Baaghi TV

Tag: جیل

  • وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا سنٹرل جیل دورہ، جدید سیکیورٹی سسٹم کا افتتاح

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا سنٹرل جیل دورہ، جدید سیکیورٹی سسٹم کا افتتاح

    پشاور میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے سنٹرل جیل کا دورہ کیا اور 44 کروڑ روپے لاگت سے مکمل کئے گئے جدید سیکیورٹی سسٹم کا افتتاح کیا۔

    وزیراعلیٰ نے صوبے کی تمام جیلوں میں قیدیوں کی سزا میں دو ماہ کی خصوصی معافی کا اعلان کیا اورسنٹرل جیل پشاور میں قیدیوں کی سہولیات بہتر بنانے کیلئے دو کروڑ روپے مختص کرنے کا بھی اعلان کیا،انہوں نے قیدیوں کی شکایات کے فوری ازالے کیلئے ڈیجیٹل کمپلینٹ سیل قائم کرنے کی ہدایت بھی دی اور صوبے کے تمام جیلوں کی سولرائزیشن کا اعلان کرتے ہوئے قیدیوں کے لئے جدید سہولیات فراہم کرنے پر زور دیا۔

    جیل میں اسپتال کے قیام کے ساتھ کم عمر لڑکوں اور خواتین کیلئے علیحدہ خصوصی سیلزقائم کیے جائیں گے تاکہ قیدیوں کو بہتراورمحفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے،سہیل آفریدی نے کہا کہ جیل کا مقصد صرف سزا نہیں بلکہ اصلاح بھی ہے تاکہ قیدی بہتراورمفید شہری بن کرباہر نکلیں،ان اقدامات کے ذریعے قیدیوں کی رہائش، سہولیات اوراصلاحی پروگراموں کو جدید اندازمیں بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو صوبے کی جیل نظام میں ایک مثبت تبدیلی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

  • سینٹرل جیل خیرپور میں فائرنگ 1قیدی ہلاک

    سینٹرل جیل خیرپور میں فائرنگ 1قیدی ہلاک

    سینٹرل جیل خیرپور میں گولیاں چل گئیں،مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں 1 قیدی ہاشم رند ہلاک جبکہ 2 قیدی زخمی ہو گئے-

    ایس ایس پی خیرپور کے مطابق جیل میں فائرنگ سے 1 قیدی ہلاک جبکہ 2 قیدی زخمی ہوئے ہیں، جبکہ پولیس کی بھاری نفری سینٹرل جیل پہنچ گئی مسلح ملزمان باہر سے جیل میں آ کر چھپ گئے تھے، قیدی کو عدالت سے جیل لایا گیا تو ملزمان نے فائرنگ کر دی، جیل کے اندر مسلح ملزمان کیسے داخل ہوئے، اس حوا لے سے تفتیش جاری ہے۔

    تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ سینٹرل جیل خیرپور میں جیل کوارٹرز کے پاس دیوار گری ہوئی تھی وہاں سے ملزمان جیل میں داخل ہوئے مسلح افراد 1 قیدی کو ہلاک اور 2 کو زخمی کرنے کے بعد فرار ہو گئے –

    دوسری جانب دادو میں نامعلوم افراد نے پرنٹنگ پریس پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 2 صحافی زخمی ہوگئے پولیس کے مطابق دادو پریس کلب کے قریب شادی کے کارڈ کی پرنٹنگ پریس پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ایک شخص کو قتل کردیا جبکہ دو صحافی زخمی بھی ہوئے۔

    پولیس نے بتایا کہ زخمیوں میں صحافی نیاز چانڈیو اور صحافی رفیق چنہ شامل ہیں جبکہ فائرنگ سے جاں بحق شخص کی شناخت نہیں ہوسکی پولیس کی جوابی فائرنگ سے ملزمان فرار ہوگئے جبکہ زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

  • عافیہ صدیقی کی رحم کی اپیل مسترد،اسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کر دیا گیا

    عافیہ صدیقی کی رحم کی اپیل مسترد،اسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کر دیا گیا

    سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکی جیل سے رہائی کے لیے کی گئی رحم کی اپیل کو مسترد کر دیا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کر دیا گیا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اور ان کے امریکی وکیل کلائیو اسمتھ ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے، جب کہ وکیل درخواست گزار عمران شفیق اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل بھی موجود تھے۔سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رحم کی اپیل مسترد کر دی ہے۔ اس کے علاوہ، امریکا نے پاکستان کے ساتھ قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے کیے گئے معاہدے سے انکار کر دیا ہے۔ اس پر جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ریمارکس دیے کہ "امریکا ہمیں ہماری اوقات دکھا رہا ہے، سابق امریکی صدر نے اپنے بیٹے کی سزا تو معاف کر دی لیکن ہمارے قیدی کو رہا نہیں کیا۔”

    اس دوران عدالت میں وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے بیرون ملک دوروں کی تفصیلات پر مشتمل رپورٹ پیش کی گئی، جبکہ امریکی سفیر کی ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے متعلق ملاقاتوں میں شرکت نہ کرنے پر بھی جواب جمع کرایا گیا۔ وزارت خارجہ نے عدالتی سوالات کے جوابات پر مشتمل ایک رپورٹ بھی عدالت میں جمع کرائی۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس کیس کی سماعت مزید دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی ہے تاکہ اس پر مزید غور کیا جا سکے اور پاکستان کی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات پر بحث کی جا سکے۔

    یہ امر قابل ذکر ہے کہ سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنی مدت صدارت کے آخری دنوں میں اپنے بیٹے سمیت کئی قیدیوں کی رہائی کے پروانے پر دستخط کیے تھے۔ تاہم، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رحم کی اپیل کے باوجود، جو بائیڈن نے ان کی رہائی کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا۔اس پیشرفت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کی کوششیں مزید پیچیدہ ہو چکی ہیں

    امریکی صدر نے 5افراد کو معافی دیدی،عافیہ صدیقی کا نام نہیں

    عافیہ صدیقی کی رہائی، وطن واپسی کیس کی سماعت 24 جنوری تک ملتوی

    عافیہ صدیقی کی رہائی، وطن واپسی کیس کی سماعت 24 جنوری تک ملتوی

    عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی حکومت پر پھٹ پڑیں

  • سعودی جیلوں سے 2019 سے 2024 تک 7 ہزار 208 پاکستانی رہا

    سعودی جیلوں سے 2019 سے 2024 تک 7 ہزار 208 پاکستانی رہا

    سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان کے بعد رہا ہونے والے پاکستانی قیدیوں کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں

    سینیٹ کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران وزارت خارجہ نے اپنے تحریری جواب میں سعودی ولی عہد کے حالیہ دورہ پاکستان کے بعد سعودی عرب کی جیلوں سے رہا کیے گئے پاکستانی قیدیوں کی تفصیلات ایوان میں پیش کیں۔وزارت خارجہ کے مطابق، سعودی جیلوں سے 2019 سے 2024 تک 7 ہزار 208 پاکستانی قیدیوں کو رہا کیا گیا۔ ان قیدیوں کی رہائی کی تفصیل درج ذیل ہے

    2019 میں 545 پاکستانی قیدیوں کو رہا کیا گیا۔
    2020 میں 892 قیدی رہا ہوئے۔
    2021 میں 916 پاکستانی قیدیوں کو آزادی ملی۔
    2022 میں 1331 پاکستانی قیدیوں کو رہا کیا گیا۔
    2023 میں 1394 پاکستانی قیدیوں کو سعودی جیلوں سے آزاد کیا گیا۔
    2024 میں 2130 پاکستانی قیدیوں کو سعودی جیلوں سے رہا کیا گیا۔

    مزید برآں، وزارت خارجہ کے تحریری جواب میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ اس وقت مختلف ممالک کی جیلوں میں 23 ہزار 456 پاکستانی قید ہیں۔ ان قیدیوں میں سب سے زیادہ پاکستانی خلیجی ممالک کی جیلوں میں قید ہیں۔ سعودی عرب میں 12 ہزار 156 پاکستانی قید ہیں، یو اے ای میں 5 ہزار 292، یونان میں 811 اور قطر میں 338 پاکستانی جیلوں میں ہیں۔

    یہ تفصیلات سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کی عکاسی کرتی ہیں، جس کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنا ہے۔

