Baaghi TV

Tag: جہانگیر ترین

  • استحکام پاکستان پارٹی،صدر، سیکرٹری اور ترجمان کا جہانگیر ترین نے کیا اعلان

    استحکام پاکستان پارٹی،صدر، سیکرٹری اور ترجمان کا جہانگیر ترین نے کیا اعلان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق استحکام پاکستان پارٹی کے صدر اور سیکرٹری جنرل کے عہدوں کا اعلان کر دیا گیا

    جہانگیر ترین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے استحکام پاکستان پارٹی کے عہدوں کا اعلان کیا، جہانگیر ترین کے مطابق استحکام پاکستان پارٹی کے صدر عبدالعلیم خان ہوں گے، سیکرٹری جنرل عامرکیانی ہوں گے، عون چودھری ایڈیشنل سیکرٹری جنرل ہوں گے، عون چودھری پارٹی کے پیٹرن چیف اور پارٹی کے ترجمان بھی ہوں گے، جہانگیر ترین کی جانب سے کہا گیا ہے کہ دیگر عہدوں کا بھی جلد اعلان کر دیاجائے گا

    واضح رہے کہ تین دن قبل نئی پارٹی استحکام پاکستان پارٹی کا اعلان کیا گیا تھا  جہانگیر ترین کے ہمراہ علیم خان، عامر کیانی،فردوس عاشق،تنویر الیاس و دیگر موجود تھے، جہانگیر ترین کا اس موقع پر کہنا تھا کہ اب نہ کبھی 9 مئی ہونے دیں گے نہ کسی سیاسی مخالف کے گھروں پر حملے ہونے دیں گے ، سیاسی تقسیم ختم کریں گے، قوم میں امید پیدا کریں گے

    واضح رہے کہ تحریک انصاف چھوڑنے والوں نے اور سیاست چھوڑنے والوں نے جہانگیر ترین کے ساتھ ملاقات کی تھی اور نئی پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی تھی ، نو مئی کے واقعہ کے بعد عمران خان اکیلے رہ گئے اور تحریک انصاف کے رہنما و ٹکٹ ہولڈر پارٹی چھوڑنے لگے، عمران خان کے انتہائی قریبی بھی پارٹی چھوڑ چکے اور عمران خان کو خیر باد کہہ چکے،علیم خان اورجہانگیر ترین تحریک انصاف میں تھے اور مران خان کے انتہائی قریبی تھے، مگر اقتدار ملنے کے بعد عمران خان تکبر میں آ گئے اورانہوں نے اپنے قریبی دوستوں کو دور کر دیا، جہانگیر ترین الگ ہوئے تو علیم خان نے بھی پی ٹی آئی چھوڑی، اب حالت یہ ہو چکی ہے کہ تحریک انصاف میں صرف عمران خان ہی رہ جائیں گے باقی سب ساتھ چھوڑ جائیں گے

    "استحکام پاکستان پارٹی” نام سے متعلق عون چودھری کی وضاحت

    چھینہ گروپ بھی استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کو تیار

    جہانگیرترین کی پارٹی کا نام الیکشن میں رجسڑیشن سے پہلے ہی الیکشن کمیشن اور اعلی عدلیہ میں چیلنج

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

     ریاست مخالف پروپیگنڈے کوبرداشت کریں گے نہ جھکیں گے۔

    استحکام پاکستان پارٹی کی پریس کانفرنس، فواد چودھری "منہ” چھپاتے رہے، تصاویر وائرل

  • پنجاب انتخابات، نظر ثانی سماعت کیلئے لارجر بینچ کی استدعا مسترد

    پنجاب انتخابات، نظر ثانی سماعت کیلئے لارجر بینچ کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ ،پنجاب انتخابات معاملہ ،وفاقی حکومت کی الیکشن کمیشن نظر ثانی سماعت کیلئے لارجر بینچ کی استدعا مسترد کر دی گئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے نظرثانی کیس کی سماعت کیلئے تین رکنی بینچ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، سپریم کورٹ میں کیس کل سماعت کے لیے مقرر کر دیا گیا، حکومت نے نئے قانون کے بعد چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے لارجر بینچ بنانے کی استدعا کی تھی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال،جسٹس اعجاز الااحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل تین رکنی بینچ کل نظر ثانی کیس کی سماعت کریگا

