے زیادہ وقت پر پہنچنے والی ایئرلائنز اور ایئرپورٹس کی فہرست تیار کی گئی ہے۔ایئرلائنز رینکنگ کے مطابق، ایئرلائنز کے لئے "وقت پر پہنچنا” کا مطلب ہے کہ ایک پرواز اپنے شیڈیول کردہ وقت سے 14 منٹ 59 سیکنڈ کے اندر اندر پہنچ جائے یا روانہ ہو۔ اس معیار کے مطابق، 2024 کی سب سے زیادہ وقت پر پہنچنے والی ایئرلائنز درج ذیل ہیں:

    ایرو میکسیکو (Aeromexico)
    سعودیہ ایئرلائنز (Saudia)
    ڈیلیٹا ایئر لائنز (Delta Air Lines)
    LATAM ایئرلائنز
    قطر ایئرلائنز (Qatar Airways)
    ازول ایئرلائنز (Azul Airlines)
    ایوانکا ایئرلائنز (Avianca)
    ایبریا ایئرلائنز (Iberia)
    سکینڈینیوین ایئرلائنز (Scandinavian Airlines – SAS)
    یونائیٹڈ ایئرلائنز (United Airlines)

    دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سال کی تین سب سے وقت پر پہنچنے والی ایئرلائنز اسکائی ٹیم اتحاد کے ارکان ہیں، جن میں ایرو میکسیکو, سعودیہ, اور ڈیلیٹا ایئر لائنز شامل ہیں۔ یہ اتحاد 2000 میں قائم ہوا تھا اور اس کے بانی ارکان میں ایرو میکسیکو اور ڈیلیٹا شامل ہیں، جب کہ سعودیہ ایئرلائنز اس اتحاد میں نسبتاً نیا رکن ہے۔

    ایشیا پیسیفک خطے میں، جاپان کی دو بڑی ایئرلائنز نے ٹاپ پوزیشنز حاصل کیں۔ جاپان ایئرلائنز نے سونے کا تمغہ جیتا، اور (ANA) نے چاندی۔ دونوں ایئرلائنز کے درمیان صرف 0.4 فیصد کا فرق تھا۔سنگاپور ایئرلائنز نے اس خطے میں تیسری پوزیشن حاصل کی ہے، اور اس ایئرلائن کو پانچ بار دنیا کی بہترین ایئرلائن کے اعزاز سے نوازا جا چکا ہے۔مشرق وسطی اور افریقہ خطے میں جنوبی افریقہ کی سیفیر ایئرلائنز نے سب سے زیادہ وقت پر پہنچنے والی ایئرلائن کا اعزاز حاصل کیا، جب کہ عمان ایئر اور رائل اردنی ایئرلائنز بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔یورپ میں اسپین کی ایبریا ایئرلائنز نے دوسرے نمبر پر اپنی جگہ بنائی، جبکہ اس کی ذیلی ایئرلائن ایبریا ایکسپریس پہلے نمبر پر رہی۔شمالی امریکہ میں ڈیلیٹا ایئرلائنز نے پہلے نمبر پر آ کر سب سے وقت پر پہنچنے والی ایئرلائن کا اعزاز حاصل کیا، جبکہ یونائیٹڈ ایئرلائنز اور ایلاسکا ایئرلائنز نے بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر جگہ بنائی۔لاطینی امریکہ میں، پاناما کی کوپا ایئرلائنز نے مسلسل دوسرے سال سب سے زیادہ وقت پر پہنچنے والی ایئرلائن کا اعزاز حاصل کیا۔

    Cirium نے دنیا کے مختلف ایئرپورٹس کی بھی تفصیلات فراہم کی ہیں۔

    بڑے ایئرپورٹس:
    ریاض کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ (RUH)
    لیما جورج شاویز انٹرنیشنل ایئرپورٹ (LIM)
    میکسیکو سٹی بینیٹو جواز انٹرنیشنل ایئرپورٹ (MEX)

    درمیانے سائز کے ایئرپورٹس:
    پاناما ٹوکومن انٹرنیشنل ایئرپورٹ (PTY)
    اوکاسا اٹامی انٹرنیشنل ایئرپورٹ (ITM)
    برازیلیا انٹرنیشنل ایئرپورٹ (BSB)

    چھوٹے ایئرپورٹس:
    گوایا کیل جوز جواکیو ڈی اولمیڈو انٹرنیشنل ایئرپورٹ (GYE)
    کیوٹو مارِسکل سکرے انٹرنیشنل ایئرپورٹ (UIO)
    ایلسالواڈور انٹرنیشنل ایئرپورٹ (SAL)

    یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایئرلائنز اور ایئرپورٹس کی کارکردگی میں بہتری آ رہی ہے، لیکن یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ کئی عوامل جیسے موسم یا ماحولیاتی تبدیلیاں پروازوں کی تاخیر کا سبب بن سکتے ہیں۔ ان عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے، 2024 میں عالمی ایوی ایشن انڈسٹری نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، جس سے مسافروں کو سفری تجربے میں سہولت ملی ہے۔

    اسرائیلی ایئر لائن ایلوم نے ماسکو کے لیے پروازیں معطل کر دیں

    یو نائیٹڈ ایئر لائنز کے طیارے میں پہیوں کے کمپارٹمنٹ سے لاش برآمد

    ڈیلٹا ایئر لائنز کی پرواز میں چھپ کرسفر کرنے والی روسی خاتون دوبارہ گرفتار

    عالمی درجہ بندی،بھارتی انڈیگو بدترین ایئر لائنز میں شامل

    ہم جنس پرستی بارے گفتگو پر یونائیٹڈ ایئر لائن کا فلائٹ اٹینڈنٹ برطرف

  • جنوبی کوریا کے تباہ طیارے کا بلیک باکس تحقیقات کیلئے امریکہ بھجوایا جائے گا

    جنوبی کوریا کے تباہ طیارے کا بلیک باکس تحقیقات کیلئے امریکہ بھجوایا جائے گا

    جنوبی کوریا میں ایئرلائن جیجو ایئر کے مسافر طیارے کے حادثے کے بعد اس کے بلیک باکس کو تجزیے کے لیے امریکہ بھیجا جائے گا۔

    سیول کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق بدھ کو یہ اعلان کیا گیا ہے کہ بلیک باکس کا تجزیہ امریکی نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کرے گا، جس میں جنوبی کوریا کے تفتیشی حکام بھی شریک ہوں گے۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب حادثے کے شکار افراد کے اہلِ خانہ سانحہ کی جگہ کا دورہ کرنے پہنچنا شروع ہوگئے تھے۔یہ بلیک باکس بوئنگ 737-800 طیارے کا ایک حصہ ہے، جو اتوار کے روز جنوبی کوریا کے جنوب مغربی علاقے میں موان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایمرجنسی لینڈنگ کے دوران حادثے کا شکار ہوگیا۔ اس حادثے میں 181 افراد میں سے 179 افراد کی موت واقع ہوئی، جو جنوبی کوریا کا گزشتہ تین دہائیوں میں سب سے مہلک فضائی حادثہ تھا۔

    جنوبی کوریا کی سول ایوی ایشن کے نائب وزیر جو جونگ وان نے بدھ کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بلیک باکس حادثے میں نقصان کا شکار ہوچکا ہے، اور ملک میں اس کا ڈیٹا نکالنے کی صلاحیت نہیں ہے، لہٰذا یہ بلیک باکس تجزیے کے لیے امریکہ بھیجا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ بلیک باکس کے ساتھ ایک کنیکٹر بھی غائب ہے، جو مزید مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔امریکی نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ اس بلیک باکس کا تجزیہ کرے گا اور اس میں جنوبی کوریا کے تفتیشی افسران بھی شامل ہوں گے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اس تجزیے میں کتنی مدت لگے گی۔

    تفتیش کاروں نے طیارے کے دوسرے بلیک باکس، یعنی کاک پٹ وائس ریکارڈر سے ابتدائی ڈیٹا حاصل کرلیا ہے۔ جو جونگ وان نے بتایا کہ اس ڈیٹا کو وائس فائلز میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اور یہ عمل دو دن میں مکمل ہو جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ دونوں بلیک باکسز سے حاصل ہونے والے ڈیٹا سے اس حادثے کی وجہ کا تعین کرنے میں مدد ملے گی۔

    حادثے میں جاں بحق ہونے والے 179 افراد کی شناخت مکمل کرلی گئی ہے، تاہم ابھی تک صرف 11 لاشوں کو عارضی مردہ خانہ سے خاندانوں کے حوالے کیا گیا ہے تاکہ وہ تدفین کی تیاری کر سکیں۔ اس دوران، متاثرہ خاندان اور عزیز و اقارب اتوار سے موان ایئرپورٹ پر موجود ہیں۔ بدھ کے روز، متاثرین کے عزیزوں کو بسوں کے ذریعے حادثے کی جگہ تک پہنچایا گیا تاکہ وہ وہاں جا کر اپنے پیاروں کے لیے دعائیں کریں۔

    فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ جیجو ایئر کی پرواز 7C 2216 کا حادثہ کس وجہ سے پیش آیا۔ تحقیقات میں ممکنہ وجوہات پر غور کیا جا رہا ہے، جن میں طیارے کا ممکنہ طور پر پرندوں سے ٹکرا جانا، لینڈنگ گیئر کا کام نہ کرنا، اور رن وے کے آخر میں موجود کنکریٹ کا بیرئیر شامل ہیں۔طیارے کے پائلٹ نے ایمرجنسی لینڈنگ سے پہلے مے ڈے کال جاری کی تھی اور پرندے کے ٹکرا جانے کی اطلاع دی تھی۔ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طیارے کے نہ تو سامنے اور نہ ہی پیچھے کے لینڈنگ گیئر نظر آ رہے تھے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ طیارہ پیٹ کے بل زمین پر آیا تھا اور اس کے بعد ایک زوردار دھماکہ ہوا۔

    جنوبی کوریا اور امریکہ کے 22 تفتیشی حکام اس حادثے کی مشترکہ تحقیقات میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان میں امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن ، نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ اور طیارے کے موجد ادارے بوئنگ کے نمائندے بھی شامل ہیں۔

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ، 181 میں سے دو افراد زندہ کیسے بچے

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ،ایئر پورٹ پر لواحقین کی آہ و بکا،141 لاشوں کی شناخت

  • جنوبی کوریا طیارہ حادثہ، 181 میں سے دو افراد زندہ کیسے بچے

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ، 181 میں سے دو افراد زندہ کیسے بچے

    3 روز قبل جنوبی کوریا کے موان انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر جیجو ائیر کا ایک طیارہ حادثے کا شکار ہوگیا، جس کے نتیجے میں 179 افراد ہلاک ہو گئے۔ تاہم خوش قسمتی سے دو مسافربچ جانے میں کامیاب ہو گئے۔

    حادثہ اس وقت پیش آیا جب جیجو ائیر کا طیارہ موان ائیرپورٹ کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔ طیارے میں کل 181 مسافر سوار تھے، جن میں سے صرف 2 مسافر زندہ بچ سکے۔ ان دونوں مسافروں کی شناخت 32 سالہ خاتون "لی” اور 25 سالہ "وون” کے طور پر کی گئی ہے۔ جیجو ائیر کے سی ای او نے میڈیا کو بتایا کہ طیارہ حادثے کی وجوہات ابھی تک غیر واضح ہیں اور ابتدائی تحقیقات میں طیارے میں کسی قسم کی خرابی کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔ سی ای او نے مزید کہا کہ اس حادثے کا کوئی سابقہ ریکارڈ نہیں تھا اور کمپنی اس سانحے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتی ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، دونوں زندہ بچ جانے والے مسافر طیارے کے "ایمپنیج” (دُم والے حصے) میں موجود تھے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ طیارے کے اس حصے کو حادثے کے بعد زخمی حالت میں نکالا گیا تھا۔ دونوں متاثرین کو سر اور بازو پر چوٹیں آئی ہیں لیکن ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

    وائس آف امریکا کی ایک رپورٹ کے مطابق، طیارے کے پچھلے حصے میں موجود مسافر اس لئے بچ گئے کیونکہ یہ حصہ حادثے کے دوران نسبتاً زیادہ محفوظ رہتا ہے۔ 2015 میں امریکی جریدے ٹائم میگزین نے ایک مطالعے میں جہاز کے دُم والے حصے کو کمرشل پروازوں کے لئے محفوظ ترین حصہ قرار دیا تھا۔ اس مطالعے کے مطابق، طیارہ حادثے میں جہاز کی پچھلی نشستوں پر اموات کی شرح 32 فیصد، وسطی نشستوں پر 39 فیصد اور سامنے کی نشستوں پر 38 فیصد رہتی ہے۔

    یہ حادثہ جنوبی کوریا کی تاریخ میں 1997 کے بعد سے کسی بھی جنوبی کوریائی ائیر لائن کا بدترین حادثہ ہے۔ 1997 میں ہونے والے ایک اور طیارہ حادثے میں 200 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو کہ اس علاقے کی ہوا بازی کی تاریخ کا ایک سنگین حادثہ تھا۔

