Baaghi TV

Tag: جے ڈی وینس

  • امریکا  اقدامات کی بنیاد پر ڈیلنگ کرے گا، نہ کہ ایران کے بیانات پر

    امریکا اقدامات کی بنیاد پر ڈیلنگ کرے گا، نہ کہ ایران کے بیانات پر

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ اس کے اقدامات کی بنیاد پر ڈیلنگ کرے گا، نہ کہ اس کے بیانات پر۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق جے ڈی وینس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن متعدد حساس فائلوں میں ایران کے رویے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے مستقبل کے تعلقا ت یا اقدامات کا کوئی بھی جائزہ سیاسی بیان بازی پر مبنی نہیں ہوگا بلکہ اس کا تعلق زمینی حقائق سے ہوگا۔

    جے ڈی وینس کے یہ بیانات امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان سامنے آئے ہیں، ایسے وقت میں جب تہران کی علاقائی سرگرمیوں اور اس کے میزا ئل پروگرام پر گہرے اختلافات برقرار ہیں امریکی انتظامیہ کی جانب سے یہ موقف حالات کا جائزہ لینے کے لیے ایک بنیادی معیار کے طور پر ایرانی رویے کی نگرانی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

    سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ امریکی نائب صدر کے بیانات ایرانی فائل سے نمٹنے کے لیے زیادہ محتاط اور عملی انداز کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ نقطہ نظر سفارتی یقین دہانیوں پر بھروسہ کرنے کے بجائے ایک "عملی امتحان” پر مبنی ہے۔

    قبل ازیں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات کے بعد بتایا کہ ایران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے معائنہ کاروں کو دوبارہ ملک میں آنے کی اجازت دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جسے انہوں نے ایک اہم پیشرفت قرار دیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے مذاکرات کے پہلے دور کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ بات چیت مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئی اور حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے۔ ان کے مطابق 60 دن کے اندر حتمی معاہدے کے لیے روڈ میپ، اعلیٰ سطحی کمیٹی کے قیام اور تکنیکی سطح کے مزید مذاکرات پر اتفاق کیا گیا ہے۔

  • وزیر اعظم شہباز شریف سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی ملاقات

    وزیر اعظم شہباز شریف سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی ملاقات

    برگن اسٹاک: وزیر اعظم شہباز شریف سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی ملاقات ہوئی۔

    وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران مذاکرات کے لیے سوئٹرزلینڈ میں موجود ہیں جہاں ان کی ملاقات امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ہوئی ہےامریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ وفد میں جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف بھی موجود تھے جنہوں نے وزیراعظم پاکستان سے ملاقات کی۔

    ذرائع کاکہنا ہے کہ امریکی وفد سے ملاقات کے بعد وزیراعظم شہبازشریف ایرانی وفد سےبھی ملیں گے، ایرانی وفد کی سربراہی باقرقالیباف کریںگے،ساتھ وزیرخارجہ عراقچی اوردیگر حکام بھی ہوں گے۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ہیں،وزیراعظم شہباز شریف نے برگن اسٹاک پہنچنے پر مقامی صحافیوں سے جرمن زبان میں بات کرتے ہوئے خیرسگالی کا اظہار کیا، جبکہ ان کا یہ دورہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر پیش رفت کے لیے ہونے والے اہم سفارتی رابطوں کے سلسلے میں ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی آمد کے موقع پر موجود صحافیوں نے ان کا استقبال کیا، جس پر وزیراعظم نے جرمن زبان میں ان سے مخاطب ہو کر شکریہ ادا کیا اس مختصر گفتگو کو سفارتی حلقوں میں خیرسگالی کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی سوئٹزرلینڈ پہنچے ہیں، جہاں دونوں رہنما امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفار تی عمل سے متعلق اعلیٰ سطحی مذاکرات میں شریک ہوں گے۔