    واضح رہے کہ آخری سماعت پر اٹارنی جنرل پاکستان نے ریویو آف ججمنٹ ایکٹ 2023 کی کاپی اور نوٹیفکیشن سپریم کورٹ جمع کروایا تھا، آرٹیکل 184 کے تحت مقدمات کی نظرثانی درخواستوں میں سپریم کورٹ اپیل کی طرز پر سماعت کرے گی،ایکٹ کا دائر کار اس قانون کے بننے سے پہلے کے فیصلوں پر بھی ہو گا، نظرثانی درخواست کی سماعت لارجر بینچ کرے گا، لارجر بینچ میں ججز کی تعداد مرکزی کیس کا فیصلہ سنانے والے ججز سے زیادہ ہوگی، 184(3)کے فیصلے کے خلاف 60روز میں اپیل دائر کی جاسکے گی، نظر ثانی میں اپنی مرضی کا وکیل مقرر کیا جا سکے گا،ایکٹ کا دائرہ کار سپریم کورٹ و ہائیکورٹس کے فیصلے اور رولز پر بھی ہو گا،ایکٹ نافذ ہونے کے بعد نواز شریف اور جہانگیر ترین بھی ایکٹ سے فائدہ اٹھا سکیں گے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    پنجاب میں انتخابات کرانے کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی نظرثانی درخواست میں نگران پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کروایا تھا وفاقی حکومت نے پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کے فیصلے پرنظرثانی کی استدعا کی ہے۔ وفاقی حکومت نے اپنے جواب میں کہا ہےکہ آزادانہ اور شفاف انتخابات کروانے کی آئینی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے، سپریم کورٹ نے خود تاریخ دے کر الیکشن کمیشن کے اختیار کو غیر موثر کر دیا، پنجاب میں انتخابات پہلے ہوئے تو قومی اسمبلی کے انتخابات متاثر ہونےکا اندیشہ ہے۔نگران پنجاب حکومت نے صوبے میں فوری انتخابات کی مخالفت کرتے ہوئےکہا ہےکہ الیکشن کی تاریخ دینےکا اختیار ریاست کے دیگر اداروں کو ہے، 14 مئی الیکشن کی تاریخ دے کر اختیارات کے آئینی تقسیم کی خلاف ورزی ہوئی ہے، آرٹیکل 218 کے تحت صاف شفاف الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، اختیارات کی تقسیم کے پیش نظر سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا میں الیکشن کی تاریخ نہیں دی۔

    دوسری جانب الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے 4 اپریل کے حکم پر نظر ثانی دائر کررکھی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین و قانون کے مطابق سپریم کورٹ انتخابات کی تاریخ کا حکم نہیں دے سکتی، عدالت نے تاریخ دیکر اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔واضح رہے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے 14 مئی کو پنجاب بھر میں انتخابات کرانے کا حکم دے رکھا تھا۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے 4 اپریل کے فیصلے کو عدالت عظمٰی میں چیلنج کیا گیا تھا

  • جہانگیر ترین کا پرویز خٹک سے ٹیلفونک رابطہ

    جہانگیر ترین کا پرویز خٹک سے ٹیلفونک رابطہ

    ‏جہانگیر ترین کی استحکام پاکستان پارٹی کے قیام کا معاملہ ،پارٹی میں اہم ترین شخصیات کے رابطوں میں تیزی آ گئی ہے

    جہانگیر ترین کا پرویز خٹک سے ٹیلفونک رابطہ ہوا ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق جہانگیر ترین اور پرویز خٹک کے مابین ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا،پرویز خٹک کی جانب سے جہانگیر ترین کو نئی پارٹی کے قیام پر مبارکباد دی گئی، پی ٹی آئی کے سابق عہدیداران کے مابین آئندہ انتخابات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا،‏جہانگیر ترین کی جانب سے پرویز خٹک کو ملاقات کی بھی دعوت دی دئی، پرویز خٹک کی جانب سے ملاقات کی دعوت قبول کر لی گئی،دونوں رہنماؤں کے مابین جلد اہم ملاقات متوقع پے