    قازقستان میں ہونے والے ایک اور فضائی حادثے کا موازنہ کیا جا سکتا ہے جس میں آذربائیجان کا ایک مسافر طیارہ گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس حادثے میں بھی 38 افراد ہلاک ہوئے تھے، جب کہ 29 افراد زندہ بچ گئے تھے۔ زندہ بچ جانے والے افراد بھی طیارے کے پچھلے حصے میں موجود تھے۔

    جنوبی کوریا میں ہونے والے اس حادثے نے پورے خطے میں صدمے کی لہر دوڑ دی ہے۔ اگرچہ خوش قسمتی سے دو مسافر بچ گئے ہیں، تاہم اس سانحے میں 179 افراد کی ہلاکت نے پورے ملک کو غم میں ڈبو دیا ہے۔ حادثے کی تفصیلی تحقیقات جاری ہیں تاکہ اس کی وجوہات کو سامنے لایا جا سکے اور آئندہ کے لئے حفاظتی تدابیر میں مزید بہتری لائی جا سکے۔

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ،ایئر پورٹ پر لواحقین کی آہ و بکا،141 لاشوں کی شناخت

    ایک دن میں تیسرا فضائی حادثہ، طیارہ رن وے سے اترگیا

    طیارہ حادثہ، روس نے آذربائیجان سے معافی مانگ لی

  • جنوبی کوریا طیارہ حادثہ،ایئر پورٹ پر لواحقین کی آہ و بکا،141 لاشوں کی شناخت

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ،ایئر پورٹ پر لواحقین کی آہ و بکا،141 لاشوں کی شناخت

    جنوبی کوریا کے ایئرپورٹ پر سوگ اور دعاؤں کی گونج، فضائی حادثے میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ کی آہ و فغاں

    جنوبی کوریا کے جنوب مغربی علاقے میں واقع ایک ایئرپورٹ کی روانگی ہال میں اتوار کی صبح ہونے والے ایک فضائی حادثے کے بعد سوگ اور دعاؤں کی گونج سنائی دے رہی تھی۔ ماؤن کاؤنٹی کے موان ایئرپورٹ پر جہاز کے حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ ان کے پیاروں کی شناخت کے لیے بے چین ہو کر انتظار کر رہے تھے۔

    اتوار کی صبح تقریباً 9 بجے مقامی وقت کے مطابق، جےجو ایئر کی ایک پرواز جو 175 مسافروں اور چھ عملے کے ارکان کو لے کر بنکاک سے موان جا رہی تھی، حادثے کا شکار ہو گئی۔ اس حادثے میں دو افراد کے علاوہ تمام مسافر اور عملہ ہلاک ہو گئے، جو جنوبی کوریا کے تقریباً تیس سالہ تاریخ کا سب سے مہلک فضائی حادثہ سمجھا جا رہا ہے۔موان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے روانگی ہال میں متاثرہ خاندانوں کے افراد، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی تھی، سوگ میں ڈوبے ہوئے تھے اور ان کے درمیان فریاد، دعائیں اور آہیں سنائی دے رہی تھیں۔ طبی عملے نے 141لاشوں کی شناخت کا اعلان کیا، جبکہ باقی 28 لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹنگ کا عمل جاری ہے۔

    ایئرپورٹ کی معمول کی طور پر وسیع ایٹریئم میں کئی خاندان ایک دوسرے کے ساتھ جمع ہو کر خاموشی سے دعائیں کر رہے تھے۔ کچھ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ گلے مل کر رو رہے تھے، جبکہ کئی بدحال رشتہ دار حکام سے مزید معلومات کی درخواست کر رہے تھے۔ ایئرپورٹ کے باہر پیلے رنگ کے خیمے لگے ہوئے تھے جہاں لوگ رات بھر رکے رہے تھے۔محققین اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آخرکار کیا وجہ تھی جس سے جےجو ایئر کی پرواز 7C 2216 کو حادثہ پیش آیا۔ مقامی حکام نے پرواز کے دوران ایک ممکنہ پرندوں کے ٹکرا جانے کے امکان پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

