Baaghi TV

Tag: جیسن گلیسپی

  • پی ایس ایل کی نئی فرنچائز حیدرآباد نے جیسن گلیسپی کو ہیڈ کوچ مقرر کر دیا

    پی ایس ایل کی نئی فرنچائز حیدرآباد نے جیسن گلیسپی کو ہیڈ کوچ مقرر کر دیا

    پاکستان سپر لیگ کی نئی فرنچائز حیدرآباد نے قومی ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ جیسن گلیسپی کو ہیڈ کوچ مقرر کر دیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ جیسن گلیسپی اور پی ایس ایل کی نئی فرنچائز حیدر آباد کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں قومی ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ اب حیدر آباد کی کوچنگ کریں گے، فریقین کے درمیان باقاعدہ معاہدے طے پا گیا ہے۔

    اپریل 2024 میں جیسن گلیسپی کو گیری کرسٹن کے ساتھ ٹیسٹ اسکواڈ کا ہیڈ کوچ مقرر کیا گیا تھا جنہوں نے وائٹ بال کی قیادت کی تھی،2024 کے دسمبر میں پی سی بی کے ساتھ کشیدہ تعلقات کی وجہ سے انہوں نے جنوبی افریقہ میں پاکستان کی دو میچوں کی ٹیسٹ سیریز سے قبل عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا،اب جیسن گلیسپی مارچ میں شروع ہونے والے پی ایس ایل میں حیدر آباد کی کوچنگ کرتے نظر آئیں گے۔

    دوسری جانب پی ایس ایل 11 کے پلیئرز آکشن کے لیے کھلاڑیوں کی گولڈ، سلور اور ایمرجنگ کیٹگریز کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ مختلف فرنچائزز نے متعدد مقامی کھلاڑیوں کو ریٹینشن یا آکشن کے لیے ان کیٹگریز میں شامل کیا ہے۔

    گولڈ کیٹگری میں مجموعی طور پر 33 کھلاڑیوں کو برقرار رکھا گیا ہے یا آکشن پول میں رکھا گیا ہے، جبکہ سلور کیٹگری میں 16 مقامی کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے۔ اسی طرح ایمرجنگ کیٹگری میں 14 کھلاڑیوں کو ریٹین یا آکشن کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

    سلور کیٹگری میں ملتان سلطانز کے یاسر خان، عامر برکی، محمد جنید، ہمایوں الطاف، علی عمران اور عبید شاہ شامل ہیں،لاہور قلندرز کی جانب سے محمد اخلاق، محمد نعیم اور عازب کو سلور کیٹگری میں رکھا گیا ہے، جبکہ اسلام آباد یونائیٹڈ کے محمد فائق اور حنین شاہ بھی اسی کیٹگری کا حصہ ہوں گے۔

    پشاور زلمی کے عارف یعقوب اور مہران ممتاز، کراچی کنگز کے مرزا معمون اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے علی ماجد کو بھی سلور کیٹگری میں شامل کیا گیا ہے،جبکہ ایمرجنگ کیٹگری میں 14 کھلاڑیوں کو ریٹینشن یا ریلیز کے لیے رکھا گیا ہے اسلام آباد یونائیٹڈ کے سعد مسعود، محمد شہزاد اور غازی غوری، کراچی کنگز کے ریاض اللہ، فواد علی اور سعد بیگ اس کیٹگری میں شامل ہیں۔

    اس کے علاوہ پشاور زلمی کے معاذ صداقت، عبداللہ فضل اور علی رضا، ملتان سلطانز کے شاہد عزیر اور محمد ذوالفقار، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے محمد ذیشان اور شامل حسین جبکہ لاہور قلندرز کے مومن قمر بھی ایمرجنگ کیٹگری کا حصہ ہوں گے۔

  • سابق ٹیسٹ کوچ جیسن گلیسپی کےپی سی بی پر سنگین الزامات

    سابق ٹیسٹ کوچ جیسن گلیسپی کےپی سی بی پر سنگین الزامات

    پاکستان ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ اور آسٹریلیا کے مایہ ناز فاسٹ بولر جیسن گلیسپی نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) پر سنگین الزامات عائد کر دیے ہیں۔

    ایکس پر سوال و جواب کے ایک سیشن کے دوران گلیسپی نے دعویٰ کیا کہ انہیں پی سی بی کی جانب سے ذلت آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث انہوں نے کوچنگ کا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

    جیسن گلیسپی نے ایک صارف کے سوال کے جواب میں کہا کہ وہ پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ تھے اور اس حیثیت میں انہیں مکمل اختیار اور اعتماد دیا جانا چاہیے تھا، تاہم پی سی بی نے ان کے سینئر اسسٹنٹ کوچ کو بغیر کسی پیشگی اطلاع یا مشاورت کے برطرف کر دیا،یہ اقدام نہ صرف غیر پیشہ ورانہ تھا بلکہ ایک ہیڈ کوچ کی حیثیت سے ان کی توہین کے مترادف بھی تھا۔

    خیبر پختونخوا ڈیجیٹل رسائی کے حوالے سے سب سے آگے ہے،پی ٹی اے

    ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے علاوہ بھی کئی انتظامی اور پیشہ ورانہ مسائل تھے جنہوں نے انہیں شدید مایوسی میں مبتلا کیاایسی فضا میں کام کرنا مشکل ہو جاتا ہے جہاں اعتماد، رابطے اور احترام کا فقدان ہو، انہیں محسوس ہوا کہ ان کی رائے اور کردار کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جو کسی بھی کوچ کے لیے ناقابل قبول صورتحال ہوتی ہے۔

