Baaghi TV

Tag: جی-20 اجلاس

  • صدرعالمی بینک کی پاکستانی معیشت کے استحکام اور ٹیکس بڑھانے کے پروگراموں کی  حمایت کی

    صدرعالمی بینک کی پاکستانی معیشت کے استحکام اور ٹیکس بڑھانے کے پروگراموں کی حمایت کی

    واشنگٹن: وفد کے ہمراہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے نئے بیل آؤٹ پیکیج کے حصول کیلئے مذاکرات کرنے کے سلسلے میں واشنگٹن میں موجود وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے جی 24 اجلاس میں شرکت کے ساتھ ورلڈ بینک کے صدر جے بنگا اور سعودی وزیر خزانہ سمیت دیگر اہم رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں۔

    باغی ٹی وی : واشنگٹن میں وزیر خزانہ کی ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا سے ملاقات کے موقع پر دونوں رہنماؤں کے درمیان 10 سال کیلئے رولنگ کنٹری فریم ورک پلان کی ضرورت پر اتفاق کیا گیاعالمی بینک کے صدر نے پاکستانی معیشت کے استحکام اور ٹیکس بڑھانے کے پروگراموں کی بھی حمایت کی۔

    وزیر خزانہ نے ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر مساتسوگو اسکاوا سے بھی ملاقات کی جس میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ پاکستان کی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر بات چیت کی گئی،دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں رعایتی فنانسنگ اور مستقبل کے منصوبوں پر توجہ مرکوز رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

    قرضوں کے بوجھ کو سنبھالنے کیلئے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں،امریکا

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سی ای او، ڈی ایف سی اسکاٹ ناتھن سے بھی ملاقات ہوئی جس میں پاکستان میں ڈی ایف سی کی سرمایہ کاری میں توسیع پر تبادلہ خیال کیا گیا، اس موقع پر وزیر خزانہ نے یقین دلایا کہ حکومت پاکستان میں سرمایہ کاری کے اقدامات کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہے۔

    وفاقی وزیرخزانہ نےانٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کی ایم سی ٹی کی علاقائی نائب صدر ہیلا چیخروہو سے بھی ملاقات کی جس میں ترسیلاتِ زر کے فروغ، کان کنی، ہوائی اڈوں جیسے ترجیحی شعبوں میں آئی ایف سی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا، علاوہ ازیں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نےسعودی ہم منصب محمد الجدعان سے بھی ملاقات کی، جس میں دو طرفہ تعاون اور شراکت داری کو بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

    گوادر سمیت مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش ، ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ

    محمد اورنگزیب نے جی 24 کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینک کے گورنرز کے اجلاس میں بھی شرکت کی جہاں انہوں نے نجی شعبے میں مزید سرمایہ کاری لانے اور ملک کو موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے نمٹنے میں مدد کیلئے "ایڈاپٹیشن فنڈ” سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا،اجلاس کے اعلامیے میں گروپ کی جانب سے ترقی پذیر ممالک کیلئے دستیاب فنانسنگ کو بڑھانے کیلئے اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔

  • جی 20 سربراہی اجلاس؛ امریکی صدر دہلی پہنچ گئے

    جی 20 سربراہی اجلاس؛ امریکی صدر دہلی پہنچ گئے

    بھارت میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کیلئے عالمی رہنماؤں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، اجلاس میں غریب ممالک کیلئے قرضوں میں ریلیف،موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات اور غذائی تحفظ بڑھانے پر بھی بات ہوگی جبکہ دو روزہ جی 20 سربراہی اجلاس کل سے بھارتی دارالحکومت نئی دلی میں شروع ہو رہا ہے، اجلاس میں شرکت کیلئے سربراہوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، امریکی صدر جو بائیڈن بھی جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیےنئی دلی پہنچ گئے ہیں۔


    جبکہ اس کے علاوہ برطانوی وزیر اعظم رشی سونک بھی جی 20 سربراہی اجلاس کیلئے بھارت پہنچ گئے ہیں، واضح رہے کہ چینی صدرشی جن پنگ نے بھارت میں ہونے والے جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت سے معذرت کر لی تھی ان کی جگہ چینی وزیر اعظم لی چیانگ اجلاس میں شریک ہوں گے۔

    تاہم اس کے علاوہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھی جی 20 ممالک کے سربراہی اجلاس میں شرکت سے معذرت کی تھی۔ نجی ٹی وی کے مطابق کل سے نئی دلی میں شروع ہونے والے اجلاس میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سرمایہ کاری فورم کی میزبانی کریں گے، سرمایہ کاری فورم میں کیمیکلز،انرجی،مینو فیکچرنگ اور ٹیکنالوجی پراجیکٹس پر توجہ مرکوز رہے گی۔

    سعودی وزارت سرمایہ کاری کے مطابق سرمایہ کاری فورم کا مقصد تیل پر انحصار کے ساتھ ساتھ معیشت میں تنوع کی کوشش کرنا ہے اور اجلاس کے موقع پر سعودی عرب کے امریکا، بھارت اور یواے ای کے رہنماؤں کے ساتھ ایک انفرا اسٹرکچر ڈیل کا بھی امکان ہے جس کےتحت خلیجی اور عرب ممالک ریلوے اور بندرگاہوں کے ذریعے بھارت سے جڑ سکیں گے، اس کے علاوہ اجلاس میں بھارتی وزیراعظم مودی 15 سے زائد عالمی رہنماؤں سے سائیڈ لائن ملاقاتیں کریں گے۔

