Baaghi TV

Tag: حاجی فضل محمود انجم

  • احیاۓ نشاط ثانیہ کی ضرورت و اہمیت — حاجی فضل محمود انجم

    احیاۓ نشاط ثانیہ کی ضرورت و اہمیت — حاجی فضل محمود انجم

    چنگیز خان کا پوتا ہلاکو خان بغداد پہ حملہ آور ہوتا ہے اور شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا کر اسے تاخت و تاراج اور تہس نہس کر دیتا ہے۔ہر طرف تباہی و بربادی دکھائی دیتی ہے۔

    شہر کو تباہ و برباد کرنے کے بعد وہ اپنا دربار منعقد کرتا ہے۔اس کا رعب و دبدبہ عروج پر ہے۔کیوں نہ ہو ؟ اسلئے کہ وہ فاتح ہے۔وقت کا حاکم ہے اور حاکم بھی وہ جو سفاکیت اور بربریت کی ایک زندہ تصویر ہے۔ایسے میں اس کے سامنے مسلمانوں کے خلیفہ "معتصم” کو لایا جاتا ہے جو سر تا پا زنجیروں اور بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے۔محکوم خلیفہ اپنے حاکم کے سامنے حسرت و یاس کی تصویر بن کر موجود ہے۔ اسی دوران کھانے کا وقت ہو جاتا ہے۔ہلاکو کے سامنے سادہ کھانا رکھا جاتا ہے اور معتصم کے سامنے ہیرے جواہرات اور سونے چاندی سے بھرے ہوۓ طشت رکھ دئیے جاتے ہیں۔ہلاکو زنجیروں میں جکڑے معزول خلیفہ کو کھانا شروع کرنے کیلئے کہتا ہے۔معتصم حیران ہو کر ہلاکو کی طرف دیکھتا ہے۔ہلاکو کڑک دار آواز میں اسے کہتا ہے:-

    ” کھاؤ، پیٹ بھر کر کھاؤ، جو سونا چاندی تم اکٹھا کرتے تھے وہ کھاؤ "بغداد کا خلیفہ اور مسلمانوں کا تاجدار بے بسی و بےچارگی کی تصویر بنا کھڑا ہے اور کہتا ہے ” میں یہ کیسے کھاؤں یہ کوئی کھانے کی چیز ہے” ہلاکو فورا” کہتا ہے کہ اگر یہ کھانے کی چیز نہیں ہے تو تو نے یہ سونا اور چاندی ہیرے اور جواہرات جمع کیوں کئے۔افسوس اس بات پر کہ وہ مسلمان جسے اس کا دین ہتھیار بنانے گھوڑے پالنے اور جہاد کی تیاری کا حکم دیتا ہے ان کا خلیفہ اس کی بات کا کوئی جواب نہ دے سکا۔ہلاکو کے سوال ایک تازیانہ بن کر اس پہ برس رہے تھے لیکن معتصم بس ایک ہی جواب دے سکا اور وہ یہ کہ ” اللہ کی یہی مرضی تھی” ہلاکو اسے کہتا ہے کہ "اب تمہارے ساتھ جو گا یہ بھی اسی اللہ ہی کی مرضی ہو گی۔
    ہلاکو خان نے معتصم بااللہ کو مخصوص لبادے میں لپیٹ کر گھوڑوں کی ٹاپوں تلے روندنے کا حکم دیا اور چشم فلک نے دیکھا کہ ظلم و بربریت کے دلدادہ اس شخص نے بغداد کو مسلمانوں کیلئے قبرستان بنا دیا ۔ہلاکو نے کہا ” آج میں نے بغداد کو ‏صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا ہے اور آج کے بعد دنیا کی کوئی طاقت اسے پہلے والا بغداد نہیں بنا سکے گی اور ایسا ہی ہوا۔سقوط بغداد سے لیکر آج تک اس شہر کو وہ پہلے جیسی حیثیت دوبارا نہ مل سکی لیکن مسلمان قوم نے اس پر بھی کوئی سبق نہ سیکھا بلکہ ان اندوہناک گھڑیوں میں بھی اس وقت کے مسلمان علماء اور وارثان محراب و منبر پورے کروفر اور جبہ و دستار کے ساتھ بغداد کی مسجدوں اور گلیوں میں اس بات پر مناظرے کر رہے تھے کہ "کوا حلال ہے یا حرام ہے”

    ہم اہنے برصغیر کی بات کریں تو ذرا تصور کریں کہ جب یورپ کے چپے چپے پر تجربہ گاہیں اور تحقیقاتی مراکز قائم ہو رہے تھے تب یہاں کا ایک بادشاہ شاہجہاں اپنی دولت و ثروت کا سہارا لے کر اپنی محبوبہ کی یاد میں دنیا کا عجوبہ تاج محل تعمیر کروا رہا تھا لیکن دوسری طرف اس کے مقابلے میں برطانیہ کا بادشاہ اپنی ملکہ کے ڈلیوری کی حالت میں وفات پا جانے پر کنگ ایڈورڈ میڈیکل اسکول کی بنیادیں رکھ رہا تھا اس دور میں ہمارے یہاں بادشاہوں کے درباروں میں گوئیے اور بھانڈ قبضہ کئے ہوۓ تھے۔ خوبصورت اور نازک اندام رقاصاؤں سے دل بہلاۓ جا رہے تھے اور مسخرے بادشاہ سلامت کی دلجوئی و تفنن طبع کیلئے ہمہ وقت موجود تھے تو اس وقت یورپ میں بڑی بڑی یونیورسٹیاں اور درسگاہیں بنائی جارہی تھیں۔ادھر ہمارے ارباب بست و کشاد شراب و کباب و شراب سے لطف اندوز ہونے میں مصروف تھے ادھر یورپ میں بحری بیڑے تیار کئے جا رہے تھے۔