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما پرویز خٹک نے میڈیا پر زیر گردش خبروں کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ تحریک انصاف کا حصّہ ہوں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان میرے بارے میں سب کچھ جانتے ہے میڈیا پر چلنے والی جہانگیر ترین گروپ میں شمولیت کے حوالے سے تمام خبریں جھوٹ اور منفی پروپیگنڈا ہے

    واضح رہے کہ جہانگیر ترین نے کل لاہو رمیں استحکام پاکستان پارٹی کے قیام کا اعلان کیا تھا، تحریک انصاف چھوڑنے والے رہنما جہانگیر ترین کی پارٹی میں شامل ہو چکے ہیں، سیاست چھوڑنے کا دعویٰ کرنیوالے بھی جہانگیر ترین کی پارٹی میں آ چکے ہیں،

    واضح رہے کہ علیم خان اور جہانگیر ترین تحریک انصاف میں تھے اور عمران خان کے انتہائی قریبی تھے، مگر اقتدار ملنے کے بعد عمران خان تکبر میں آ گئے اور انہوں نے اپنے قریبی دوستوں کو دور کر دیا، جہانگیر ترین الگ ہوئے تو علیم خان نے بھی پی ٹی آئی چھوڑی، اب حالت یہ ہو چکی ہے کہ تحریک انصاف میں صرف عمران خان ہی رہ جائیں گے باقی سب ساتھ چھوڑ جائیں گے

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

     ریاست مخالف پروپیگنڈے کوبرداشت کریں گے نہ جھکیں گے۔

     چیف جسٹس عامر فاروق نے معاملے کا نوٹس لے لیا

  • جہانگیر ترین کا استحکام پاکستان پارٹی کا باضابطہ اعلان

    جہانگیر ترین کا استحکام پاکستان پارٹی کا باضابطہ اعلان

    جہانگیر ترین نے استحکام پاکستان پارٹی کا اعلان کردیا

    لاہور کے مقامی ہوٹل میں جہانگیر ترین نے استحکام پاکستان پارٹی کا اعلان کیا، جہانگیر ترین کے ہمراہ علیم خان، عامر کیانی،فردوس عاشق،تنویر الیاس و دیگر موجود تھے، جہانگیر ترین کا اس موقع پر کہنا تھا کہ اب نہ کبھی 9 مئی ہونے دیں گے نہ کسی سیاسی مخالف کے گھروں پر حملے ہونے دیں گے ، سیاسی تقسیم ختم کریں گے، قوم میں امید پیدا کریں گے

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ ہماری جماعت عام عوام کی جماعت ہوگی ہم قائد اعظم کی تعلیمات اور علامہ اقبال کے خوابوں کو پورا کرنے کیلیے جدوجہد بھی کریں گے ہمارا جمہوری نظام صرف اسی صورت مضبوط ہوسکتا ہے جب حکومت اوراپوزیشن آئینی کردار ادا کرے آنے والے دنوں میں ہمارے قافلے میں اور بھی ایسے لوگ شامل ہوں گے جن کا اپنے حلقے میں بہت زیادہ سیاسی اثر و رسوخ ہے ،ہم ہمیشہ سے سیاسی مخالفین پر حملوں کے مخالف تھے مگر پی ٹی آئی نے تو فوجی تنصیبات پر حملہ کیا اور شہدا کی یادگاروں کو نقصان پہنچایا اگر اس ہجوم کو قابو نہ کیا گیا تو یہ گھروں میں گھس کر سب کو ہراساں کرے گا آنے والے دنوں میں آپ کے سامنے ایسے حقائق آجائیں گے جس سے آپ سب کو علم ہوگا کہ تحریک انصاف کے لیے ہم نے کتنا کام کیا ہم نے ہمیشہ کوشش کی تھی کہ پی ٹی آئی واضح اکثریت سے انتخابات میں فتح حاصل کرے اور ملک میں اتحاد کے لیے کام کرے مگر ایسا نہ ہوسکا اور لوگ بد دل ہوگئے ،9 مئی کے ذمہ داروں کو سزا نہ ملی تو کل پھر سیاستدانوں کے گھروں تک پہنچیں گے، پاکستان میں اصلاحات لانا بنیادی حصول تھا،معاملات ویسے نہ چل سکے جیسے ہم چاہتے تھے،

