ہنگو: قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 33 ہنگو ضمنی انتخاب کے غیرحتمی و غیرسرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف نے میدان مار لیا۔
باغی ٹی وی :این اے 33 ہنگو ضمنی انتخاب کے 210 پولنگ اسٹیشنز کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتیجے کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ندیم خیال 21ہزار 583 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ، جے یو آئی (ف) کے امیدوار عبید اللہ 17ہزار 153 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
این اے 33 میں ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جو شام 5 بجے تک بلا تعطل جاری رہا ہنگو میں قومی اسمبلی کی نشست کے لیے پی ٹی آئی، جے یو آئی ف اور اے این پی کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے حلقے کے 210 پولنگ اسٹیشنز میں 3 لاکھ 14 ہزار 77 ووٹرز رجسٹرڈ تھے-
یہ نشست تحریک انصاف کے ایم این اے حاجی خیال کے انتقال بعد خالی ہوئی تھی اور پی ٹی آئی نے اس نشست کے لیے حاجی خیال کے بیٹے کو ٹکٹ جاری کیا ہے۔
اپوزیشن کی ریڈ زون تک مارچ کرنے کی منصوبہ بندی ہے،سپیشل برانچ کی رپورٹ میں دعویٰ
سری نگرہائی وے پرجے یوآئی کا ممکنہ دھرنا، اسلام آبادہائیکورٹ کا حکم آ گیا
اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ انتظامیہ این اوسی کی خلاف ورزی پرسختی سے نمٹے،چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے اسلام آباد انتظامیہ کی درخواست پرحکم جاری کیا ،عدالت نے کہا کہ کوئی بھی قانون سے بالاترنہیں،سیاسی جماعتیں اوررہنماقانون پرعمل درآمدکےپابندہیں،چیف جسٹس اطہرمن اللہ کا تحریر کردہ فیصلہ 4 صفحات پر مشتمل ہے
قبل ازیں تحریک عدم اعتماد سے پہلے سیاسی جماعتوں کے جلسے روکنے سے متعلق کیس ،سپریم کورٹ میں ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے رپورٹ جمع کرا دی
رپورٹ میں کہا گیا کہ جے یو آئی نے سری نگر ہائی وے بلاک نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی یقین دہانی کے باوجود جے یو آئی سرینگر ہائی وے اور سروس روڈ بند کرنا چاہتی ہے،سری نگر ہائی وے اور سروس روڈ بند کرنے پر جے یو آئی کوشوکاز نوٹس جاری ہوچکاشوکاز نوٹس پر جے یو آئی سیکریٹری نے سری نگر ہائی وے بند نہ کرنے کا خط لکھا ہے، اسپیشل برانچ کی رپورٹ کے مطابق ریڈ زون تک مارچ کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے،مرکزی شاہراہیں بند کرنے اور ریڈ زون داخلے سے عوام کے جان و مال کو خطرہ ہے،این او سی کی خلاف ورزی سے اسلام آباد امن و امان کی صورتحال خراب ہوسکتی ہے،عدالتی حکم پرسری نگر ہائی وے سمیت تمام سروس روڈز کھلی رکھنے کا نوٹیفکیشن جاری کیاگیا،سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بھی سپریم کورٹ میں شاہراہیں بند نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی،
شہریوں اور شرکاء جلسہ کی آسانی اور سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹریفک پلان برائے PTI جلسہ پریڈ گراؤنڈ 27 مارچ بروز اتوار
دوسری جانب اسلام آباد انتظامیہ نے حکومت اور اپوزیشن کے جلسوں کے باعث وفاقی دارالحکومت کے ریڈزون کو مکمل سِیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یقینی بنایا جائے گا کہ پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم ورکرزکا آمنا سامنا نہ ہو جبکہ سیاسی جماعتوں کو کوئی سڑک بند نہیں کرنے دی جائے گی، ریڈ زون کی جانب جانے والے تمام راستے بند ہوں گے، ریڈ زون تک کسی کو بھی نہیں جانے دیا جائے گا
پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان اپنے آبائی حلقے ڈیرہ اسماعیل خان سے قافلے کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد پہنچیں گے،جے یوآئی مارچ کے شرکاجنوبی وزیرستان، درازندہ، ٹانک انٹر چینج پر جمع ہونگے مولانا فضل الرحمان عبد الخیل سے قافلہ کی صورت میں مارچ میں شریک ہونگے
گرفتار کارکنان،اراکین پارلیمنٹ رہا،سڑکوں پر آنے کی ضرورت باقی نہیں رہی،مولانا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز پارلیمنٹ لاجز سے گرفتار کئے گئے جے یو آئی کارکنان اور اراکین قومی اسمبلی کو رہا کر دیا گیا ہے
