Baaghi TV

Tag: جینز

  • جی سی یونیورسٹی،طلبا و طالبات کے ٹی شرٹ،جینز پہننے پر پابندی

    جی سی یونیورسٹی،طلبا و طالبات کے ٹی شرٹ،جینز پہننے پر پابندی

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں جی سی یونیورسٹی نے نیا ڈریس کوڈ نافذ کیا ہے،طلبا و طالبات کے ٹی شرٹ ،جینز پہننے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے

    جی سی یونیورسٹی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ طالبعلم ڈریس شرٹس اور پینٹ پہنیں گے جبکہ طالبات باحیا کپڑے پہنیں گی،اس ضمن میں نوٹفکیشن جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق طالبات کا دوپٹا لینا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے،یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق ڈریس کوڈ پر عمل نہ کرنے والے طلبا کے خلاف کاروائی ہو گی

    20 اگست کو جاری کئے گئے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق، جی سی یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے طلباء کے لیے نئے ڈریس کوڈ کی منظوری دے دی ہے۔ اس نئی پالیسی کے تحت ہر طالب علم کو اپنا یونیورسٹی شناختی کارڈ ہر وقت کلاس روم اور کیمپس میں ظاہر کرنا ہوگا۔نوٹفکیشن میں کہا گیا ہے کہ طلباء سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ "یونیورسٹی کی اقدار کی عکاسی کرتے ہوئے، مہذب لباس پہنیں۔” "مرد طلباء کو ڈریس شرٹ اور جوتے پہننے کی ضرورت ہے، جبکہ طالبات کو دوپٹہ کے ساتھ معمولی لباس پہننا ہوگا۔” تمام انٹرمیڈیٹ طلباء کو جی سی یو یونیفارم مناسب طریقے سے پہننا چاہیے۔’کوئی بھی طالب علم جو ڈریس کوڈ کی پابندی نہیں کرتا ہے اسے یونیورسٹی کے احاطے میں چیک کیا جائے گا اور اس کے مطابق جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

    جی سی یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر شازیہ بشیر کا کہنا ہے کہ”طالبات بے ڈھنگے کپڑے پہن کر یونیورسٹی آجاتی ہیں، جامعات میں ڈسپلن قائم ہونا چاہیے،طالبات کا یونیورسٹی میں ٹی شرٹ، ٹائٹس پہننا نامناسب ہے، لڑکوں کو بھی اچھے کپڑے پہننے چاہیے، میں تنگ نظر نہیں مگر گورنمنٹ کالج کے لیے یہ فیصلہ ضروری ہے،

    مریم نواز تو شجر کاری مہم بھی کارپٹ پر واک کرکے کرتی ہے،بیرسٹر سیف

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

  • 145 ممکنہ جینز کی نشاندہی،جو بچوں کے قد میں اہم کردار ادا کرتے ہیں

    145 ممکنہ جینز کی نشاندہی،جو بچوں کے قد میں اہم کردار ادا کرتے ہیں

    سائنسدانوں نے نے ایسے 145 ممکنہ جینز کی نشاندہی کی ہے جو بچوں کے قد میں کردار ادا کرتی ہیں۔

    باغی ٹی وی: امریکا کی ہارورڈ میڈیکل اسکول اور بوسٹن چلڈرنز ہاسپٹل کی جرنل سیل جینومک میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ بچوں کی ہڈیوں کے آخر میں موجود لچکدار ہڈیاں کے خلیات قد و قامت میں کردار ادا کرتی ہیں۔

    مصر میں 3673 برس قبل کاٹے گئے انسانی ہاتھ برآمد

    تحقیق کے مطابق یہ خلیات کونڈروسائٹ ( chondrocytes) بچوں کی بڑی ہڈیوں کے آخر میں موجود ٹشوز میں ہوتے ہیں اور وہی بچوں اور نوجوانوں کے مستقبل میں قد اور جسمانی ساخت کا تعین کرتے ہیں جب کسی فرد کی جسمانی نشوونما مکمل ہو جاتی ہے تو یہ حصے ‘بند’ ہو جاتے ہیں اور ان کی جگہ سخت ہڈی لے لیتی ہے۔

    محققین کا کہنا ہے کہ ہمارا مقصد انسانی اونچائی کے جینوم وائیڈ ایسوسی ایشن اسٹڈیز (GWASs) کو جینوم وائیڈ ناک آؤٹ (KO) اسکرینوں کے ساتھ گروتھ پلیٹ کونڈروسائٹ کے پھیلاؤ اور وٹرو میں پختگی کے ساتھ جوڑا بنا کر انسانی نشوونما سے متعلقہ جینز اور راستوں کی نشاندہی کرنا ہے۔

    محققین کے مطابق ہم نے 145 جینوں کی نشاندہی کی جو ثقافت میں ابتدائی یا دیرسے وقت کے پوائنٹس پرکونڈروسائٹ کےپھیلاؤ اور پختگی کو تبدیل کرتے ہیں، ثانوی اسکریننگ میں 90 فیصد جینز کی توثیق ہوتی ہے۔ یہ جین مونوجینک گروتھ ڈس آرڈر جینز اور KEGG راستوں میں افزودہ ہوتے ہیں جوجسم کی نشوونما اور اینڈوکونڈرل اوسیفیکیشن کے لیے اہم ہیں۔