    اس موقع پر علیم خان کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین نے سب کو اکٹھا کرنے میں بڑے پن کا مظاہرہ کیا،ہم نے پاکستان کو انتشار سے بچانا ہے، جہانگیر ترین کی سربراہی میں جدوجہد میں حصہ ڈالیں گے،علی زیدی کو خوش آمدید کہتا ہوں، ہم نے 12 سال ایک پلیٹ فارم پر اکھٹے گزارے، ہمیں خوشحال پاکستان کا خواب دکھایا گیا تھاجہانگیر ترین کی کوششوں سے ہم سب ایک پلیٹ فارم پر ہیں موجودہ صور تحال پر تمام پاکستانی پریشان ہیں، 9 مئی واقعات کے بعد لوگ فکر مند تھے،

    جہانگیر ترین اپنی پارٹی استحکام پاکستان کے پیٹرن انچیف ہوں گے ،تحریک انصاف چھوڑنے والے رہنما جہانگیر ترین کی نئی پارٹی میں شامل ہیں، سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان کرنیوالے بھی استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہو چکے ہیں

    پریس کانفرنس سے قبل پارٹی کے کورگروپ کا اجلاس ہوا جس کی صدارت پارٹی کے پیٹرن ان چیف جہانگیرترین اور علیم خان نے کی ،

    واضح رہے کہ علیم خان اور جہانگیر ترین تحریک انصاف میں تھے اور عمران خان کے انتہائی قریبی تھے، مگر اقتدار ملنے کے بعد عمران خان تکبر میں آ گئے اور انہوں نے اپنے قریبی دوستوں کو دور کر دیا، جہانگیر ترین الگ ہوئے تو علیم خان نے بھی پی ٹی آئی چھوڑی، اب حالت یہ ہو چکی ہے کہ تحریک انصاف میں صرف عمران خان ہی رہ جائیں گے باقی سب ساتھ چھوڑ جائیں گے

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

     ریاست مخالف پروپیگنڈے کوبرداشت کریں گے نہ جھکیں گے۔

     چیف جسٹس عامر فاروق نے معاملے کا نوٹس لے لیا

    استحکام پاکستان پارٹی کی پریس کانفرنس، فواد چودھری "منہ” چھپاتے رہے، تصاویر وائرل
    نئی پارٹی کی پریس کانفرنس کے موقع پر حال ہی میں تحریک انصاف اور سیاست چھوڑنے والے فواد چودھری بھی شریک تھے، فوادچودھری کو آگے جگہ نہ ملی یا دی نہ گئی فواد چوھدری پیچھے بیٹھے رہے، فواد چودھری کی ایک تصویر سامنے آئی ہے جس میں وہ پیچھے بیٹھے ہیں اور چہرے پر ہاتھ رکھ کر کیمرے سے چہرہ چھپانے کی کوشش کررہے ہیں، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک‌ صارف نے فواد کی تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ *شرمندگی یا کچھ اور؟*
    سابق رہنما تحریکِ انصاف فواد چودھری اسٹیج پر اپنی کرسی پر بیٹھنے کے بجائے سب سے پیچھے والی کرسی پر بیٹھے ہوئے ہیں۔جہانگیر ترین نے اپنی پارٹی "استحکام پاکستان” کی بنیاد رکھ دی ہے۔

    ایک اور صارف نے فواد کی تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ جہانگیر ترین پارٹی استحکام پاکستان کی پہلی تقریب میں مرکزی نمائندے ہی غیر مستحکم دکھائی دے رہے ہیں

    پریس کانفرنس کے اختتام پر جہانگیر ترین صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیئے بغیر روانہ ہو گئے، صحافی کہتے رہے کہ سوال و جواب کے بغیر پریس کانفرنس نہیں ہوتی تا ہم جہانگیر ترین چلے گئے ، اس موقع پر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ آج پارٹی کی لانچنگ کی پریس کانفرنس تھی، اگلی پریس کانفرنس میں سوال لیں گے، آج آپ سیاسی چسکوں میں پڑ جاتے، آج پارٹی کا منشور چلائیں،