    لاہور،شیراکوٹ میں کارخاص کی فائرنگ سے پولیس اہلکارقتل

  • جاپان،بزرگ افراد تنہائی کا شکار،خواتین جیل جانے کو ترجیح دینے لگیں

    جاپان،بزرگ افراد تنہائی کا شکار،خواتین جیل جانے کو ترجیح دینے لگیں

    جاپان کے سب سے بڑے خواتین کے جیل میں بزرگ خواتین کی بڑی تعداد موجود ہے۔ ان کے چہرے پر پھیکی مسکراہٹ نظر آتی ہے۔ وہ آہستہ آہستہ جیل کی راہداریوں میں چلتی ہیں، کچھ خواتین واکر کا استعمال کرتی ہیں۔ یہاں کے ملازمین ان کی نہانے، کھانے، چلنے اور دوا لینے میں مدد کرتے ہیں۔لیکن یہ کوئی بزرگوں کا کیئر ہوم نہیں ہے، یہ جاپان کی سب سے بڑی خواتین کی جیل ہے۔ جیل میں موجود خواتین کی تعداد جاپان کی بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی کی عکاسی کرتی ہے، اور اس میں تنہائی کے مسائل بہت زیادہ ہیں، جسے گارڈز کے مطابق بعض بزرگ خواتین اتنی شدت سے محسوس کرتی ہیں کہ وہ جیل میں رہنا پسند کرتی ہیں۔

    توشیگی خواتین کی جیل کے ایک افسر تاکا یوشی شیرا ناگا نے سی این این کو بتایا، "کچھ قیدی خواتین یہ کہتی ہیں کہ وہ یہاں ہمیشہ کے لیے رہنا چاہتی ہیں اور اگر وہ چاہیں تو 20,000 یا 30,000 ین (130 سے 190 ڈالر) ماہانہ دینے کے لیے تیار ہیں۔” یہ بیان ستمبر میں سامنے آیا،سی این این نے توشیگی جیل کی گلابی دیواروں اور پرسکون راہداریوں میں آکیو سے ملاقات کی، جو 81 سال کی ایک قیدی ہیں۔ آکیو کھانے کی چوری کے جرم میں قید ہیں اور وہ جیل کی زندگی کو زیادہ محفوظ اور مستحکم سمجھتی ہیں۔آکیو کے مطابق، "اس جیل میں بہت اچھے لوگ ہیں، شاید یہ زندگی میرے لیے سب سے زیادہ بہتر ہے۔”

    یہاں کی خواتین جیل میں رہ کر کارخانوں میں کام کرتی ہیں، لیکن یہ کچھ کے لیے ایک مناسب ماحول ہے جہاں انہیں باقاعدہ کھانا، مفت صحت کی دیکھ بھال اور بزرگوں کی دیکھ بھال ملتی ہے، وہ ساتھ ہی ساتھ ان لوگوں کا ساتھ بھی پاتی ہیں جنہوں نے بیرون جیل میں ان سے تعلق توڑا ہوا ہے۔

    یوریکو، جو 51 سال کی ایک قیدی ہیں، نے بتایا کہ انہوں نے پچھلے 25 سالوں میں پانچ بار منشیات کے الزام میں جیل کا سامنا کیا۔ ان کے مطابق جیل میں آنے والی خواتین کی عمریں بڑھتی جا رہی ہیں، اور بعض لوگ پیسوں کی کمی کے باعث دوبارہ جیل میں آنا چاہتے ہیں۔بزرگ خواتین اکثر اپنے خاندان سے علیحدگی اور غربت کا شکار ہوتی ہیں، جیسا کہ آکیو نے اپنے بارے میں بتایا۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر ان کی مالی حالت بہتر ہوتی، تو وہ کبھی بھی چوری نہ کرتیں۔ آکیو کا بیٹا جو ان کے ساتھ رہتا تھا، ان سے کہتا تھا، "میں چاہتا ہوں کہ تم چلی جاؤ۔”

    2022 میں جاپان میں 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے قیدیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ یہ تبدیلی جیلوں کی نوعیت کو بھی بدل رہی ہے۔ جیل میں اب ان بزرگ قیدیوں کی دیکھ بھال اور ضروریات کے لیے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔مقامی حکومتیں اور وزارت انصاف اب ان بزرگ قیدیوں کی رہنمائی اور مدد کے لیے مختلف پروگرامز شروع کر رہی ہیں تاکہ ان کو جیل سے باہر بہتر زندگی گزارنے کے لیے سپورٹ فراہم کی جا سکے۔اس کے باوجود جاپان میں بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی اور کم ہوتی پیدائشوں کی وجہ سے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔ حکومت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ بزرگوں کے لیے مزید سپورٹ فراہم کی جائے تاکہ وہ دوبارہ جرائم کا ارتکاب نہ کریں۔ایسی صورتحال میں، توشیگی جیل میں قیدیوں کے درمیان ایک دوسرا خاندان اور معاونت کا ماحول نظر آتا ہے، جہاں ایک دوسرے کی مدد اور دیکھ بھال کی جاتی ہے۔