    جیسن گلیسپی نےکہا کہ پاکستان میں کوچنگ کا تجربہ ان کے لیے نہایت تلخ ثابت ہوا اور اس نے کوچنگ سے ان کی محبت کو بھی متاثر کیا،وہ ہمیشہ کوچنگ کے عمل کو مثبت اور تعمیری سمجھتے تھے، مگر پاکستان میں پیش آنے والے واقعات نے ان کے جذبے کو ٹھیس پہنچائی۔

    ہندتوا سوچ اور انتہا پسندی خطے کے امن کے لیے شدید خطرہ ہے،خواجہ آصف

    واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ جیسن گلیسپی نے پی سی بی کے خلاف اس نوعیت کے بیانات دیے ہوں اس سے قبل بھی وہ پاکستان کرکٹ کے انتظامی معاملات پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں، تاہم حالیہ بیانات نے ایک بار پھر پاکستان کرکٹ بورڈ کی گورننس اور پیشہ ورانہ طرزِ عمل پر بحث چھیڑ دی ہے۔

  • پاکستان کا تجربہ میری کوچنگ سے محبت کو کھٹا کر چکا ہے، جیسن گلیسپی

    پاکستان کا تجربہ میری کوچنگ سے محبت کو کھٹا کر چکا ہے، جیسن گلیسپی

    سابق آسٹریلوی فاسٹ بولر جیسن گلیسپی نے کہا کہ پاکستان کا تجربہ میری کوچنگ سے محبت کو کھٹا کر چکا ہے، میں ایمانداری سے کہوں گا کہ مجھے یقین ہے کہ میں اسے واپس حاصل کر لوں گا۔

    باغی ٹی وی :جیسن گلیسپی نے کہا کہ یہ ایک بڑا دھچکا تھا، مجھے مایوسی ہوئی کہ یہ سب کیسے ختم ہوا، اس تجربے سے میرے ذہن میں سوال آیا میں دوبارہ مکمل وقت کے لیےکوچنگ کرنا چاہتا ہوں یا نہیں،میں یہ سب سچے دل سے کہوں گا کہ مجھے کوچنگ کے تجربے نے تھکا دیا ہے، آسٹریلیا بھی اگر کوچنگ کی پیشکش کرتا تو میں جواب دیتا کہ ابھی نہیں، میری اس وقت کل وقتی کوچنگ میں دلچسپی نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ جیسن گلیسپی پاکستان ریڈ بال ٹیم کے مختصر وقت کے لیے کوچ رہے،گیری کرسٹن کے عہدہ چھوڑنے کے بعد جیسن گلیسپی عبوری وائٹ بال کوچ بھی بنے۔

    تمام معاشی اشاریے عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان اڑان بھرچکا ہے،عطاء اللہ تارڑ

    "پورا مائیکرو سافٹ خون میں رنگا ہے، مائیکروسافٹ کی تقریب میں فلسطین کے حق میں زبردست احتجاج

    "پورا مائیکرو سافٹ خون میں رنگا ہے، مائیکروسافٹ کی تقریب میں فلسطین کے حق میں زبردست احتجاج

  • عاقب جاوید ہیڈ کوچ بننے کیلئے پس پردہ مہم چلا رہے تھے، سابق کوچ کا انکشاف

    عاقب جاوید ہیڈ کوچ بننے کیلئے پس پردہ مہم چلا رہے تھے، سابق کوچ کا انکشاف

    پاکستان ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ جیسن گلیسپی نے قومی ٹیم کے موجودہ ہیڈ کوچ عاقب جاوید کو مسخرہ قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ وہ خود کوچ بننے کے لیے پس پردہ مہم چلا رہے تھے۔

    آسٹریلیا کے سابق ٹیسٹ کرکٹر اور پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ جیسن گلیپسی نے فوٹو شیئرنگ ایپ ’انسٹاگرام‘ پر ایک اسٹوری شیئر کی جس میں انہوں نے قومی ٹیم کے موجودہ ہیڈ کوچ عاقب جاوید پر الزامات کی بوچھاڑ کردی۔جیسن گلیسپی کا کہنا تھا کہ عاقب جاوید واضح طور پر قومی وائٹ بال ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ گیری کرسٹن اور میری ساکھ کو نقصان پہنچا رہے تھے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ عاقب جاوید پاکستان کرکٹ ٹیم کے تمام فارمیٹس میں کوچ بننے کے لیے پس پردہ مہم چلا رہے تھے کیونکہ وہ خود تینوں فارمیٹ کا کوچ بننا چاہتے تھے۔

    آخر میں جیسن گلیپسی نے عاقب جاوید کا حالیہ بیان کو حیران کن قرار دیتے ہوئے انہیں جوکر قرار دے دیا۔خیال رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں پی سی بی کی جانب سے جنوبی افریقہ کے دورے کے لیے اسسٹنٹ کوچ ٹم نیلسن کے کنٹریکٹ میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس پر اس وقت کے ہیڈ کوچ جیسن گلیسپی پی سی بی سے ناراض ہوگئے اور انہوں نے جنوبی افریقہ جانے سے انکار کر دیا تھا۔جس پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے عاقب جاوید کو قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کا عبوری ہیڈ کوچ مقرر کر دیا تھا۔

    اس سے قبل، نومبر 2024 میں پی سی بی نے عاقب جاوید کو چیمپئنز ٹرافی تک قومی وائٹ بال ٹیم کا عبوری ہیڈ کوچ مقرر کیا تھا۔اکتوبر 2024 میں پاکستان وائٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ گیری کرسٹن اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے، انہوں نے پی سی بی اور سلیکشن کمیٹی کے رکن عاقب جاوید سے اختلافات کی وجہ سے استعفیٰ دیا۔

    وزیر اعلیٰ سندھ سے نئے برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر کی ملاقات