Baaghi TV

Tag: جیمز ویب ٹیلی سکوپ

  • جیمز ٹیلی اسکوپ نےستارے کی پیدائش کیمرے میں محفوظ کرلی

    جیمز ٹیلی اسکوپ نےستارے کی پیدائش کیمرے میں محفوظ کرلی

    امریکی خلائی ادارے ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے ایک ستارے کے بننے کے عمل کی تصویر کھینچی ہے۔

    باغی ٹی وی :امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے اس تصویر کو جاری کیا گیا جس میں ستارے کے سفر کے دوران خارج ہونے والی متعدد گیسوں کو دکھایا گیا ہے گیسوں کا یہ امتزاج اس وقت نظر آتا ہے جب نئے بننے والے ستارے تیز رفتاری سے گیس اور گرد ٹکراتے ہیں،زمین سے ایک ہزار نوری برسوں کے فاصلے پر واقع اس ستارے کو Herbig-Haro 211 کا نام دیا گیا ہے۔
    https://x.com/NASA/status/1702367051719889338?s=20

    پرویز الٰہی ایک روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کی اس دریافت سےسائنسدانوں کو اس طرح کے ٹکراؤ سے پیدا ہونے والی شاک ویوز کی رفتار اور سمت کے بارے میں جاننے کا موقع ملے گا ناسا کے مطابق Herbig-Haro 211 بتدریج سورج جیسا ستارہ بن جائےگا،جیمز ویب کے انفرا ریڈ کیمرے نے اس ستارے کے درجہ حرارت کو جاننے کا موقع فراہم کیا اور اس طرح محققین شاک ویوز کا ڈیٹا اکٹھا کرنے میں کامیاب ہوئے۔

    نامورمیڈیا گروپ کا مالک جعلی ہاؤسنگ سوسائٹی اور منی لانڈرنگ میں ملوث،7 ارب روپے برآمد

    واضح رہے کہ جیمز ویب دنیا کی طاقتور ترین ٹیلی اسکوپ ہے اور اس کی مدد سے سائنسدان اب تک اربوں سال پرانی کہکشاؤں کا ڈیٹا اکٹھا کر چکے ہیں جبکہ اس نے ہمارے نظام شمسی کے سیاروں کی حیران کن تصاویر بھی کھینچی ہیں۔

  • جیمیز ویب ٹیلی اسکوپ نے سُپر سائز کا ایک بلیک ہول دریافت کر لیا

    جیمیز ویب ٹیلی اسکوپ نے سُپر سائز کا ایک بلیک ہول دریافت کر لیا

    جیمیز ویب ٹیلی اسکوپ نے سُپر سائز کا ایک بلیک ہول دریافت کرلیا ہے جو آج سے 13 ارب سال پہلے وجود میں آیا۔

    باغی ٹی وی: امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق اس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے دریافت ہونے والا یہ اب تک کا قدیم ترین بلیک ہول ہے، جو ایک انتہائی عمر رسیدہ کہکشاں کی گہرائی میں واقع ہے یہ کہکشاں بِگ بینک کے 570 ملین سال بعد وجود میں آئی۔ اس سُپر سائز بلیک ہول کا حجم ہمارے سورج سے کوئی 9 ملین گنا پڑا ہے۔

    جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کی مدد سے 2 دیگر بیلک ہولز اور 11 نئی کہکشائیں بھی دریافت ہوئی ہیں ایکٹو بلیک ہول جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے بگ بینگ سے 570 ملین سال بعد بننے والی CEERS 1019 نامی گیلکسی کی گہرائیوں میں دریافت کیا گیا ہے۔

    2023 سے 2027 تک کا عرصہ دنیا کی تاریخ کا گرم ترین دورریکارڈ ہوگا،اقوم متحدہ

    ناسا سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کی مدد سے اب تک کی دریافتوں اور مستقبل کی امکانی دریافتوں کے بعد ستاروں اور کہکشاؤں کو بننے اور فنا ہونے کے بارے میں مزید گھری معلومات حاصل ہو سکے گی اور ممکن ہے کہ اس سے فلکیات کے تحقیقی مطالعات کیلئے ہماری سوچنے اور سمجھنے کے طریقے ہی تبدیل ہو جائیں-