    وزیراعظم شہباز شریف سوئٹزرلینڈ اس لیے گئے ہیں کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ (ایم او یو) پر عملدرآمد کے لیے ہونے والے مذاکرات میں پاکستان کی نمائندگی کریں۔ یہ مذاکرات 17 جون کو طے پانے والے معاہدے کے بعد پہلا اہم سفارتی مرحلہ قرار دیے جا رہے ہیں ان مذاکرات میں امریکا، ایران اور قطر کے اعلیٰ سطحی وفود بھی شریک ہوں گےپاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کیا تھا، اور اب اسلام آباد اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سفارتی رابطوں میں مصروف ہے۔

  • مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور ایرانی بھی ایک معاہدہ چاہتے ہیں، جے ڈی وینس

    مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور ایرانی بھی ایک معاہدہ چاہتے ہیں، جے ڈی وینس

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں فریق فوجی کشیدگی دوبارہ بڑھانے کے خواہاں نہیں۔

    وائٹ ہاؤس میں میڈیا بریفنگ کے دوران امریکی نائب صدر نے واضح کیا کہ امریکا کی اولین ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے، کیونکہ واشنگٹن کے مطابق اس سے پورے خطے میں ایٹمی دوڑ شروع ہو سکتی ہے امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں ’بہت زیادہ پیش رفت‘ ہوئی ہے اور دونوں ممالک فوجی کارروائیوں کے دوبارہ آغاز سے گریز چاہتے ہیں واشنگٹن کو یقین ہے کہ تہران معاہدہ کرنے میں سنجیدہ ہے’ہم سمجھتے ہیں کہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور ایرانی بھی ایک معاہدہ چاہتے ہیں۔

    وینس نے بتایا کہ ان کی حال ہی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات ہوئی، جس میں امریکی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا کے لیے بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ایران کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے اگر ایران ایٹمی ہتھیار بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو خلیجی خطے کے دیگر ممالک بھی اپنے دفاع کے لیے ایسے ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کریں گے، جس کے بعد دنیا بھر میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔

    جے ڈی وینس کے مطابق امریکا کی کوشش ہے کہ دنیا میں جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک کی تعداد محدود رہے اور اسی مقصد کے تحت ایران کو ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے سے روکنا ضروری سمجھا جا رہا ہے، واشنگٹن چاہتا ہے کہ ایران ایک ایسے فریم ورک پر امریکا کے ساتھ تعاون کرے جس کے ذریعے مستقبل میں تہران دوبارہ اپنی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت بحال نہ کر سکے،ہم مذاکرات کے ذریعے یہی مقصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

  • ٹرمپ ایران کے ساتھ ایک بڑی ڈیل چاہتے ہیں، جے ڈی وینس

    ٹرمپ ایران کے ساتھ ایک بڑی ڈیل چاہتے ہیں، جے ڈی وینس

    امریکی نائب صدر جیمز ڈیوڈ (جے ڈی) وینس نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ کسی چھوٹے موٹے سمجھوتے کے بجائے ایک بڑا اور جامع معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔

    جے ڈی وینس نے بدھ کو جارجیا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تصدیق کی کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ بندی کو چھ سات دن ہو چکے ہیں اور یہ اب بھی برقرار ہے،اگر ایران ایک نارمل ملک کی طرح رویہ اپنانے پر راضی ہو جائے تو امریکا اس کے ساتھ معاشی تعلقات بحال کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن واشنگٹن کی بنیادی پالیسی تہران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ہے۔

    جے ڈی وینس نے بتایا کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی تھی، تاہم جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر ڈیڈ لاک پیدا ہوا گزشتہ 49 سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اس قدر اعلیٰ سطح پر براہ راست بات چیت ہو رہی ہے۔