گرفتار کئے گئے تمام کارکنوں کو شخصی ضمانت اور ضمانتی مچلکوں پر رہا کیا گیا رہائی کے بعد جےیوآئی ف کے کارکن اور دونوں ایم این ایز تھانہ آبپارہ سے روانہ ہو گئے ہیں ،کارکنان کی رہائی کے بعد مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ صبح ہونے سے پہلے تمام ممبران قومی اسمبلی اور کارکن رہاکردیئے گئے رہائی نہ ملنے کی صورت میں ہم نے دوبارہ سڑکوں پر آنے کے لیے فیصلہ کیا تھا دوبارہ سڑکوں پر آنے کی ضرورت باقی نہیں رہی ،عدم اعتماد کی تحریک میں کامیاب ہوں گے پارلیمنٹ لاجز میں اسلام آباد پولیس نے قوانین کو روندتے ہوئے دھاوا بولا ،ممبران پارلیمنٹ پر بلاجواز تشدد کیاگیا
گزشتہ شب جے یو آئی ف کے گرفتار کارکنان کو جیل وین میں تھانہ آبپارہ متقل کیا گیا تھا وفاقی پولیس نے گزشتہ رات پارلیمنٹ لاجز میں آپریشن کے دوران ایم این اے جمال الدین اور مولانا صلاح الدین ایوبی سمیت 21 افراد کو حراست میں لیا تھا گرفتاریوں کے بعد جے یوآئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ہدایت پر جے یو آئی اور پی ڈی ایم میں شامل دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکنان نے کوئٹہ، کراچی، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور سمیت دیگر شہروں اور علاقوں میں احتجاج شروع کیا تھا تاہم مولانا فضل الرحمان کی ہدایت پراحتجاج اوردھرنا آج صبح تک ملتوی کردیا گیا تھا
کارکنوں اورارکان اسمبلی کی رہائی پرجے یوآئی (ف) کے ترجمان نے اپوزیشن قائدین اور کارکنوں کا شکریہ ادا کیا ہے ترجمان جے یو آئی کا کہنا ہے کہ اپوزیشن قائدین اور کارکنوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں،مشاورت کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا
امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا تھا کہ کہ پارلیمنٹ لاجز میں ارکان قومی اسمبلی و سینیٹ پر پولیس تشدد قابل مذمت ہے۔ کہ یہ رویہ پارلیمانی روایت کےخلاف اور بوکھلاہٹ کی علامت ہے۔ سیاسی و ذاتی مقاصد کےلیے اداروں کا استعمال افسوسناک ہے، ایسے اقدامات کا کبھی مثبت نتیجہ نہیں نکلا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو انارکی کی جانب دھکیلنے کی کوشش کی جارہی ہے ،حکومت کا یہ رویہ ملک و جمہوریت دونوں کےلیے نقصان دہ ثابت ہوگا
وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل کا کہنا ہے کہ فضل الرحمن صاحب رات بھر ادھر ادھر فون کرتے رہے مافیاؤں مانگتے رہے کہ میرے بندے چھڑوا دیں میری کچھ عزت رہ جائے گی۔ پھر اپنے بندوں سے معافی منگوائی۔ ایک ہی رات میں سارا بخار اتر گیا۔ اصلولاً انہیں چھوڑنا نہیں چاہئے تھا لیکن ہم انہیں اس بہانے سیاسی میدان سے بھاگنے نہیں دینا چاہتے
فضل الرحمن صاحب رات بھر ادھر ادھر فون کرتے رہے مافیاؤں مانگتے رہے کہ میرے بندے چھڑوا دیں میری کچھ عزت رہ جائے گی۔ پھر اپنے بندوں سے معافی منگوائی۔ ایک ہی رات میں سارا بخار اتر گیا۔ اصلولاً انہیں چھوڑنا نہیں چاہئے تھا لیکن ہم انہیں اس بہانے سیاسی میدان سے بھاگنے نہیں دینا چاہتے
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کا کہنا ہے کہ جمیعت کے غنڈوں نے کان پکڑ کر معافی مانگ لی اورنکل گئے(نہیں چھوڑنے چاہئیں تھے) لیکن اس واقعے سے جعلی دانشور ایک بار پھر ظاہر ہو گئےجو بغض عمران میں جتھوں کی بھی حمائیت سے باز نہیں آئے، اپوزیشن اور میڈیا میں ان کے حمائیتی ایک مخصوص مافیا کا حصہ ہیں جو اپنے مفادات کے کیلئے اکٹھے ہیں
جمیعت کے غنڈوں نے کان پکڑ کر معافی مانگ لی اورنکل گئے(نہیں چھوڑنے چاہئیں تھے) لیکن اس واقعے سے جعلی دانشور ایک بار پھر ظاہر ہو گئےجو بغض عمران میں جتھوں کی بھی حمائیت سے باز نہیں آئے، اپوزیشن اور میڈیا میں ان کے حمائیتی ایک مخصوص مافیا کا حصہ ہیں جو اپنے مفادات کے کیلئے اکٹھے ہیں
اراکین اسمبلی و رضارکاروں کی رہائی کے بعد آج کے تمام احتجاجی مظاہرے اور ہڑتال ملتوی کر دی گئی، جمعیت علماء اسلام کے ایم این ایز اور انصار الاسلام کے تمام کارکنان رہا کر دیئے گئے ہیں اور علی الصبح تمام ساتھیوں نے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ناشتہ کیا۔
جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے گذشتہ روز کے دلخراش واقعے پر عوام اور کارکنوں کے نام اہم پیغام جاری کیا ہے، مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ لاجز میں اسلام آباد پولیس نے تمام قوانین اور اخلاقیات کو روندتے ہوئے دھاوا بولا ۔ممبران پارلیمنٹ پر بلاجواز تشدد کیاگیا ،قوم کے منتخب نمائندوں کو گھسیٹتے ہوئے گرفتار کیا ان کے مہمانوں کو زدوکوب اور گرفتار کیا ۔واقعے کی غلط تصویر اور جھوٹ پر مبنی بیانیہ قوم کے سامنے رکھ کر تاریخ کے صفحات پر اپنے سیاہ کردار کی پردہ پوشی کی بھونڈی کوشش کی ۔جے یو آئی اور دیگر جماعتوں کے کارکنوں اور عوام کا شکر گذار ہوں کہ انہوں نے ہماری آواز پر لبیک کہتے ہوئے فوری رد عمل دیا ۔پورے ملک کو ایک گھنٹے سے کم وقت میں جام کر دیا ۔کارکنوں اور عوام کو اس فتح پر مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔صبح ہونے سے پہلے ہی تمام ممبران قومی اسمبلی اور کارکن رہا ہوچکے ہیں ۔ رہائی نہ ملنے کی صورت میں ہم دوبارہ سڑکوں پر آنے کے لئے فیصلہ کیا تھا لیکن اب اب اسکی ضرورت باقی نہیں رہی ۔
مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ جمعۃ المبارک کے اجتماعات میں شکرانہ کے نوافل ادا کریں آئندہ بھی اللہ تعالی سے فتح و نصرت کے لئے اجتماعی اور انفرادی دعاؤں کا خاص اہتمام کریں رجوع الی اللہ ہماری کامیابیوں کی ضمانت ہے ۔ اللہ سے امید ہے کہ آئندہ بھی اور خاص طور پر عدم اعتماد کی تحریک میں ہمیں اللہ کامیابی عطاء کرے گا ۔ان نااہل نالائق اور ناجائز حکمرانوں سے اللہ قوم کو نجات عطاء کرے گا ۔
قبل ازیں اسلام آباد پارلیمنٹ لاجز میں پولیس کا ایکشن سینیٹر کامران مرتضی مقدمہ درج کرانے تھانہ سیکرٹریٹ پہنچے سینیٹر کامران مرتضی نے ڈی آئی جی، اے ڈی سی اور وزیرداخلہ کیخلاف مقدمہ درج کرانے کیلئے درخواست جمع کرادی ،سینیٹر کامران مرتضی نے تھانہ سیکرٹریٹ میں درخواست جمع کرادی، کامران مرتضیٰ نے درخواست میں کہا کہ پولیس والوں نے ایم این اے کے لاجز کا دروازہ توڑا اور زبردستی اندرگھسے،پولیس نے اندر موجود لوگوں کو یرغمال بنایا، پولیس کے ساتھ اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنر بھی لاج میں موجود تھے اے ڈی سی نے کہا ہمیں اوپر سے حکم ہے،پولیس نے ہم پر دھاوا بولا اور زبردستی ہمارے ایم این اے اور ان کے مہمانوں کو گرفتار کیا،پولیس نے مجھ پر دیگر لوگوں پر تشدد کیا،پولیس دو ایم این ایز اور ان کے مہمانوں کو اغواء کرکے لے گئی،اے ڈی سی، ڈی آئی جی، اور وزیرداخلہ کی ایماء پر ہم پرتشدد کیا، آئی جی بھی ان کے ساتھ رابطے میں تھے۔مقدمہ درج کیا جائے،
پشاور: پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ غریب کی سکت ختم ہوگئی،عوام بغاوت کی طرف جارہے ہیں-
باغی ٹی وی : صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملکی معیشت کو قبضے میں لیا جا رہا ہے، تحریک انصاف کو ووٹ دینے والے ملک ڈبونے میں شریک ہونے جا رہے ہیں، ملک بنانے کا کیا مقصد تھا کہ اور اسے تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے، بجلی مہنگی کر دی گئی جبکہ 12 ہزار کمانے والے کا بل 7، 8 ہزار آتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات آرہے ہیں کہ عوام بغاوت کی طرف جارہے ہیں، اب فیصلے کی گھڑی ہے، غریب کی سکت ختم ہوگئی، دوائی نہیں لے سکتا، اسکول فیس نہیں دے سکتا، مرکزی بینک پارلیمنٹ، حکومت اور وزیر اعظم کو جواب دہ نہیں ہے، ہم نے مرکزی بینک گروی رکھ دیا ہے، ہمیں کوئی قرض دینے والا نہیں، سال میں ایک بجٹ آتا ہے یہاں چار آتے ہیں۔
سربراہ جے یو آئی نے کہا پنجاب کے گورنر کے مطابق آئی ایم ایف نے سب لکھوا لیا ہے، ایف بی آر کہتا ہے پاکستان دیوالیہ ہو چکا ہے، ناجائز حکومت اور تین سال کی کارکردگی سامنے آگئی ہے، ووٹ عوام کا حق ہے، حق چوری کیا گیا، واپس لوٹائیں گے۔
مولانا کا مزید کہنا تھا کہ تمام جماعتوں نے دھاندلی زدہ الیکشن کو مسترد کیا، ہم ایک ہفتے میں تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا، پورے ملک میں الیکشن نتائج تبدیل کیے گئے۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ اپنی ذات کیلئے نہیں ملک کو بچانے کیلئے ووٹ مانگ رہے ہیں، ووٹ عوام کا حق ہے جسے ایمانداری سے لوٹائیں گے، ساڑھے تین سال میں نااہل حکمرانوں کی نالائقی کھل کر سامنے آگئی ہے، ملکی معیشت کا جنازہ نکال دیا گیا،ہم سے تو بنگلہ دیش، سمیت ٹوٹے پھوٹے افغانستان کی معیشت مستحکم ہے ، ڈیرہ اسماعیل خان کی سیاست سنجیدگی کی سوچ کی ہے جس نے مفتی محمود جیسے لیڈر پیدا کئے ، ہمارے مقابلے میں ان لوگوں کو لایا گیا جن کا نام لیتے ہوئے مجھے شرم آتی ہے، جس طرح عمران خان نے پاکستان کی کشتی ڈبوئی یہاں کے جعلی نمائندے ڈیرہ کو ڈبو رہے ہیں، پاکستان کو ڈوبنے دیں گے نہ ڈیرہ کو، حکمران ملک کو امریکی کالونی بنانا چاہتے ہیں، ان کے ناپاک عزائم کیخلاف سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے رہیں گے،مسئلہ کفیل نظامی کا نہیں ہے،عوام فیصلہ کریں کہ بلے کو ووٹ دیکر ملک کو تباہ کرنا ہے یا کتاب کو ووٹ دیکر ملک کو آباد کرنا ہے۔؟