    ادھر رقص و سرود کی محفلیں برپا تھیں جہاں تان سین اور دوسرے گلوکار اپنی تانیں بکھیر رہے تھے تو ادھر یورپ میں علوم و فنون کے سوتے پھوٹ رہے تھے اور نت نئی ایجادات ہو رہی تھیں۔ادھر عیاشی و فحاشی کا دور دورہ تھا تو ادھر صلیب کے رکھوالے پوری دنیا کو زیر دام لانے کے لئے منصوبے بنا رہے تھے۔سلطنت برطانیہ میں سورج کا غروب نہ ہونا اس کی واضح مثال ہے۔مسلمان بادشاہوں کی عیاشیوں کے ضمن میں صرف ایک مثال محمد شاہ رنگیلا کی دینا چاہوں گا۔ محمد شاہ رنگیلا کے شب و روز کا معمول یہ تھا کہ صبح کے وقت وہ درشن کیلئے جھروکے میں جا کر بیٹھ جاتا ۔ کوئی سوالی آ جاتا تو اس کی داد و فریاد سن لیتا نہ آتا تو بٹیروں اور ہاتھیوں کی لڑائیوں سے دل بہلاتا رہتا ۔ سہ پہر کے وقت بازی گروں نقالوں اور بھانڈوں کے فن سے لطف اندوز ہوتا جبکہ اس کی شامیں رقص و موسیقی کی محفلوں میں گزرتیں اور راتیں حسین و جمیل دوشیزاؤں اور حرم میں موجود لونڈیوں سے داد عیش دیتے ہوۓ بیت جاتیں۔بادشاہ کو ایک اور شوق بھی تھا۔ وہ اکثر زنانہ لباس پہننا پسند کرتے تھے اور ریشمی پشواز زیبِ تن فرما کر دربار میں تشریف لاتے تھے، اس وقت ان کے پاؤں میں موتیوں جڑے جوتے ہوا کرتے تھے۔”محمد شاہ رنگیلا کتنا رنگیلا” نامی کتاب اس کی ان داستانوں سے بھری پڑی ہے جس میں یہ بھی لکھا ہے کہ اس نے غصے میں آکر اپنی پسندیدہ گائیکہ کو اپنا پہنا ہوا جوتا دے مارا اور وہ جوتا اس سے واپس نہیں لیا۔یہ جوتا اپنی قیمت کے اعتبار سے اس عورت کی سات نسلوں کیلئے کافی تھا۔

    قارئین دوسری طرف یہ تاریخ بڑی بے رحم ہے۔اسے اس بات سے کچھ غرض نہیں ہوتی کہ بادشاہ کے پاس دولت تھی یا نہیں تھی۔اس کے دربار میں خوشامدی مراثی طبلہ نواز بھانڈ اور جی حضورئیے موجود تھے یا نہیں تھے بلکہ تاریخ صرف اور صرف اس کی حاصل کی گئی کامیابیاں دیکھتی ہے وہ اس کے علاوہ وہ اور کچھ نہیں دیکھتی اور نہ ہی کوئی اور عذر قبول کرتی ہے۔ لیکن ہم نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور ہم وہی پریکٹس اب بھی جاری رکھے ہوۓ ہیں ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ اصل میں علم و ہنر سے دوری ہی ہمارے زوال کا اہم سبب ہے۔ آج ہم علم و ہنر سے محرومی ہی کی وجہ سے زوال کا شکار ہیں ۔ کل جب قدرت نے عروج اور ترقی کا تاج ہمارے سروں پر رکھا تھا تو ہم اسے مضبوطی سے تھام نہ سکے ۔ ہم علم و ہنر کے فروغ سے روگردانی کے مرتکب ہوئے تھے اور ایسی کوئی بنیاد نہیں رکھ سکے تھے، جس کے بل بوتے پر ہم اپنے لیے دوبارہ ترقی کی عمارت تعمیر کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ جب سے ہم آخری مرتبہ گرے ہیں تو اب تک نہیں سنبھل سکے۔اقبال نے کیاخوب کہا تھا :-

    گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
    ثریا سے زمیں پہ آسماں نے ہم کو دے مارا

    حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی قوم جب اخلاقی برائیوں میں گھر جاتی ہے اور حرام کاری، زنا کاری، اور برے کاموں کی حدوں کو پار کرلیتی ہے تو اللہ رب العالمین اس پہ اسی جیسے حکمران مقرر کر دیتا ہے اور  دوسری اقوام کو ان پر مسلط کردیتا ہے، اگر وہ ایک سلجھی ہوئی اور سمجھدار قوم ہے تو ڈوبنے کے بعد دوبارہ ابھرنے کی کوشش کرتی ہے، لیکن اگر اس کے اندر اپنا محاسبہ کرنے خود کو سدھارنے اور حالات سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہوتی تو پھر وہ تاریخ کے صفحات میں گم ہوجاتی ہے اور ایک قصہ پارینہ بن کے رہ جاتی ہے۔ہمیں اب اس بات پہ غور کرنا ہے کہ اگرہم بطور مسلمان چاہتے ہیں کہ وہ خیر امت ہی رہیں تو انہیں اپنی نسلوں کو تعلیم سے آراستہ و پیراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ دین کا خوگر بنانا ہوگا، انہیں صحیح غلط کا فرق سمجھانا ہوگا،انہیں اچھے اور برے کی تمیز سکھانا ہوگی۔ انہیں حلال و حرام کی تمیز سکھانی ہو گی، انہیں اخلاق کی اعلی قدروں پہ فائز کرنا ہوگا، تبھی جا کے حقیقی کامیابی نصیب ہو پائے گی، ورنہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ان پہ گھیرا تنگ ہوتا جائے گا اور اخیر میں سر پٹک پٹک کے دعائیں مانگنے سے بھی کچھ حاصل نہیں ہوگا اور ہم یونہی دنیا میں ذلیل و خوار ہوتے رہیں گے۔کبھی بے ایمانی کی بنیاد ہر۔کبھی بد عنوانی کی بنیاد پر اور کبھی اخلاقی بنیاد پر اور پھر سانحہ بغداد جیسا کوئی ہمارے تعاقب میں ہوگا۔

  • اتحاد امت کیوں ضروری ؟ — حاجی فضل محمود انجم

    اتحاد امت کیوں ضروری ؟ — حاجی فضل محمود انجم

    کچھ دن پہلے ہمارے شہر منچن آباد کے ایک مشہور و معروف عالم دین اور معلم سے کچھ دوستوں کے ہمراہ ملاقات ہوئی اور یہ ملاقات ایک تبلیغی اور اصلاحی محفل میں تبدیل ہو گئی۔اس محفل کا لب لباب اور حاصل یہ تھا کہ فی زمانہ ہم اپنے آپ کو مسلمان کہلانے کی بجاۓ مسلکی اعتبار سے اپنی پہچان کروانا اور اسی لحاظ سے اپنے آپ کو پروموٹ کروانا زیادہ اچھا خیال کرتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمارا یہ رویہ اتحاد امت اور قومی یکجہتی کے بلکل منافی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہمارا اسلامی تشخص اب پارا پارا ہونے کو ہے۔ان کا یہ کہنا تھا کہ آج صورت حال یہ ہو چکی ہے کہ ہم ان حقوق کو بھی اپنے مسلکی نکتہ نظر سے دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں جو بطور مسلمان ہم پہ فرض ہیں۔حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشاد کہ "ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر حق ہے کہ اگر کوئی