  • استحکام پاکستان پارٹی کے جھنڈے کا ڈیزائن فائنل کر لیا گیا

    استحکام پاکستان پارٹی کے جھنڈے کا ڈیزائن فائنل کر لیا گیا

    جہانگیرترین کی استحکام پاکستان پارٹی کے جھنڈےکا ڈیزائن فائنل کر لیا گیا۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق استحکام پاکستان پارٹی نے پارٹی پرچم تیار کر لیا، استحکام پاکستان پارٹی کا پرچم 3 رنگوں پر مشتمل ہے، استحکام پاکستان پارٹی کا جھنڈا سبز، سفید اور سرخ رنگ پر مشتمل ہے،پرچم میں سبز رنگ نمایاں ہے جبکہ پارٹی کے جھنڈے میں چاند ستارہ بھی واضح ہے۔

    دبئی :کاروبار کے نام پر درجنوں افراد کو دھوکہ، عرب نژاد یورپی شہری گرفتار

    استحکام پاکستان پارٹی کا منشور چند روز میں مکمل کر لیا جائے گا، ذرائع ترین گروپ کا کہنا ہے کہ اسحاق خاکوانی، عون چودھری، علیم خان و دیگر پر مشتمل ورکنگ گروپ کام کر رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق جہانگیرترین آج پریس کانفرنس میں پارٹی جھنڈے اور لوگو کی رونمائی کریں گے جب کہ استحکام پاکستان پارٹی کا منشور آئندہ چند روز میں مکمل کر لیا جائے گا۔

    علی زیدی کوتحریک انصاف چھوڑنے پر سلام پیش کرتا ہوں،عطا تارڑ

  • مراد راس جہانگیر ترین گروپ میں شامل

    مراد راس جہانگیر ترین گروپ میں شامل

    جہانگیر ترین سے سابق صوبائی وزیر مرادراس کی ملاقات ہوئی

    مراد راس نے جہانگیر ترین گروپ میں شمولیت کا اعلان کردیا ،ملاقات جہانگیر ترین کی لاہور رہائش گاہ پر ہوئی، اس موقع پر علیم خان اور عون چودھری بھی موجود تھے،

    جہانگیر ترین پاکستان کی سیاست میں اس وقت متحرک ہیں اور ایک نئی پارٹی کے حوالہ سے مشاورت کر رہے ہیں، جہانگیر ترین سے تحریک انصاف چھوڑنے والے رہنماؤں کی ملاقاتیں جاری ہیں،آج شام ترین گروپ نے لاہور میں اہم اجلاس طلب کر رکھا ہے جس میں نئی پارٹی کے حوالہ سے حتمی فیصلہ کیا جائے گا، جہانگیر ترین سے سابق رکن پنجاب اسمبلی مخدوم سید افتخار حسن گیلانی کی بھی ملاقات ہوئی ہے،ملاقات میں مختلف سیاسی امور اور مستقبل کے لائحہ عمل پرتبادلہ خیال کیا گیا،ملاقات میں مخدوم سید افتخار حسن گیلانی نے جہانگیر ترین گروپ کے ساتھ چلنے کی یقین دہانی کرائی

    بہاولپور سے مختلف اہم شخصیات نے جہانگیر ترین گروپ میں شمولیت کا اعلان کیا،جہانگیر ترین سے بہاولپور سے سجاد بخاری، تحسین گردیزی اور جہانزیب وارن کی ملاقات ہوئی، تینوں رہنماؤں نے تحریک انصاف چھوڑ کر جہانگیر ترین گروپ میں شمولیت کا اعلان کیا ،جہانگیر ترین نے ترین گروپ جوائن کرنے والے رہنماؤں کو خوش آمدید کہا

    فواد چودھری بھی ترین گروپ میں شمولیت کی کوشش کر رہے ہیں تا ہم ابھی تک وہ کامیاب نہیں ہو سکے، فردوس عاشق اعوان کو ترین گروپ میں اہم عہدہ دیا جا سکتا ہے،علیم خان ممکنہ طور پر پنجاب کے صدر بنائے جا سکتے ہیں،