جلسہ سے عالمی ختم بنوت کے مبلغ مولانا اللہ وسایا، مولانا عبید الرحمن ،مفتی عبدالواحد قریشی،شیخ الحدیث مولانا اشرف علی، چوہدری اشفاق ایڈوکیٹ، مرکزی انجمن تاجران کے صدرراجہ اختر علی،ڈیرہ وال گروپ کے سربراہ سہیل راجپوت مسلم لیگ ن کے جنرل سیکرٹری چوہدری ریاض ایڈوکیٹ، قاضی عبدالحلیم، خالد ناز، شریف چوہان اور قاری اعجاز فاروقی سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔کراچی سے آئے ہوئے شاعر بھائی حافظ منیر احمد نے اپنی شاعری سے شرکاء کے دلوں کو گرمایا۔ جلسہ کے دوران شرکاء کا جذبہ دیدنی تھ اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ضلعی پولیس اور جے یو آئی کے سالاروں نے سیکورٹی انتظامات سنبھالے۔
عالمی ختم نبوت کے مبلغ مولانا اللہ وسایا کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت نے آسیہ ملعونہ کو عدالت سے موت کی سزا کے باوجود نہ صرف رہا کیا بلکہ باعزت طور پر امریکہ کے حوالے کیا جس سے خیبر سے کراچی تک ختم نبوت کے پروانوں سمیت ہر اہل ایمان میں اضطراب پایا جاتا ہے، قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن نے تحفظ ختم نبوت کیلئے ملک بھر میں ملین مارچ کئے جس سے موجودہ حکومت جو تحفظ نبوت کے قانون میں ترمیم کے حوالے سے ان کے ارادے خاک میں ملادیئے اور پی ٹی آئی حکومت اپنے ان ناپاک عزائم پر ایک انچ بھی عمل نہیں کرسکی۔میرا ووٹ کل بھی جمعیت علمائے اسلام کیلئے تھا اور آج بھی تن من دھن سے جمعیت علمائے اسلام کے انتخابی نشان ”کتاب” کے ساتھ ہوں۔ ختم نبوت سے محبت رکھنے والے جے یو آئی کی کامیابی میں اپنا کردار ادا کریں۔
مقررین نے اپنے اپنے خطاب میں جمعیت علمائے اسلام کے نامزد امیدوار سٹیء میئر تحصیل ڈیرہ کفیل احمد نظامی کی کامیابی کیلئے عوام کو ان کے حق میں ووٹ پول کرنے کی ترغیب بھی دی۔ مرکزی امیر جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوںکے نام پر ووٹ خریدے جارہے ہیں، کروڑوں روپے ضمانت کے طور پر رکھوائے جارہے ہیں، مفتی محمود گومل یونیورسٹی ڈیرہ میں لائے، لفٹ کینال منصوبہ لائے، کس سے کونسی ضمانت رکھوائی، ہم اسی ویژن کو آگے لے جارہے ہیں، لفٹ کینال منصوبے کی منظوری کرائی، اسے کس نے روکا؟۔
مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے دور حکومت میںمفتی محمود ہسپتال، سول ہسپتال کی اپگریڈیشن ، گومل زام، ٹانک زام، زرعی یونیورسٹی جیسے منصوبے دیئے، دامان سمیت کس نے ہمیں ووٹ دینے کیلئے ہم سے کوئی ضمانت مانگی، میڑک تک مفت تعلیم کے وعدے کے تحت پرائمری سے انٹرمیڈیٹ تک مفت تعلیم اور کتابیں دیں، بعد کی حکومتیں اس کو جاری نہ رکھ سکیں۔ہم نے اپنے دور حکومت میں فیصلہ کیا تھا کہ تمام اضلاع میں اے گریڈ ہسپتال بنائیں گے اور 12اضلاع میں یہ منصوبے مکمل کئے، آج ہسپتالوں میں ایک روپے کی ادویات تک نہیں ملتیں-
انہوں نے کہا کہ خدمت خلق شریعت کا حصہ ہے، سیاست کی طرح خدمت خلق بھی انبیاء کی میراث ہے جسے کاروبار بنا دیا گیا،سیاست کاروبار نہیں نظریئے کا نام ہے، ووٹ کیلئے رشوت دینا ملکی سیاست کا جنازہ نکالنے کے مترادف ہے۔مسئلہ کفیل نظامی کا نہیں ہے،یہ ہمارا برخوردار ہے، بلے کو ووٹ دیکر ملک کو تباہ کرنا ہے یا کتاب کو ووٹ دیکر ملک کو آباد کرنا ہے۔آج اس اجتماع سے پیغام لیکر گھر گھر، گلی گلی اور ہر چوک و بیٹھک پرجائیں اور لوگوں کو سمجھائیں کہ فیصلے کااختیار آپ کے ہاتھ میں آیا ہے تو آپ کے ہاتھ نہیں کانپنے چاہئیں، اللہ تعالی ہمیں پاکستان کو بچانے کی توفیق دے، ہم خطے کی بقاء اور روشن مستقبل کیلئے آپ کے پاس آئے ہیں
واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں حکومت کو ہٹانے کے لیے تمام ممکنہ آپشنز پر غور کیا گیا اور شرکا نے پارٹی قیادت پربھرپور اعتماد کا اظہار کیاعلاوہ ازیں پارٹی کے قائد نواز شریف نے شہبازشریف کو حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیموکریکٹ موومنٹ (پی ڈی ایم) کا اجلاس فوری بلانے کی ہدایت کردی ہے اجلاس سے خطاب کے دوران نواز شریف نے کہا کہ شہباز شریف پی ڈی ایم اجلاس میں عدم اعتماد سمیت قانونی راستے اختیار کرنے کے لیے کردار ادا کریں۔
جبکہ مسلم لیگ (ن) کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ عمران حکومت کو جانا ہوگا، اس پر پارٹی میں مکمل اتفاق رائے ہے-
نوشہرہ: پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی بے بنیاد شکست سے متعلق خبریں چل رہی ہیں۔