    وینس نے اعتراف کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان دہائیوں کا عدم اعتماد ایک رات میں دور نہیں ہو سکتا، لیکن انہیں یقین ہے کہ مذاکرات کی میز پر دوسری طرف بیٹھے ایرانی حکام بھی ڈیل چاہتے تھے اگر ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کا عہد کرے تو امریکا اسے معاشی طور پر ترقی دینے میں مدد کرے گا، تاہم وہ ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جو ایران کو اپنی پراکسیوں کی مالی معاونت سے بھی روک دے۔

    تقریب کے دوران نائب صدر کو اس وقت تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب مظاہرین نے ان کی تقریر میں خلل ڈالا ایک شخص نے نعرہ لگایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نسل کشی کی حمایت نہیں کرتے، جس پر وینس نے جواب دیا کہ وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کبھی نسل کشی کی حمایت نہیں کریں گے۔

    انہوں نے مظاہرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں شکر گزار ہونا چاہیے کہ صدر ٹرمپ نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات کیے اور ان کی انتظامیہ نے یہ مسئلہ حل کیا ہے وینس نے نوجوان ووٹرز کی مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے ناراضی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اگر وہ کسی پالیسی سے اختلاف رکھتے ہیں تو انہیں الگ تھلگ ہونے کے بجائے عمل میں مزید شامل ہونا چاہیے تاکہ ان کی آواز سنی جا سکے۔

    جے ڈی وینس نے پوپ لیو کی جانب سے امریکی پالیسیوں پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ وہ ان کا احترام کرتے ہیں، لیکن یہ کہنا غلط ہے کہ سیا سی رہنماؤں کو کبھی تلوار یا طاقت کا استعمال نہیں کرنا چاہیے انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا نازیوں سے فرانس کو آزاد کروانے والے امریکیوں کے ساتھ خدا نہیں تھا؟ ان کا کہنا تھا کہ ان کا جواب یقیناً ہاں میں ہے۔

    یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ اور کیتھولک چرچ کے سربراہ پوپ لیو کے درمیان ایران کے خلاف جنگی دھمکیوں پر لفظی جنگ جاری ہے،اس تمام صورتحال میں امریکی کیمپ سے مثبت اشارے مل رہے ہیں اور صدر ٹرمپ نے نیویارک پوسٹ کو بتایا ہے کہ آنے والے دنو ں میں اسلام آباد میں مزید مذاکرات ہو سکتے ہیں۔

  • امریکی نائب صدر کے گھر پر حملہ، سیکیورٹی سخت

    امریکی نائب صدر کے گھر پر حملہ، سیکیورٹی سخت

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے اوہائیو میں واقع نجی گھرپر نامعلوم شخص نے حملہ کر دیا۔

    امریکی میڈیا کےمطابق اوہائیوو میں نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کےگھر پر نامعلو م شخص نےتوڑ پھوڑ کی تاہم توڑ پھوڑ کرنیوالا شخص گھر کے اندر داخل ہونے میں ناکام رہا،واقعے کے بعد سیکیورٹی سروس نے ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا ہے اور واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں، وا قعہ اس وقت پیش آیا جب جے ڈی وینس اوران کے اہل خانہ گھرپرموجود نہیں تھے، جس کے باعث کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی،تاہم واقعے کی وائرل تصاویر میں رہائش گاہ کی ٹوٹی کھڑکیاں واضح نظر آرہی ہیں۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق نائب امریکی صدرکی رہائشگاہ کی کھڑکیوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ دیگرحصوں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے،سیکیورٹ سروس کے حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی نوعیت جاننے کے لیے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور علاقے کی سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے،جبکہ زیر حراست ملزم سے تفتیش کی جارہی ہے۔

    پی ایس ایل کی 2 نئی ٹیموں کیلئے سب سے پہلے بولی لگانے والےخریدار کون؟

    امریکی میڈیا کے مطابق حکام اس بات کا تعین کر رہے ہیں کہ یہ واقعہ انفرادی کارروائی تھا یا اس کے پیچھے کوئی منظم منصوبہ موجود تھا، تاہم مکمل تحقیقات کے بعد ہی کوئی نتیجہ اخذ کیا جا سکے گا۔