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

     ریاست مخالف پروپیگنڈے کوبرداشت کریں گے نہ جھکیں گے۔

     چیف جسٹس عامر فاروق نے معاملے کا نوٹس لے لیا

    جہانگیر ترین کی عمران خان سے علیحدگی کے بعد سے ن لیگی رہنماؤں سے ملاقاتیں ہو چکی ہیں تا ہم اب نومئی کے واقعہ کے بعد جہانگیر ترین ایک بار پھر متحرک ہوئے ہیں، ماہرین کے مطابق جہانگیر ترین کا آئندہ آنیوالی حکومت میں اہم ترین کردار ہو گا،

    واضح رہے کہ علیم خان اور جہانگیر ترین تحریک انصاف میں تھے اور عمران خان کے انتہائی قریبی تھے، مگر اقتدار ملنے کے بعد عمران خان تکبر میں آ گئے اور انہوں نے اپنے قریبی دوستوں کو دور کر دیا، جہانگیر ترین الگ ہوئے تو علیم خان نے بھی پی ٹی آئی چھوڑی، اب حالت یہ ہو چکی ہے کہ تحریک انصاف میں صرف عمران خان ہی رہ جائیں گے باقی سب ساتھ چھوڑ جائیں گے

  • پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں آگے کیا ہوگا؟

    پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں آگے کیا ہوگا؟

    پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں آگے کیا ہوگا؟

    پاکستان کا سیاسی منظر نامہ مسلسل بدل رہا ہے، اس میں کوئی ایک لمحہ دوسرے سے مشابہت نہیں رکھتا۔ آئیے موجودہ منظر نامے کا ایک مختصر جائزہ لیتے ہیں:

    عمران خان زمان پارک سے اپنی تقاریر میں فوج پر تنقید کرتے رہتے ہیں. اسے کریک ڈاؤن کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، اور اسے جمہوریت پر ایک حملہ قرار دیتے ہیں۔ اس کے بیانیے میں واحد تبدیلی اس کی کریک ڈاؤن کے خلاف امریکہ سے مدد کی اپیل ہے۔

    کچھ "لبرلز” فوج کے ردعمل پر سوال اٹھا رہے ہیں اور کیپیٹل ہل میں ہونے والے واقعات پر امریکی حکومت کے ردعمل سے اس کا موازنہ بھی کر رہے ہیں۔ جو اس کا علم رکھتے ہیں وہ ایک نکتہ اٹھاتا ہے کہ کیا کیپیٹل ہل ایک فوجی تنصیب تھی اور کیا ٹرمپ کے حامیوں نے کسی فوجی یا فضائیہ کے اڈوں، پینٹاگون، یا کسی جنرل کی رہائش گاہ پر حملہ کیا؟ متعدد شہروں میں 9 مئی کو ہونے والے ہم آہنگ حملے یہ نشاندہی کرتے ہیں کہ اس کی منصوبہ بندی پہلے سے کی گئی تھی . اس وجہ سے یہ نہ صرف پاکستان، بلکہ دنیا بھر میں ایک بے مثال واقعہ ہے۔ اگرچہ ماضی میں بھی مظاہرے ہوئے ہیں، لیکن انہوں نے کبھی بھی صرف فوج کو نشانہ نہیں بنایا۔

    9 مئی کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پارٹی پر عمران خان کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کی کوشش جاری ہے۔ محاذ آرائی کی سیاست، جو کہ دور اقتدار میں بھی خان کے موقف کی بنیاد اور ان کی پارٹی کا خاصہ رہا ہے. اسی کے نتیجے میں ایک غیر فعال طرز حکمرانی کا عمل منظرعام پہ آیا تھا۔

    بیشک کہ اگر جہانگیر ترین کے خلاف آرٹیکل 62[1][f] کے تحت الیکشن لڑنے پر پابندی برقرار رہے گی، چوںکہ اس کے ہٹائے جانے کے بہت کم امکانات ہیں، کیونکہ نواز شریف کو بھی اسی قانون کے تحت 2017 میں نااہل قرار دیا گیا تھا۔ اور ترین کو ریلیف دینے کا مطلب ہے کہ شریف کو بھی دینا پڑے گا۔ بہر حال، ترین کے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، اور انہیں پی ٹی آئی سے منحرف ایم این ایز اور ایم پی اے کی کثیر تعداد کی حمایت بھی حاصل ہے۔ امکانات ہیں کہ وہ پاکستان کے سیاسی مستقبل کی تشکیل میں بھی اپنا کردار ادا کریں گے۔

