Baaghi TV

Tag: جیل

  • کبوترچوری کرنے والے ملزم کی درخواست ضمانت خارج:      مُلک وقوم کے چورآزاد:یہ کیوں؟اہل وطن پوچھتے ہیں‌

    کبوترچوری کرنے والے ملزم کی درخواست ضمانت خارج: مُلک وقوم کے چورآزاد:یہ کیوں؟اہل وطن پوچھتے ہیں‌

    لاہور :کبوتر چوری کرنے والے ملزم کی درخواست ضمانت خارج:مُلک وقوم کے چورآزاد:یہ کیوں؟عوام پوچھتی ہے،اطلاعات کے مطابق آج کورٹ نے کبوتر چوری کرنے والے ملزم کی درخواست ضمانت خارج کردی، جس کے بعد پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا۔

    تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں کبوتر چوری کرنے والے ملزم کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی ،وکیل ملزم نے بتایا گیا کہ کبوتر چوری کرنے کے بے بنیاد الزامات میں ملوث کیا گیا ہے۔

    جس پر وکیل مدعی کا کہنا تھا کہ مدعی اعجاز نے بہت قیمتی کبوتر پال رکھے تھے ، ملزم نے دھوکہ دہی سے کبوتر چوری کر لیے۔

    تفتیشی افسر تھانہ کاہنہ نے بتایا کہ ملزم تفتیش میں قصور وار پایا گیا ہے، جس پر عدالت نے کبوتر چوری کرنے والے ملزم کی درخواست ضمانت خارج کردی۔

    ضمانت خارج ہونے کے بعد ملزم ہاشم کو کمرہ عدالت سے نکلتے ہی پولیس نے گرفتار کر لیا۔خیال رہے ملزم ہاشم پر لاکھوں روپے کے کبوتر چوری کےالزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

     

     

    جبکہ دوسری طرف پاکستانی عدالتوں سے سوال کررہے ہیں کہ کبوترچوری کرنے والے کی ضمانت خارج مگرجنہوں نے ملک کولوٹا قوم کی محنت مشقت سے جمع ہونے والے اربوں ڈالرز کی چوری کرنے والے آزاد پھر رہے ہیں‌ ، آخریہ تضاد کیوں ہے

    بعض نے لکھا ہےکہ جس طرح دوخاندانوں نے ملک کا ستیا ناس کیا اورپھرساری دولت باہرلے گئے کسی نے لندن میں محل خرید لئے تو کسی نے سرے محل بنالیا ،باہرکے ملکوں میں پاکستانی قوم کا پیسہ لوٹ کرموجیں‌ کرنے والوں کو عدالتوں نے کیوں ریلیف دے رکھا ہے

    بعض نے لکھا ہے کہ یہ اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ 22 کروڑ لوگ صرف دوخاندانوں کے لیے کما رہے ہیں‌،بعض نے لکھا ہے کہ عجیب بات ہے کہ صرف ان دوخاندانوں کوبچانے کے لیے پوری کی پوری پارٹی داوپرلگی ہوئی ہے

    جبکہ بعض نے لکھا ہے کہ کبوترچوری کرنے والی کی ضمانت کا خارج ہونا کوئی پہلا واقعہ نہیں‌بلکہ یہاں وہ بھی جیلوں‌ میں‌ گئے جنہوں نے انڈا چوری کیا،لیکن بدقسمتی سےیہی عدالتیں ان بڑے دوخاندانوں کو ریلیف دینا ہی اپنی ذمہ داری سمجھ رہی ہیں‌

    بعض نے کہا ہے کہ اس ملک کی تباہی میں جہاں سیاستدانوں کا قصور ہے وہاں ان منصفوں کا بھی قصور ہے جواپنے ذاتی مفاد کی خاطرانصاف اور عدل طاقتور کی خواہش کے مطابق کرتے ہیں‌

  • سانحہ سیالکوٹ کے ملزمان بارے بڑا فیصلہ کر لیا گیا

    سانحہ سیالکوٹ کے ملزمان بارے بڑا فیصلہ کر لیا گیا

    سانحہ سیالکوٹ کے ملزمان کا ٹرائل جیل میں کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے

    امن وامان کی صورتحال کے باعث ٹرائل جیل کروایا جائے گا، جیل انتظامیہ کو انتظامات مکمل کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں پولیس حکام کوجلد از جلد چالان مکمل کرکے عدالت میں جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے

    قبل ازیں وزیرقانون پنجاب کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائےل ااینڈ آرڈر کا اجلاس ہوا جس میں سیالکوٹ واقعے کے ملزمان کا روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل کا فیصلہ کرلیا گیا اور ملزمان کا چالان 14 دن میں پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے اجلاس میں سیالکوٹ اور فیصل آباد واقعات کی شدید مذمت کی گئی جبکہ تمام ڈویژنل آر پی اوز اور کمشنرز نے ویڈیو لنک کے ذریعے بریفنگ دی آر پی او گوجرانوالہ نے سیالکوٹ واقعے پر پیشرفت گرفتاریوں پر بریفنگ دی

    قبل ازیں سری لنکا کی آل سائکلون جمعیت العلماء (کونسل آف اسلامی مذہبی سکالرز) نے چیئرمین پاکستان علماء کونسل اور وزیراعظم عمران خان کے مشیر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کو تعریفی خط لکھا ہے جس میں سیالکوٹ واقعہ کی مذمت کرنے پر پاکستان کے تمام علمائے کرام اور تمام مذہبی رہنماؤں کاشکریہ ادا کیا گیا ہے ، وزیراعظم کے مشیر علامہ طاہر اشرفی کا علماء کرام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ملک بھر میں سانحہ سیالکوٹ کی مذمت کی گئی ہے، توہین رسالت و توہین مذہب کا قانون موجود ہے کسی بھی فرد ، گروہ یا جماعت کو حق حاصل نہیں کہ توہین رسالت و توہین مذہب کے مجرم کو قتل یا نقصان پہنچائے کسی شکایت کی صورت میں قانون اور عدالت کا راستہ اختیار کیا جائیگا سیالکوٹ سانحہ سے اسلام اور پاکستان کی بدنامی ہوئی ہے چیف جسٹس آف پاکستان توہین رسالت و توہین مذہب کے مقدمات کا فوری ٹرائل کا حکم دیں،مقدمات میں تاخیر سے شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں

    قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ، سیالکوٹ واقعہ پرکی مذمت

    واضح رہے کہ توہین مذہب ،قرآن کا مبینہ الزام لگا کر غیر ملکی شہری کو جلا گیا گیا ،واقعہ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور سے 132 کلو میٹر دور سیالکوٹ کی تحصیل اگوکی میں پیش آیا جہان‌ایک فیکٹری میں جنرل منیجر کے طور پر کام کرنے والے ملازم کو قرآن مجید کی مبینہ بے حرمتی کے الزام میں عوامی ہجوم نے تشدد کر کے قتل کیا بعد ازاں اسکی لاش کو آگ لگا دی گئی فیکٹری کے مالک کا کہنا ہے کہ پرانتھا کمارا کےحوالے سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی تھی، جب اس معاملےکی اطلاع ملی تب تک پرانتھا کمارا ہجوم کے ہتھے چڑھ گیا تھا پولیس کو تقریباً صبح پونے گیارہ بجے اطلاع دی تھی، جب پولیس پہنچی تو نفری کم تھی، پولیس کی مزید نفری پہنچنے سے پہلے پرانتھا ہلاک ہوچکا تھا۔فیکٹری مالک نے بتایا کہ پرانتھا کمارا نے 2013 میں بطور جی ایم پروڈکشن جوائن کیا تھا، پرانتھا کمارا محنتی اور ایماندار پروڈکشن منیجر تھے

    مقتول سری لنکن منیجر کی اہلیہ کا پہلا بیان:وزیراعظم عمران خان ہمیں‌ انصاف چاہیے

    بے بنیاد اور وحشیانہ قتل کب بند ہوں گے:صوفیہ مرزا بھی چُپ نہ رہ سکیں‌

    یقین سے کہتا ہوں کہ عمران خان ذمے داروں کوکٹہرے میں لائیں گے،سری لنکن وزیراعظم کی…