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق صوبہ خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک ںے کہا کہ ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں جے یو آئی نے 19 ، پی ٹی آئی نے 17 اوراے این پی نے 4 نشستیں حاصل کی ہیں پی ٹی آئی نے دو ڈویژنوں میں سب سے زیادہ ووٹ لیے ہیں۔
دفاع پرویز خان خٹک نے کہا ہے کہ جمعیت علماء اسلام کے امیدوار خود حیران و پریشان ہیں کہ انہیں بلدیاتی انتخابات میں اتنا ووٹ کس طرح ملا، نہ تو ان کے پولنگ ایجنٹ تھے اور نہ ہی انہوں نے کوئی انتخابی مہم چلائی تھی پی ٹی آئی اب بھی ملک کی سب سے بڑی سیاسی قوت ہے، جس نے کے پی کے کی 17 تحصیلوں میں کامیابی حاصل کی۔
پرویز خٹک نے کہا کہ وزیراعلیٰ محمود خان کی قیادت میں بیشتر آزاد امیدوار تحریک انصاف میں شامل ہورہے ہیں انسان غلطیوں سے سبق سیکھتا ہے، دوسرے مرحلے میں پی ٹی آئی کلین سوئپ کرے گی۔
پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ کارکنوں کی رائے سے ویلیج کونسل کی سطح پر پی ٹی آئی کی تنظیم سازی کی جائے گی اورنچلی سطح کی تنظیم کو مضبوط بنایا جائے گا نوشہرہ کو ایک نیا اسپتال ملے گا جس میں تمام ضروری سہولتیں میسر ہوں گے اور ہمارے مریضوں کو علاج کے لیے پشاور جانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔
وزیر دفاع نے کہا کہ اسی طرح ہاسٹل اور میڈیکل کالج کی بلڈنگیں بھی جلد تیار ہو جائیں گی انہوں نے کہا کہ میں خود کنسٹرکشن کا کام کرتا ہوں لہذا مجھے پتہ ہے کام کیسے ہوتے ہیں؟ 100 کروڑ روپے کی لاگت سے ہم نے پل بنایا ہے جب کہ 2013 میں وعدہ کیا تھا کہ موٹروے انٹرچینج اور پل بناؤں گا۔
پرویز خٹک نے کہا کہ اس وقت میں نے وعدہ کیا تھا کہ وفاق میں آتے ہی اپنے وعدے پورے کروں گا اور آج پل بن گیا ہے جب کہ موٹروے انٹرچینج کی منظوری ہوچکی ہے، جلد بن جائے گا۔
اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے میئر بنوں کی نشست پر دوبارہ گنتی کا حکم معطل کر دیا۔
باغی ٹی وی :الیکشن کمیشن نے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے عرفان درانی کی درخواست پر عبوری حکم جاری کیا تاہم اس سے قبل ریٹرننگ افسر نے تمام پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ گنتی کا حکم دیا تھا۔
جے یو آئی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ 10 ہزار سے کم مارجن پر ہی دوبارہ گنتی ہو سکتی ہے الیکشن کمیشن نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ جواب ہفتے طلب کر لیا۔
دوسری جانب لکی مروت، دوبارہ گنتی میں ٹرائبل سب ڈویژن بیٹنی کے تحصیل چیئرمین کا نتیجہ تبدیل ہو گیاجے یو آئی کے مولانا انور بادشاہ ایک ہزار21 ووٹ لےکرچیئرمین منتخب ہو گئے پی ٹی آئی کے نور گل 647 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پرآئے احتجاج کے بعد دوبارہ گنتی کے احکامات جاری کیے گئے تھے،
خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں 19 دسمبر کو صوبے کے 17 اضلاع کی 61 تحصیل کونسلز کی نشستوں میں سے 60 جبکہ 5 سٹی کونسلز کی نشستوں میں سے 4 پر پولنگ ہوئی۔ جن کے نتائج تقریباً مکمل ہوچکے ہیں۔ چیئرمین تحصیل کونسل کی جس ایک نشست پر پولنگ نہیں ہوئی وہ بنوں کی تحصیل بکا خیل ہے۔ جہاں پولنگ سٹیشن میں ہنگامہ آرائی کے بعد پولنگ ملتوی کر دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ سٹی کونسل کی بھی ایک نشست ڈی آئی خان پر پولنگ نہیں ہوئی۔ اس نشست پر اے این پی کے امیدوار کو قتل کیے جانے پر پولنگ ملتوی ہوئی۔ یعنی مجموعی طور پر تحصیل کونسلز کی 60 اور سٹی کونسلز کی 4 نشستوں پر انتخابات ہوئے۔
اب تک 60 تحصیل کونسلز میں سے 52 کے نتائج سامنے آچکے ہیں۔ جن میں سے 17 نشستیں جے یو آئی، 14 پی ٹی آئی اور 9 آزاد امیدواروں نے جیتیں۔ جب کہ اے این پی نے 5، ن لیگ نے 3، جماعت اسلامی نے 2، پیپلز پارٹی اور تحریک اصلاحات پاکستان نے ایک ایک نشست حاصل کی-
وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ نے بلدیاتی انتخابات میں شکست کی وجوہات کے حوالے سے رپورٹ طلب کر لی, بلدیاتی انتخابات میں شکست پر پاکستان تحریک انصاف نے بڑی کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے پارٹی امیدواروں کو سپورٹ نہ کرنے والے ارکان اسمبلی کی فہرستیں طلب کرلیں۔ ن ارکان اسمبلی کو پہلے مرحلے میں نوٹس جاری کرنے اور کارروائی کے لیے وزیراعظم سے رابطے کا فیصلہ کیا گیا ہے-
مہنگائی کا بلدیاتی انتخابات سے کوئی تعلق نہیں،کامران بنگش