    ٹرمپ چین اور بھارت کے دورے کے خواہشمند

    سات دن میں جوڈیشل کمیشن نہ بنا تو چوتھی میٹنگ کا فائدہ نہیں، بیرسٹر گوہر

  • عافیہ صدیقی کی بائیڈن کی رخصتی سے قبل معافی کی اپیل

    عافیہ صدیقی کی بائیڈن کی رخصتی سے قبل معافی کی اپیل

    امریکہ میں قید پاکستانی نیوروسائنٹسٹ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے اسکائی نیوز کو بتایا ہے کہ انہیں امید ہے کہ وہ "نئے شواہد” کی بنیاد پر آزاد ہو جائیں گی جو ان کی بے گناہی کا اشارہ دے سکتے ہیں۔

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی، 52 سالہ، جو کبھی دنیا کی سب سے زیادہ مطلوب خواتین میں شامل تھیں، پر الزام تھا کہ ان کا القاعدہ کی قیادت سے تعلق تھا اور 2010 میں انہیں افغانستان میں ایف بی آئی کے ایجنٹ کو قتل کرنے کی کوشش کے الزام میں 86 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ان کے ناقدین "لیڈی القاعدہ” کے لقب سے یاد کرتے ہیں، تاہم انہوں نے ہمیشہ اپنی بے گناہی کا دعویٰ کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اب حالات بدلنے کی امید ہے۔ "مجھے امید ہے کہ مجھے بھلا نہیں دیا جائے گا اور میں انشاء اللہ جلد ہی رہائی پاوں گی۔” انہوں نے مزید کہا، "میں… ظلم کا شکار ہوں، صاف اور سادہ بات ہے۔ ہر دن اذیت ہے… یہ آسان نہیں ہے۔”

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے وکیل، کلف اسٹافورڈ اسمتھ، نے امریکہ کے موجودہ صدر جو بائیڈن سے درخواست کی ہے کہ وہ ان کے کیس پر صدارتی معافی جاری کریں اور انہوں نے بائیڈن کو 76,500 الفاظ پر مشتمل ایک رپورٹ بھیجی ہے۔اس رپورٹ کو اسکائی نیوز نے دیکھا ہے، لیکن اس میں دی گئی تمام معلومات کی آزادانہ تصدیق نہیں کی جا سکی۔بائیڈن کے پاس ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے اس درخواست پر غور کرنے کا وقت ہے۔ اب تک بائیڈن نے 39 افراد کو معافی دی ہے اور 3,989 سزاؤں میں کمی کی ہے۔
    aafia

    کلف اسٹافورڈ اسمتھ کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس کی غلطیوں کی وجہ سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ابتدائی طور پر مشتبہ سمجھا گیا تھا، اور انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے مقدمے کے دوران وہ گواہیاں دستیاب نہیں تھیں جو ان کی بے گناہی کو ثابت کر سکتی تھیں۔ان کا کہنا ہے کہ جب ڈاکٹر عافیہ صدیقی 2003 میں پاکستان آئی تھیں، تو انہیں اغوا کر کے سی آئی اے کے حوالے کیا گیا، جس نے انہیں افغانستان کے بگرام ایئربیس پر منتقل کر دیا۔

    سی آئی اے نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر افغانستان میں القاعدہ کے لیے کام کرنے کا الزام لگایا اور وہ واحد خاتون تھیں جنہیں 2000 کی دہائی کے اوائل میں "ایکسٹراورڈنری رینڈیشن” کے پروگرام کے تحت تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ایکسٹراورڈنری رینڈیشن ایک ایسا عمل ہوتا ہے جس میں کسی گرفتار شخص کو خفیہ حراست میں منتقل کیا جاتا ہے یا کسی تیسرے ملک بھیجا جاتا ہے تاکہ تحقیقات کی جا سکے۔