    (1)-سلام کرے تو اس کا جواب دیا جاۓ

    (2)- کوئی بیمار ہے تو اس کی عیادت کی جاۓ

    (3)-کوئی فوت ہو جاۓ تو اس کے جنازے میں شرکت کی جاۓ

    لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے ان فرائض کی ادائیگی کو بھی اہنے مسلک کے ساتھ نتھی کر لیا ہے۔ہم سلام اسی شخص سے لینا زیادہ پسند کرتے ہیں جو ہمارا ہم مسلک ہے۔بیمار کی عیادت اسی کی کرتے ہیں جو یمارے اپنے مسلک کا ہے اور نماز جنازہ بھی اسی کی پڑھی جاتی ہے جو مسلکا” ہمارے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور ساتھ ہی نماز جنازہ کی ادائیگی بھی اپنے مسلک کے مدرسے میں رکھنی ہے۔ہمیں کسی غیر مسلک کی وفات پر اتنا دکھ نہیں ہوتا جتنا اپنے ہم مسلک شخص کی وفات پر ہوتا ہے ۔

    ایک مسلمان اور حضور کا امتی یہ دنیا ہمیشہ ہمیشہ کیلئے چھوڑ کر جا رہا ہے لیکن ہم اسے بھی اپنے مسلک کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔

    حالانکہ آقاۓ دو جہاں کی تعلیمات یہ نہیں ہیں۔آپ نے تو یہاں تک کیا کہ ایک یہودی بچے کے بیمار ہونے پہ اسکی عیادت اس کے گھر جا کر کی جو حضور کے ساتھ مسجد نبوی میں بیٹھا کرتا تھا اور ایک کافر عورت جوکہ حضور کے گلی سے گزرتے ہوۓ سر مبارک پہ کوڑا پھینکا کرتی تھی اس کی بھی بیمار پرسی کی۔ہمارا یہ رویہ بطور مسلمان ہمارے اتحاد کو ٹکڑے ٹکڑے کر رہا ہے۔

    اس پہ کام کرنے کی ضرورت ہے اس سے پہلے کہ ہمارے اس روئیے کی بناء پر یہ امت انتشار کا شکار ہو جاۓ۔ان کا کہنا تھا کہ ان باتوں پہ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم کیوں اس قسم کے رویوں کا شکار ہو رہے ہیں؟۔ہمیں اتحاد امت کو فروغ دینا چاہئے اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ "اپنا مسلک چھوڑو نہیں اور دوسرے کو چھیڑو نہیں” اللہ پاک ہمیں ہدائت دے۔

  • غریب عوام جینے کا حق مانگتی ہے!!! — حاجی فضل محمود انجم

    غریب عوام جینے کا حق مانگتی ہے!!! — حاجی فضل محمود انجم

    پیٹرول کی قیمت میں دوبارہ اضافے کا اعلان کیا ہوا کہ میرے لئے تو کمبختی آ گئی۔وہ یوں کہ رات گئے جونہی حکومت نے پندرہ دنوں بعد پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کا اعلان کیا تو "ماما بلو” جسے مجھ سے ملے ہوۓ کافی عرصہ ہو گیا تھا وہ آن دھمکا اور لگا ہاتھ اٹھا اٹھا کر صلواتیں سنانے-! یہ ہے تمہاری حکومت جس نے اب پھر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھا دی ہے۔کیسی ہے یہ حکومت ؟ جو دن کے اوقات میں قیمتیں بڑھانے کی سمری کو مسترد کرتی ہے اور جونہی رات کا اندھیرا چھا جاتا ہے۔اور لوگ سونے کی کوشش میں ہوتے ہیں تو ایسے میں تم قیمتیں بڑھانے کا اعلان کر دیتے ہو تاکہ سوۓ ہوۓ لوگ صبح بیدار ہوں تو ان کو یہ روح فرسا خبر ملے اور ان کے آنے والے پورے دن کا ستیاناس کر دے۔ آخر آپ چاہتے کیا ہیں-؟

    یہی کہ لوگ اب مر جائیں کیونکہ پہلے ہی اتنی مہنگائی ہو چکی ہے کہ اب یہی راستہ ان کے پاس رہ گیا ہے کہ وہ خودکشی کر لیں۔نہ صرف خود مر جائیں بلکہ اپنی "جیا جنت "کو بھی ساتھ لیکر ملک عدم کو سدھار جائیں۔

    آپ نے حکومت میں آتے وقت دعوے تو بہت بڑے بڑے کئے تھے۔اب وہ سب دعوے کیا ہوۓ۔؟عوام کو ریلیف دینے کا دعویٰ۔لوڈ شیڈنگ کو ختم کرنے کا دعویٰ۔عوام کو سہولیات دینے کا دعویٰ۔مہنگائی کو ختم کرنے کا دعویٰ- عوام میں ہائی جانے والی بے چینی کو کم کرنے کا دعویٰ۔ذخیرہ اندوز مافیا کو لگام دینے کا دعویٰ۔صحت اور تعلیم کی سہولیات کو عام کرنے کا دعویٰ۔

    معاشرے میں موجود نا انصافی اور استحصال کو جڑ سے اکھاڑنے کا دعویٰ۔یہ سب دعوے اب کیا ہوۓ۔لوگ تو اب مایوس ہونے لگے ہیں آپ سے بھی اور وہ بھی اتنی جلدی-! ۔لیکن جب کوئی آپ سے اس بارے میں پوچھتا ہے تو آپ اس بحران کو سابقہ حکومت کے کھاتے میں ڈالنا شروع کر دیتے ہو۔او بھائی-! یہ سابقہ حکومت کا گند تھا تو آپ نے کیوں اسے اپنے کندھوں پہ اٹھا لیا۔؟ کیوں ان کی برائیوں کو اپنی جھولی میں ڈال لیا۔؟ چلنے دیتے ان کو اور کچھ عرصہ اپنے ان کرتوتوں کیساتھ۔اگر ملک کی بھلائی اور عوام کی اشک سوئی ہی آپ کا مقصد تھا تو اب وہ مقصد کہاں گیا۔؟

    معلوم ہوا تمہارے پاس کوئی پالیسی کوئی پلان اور کوئی منصوبہ تھا ہی نہیں۔ایسا لگتا ہے کہ تم بھی بغیر کسی تیاری کے آۓ ہو ان سابقہ حکمرانوں کی طرح جنہیں حکومت کرنے کا تو کوئی تجربہ ہی نہ تھا سواۓ ملک کو لوٹنے کے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ تم صرف نے سابقہ حکمرانوں کے بغض میں اس بھاری پتھر کو چوما ہے۔

