Baaghi TV

Tag: جی ڈی پی

  • سال 2025 میں پاکستان کی معیشت میں نمایاں بہتری ،جی ڈی پی میں کتنا اضافہ ہوا؟

    سال 2025 میں پاکستان کی معیشت میں نمایاں بہتری ،جی ڈی پی میں کتنا اضافہ ہوا؟

    اسلام آباد:وفاقی وزارت خزانہ نے سال 2025 کے دوران قومی معیشت کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی-

    وفاقی وزارت خزانہ کے مطابق رواں مالی سال 26-2025 کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو میں 3.71 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا مالی نظم و ضبط کے باعث رواں مالی سال 26-2025 کی پہلی سہ ماہی میں مالیاتی سرپلس حاصل ہوا جو گزشتہ سال کی پہلی سہ ماہی کے بعد دوسرا سرپلس ہے جبکہ پرائمری سرپلس جی ڈی پی کا 2.7 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔

    رپٔورٹ میں بتایا گیا کہ ٹیکس وصولیوں میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے اور مالی سال 25-2024 میں ایف بی آر کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 10.2 فیصد تک پہنچ گیا جو گزشتہ 25 برسوں میں بلند ترین سطح ہے جبکہ مالی سال24-2023 میں یہ شرح 8.8 فیصد تھی، اسی طرح قرضوں میں بھی کمی دیکھی گئی اور مالی سال 25-2024 میں قرضہ جی ڈی پی کا 70 فیصد رہا جو مالی سال 23-2022 میں 75 فیصد تھا۔

    وزارت خزانہ نے بتایا کہ قرضوں کی اوسط مدت 4.5 سال تک بڑھ گئی جبکہ قبل از وقت قرضوں کی ادائیگی کے نتیجے میں تقریباً 3.5 کھرب روپے یا 12.4 ارب ڈالر کی بچت ممکن ہوئی اسی دوران پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی کر کے اسے جون 2024 کے 22 فیصد سے کم کر 10.5 فیصد کر دیا گیا اور معاشی استحکام کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر بھی مضبوط ہوئے اور اسٹیٹ بینک کے ذخائر 15.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جو مارچ 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

    وزارت خزانہ کے مطابق درآمدی ادائیگیوں کے لیے کور بہتر ہو کر 2.6 ماہ تک پہنچ گیا جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ 1.7 ماہ تھا، ترسیلات زر میں بھی نمایاں اضافہ ہوا اور مالی سال 2025 میں یہ 38 ارب ڈالر رہیں جو سالانہ بنیاد پر 27 فیصد اضافہ ہے جبکہ مالی سال 2026 کے ابتدائی پانچ ماہ میں ترسیلات زر 16 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔

    کرنٹ اکاؤنٹ بھی بہتری کی جانب گامزن رہا اور مالی سال 25-2024 میں 1.9 ارب ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا، وزارت خزانہ کے مطابق موجودہ سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مقررہ ہدف میں رہنے کا امکان ہے اور ابتدائی پانچ ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہو کر 81 کروڑ 20 لاکھ ڈالر رہا۔

    نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا اور مالی سال 25-2024 میں یہ 1.1 کھرب روپے تک پہنچ گیا، جس میں ایس ایم ایز اور زرعی شعبے کا نمایاں حصہ رہاپاکستان اسٹاک ایکسچینج نے بھی شان دار کارکردگی دکھائی اور 2025 میں ڈالر کے حساب سے 52 فیصد اضافہ ریکارڈ کر کے عالمی منڈیوں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔

    رواں مالی سال میں معیشت کی کارکردگی کے حوالے سے بتایا گیا کہ سرمایہ کاروں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا اور گزشتہ ڈیڑھ برس میں 4 لاکھ 50 ہزار نئے سرمایہ کار شامل ہوئے جبکہ مالی سال 25-2024 میں 9 آئی پی اوز متعارف کروائے گئے اور 26-2025 میں مزید 16 آئی پی اوز متوقع ہیں۔

    وزارت خزانہ کی دسمبر کی آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق جولائی سے نومبر سرمایہ کاری 25.3 فیصد کمی سے 93 کروڑ ڈالر تک محدود ہے۔