    سیالکوٹ واقعہ کی ابتدائی رپورٹ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش :مذہبی انتہا…

    سیالکوٹ میں افسوسناک واقعہ: لوگوں کو اشتعال دلانے والا دوسرا ملک دشمن،اسلام دشمن…

    سیالکوٹ واقعہ کی ابتدائی رپورٹ پیش،گرفتار افراد میں سے 13اہم ملزمان کی تصاویر جاری

    صفائی ستھرائی کے لیے جس سپروائزر کی پریانتھا نے سرزنش کی اسی نے ورکرز کو اشتعال دلایا، پولیس رپورٹ

    سانحہ سیالکوٹ، سری لنکن حکومت کیا چاہتی ہے ؟ وزیر خارجہ نے بتا دیا

    اس دن میرا جذبہ تھا کہ…ملک عدنان نے وزیراعظم ہاؤس میں دل کی بات بتا دی

    پریانتھا کمارا کی نعش کی بے حرمتی کرنے والا ملزم عدالت پیش

  • نوکری کے بہانے خاتون سے زیادتی کرنیوالے جج کو جیل بھجوا دیا گیا

    نوکری کے بہانے خاتون سے زیادتی کرنیوالے جج کو جیل بھجوا دیا گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نوکری کے بہانے خاتون سے پیسے بٹورنے والے اور بعد ازاں زیادتی کرنیوالے جج کو جیل بھجوا دیا گیا

    جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں سول جج کو پیش کیا گیا، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، پولیس نے جج کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تا ہم عدالت نے سینئر سول جج کا جوڈیشل ریمانڈ دے دیا، جس کے بعد سینئر سول جج کو جیل منتقل کر دیا گیا ہے

    سینئر سول جج تیمرگرہ جمشید کنڈی ریپ کے الزام میں گرفتارکئے گئے تھے، واقعہ کا تھانہ بلامبٹ میں مقدمہ درج کیا گیا ہے متاثرہ لڑکی نے پولیس تھانہ میں تحریری شکایت درج کرائی تھی ، ڈی ایچ کیو تیمرگرہ میں لڑکی کا طبی معائنہ کیا گیا جج نے لڑکی سے نوکری دینے کیلئے مبینہ پندرہ لاکھ روپے لئے تھے ،میڈیکل رپورٹ میں زیادتی کی تصدیق کے بعد ضلع دیر میں لڑکی سے مبینہ زیادتی کیس میں ملوث سینئر جج گرفتار کر لیا گیا،ڈی پی او لوئر دیر کا کہنا ہے کہ متاثرہ لڑکی کی شکایت پر ایف آئی آر درج کی گئی، جج زیر حراست ہے،

    متاثرہ لڑکی کا کہنا ہے کہ ملزم نے بہن کی ملازمت کا جھانسہ دیکر لاکھوں روپے زیورات لیے تھے،زیورات واپس کرنے کے بہانے اپنے ساتھ گھر لے گیا،کہا نوکری کا معاملہ میرے ہاتھ سے نکل گیا، میرے ساتھ چلو اور سامان واپس لے لو،جمشید کنڈی مجھے سرکاری بنگلہ میں لے آئے اور مجھے کہا کہ میری جنسی خواہش پوری کرو، میں نے انکار کیا تو میرے ساتھ زبردستی زنا بالجبر کیا ،زیورات اور رقم بھی واپس نہیں کی،پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر کے جمشید کنڈی کو گرفتار کر لیا،

    دوسری جانب ضلع دیر میں خاتون سے مبینہ زیادتی کے الزام میں گرفتار سینئر سول جج معطل کر دیا گیا ہے،رجسٹرار پشاورہائیکورٹ کا کہنا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے عدالت قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے،