    "ماما بلو” اپنی لمبی چوڑی اس تقریر کے بعد جب اپنے دل کی بھڑاس نکال چکا تو میں نے اسے کہا کہ تمہاری یہ باتیں بلکل سچ ہیں۔ نئی آنے والی موجودہ اتحادی حکومت نے بھی تحریک عدم اعتماد میں کامیابی کے ذریعے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ  دعویٰ کیا تھا کہ اس کی پہلی ترجیح  یہ ہو گی کہ ملک کی معاشی اور اقتصادی کارکردگی کو بہتر بنایا جاۓ اور  اس کیساتھ   ساتھ افراط زر میں بڑھتی ہوئی شرح کو کم کیا جاۓ گا مگرحالیہ دو مہینوں میں روز مرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں جو  ہوشربا اضافہ ہوا ہے اور اس کیساتھ ساتھ  بجلی اور گیس کے نرخوں میں جو  اضافہ ہوا ہے اس نے  تو عوام کی کمر ہی توڑ کر رکھ  دی ہے بلکہ اس کی چیخیں ہی نکال دیں ہیں-

    اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ حکومت بظاہر صرف دعووں پر جی رہی ہے  اور وعدوں پر انحصارکر رہی ہے اور عوام کو سہولت پہنچانے اور مہنگائی ختم کرنے کے یہ دعوے اب دھوکہ سمجھے جانے لگے ہیں کیونکہ اب اس طرف کسی کی بھی کوئی نظر یا توجہ نہیں ہے۔صرف یہ کہہ دینا کہ اس مہنگائی کے ذمہ دار سابقہ حکمران ہیں کوئی جواب نہیں ہے۔وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف جنہیں حکومت کرنے کا وسیع تجربہ ہے وہ بھی بے بس دکھائی دیتے ہیں کیونکہ یہ حکومت اتحادیوں کے رحم و کرم پر ہونے کی وجہ سے کمزور وکٹ پر کھڑی ہے اور انہیں خوش کر کے اور ان کے مفادات پورے کر کے ہی حکومت کی جا سکتی ہے ۔

    اس اتحادی حکومت نے آتے ہی قرضہ لینے کی خاطر آئی ایم ایف کے مطالبے پر صرف پندرہ دنوں کے اندر اندر تیل کی قیمتوں میں چوراسی روپے کا خطیر اور ہوشربا اضافہ کیا تھا جس سے ہر وہ شخص بلبلاء کے رہ گیا جو کما کے کھاتا ہے۔جو مزدور ہے جو دیہاڑی دار ہے۔ جو ٹھیلے والا اور سبزی فروش ہے اور جو پینشنر ہے۔ مہنگائی کی یہ شرح اسی طرح بڑھتی رہی تو وہ وقت دور نہیں بلکہ اب وہ وقت آ چکا ہے اور کسی بھی وقت یہ لاوا پھٹنے کو ہے ۔ موجودہ حکومت نے آئے روز بجلی گیس پٹرول سمیت اشیائے خوردونوش میں اضافہ کرکے عوام کی پریشانیوں میں اضافہ کیا ہے۔

    اگرچہ حکومت کی طرف سے سرکاری یوٹیلیٹی سٹورز  پر  کئی اشیاء کم قیمت پر فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے لیکن آبادی کے تناسب سے انہتائی کم تعداد پر موجود ان سٹوروں پر ساری اشیائے خردو نوش دستیاب نہیں ہیں اور شومئی قسمت ان یوٹیلیٹی اسٹورز سے بھی لوگ مطمن نہیں ہیں اور اکثر لوگ ان کی انتظامیہ کے بارے میں یہ  شکائیت کرتے ہوۓ نظر آتے ہیں کہ بعض اشیاء جیسے چینی اور گھی باہر ہی باہر اپنے تعلق داروں یا دوکانداروں کو فروخت کر دیا جاتا ہے اور عوام اس سے محروم ہی رہتی ہے۔

    اس وقت یوٹیلیٹی سٹورز کے باہر لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں نظر آ رہی ہیں اور لوگ ہاتھوں میں پیسے لئے آٹے گھی اور چینی کی تلاش میں جگہ جگہ مارے مارے پھرتے دکھائی دے رہے ہیں مگر ان کے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔وہ سارا سارا دن ذلیل و خوار ہو کر شام کو بے نیل و مرام اپنے گھر واپس چلے جاتے ہیں۔

    اس بد نظمی ہی کی وجہ سے آج ہمارا ہر شعبہ زندگی انحطاط کا شکار ہے۔ہر جگہ کوئی نہ کوئی مافیا قبضہ جماۓ بیٹھا ہے۔بلکل اسی طرح سیاست کا شعبہ بھی بد ترین فرعونیت کا شکار ہے۔ ہر ایک خود کو ہی جمہوریت کا ٹھیکیدار اور چیمپین سمجھتا ہے اور کسی دوسرے کو برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتا۔موجودہ سیاسی بحران اس کی بہترین مثال ہے۔ آئین کو ایک کھلونا بنا کے رکھ دیا ہے۔

    بڑے بڑے آئینی عہدیدار ہی آئینی خلاف ورزیاں کر رہے ہیں۔اسی لئے ہماری عدلیہ پہ بھی بوجھ بڑھ گیا ہے۔عام لوگوں کے سالہا سال تک فیصلے نہیں ہوتے اور وہ انصاف کیلئے ترستے اور جیلوں میں بند رہتے ہیں دوسری طرف پوری دنیا میں قاعدہ یہ ہے کہ ٹیکس امیروں سے لیا جاتا ہے اور اسے غریبوں کی فلاح و بہبود پہ خرچ کیا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں اس کے بلکل برعکس ہے۔یہاں غریبوں سے ٹیکس لیا جاتا ہے اور امیروں پہ خرچ کیا جاتا ہے۔غریبوں سے بجلی کے بل اس پہ انواع و اقسام کے اضافی ٹیکس لگا کر لئے جاتے ہیں اور امیروں اور واپڈا اہلکاروں کو بجلی مفت مہیا کی جاتی ہے۔موجودہ ماہ کے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ پرائس کے نام پر ہزاروں روپے ڈال دئے گئے ہیں ۔

    طرفہ تماشہ یہ ہے کہ اس پہ کسی قسم کا کوئی تاسف یا پریشانی کا اظہار بھی نہیں کیا جاتا اور بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اسے بلوں میں شامل کر دیا جاتا ہے۔یہ بہت بڑا ظلم ہے جو واپڈا نے غریب عوام پہ ڈھا رکھا ہے ۔ غریبوں کیلئے تیل مہنگا کیا جاتا ہے اور اہل ثروت اور اہل اقتدار کیلئے اس کے مفت کوٹے مقرر ہیں۔حکومت اگر کسی چیز پہ سبسڈی دیتی ہے تو اس سبسڈی کا بہت بڑا حصہ یہ بڑی بڑی توندوں اور پیٹوں والے کھا جاتے ہیں اور غریب بیچارا بھوکا رہ جاتا ہے۔