    قبل ازیں جیمز ویب ٹیلی اسکوپ سے لی گئی کائنات کی پہلی رنگین تصویر 12 جولائی 2022 کو جاری کی تھی جیمز ویب کی جانب سے تصاویر کھینچنے کے سلسلے کو ایک سال مکمل ہونے پر ناسا کی جانب سے اب تک کی ایک بہترین تصویر اور ویڈیو جاری کی گئی ہے۔

    واٹس ایپ نے بھارت میں مزید 65 لاکھ واٹس ایپ اکاؤنٹس پر پابندی لگادی


    اس تصویر میں سورج جیسے ستاروں کو جنم لیتے دکھایا گیا ہے جبکہ ویڈیو میں 50 ننھے ستاروں کو ایک بادل میں دکھایا گیا ہے،یہ تصویر اور ویڈیو زمین سے 390 نوری برسوں کے فاصلے پر واقع مقام Rho Ophiuchi کی ہےخلا کا یہ حصہ گیسوں اور گرد سے جگمگا رہا ہے جو کہ مزید ستاروں کے آغاز کی جانب اشارہ ہے۔

    ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے ویڈیو کو ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ستاروں کی پیدائش کو دیکھیں،ناسا کی ایک اور عہدیدار پامیلا میلوری نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ایک سال ہوگیا اور ایڈونچر تو ابھی شروع ہوا ہے۔

    ویڈیو اور تصویر میں دکھائے جانے والے ستارے ہمارے سورج سے زیادہ بڑے نہیں اور سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ اس سے ایک ستارے کی زندگی کے ابتدائی مرحلے کی واضح عکاسی ہوتی ہے ناسا کے مطابق ہمارا سورج بھی بہت پہلے اس مرحلے سے گزرا تھا اور اب ہمارے پاس کسی ستارے کی کہانی کے آغاز کو دیکھنے کی ٹیکنالوجی موجود ہے۔

    کائنات کے دو بڑے معموں کا مشاہدہ کرنے یوکلیڈ ٹیلی سکوپ روانہ

  • 40 نوری سال کے فاصلے پر15کروڑ سال قبل وجود میں آنیوالا نیا سیارہ دریافت

    40 نوری سال کے فاصلے پر15کروڑ سال قبل وجود میں آنیوالا نیا سیارہ دریافت

    ناسا کی 10 ارب ڈالرز کی لاگت سے بنائی جانے والی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے ایک ایسا سیارہ دریافت کیا ہے-

    باغی ٹی وی: ناسا کے سائنسدانوں کے مطابق جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے زمین سے تقریباً 40 نوری سال کے فاصلے پر موجود VHS 1256b کا مشاہدہ کیا ہے سائنس دانوں کا دعویٰ ہے کہ فلکیات کی تاریخ میں اس سے قبل ایسا سیارہ نہیں دیکھا گیا ہے 815 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت رکھنے والے اس سیارے کا ماحول گرم مٹی کے بادلوں پر مشتمل ہے جو مستقل ابھرتے ہیں، ملتے ہیں اور 22 گھنٹے کے دن کے دوران حرکت میں رہتے ہیں۔


    یونیورسٹی آف ایریزونا کی برِٹنی مائلز کی رہنمائی میں کام کرنے والی سائنس دانوں کی ٹیم نے ٹیلی اسکوپ سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی مدد سے سیارے میں صاف پانی، میتھین اور کاربن مونو آکسائیڈ کی شناخت بھی کی۔ سیارے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی موجودگی کے شواہد بھی ملے ہیں۔


    صرف 15 کروڑ سال قبل وجود میں آنے والے اس سیارے کے متعلق سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اس کی کم عمری بتاتی ہے کہ اس سیارے کاآسمان اتنا طوفانی کیوں ہے۔


    یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سانتا کروز سے تعلق رکھنےوالے تحقیق کے شریک مصنف اینڈریو اسکیمر کے ایک بیان کے مطابق کسی دوسری ٹیلی اسکوپ نے آج تک ایک جِرم میں بیک وقت اتنی خصوصیات کی نشان دہی نہیں کی ہے۔

  • جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کی دریافت شدہ کہکشائیں،جو سائنسدانوں کے مطابق ہونی ہی نہیں چاہیے تھیں

    جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کی دریافت شدہ کہکشائیں،جو سائنسدانوں کے مطابق ہونی ہی نہیں چاہیے تھیں

    امریکی خلائی ادارے ناسا کی خلا میں بھیجے جانے والی جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے 6 اتنی بڑی قدیم کہکشائیں دریافت کی ہیں جو سائنسدانوں کے مطابق ہونی ہی نہیں چاہیے تھیں۔

    باغی ٹی وی: سائنسی جرنل نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق امریکا کی کولوراڈو بولڈر یونیورسٹی کے زیرتحت بین الاقوامی ماہرین کی ٹیم نے ایک تحقیق کے دوران ان کہکشاؤں کو دریافت کیا۔

    تحقیق میں بتایا گیا کہ ہر کہکشاں 13 ارب سال سے زیادہ پرانی ہے یعنی یہ بگ بینگ کے 50 سے 70 کروڑ سال بعد تشکیل پائی تھیں یہ کہکشائیں توقعات سے بھی زیادہ بڑی ہیں کیونکہ ہمارا ماننا تھا کہ بگ بینگ کے بعد جب کائنات پھیلنا شروع ہوئیں تو آغاز میں کہکشاؤں کا حجم بھی چھوٹا ہوگا۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ مگر یہ کہکشائیں ہمارے ملکی وے جتنی بڑی ہے اور ہم نے کبھی توقع نہیں کی تھی کہ کائنات کی ابتدا میں اس طرح کی کہکشائیں بن سکتی تھیں اور یہ دریافت ہمارے سائنسی نظریات کو بدلنے کا باعث بن سکتی ہے کائنات کی ابتدا کے 99 فیصد ماڈلز کے مطابق اتنی بڑی کہکشاؤں کا وجود میں آنا ناممکن تھا۔

    محققین نے بتایا کہ ان نئی کہکشاؤں میں سورج کے حجم کے کھربوں ستارے موجود ہو سکتے ہیں جب ہمیں ڈیٹا ملا تھا اور ان کا تجزیہ کیا تو ہمیں بہت زیادہ بڑے اور روشن 6 سرخ ڈاٹ نظر آئے اور ابتدا میں ہمیں لگا کہ کوئی غلطی ہوئی مگر پوری کوشش کے باوجود ہم کوئی غلطی ڈھونڈ نہیں سکے۔

    مگر انہوں نے تسلیم کیا کہ ایسا بھی ممکن ہے کہ ہم نے درحقیقت کچھ بالکل مختلف دیکھا ہو اور سمجھ نہ سکے ہوں یہی وجہ ہے کہ محققین اس حوالے سے تحقیق کو مزید آگے بڑھائیں گے۔

  • کائنات کی ابتدا میں موجود ہماری کہکشاں سے مشابہ کہکشائیں دریافت

    کائنات کی ابتدا میں موجود ہماری کہکشاں سے مشابہ کہکشائیں دریافت

    آسٹن: ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے سائنسدانوں نے کائنات کی ابتدا میں ایسی کہکشائیں دریافت کی ہیں جو حیران کن حد تک ہماری کہکشاں ملکی وے سے مشابہ ہیں۔

    باغی ٹی وی: امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر آسٹن میں قائم یونیورسٹی آف ٹیکساس کے پروفیسر اسٹیون فِنکلسٹائن کی رہنمائی میں کیے جانے والے فلکیاتی سروے میں سائنسدانوں نے ایسی کہکشائیں دریافت کیں جن میں ’اسٹیلر بار‘ موجود ہیں اسٹیلر بار سلاخوں کی ایک لمبی پٹی ہوتی ہے جو کہکشاؤں کے درمیان سے کناروں تک جاتی ہے۔