    وزارت خزانہ کی سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ کاروباری اور عوامی اعتماد میں بھی واضح بہتری دیکھی گئی ہے، صارفین کا اعتماد 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے اور آئندہ 6 ماہ کے لیے معاشی امکانات کو کئی برسوں میں سب سے مضبوط قرار دیا جا رہا ہے بڑے کاروباری رہنماؤں میں معاشی ترقی کے حوالے سے امید 83 فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی پاکستان کو ایک پرکشش منزل سمجھا جا رہا ہے۔

    رواں برس فن ٹیک اور ڈیجیٹل فنانس کے شعبے میں تیز رفتار ترقی، پالیسی سپورٹ اور بڑھتی سرمایہ کاری نے پاکستان کو خطے میں ایک مضبوط ابھرتی ہوئی معیشت کے طور پر نمایاں کر دیا ہے رواں مالی سال پہلے 5 ماہ میں برآمدات 3.2 فیصد کمی سے 12.8 ارب ڈالر رہی جبکہ درآمدات میں 11.1 فیصد اضافہ ہوا اور حجم 25.6 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا، صنعتی گروتھ سے پاکستان کی معیشت کا مستقبل مثبت نظر آرہا ہے، ٹیکسٹائل، گاڑیوں، سیمنٹ اور فوڈ پروسسنگ کی صنعتوں میں بہتری ہوئی اور مالی نظم و ضبط سے معاشی استحکام مضبوط ہوا۔

  • معیشت میں درپیش چیلنجز ،حکومت جی ڈی پی گروتھ کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام

    معیشت میں درپیش چیلنجز ،حکومت جی ڈی پی گروتھ کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام

    حکومت رواں مالی سال کے دوران مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو کا مقررہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

    ذرائع کے مطابق نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی نے رواں مالی سال کے لیے عبوری جی ڈی پی گروتھ کی منظوری دے دی ہے رواں مالی سال کے دوران جی ڈی پی گروتھ 2.68 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ حکومت نے مالی سال کے آغاز میں 3 فیصد گروتھ کا ہدف مقرر کیا تھا یوں ہدف اور حاصل کردہ گروتھ کے درمیان واضح فرق سامنے آیا ہے، جو معیشت میں درپیش چیلنجز کی نشاندہی کرتا ہے۔

    نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی نے رواں مالی سال کے عبوری معاشی اشارئیے جاری کر دیئے ہیں، جن کے مطابق رواں مالی سال معیشت میں بتدریج بہتری کا رجحان دیکھا گیا ہےاعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں معاشی ترقی کی شرح 1.37 فیصد رہی، جب کہ دوسری سہ ماہی (اکتوبر تا دسمبر) میں یہ شرح بڑھ کر 1.53 فیصد ہو گئی تیسرے سہ ماہی یعنی جنوری سے مارچ 2025 کے دوران معاشی ترقی کی شرح 2.40 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

    ٹیکس چوری کرنے والے افراد اور کاروبار کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں،وزیرِ اعظم

    ذرائع کے مطابق رواں مالی سال 2024 کے لیے مجموعی عبوری معاشی ترقی کی شرح 2.68 فیصد رہی، جو کہ گزشتہ مالی سال 2023 کی منفی 0.21 فیصد شرح کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے مالی سال 2024 میں مکمل سال کے دوران معاشی ترقی کی شرح 2.51 فیصد رہی۔

    pak

    نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے مطابق رواں مالی سال کے اختتام تک ملک کی مجموعی معیشت کا حجم 411 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جب کہ فی کس آمدنی 1824 ڈالر ریکارڈ کی گئی ہے یہ اعداد و شمار ملک کی اقتصادی پالیسیوں میں بہتری کی عکاسی کرتے ہیں۔

    نور مقدم قتل کیس:سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کی اپیل پر فیصلہ سنا دیا،سزائے موت برقرار

  • آئندہ مالی سال کا بجٹ 9 جون کو پیش کرنے کا فیصلہ

    آئندہ مالی سال کا بجٹ 9 جون کو پیش کرنے کا فیصلہ

    حکومت نے آئندہ مالی سال کا بجٹ 9 جون کو پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے

    وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال 2024-23 کے بجٹ کے سلسلے میں سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس 2 جون کو طلب کیا گیا ہے اور قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس 3 جون کو ہوگا جس کی صدارت وزیراعظم شہباز شریف کریں گے جس میں نئے مالی سال کے لیے بجٹ اہداف کو حتمی شکل دی جائے گی، دونوں اجلاسوں میں صوبائی حکام بھی شرکت کریں گے، اس دوران نئے بجٹ کے لیے قومی ترقیاتی پروگرام کا جائزہ لیا جائےگا

    وزارت خزانہ کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ میں وفاقی ترقیاتی پروگرام کی مد میں 700 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں تاہم وزیر اعظم وفاقی ترقیاتی پروگرام ایک ہزار ارب روپے تک بڑھا سکتے ہیں وزارت خزانہ کا کہنا ہےکہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کا مجموعی حجم 14 ہزار 600 ارب سے زیادہ رکھنے کی تجویز ہے اور بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے کمیٹیاں بھی قائم کردی گئی ہیں اس کے علاوہ آئندہ سال کے لیے معاشی شرح نمو کا ہدف 3 فیصد سے زیادہ رکھنے کی تجویز ہے جب کہ موجودہ مالی سال جی ڈی پی گروتھ کا تخمینہ 0.29 فیصد ہے۔

    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ
    پاکستان کیساتھ سٹاف لیول معاہدے پر جلد دستخط ہوجائیں گے. ڈائریکٹر آئی ایم ایف مڈل ایسٹ
    جناح انٹرنشنل ائیرپورٹ کے فوڈ کاؤنٹرز پر نامناسب پیپر پلیٹ میں کھانا دینے کا انکشاف

  • پاکستان کا5.37 فیصد شرح نموحاصل کرنا بڑی کامیابی،وزیراعظم عمران خان

    پاکستان کا5.37 فیصد شرح نموحاصل کرنا بڑی کامیابی،وزیراعظم عمران خان

    وزیراعظم عمران خان نے مالی سال 2020-21میں مجموعی ملکی پیداوار کی شرح نمو 5اعشاریہ 37 فیصد حاصل کرنے پر حکومت کو مبارکباد دی ہے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت کی اقتصادی اصلاحات کی کامیابی کو عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا جارہا ہے ، عالمی جریدے بلوم برگ کا بھی کہنا ہے کہ پاکستان بڑھتی ہوئی شرح نمو کا تسلسل جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ اس شرح نمو کی بدولت روزگار کے مواقع پیدا ہوئے اور فی کس آمدنی میں اضافہ ہوا۔

    اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ جی ڈی پی کی شرح نموملازمتوں کی تخلیق اور فی کس آمدن میں اضافے کا باعث بنی۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی اصلاحات کامیاب رہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یہ پیش گوئی کی گئی ہے کہ پاکستان اعلیٰ اقتصادی ترقی اور روزگار کی سطح کو برقرار رکھے گا۔

    واضح رہے کہ تجارت اور زراعت میں اضافے کے باعث پاکستان کی ترقی کی رفتار تیز ،مالی سال 2021ء میں پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو 5اعشاریہ 37 فیصد رہی۔
    معاشی اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ مالی سال معاشی ترقی کی شرح 5اعشاریہ 37 فیصد رہی ہےجبکہ صنعت وزراعت میں 7اعشاریہ 8 فیصد گروتھ ہوئی۔

    اس حوالے سے وفاقی وزیرحماد اظہر کاکہنا ہے کہ سابقہ حکومت ایکسپورٹس میں خاطرخواہ اضافہ نہ کرسکی، ہم نے تیسرے مالی سال اتنی گروتھ حاصل کرلی ہے۔ملکی معاشی گروتھ وسیع بنیاد پر ہوئی ہے، اگلے 10 سال میں نوکریاں پیدا کرنے کا تناسب اعلیٰ سطح پر ہوگا۔