    ہماری تاریخ گواہ ہے کہ یہی وہ رویہ ہے جس نے ملک کو استحکام نصیب نہیں ہونے دیا۔جو بھی حکومت میں آتا ہے وہ فرعون بن بیٹھتا ہے اور دوسرا اس کی ٹانگیں کھینچنا شروع کر دیتا ہے ۔پولیس اور انتظامیہ کا مورال ڈاؤن کرنے کیلئے پروگرام بناۓ جاتے ہیں اور انہیں برسر اقتدار آنے کی صورت میں سزا کی دھمکیاں دی جاتی ہیں ۔ زیادہ دور کی بات نہیں جب نوے کی دہائی میں دو سیاسی پارٹیوں نے حکومت میں ہونے کے باوجود ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے وہ وہ جتن کئے جو آج بھی ریکارڈ پر ہیں اور یہی کچھ بعد میں آنے والوں نے بھی کیا اور کسی کو کام نہ کرنے دیا بلکہ احتجاج دھرنے اور لانگ مارچ کر کے ایک دوسرے کو زچ کرنے کی کوشش کی۔ نتیجے کے طور پر حکومتیں بر طرف ہوئیں اور ہر برطرفی کے پیچھے جمہوریت کے کسی نہ کسی دعویدار اور ٹھیکیدار کا ہاتھ ہی محسوس کیا گیا۔

    سوال یہ ہے اب شکائیت کس سے کریں کہ کب تک ایسا ہوتا رہیگا اور کب تک عوام مہنگائی نا انصافی اور ظلم کی چکی میں پستی رہے گی اور کب تک امیر اور غریب کے درمیان موجود یہ تقسیم باقی رہے گی۔؟ دنیا داروں نے تو جینے کا حق ہی چھین لیا۔لہذا اب شکائیت صرف اللہ سے ہے جو قادر مطلق ہے اور پالنے والا ہے سب جہانوں کا۔ اسلئے خدارا سوچو۔سوچو -! اس ملک کی بہتری کیلئے اس کی بقاء اور ترقی کیلئے اس کے استحکام اور حفاظت کیلئے کیونکہ یہ ملک ہی ہے جس کی بناء پر دنیا میں ہماری پہچان ہے۔

  • وطن عزیز اور نوجوانوں سے وابستہ توقعات — حاجی فضل محمود انجم

    وطن عزیز اور نوجوانوں سے وابستہ توقعات — حاجی فضل محمود انجم

    آج میں نے ارادہ کیا تھا کہ ہمارے وطن عزیز پاکستان کے آنے والے جشن آزادی کے بارے میں کالم تحریر کرونگا۔لکھنے بیٹھا تو لکھنے کا موڈ ہی نہیں بن رہا تھا۔بہتیرا سوچا کہ جشن آزادی کے حوالے سے کوئی ایسا گوشہ ذہن میں آجاۓ جس پہ سیر حاصل بحث کی جا سکے لیکن الفاظ تھے کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ایسے محسوس ہوتا تھا کہ ایک جمود ہے جو سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت پہ قبضہ جما چکا ہے۔اسی اڈھیر بن میں تھا کہ معا” میرے ڈرائنگ روم کا دروازہ کھلا اور "ماما بلو”اندر داخل ہوا۔”ماما بلو”میرے شہر کی ایک ایسی شخصیت ہے جسے میں اپنا راہنماء اور مربی سمجھتا ہوں حالانکہ وہ چٹا ان پڑھ ہے۔کسی اسکول مدرسے یا کسی بھی تعلیمی ادارے کی اس نے آج تک شکل ہی نہیں دیکھی لیکن میں جب بھی لکھنے لکھانے میں کسی الجھن کا شکار ہوتا ہوں تو وہ آکر میری اس مشکل کو آسانی میں تبدیل کر دیتا ہے۔آج بھی ایسا ہی ہوا۔مجھے پریشان دیکھ کر کہنے لگا کہ صاحب آج آپ کچھ پریشان سے دکھائی دے رہے ہیں۔آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے۔میں نے اسے بتایا کہ ماما بلو -! طبیعت تو ٹھیک ہے بس آج پاکستان کے آنے والے جشن آزادی کی بارے میں کچھ لکھنا چاہ رہا تھا لیکن الفاظ ہیں کہ باوجود کوشش کے انکی آمد ہی نہیں ہو رہی۔میری بات سن کر کہنے لگا واہ صاحب یہ بھی کوئی بات ہے-! آپ نے لکھنا ہی ہے تو آجکل کی "یوتھ” کے بارے میں لکھیں اور یہ لکھیں کہ پاکستان بناتے وقت ہم نے اس نوجوان نسل سے کیا توقعات وابستہ کی تھیں اور ساتھ ہی یہ کہ آیا اس نوجوان نسل سے ہماری وہ توقعات پوری ہوئی ہیں یا نہیں جن کی ہم ان سے توقع کر رہے تھے ۔میں نے اسے کہا کہ "ماما بلو”تو ہی بتا -! تیری اس بارے میں کیا راۓ ہے۔؟ کہنے لگا صاحب میں تو ایک پڑھ آدمی ہوں لیکن آجکل کے نوجوان کو دیکھتا ہوں تو مجھے تو یہی لگتا ہے کہ ہم اپنے اس خواب کی تعبیر سے ابھی کوسوں دور ہیں۔میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا صاحب-! سب سمجھتے ہیں کہ نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ زندہ قومیں اپنے طلبہ اور نوجوانوں کو مستقبل کا معمار سمجھتی ہیں کیونکہ یہ نوجوان ہی ہوتے ہیں جو انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی اپنے کام سے اپنی کوشش سے اور اپنے جذبہ جنوں سے اپنے ملک کا نام روشن کرتے ہیں۔علامہ اقبال نے بھی انہی نوجوانوں کو ہی اپنا شاہین قرار دیا تھا اور وہ ان کیلئے دعائیں کرتے تھے۔انہوں نے کہا تھا کہ :-

    جوانوں کو میری آہ سحر دے
    پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے
    خدایا -! آرزو میری یہی ہے
    میرا نور بصیرت عام کر دے

    علامہ اقبال نے ان نوجوانوں کو انکے اسلاف کے کارنامے یاد دلا کر یہ کہا تھا کہ تو ایک ایسی قوم کا نوجوان ہے جس نے ماضی میں تمام دنیا پہ حکومت کی تھی اور ہر سو اپنا سکہ جمایا ہوا تھا۔اقبال نے انہیں ان کے اسلاف یاد دلاتے ہوۓ کہا تھا کہ:-

    کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے
    وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
    تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں
    کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاج سر دارا۔

    علامہ اقبال کے بعد بانی پاکستان حضرت قائد اعظم نے بھی نوجوانوں کو مستقبل کا معمار قرار دیا تھا۔انہوں نے نوجوانوں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے یوں فرمایا:

    ’’نوجوان طلبا میرے قابل اعتماد کارکن ہیں۔ تحریک پاکستان میں انھوں نے ناقابل فراموش خدمات سرانجام دی ہیں۔ طلباء نے اپنے بے پناہ جوش اور ولولے سے قوم کی تقدیر بدل ڈالی ہے۔‘‘ 1937 کے کلکتہ کے اجلاس میں قائد اعظم ؒنے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

    ’’نئی نسل کے نوجوانوں آپ میں سے اکثر ترقی کی منازل طے کرکے اقبال اور جناح بنیں گے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ قوم کا مستقبل آپ لوگوں کے ہاتھوں میں مضبوط رہے گا۔‘

    ملک کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھوں میں مضبوط رہے گا۔یہی تھی وہ امید اور توقع جو قیام پاکستان کے موقع پر ہمارے اسلاف نے ان سے لگائی تھی مگر بدقسمتی سے ہم اس وقت کے نوجوانوں سے اب محروم ہو چکے ہیں۔اب ہمارا واسطہ جن نوجوانوں سے ہے ان میں تو سابقہ نوجوانوں کی خصوصیات کا عشر عشیر بھی نہیں ہے۔شائد ایسے ہی نوجوانوں کیلئے اقبال نے کہا تھا:-

    تجھے آباء سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی
    کہ تو گفتار وہ کردار تو ثابت وہ سیارا

    آج کا نوجوان تن آسان ہے۔وہ اپنی مردانگی کے جوہر میدان کارزار میں نہیں بلکہ سوشل میڈیا یعنی فیس بک۔ وٹس ایپ۔ ٹویٹر۔ میسنجر ۔یو ٹیوب۔ ٹک ٹاک اور اسی طرح کی دوسری سائٹس کے میدان میں دکھلانا زیادہ پسند کرتا ہے۔جہاں وہ اپنی سوچ اپنی فکر اور اپنے خیالات سے مطابقت نہ رکھنے والوں کی پگڑیاں اچھالتا ہے۔ان کی تضحیک کرتا ہے۔ان کا ٹھٹھہ اڑاتا ہے۔ان کو دقیانوس اور نہ جانے کیا کیا خیال کرتا ہے۔آج کا نوجوان تحقیق سے مہنہ موڑ کر تقلید کے پیچھے بھاگتا ہے۔

    اس طرح جو کچھ اسے پڑھایا جاتا ہے وہ اسی پہ کاربند ہو کے رہ جاتا ہے۔لوگ انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنے مفادات کے حصول کیلئے انہیں استعمال کرتے ہیں اور یہ نوجوان بلا کچھ سوچے سمجھے اور غور و فکر کئے ان لوگوں کے پیچھے چل دیتے ہیں۔پھر یہ انہی کی زبان بولتے ہیں اور انہی کے افکار کو اپنا لیتے ہیں ۔ ان میں کچھ ایسے گروہ اور سیاسی پارٹیاں بھی شامل ہیں جو ان نوجوانوں کو اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے اور اپنے ایجنڈے کی ترویج کیلئے استعمال کرتی ہیں۔

    ایسے لوگوں کے مقاصد کبھی بھی اچھے نہیں ہو سکتے اس لئے وہ نوجونوں کو گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں۔ان لوگوں کے ارادوں میں اگر کوئی شخص یا تنظیم مزاحم ہونے کی کوشش کرتی ہے تو یہ لوگ ٹرولنگ شروع کر دیتے ہیں اور اس کی عزت کو تار تار کر دیتے ہیں۔

    فی زمانہ حالات اب اس نہج پہ پہنچ چکے ہیں کہ سارے کا ہمارا سارا معاشرہ پراگندہ خیالی اور ذہنی پستی کی آماجگاہ بنتا جا رہا ہے۔معاشرے کی اس  حالت کے پس منظر میں بہت سے عوامل کارفرما ہیں جنہوں نے ایک مشرقی ثقافت۔ رہن سہن اور بود و باش کو گہنا کے رکھ دیا ہے۔کہاں وہ وقت کہ کہ ننگے سر بیٹی اپنے باپ کے سامنے آتے ہوۓ گھبراتی تھی اور ایک بھائی اسے اپنی عزت و وقار کے منافی خیال کرتا تھا کہ اس کی بہن اس کے سامنے اونچی آواز میں بات کرے اور اس کے سامنے آپنے آپ کو تھوڑا سا بنا سنوار لے۔

    یہی بہنیں جب اپنے بھائی کو ذرا غصے میں دیکھتی تھیں تو ڈر کے مارے ان کا خون خشک ہو جایا کرتا تھا۔اس لئے نہیں کہ اس کا  بھائی کوئی خونخوار قسم کی مخلوق ہوتا تھا یا یہ کہ وہ کسی جلاد  فیملی سے تعلق رکھتا تھا۔بھائی اپنی بہنوں سے پیار بھی رج کے کرتے تھے اور اس کی بات ماننا اور اس کی ضرویات کو پورا کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے۔بلکہ وہ اپنی بہن کی خوشیوں کی خاطر اپنا تن من دھن بھی اس کے اوپر وار دیا کرتے تھے۔جب یہ حالات تھے تو معاشرہ بھی بڑا آئیڈیل تصور کیا جاتا تھا۔مان بہن بیٹی کو سب کی سانجھی سمجھا جاتا تھا۔

    یہاں تک کہ یہ بھی دیکھا گیا کہ جب کسی بچی کی شادی ہوتی تو پورا گاؤں بارات کا استقبال کیا کرتا تھا اور سب گاؤں والے مل کر اس بچی کو اس کے پیا گھر پہنچانے کیلئے اپنا کردار ادا کیا کرتے تھے۔مگر آج اس سوشل میڈیا نے ان ساری اقدار و روایات کو ملیا میٹ اور تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔

    آج ہمارے معاشرے کی حالت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں مگر سمجھدار لوگ وہی ہوتے ہیں جو ایسے لوگوں کی ہرزہ سرائیوں پہ توجہ نہیں کرتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ کسی دل جلے کو اس کی تضحیک آمیز ہرزہ سرائیوں کا جواب دینا ضروری نہیں۔ یہ تن آسان مخلوق کا مقصد اور نصب العین صرف یہی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر اپنی نبض رواں رکھنا چاہتی ہے اسلئے وہ اسی کو اپنی کامیابی خیال کرتے ہیں ۔