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مقدمے کے دوران، 2010 میں جج نے کہا تھا: "ریکارڈ میں کوئی قابل اعتماد ثبوت نہیں ہے کہ امریکی حکام یا ایجنسیاں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ان کی 2008 میں گرفتاری سے پہلے حراست میں لے کر آئی تھیں،” اور یہ کہا تھا کہ ان الزامات کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ کلف اسٹافورڈ اسمتھ کا کہنا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس نے شروع میں "غلط مفہوم” نکالا تھا کیونکہ ایجنسیاں یہ سمجھتی تھیں کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی ایک نیوکلیئر فزکس کی ماہر ہیں جو تابکاری بم پر کام کر رہی ہیں، حالانکہ ان کی پی ایچ ڈی تعلیم میں تھی۔

    سی آئی اے کے ایک سابق اہلکار جان کریاکو کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی میں "دہشت گردی کے رجحانات” تھے۔ جان کریاکو نے سی آئی اے میں 2004 تک انسداد دہشت گردی کے محکمے میں کام کیا اور کہا کہ سی آئی اے ڈاکٹر صدیقی کو "قابل اور خطرناک” سمجھتی تھی۔کریاکو نے دعویٰ کیا کہ جب وہ سی آئی اے کے ساتھ کام کر رہے تھے، تب انہوں نے ڈاکٹر صدیقی پر تشدد کرنے کی تردید کی۔ "اگر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو 2003 میں گرفتار کر کے کسی خفیہ مقام پر بھیجا گیا ہوتا، تو مجھے اس کا علم ہوتا۔”

    ڈاکٹر صدیقی کی بہن فوزیہ نے اسکائی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "میں جانتی ہوں کہ وہ بے گناہ ہیں۔ اگر میں جانتی کہ ان میں کوئی گناہ ہے تو میں اپنی ساری زندگی اس کے لیے وقف نہ کرتی۔ وہ جہاں ہیں وہ وہاں نہیں ہونی چاہیے۔”

    عافیہ صدیقی کی رہائی، وطن واپسی کیس کی سماعت 24 جنوری تک ملتوی

    ٴْڈاکٹرعافیہ کی رہائی، 10 لاکھ سے زائد افراد نےدستخط کر دیئے

    عافیہ صدیقی کیس،وزیراعظم،وزیر خارجہ کے دوروں کی تفصیلات طلب

    عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی حکومت پر پھٹ پڑیں

    عافیہ صدیقی کیس ،پاکستانی وفد نے امریکہ میں وقت ضائع کیا،وکیل عافیہ

    جیل میں جنسی زیادتی،تشدد،عافیہ صدیقی کا جیل حکام کیخلاف مقدمہ

  • عافیہ صدیقی کی رہائی، وطن واپسی کیس کی سماعت 24 جنوری تک ملتوی

    عافیہ صدیقی کی رہائی، وطن واپسی کیس کی سماعت 24 جنوری تک ملتوی

    اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے امریکا میں قید پاکستانی شہری ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی کے کیس کی سماعت 24 جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔ اس کیس کی سماعت جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی سربراہی میں کی گئی۔

    سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل دوسری عدالت میں مصروف ہونے کی وجہ سے پیش نہیں ہو سکے۔ اس کے باوجود، درخواست گزار کی وکیل، ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے وکیل عمران شفیق نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وزیرِ اعظم پاکستان کی طرف سے امریکی صدر کو لکھا گیا خط ابھی تک بغیر کسی جواب کے واپس آیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکا کی طرف سے یہ تک نہیں بتایا گیا کہ آیا ان کا خط وصول کیا گیا ہے یا نہیں۔

    عدالت نے اس موقع پر کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے کیس سے متعلق آئندہ ہفتہ بہت اہم ہے اور وزارتِ خارجہ کو چاہیے کہ وہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی سے بھرپور تعاون کرے۔ اس سلسلے میں عدالت نے وزیرِ اعظم کے بیرونِ ملک دوروں کی تفصیلات جمع کرانے کا حکم دیا تھا، تاہم نمائندہ وزارتِ خارجہ نے عدالت کو بتایا کہ سیکریٹری خارجہ چین میں موجود ہیں اور اس وجہ سے تفصیلات فراہم نہیں کی جا سکیں۔ اس پر عدالت نے وزارتِ خارجہ کو اگلے ہفتے تک وزیرِ اعظم کے بیرونِ ملک دوروں کی تفصیلات فراہم کرنے کی مہلت دی۔