    تیزرفتار بلیک ہول دریافت، زمین سے چاند تک کا مفاصلہ محض 14 منٹ میں طے …

    مزید یہ کہ، ان جینز کے قریب عام متغیرات GWASs سےکمپیوٹیشنل طورپرترجیح دیئےگئے جینوں سے آزاد اونچائی کے ورثے کو حاصل کرتے ہیں۔ ہمارا مطالعہ حیاتیاتی طور پر متعلقہ ٹشوز میں فنکشنل اسٹڈیز کی قدر پر زور دیتا ہے جیسا کہ آرتھوگونل ڈیٹاسیٹس GWASs سے ممکنہ وجہ جینوں کو بہتر بناتے ہیں اور کونڈروسیٹ پھیلاؤ اور پختگی کے نئے جینیاتی ریگولیٹرز کو متاثر کرتے ہیں۔

    سائنسدان پہلے سے جانتے تھے کہ یہ خلیات ہڈیوں کی نشوونما اور انسانی قد کے حوالے سے کردار ادا کرتے ہیں مگر اب پہلی بار ان خلیات کو کنٹرول کرنے والے جینز کا تعین کیا گیا ہے محققین نے بتایا کہ انسانی قد سے منسلک مخصوص جینز کی شناخت ایک چیلنجگ کام ہے کیونکہ قد ایک پیچیدہ عمل ہوتا ہے جس پر جینز اورماحولیاتی عناصر دونوں اثر انداز ہوتے ہیں تحقیق میں ان خلیات پر اس لیے توجہ مرکوز کی گئی کیونکہ وہ ہڈیوں کی نشوونما کے لیے مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔

    اس تحقیق میں چوہوں کے کروڑوں خلیات کی جانچ پڑتال کرکے ان جینز کو دریافت کیا جو اس حوالے سے کردار ادا کرتے ہیں انہوں نے کرسپر جینوم ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے ان جینز کو خلیات سے نکال باہر کیا تاکہ معلوم ہوسکے کہ مخصوص خلیات پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    رات کو تھوڑی تاخیر سے کھانا کھانا صحت کیلئےنقصان دہ نہیں،تحقیق

    اس طرح انہوں نے 145 جینز کو دریافت کیا جن کو نکالنے سے جانوروں کے خلیات کی نشوونما غیر معمولی رفتار سے ہونے لگی جو انسانی ڈھانچے ایک ایک مخصوص جینیاتی مرض سے ملتا جلتا عمل تھا اس کے بعد محققین نے چوہوں کے ان جینز کا موازنہ انسانی قد پر ہونے والی تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا سے کیا۔

    محققین نے بتایا کہ نتائج سے عندیہ ملا کہ مخصوص جینز قد کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتے ہیں انہوں نے ان جینز کو انسانی جینوم میں بھی دریافت کیا اور ان کے مطابق یہ جینز دیگر جینیاتی عناصر سے زیادہ قد پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

    محققین کا کہنا تھا کہ ایسے نئے جینز کی شناخت ہوئی ہے جو ہڈیوں کی نشوونما کے عمل کا حصہ ہوتے ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ لچکدار ہڈیاں انسانی قد کے لیےاہم ترین ہوتی ہیں ابھی انسانوں پر اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے اور ہمیں توقع ہےکہ اس سے ڈھانچے سے متعلق امراض کے شکار افراد کی مدد ہو سکے گی۔

    پچر پلانٹ کی طرح دو نئے گوشت خور پودے دریافت

  • 165 سال پرانی جینز ڈھائی کروڑ روپے میں نیلام

    165 سال پرانی جینز ڈھائی کروڑ روپے میں نیلام

    نارتھ کیرولینا: دنیا میں سب سے پرانی جینز کو نایاب ترین قرار دیتے ہوئے اسے کل 114,000 ڈالر میں نیلام کیا گیا جو پاکستانی روپوں میں ڈھائی کروڑ کے لگ بھگ ہے۔

    باغی ٹی وی : امریکا میں نیلام ہونے والی اس جینز کو امریکن کلیکشن نامی نیلام گھر کے ایک کان کن کے لیے بنائی گئی تھی، یہ جینز 1857 میں ملنے والے ایک بحری جہاز کے ملبے سے ملی تھی۔

    فیفا ورلڈ کپ:ماہرین نے ’کیمل فلو‘ پھیلنے کا خدشہ ظاہر کردیا

    جینز کی فلائی میں پانچ بٹن لگے ہیں۔ بعض افراد نے کہا کہ یہ لیوائی جیز ہے لیکن مشہور لیوائی اسٹروس اینڈ کمپنی 1873 میں قائم ہوئی تھی اور یوں کمپنی قائم ہونے سے پہلے ہی جینز بنانا ممکن نہ تھا کیونکہ یہ 1857 میں ملنے والے ایک بحری جہاز کے ملبے سے ملی ہے۔

    ہولا برڈ سے وابستہ تاریخ کی ماہر، ٹریسی پینک نے بتایا کہ اس لباس کا لیوائی سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی یہ معلوم ہوسکا ہے کہ اسے بطورِ خاص کسی کان کن کے لیے بنایا گیا تھا۔

    انسانوں کی وجہ سے کرۂ ارض میں تبدیلیاں

    یہ جینز ’ایس ایس سینٹرل امریکا‘ نامی بحری جہاز سے ملی ہے جو 12 ستمبر 1857 میں ایک خوفناک سمندری طوفان کا شکار ہوگیا تھا۔ اس بحری جہاز میں کئی مسافر سان فرانسسکو سے براستہ پناما ، نیویارک جارہے تھے۔

    کچھ دیر بعد یہ سمندر میں ڈوب گیا اور ایک صدی کے بعد 2195 میٹر گہرائی سے اس کا ملبہ ملا جس میں سونے کے لاتعداد سکے بھی ملے تھے اس کے تمام زیورات اور سونے 1998 سے ہی نیلام ہوگئے اور اب بقیہ نوادرات بیچے جارہے ہیں۔