    ہمارا ایمان ہے، "وتعز من تشاء و تذل من تشاء” اگر کوئی مغلظ اور متنفر لہجے میں اپنی خباثت کا اظہار کرے تو اسے نظر انداز فرمائیں ، اپنے شہر اور علاقہ کے حوالے سے دستیاب سرکاری مشینری اور وسائل سے عوام کی خدمت کریں۔ آپس کی تلخیوں اور شکر رنجیوں کو پس پشت ڈال کر بھائی چارے کو مضبوط بنائیں اور اپنے نوجوانوں کی اچھی تربیت کریں۔

  • افتراک و انتشار مسلم امہ کیلئے لمحہ فکریہ — حاجی فضل محمود انجم

    افتراک و انتشار مسلم امہ کیلئے لمحہ فکریہ — حاجی فضل محمود انجم

    لوگوں کو مختلف قوموں، ذاتوں اور سیاسی و مذہبی فرقوں میں اسی لیئے تقسيم کیا جاتا ہے، تاکہ وہ کسی ظلم کے خلاف متحدہ ہو کر آواز نہ اٹھا سکیں.یہ کتنی ستم ظریفی کی بات ہے آج پوری دنیا میں مسلمان ابتلاء و آزمائش سے دوچار ہیں۔دنیا کے جس کونے میں بھی جائیں مسلمان قوم کسی نہ کسی مسلے سے ضرور دوچار ہو گی۔

    اس صورت حال کے پیچھے دوسری وجوہات و عوامل کے ساتھ ساتھ اس قوم کی اپنی بد اعمالیاں بھی شامل ہیں۔تاریخ عالم کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے مسلم امہ میں اس انتشار و افتراک کا آغاز خلیفہ راشد حضرت عثمان غنی رضی اللہ و تعالیٰ عنہ کے سانحہ شہادت سے ہی ہو گیا تھا۔ سیدنا عثمان غنی کو شہید کرنے کی یہ سازش درحقیقت اسلامی تاریخ کی سب سے اولین اور سب سے عظیم سازش تھی ، یہ سازش دراصل عبداللہ بن سباء اور اس کے منافقین ساتھیوں کی کاروائی تھی جو درحقیقت صرف حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف ہی نہ تھی بلکہ عالم اسلام اور تمام مسلمانوں کے خلاف تھی۔

    آپ کی شہادت کے بعد وہ دن ہے اور آج کا دن مسلمان تفرقہ اور آپس کے انتشار میں کچھ ایسے گرفتار ہوئے کہ آج تک اس کے گرداب اور چنگل سے نکل نہیں سکے۔حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہ کی خلافت کا سارا دور بھی نہ صرف اسی طرح کے آپس میں اختلافات ریشہ دوانیوں اور انتشار کی حالت میں گزرا۔بلکہ مسلمانوں کے مختلف گروہوں حتیٰ کہ حضرت علی کرم اللہ وجہ اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھاء کے درمیان جنگیں تک لڑی گئیں۔

    اس بناء پر مسلمان کمزور سے کمزور تر ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کا خلافت پہ متمکن ہونا اور مسلمانوں کے گروہوں کے درمیان صلح کی خاطر خلافت چھوڑ دینا اور بعد ازاں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور انکے ساتھیوں کی کربلا کے مقام پر شہادت مسلمانوں کے اسی انتشار و افتراک کا نتیجہ تھا۔

    اموی خاندان کے دور خلافت میں حالات پہلے سے بھی زیادہ دگرگوں ہوگئے تھے۔ بعد ازاں جب عباسی خاندان مسند خلافت پر براجمان ہوا تو انکے دور میں اس قوم کی حالت یہ تھی کہ ہر شعبہ زندگی انتشار کا شکار تھا۔اگر صرف بات کریں وارثان محراب و ممبر کی تو ان کی حالت کچھ اس طرح تھی کہ دارالحکومت بغداد شہرکا کوئی کونہ یا گوشہ ایسا نہیں تھا جہاں پہ ہر دوسرے دن انکے مسلکی اور دینی مناظرے نہ ہو رہے ہوں۔

    یہ مناظرے بھی کچھ اس طرح کی بحث و تمحیث پر مشتمل تھے کہ سوئی کی ایک نوک پر زیادہ سے زیادہ کتنے فرشتے بیٹھ سکتے ہیں۔؟پرندوں میں کوے پر بحث جاری تھی کہ کوا حلال ہے یا حرام ہے۔ایک مسلہ یہ بھی وجہ نزع تھا کہ مسواک کا شرعی سائز کتنا ہو- اختلاف اس بات پر تھا کہ بعض کہتے تھے کہ ایک بالشت ہو اس سے کم جائز نہیں اور بعض دیگر لوگ یہ کہتے تھے کہ نہیں ایک بالشت سے کم بھی جائز ہے۔

    یہ مناظرے اسی طرح بڑے زور و شور سے جاری تھے اور یہی وہ وقت تھا کہ جب ہلاکو خان نے اپنی تاتاری افواج کے ہمراہ دارالحکومت بغداد پہ حملہ کیا اور اس شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور سب کچھ تہس نہس کر کے رکھ دیا۔سوئی کی نوک پر فرشتے بٹھانے والے تہ تیغ کر دئیے گئے۔مسواک کی حرمت پر لیکچر دینے والے مٹا دئیے گئے۔کوے کی حلال و حرام پر بحث کرنے والوں کی کھوپڑیوں کے مینار کچھ اس طرح بنا دیئے گئے کہ جنہیں گننا بھی ممکن نہ تھا۔بعد ازاں مسلمانوں کے سروں کے مینار بنانے والا ہلاکو خان خود بھی تہ تیغ ہوگیا اور اسے تاریخ کا حصہ بنے سینکڑوں سال بیت گئے لیکن یہ قوم اتنی ڈھیٹ نکلی کہ مجال ہے اس قوم کے کسی بھی فرد نے تاریخ سے ایک رتی بھر بھی سبق سیکھا ہو۔

    ہمارے آج بھی بحث و مباحثوں کے عنوانات ویسے ہی ہیں جو صدیوں پہلے تھے ۔داڑھی کی لمبائی کتنی ہونا ضروری ہے۔؟ شلوار ٹخنوں سے کتنی اونچی یا نیچی ہو۔؟ مردہ قبر میں سن سکتا ہے یا نہیں۔ قبر پہ آنے والے شخص کو قبر میں موجود مردہ پہچانتا ہے یا نہیں۔امام کے پیچھے سورة الفاتحہ پڑھنی چاہئے یا نہیں ۔ایک مسلک کے نزدیک رفع یدین ضروری ہے دوسرا اسے ضروری خیال نہیں کرتا۔کچھ لوگ غم حسین علیہ السلام مناتے ہوۓ ماتم کرتے ہیں دوسرے اس سے منع کرتے ہیں۔ہر مسلک کا داعی صرف اپنے آپ کو جنتی کہتا ہے جبکہ دوسرے کو جنت کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتا۔

