Baaghi TV

Tag: جہیز

  • شوہر سے علیحدگی کے بعد جہیز کی واپسی ، فیملی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار

    شوہر سے علیحدگی کے بعد جہیز کی واپسی ، فیملی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شوہر سے علیحدگی کے بعد جہیز کے سامان کی واپسی سے متعلق فیملی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے 28 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں اسلامی قوانین، قرآنی آیات اور غیر ملکی عدالتوں کے فیصلوں کا حوالہ بھی دیا گیا عدالت نے قرار دیا کہ اپیلٹ کورٹ نے غلطی کی اور درخواست گزار خاتون کے حقوق کو نظرانداز کیا، عدالت کے مطابق جہیز اور دلہن کو ملنے والے ذا تی تحائف مکمل طور پر خاتون کی ملکیت ہیں، اور اگر جہیز واپس نہ کیا جائے تو خاتون اس کی متبادل قیمت حاصل کرنے کی حقدار ہوگی۔

    فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ شادی کے دوران حاصل ہونے والی جائیداد میں بیوی کا حق تسلیم کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ اس کی شراکت داری ثابت ہوعدالت نے فیملی کورٹ کو ہدایت کی کہ کیس کا فیصلہ 2 ماہ کے اندر کیا جائے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکومت کو خواتین کے مالی اور ملکیتی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی کی ہدایت بھی کی،عدالت نے کہا کہ خواتین کے آئینی اور قانونی حقوق کو عملی طور پر یقینی بنانے کے لیے پالیسی اقدامات ناگزیر ہیں نکاح نامہ میں ایسی شرط شامل کی جائے جس کے تحت شادی کے دوران حاصل ہونے والی جائیداد طلاق، وفات یا دیگر صورتوں میں بیوی کے ساتھ مساوی طور پر تقسیم ہو سکے۔

    فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ تعلیمی اداروں میں لڑکیوں کو ازدواجی حقوق کے بارے میں آگاہی دی جائے تاکہ وہ نکاح نامہ میں اپنے حقوق کا مؤثر استعمال کر سکیں،خواتین ملک کی قریباً نصف آبادی ہیں اور ان کے حقوق کا تحفظ ایک منصفانہ اور ترقی پسند معاشرے کے قیام کے لیے ضروری ہے۔

    دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ نے خواتین کے حقوق اور حق مہر کی ادائیگی کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور وضاحتی فیصلہ جاری کیا ہے جس میں یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ بیوی اپنے شوہر سے کسی بھی وقت مہر کا مطالبہ کرنے کا قانونی حق رکھتی ہے۔

    لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس عابد حسین چھٹہ نے فاطمہ بی بی نامی خاتون کی درخواست پرتحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا مہر سے متعلق فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور فیملی کورٹ کا فیصلہ بحال کر دیا۔

    کیس کے مطابق درخواست گزار نے شوہر کے خلاف روز مرہ اخراجات یونی نان نفقہ، جہیزکی واپسی اور پانچ تولہ سونے کے مہر کا دعویٰ دائر کیا تھاابتدائی طور پر فیملی کورٹ نے خاتون کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے شوہر کو پانچ ہزار روپے ماہانہ خرچ اور حق مہر ادا کرنے کا حکم دیا تھا تاہم بعد میں ٹرائل کورٹ نے مہر کا دعویٰ ختم کر دیا تھا۔

    لاہور ہائیکورٹ نے اس قانونی نکتے پر گہری نظر ڈالتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگر نکاح نامہ کے اندراج کے وقت مہر کی ادائیگی کا کوئی مخصوص وقت یا مدت طے نہ کی گئی ہو تو ایسی صورت میں بیوی ’جب بھی‘ مطالبہ کرے گی، شوہر پر مہر ادا کرنا لازم ہوگا عدالت نے واضح کیا گیا کہ شادی برقرار رہنے کے باوجود بیوی اپنے مہر کی مکمل حقدار رہتی ہے چنانچہ ہائیکورٹ نے فیملی کورٹ کے پرانے فیصلے کو دوبارہ بحال کر دیا ہے جبکہ نان نفقہ اور جہیز سے متعلق اپیلیٹ کورٹ کا فیصلہ درست قرار دیا گیا عدالت نے درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے مہر سے متعلق فیملی کورٹ کا فیصلہ بحال کر دیا

