جیو نیوز کے پروگرام "سفرِ عشق” سے متعلق تنازع کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف دعوے سامنے آ رہے ہیں بعض حلقوں کا مؤقف ہے کہ اگر پروگرام میں نشر ہونے والا مواد قانون، پیمرا ضابطۂ اخلاق یا مذہبی حساسیت کے منافی تھا تو پہلے شوکاز نوٹس جاری کیا جانا چاہیے تھا، پھر مکمل تحقیقات اور متعلقہ فریق کا مؤقف سننے کے بعد کارروائی عمل میں لائی جاتی۔
باغی ٹی وی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جیو نیوز نے خود ہی اپنی نشریات 15 روز کے لیے معطل کرنے کی درخواست کی، ذرائع کے مطابق خدشہ تھا کہ اگر معاملہ معمول کے قانونی طریقہ کار کے تحت چلتا تو تحقیقات میں وقت لگ سکتا تھا، جبکہ اس دوران مذہبی و عوامی حلقوں کی جانب سے ملک بھر میں احتجاج اور جیو نیوز کے دفاتر کے باہر کشیدگی پیدا ہونے کا امکان موجود تھا، اسی تناظر میں مبینہ طور پر چینل نے رضاکارانہ طور پر 15 روزہ معطلی کی درخواست دی۔
ادھر سوشل میڈیا پر متعدد صارفین کا کہنا ہے کہ پروگرام میں نشر کیے گئے مواد سے عوامی و مذہبی جذبات شدید مجروح ہوئے، اسی لیے عوامی ردعمل سامنے آیا ان حلقوں کا کہنا ہے کہ جیو نیوز کو 15 روز کے لیے بند کرنا اس کی گستاخی یا غلطی کی نوعیت کے مقابلے میں سزا بہت ہلکی ہے۔