    وکیل عمران شفیق نے مزید بتایا کہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی امریکا پہنچ چکی ہیں، لیکن ان کی اب تک امریکی سفیر سے ملاقات نہیں ہو سکی ہے۔ عدالت نے اس پر وزارتِ خارجہ کو ہدایت دی کہ وہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی ملاقات امریکا میں پاکستانی سفیر سے یقینی بنائے۔

    یاد رہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی، جو کہ 2003 میں امریکا میں گرفتار ہوئی تھیں، اس وقت امریکا کی قید میں ہیں اور ان کی واپسی کے لئے مختلف سطحوں پر کوششیں جاری ہیں۔ اس کیس کی آئندہ سماعت 24 جنوری 2025 کو ہوگی۔

    پاکستان نے سکھ اور ہندو یاتریوں کے لیے ویزا پالیسی میں نرمی کر دی

    کراچی: اجتماعی شادیوں کی تقریب میں 100 سے زائد ہندو جوڑے رشتہ ازدواج میں منسلک

  • خاتون جیل افسر کا قیدی کے ساتھ جنسی تعلق،ویڈیو لیک

    خاتون جیل افسر کا قیدی کے ساتھ جنسی تعلق،ویڈیو لیک

    برطانیہ کی ایک نجی جیل میں ایک خاتون جیل افسر کو مبینہ طور پر ایک قیدی کے ساتھ جسمانی تعلق قائم کرتے ہوئے کیمرے میں پکڑے جانے کے بعد گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ ویلنگبورو کے نجی جیل "فائیو ویلز” میں پیش آیا، جہاں جیل افسر اور ایک ٹیٹو والے قیدی کے درمیان غیر مناسب تعلقات قائم ہونے کی ویڈیو ریکارڈ کی گئی۔مذکورہ خاتون جیل افسر اور قیدی کے جنسی تعلقات کی ویڈیو ایک کیمرے میں ریکارڈ ہو گئی، جس میں دونوں کو جسمانی تعلقات قائم کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ ویڈیو جیل میں دیگر قیدیوں اور باہر موجود افراد تک پہنچ چکی ہے، جس کے بعد جیل انتظامیہ نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے خاتون افسر کو معطل کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی قیدی کو بھی جیل کے دوسرے حصے میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

    اس واقعے کو ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق 2024 میں برطانیہ کے جیل نظام میں اس نوعیت کا دوسرا سکینڈل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل بھی ایک شادی شدہ جیل گارڈ کو ایک قیدی کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرتے ہوئے ویڈیو میں پکڑا گیا تھا، جس نے برطانوی جیل انتظامیہ کو مزید تحقیقات کی ضرورت کا احساس دلایا۔

    اس تازہ واقعے نے جیل کے نظام میں اخلاقی قدروں اور نگرانی کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد جیل کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ ایسے سکینڈلز کی روک تھام کے لیے سخت نگرانی اور جانچ پڑتال کی جائے گی تاکہ اس قسم کے غیر قانونی اور غیر اخلاقی رویوں کی سرکوبی کی جا سکے۔دوسری جانب، جیل افسر کے خلاف تحقیقات جاری ہیں اور اس کے ممکنہ قانونی اقدامات کے حوالے سے مزید تفصیلات منظر عام پر آنے کا امکان ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ خاتون افسر کو کسی قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا یا نہیں، لیکن یہ واقعہ جیل کے نظم و ضبط اور اخلاقی دائرے پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔

    یہ واقعہ جیل کے اندر اخلاقی اور پیشہ ورانہ طرز عمل کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔ جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ غیر قانونی تعلقات جیل کے عملے کی جانب سے ان کے اختیارات کا غلط استعمال کرنے کی نشاندہی کرتے ہیں، جو نہ صرف جیل کے نظم و ضبط کو متاثر کرتا ہے بلکہ قیدیوں کے ساتھ برتاؤ کے اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔اس سکینڈل کے بعد، جیل کے حکام نے اپنی پالیسیاں مزید سخت کرنے اور ایسے معاملات کی روک تھام کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

    مسلمان کی جائیداد میں غیر مسلم کا حصہ،عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    بلاول بھٹو ، سیاست کے اسٹیج پر نیا انداز، رنبیر کپور سے موازنہ، آئندہ کے ’ہینڈسم وزیرِاعظم‘ قرار