    اس عدالتی فیصلے سے یہ بات واضح اور ہو گئی ہے کہ حق مہر بیوی کا وہ بنیادی حق ہے جو نکاح کے معاہدے کے تحت اسے حاصل ہوتا ہے اور شوہر اس کی ادائیگی سے انکار نہیں کر سکتا۔

  • جہیز  پر پابندی کا بل مسترد کر دیا گیا

    جہیز پر پابندی کا بل مسترد کر دیا گیا

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے جہیز پر پابندی کا بل مسترد کر دیا۔

    خرم نواز کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس ہوا جس میں جہیز پر پابندی کے بل پر بحث ہوئی،جہیز پر پابندی کا بل رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے پیش کیا جس میں جہیز کو غیر قانونی قرار دینے اور سزاؤں کی تجویز شامل تھی،اس کے علاوہ والدین کو رضاکارانہ تحائف دینے کی اجازت کی شق بھی اس بل میں شامل تھی،تاہم بحث کے بعد قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے جہیز بل مسترد کر دیا اور اور متفقہ طور پر بل کو ناقابلِ عمل قرار دے دیا۔

    مسجد نبوی کے مؤذن شیخ فیصل انتقال فرما گئے

    13 برس تک بوئنگ 737 طیارہ ریکارڈ سے غائب رہا،ایئر انڈیا کا انکشاف

    پی آئی اے نجکاری، عارف حبیب کنسورشیم نے 115 ارب روپے کی سب سے زیادہ بولی دے دی

  • جہیز نہ لانے پر سسرالیوں نے  بیٹے کے سامنے ماں کو زندہ جلایا گیا

    جہیز نہ لانے پر سسرالیوں نے بیٹے کے سامنے ماں کو زندہ جلایا گیا

    بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر نوئیڈا میں جہیز نہ لانے پر سسرالیوں نے خاتون کو بیٹے کے سامنے زندہ جلا ڈالا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق مقتولہ نکی کی شادی 2016 میں ہوئی تھی اور چند ہی ماہ بعد سسرالیوں کی جانب سے جہیز کے لیے دباؤ اور تشدد شروع ہوگیا، سسرال والے 36 لاکھ روپے کا مطالبہ کرتے تھے، اور جہیز میں دی گئی دیگر چیزوں کو بھی ناکافی قرار دیتے تھےواقعے کے روز نکی کو بہیمانہ تشدد کے بعد اس کے بچے کے سامنے پیٹرول چھڑک کر آگ لگائی گئی۔

    پولیس کے مطابق،نکی کی بہن کنچن، جس کی شادی بھی اسی گھر میں ہوئی تھی، کا کہنا ہے کہ دونوں بہنیں سالوں سے جہیز کے لیے ظلم کا شکار تھیں کنچن نے بتایا کہ اسے بھی اس رات شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور کہا گیا کہ "تم مرو گی تو ہم دوسری شادی کر لیں گے، نکی کو اسپتال لایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکی واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، خاتون کے شوہر کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔

    پاکستان بنگلہ دیش نالج کوریڈور کے قیام کا اعلان

    بھارتی بلے باز کا کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

    لاہور سے پیرس کے لیے پی آئی اے پروازیں بند

  • اداکار عاصم محمود کی جہیز کے خلاف مہم

    اداکار عاصم محمود کی جہیز کے خلاف مہم

    ہمارا تعلق ایک ایسے معاشرے سے ہے جہاں بیٹی جب باپ کے کندھے تک پہنچنے لگتی ہے تو والدین کو اس کی شادی کی فکر لاحق ہو جاتی ہے۔آج مہنگائی کے اس دور میں جب اخراجات میں آئے دن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے، تو اس ترقی یافتہ اور جدید دور میں بھی متوسط طبقہ والدین شادی بیاہ میں بیٹیوں کو بھاری بھر کم جہیز اور سونے کے زیورات دینے کی فکر میں وقت سے پہلے ہی بوڑھے ہو جاتے ہیں۔

    ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ اس وجہ سے اداس نہیں ہوتے ہیں کہ بیٹی پیدا ہوئی ہے بلکہ اس وجہ سے بھی اداس ہوتے ہیں کہ ہماری بیٹی تو پیدا ہوئی ہے جو ہمارے گھر کی رحمت ہے لیکن جب یہ بڑی ہو گی تو جہیز نہ دینے کی وجہ سے کنواری نہ رہ جائے، جو باپ جہیز میں فرنیچر دیتا ہے وہ کس طرح قرضے میں ڈوب کے یہ خریدتا ہے؟ اس فرنیچر کی پالش اتر جاتی ہے لیکن اس باپ کا قرضہ نہیں اترتا۔جہیز کے پیسے جمع کرتے کرتے ایک باپ لوگوں کے آگے بک جاتا ہے اس معاشرے میں بیٹیاں جہیز کے انتظار میں بوڑھی ہو جاتی ہیں۔پتہ چلتا ہے ساس نے تیل ڈال کے آگ لگا دی،آگ کیوں لگائی کیوں کہ وہ جہیز میں کچھ نہیں لے کے آئی۔کچھ لڑکیوں کی طلاق ہو جاتی ہے صرف جہیز نہ دینے کی وجہ سے۔جہیز نے لوگوں کے گھر تباہ کر دیئے لیکن آج بھی یہ مسلہ حل نہیں ہوا اور نہ کبھی ہو سکتا ہے.ہم لوگ اپنے بچوں کو اس قابل نہیں بناتے کہ وہ زندگی میں اتنا کما سکیں کہ اس انتظار میں نہ رہیں ۔کب ہماری شادی ہو گی کب لڑکی اپنے ساتھ کار،اےسی،فرنیچر اور گھر کی ایک ایک چیز لے کے آئے گی۔ماں بیٹے کے پیدا ہوتے ہی یہ سوچنا شروع کر دیتی ہے کہ یہ جب بڑا ہو گا اس کی شادی ایک ایسے گھر میں کروں گی جہاں لڑکی بھی خوبصورت ہو اور اپنے ساتھ جہیز میں بھی سب کچھ لے کے آئے اور یہ سوچ بیٹے کے بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ بڑھتی جاتی ہے،کیسے ہم اس جہیز جیسی لعنت کو ختم کر سکتے ہیں؟ ہر انسان جب خود کو دوسرے کی جگہ رکھ کر دیکھے کہ لوگ کیسے کہ لوگ کیسے جہیز اکھٹا کرتے ہیں،کیسے قرض کے نیچے دب کر اپنی بیٹی کی کھوکھلی خوشیوں کا بندوبست کرتے ہیں۔یہ ہم سب نے سوچنا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو اس قابل بنائیں کہ اسے کسی چیز کی ضرورت نہ پڑے وہ کسی کی بیٹی اس وجہ سے نہ لے کہ اسے جہیز میں بہت کچھ ملنا ہے۔وہ یہ سوچے کہ لڑکی کی تربیت اچھی ہوئی ہے،وہ اچھے خاندان سے ہے،پڑھی لکھی ہے اور اسے یہ یقین ہو کہ زندگی کی ساری خوشیاں دینا اس کا فرض ہے نہ کہ اس کے ماں باپ کا۔

    پاکستانی اداکار عاصم محمود نے جہیز اور لڑکی والوں کی جانب سے کیے جانے والے اضافی شادی کے اخراجات کے خلاف مہم شروع کردی ہے،عاصم محمود نے ویڈیو اینڈ فوٹو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر اسٹوری پوسٹ کی ہیں جس میں عاصم محمود نے لڑکی والوں کے ہونے والے اخراجات کے خلاف آواز بلند کی اور اسے غیر ضروری قرار دیا،عاصم محمود کا کہنا تھا کہ لڑکی والوں کو 30 لاکھ کا جہیز، 5 لاکھ کا کھانا، دلہا کی گھڑی، انگوٹھی، پھر ولیمے کے بعد ہونے والے مکلاوے کا کھانا، ولیمے کے دن کا ناشتہ، بیٹی کے ساتھ سسرالیوں کے کپڑے بھیجنا پڑتے ہیں،جب دلہا والے بارات واپس لے کر جارہے ہوتے ہیں تو انہیں باراتیوں کو واپسی پر کھانا بھی بھیجا جاتا ہے

    اداکار عاصم محمود نے لڑکی والوں کے ہونے والے ان تمام اخراجات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ بیٹی ہے یا پھر کوئی سزا؟ عاصم محمود نے صارفین کو بھی جہیز کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے اپیل کی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    پولیس وردی پہننے پر وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف مقدمہ کی درخواست

    میں تین بار وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف کی بیٹی تھی مگر مجھے بھی خود کو ثابت کرنا پڑا،مریم نواز