    پہلے یہ مناظرے بغداد شہر کے گلی کوچوں میں ہوتے تھے آج کے دور جدید میں یہ مناظرے سوشل میڈیا پر ہوتے ہیں بلکہ گھر گھر ہوتے ہیں۔اپنی نجی محفلوں میں ہوتے ہیں۔جلسوں میں ہوتے ہیں اور مسجدوں کے محراب و منبر پہ ہوتے ہیں۔اب تو ایک چھوٹی سی ڈیوائس نے ہر فرد کو ایک مناظر کی حیثیت دے دی ہے اور وہ اس کا استعمال کر کے جو اس کے ذہن میں آتا ہے وہ اناپ شناپ سوشل میڈیا پہ بکے جا رہا ہے۔

    ابھی کل ہی ایک محترمہ کسی چینل پہ بیٹھ کر ایک مولوی صاحب کے لتے لے رہی تھیں کہ جنت میں اللہ تعالیٰ نے مردوں کیلئے بہتر حوریں رکھی ہیں اور مرد کی عیاشی کا پورے کا پورا بندوبست کر دیا ہے لیکن عورتوں کیلئے کیا رکھا ہے۔؟ جواب دیا گیا کہ عورت اگر اپنے شوہر کے ساتھ جنت میں جاتی ہے تو وہ ان حوروں کی سردار ہوگی۔

    محترمہ کہتی ہے کہ واہ-! مرد کیلئے بہتر حوریں اور اسکی بیوی کیلئے وہی دنیا والا شوہر جسے شائد وہ دنیا میں دیکھنا بھی پسند نہ کرتی ہو۔ گویا اس قسم کی پریکٹس تھوڑے بہت فرق کے ساتھ صدیوں سے اب بھی جاری ہے اور جدید دور کا ہلاکو خان ایک ایک کر کے ان سب ملکوں ان کے مسلکوں اور فرقوں کو نیست و نابود کرتا ہوا آگے بڑھتا چلا آرہا ہے لیکن ہم میں اتنی طاقت نہیں کہ اسے روک سکیں۔

    جدید دور کے اس ہلاکو خان نے کسی کو بھی نہیں چھوڑا۔ لیبیا اور عراق کو دبوچا۔افغانستان کو خانہ جنگی میں کچھ اس طرح دھکیلا کہ وہ دہائیوں سے حالت جنگ میں ہے۔شام اردن اور لبنان کی اینٹ سے اینٹ بج چکی ہے۔کشمیریوں کو کچھ اس طرح مارا جا رہا ہے کہ وہ اپنی لاشیں بھی نہیں اٹھا سکتے اور نہ ہی وہ انہیں گن سکتے ہیں۔فلسطین ان کے اب بھی پنجہ استبداد میں ہے اور وہ انکے ظلم و ستم کے آگے بے بس ہیں اور مرنے کے سوا کوئی چارا نہیں۔مسلمان قوم کے بچے بوڑھے خواتین اور جوانوں کی لاشیں کوے نوچ نوچ کر کھاۓ جا رہے ہیں۔مسلم امہ انہیں دیکھ رہی ہے لیکن اسے روکنے کی طاقت ان میں نہیں۔

    آج حوا کی بیٹیاں اپنی عصمت چھپانے اور بچانے کیلئے امت کی چادر کا کونہ تلاش کر رہی ہیں لیکن یہ کونہ اسے مل نہیں رہا کیونکہ اب وہ بچا ہی نہیں گویا اب اس قوم میں کوئی محمد بن قاسم نہیں۔کوئی صلاح الدین ایوبی نہیں جو ان کی پکار کو سنے اور مدد کو پہنچے ۔

    ہم اب اس انتظار میں ہیں کہ شائد کوئی معجزہ ہو جائیگا اور ہم بچ جائیں گے۔ہم اب صرف اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں کہ ہم نے کب وقت کے اس ہلاکو خان سے تباہ ہونا ہے۔؟ میرا کہنا یہ ہے کہ انتظار ضرور کرو لیکن یہ یقین کر لینا کہ تباہ کرنے والے نے یہ نہیں دیکھنا کہ تم کس مسلک فرقے یا مذہب سے تعلق رکھتے ہو۔؟ وہ یقینا”یہ نہیں دیکھے گا کہ تم وہابی ہو دیوبندی ہو سنی ہو یا شیعہ ہو ۔وہ یقینا” یہ بھی نہیں دیکھے گا کہ تم اہل تشیع ہو۔اہل حدیث ہو یا اہل سنت ہو۔اس کے نزدیک تم صرف مسلمان ہو یعنی اس کے ازلی دشمن۔اسلئے اب بھی وقت ہے کہ چھوڑو آپس میں الجھنا اور سب ایک ہو جاؤ اس طرح ایک جیسے اللہ نے قرآن پاک میں حکم دیا ہے۔:-

    "اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو”

    قرآن مجید اور احادیثِ مبارکہ میں بڑی کثرت سے اتحاد کو قائم رکھنے اور اپنے درمیان موجود خلفشار و انتشار سے بچنے کی بار بار ہدائت اور تلقین کی گئی ہے مگر ان سب کے باوجود بھی خلفشار و انتشار اب اتنا عام مرض بن چکا ہے کہ امت مسلمہ کو گھن کی طرح کھائے جارہا ہے اور علاقائی تعصب اور عصبیت پرستی کے روگ کی بو ہر جگہ محسوس کی جا رہی ہے۔ان حالات میں اب یہ بہت ضروری ہو گیا ہے کہ ہوری امت مسلمہ اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوۓ اتحاد و اتفاق کی طرف لوٹیں۔ دعا ہے اللہ تعالی ہم سب کو عقل سلیم عطا فرمائےاور آپس میں اخوت و محبت ہمدردی و خدا ترسی اور ملکی و ملی سیاسی و سماجی اور مسلکی و فروعی اختلافات سے بچائے اور امت واحدہ بن کر رہنے کی توفیق عطاء فرماے، خدا کرے کہ ہمارا کھویا ہوا شاندار ماضی ہمیں دوبارہ مل جائے اور ہم پھر سے ایک بار سربلندی و سرخروی سے اس دنیا میں جی سکیں اور جب اس دنیا سے جائیں تو اخروی کامیابی بھی حاصل کر سکیں۔میں نے اپنے دلی جذبات ایک کالم کی شکل میں بیان کر کے اپنس فرض ادا کر دیا ہے بقول اقبال:-

    اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
    مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