    واضح رہے کہ نوکری کا جھانسہ دے کر خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، پنجاب میں بھی ایسے بے شمار واقعات ہو رہے ہیں،کئی واقعات رپورٹ نہیں ہوتے،عزت کی خاطر خواتین چپ کر جاتی ہیں بہت کم خواتین حق کے لئے آواز اٹھاتی ہیں،لاہور میں بھی ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا، اچھرہ کی رہائشی چار بچوں کی ماں کو ملزم عمران نے نوکری ک جھانسہ دیکر بلایا، متاثرہ خاتون کے مطابق ملزمان نے کیری ڈبہ میں بٹھا کر نشہ آور بوتل پلائی اور نامعلوم جگہ پر لے گئے۔ متاثرہ خاتون کا کہنا تھا کہ تین دن تک ملزم عمران سمیت تین ملزمان اسے زیادتی کا نشانہ بناتے رہے اور تین روز بعد مانگا منڈی مین روڈ پر بے یار و مددگار پھینک دیا۔

    @MumtaazAwan

    فحاشی کے اڈے پر چھاپہ، پولیس کو ملیں صرف خواتین ،پولیس نے کیا کام سرانجام دیا؟

    جادو سیکھنے کے چکر میں بھائی کے بعد ملزم نے کس کو قتل کروا دیا؟

    پولیس کا ریسٹورنٹ پر چھاپہ، 30 سے زائد نوجوان لڑکے لڑکیاں گرفتار

    واٹس ایپ پر محبوبہ کی ناراضگی،نوجوان نے کیا قدم اٹھا لیا؟

    غیرت کے نام پر سنگدل باپ نے 15 سالہ بیٹی کو قتل کر دیا

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    یہ ہے لاہور، ایک ہفتے میں 51 فحاشی کے اڈوں پر چھاپہ،273 ملزمان گرفتار

    طالبعلم کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا قاری گرفتار،قبرستان میں گورکن کی بچے سے زیادتی

    نوکری کا جھانسہ دیکر لڑکی کے ساتھ مبینہ زیادتی کرنیوالا جج گرفتار

  • امریکی جیل میں 43 سال سے قید بے گناہ شخص کو رہائی مل گئی

    امریکی جیل میں 43 سال سے قید بے گناہ شخص کو رہائی مل گئی

    میسوری: امریکی جیل میں 43 سال سے قید بے گناہ شخص کو بالآخرآزادی کا پروانہ مل گیا-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق کے وِن اسٹرک لینڈ کی عمر اس وقت 62 برس ہے اور اسے میسوری کے شہر کیمرون میں واقع ایک جیل میں رکھا گیا تھا۔ 1979 میں اس پر تین افراد کے قتل کا الزام عائد کیا گیا تھا اس کے پاداش میں 50 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ لیکن اس پورے عرصے میں کے وِن نے بار بار کہا کہ وہ بے قصور ہیں اور اعترافِ جرم نہ کیا۔

    برطانیہ میں طوفان “آرون” نے تباہی مچا دی،ایک لاکھ سے زائد گھر بجلی سے محروم

    رہا ہونے کے بعد کیون نے کہا کہ وہ اپنی ماں کی قبر پر جائیں گے جو دورانِ قید انتقال کرگئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ قبر پر وہ آنسو بہاکر اپنی والدہ کو بے گناہی کا ثبوت دیں گے۔

    دودن قبل امریکی جج نے اس پر لگے تمام الزامات رد کرکے اسے باعزت بری کردیا اور کہا کہ میسوری ریاست کی تاریخ میں غلطی سے قید کا سب سے طویل ترین دورانیہ بھی ہے اس کے بعد ایک تنظیم نے انٹرنیٹ چندے کی ویب سائٹ ’گوفنڈمی’ اس کے لیے عطیات کی درخواست کی اور اب تک نولاکھ ڈالر (یعنی 17 کروڑ پاکستانی روپے) سے زائد کی رقم جمع ہوچکی ہے

    سابق فرانسیسی وزیر کو ریپ اور ہراسانی کے نئے مبینہ الزامات کا سامنا


    چندہ دینے والوں نے کیون سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور بہتر زندگی کے لیے نیک خواہشات کی دعا کی ہے جیل انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک ان کی کوئی مالی مدد نہیں کی گئی ہے لوگوں نے دل کھول کر عطیات جمع کرائے اور ایک شخص نے نام نہ ظاہر کرتے ہوئے آٹھ ہزار ڈالر کی رقم جمع کرائی-