خیبر پختونخواہ کے صوبائی وزیر کامران بنگش نے کہا ہے کہ 17اضلاع میں پی ٹی آئی کے امیدوار تھے ،
صوبائی وزیر کامران بنگش کا کہنا تھا کہ ہمارے ناراض ارکان بھی امیدوار تھے،پی ٹی آئی کی مقبولیت کا گراف نہیں گرا، مسائل ہرجگہ ہوتے ہیں،وزیراعظم کہہ چکے ہیں ٹکٹ کی غلط تقسیم نے شکست کا موقع پید ا کیا،ہم آگے کمزوریوں کا جائزہ لیں گے اور اصلاح کریں گے،پشاورمیں بلدیاتی انتخابات کی صورتحال عجیب رہی الیکشن سے 3 دن پہلے ایک امیدوار کے والد نے کہا 20 کروڑ روپے جیت کے لیے لگائے دھاندلی کے الزام نہیں لگا رہے ،ایک شخص اعتراف کررہاہے اس کا نوٹس لینا چاہیے،مہنگائی کا بلدیاتی انتخابات سے کوئی تعلق نہیں ، وزرا کا مہنگائی کوبلدیاتی انتخابات میں شکست وجہ قراردینا ان کی آرا ہیں،پی ٹی آئی سے وابستگی ہے ،ہار پر افسوس ہے ،ہم غلطیوں سے سیکھ کرآگے بڑھنے کی کوشش کریں گے
وفاقی وزیر فواد چودھری کا کہنا ہے کہ اس وقت اگر پی ٹی آئی کمزورہوئی توملک بھیڑیوں کےہاتھ لگ جائےگا۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پو اپنے ٹوئٹ میں خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں شکست پر کہا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت اورکارکنان ذاتی اختلافات پس پشت ڈالیں عمران خان کی قیادت میں خود کومنظم کریں۔
اگر JUI جیسی شدت پسند جماعتیں PTI کا متبادل ہیں تو واقعی آپ کی بات درست ہے ، PTI کی لیڈرشپ اور کارکنان اس صورتحال میں ذاتی اختلافات کو پس پشت ڈالیں اور عمران خان کی قیادت میں خود کو منظم کریں اس وقت اگر PTI کمزور ہوئ تو ملک بھیڑیوں کے ہاتھ لگ جائیگا https://t.co/3tIXzSzStZ
انہوں نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اس وقت اگر پی ٹی آئی کمزورہوئی توملک بھیڑیوں کےہاتھ لگ جائے گا جے یوآئی جیسی شدت پسند جماعتیں پی ٹی آئی کا متبادل نہیں ۔
انہوں نے ایک اور ٹویٹ میں قرضوں کی ادائیگیوں کا موازنہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی 12.27 ارب ڈالر ہے آئندہ مالی سال 2023 میں غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی 12.5 ارب ڈالر ہوگی۔
Foreign debt payment this year alone is $12.27bn and about same $12.5bn in FY23
Overall In PTI 5 years total debt payments would be around $55bn vs $27bn paid by PMLN in 5 years #economy
وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے 5 سال دور حکومت میں مجموعی قرض ادائیگیاں 55 ارب ڈالر ہوں گی مسلم لیگ ن نے 5 سالہ حکومت میں 27 ارب ڈالر بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی۔
دوسری جانب بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کے پی کے بلدیاتی انتخابات میں غلطیاں کیں اور قیمت چکائی، وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ غلط امیدواروں کا انتخاب سب سے بڑا سبب بنا ، اب سے ذاتی طورپر بلدیاتی انتخابات کی نگرانی کروں گا، دوسرے مرحلے سمیت پورے ملک کے بلدیاتی انتخابات نگرانی کروں گا،آئندہ تحریک انصاف مضبوط بن کرسامنے آئے گی-
واضح رہے کہ تحریک انصاف کے سیاسی قلعے خیبرپختونخوا میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن میں جے یو آئی نے میدان مار لیا ہے، جے یو آئی کے امیدواروں نے تحریک انصاف حکمران جماعت کو شکست دے دی ہے، بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کو میئرز کے الیکشن میں شکست کا سامنا ہے اسی طرح چیئرمین تحصیل کونسلز کے انتخابات میں بھی جے یو آئی (ف) کے امیدواران آگے ہیں پشاور، مردان، بنوں اور کوہاٹ میں میئر کے لیے پی ٹی آئی کا کوئی امیدوار کامیاب نہیں ہو سکا-
جیت کی خوشی میں فائرنگ سے جیتنے والا جاں بحق،پولیس ان ایکشن
پولیس کی جانب سے ہوائی فائرنگ کے تدارک کے لئے بھر پور مہم چلائی گئی ہے
ترجمان پشاور پولیس کی جانب سے کہا گیا کہ مہم کے تحت نامزد امیدواروں کے ساتھ ملاقاتیں کی گئیں اسی طرح سوشل میڈیا پر بھی آگاہی مہم چلائی گئی تاہم ناعاقبت اندیش افراد کے حوالے سے شکایات موصول ہوئیں ہیں ابتدائی طور پر کینٹ ڈویژن سے ہوائی فائرنگ میں ملوث افراد کو گرفتار کیا گیا ہے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو ہوائی فائرنگ میں ملوث افراد کی شناخت کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے شناخت کے بعد ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی
شہر کے نواحی علاقہ موسی زئی میں کامیاب امیدوار خود ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے اپنی ہی فائرنگ کی زد میں آ کر جاں بحق ہوا ہے فائرنگ سے کسی معصوم کے ساتھ ساتھ آپ کی جان بھی جا سکتی ہے