  • لڑکیوں کیلیے جہیز فنڈ لڑکوں کے لیے بھی کچھ ہے؟ رکن سندھ اسمبلی کا سوال

    لڑکیوں کیلیے جہیز فنڈ لڑکوں کے لیے بھی کچھ ہے؟ رکن سندھ اسمبلی کا سوال

    لڑکیوں کیلیے جہیز فنڈ لڑکوں کے لیے بھی کچھ ہے؟ رکن سندھ اسمبلی کا سوال

    اسپیکر آغا سراج درانی کی زیرصدارت سندھ اسمبلی کا اجلاس پوا

    وقفہ دعا کے بعد اپوزیشن کی جانب سے کورم کی نشاندہی کی گئی، اسپیکر سندھ اسمبلی نے کورم پورا نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا،کورم پورا کرنے کے لیے اجلاس 5 منٹ تک ملتوی کیا گیا،اسپیکر آغا سراج درانی کی زیرصدارت سندھ اسمبلی کا دوبارہ اجلاس شروع ہوا، تو کورم پورا نہ ہونے کے باوجود اجلاس جاری رکھنے کی قرارداد منظور کی گئی،وقفہ سوالات کے دوران ایم ایم اے کے رکن اسمبلی عبدلرشید کی پھٹے گریباں ایوان میں آمد ہوئی، انکا ایوان میں کہنا تھا کہ میں لیاری جنرل اسپتال میں گیا، وہاں مجھے مارا ہے میرے کپڑے پھاڑے گئے دو گھنٹے تک ہراساں کیا گیا لیاری سے دستبردار نہیں ہوسکتا

    مکیش کمار چاولہ نے کہا کہ جو بھی یہ ایکشن چاہتے ہیں ہم کریں گے ہم حکومت نے اس کی مذمت ہے ہم آپ کے ساتھ ہیں، سید عبدالرشید کا کہنا تھا کہ میں ایف آئی آر کے لیے جاتا ہوں میری بات نہیں سنتے ہیں۔اسپیکر آغا سراج درانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ حال کریں گے ہمارے ایم پی اے کا ۔ وزیر صحت عذرا پیچوہو نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ انجم رحمان کو ہم نے ہٹا دیا تھا وہ عدالت گئیں تھی وہاں سے اسٹے لیا ہے شبانہ کی رپورٹ کے بعد اس کو ہٹا دیا تھا ہم نے اس کے خلاف شو کاز نوٹس بھی دیا تھا اب اس کے خلاف ایکشن لیا جائے گا اہلکاروں نے بدتمیزی کی ہے اس پر ایف آئی آر کاٹی ہے

    سندھ اسمبلی اجلاس وقفہ سوالات کے دوران معاون خصوصی زکوٰۃ و عشر فیاض علی بٹ نے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ دو سال مستحقین کی بائیو میٹرک چل رہی ہے۔جس کے باعث کسی کو ابھی پیسے نہیں دئیے جارہے ہیں ۔عدالت کے حکم پر بائیو میٹرک چل رہی ہے ۔2022 میں غریب یتیم لڑکیوں کو جہیز کی مد میں 30 ہزار روپے کی رقم ہے ۔تمام اضلاع میں پاپولیشن کے حساب سے دیتے ہیں ،پیپلز پارٹی کے نعیم کھرل نے دلچسپ سوال کیا کہ لڑکیوں کے لیے جہیز فنڈ ہوتا ہے تو لڑکوں کے لیے بھی کچھ ہے۔ ؟ کیا لڑکا پرانے کپڑوں میں دولہا بنے گا۔ فیاض بٹ نے جواب دیا کہ آپ درخواست دے دیں میں اس کی منظوری کرا دوں گا۔ اگر کارڈ نہیں بنا ہوا ہے تو شناختی کارڈ لیتے ہیں ہر اسپتال میں ایک کاؤنٹر ہوتا ہے۔جس کو تصدیق کے بعد پیسے دئیے جاتے ہیں۔تمام اسپتالوں کو زکوٰۃ کی مد کے تحت فنڈز دئیے جائیں نئی پالیسی کے تحت جلد از جلد کرائیں گے،

    22 لاکھ کا جہیز،27 تولہ سونا واپسی کی درخواست پر عدالت نے کہا کہ بتائیں لڑکی کا والد کیا کام کرتا ہے

     خاتون کو مبینہ طور جہیز نہ دینے پر زندہ جلا دیا گیا

    جہیز کی ڈیمانڈ پر بیوی نے کی خود کشی، لو میرج کرنیوالے کو سنائی عدالت نے سزا

    سب مان گئے، اب ہو گی ان ہاؤس تبدیلی، پہلے جائے گا کون؟ فیصلہ ہو گیا

     خاتون کو مبینہ طور جہیز نہ دینے پر زندہ جلا دیا گیا۔

    لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو، وزیراعظم عمران خان کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    نوجوان جوڑے پر تشدد کیس، پانچویں ملزم کو کس بنیاد پر گرفتار کیا؟ عدالت کا تفتیشی سے سوال