    چین میں زیرتعلیم پاکستانی اسٹوڈنٹس کا مستقبل ؟؟؟ بقلم:ڈاکٹر زاہد جٹ

    واشنگٹن ڈی سی سمیت 36 امریکی ریاستوں میں غلطی سے سزا پانے والوں کو ہرجانہ دینے کا قانون ہے اس کے تحت ایک سال قید کے لیے کم ازکم 50 ہزارڈالر اور دیگر رقم بھی شامل ہے۔

    برطانیہ میں پاکستانی نوجوان نے نوکری کی تلاش کیلیے انوکھا طریقہ اپنا لیا

  • ڈیڑھ ماہ بعد اسیران سے ملاقات کی اجازت

    ڈیڑھ ماہ بعد اسیران سے ملاقات کی اجازت

    قصور
    ڈیڑھ ماہ بعد ڈسٹرکٹ جیل قصور میں لواحقین کو اسیران سے ملاقات کی اجازت مل گئی

    تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت نے لواحقین کو اسیران کی ملاقات کی اجازت دے دی جس کے بعد سپرنٹنڈنٹ غلام۔سرور سمرا نے ڈسرکٹ جیل قصور میں ڈیڑھ ماہ بعد لواحقین کو اسیران سے ملاقات کرنے کی اجازت دے ہے
    تاہم سپرنٹنڈنٹ جیل کا کہنا ہے کہ اسیران سے ملاقات کے لئے شیڈول کے مطابق آنے کی اجازت ہو گئی اور عملہ جیل کو کہا کہ
    زبانی وائرلس احکامات پر فوری اسیران کی ملاقات کروائی جائے اور حکومتی جاری کردہ ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے

  • تھانہ گوگیرہ پولیس کی نااہلی دو ملزمان حوالات سے فرار، ایس ایچ او سمیت پانچ افراد معطل

    تھانہ گوگیرہ پولیس کی نااہلی دو ملزمان حوالات سے فرار، ایس ایچ او سمیت پانچ افراد معطل

    اوکاڑہ(علی حسین) تھانہ گوگیرہ پولیس کی نااہلی کیوجہ سے دو ملزمان حوالات توڑ کر فرار ہوگئے۔ فرار ہونیوالے ملزمان میں نثار اور اظہر شامل ہیں جو تاحال گرفتار نہیں ہوسکے۔ پولیس کے مطابق مفرور ملزمان چوری کی کئی وارداتوں میں ملوث ہونیکی وجہ سے گرفتار ہوئے لیکن گزشتہ رات موقع پاکر حوالات سے فرار ہوگئے۔ ڈی پی او اوکاڑہ عمرسعید ملک نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تھانہ گوگیرہ کے قائم مقام ایس ایچ او ملک ارشد، انویسٹی گیشن انچارج، محرر و نائب محرر اور دو پولیس کانسٹیبل کو معطل کردیا۔

  • ذہنی مریض قیدیوں کیلئے سہولت

    ذہنی مریض قیدیوں کیلئے سہولت

    قصور
    ڈی آئی جی جیل خانہ جات کا دورہ قصور جیل
    ڈی آئی جی جیل خانہ جات پنجاب ملک مبشر احمد خان نے ڈسٹرکٹ جیل قصور میں ذہنی ، نفسیاتی اور منشیات کے عادی اسیران کی بحالئ نو اور علاج معالجہ کے لیے بیس بیڈوں کے نیو ہسپتال بلاک اور اسیران کی تعداد کے مطابق انکے رہنے کی گنجائش کو بڑھانے کے لیے نئی بیرکس کیلئے مختص کی گئی جگہ کا معائنہ کیا ۔ ڈی آئی جی صاحب کے ہمراہ سپرٹینڈنٹ جیل غلام سرور سمرا صاحب ، ڈپٹی سپرٹینڈنٹ جیل ملک سرفراز احمد ، ڈپٹی سپرٹینڈنٹ ڈویلپمنٹ حقنواز صاحب، ایکسین بلڈنگ چودھری ارشد ، ایس ڈی او بلڈنگ مظفر منڈ ، آرکیٹیکچر بلڈنگ اور ہوم ڈیپارٹمنٹ کی ڈویلپمنٹ ٹیم بھی ہمراہ تھی ۔ڈی آئی جی صاحب نے تمام ٹیم کو منصوبے کی جلد از جلد تکمیل کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ہدایات دیں تاکہ گورنمنٹ آف پنجاب کے اسیران کی فلاح و بہبود اور معاشرے کا ذمہ دار شہر ی بنانے کے وزن کی تکمیل ہو سکے ۔