واضح رہے کہ بلدیاتی الیکشن کے نتایج کا سلسلہ جاری ہے، خیبر پختونخواہ میں ہونے والے میئرالیکشنز میں پشاور،بنوں اور کوہاٹ میں جے یوآئی آگے ہے، جے یو آئی کے پی میں تبدیلی لے کر آ گئی ہے، پشاور کی سٹی میئرشپ کے لئے جے یو آئی کے امیدوارزبیرعلی آگے اورتحریک انصاف کےرضوان بنگش دوسرے نمبر ہر ہیں
اب تک 237 پولنگ اسٹیشنز کے غیرحتمی غیرسرکاری نتائج کے مطابق جے یو آئی ف کے زبیر علی 24ہزار 80 ووٹ کے ساتھ آگے ہیں ۔ تحریک انصاف کے رضوان بنگش 21ہزار 148ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔بنوں میں بھی سٹی میئر کے الیکشن میں جے یو آئی ف کو برتری حاصل ہے۔ غیرسرکاری غیرحتمی نتائج کے مطابق ،جےیو آئی کے امیدوار عرفان اللہ 37 ہزار سے زائد ووٹوں کے ساتھ آگے ہیں۔ پی ٹی آئی کے اقبال جدون 24ہزار ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبرپر ہیں۔
بلدیاتی الیکشن، پشاور سمیت میئر کی تین سیٹوں میں جے یو آئی آگے
بلدیاتی الیکشن کے نتایج کا سلسلہ جاری ہے، خیبر پختونخواہ میں ہونے والے میئرالیکشنز میں پشاور،بنوں اور کوہاٹ میں جے یوآئی آگے ہے، جے یو آئی کے پی میں تبدیلی لے کر آ گئی ہے، پشاور کی سٹی میئرشپ کے لئے جے یو آئی کے امیدوار زبیرعلی آگے اورتحریک انصاف کے رضوان بنگش دوسرے نمبر ہر ہیں
اب تک 237 پولنگ اسٹیشنز کے غیرحتمی غیرسرکاری نتائج کے مطابق جے یو آئی ف کے زبیر علی 24ہزار 80 ووٹ کے ساتھ آگے ہیں ۔ تحریک انصاف کے رضوان بنگش 21ہزار 148 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔بنوں میں بھی سٹی میئر کے الیکشن میں جے یو آئی ف کو برتری حاصل ہے۔ غیرسرکاری غیرحتمی نتائج کے مطابق ،جےیو آئی کے امیدوار عرفان اللہ 37 ہزار سے زائد ووٹوں کے ساتھ آگے ہیں۔ پی ٹی آئی کے اقبال جدون 24ہزار ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبرپر ہیں۔
کوہاٹ میں سٹی میئر کے الیکشن میں جے یو آئی ف آگے ہیں۔ غیرسرکاری غیرحتمی نتائج کے مطابق ، جے یو آئی کے امیدوار شیر زمان 19ہزار ووٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر، آزاد امیدوار شفیع اللہ کا 18ہزار ووٹوں کے ساتھ دوسرا نمبر ہیں۔
مردان میں سٹی میئر کے انتخاب میں اے این پی کو واضح برتری حاصل ہے۔ غیرسرکاری غیرحتمی نتائج کے مطابق ، عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار حمایت اللہ 27ہزار سے زائد ووٹوں کے ساتھ سب سے آگے ہیں۔ جے یو آئی کے امانت شاہ 18 ہزار ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔
اب تک کے موصول ہونے والے اٹھائیس ویلج کونسل کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق گیارہ آزادامیدوار ویلج کونسل کی نشستوں پرمنتخب ہوئے ہیں جے یو آئی اور اے این پی کے 6، 6، پی ٹی آئی کے 3، جماعت اسلامی اور مسلم لیگ (ن) کا ایک، ایک امیدوار ویلج کونسل کی نشست پرکامیاب ہوا ہے۔
چارسدہ تحصیل چیئرمین، 386میں240پولنگ اسٹیشنز کے غیر سرکاری نتائج ،جے یوآئی کے مفتی عبدالروف شاکر 48 ہزار432ووٹ لے کر آگے ،اے این پی کے تیمور خٹک26ہزار231ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر پی ٹی آئی کے حاجی ظفر خان 15ہزار 734ووٹ لے کر تیسرے نمبر پرہیں
مردان تحصیل گڑھی کپورہ مکمل نتیجہ ، اے این پی کے بختاور خان 20244 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، ؛ جے یوآئی کے ملک ایاز 17399 ووٹ کیساتھ دوسرے نمبر پررہے، پی ٹی آئی کے امیدوار شاہ فیصل 14000 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے
تحصیل کونسل صوابی کے غیر سرکاری نتائج پی ٹی آئی کے عطااللہ29ہزار363ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے،اے این پی کے محمد اکمل خان 21ہزار50ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے
تحصیل چمکنی چئیرمین نشست کے سرکاری نتائج ، عوامی نیشنل پارٹی کے ارباب محمد عمر 24 ہزار 425 ووٹ لیکر کامیاب ہو گئے، پی ٹی آئی کے نبی گل 20 ہزار 398 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبرپر،جے یوآئی ف کے خالد وقار 16 ہزار 750 ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے،
تحصیل کاٹلنگ چیئرمین شپ ، تحصیل کاٹلنگ سے جے یو آئی کے مفتی حماد اللہ یوسفزئی 30474 ووٹ لیکر کامیاب ہو گئے، اے این پی کے فضل الرحمان 18186 ووٹ کیساتھ دوسرے نمبر پر رہے