    اتوار کے روز حادثے کا جو ویڈیو فوٹیج نشر کیا گیا، اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بوئنگ 737-800 کے دونوں لینڈنگ گیئر مکمل طور پر کھلے ہوئے نہیں تھے۔ طیارہ اپنی پیٹ کے بل تیز رفتاری سے رگڑتا ہوا زمین پر گرا جس کے نتیجے میں دھماکہ ہوا اور آگ بھڑک اُٹھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ لینڈنگ کے لیے استعمال ہونے والی انڈرکاریاج (یعنی وہ پہیے جو طیارے کو اڑنے اور لینڈ کرنے میں مدد دیتے ہیں) مکمل طور پر نہیں کھلے، جو کہ ایک نادر اور غیر معمولی واقعہ ہے۔ تاہم اس کی وجہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکی۔

    مواصلاتی وزارت کے مطابق، حادثے کے مقام سے دو بلیک باکسز (فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر اور وائس ریکارڈر) بازیاب کر لیے گئے ہیں، لیکن فلائٹ ریکارڈر کو بیرونی نقصان پہنچا تھا جس کی وجہ سے اس کا مزید تجزیہ کرنے کے لیے سیول بھیجا گیا۔جنوبی کوریا کے عبوری صدر، چوی سانگ موک نے ملک بھر میں سات دن کے قومی سوگ کا اعلان کیا ہے اور فضائی حادثے کی تحقیقات کے لیے ایک جامع انکوائری کا آغاز کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات کی پیش رفت کو عوام کے سامنے شفاف طریقے سے پیش کیا جائے گا اور متاثرہ خاندانوں کو مکمل طور پر آگاہ رکھا جائے گا۔حادثے کے فوراً بعد چوی نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور اس سانحے کو ایک "خصوصی قدرتی آفت” قرار دیا، جب کہ انہوں نے جاں بحق افراد کے خاندانوں سے گہری تعزیت کا اظہار کیا۔

    حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں 84 مرد، 85 خواتین اور 10 افراد ایسے تھے جن کی جنس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ جنوبی کوریا کی فائر سروس کے مطابق، حادثے میں دو افراد زندہ بچ گئے، جن میں ایک مرد اور ایک خاتون عملے کے رکن شامل ہیں۔ یہ دونوں افراد جاپان کے شہری تھے، باقی تمام مسافر جنوبی کوریا کے تھے۔حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں دو تھائی شہری بھی شامل تھے، جن کے بارے میں جنوبی کوریا کی وزارتِ نقل و حمل نے بتایا۔ ان کے علاوہ، باقی تمام افراد جنوبی کوریا کے شہری تھے۔

    حادثے کے فوراً بعد جنوبی کوریا کے حکام نے اس بات کی تصدیق کی کہ کنٹرول ٹاور نے پائلٹ کو ایک پرندوں کے ٹکرا جانے سے بچنے کے لیے سمت تبدیل کرنے کی ہدایت دی تھی، جس پر پائلٹ نے عمل کیا۔ تاہم، ایک منٹ بعد ہی پائلٹ نے ایمرجنسی کال کی اور تقریباً دو منٹ بعد لینڈنگ کی کوشش کی۔جنوبی کوریا کی وزارت نقل و حمل نے بتایا کہ پرواز کے کپتان نے 2019 سے اس عہدے پر کام کیا تھا اور ان کے پاس تقریباً 6,800 گھنٹے کی پرواز کا تجربہ تھا۔مجموعی طور پر، اس سانحے کے بعد جنوبی کوریا کے حکام نے حادثے کی مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، اور عالمی سطح پر مختلف تحقیقاتی ادارے اس میں معاونت فراہم کر رہے ہیں۔

    موان میں ایک عوامی یادگاری یادگار قائم کی گئی ہے، جہاں لوگ پھول اور موم بتیاں رکھ کر جاں بحق افراد کی یاد میں خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔یہ حادثہ ایک دل دہلا دینے والی سانحے کی صورت میں سامنے آیا ہے، جس نے پورے جنوبی کوریا کو سوگوار کر دیا ہے اور متاثرہ خاندانوں کے لیے ایک کٹھن وقت ہے۔

    ایک دن میں تیسرا فضائی حادثہ، طیارہ رن وے سے اترگیا
    جنوبی کوریا، لینڈنگ کے دوران مسافر طیارے کو حادثہ، ہلاکتوں کی تعداد 151 ہوگئی

    طیارہ حادثہ، روس نے آذربائیجان سے معافی مانگ لی

    آذربائیجان طیارہ حادثہ،دوسرا بلیک باکس مل گیا

    جنوبی کوریا،طیارہ حادثے میں شکار مسافر کی آخری گفتگو