  • جہیز مانگنے والوں کے سماجی  بائیکاٹ کا فیصلہ

    جہیز مانگنے والوں کے سماجی بائیکاٹ کا فیصلہ

    جہیز مانگنے والوں کے سماجی بائیکاٹ کا فیصلہ

    اپر چترال ،لاسپور گاؤں میں قائدین کا جرگہ ہوا جس میں جہیز مانگنے والوں کے سماجی بائیکاٹ کا فیصلہ کیا گیا ہے

    قائدین کی جانب سے جرگہ میں غیرضروری رواج ختم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے ،جرگے میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ شادی میں دلہن کے گھروالوں سے کوئی مطالبہ نہیں کیا جائے گا دعوت میں کھانوں پر کم سے کم خرچہ کیا جائے گا ،شادی بیاہ پر فضول خرچی سے گریز کیا جائے گا ،جرگے میں کہا گیا کہ جہیز اور غیرضروری اخراجات کی وجہ سے لڑکیوں کی رخصتی نہیں ہو پاتیں ضلعی انتظامیہ جرگے کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے تعاون کرے ،

    "جہیز "عربی زبان کے لفظ جہاز کی بگڑی ہوئی صورت ہے۔ جس کے معنی ہیں "سازوسامان پہنچانا” اصطلاح میں اس سے مراد وہ سازوسامان ہے جو والدین شادی بیاہ کے موقع پر اپنی بیٹی کو نقدی،کپڑوں،زیور یا سامان خانہ داری کی صورت میں دیتے ہیں۔برصغیر پاک و ہند کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں جہیز کی موجودہ رسم ہندو معاشرے کی پیداوار ہے ۔

    مسلمانوں اور ہندوؤں کے آزادانہ میل جول کا عرصہ تقریباً ایک ہزار سال کا ہے۔ اس طویل عرصے کے دوران ” تخم تاثیر صحبت اثر” کے مصداق مسلمانوں اور ہندوؤں نے ایک دوسرے کو بہت متاثر کیا اور ہندو معاشرے کی بہت سی بری رسومات مسلمانوں نے اپنالیں

    اگر اسلامی تعلیمات کو پرکھا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے پیارے نبی ﷺ نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا کو ان کے نکاح کے موقع پر بہت معمولی سامان بطورِ جہیز دیاتھا۔ اس سلسلے میں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا کےساتھ رشتہ ازواج میں منسلک ہونے سے قبل حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہِ وسلم کے ساتھ ہی رہتے تھے اور ان کا اپنا کوئی گھر نہ تھا۔شادی کے بعد جب انھوں نے اپنا گھر بنایا تو اس میں گھریلو سامان کی ضرورت فطری امر تھا۔ لہذا اگر حضور نے اپنی بیٹی کو جہیز دیا تو اس سنت کا اطلاق انھی حالات میں ہوگا جن حالات میں حضور نے اپنی بیٹی کو یہ سامان دیا۔اس سے ثابت ہوا کہ لڑکی کا گھر بسانے کے لیے اسے ضروری ساز و سامان مہیا کرناسنت کے عین مطابق ہے مگر اس سلسلے میں حد سے تجاوز کرنا محض رسم پرستی اور اسراف ہے۔ اسی اسراف سے بعد ازاں بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں

    ہمارے ہاں آج کل یہ رسم بد اس قدر پھیل چکی ہے کہ ایک غریب شخص جو اپنا اور اپنے اہلِ خانہ کا پیٹ بمشکل پالتا ہے۔ بیٹی پیدا ہوتے ہی یہ فکر اس کے دامن گیر ہو جاتی ہے کہ خواہ جہیز کے لیے قرض ہی کیوں نہ لینا پڑے مگر بیٹی کی شادی کے موقع پر ساکھ قائم رہے اور برادری میں ناک رہ جائے۔ خود بھلے فاقوں کا سامنا کرنا پڑے ۔مگر بچی کا جہیز تو شان دار ہونا چاہیے۔

    خصوصاً قیام پاکستان کے بعد تو یہ رسم اس قدر بڑھ گئی ہے کہ زیادہ سے زیادہ جہیز دینے کے لیے لوگ ہرطرح کے غیر قانونی اور ناجائز ذرائع مثلاً چوری،رشوت،سمگلنگ وغیرہ کو بھی استعمال میں لانے لگے ہیں۔ اس طرح امراء کی دیکھا دیکھی زیاده جہیز دینے کی دوڑ میں غریب اپنی غربت کی چکی میں میں پس کر رہ جاتے ہیں۔