    واضح رہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس نے صدر ٹرمپ کے ہمراہ وینزویلا میں ہونے والی امریکی فوجی کارروائی کی براہ راست نگرانی کی اور اس کے بعد واپس آئے تھے۔

    عدالت کا علی امین گنڈاپور کیخلاف کل اخبارات میں اشتہارات دینے کا حکم

  • ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب جاری، نائب صدر جے ڈی وینس نے حلف اٹھالیا

    ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب جاری، نائب صدر جے ڈی وینس نے حلف اٹھالیا

    ڈونلڈ ٹرمپ 47ویں امریکی صدر کے عہدے کا حلف اٹھانے کے لیے کیپٹل ہل پہنچ گئے، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس نے اپنے عہدے کا حلف اٹھالیا۔

    غیر ملکی خبر رساں اداروں ’اے ایف پی، رائٹرز‘ کی رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے سبکدوش ہونے والے صدر جو بائیڈن کے ہمراہ کیپیٹل ہل داخل ہوتے ہوئے کہا کہ ’گڈ مارننگ‘، جبکہ جوبائیڈن نے اس سوال پر کہ کیسا محسوس کرتے ہیں، کہا کہ اچھا ہوں۔تقریب میں سابق صدور بل کلنٹن اور ان کی اہلیہ ہیلری کلنٹن، جارج بش اور ان کی اہلیہ اور بارک اوباما بھی شریک ہیں۔اس کے علاہ برطانیہ کے سابق وزیراعظم بورس جانسن، دنیا کے امیر ترین آدمی ایلون مسک، میٹا کے مالک مارک زکر برگ، گوگل کے چیف ایگزیکٹیو اور دیگر بھی تقریب میں موجود ہیں۔قبل ازیں، نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ اہلیہ کے ساتھ وائٹ ہاؤس پہنچے تھے، جہاں جو بائیڈن اور ان کی اہلیہ نے ڈونلڈ ٹرمپ اور میلانیا کا استقبال کیا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ ایگزیکٹو پاور کی حدود کو آگے بڑھانے، لاکھوں تارکین وطن کو ملک بدر کرنے، اپنے سیاسی دشمنوں کے خلاف انتقام اور عالمی سطح پر امریکا کے کردار کو تبدیل کرنے کے وعدے کے ساتھ 4 سالہ ایک اور ہنگامہ خیز میعاد کا آغاز کریں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے سے قبل معاونین نے ایگزیکٹو کارروائیوں کی تفصیلات بتائیں ہیں جن پر وہ فوری طور پر دستخط کریں گے، جس میں بارڈر سیکیورٹی اور امیگریشن ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

    حلف اٹھانے کے بعد وائٹ ہاؤس میں عہدہ سنبھالنے والے عہدیدار نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ صدر جنوبی سرحد پر قومی ایمرجنسی کا اعلان کریں گے، وہاں مسلح دستے بھیجیں گے اور سیاسی پناہ کے متلاشیوں کو میکسیکو میں اپنی امریکی عدالتی تاریخوں کا انتظار کرنے پر مجبور کرنے والی پالیسی دوبارہ شروع کریں گے۔جوبائیڈن نے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ سے الوداعی ملاقات کی تھی، ڈونلڈٹرمپ کی حلف برداری 40 سال میں پہلی بار کیپٹل ہِل کے کینن روٹنڈا ہال میں ہوگی۔ڈونلڈ ٹرمپ سے چیف جسٹس جان رابرٹس صدارت کا حلف لیں گے، واضح رہے کہ صدر ریگن کی حلف برداری بھی1985 میں شدید سردی کے سبب اسی مقام پر ہوئی تھی۔

    تلہ گنگ دھرتی کا قابلِ فخر سپوتسینیٹ اجلاس: اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور الاؤنسز سے متعلق ترمیمی بل 2025 منظور