    ‏پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے وزیراعظم عمران خان کے جی ڈی پی گروتھ بڑھنے کے ٹویٹ پر ردعمل میں کہا ہے کہ عمران صاحب قوم کے ساتھ پھر ٹویٹ کے ڈرامے ،مالی سال 2018 میں جی ڈی پی گروتھ 6.1 تھی ، آپ نے منفی اور اب 5.57 پے ٹویٹ نہیں نالائقی کا ماتم کرنا چاہئیے ‏ملک میں مہنگائی بے روزگاری اور غربت سے عوام مر رہی ہے اور آپ بے شرمی اور ڈھٹائی سے ٹویٹ کر رہے ہیں ملکی تاریخ کے بلند ترین پچاس ارب کے قرضے لینے پہ بھی ٹویٹ کر دیتے تین سال میں ساٹھ لاکھ لوگوں کے بے روزگار ہونے پہ بھی ٹویٹ کر دیتے ‏تین سال میں دو کڑوڑ سے زائد پاکستانی غربت کی لکیر کے نیچے دھکیل دینے کا بھی ٹویٹ کر دیتے

    مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ تاریخی مالیاتی خسارہ 4400 ارب پہ پہنچ رہا ہے اُس کا بھی ٹویٹ کر دیتے ،مہنگائی 22 فیصد کی سطح پر پہنچ گئی، اس کا ٹویٹ بھی کردیتے؟ ‏مہنگائی کی بدترین سطح، بجلی گیس اور دوائی کے نرخ بھی ٹویٹ کردیتے عمران صاحب تین سال میں پٹرول کی قیمت میں 55 روپے زائد کا اضافہ ہوا، اس پر بھی ایک ٹویٹ کر دیتے بلند ترین ملکی تجارتی خسارہ 45 ارب ڈالر پہ پہنچ گیا ہے اُس کا بھی ٹویٹ کر دیتے ‏تین سال میں ڈالر کی قیمت 123 سے 184 روپے پر لیجانے کے کارنامے کا بھی کوئی ذکر کردیتے ؟ ملک میں یوریا کھاد کے لئے دھکے کھاتے کسانوں کی پرسان حالی کا بھی کوئی اعلان کرتے؟ DAP کی قیمت ساڑھے تین سالوں میں 2400 سے 9700 ہوگئی اِس پہ بھی ٹویٹ کر دیتے ‏یوریا 1200 سے 2800 لینے کے لئے کسانوں کو جو دھکے پڑھ رہے ہیں اُس کا بھی ٹویٹ کر دیتے 40 ارب وفاق اور ڈیڈھ ارب خیبر پختونخوا میں کووڈ فنڈ سے چوری کرنے کے بعد آج کی اپنے مافیا کو مبارکباد ہی بنتی ہی ‏چینی میں 550 ارب ، آٹے میں 1200 ارب دوائی میں 600 ارب اور بی آر ٹی میں 75 ارب کی چوری کا بھی ٹویٹ کرتے بجلی اور گیس میں 500 ارب کے عوام کے جیب پہ ڈاکے کی بھی ٹویٹ کرتے ‏بچوں کے دودھ اور کھانے پینے کی بنیادی اشیاءپر 17 فیصد سیلز ٹیکس کی شرح کرنے کا کارنامہ بھی بیان کردیتے؟ عمران صاحب اور ان کے مافیاز کی آمدن بڑھ گئی ہے تو وہ سمجھتے ہیں کہ پوری قوم کی آمدن بڑھ گئی ہے

  • جی ڈی پی تاریخ کی دوسری بلند ترین سطح  پر پہنچ گئی، پارلیمانی سیکرٹری کامرس

    جی ڈی پی تاریخ کی دوسری بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، پارلیمانی سیکرٹری کامرس

    حکومت نےپاکستان کی معاشی صورتحال پر اعدادوشمار جاری کر دیئے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پارلیمانی سیکریٹری برائے کامرس عالیہ حمزہ نے معاشی اعشاریوں کی تفصیلات جاری کیں پارلیمانی سیکرٹری برائے کامرس عالیہ حمزہ کا کہنا ہے کہ جی ڈی پی تاریخ کی دوسری بلند ترین سطح 315 ارب ڈالر پر پہنچ چکی ہےن لیگ اپنے دور میں 284 ارب ڈالر جی ڈی پی چھوڑ کر گئی۔ جی ڈی پی تاریخ کی دوسری بلند ترین سطح 315 ارب ڈالر پر پہنچ چکی ہے۔

    سپریم کورٹ نے ماتحت عدلیہ سندھ میں بھرتیوں کاجائزہ لینے کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی

    انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی بہترین پالیسوں سے ملکی معیشت میں بہتری آئی وزیراعظم عمران خان نے پہلے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا معیشت، صنعت اور زراعت کا بنیادی ڈھانچہ بن چکا ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 4 ماہ میں ترسیلات زر میں 12 فیصد اضافہ ہوا رواں مالی سال ترسیلات زر کا حجم 10.55 ارب ڈالر تک پہنچ گیا زر مبادلہ کے ذخائر میں 13 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

    مہنگائی کے باوجود بڑے بڑے سیاسی لوگ پی ٹی آئی میں جانے پرکیوں مجبوراہم وجہ سامنے…

    تفصیلات کے مطابق گزشتہ کی نسبت رواں سال ایکسپورٹ مصنوعات میں 27 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ایکسپورٹ گڈز 12.35 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں ہیں۔

    رواں سال ٹیکسٹائل ایکسپورٹ میں 30 فیصد اضافہ ہوا۔ رواں سال ٹیکسٹائل ایکسپورٹس 7.84 ارب ڈالر ہوئیں۔ آئی ٹی ایکسپورٹس میں 39 فیصد اضافہ ریکارڈکیا گیا۔ جولائی تا اکتوبر2022 میں آئی ٹی ایکسپورٹس 830 ملین ڈالر رہیں۔ جولائی تا نومبر2022 میں 2314 ارب روپے کا ریونیو اکٹھا ہوا۔

    امریکا میں مہنگائی کا 39 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا:پاکستان میں مہنگائی کم ہونے کی…

    پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت میں 71 فیصد اضافہ ہوا ٹریکٹرز کی سیلز میں 14 فیصد اضافہ ہوا۔ ڈومیسٹک سیمنٹ کی سیلز میں ایک فیصد اضافہ ہوا۔ گزشتہ سال کی نسبت رواں سال فرٹیلائزر یوریا کی سیلز 10 فیصد بڑھیں۔

    گزشتہ سال کی نسبت رواں سال پیٹرولیم سیلز میں 22 فیصد اضافہ دیکھا گیا گزشتہ سال کی نسبت رواں سال کاٹن کی سیلز میں 54 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔لارج ا سکیل مینو فیکچرنگ انڈیکس میں 5 فیصد اضافہ ہوا-

    قرض پر قرض :685 ملین ڈالرزسے کے پی میں‌ بڑے منصوبے شروع کرنے کا پروگرام

    دوسری جانب وفاقی وزیر مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب نے کہا ہے کہ ملک میں ہفتہ واربنیادوں پر مہنگائی کی شرح میں کمی ہورہی ہے وفاقی وزیر مملکت فرخ حبیب نے کہا کہ ٹماٹرکی قیمت میں 13.37 فیصد، چکن کی قیمت میں 10.59 فیصد اور آلو کی قیمت میں 4.48 فیصد کمی ہوئی ہے اسی طرح ایل پی جی کی قیمت میں 2.96 فیصد، چینی کی قیمت میں 1.03 فیصد اور گڑ کی قیمت میں 0.51 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

    پنجاب کا سالانہ بجٹ 645ارب روپے کرنے کی منظوری: اگلےسال ترقیاتی کاموں میں100 فیصد…

    وفاقی وزیر مملکت نے دعویٰ کیا ہے کہ آٹے کی قیمت میں 0.46 فیصد اور سرسوں کے تیل کی قیمت میں 0.27 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے جب کہ انڈوں کی قیمت میں 0.26 فیصد کی کمی ہوئی ہے جبکہ پیاز کی قیمت میں 31.99 فیصد اور دال مونگ کی قیمت میں 25.03 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    سعودی عرب میں فلم کی عکسبندی میرے کیرئیر کا اہم موڑ ثابت ہو گا، سلمان خان

    ادھر گزشتہ روز وفاقی ادارہ شماریات نے اپنی ہفتہ وار جائزہ رپورٹ پیش کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ملک میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران پیاز، لہسن، دودھ اور دالوں سمیت 19 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    سلمان خان کے کیرئیر پر ڈاکیومینٹری کی تیاری شروع