    یہ افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ پی ٹی آئی کا فارورڈ بلاک جلد ہی تشکیل دیا جائے گا اور اس کا اعلان اس تحریر کی اشاعت سے کچھ ہی پہلے ہو سکتا ہے۔

    پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بھی پی ٹی آئی کے اراکین پارلیمنٹ کے منحرف ہونے کا فائدہ اٹھا رہی ہے۔نیز چوہدری شجاعت بھی ایک مضبوط سیاسی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    انتخابات اس سال کسی وقت، اور ممکنہ طور پر اکتوبر ہی میں ہو سکتے ہیں۔ یہ اب بھی "ممکنہ” ہے۔ تاہم، جب تک پارٹیوں کے بنیادی ڈھانچے کی اندرونی صفائی نہیں ہوتیں اور الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) کی جانب سے ضروری تبدیلیوں پر عمل درآمد نہیں ہوتا، بشمول ‘ان میں سے کوئی نہیں'(NOTA) کے آپشن کو متعارف کرانا، ممکن ہے کہ وہی جانے پہچانے چہرے واپس آجائیں۔ . ضروری اقدامات کے متعلق مزید تفصیلات میرے ویلاگ مورخہ 4 جون 2023 میں بھی بیان ہو چکے ہیں۔

  • پی ٹی آئی کے سیاسی حالات میں ابھی تک کوئی بہتری نہیں آئی، اسد عمر

    پی ٹی آئی کے سیاسی حالات میں ابھی تک کوئی بہتری نہیں آئی، اسد عمر

    تحریک انصاف کے تمام عہدوں سے مستعفی ہونے والے اسد عمر توہین الیکشن کمیشن کیس میں الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے

    اس موقع پر صحافیوں نے ان سے بات چیت کی، اسد عمر نے صحافیوں سے بات چیت کے دوران سوالوں کے جواب دیئے، صحافی نے سوال کیا کہ آپ اور پی ٹی آئی کیسے ہیں؟ جس پر اسد عمر نے جواب دیا کہ میں اور پی ٹی آئی دونوں خیریت سے ہیں، صحافی نے سوال کیا کہ پی ٹی آئی میں توڑ پھوڑ سے پی ٹی آئی بیٹ بھی متاثر ہوئی ہے ، اسد عمر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا اور کہا کہ یہ سازش ہمارے خلاف نہیں صحافیوں کے خلاف سازش ہے ،صحافی نے سوال کیا کہ آج ایک اور پی ٹی آئی رہنما پریس کانفرنس کررہے ہیں، اسد عمر نے حیرانگی کیساتھ جواب دیتے ہوئے کہا کہ مجھے کسی پریس کانفرنس کا علم نہیں، صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ کا جہانگیر ترین سے کوئی رابطہ ہوا ہے؟ اسد عمر کا کہنا تھا کہ میرا جہانگیر ترین سے کوئی رابطہ نہیں، صحافی نے سوال کیا کہ پی ٹی آئی کے حالات میں کوئی بہتری آئی ہے؟ جس کے جواب میں اسد عمر کا کہان تھا کہ پی ٹی آئی کے سیاسی حالات میں ابھی تک کوئی بہتری نہیں آئی .