ہری پورتحصیل غازی میں ن لیگ کے قاسم شاہ 18 ہزار 355 ووٹ لےکرکامیاب ہو گئے، آزاد امیدوارخیام اسلام 12 ہزار 416 ووٹ لے سکے ،تحصیل میئرکرک،پی ٹی آئی امیدوارعظمت خٹک 23 ہزار 512 لے کرکامیاب ہو گئے، عوامی نیشنل پارٹی کےعبدالرحمان 9870 ووٹ لے کردوسرے نمبرپر رہے،تحصیل شبقدر،جےیوآئی کےحمزہ آصف 33 ہزار 244 ووٹ لے کرکامیاب ہو گئے، پی ٹی آئی کے شاہد اللہ 14 ہزار 416 ووٹ لے کردوسرے نمبرپر رہے،تحصیل جہانگیرہ،پی ٹی آئی امیدوارکامران رزاق 32 ہزار 124 ووٹ لے کرکامیاب ہو گئے، پیپلزپارٹی کے جمشیدخان 27 ہزار 931 ووٹ لےکردوسرے نمبرپررہے
جے یو آئی اور پاک سرزمین پارٹی کا ایک ہو کر چلنے کا فیصلہ
پاک سر زمین پارٹی کے اعلیٰ سطحی وفد کی وائس چیئرمین ڈاکٹر ارشد وہرہ اور شبیر قائم خانی کی قیادت میں جمعیت علمائے اسلام کراچی کے دفتر الجمعیت سیکٹریٹ آمد ، جے یوآئی کے صوبائی نائب امیر مولانا عبد الکریم عابد نے وفد کے ہمراہ ان کا استقبال کیا ۔ اس موقع پر جے یوآئی کی صوبائی مجلس عاملہ کے اراکین مولانا محمد غیاث، مولانا سمیع الحق سواتی، مولانا امین اللہ، شرف الدین اندھڑ، ضلعی امراء ونظما عمومی مولانا احسان اللہ ٹکروی ، سید اکبر شاہ ہاشمی، مولانا سید حماد اللہ شاہ، مفتی محمد خالد ، انجینئر محمد سلیم ،مولانا سلطان محمود جبکہ پی ایس پی کے عمران ترین ایڈوکیٹ ودیگر بھی موجود تھے۔
جے یوآئی اور پی ایس پی رہنماؤں نے اس موقع پر سندھ میں نئے بلدیاتی نظام کے حوالے سے ترمیمی آرڈیننس پر تفصیلی مشاورت کی ، ان کا کہنا تھا کہ نیا بلدیاتی نظام شہری علاقوں کو محکوم کرنے کے مترادف ہے، بلدیاتی اداروں پر سندھ کی حکمران جماعت کی ہٹ دھرمی قابل مذمت ہے، شہری اور دیہی علاقوں میں وسائل کی سنگین تفریق سے صوبے میں نیا بحران جنم لے سکتا ہے۔
بعد ازاں الجمعیۃ سیکریٹریٹ بنوری ٹاؤن میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالکریم عابد اور ڈاکٹر ارشد وہرہ کا کہنا تھا کہ کراچی سمیت تمام شہری اور دیہی علاقوں کا درد رکھنے والی جماعتوں کو یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشترکہ پلیٹ فارم پر آنا ہوگا ،انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی انانیت کی وجہ سے کراچی مسائل کے دلدل میں دھنستا چلا جارہا ہے ، تمام محکموں کے دفاتر کسی سیاسی جماعت کے اکھاڑے کا منظر پیش کررہے ہیں جو کہ قابل مذمت ہے ، اس موقع پر جمعیت علمائے اسلام اور پاک سرزمین پارٹی کے رہنماؤں نے کراچی کے مسائل کے حل کیلئے آنے والے دنوں میں دوبارہ بیٹھک کا اعادہ بھی کیا ۔
قبل ازیں مسلم لیگ ن سندھ کے رہنما قادر بخش کلمتی نے سندھ اسمبلی سے منظور بلدیاتی نظام کے بل اور ناقص کارگردگی پر ضلع کاونسل کراچی کو رد کرتے ہوئے سندھ حکومت کو مسلم لیگ ن کی جانب سے مجوزہ متبادل بلدیاتی نظام دینے کا اعلان کیا ہے گزشتہ روز عوامی پریس کلب ملیر میں اپنے ساتھیوں سلیم بلوچ،خرم عباس بھٹی اور عاشرالبرک کے ہمراہ ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ سندھ کی بدقسمتی ہے کہ جمہوریت کے نام پر ایسے حکمران مسلط کیے گئے ہیں جو ہر پانچ سال کے بعد اپنی حکمرانی کو طول دینے کے لئے بلدیاتی نظام کو تبدیل کرتے رہے ہیں سندھ کے موجودہ حکمرانوں نے بھی 2013 کے مشرف کے بلدیاتی نظام کو 2021 میں بحال کرکے کے ایم سی پر قبضے اور ملیر کی زمینوں کو ہڑپ کرنے کی سازش تیار کرلی ہے جسے مسلم لیگ ن کبھی بھی قبول نہیں کرے گی
انہوں نے کہا کہ بل کی منظوری کے وقت ملیر سے منتخب نمائندے نہ صرف موجود تھے لیکن انہوں نے بھرپور تائید بھی کی اب ان کو بیچارہ کہہ کر یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ سندھ حکومت نے بل کی منظوری سے قبل ملیر کے نمائندوں کو اعتماد میں نہیں لیا جو سراسر عوام سے مزاق ہے انہوں نے کہا کہ موجودہ بل کے ذریعے مسلط کردہ بلدیاتی نظام چوہ چوہ کا مربہ اور حلقہ بندیاں زیگ زیگ کی بنیاد پر کی جائیں گی جس کے بعد ملیر کے مقامی لوگوں کے پاس 30 سالہ زمین کی قانونی حیثیت ختم ہوجائے گی انہوں نے بحریا ٹاون کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ آج بھی انتظامیا صدیوں سے آباد مقامی لوگوں سے زبردستی کوڑیوں کے دام خرید کی جارہی ہے جو انکار کرتا ہے اس کے خلاف انتقامی کاروائی کی جارہی ہے انہوں نے سندھ سمیت ضلع ملیر کے نوجوانوں سیاسی سماجی کارکنان اور سول سوسائٹی کو غیر جانبدار کے لفظ سے باہر آکر اپنے حقوق کے حصول کے لئے کسی سیاسی جماعت کا فریق بننا پڑے گا بصورت دیگر ان کے حقوق حاصل نہیں ہوسکیں گے