  • بلوچستان کی جیلیں کرونا وائرس کا گڑھ بن گئیں ، تحریر شفیق الرحمان

    بلوچستان کی جیلیں کرونا وائرس کا گڑھ بن گئیں ، تحریر شفیق الرحمان

    کورونا وائرس اور قیدی ، تحریر شفیق الرحمان

    کورونا وائرس کے بڑھتے خطرات کے سبب دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیمیں حکومتوں کو اس خطرے کا ادراک کروانے کے لیے بھرپور زور ڈال رہی ہیں کہ جیل کے معمولات اس نوعیت کے ہوتے ہیں کہ جہاں ممکن ہی نہیں ہے کہ کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنا ممکن ہو تبھی ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ برطانیہ یورپ چین اور ایران سمیت اکثر ممالک میں جیل میں وائرس پھیلنے کی اطلاعات کنفرم ہوچکی ہیں اور حکومتیں مجبور ہوئیں کہ اس غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے کے لیے غیرمعمولی اقدامات اٹھائے جائیں۔ بڑی تعداد میں قیدیوں کی رہائی کے اعلانات سامنے آ ئے ہیں اس سارے منظرنامے کا اثر اگر ہم پاکستان میں دیکھیں تو بلوچستان صوبے کے علاؤہ باقی صوبوں میں کچھ سنجیدگی تو دکھائی دیتی ہے لیکن بلوچستان کا معاملہ حیران کن حد تک خطرناک دکھائی دیتا ہے۔ بہ ظاہر اسکا سبب ایک محکمے کے کرپٹ افسران ہیں جو کرپشن کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ، اس موقع پر بھی اس آگ سے کھیل رہے ہیں جو خود انہیں بھی جلا سکتی ہے۔ دنیا بھر میں غور و فکر ہورہی ہے قانونی پیچیدگیوں کو دور کرنے کی تاکہ قیدیوں کو حتی الامکان ریلیف مل سکے لیکن بلوچستان میں جیل محکمے کی جانب سے پچھلے چند ماہ میں لاتعداد ایسے اقدامات اٹھائے گئے ہیں جنکا مقصد اس ریلیف کو بھی ختم کرنا ہے جو پہلے سے حاصل تھے اسکی مثال بالکل ایسے ہی ہے جیسے کبھی کبھار حکومت ایک روپے پٹرول کی قیمت بڑھا کر بعد میں پچیس پیسے کم کرنے کا ڈھنڈورا پیٹتی ہے۔ بلوچستان میں قیدیوں کو امتحانات پاس کرنے پر معافیاں دی جاتی ہیں لیکن حال ہی میں آئی جی جیل خانہ جات کے نئے حکمنامے کے مطابق براہوی ادیب کا امتحان ختم کردیا گیا ، جو قیدی امتحانات دے چکے تھے انکی معافی منسوخ ہوگئی ۔ جبکہ اسکے علاوہ قیدیوں کے امتحانات کے رزلٹ کارڈ سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود آئی جی آفس میں پڑے ہیں اور آئی جی صرف انہی کے رزلٹ کارڈ پر سائن کررہا ہے معافی کے لیے جو رشوت دیں یا پھر جن کے پاس وزراء کی سفارش ہو۔ اس مسئلے کے سبب کویٹہ جیل میں قیدیوں نے احتجاج کیا جسکو میڈیا میں غلط تاثر دے کر انکے خلاف ظالمانہ آ پریشن کیا گیا ، انکا ضرورت کا سارا لوٹ لیا گیا ۔ کئی دہائیوں سے جیل میں یہ روٹین رہی تھی کہ قیدی اپنے خرچے پر اپنا کھانا تیار کرتے تھے جسکی وجہ جیل کی مضر صحت اور ناقص غذا تھی جو کسی طور بھی کھانے کے قابل نہ تھی۔ آپریشن میں قیدیوں کی کھانا پکانے کی سہولت ختم کردی گئی اور انہیں پابند کیا گیا کہ وہ وہی مضر صحت جیل کا ہی کھانا کھائیں۔ جبکہ جیل کے بااثر اور امیر قیدی پانچ سو اور ہزار روپے کے عوض گوشت وغیرہ منگوالیتے ہیں یہ رقم بطور لانے کی فیس ہوتی ہے علاؤہ گوشت کی قیمت کے۔ کیا اس طریقہ کار پر ایک عام آدمی جیل میں کھانے پینے کا خرچ اٹھا سکتا ہے؟ کرونا وائرس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان افراد کے اس وائرس میں مبتلا ہونے کے چانسز زیادہ ہوتے ہیں جو جسمانی طور ہر کمزور ہوں۔ اب جیل انتظامیہ قیدیوں کی خوراک کے معاملے میں ایسی غیر انسانی پابندی لگا کر کیا قیدیوں کو جسمانی طور پر کمزور اور بیمار بنانا چاہتی ہے تاکہ وائرس پھیل سکے ؟
    یہ بھی وضاحت کرتے چلیں کہ جیل محکمے کے پاس قیدیوں کی سزا میں ردوبدل کرنے کے چور راستے بہت سے ہیں ، جن قیدیوں کو جرمانہ بھی ادا کرنا ہوتا ہے انکو جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں جو سزا کاٹنی ہوتی ہے وہ بھی کٹوانے کے بعد قیدیوں کو بتاتے ہیں کہ اب آپکی سزا پوری ہوچکی ہے اب آپ جرمانہ جمع کرواؤ ۔ وہ جو جرمانہ جمع کرواتا ہے وہ جیل محکمہ کے کرپٹ افسران کی جیب میں جاتا ہے اور کاغذات میں ظاہر کیا جاتا ہے کہ قیدی نے جرمانہ جمع نہ کیا بلکہ مزید قید کاٹی۔ اس مد میں کئی دہائیوں سے حکومت پاکستان کو اربوں روپوں کا نقصان پہنچایا جاچکا ہے۔کورونا وائرس کے حوالے سے بھی جیل محکمہ نے نہ صرف غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا بلکہ بعض معاملات میں تو یوں دکھائی دیتا ہے کہ انکی بھرپور کوشش ہے کہ جیل میں وائرس پھیل جائے ۔
    بلوچستان کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد جیلوں کی capacity سے زیادہ نہیں ہے لیکن محکمہ کامجرمانہ کردار ہے کہ بیرکوں میں مصنوعی overcrowding کی گئی ہے۔
    سینٹرل جیل مچھ میں بھی اسوقت چار بارکیں جو قدرے صاف ستھری تھیں وہاں سے قیدیوں کو نکال کر پہلے سے فل دوسری بارکوں میں ٹھونس دیا گیا حالانکہ یہ بارکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں جگہ تنگ ہے باتھ روم ٹوٹے اور گندے ہیں ۔ ان اقدامات سے بہ ظاہر یہی لگتا ہے کہ جیل حکام نے کورونا وائرس کو قطعاً سنجیدگی سے نہیں لیا۔ تاحال کوئی بھی اہلکار ماسک نہیں لگاتا ۔

    باوجود بارکیں خالی ہونے کے، قیدیوں کو چند بارکوں میں ٹھونس کر رکھنے کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ جیل حکام قیدیوں کی زندگی اتنی مشکل بنانا چاہتے ہیں کہ وہ پھر چھوٹی چھوٹی سہولت کے لیے منہ مانگی رشوت دینے کو تیار ہوجائیں۔

    امتحانات کی معافیاں جو کئی دہائیوں سے لگ رہی تھی اسے روکنے اور اسکے علاوہ بھی ممکنہ حکومتی اقدامات کے سبب ملنے والے ریلیف کو عملی طور پر ختم کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جیل حکام کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ جیل میں قیدیوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ ہو، کیونکہ جتنے زیادہ قیدی ہونگے اتنا ہی انہیں فنڈ زیادہ ملے گا اور خوردبرد کے مواقع بھی زیادہ ہوں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ ادارے نیب ، اور اعلی عدلیہ مذکورہ بالا معاملات کا نوٹس لے اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کروائے تاکہ جیلیں جنکا بنیادی مقصد قیدیوں کی اصلاح ہے عملی طور پر اصلاحی مراکز بن بھی سکیں ۔ ورنہ موجودہ حالات میں تو ایک قیدی یا تو ذہنی مریض بنے گا یا وہ منشیات کی لت میں مبتلا ہو جائے گا یا خدانخواستہ کوئی مجرم بن کر نکلے گا کیونکہ عمر قید کی سزا میں اسکا وقت ایسا گزرا ہوگا جس میں ایک ایک دن ذلت آمیز رویوں سے سامنا ہوا ہوگا ۔
    دوسری طرف سنٹرل جیل ژوب
    سے کچھ قیدیوں کو دور سنٹرل جیل مچھ بھیج دیا گیا جسمیں پشین۔ خانوزئی ۔ مسلم باغ ۔ قلعہ سیف اللہ ۔ لورالائی ۔سنجاوی ۔دوکی ۔ بارکھان ۔کولوں ۔رکنی اور ژوب کے قیدی شامل تھے قیدیوں کے اپنوں نے بتایا کہ سیکورٹی کی بنیاد پر ان قیدیوں کو 800 سو کلو میٹر دور سنٹرل جیل مچھ منتقل کیا گیا لیکن ایک آفیسر نے نام نا ظاہر کرنے پر بتایا کہ دراصل آئی جی جیلخانہ جات سپرنٹنڈنٹ سنٹرل جیل ژوب سے ماہانہ 50000 روپے مانگ رہا تھا جبکہ سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ قیدی کم ہے اتنی رقم میں نہیں دے سکتا
    اسلئے قیدیوں کو مچھ شفٹ کیا گیا جبکہ اس وقت سنٹرل جیل ژوب کی تعداد 25/30 ہے اور جگہ 300 سو قیدیوں کی ہے
    کورونا یا دیگر بیماری کیوجہ سے جاگیردار ۔امیر ۔ منسٹر کیلئے میڈیا بات کرسکتی ہے لیکن غریب کیلئے نہیں یہود نصاریٰ میں بھی یہی تھا کہ کسی شہزادے کیلئے سزا میں ترمیم کرتے اور غریب کو سزا دیتے تو آج وہ یہودی اور ہم مسلمان کیسے ؟

  • جیل کا دورہ کوئی کیس مثبت نہیں

    جیل کا دورہ کوئی کیس مثبت نہیں

    قصور ڈپٹی کمیشنر قصور حنا ارشد کا ڈسڑکٹ جیل کا دورہ
    تفصیلات کے مطابق ڈی سی قصور حنا ارشد نے کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے ڈسٹرکٹ جیل قصور میں حفاظتی اقدامات چیک کیے اور
    دوران وزٹ سپرٹنڈنٹ جیل غلام سرور سمرا ،ملک سرفراز ،حق نواز بھی ان کے ہمراہ تھے
    جیل ہذا میں کرونا کا کوئی بھی کیس مثبت نہیں ہے غلام سرور سمرا نے ڈی سی قصور کو بری

  • رانا ثناءاللہ کو جیل کا کھانا ہی ملے گا

    رانا ثناءاللہ کو جیل کا کھانا ہی ملے گا

    لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی کی مجھے جیل مین گھر کا کھانا کھانے کی اجازت دی جائے،
    رانا ثنا اللہ کی درخواست پر آج لاہور ہایکورٹ میں سماعت ہوئی اور عدالت نے اس درخواست کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا ہے یہ معاملہ دیکھنا جیل سپرانٹنڈنٹ کا کام ہے لہٰذا یہ معاملہ جیل سپرانٹنڈنٹ کو بھیجا جاتا ہے اور ہدایت کی جاتی ہے کہ معاملے کو دیکھا جائے،