    صورت حال یہ ہے کہ بہت سے غریب گھرانوں کی شریف زادیاں شادی کی عمر ہونے کے باوجود تمام عمر گھر میں گھل گھل کر گزارنے پر مجبور ہیں کیوں کہ ان کے والدین لڑکے والوں کے حسب منشا جہیز دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔گویا یہ ایک ایسی رسم ہے کہ جس نے بہت سی بیٹیوں اور بہنوں کی زندگیاں برباد کر ڈالی ہیں ۔

    22 لاکھ کا جہیز،27 تولہ سونا واپسی کی درخواست پر عدالت نے کہا کہ بتائیں لڑکی کا والد کیا کام کرتا ہے

     خاتون کو مبینہ طور جہیز نہ دینے پر زندہ جلا دیا گیا

    جہیز کی ڈیمانڈ پر بیوی نے کی خود کشی، لو میرج کرنیوالے کو سنائی عدالت نے سزا

    سب مان گئے، اب ہو گی ان ہاؤس تبدیلی، پہلے جائے گا کون؟ فیصلہ ہو گیا

    اور حکومت شہباز شریف کے آگے جھک گئی،مدد مانگ لی

    ان ہاؤس تبدیلی نہیں بلکہ نئے انتخابات، مولانا فضل الرحمان کا بلاول کو مشورہ

    ان ہاؤس تبدیلی، اہم شخصیت حکومتی اراکین کی فہرست لے کر نواز شریف سے ملنے پہنچ گئی

    شیخ رشید کی نواز شریف کو آفر، پی ڈی ایم سے تاریخ بدلنے کی اپیل

    نواز شریف کی واپسی، شہباز شریف نے بڑا اعلان کر دیا

  • دلہن نے جہیز کیلئے رکھے گئے 75 لاکھ لڑکیوں کی تعلیم پر لگا دیئے

    دلہن نے جہیز کیلئے رکھے گئے 75 لاکھ لڑکیوں کی تعلیم پر لگا دیئے

    بھارتی ریاست راجھستان میں لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے کوشاں دلہن نے اپنے جہیز کے لیے رکھے گئے 75 لاکھ روپے لڑکیوں کی تعلیم پر لگا دیئے-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق راجھستان میں دلہن نے شادی سے قبل والدین سے ایک انوکھی فرمائش کردی۔ برمار شہر کی انجلی کور نے اپنے والد کشور سنگھ کنود سے اس کی شادی کے لیے رکھے گئے 75 لاکھ بھارتی روپے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے وقف کرنے کی فرمائش کردی۔


    اخبار کے مطابق انجلی کے والد کنورسنگھ پہلے ہی اس علاقے میں گرلز ہاسٹل کی تعمیر کے لیے ایک کروڑ روپے عطیہ کرچکے ہیں لیکن تعمیر مکمل کرنے کے لیے مزید 50 سے 75 لاکھ روپے درکار تھے اور فنڈز کی قلت ان کی بیٹی انجلی کے جہیز کی رقم سے پوری ہوچکی ہے۔

    بھارت میں قائداعظم کی تعریف پر بی جے پی آگ بگولہ ہو گئی

    رپورٹ کے مطابق راجھستان میں لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے کوشاں انجلی کور نے اپنے والد سے مطالبہ کیا کہ وہ ا کے جہیز کے لیے رکھے گئے پیسوں سے لڑکیوں کے لیے ہاسٹل کی تعمیر کرادیں کشور سنگھ نے اپنی بیٹی کو خواہش کو پورا کرتے ہوئے 75 لاکھ روپے گرلز ہاسٹل کی تعمیر کے لیے عطیہ کردیے ہیں۔

    شادی کی رسومات سے فارغ ہونے کے بعد انجلی نے مغربی راجھستان کے مشہور مذہبی رہنما مہانت پرتاپ پوری کو ایک خط میں اپنی خواہش کا ذکر کیا، جنہوں نے انجلی کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ معاشرے کی بہتری کے لیے کنیا دان میں اس خواہش کا اظہار کرنا بذات خود بہت قابل ستائش بات ہے۔

    بھارتی ڈراما ساز نے”میرے پاس تم ہو” کی کاپی بنالی، سوشل میڈیا صارفین کے دلچسپ تبصرے