    بھارتی وزیراعظم مودی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ آج اپنی رہائش گاہ پر امریکی صدر جوبائیڈن ،وزیراعظم بنگلا دیش اور وزیراعظم موریشس سے دوطرفہ ملاقات کریں گے۔یہ ملاقاتیں دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لینے ، ترقیاتی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کا موقع فراہم کریں گی تاہم دوسری جانب نئی دلی میں جی20 اجلاس سے قبل تبتی کمیونٹی نے احتجاج کیا،نئی دلی میں جی20اجلاس کےحوالےسےسکیورٹی سخت ہے۔

  • روس کا مغربی مخالفت کے باوجود جی-20 کے سربراہی اجلاس میں شرکت کا ارادہ

    روس کا مغربی مخالفت کے باوجود جی-20 کے سربراہی اجلاس میں شرکت کا ارادہ

    جکارتہ: انڈونیشیا میں روسی سفیر نے کہا ہے کہ صدر ولادیمیر پیوٹن جی-20 کے سربراہی اجلاس میں شرکت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس کی میزبانی اس سال انڈونیشیا کر رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : بین الاقوامی میڈیا کے مطابق انڈونیشیا میں روسی سفیر لیوڈملا ووروبیفا نے کہا کہ پیوٹن کی جی-20 میں شرک کا انحصار بہت سی چیزوں پر ہوگا بشمول کورونا کی صورتحال جو کہ بہتر ہو رہی ہے تاہم اجلاس میں شرکت کے حوالے سے اب تک ان کا ارادہ مصمم ہے۔

    یورپی یونین کا یوکرین کے ساتھ سیٹلائٹ انٹیلی جنس شیئر کرنے کا فیصلہ:روس غُصے میں آگیا

    روسی سفیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ صرف G-20 ہی نہیں، بہت سی مغربی تنظیمیں اب روس کو ہر پلیٹ فارم سے بےدخل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں مغرب کا یہ ردعمل بالکل غیرمنصفانہ ہے روس کو اقتصادی فورم سے نکالنے سے عالمی معاشی مسائل اور پیچیدہ ہوجائیں گے۔

    ووروبیفا نے انڈونیشیا کی “مضبوط اور غیرجانبدارانہ پوزیشن” کی بھی تعریف کی اور اس بات پر زور دیا کہ انڈونیشیا ہرگز مغربی دباؤ میں نہ آئے۔

    واضح رہے کہ انڈونیشیا کے روس کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدوڈو نے حال ہی میں ایک جاپانی نیوز میگزین نکی ایشیا کو بتایا کہ وہ جنگ بندی کی حمایت کرتے ہیں تاہم روس پر اقتصادی پابندیوں کو ایک غیرموثر تدبیر کے طور پر دیکھتے ہیں۔

    روسی صحافی کا یوکرینی پناہ گزینوں کیلئے اپنا نوبیل انعام فروخت کرنے کا فیصلہ

    دوسری جانب نیٹو کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ روس کے یوکرین پرحملے کوایک ماہ ہوچکے ہیں اوراس دوران روس کے 7 ہزارسے15ہزارفوجی ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ سیکڑوں زخمی ہیں۔

    روس نے مارچ میں اپنے 500فوجیوں کے ہلاک ہونے کا اعلان کیا تھا تاہم اس کے بعد کوئی اعداد وشمارجاری نہیں کئے یوکرین کے صدر نے 2 ہفتے قبل 13 سویوکرینی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

    دوسری جانب یوکرین کے دارالحکومت کیف پرروسی بمباری سے روسی صحافی ہلاک ہوگئیں خاتون صحافی اپنے ادارے کی جانب سے روسی حملے کی کوریج کے لئے کیف میں موجود تھیں۔

    پولینڈ نےجاسوسی کےالزام میں 45 روسی سفارتکاروں کو ملک بدرکردیا

    امریکا کی جانب سے روسی سفارتکاروں کا نکالے جانے کے ردعمل میں روس نے متعدد امریکی سفارتکاروں کوملک سے بے دخل کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم کتنے امریکی سفارتکاروں کوروس بدرکیا جائے گا ان کی تعداد نہیں بتائی۔

    ادھر امریکی اخبارکی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے امریکا روس کی جانب سے یوکرین میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی صورت میں جوابی کارروائی کی تیاریاں کررہا ہے امریکی قومی سلامتی کے مشیروں کی ٹیم جس کا نام ’ٹائیگرٹیم‘ ہے روس کی جانب سے ممکنہ طور پرجوہری ،کیمیائی یا بائیولوجیکل ہتھیاروں کے استعمال کے بعد جوابی حملے کی تیاری کررہی ہے۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹائیگرٹیم نے روس کے متوقع جوہری حملوں کے بعد مختلف جوابی کارروائیوں کی اورردعمل کی مشقیں بھی کیں ٹائیگرٹیم اس سلسلے میں متعدد خفیہ میٹنگز بھی کرچکی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ’ٹائیگرٹیم‘ گزشتہ سال اکتوبرمیں بنائی گئی تھی۔

    ہیکرز نے یوزر نیمز اور پاس ورڈز چوری کرنے کےلیے ایک نیا طریقہ ڈھونڈ لیا