    چاند سے زمین کے طلوع ہونے کا منظر کیسا ہوتا ہے؟ناسا نے ویڈیو جاری کر دی


    محققین کے مطابق جن کہکشاؤں کی نشان دہی کی گئی ہے وہ اس وقت کی ہیں جب ہماری کائنات کی عمر اس کی موجودہ عمر کی ایک چوتھائی تھی ہماری ملکی وے کہکشاں کے جیسی ’بار کہکشاؤں‘ کی کائنات کے ابتدائی وقتوں میں دریافت سے کہکشاں کے ارتقاء کے متعلق نظریوں کو جدید کرنے کی ضرورت پڑے گی۔

    میں نے ان اعداد و شمار پر ایک نظر ڈالی، اور میں نے کہا، ‘ہم باقی سب کچھ چھوڑ رہے ہیں!’” آسٹن کی یونیورسٹی آف ٹیکساس میں فلکیات کی پروفیسر شردھا جوگی نے کہا ہبل ڈیٹا میں شاید ہی نظر آنے والی پٹیاں ابھی JWST امیج میں واضح ہوئیں، جو کہکشاؤں میں بنیادی ڈھانچے کو دیکھنے کے لیے JWST کی زبردست طاقت کو ظاہر کرتی ہیں-

    ٹیم نے ایک اور ممنوعہ کہکشاں، EGS-24268 ایک اور ’بار گیلیکسی‘ کی شناخت کی، جو کہ تقریباً 11 بلین سال پہلے کی ہے، جو کہ اب تک دریافت ہونے والی سب سے قدیم دو ’بار کہکشاؤں‘ میں سے ایک ہے۔

    ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نےزندگی کیلئے موافق سیاروں کا ایک جتھہ دریافت کر…

    جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ سے پہلے ہبل ٹیلی اسکوپ سے لی جانے والی ابتدائی دور کی تصاویر میں یہ پٹیاں واضح طور پر نہیں دیکھی گئیں تھیں۔ہبل ٹیلی اسکوپ سے لی جانے والی EGS-23205 نامی ایک کہکشاں کی تصویر میں صرف ایک سپاٹ دھبہ دِکھتا ہے جبکہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ سے لی گئی تصویر میں درمیان میں موجود ستاروں کی پٹی سمیت خوبصورت حلزونی کہکشاں دیکھی جاسکتی ہے۔

    ایک گریجویٹ طالب علم ” یوچن "کی” گو نے کہا کہ اس مطالعے کے لیے، ہم ایک نئے نظام کو دیکھ رہے ہیں جہاں اس سے پہلے کسی نے اس قسم کا ڈیٹا استعمال نہیں کیا تھا اور نہ ہی اس قسم کا مقداری تجزیہ کیا تھا لہذا سب کچھ ہے نئی. یہ ایک ایسے جنگل میں جانے جیسا ہے جس میں کبھی کوئی نہیں گیا تھا۔

    باریں کہکشاں کے ارتقاء میں مرکزی خطوں میں گیس کو بہا کر ستاروں کی تشکیل کو بڑھا کر اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

    ناسا نے چاند کی ایک نئی تصویر جاری کر دی

    جوگی نے کہا کہ باریں کہکشاؤں میں سپلائی چین کا مسئلہ حل کرتی ہیں۔ "جس طرح ہمیں بندرگاہ سے اندرون ملک فیکٹریوں تک خام مال لانے کی ضرورت ہے جو نئی مصنوعات تیار کرتی ہیں، اسی طرح ایک بار طاقتور طریقے سے گیس کو مرکزی علاقے میں منتقل کرتا ہے جہاں گیس تیزی سے نئے ستاروں میں تبدیل ہو جاتی ہے جس کی شرح عام طور پر 10 سے 100 گنا زیادہ ہوتی ہے۔

    باریں کہکشاؤں کے مراکز میں گیس کے راستے کے حصے کو جوڑنے کے ذریعے بڑے پیمانے پر بلیک ہولز کو بڑھانے میں بھی مدد کرتی ہیں۔