  • پنجاب:  جیل میں قیدیوں کے  پی سی او  استعمال بارے اصول و ضوابط جاری

    پنجاب: جیل میں قیدیوں کے پی سی او استعمال بارے اصول و ضوابط جاری

    لاہور: محکمہ داخلہ پنجاب نے جیل میں قیدیوں کے پی سی او استعمال بارے اصول و ضوابط جاری کر دیئے –

    باغی ٹی وی:و زیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر محکمہ داخلہ نے جیل قیدیوں کی فلاح کیلئے اہم اقدام اٹھایا ہے جس سے تمام قیدیوں کو مساوی حقوق میسر آئیں گے پنجاب بھر کی جیلوں میں قیدیوں کو عزیز و اقارب اور وکلاء سے رابطے کیلئے آڈیو ویڈیو کال کی سہولت دی گئی ہے۔

    محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ ایس او پیز کے مطابق قیدی پیر تا ہفتہ صبح 8 بجے سے شام 5 بجے کے دوران دیئے گئے شیڈول کے مطابق پی سی او استعمال کر سکتے ہیں، ہر قیدی رابطے کیلئے زیادہ سے زیادہ 5 فون نمبر سسٹم میں رجسٹر کروا سکتا ہے، ہر قیدی کو صرف خونی رشتہ داروں، اہلیہ اور لیگل کونسل سے رابطے کی اجازت ہے۔

    ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں اضافہ

    قواعد و ضوابط کے مطابق جیل میں موجود سسٹم آپریٹر قیدی کی درخواست پر اُسی دن سپرٹنڈنٹ جیل سے تصدیق کے بعد پی سی او کی سہولت فراہم کرے گا ، دہشتگردی اور ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث مجرمان کے علاوہ تمام قیدیوں کو پی سی او استعمال کرنے کی اجازت ہے۔

    قواعد و ضوابط کے مطابق تمام اسیران کو ایک ہفتے میں 60 سے 80 منٹ تک پی سی او استعمال کی اجازت ہو گی جبکہ متعلقہ بیرک انچارج کی تصدیقی سلپ پر ہی ہر قیدی کو پی سی او استعمال کی اجازت ملے گی، پی سی او استعمال کیلئے قیدی اپنے پریزن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم پی پی اکاؤنٹ سے رقم منہا کروائیں گے جبکہ 18 سال سے چھوٹے اور نادار اسیران کو پی سی او کی سہولت مفت فراہم کی جائیگی۔

    لاہور ہائیکورٹ : موسم سرما تعطیلات کے پہلے ہفتے کیلئے بینچز تشکیل

    قواعدو ضوابط میں واضح کیا گیا ہے کہ جیل جرائم میں ملوث افراد یا نقص امن کے خطرے کے پیشِ نظر سپرنٹنڈنٹ جیل کسی قیدی کی پی سی او سہولت عارضی طور پر بند کر سکتا ہےایسی صورتحال میں متعلقہ ڈی آئی جی ریجن اطلاع موصول ہونے کے 3 یوم میں منا سب وجوہات کی روشنی میں پی سی او سہولت بحال کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔

    ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب نے بتایا کہ جیل جرائم کے مرتکب قیدی کو پنشمنٹ بلاک میں بند کیا جائے گا اور پی سی او سہولت عارضی طور پر بند رہے گی کسی بھی قیدی کو کانفرنس کال کی اجازت نہیں ہو گی، اسی طرح انچارج اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل دورانِ کال کسی بھی نازیبا یا قابل اعتراض گفتگو پر کال منقطع کرنے کا مجاز ہے۔

    9 مئی میں سزا یافتہ لوگوں کے لیے اپیلیں فائل کریں گے،بیرسٹر گوہر

    قواعدو ضوابط کے مطابق نازیبا، ملک دشمن اور قابل اعتراض گفتگو پر متعلقہ قیدی کی پی سی او سہولت عارضی طور پر بند کر دی جائے گی، قواعد میں واضح تحریر ہے کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کسی قیدی کی پی سی او سہولت ایک ماہ تک بند کر سکتا ہے اور ایک ماہ سے زائد مدت کی اجازت متعلقہ ڈی آئی جی ریجن دے گا۔

    ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق کوئی بھی قیدی فون بوتھ سے 6 ملا کر آئی جی جیل خانہ جات کمپلینٹ سیل میں مفت شکایت درج کروا سکتا ہے اسی طرح یہ بھی طے پایا کہ خواتین، نوعمر اور سزائے موت کے قیدیوں کا پی سی او بوتھ ان کے اپنے بارک میں ہو گا۔

    سانحہ نو مئی کے مجرمان کو شواہد کی بنیاد پر سزائیں سنائی گئیں،عطاءاللہ تارڑ

    ترجمان نے بتایا کہ تمام کالز کا ریکارڈ کم از کم ایک ماہ تک محفوظ رکھا جائے گا ایک اسیر کا صرف ایک پی سی او اکاؤنٹ بنایا جائےگا اور خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ حکام کیخلاف کارروائی ہوگی سپرنٹنڈنٹ جیل ماہانہ بنیادوں پر پی سی او سسٹم کی کمپیوٹرائزڈ فنانشل رپورٹ پریزن فاؤنڈیشن کو بھجوائے گا۔

    سیکرٹری داخلہ پنجاب نور الامین مینگل نے آئی جی جیل خانہ جات اور تمام ریجنز کے ڈی آئی جیز کو جاری کردہ قواعد و ضوابط پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کی ہے۔

    ہانیہ عامر کی امریکا میں ایونٹ سے نکالنے جانے پر وضاحت

  • 20 جنوری سے قبل عافیہ صدیقی کی رہائی کا فیصلہ متوقع

    20 جنوری سے قبل عافیہ صدیقی کی رہائی کا فیصلہ متوقع

    وزیراعظم پاکستان، شہباز شریف کی ہدایت پر پاکستانی وفد نے امریکی جیل میں قید معروف پاکستانی محقق اور ماہر نفسیات ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے تقریباً تین گھنٹے تک ملاقات کی۔

    اس ملاقات میں ڈاکٹر عافیہ کی صحت، قید کی حالت اور رہائی کے حوالے سے اہم بات چیت کی گئی۔ پاکستانی وفد نے اس موقع پر امریکی حکام سے بھی ملاقاتیں کیں، جن میں امریکی کانگریس اور وزارت خارجہ کے حکام شامل تھے، تاکہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لئے موثر اقدامات کیے جا سکیں۔پاکستانی وفد میں شامل سینیٹر بشریٰ انجم نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عافیہ صدیقی کی رہائی کے حوالے سے امریکی حکام سے ہونے والی گفتگو انتہائی مثبت رہی۔ انہوں نے کہا کہ "ہمیں امید ہے کہ امریکی حکومت 20 جنوری سے پہلے عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق کوئی فیصلہ کر لے گی”۔ سینیٹر بشریٰ انجم نے مزید کہا کہ یہ کیس صرف پاکستان کا نہیں بلکہ عالمی سطح پر انسانی حقوق کا مسئلہ بن چکا ہے، اور اس حوالے سے عالمی برادری کا بھی کردار اہم ہے۔

    عافیہ صدیقی کو 2003 میں افغانستان میں امریکی فوجیوں کے خلاف حملے کی کوشش کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور 2010 میں انہیں امریکا کی جیل میں 86 سال کی سزا سنائی گئی تھی۔پاکستانی وفد کی اس ملاقات کا مقصد ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی کوششوں کو تیز کرنا تھا تاکہ انہیں طویل عرصے سے جاری قید سے نجات مل سکے۔ اس موقع پر وفد نے امریکی حکام سے ڈاکٹر عافیہ کے معاملے پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غور کرنے کی درخواست کی، اور ان کے ساتھ انصاف کی فراہمی کی اپیل کی۔پاکستانی حکومت نے اس بات کا عہد کیا ہے کہ وہ عافیہ صدیقی کے معاملے کو ہر سطح پر اٹھا کر انہیں جلد سے جلد انصاف دلانے کی کوشش کرے گی۔

    عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی حکومت پر پھٹ پڑیں

    عافیہ صدیقی کیس ،پاکستانی وفد نے امریکہ میں وقت ضائع کیا،وکیل عافیہ

    سینیٹر طلحہ محمود ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کیلئےامریکا روانہ

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق درخواست پر تحریری حکمنامہ جاری

    جیل میں جنسی زیادتی،تشدد،عافیہ صدیقی کا جیل حکام کیخلاف مقدمہ