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    واضح رہے کہ اسد عمر تحریک انصاف کے تمام عہدے چھوڑ چکے ہیں، جیل سے رہائی کے بعد اسد عمر نے تمام عہدے چھوڑنے کا اعلان کیا تھا،نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسد عمر کا کہنا تھاکہ 10مئی کو میری گرفتاری ہوئی تب سے قید تنہائی میں تھا ، 9 مئی کو جو واقعات ہوئے اس کی مذمت تمام لوگ کرچکے، میں تفصیل میں جانا چاہتا ہوں کیوں یہ واقعات ملک کیلئے خطرناک ہیں، ایسی تنصیبات جن کا فوج سے تعلق تھا ان پر حملے کیے گئے۔اسد عمر کا کہنا تھاکہ 9 مئی کے بعد میرے لیے ممکن نہیں ہے کہ قیادت کی ذمہ داریاں نبھا سکوں، سیکرٹری جنرل اور کور کمیٹی کی رکنیت سے مستفی ہو رہا ہوں

  • جہانگیر ترین سے کوئی رابطہ ہوا؟ صحافی کا اسد قیصر سے سوال

    جہانگیر ترین سے کوئی رابطہ ہوا؟ صحافی کا اسد قیصر سے سوال

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد ،تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر کے خلاف جوڈیشل کمپلیکس توڑپھوڑ کیس کی سماعت ہوئی
    تھانہ سنگجانی میں درج کیس میں اسد قیصر کی ضمانت میں 10 جون تک توسیع کر دی، اسد قیصر اپنے وکیل شیرافضل مروت کے ہمراہ عدالت پیش ہوئے، ایڈیشنل سیشن جج طاہرعباس سِپرا نے کیس کی سماعت کی ،وکیلِ ملزم شیرافضل نے کہا کہ اسد قیصر نے گزشتہ کئی دنوں سے اپنے آپ کو چھپایا ہوا ہے، اسد قیصر کا ضلعی کچہری آنا رِسک سے کم نہیں، مردان پر بھی دہشتگردی کا مقدمہ درج ہوگیا ہے، جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ سب کے کیسز میں زاہدآصف کو اسپیشل پراسیکوٹر تعینات کیا گیا ہے، اسپیشل پراسیکوٹر زاہد آصف کی والدہ کا انتقال ہوگیا ہے، شریک ملزمان کی استدعا تھی کہ 10 جون کی تاریخ دے دی جائے، وکیل شیرافضل کی جانب سے اسدقیصر کی ضمانت میں توسیع کی لمبی تاریخ دینے کی استدعا کی گئی،جس پر جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسدقیصر کی ضمانت میں ڈھائی ہفتے کی توسیع دی تو دیگر ملزمان کے لیے بھی روایت قائم کرنی ہڑے گی، وکیل شیر افضل نے کہا کہ دس دس مقدمات والی روایت اس سے قبل پہلے کہیں نہیں دیکھی،

    اسد قیصر کی عدالت پیشی کے موقع پر صحافیوں نے اسد قیصر سے سوال کیا کہ اگر سنجیدہ مذاکرات کی بات ہوتی ہےتو کیا کریں گے ، جسکے جواب میں اسد قیصر نے کہا کہ سنجیدہ مذاکرات کے لئے بات کریں گے ہاں ہم سنجیدہ مذاکرات کے لئے تیار ہیں رانا ثناء اللہ نے کہا کہ مذاکرات کے لیے وزیراعظم شہباز شریف سے بات کی جائے کیا ان سے بات چیت ممکن ہے ،جو ملک میں حالات ہیں اس میں ابھی کیا مذاکرات ہو سکتے ہیں پہلے ماحول ٹھیک کریں پھر مذاکرات ہو سکتے ہیںمیں پی ٹی آئی میں ہی ہوں ،صحافی نے سوال کیا کہ عمران خان سے کوئی رابطہ ہے جس پر اسد قیصر نے جواب دیا کہ عمران خان سے رابطہ میں ہوں، صحافی نے سوال کیا کہ پاکستان بھر میں کتنے کیس آپ پر ہیں ، اسد قیصر نے جواب دیا کہ آج میرے چار کیسز ہیں،صحافی نے سوال کیا کہ جہانگیر ترین سے کوئی رابطہ ہوا؟ جس پر اسد قیصر نے جواب دیا کہ جہانگیر ترین سے کوئی رابطہ نہیں ،صحافی نے سوال کیا کہ فواد چوہدری پی ٹی آئی سے رہنماوں کو لیجا رہے ہیں آپ سے کوئی رابطہ ہوا جس پر اسد قیصر کا کہنا تھا کہ میں پی ٹی آئی میں ہی ہوں

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں