Baaghi TV

Tag: حافظ گلزارعالم

  • میرا لفظ لفظ پریشاں — حافظ گلزارعالم

    میرا لفظ لفظ پریشاں — حافظ گلزارعالم

    پیارے ملک پاکستان کے بیشتر علاقوں میں قیامت صغری کا منظر ہے۔ سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔ ایسے اندوہناک مناظر ہیں کہ کلیجہ منہ کو آئے۔ بیٹا باپ کو ڈوبتا ہوا دیکھے اور کچھ کر نہ پائے، باپ بیٹے کو ڈوبتا ہوا دیکھ رہا ہے اور اس کے بس میں کچھ نہیں، ماں بیٹی سے کہے: بیٹی سوتے ہوئے چادر پاس رکھنا، خطرہ ہے سیلابی ریلا آئے اور بہا لے جائے، چادر اپنے سر پر رکھنا۔ اللہ۔ یہ کیسے مناظر ہیں۔ جسے دیکھ کر آسمان بھی رو پڑے۔

    میرا لفظ لفظ پریشاں میں درد لکھوں تو کہاں لکھوں
    میرا قلم ہى نہ رو پڑے میں صبر صبر جہاں لکھوں

    ایک ہی گھرانے کے پانچ افراد چاروں طرف سے پانی میں گھرے مدد کے منتظر ہیں، مگر کوئ پرسان حال نہیں، جو قریب ہیں وہ لاچار ہیں، مدد نہیں کرسکتے، انکی چیخ و پکار سوشل میڈیا کے ذریعے سارے پاکستان میں دیکھی گئ۔ مگر غفلت کی انتہا دیکھئے،مقتدر اداروں کی طرف سے انکی مدد نہ کی گئ، اور ان میں سے چار افراد اس جانکاہ سیلاب کی نذر ہوگئے اور ایک کو بفضل اللہ علاقے کے مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بچایا۔ ایسے بیسوں واقعات ہوئے۔ وہاں مدد کرنے والے افراد نے بتایا کہ ایک ساتھ چھ چھ لاشیں ہمیں سیلاب کے پانی سے ملیں ۔ساٹھ فیصد پاکستان اس سیلابی پانی سے شدید متاثر ہے۔

    میرے محب وطن پاکستانیو! ہماری تاریخ گواہ ہے کہ ہم رنگ زبان نسل کی تفریق بھلا کر کھل کر ایسے حالات میں دکھی انسانیت کا سہارا بنے۔ یہ وقت پھر ہم سے یہ تقاضا کررہا ہے کہ ہم ہر ممکن اپنے بھائ بہنوں کی مدد کریں۔ جس صورت میں ممکن ہو پیچھے نہ رہیں ۔

    یہ ہمارے بھائ بہنوں پر ایک بڑا امتحان ہے۔ اسی میں ہمارا بھی امتحان ہے۔ سب سے پہلے تو ہم اپنی پچھلی غفلت والی زندگی سے تائب ہوں۔ یہ سیلاب اللہ کی طرف سے وارننگ ہے۔ جو بھی مصیبت آتی ہے ارشاد باری تعالیٰ کے مطابق ہمارے ہی کرتوتوں کے باعث آتی ہے۔ لہذا ہم گڑگڑا کر اللہ سے تمام گناہوں سے سچی توبہ کریں۔ اپنے بے سہارا بھائیوں کے لئے ہر آن دعا کریں۔ اس تکلیف اور مصیبت کو ٹالنے والی اللہ ہی کی ذات ہے۔ ہم اللہ سے دعا کریں۔ وہ دعائیں رد نہیں کرتا۔

    اَمَّنۡ يُّجِيۡبُ الۡمُضۡطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَيَكۡشِفُ السُّوۡٓءَ وَيَجۡعَلُكُمۡ خُلَفَآءَ الۡاَرۡضِ‌ ؕ ءَاِلٰـهٌ مَّعَ اللّٰهِ ‌ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَذَكَّرُوۡنَ ۞ (سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 62)

    ترجمہ: بھلا وہ کون ہے کہ جب کوئی بےقرار اسے پکارتا ہے تو وہ اس کی دعا قبول کرتا ہے، اور تکلیف دور کردیتا ہے اور جو تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے ؟ کیا (پھر بھی تم کہتے ہو کہ) اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے ؟ نہیں ! بلکہ تم بہت کم نصیحت قبول کرتے ہو۔

    اور ظاہر ہے یہ دنیا دارالاسباب ہے۔ دعا کے ساتھ ہمت کریں اور اپنے بے یار و مددگار بہن بھائیوں کی مدد کے لئے کمر بستہ ہوں۔
    اٹھ باندھ کمر کیا دیکھتا ہے
    پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے

    ہم اس پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم مسجد نبوی میں صحابہ کرام کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک عورت اپنی کسی ضرورت کے لئے آپ کے پاس آئی ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم صحابہ کرام کے درمیان سے اٹھ کر دیر تک مسجد کے صحن میں اس کی باتیں سنتے رہے اور اس کی حاجت روائی کا یقین دلا کر ،مطمئن کر کے اسے بھیج دیا۔آپ کا فرمان ہے کہ حاجت مندوں کی مدد کیلئے میں مدینہ کے دوسرے سرے تک جا نے کیلئے تیا ر ہوں۔

    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یارومددگا ر چھوڑتا ہے۔ جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی حاجت روائی کرتا ہے ،اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی فرماتا ہے اور جو شخص کسی مسلمان کی سترپوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیا مت کے دن اس کی ستر پوشی فرمائے گا۔

    ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک اپنے بندے کے کام میں (مدد کرتا )رہتا ہے جب تک بندہ اپنے مسلمان بھائی کے کام میں مدد کرتا رہتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے یقینا صدقہ اللہ ربّ العزت کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے اوربری موت کو دور کرتا ہے۔خود آپ صلى الله عليه وسلم کا یہ معمول تھا کہ جو كچھ بھی اپنے پاس ہوتا فقرا ومساكین پر نچھاور كردیتے اور كچھ بھی اپنے پاس نہیں ركھتے۔

    اگر كسی موقع پر آپ كے پاس دینے كے لئے كچھ نہ ہوتا تو آپ مناسب رائے ،اچھے مشورے یا كسی نہ كسی ذریعہ سے سائل كی اس طرح مدد كردیتے كہ اس كے لئے رزق كے دروازے كھل جاتے۔ نبوت سے سرفرازی كے بعد آپ ﷺ كی دلجوئی كے لئےآپ كی شریك زندگی حضرت خدیجہؓ كی زبان مبارك سے نكلے ہوئے الفاظ اسكا بین ثبوت اور شہادت ہیں۔

    آپ نے فرمایا تھا: اللہ کی قسم! اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ یقیناً آپ صلہ رحمی کرتے ہیں ناتواں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، جو چیز لوگوں کے پاس نہیں وہ انہیں کما دیتے ہیں مہمان کی خاطر تواضع کرتے ہیں اور (اللہ کی راہ میں) مدد کرتے ہیں۔

    اتنا ہی کر لیں کہ جتنا اللہ نے عطا کیا ہے اس میں سے معتبر رفاہی اداروں کے حوالے کریں۔ یہ آپکا دینا آپکے لئے آخرت میں تو ذخیرہ ہے ہی، اس دنیا میں بھی دگنا بلکہ کئ گنا اضافہ کرکے اللہ آپ کو واپس لوٹا دینگے۔ اس کے خزانوں میں کوئ کمی نہیں۔ وہ بس امتحان لینا چاہتا ہے۔

    مَنۡ ذَا الَّذِىۡ يُقۡرِضُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضۡعَافًا کَثِيۡرَةً  ‌ؕ وَاللّٰهُ يَقۡبِضُ وَيَبۡصُۜطُ ۖ وَ اِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ۞ (سورۃ نمبر 2 البقرة آیت نمبر 245)

    ترجمہ: کون ہے جو اللہ کو اچھے طریقے پر قرض دے، تاکہ وہ اسے اس کے مفاد میں اتنا بڑھائے چڑھائے کہ وہ بدرجہا زیادہ ہوجائے ؟ اور اللہ ہی تنگی پیدا کرتا ہے، اور وہی وسعت دیتا ہے، اور اسی کی طرف تم سب کو لوٹایا جائے گا۔

  • پاکستان آپ سے مخاطب ہے — حافظ گلزارعالم

    پاکستان آپ سے مخاطب ہے — حافظ گلزارعالم

    چند روز قبل اس ارادے سے لکھنے بیٹھا کہ اس آزادی کے موقع پر ایسا کچھ لکھوں کہ دل میں ملک عزیز پاکستان کی محبت میں اضافہ ہو، اور یہ محبت اس قدر ہو کہ وطن عزیز کے لئے کچھ کر گزرنے کا جزبہ دل میں پیدا ہو۔ یا کم از کم اتنا ہی احساس ہمارے دل میں پیدا ہو کہ ہمارے کسی قول و فعل سے وطن عزیز کی عزت پر کوئ آنچ نہ آئے۔

    پھر خیال آیا بڑے بڑے محب وطن لکھاری، شعراء اور مفکرین اس باب میں لکھ چکے ہیں۔ ہم انہی کو سنجیدگی سے پڑھ کر یہ مقصد حاصل کرسکتے ہیں، میرے لکھنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ مگر پھر خیال ہوا کہ گو میری یہ بساط نہیں مگر انگلی کٹا کر شہیدوں میں نام آجائے تو یہ بھی غنیمت ہے۔ کہ کل بروز قیامت ملک عزیز پاکستان کے لئے اور کچھ نہیں تو یہی تحریر پیش کرسکوں۔ کہ یارب تیرے نام پر بنے اس پیارے ملک پاکستان سے محبت میں یہ ایک تحریر لایا ہوں۔

    مگر کچھ نہ سمجھ آیا۔ ابتدا کہاں سے ہو انتہا کہاں ہو۔ اسی اثناء میں آنکھ لگ گئ، کیا دیکھتا ہوں کہ اک خلق خدا جمع ہے۔ اور یوں لگ رہا ہے جیسے بعد الفجر نماز پڑھ کر سارے پاکستانی اک میدان میں جمع ہوں، جس میں بچے بوڑھے مرد خواتین جمع ہیں۔ البتہ سب خواتین باپردہ ہیں۔ اور مردوں سے الگ ہیں۔ سب کی زبانوں پر اک ہی نعرہ ہے: پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الاااللہ

    اسٹیج سے اعلان ہوا کہ آج ہمارا پیارا ملک پاکستان اپنی 75 ویں سالگرہ پر ہم سے خود مخاطب ہونا چاہتے ہیں۔ سب کا جوش و خروش عروج پر ہے، خوشی سے چہرے کھل رہے، آنکھیں پر نم ہیں۔ اور کچھ لوگوں کے تو سر ندامت سے جھکے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اس پیارے ملک سے کسی بھی سطح کی بے وفائ، اسے لوٹا یا اس کے مقاصد سے روگردانی کی۔

    انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں۔ اور ملک پاکستان بارعب وجیہ صورت میں متشکل ہو کر اسٹیج پر تشریف لائے۔ اور گویا ہوئے
    ” تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہے جسکے نام پر میں آزاد ہو۔ درود سلام ہو میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر، آپ کی آل پر اور آپکے تمام اصحاب پر

    میرے بیٹو !
    امید ہے تم سب ٹھیک ہوگے۔ تمھاری بقا سلامتی اور خوشحالی کی ہر دم دعا کرتا ہوں۔ اللہ تمھیں ہمیشہ سلامت رکھے اور ہر اندرونی بیرونی شرور سے تمھاری حفاظت کرے۔ آمین

    میں پاکستان ہوں۔ سندھ پنجاب بلوچستان خیبر پختونخواہ میرے حصے ہیں۔ مجھے اپنا ہر حصہ اور ان میں رہنے والا ہر پاکستانی عزیز ہے۔ تم سندھی پنجابی بلوچی پٹھان ضرور ہو۔ مگر تمھاری اصل پہچان پاکستانی ہونا ہے اور اس سے بڑھ کر یہ کہ تم مسلمان ہو۔ خدارا قومیتیں تعارف کیلئے ہیں،نہ کہ فخر کیلئے۔ گو کہ فطری طور پر اپنی قوم سے محبت ہر ایک کو ہوتی ہے۔ مگر اس بنیاد پر خود کو دوسروں سے بہتر سمجھنا، دوسروں کو کمتر سمجھنا میرے اللہ کو پسند نہیں۔ میرے اللہ کو پسند نہیں، تو مجھے بھی پسند نہیں۔ کیونکہ میری بنیاد ہی اللہ کے نام پر رکھی گئ۔ میرے بننے کے وقت ہر شخص کی زبان پر یہ نعرہ تھا۔ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ۔

    میں پاکستان ہوں۔ میرے نام میں ہی پاکیزگی ہے۔ مجھے ہر طرح کی گندگی سے پاک رکھو۔ مجھے تم پر فخر ہے۔ مجھے تم سے امیدیں ہیں۔ میری امیدوں کا پاس رکھنا۔

    میں پاکستان ہوں۔ میری نسبت مدینہ منورہ سے ہے۔ میری اس نسبت کا بھی پاس رکھنا۔ مجھے مدینہ کے والی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظروں میں عزیر رکھنا۔ میرا ہر پاکستانی مکمل سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا آئینہ ہو۔
    کہیں میں آپ کے سامنے رسوا نہ ہو جاؤں۔

    مجھے لاکھوں مسلمانوں کی تن من تن دھن کی قربانی سے حاصل کیا گیا ہے۔ ان قربانیوں کی لاج رکھنا۔ ان سے بے وفائی نہ کرنا۔ ۔

    یہاں بسنے والے غیر مسلم بھی تمھارے بھائ ہیں۔ کسی کو بے جا۔ تکلیف نہ دینا میرے نبی کا حجۃ الوداع کا خطبہ یاد ہے نا؟ آپ نے فرمایا تھا ہر شخص کی جان مال عزت آبرو تم پر حرام ہے۔ کسی کالے کو کسےگورے پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئ فضیلت حاصل نہیں۔ لہذا خدا کے بندو بھائ بھائ بن کر رہو۔

    میرے قائد محمد علی جناح اور میرے مفکر علامہ محمد اقبال کے فرامین پڑھا کرو، انہیں یاد رکھو، اور ان پر عمل کرو۔
    میں انہی حضرات کی انتھک محنتوں سے آزاد ہوا۔ اور میری بقا بھی انہی کے اصولوں پر عمل کرنے میں ہے۔ لہذا قائد کا یہ اصول ہمیشہ پلے باندھے رکھو: ایمان،اتحاد اور تنظیم۔ یعنی اللہ کی ذات پر کامل ایمان، آپس میں پیار و محبت سے متحد ہو کر رہنا اور ہر کام میں نظم و ضبط اپنائے رکھنا۔ اور مفکر پاکستان کا یہ پیغام یاد رکھنا

    عقل ہے تیری سپر، عشق ہے شمشیر تری
    مرے درویش! خلافت ہے جہاں گیر تری
    ماسوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تری
    تو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تری
    کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
    یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

  • باغی تحریری مقابلہ – سوم تحریر – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — حافظ گلزارعالم

    باغی تحریری مقابلہ – سوم تحریر – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — حافظ گلزارعالم

    پاکستان کو آزاد ہوئے 75 برس ہوچکے۔ اس آزادی پر ہم رب ذوالجلال کا جتنا شکر ادا کریں، کم ہے۔ یہ آزادی ہمیں لاکھوں مسلمانوں کی تن من دھن کی قربانیوں کی بدولت ملی ہے۔ گویا آج ان آزاد فضاؤں میں شہداء پاکستان ہم سے وفا کا تقاضا کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں ہماری قربانیوں کا پاس رکھنا۔

    شہید تم سے یہ کہہ رہے ہیں ، لہو ہمارا بھلا نہ دینا
    قسم ہے تم کو اے سرفروشو لہو ہمارا بھلا نہ دینا
    وضو ہم اپنے لہو سے کر کے خدا کے ہاں سُر خرو ہیں ٹھہرے
    ہم عہد اپنا نبھا چلے ہیں ، تم عہد اپنا بھلا نہ دینا

    جب صبح سویرے "اللہ اکبر” کی صدا آپکے کانوں میں پڑتی ہے۔ اور دن رات پانچ دفعہ یہ کانوں میں رس گھولنے والے ابدی حقیقت پر مبنی کلمات آپ کے دل و دماغ کو سرشار کریں ، آپ بلا خوف و خطر مساجد کا رخ کرتے ہیں، اپنے پروردگار کی بندگی بجا لاتے ہیں، کلام پاک کی تلاوت کرتے ہیں، ہر مقام پر آزادی کے ساتھ اپنا مافی الضمیر بیان کرتے ہیں، وطن کے چپہ چپہ پر دل میں یہ اطمینان ہوتا ہے کہ یہ پیارا ملک پاکستان ہمارا ہے، تو یوں احساس ہوتا ہے کہ اس وطن عزیز کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے والوں کی ارواح ہم سے مخاطب ہوتے ہوئے گویا ہیں کہ گو ہم یہ آزادی نہ دیکھ سکے مگر ہمارے لئے یہی کافی ہے کہ تم آزادی کی معطر فضاؤں میں جی رہے ہو، لہذا زبان حال سے کہی ہوئ ہماری وہ صدا یاد رکھنا:

    ہمارا خون بھی شامل ہے تزئین گلستاں میں
    ہمیں بھی یاد کرلینا چمن میں جب بہار آئے

    لہذا اگر ہم نے ان کے مقصد سے وفا نہ کی تو وہ ہمیں معاف نہیں کرینگے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے، پاکستان کی اساس ہی کلمہ لاالہ الااللہ ہے، پاکستان جن روح پرور نعروں کی گونج پر بنا ہے، ان میں پہلا نعرہ یہ تھا: "پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ”۔ لہذا مقاصد پاکستان میں پہلا مقصد اسلام کا عملی نفاذ ہے۔ اس مقصد میں کسی قسم کی کوتاہی وطن عزیز اور اور وطن عزیز کی خاطر لاکھوں قربانیوں کے ساتھ بدترین مذاق ہوگا۔

    ہم قائد اعظم محمد علی جناح ، علامہ محمد اقبال رحمھمااللہ ،ان کے رفقاء اور لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں کا حق ادا نہیں کرسکتے ۔ مگر ہم ان کی ارواح کو یوں تسکین دے سکتے ہیں کہ ہم ملک پاکستان کو ویسا ہی بنائیں جیسا وہ چاہتے تھے۔ یہاں نہ صرف مسلمانوں کو، بلکہ غیر مسلموں کو بھی مکمل تحفظ حاصل ہو۔ ایمان، اتحاد اور تنظیم کا عملی مظاہرہ ہو، ہم نہ صرف نام کے بلکہ کام کے مسلمان بنیں۔ ہم صرف اللہ کو ماننے والے نہیں، اللہ کی ماننے والے بھی بنیں۔ مگر افسوس
    مالک تو سب کا ایک، مالک کا کوئ ایک
    ہزاروں میں نہ ملے گا،لاکھوں میں تو دیکھ

    آزادی کے پچھتر سال ہوچکے۔ آزادی کی اس نعمت پر شکر کے ساتھ ساتھ اس حقیقت کا اعتراف بھی ضروری ہے کہ ہم وہ مقاصد حاصل نہ کرسکے جسکا خواب ہمارے بڑوں نے دیکھا تھا۔ جنکی وجوہات میری نظر میں یہ ہیں:
    1۔ یہاں اسلام کے نام پر سیاست تو کی جاتی ہے۔ اس کے عملی نفاذ کے لئے خاطر خواہ اقدامات نہیں ہیں۔
    2۔ سود ایک لعنت ہے۔ باری تعالیٰ نے اسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ قرار دیا ہے۔ اس لعنت کے ہوتے ہوئے اگر ہم معاشی ترقی کے خواب دیکھ رہے ہیں تو ایں خیال است و محال است و جنوں۔
    3۔ قومیں اپنی ہی پہچان بنا کر ترقی کرتی ہیں۔ ہمیں انگریز کی ذہنی غلامی سے نکلنا ہوگا۔

    اپنی مِلّت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
    خاص ہے ترکیب میں قومِ رُسولِ ہاشمی

    لہذا ہم اپنے قومی لباس اور اردو زبان کو فروغ دیں۔ اور ہمارے طور طریقے سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق ہوں۔ ہم محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں اور رہیں گے۔ اسی نسبت سے جڑے رہنے میں ہماری کامیابی ہے۔ ورنہ ذلت اور رسوائ ہمارا مقدر ہے اور رہے گی۔

    4۔ عوام حکومت پر،اور حکومت پچھلی حکومت پر ساری خرابی کا ملبہ ڈالے تو یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ ہر فرد کو اس پیارے ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

    شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
    اپنے حصے کی کوئ شمع جلاتے جاتے

    5۔ تعلیم ہماری اولین ترجیح ہو۔ کوئ معاشرہ بغیر تعلیم کے یا ناقص تعلیم کے ساتھ ترقی نہیں کرسکتا۔ اس کے لئے حکومت ہنگامی طور پر اقدامات کرے۔ اور یکساں معیاری نظام تعلیم کو فروغ دے۔ مگر عوام حکومت ہی کے آسرے پر نہ رہے۔ اپنی مدد آپ کے تحت جدید وسائل کمپیوٹر،موبائل اور انٹرنیٹ وغیرہ کے ذریعے معیاری تعلیم کا حصول اب ممکن ہے۔

    6۔ قدرت نے اس ارض پاک کو بیشمار وسائل سے نوازاہے۔ پاکستان دنیا کے ان چند ملکوں میں سے ہے جو قدرتی وسائل اور معدنیات کی دولت سے مالا مال ہے۔ پاکستان میں بکثرت صحرا، سمندر ،پہاڑ اور دریا موجود ہیں مگر ان وسائل سے ہم فائدہ حاصل کرنے کے بجائے دوسری اقوام کی طرف ہاتھ پھیلائے بیٹھے ہیں۔ ان وسائل سے فائدہ اٹھانے کیلئے اقدامات بے حد ضروری ہیں۔

    7۔ ہم قائد کے تین نکات پر مبنی اس زریں اصول کو بھول گئے: ایمان، اتحاد اور تنظیم۔ ہمارا ایمان اللہ کی ذات سے زیادہ امریکہ، آئ ایم ایف اور ڈالروں پر ہے۔ اس کو اقبال رحمہ اللہ نے یوں کہا:

    بتوں سے تجھ کو امیدیں،خدا سے نومیدی
    مجھ کو بتا تو سہی اور کافری کیا ہے

    ہمارا اتحاد پارہ پارہ ہے، قومی و لسانی تعصبات کے بدبودار نعرے اس پیارے ملک کو متعفن کرتے ہیں۔

    وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدّن میں ہنود
    یہ مسلماں ہیں! جنھیں دیکھ کے شرمائیں یہود
    یوں تو سیّد بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو
    تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو!

    ہماری زندگی میں نظم و ضبط بھی ناپید ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دوسری تمام اقوام ان اصولوں پر عمل کرکے ستاروں پر کمندیں ڈال رہی ہیں۔ اور ہم اپنے آباء و اجداد کے کارناموں پر بغلیں بجارہے، اور خود خواب غفلت میں ہیں۔ یہی صورتحال دیکھ کر اقبال رحمہ اللہ نے فرمایا تھا

    تھے تو آبا وہ تمھارے ہی، مگر تم کیا ہو
    ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو!

    8۔ ہم سیاسی انتشار کا شکار ہیں۔ قومی مفاد پر ذاتی مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ہم اختلاف ضرور رکھیں۔ مگر اختلاف کے آداب کا خیال رکھیں۔ محض اختلاف کی وجہ سے فریق مخالف کی اچھی بات کا بھی رد کرنا درست رویہ نہیں ہے۔

    9۔ ہمارے ہاں قانون پر عملدرآمد صرف غریب کے لئے ہے۔ امیر اور شاہی طبقہ جب جس قانون کو اپنے قدموں تلے روند ڈالے، کوئ پوچھنے والا نہیں۔ قانونی بالادستی ہر حال میں لازم ہو۔ اس میں کوئ رعایت نہ ہو۔

    10۔ تمام ممالک سے بالعموم ، عالم اسلام سے بالخصوص ہمارے تعلقات ویسے نہیں رہے ، جیسے ہونے چاہئیں۔ جبکہ امن و امان اور ملکی ترقی اس کے بغیر ممکن نہیں۔

    الغرض ملک پاکستان اسلام کے نام پر بنا اللہ کا عظیم تحفہ ہے۔ اس کرہ ارض پر اور کوئ ملک ایسا نہیں ہے،جس کے دستور میں یہ بات ہو کہ حاکمیت صرف اللہ کے لئے ہے اور اس ملک کا ہر دستور قرآن و سنت کے مطابق ہوگا۔ یہ پیارا ملک پاکستان ضرور وہ مقاصد حاصل کریگا، جس کے لئے یہ بنا ہے۔ مگر ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اور اپنی ناکامیوں اور غلطیوں سے سیکھنا ہوگا۔ آخر میں احمد ندیم قاسمی کی دعا پر اپنی تحریر ختم کرتا ہوں۔ ویرحم اللہ عبدا قال آمینا ( اور اللہ ہر اس شخص پر رحم فرمائے جو اس دعا پر آمین کہے)

    خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
    وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو

    یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
    یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

    یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے
    اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو

    گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں
    کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو

    خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن
    اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو

    ہر ایک خود ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال
    کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو

    خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لیے
    حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

  • آزادی بڑی نعمت ہے۔ ( مفتی محمد تقی عثمانی حفظہ اللہ) — حافظ گلزارعالم

    آزادی بڑی نعمت ہے۔ ( مفتی محمد تقی عثمانی حفظہ اللہ) — حافظ گلزارعالم

    جامعہ دارالعلوم کراچی ، کورنگی کراچی میں واقع ایک عظیم دینی ادارہ ہے۔ جہاں قرآن و حدیث اور اس سے متعلقہ علوم کی معیاری تعلیم دی جاتی ہے۔ اسکے بانی مفتی محمد شفیع صاحب رحمتہ اللہ علیہ ہیں۔

    جو تحریک پاکستان کے عظیم رہنما تھے۔ پاکستان بننے کے بعد آپ نے مفتی شبیر احمد عثمانی صاحب کی ایماء پر پاکستان ہجرت کی۔

    اور یہاں آکر ملک وقوم کی خدمت میں مصروف ہوگئے۔ جامعہ کے حالیہ صدر استاذ محترم مفتی رفیع عثمانی صاحب اور نائب صدر استاذ محترم مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتھم ہیں

    مادر علمی جامعہ دارالعلوم کراچی میں ہر سال جشن آزادی کے موقع پر پر وقار تقریب منعقد کی جاتی ہے۔ جس سے وطن عزیر پاکستان کی محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔

    ایسی ہی ایک تقریب کا حال اس تحریر میں پیش خدمت ہے:

    آج 14 اگست ہے۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی مادر علمی جامعہ دارالعلوم کراچی کو سبز ہلالی پرچموں سے خوب سجایا گیا۔ جشن آزادی کی تقریب کا وقت 10 بجے طے تھا۔ جامعہ کی وسیع وعریض مسجد کے باب یاسین کے ساتھ بنے اسٹیج پر جامعہ کے اساتذہ کرام کے لئے نشستیں رکھی گئ۔ اور جامعہ کے طلباء اور شرکاء کیلئے اسٹیج کے سامنے دراسات دینیہ اور دارالقرآن کے وسط میں ہرے بھرے لان میں بیٹھنے کا انتظام کیا گیاہے۔

    تقریب کے شروع ہونے سے قبل ہی طلبہ اور دور دراز سے آنے والے شرکاء جمع ہونا شروع ہوئے، اور یوں دس بجے تک تلاوت کلام پاک سے تقریب کا آغاز کیا گیا۔ تلاوت کے بعد حمد اور نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پڑھی گئ۔ پھر وطن عزیز سے محبت کے اظہار میں قومی و ملی نغمے پڑھے گئے۔ جن سے حاضرین کے جوش و جزبے میں خوب اضافہ ہوا۔

    جامعہ کے طلبہ کی طرف سے مختلف مظاہرے پیش کئے گئے، فوجی پریڈ بھی کی گئ۔ اور پھر جامعہ کے طلبہ اور اساتذہ کرام نے طلبہ عزیز اور شرکاء سے آزادی کی قدرو قیمت اور ملک و قوم سے محبت پر خطابات کئے۔ سب سے آخری خطاب جامعہ کے نائب صدر شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب کا ہوا۔ جس میں آپ نے آزادی کی قدر وقیمت پر وقیع خطاب فرمایا۔

    آپ کے خطاب کے اہم نکات پیش خدمت ہیں:

    ۔ ہم پاکستان کی صورت میں اللہ کے اس عظیم تحفہ پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔

    ۔ تمام غیر اسلامی طاقتیں اس بات کے لئے کوشاں تھیں کہ یہ ملک وجود میں نہ آئے ۔ اللہ نے مسلمانان برصغیر کی مدد فرمائ۔ اور کوہ ہمالیہ کے دامن میں پھیلا یہ وسیع وعریض اور سرسبزوشاداب ملک عطا فرمایا۔

    ۔ ملک پاکستان دنیا کہ نقشے پر پہلی بار اسلام کے نام پر بننے والی ریاست ہے۔

    ۔ یوں تو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وطن سے وفاداری ہر انسان کے لئے ضروری ہے۔ مگر یہ وطن اسلام کے نام پر بنا ہے۔ اس سے وفاداری نہ صرف اس کا حق ہے۔بلکہ یہ دینی فریضہ بھی ہے۔

    ۔ یہ اعزاز صرف پاکستان کو حاصل ہے کہ اس کے دستور میں یہ بات لکھی ہے کہ حاکمیت صرف اللہ کی ہوگی، اور اس دستور کا ہر قانون قرآن سنت کے مطابق ہوگا۔

    ۔تحریر و تقریر کی آزادی پاکستان کے علاوہ کسی ملک میں نہیں۔ لہذا اس نعمت کو نعمت سمجھو۔

    ۔ مایوسی پھیلانے کے بجائے امید کے چراغ روشن کرو۔

    شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
    اپنے حصے کی کوئ شمع جلاتے جاتے

    لہذا ہر شخص جذبہ،ہمت ، خلوص اور حب الوطنی سے سرشار ہوکر ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرے۔

    ۔ ہر گز یہ نہ سوچیں کہ ایک فرد یا ایک ادارہ معاشرہ میں کیا تبدیلی لا سکتا ہے۔ چراغ سے چراغ جلتا ہے۔ یہ اللہ کی سنت ہے۔

    ۔ اللہ اس ملک کو دن دگنی رات چگنی ترقی عطا فرمائے ۔ اور ہمیں اس کی ترقی میں حصہ ڈالنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

    خطاب کے بعد ملک عزیز کی بقا، سلامتی اور تعمیر و ترقی کے لئے دعا کرائ گئ،پرچم کشائ کی گئ اور یوں اس پروقار تقریب کا اختتام ہوا .۔

  • اتنے پریشان کیوں ہو؟ — حافظ گلزارعالم

    اتنے پریشان کیوں ہو؟ — حافظ گلزارعالم

    مسائل دو طرح کے ہیں۔ اختیاری اور غیر اختیاری۔ یعنی ایک وہ مسائل جنھیں آپ حل کرسکتے ہیں۔ مثلا : امتحان میں ناکامی، تعلیمی قابلیت میں کمی، غربت، وقتی بیماری، بے روزگاری، خاندانی جھگڑے وغیرہ۔ اور دوسرے وہ مسائل جو آپ چاہتے ہوئے بھی حل نہیں کرسکتے۔ مثلا : یتیم ہونا، ضعیف ہونا، معذوری،مستقل بیماری، مناسب رشتہ نہ ملنا وغیرہ

    پہلی قسم کے مسائل کا حل: ٹھنڈے دماغ سے سوچ و بچار اور مخلص سمجھدار لوگوں سے مل کر ان مسائل پر بات کیجئے۔ اور حل تلاش کیجئے۔ آپ کو نہ صرف ایک، بلکہ ایک ہی مسئلے کے کئ حل مل جائینگے۔ ان میں سے جو مناسب اور آسان لگے، اسے اختیار کیجئے۔ اور ہمت کرکے اسے مستقل مزاجی کے ساتھ اپنائے رکھیں۔

    دوسری قسم کے مسائل کا حل: ان مسائل کو قبول کیجئے۔ اپنے گردوپیش نظر دوڑائیے۔ انہی مسائل کے یا ان جیسے مسائل کا شکار بیشمار افراد ملیں گے۔ ان افراد میں سے جو ان مسائل کے باوجود کامیاب اور خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔ ان سے ملئے، یا ان کے بارے میں جانئے کہ وہ کیسے کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ یقینا آپ بھی انکے اصول اور عادات و اطوار کو اپنا کر اچھی زندگی گزارنے لگیں گے۔

    امید ہے ان باتوں پر عمل کرکے آپ کے مسائل کم ہونگے۔ مگر یاد رکھیں۔ یہ مسائل کم تو ضرور ہوسکتے ہیں۔ ختم نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ یہ دنیا، دنیا ہے۔ جنت نہیں۔ یہ تو جنت کی خوبی ہے کہ وہاں نہ کوئ خوف ہوگا نہ حزن۔ لہذا جب یہ دنیا ہے ہی ایسی کہ یہاں کے مسائل ختم نہیں ہوسکتے، تو ان مسائل کے ساتھ ہی جینا سیکھئے۔

    وہ مرد نہیں جو ڈر جائے حالات کے خونی منظر سے
    جس دور میں جینا مشکل ہو اس دورمیں جینا لازم ہے

    اور بحیثیت مسلمان ہمیں ہر حال میں صبر و شکر کی عادت اپنانی چاہیئے۔یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ سارے دین کا خلاصہ ہی صبر و شکر ہیں۔ کیونکہ ہر انسان ان دو ہی حالتوں میں ہوتا ہے۔ تنگدستی یا فراخی۔ تنگدستی ہے تو صبر کریں۔ اللہ کی تقدیر پر راضی ہوں۔ فراخی ہے تو اللہ کا شکر ادا کریں۔ صابرین کے لیے اللہ کا اعلان ہے:

    اِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ
    بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔

    اور شکر کرنے والوں کے لئے یہ خوشخبری ہے:

    لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ
    اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا۔

    ہر لمحہ ہر پل خدا تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں ہم پر بارش کے قطروں کی طرح برس رہی ہے۔ ان نعمتوں کو یاد کیجئے، ان پر شکر ادا کیجئے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی ناشکرا ہے۔ جب راحت ہی راحت ہو، آسانیاں ہوں۔ تو کبھی ان نعمتوں کا احساس تک نہیں کرتا۔ اور ایسا رویہ اختیار کرتا ہے جیسے یہ راحتیں، آسانیاں اس کا حق ہیں، اور اسے ہمیشہ ملنی چاہئیں۔ لہذا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔ اور جب کوئ پریشانی آتی ہے تو واویلا شروع کردیتا ہے۔

    اسی کو باری تعالیٰ نے فرمایا:

    فَأَمَّا الْإِنْسَانُ إِذَا مَا ابْتَلَاهُ رَبُّهُ فَأَكْرَمَهُ وَنَعَّمَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَكْرَمَنِ[15] وَأَمَّا إِذَا مَا ابْتَلَاهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَهَانَنِ[16]
    ترجمہ: پس لیکن انسان جب اس کا رب اسے آزمائے، پھر اسے عزت بخشے اور اسے نعمت دے تو کہتا ہے میرے رب نے مجھے عزت بخشی۔ [15] اور لیکن جب وہ اسے آزمائے، پھر اس پر اس کا رزق تنگ کردے تو کہتا ہے میرے رب نے مجھے ذلیل کر دیا۔ [16]

    ایک اور جگہ فرمایا:

    اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لِرَبِّہٖ لَکَنُوۡدٌ ۚ﴿۶﴾
    ترجمہ:
    انسان اپنے پروردگار کا بڑا ناشکرا ہے۔

    ( آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی)

    اللّٰہ تعالیٰ نے غازیوں کے گھوڑوں کی قَسمیں ذکر کر کے فرمایا : بیشک انسان اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کا بڑا ناشکرا ہے ۔

    حضرت عبد اللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’ناشکرے سے مراد وہ انسان ہے جو اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں سے مکر جاتا ہے اوربعض مفسرین نے فرمایا کہ ناشکرے سے مراد گناہگار انسان ہے اور بعض نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ انسان ہے جو مصیبتوں کو یاد رکھے اور نعمتوں کو بھول جائے۔( خازن، العادیات، تحت الآیۃ: ۶، ۴ / ۴۰۲)

  • دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو! — حافظ گلزارعالم

    دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو! — حافظ گلزارعالم

    خوش طبع بنئے، ہنس مکھ بنئے، خوشیاں بانٹئے۔ دو دن کی زندگی سے خود بھی لطف اندوز ہوں۔ دوسروں کو بھی خوش رکھیں۔ کبھی کسی کو دکھ نہ دیں۔ کبھی کسی کی دل آزاری ہو تو معافی میں پہل کریں۔ آپ ہردلعزیز بن جائیں گے۔

    دنیا میں ہر طرح کے اچھے برے لوگ بستے ہیں، سب اپنی اپنی زندگی گزارتے ہیں اور گزرجاتے ہیں۔ مگر یاد وہی رہتے ہیں، جو خوشیاں بانٹتے ہیں، دوسروں کے دکھ درد میں، اور خوشی غمی میں شریک ہوتے ہیں، سب کو اپنا سمجھتے ہیں، کسی کے لئے دل میں برائ نہیں رکھتے۔

    جس قدر ممکن ہو۔ خلق خدا کو نفع پہنچائیے۔ آپ کے بگڑے کام بنتے رہیں گے۔ اور اللہ آپ کو وہاں سے عطا کرینگے۔ جہاں سے آپ کا گمان بھی نہ ہوگا۔

    احادیث مبارکہ میں خلق خدا کو خوش رکھنے پر بڑی بشارتیں آئ ہیں۔
    1. حضرت انس اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کی عیال یعنی کنبہ ہے، پس اللہ تعالیٰ کو اپنی ساری مخلوق میں زیادہ محبت اس شخص سے ہے جو اس کے عیال (مخلوق) کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہو ۔
    رواہ البیہقی فی شعب الإیمان، مشکوٰۃ/ص:۴۲۵/ باب الشفقۃ والرحمۃ علی الخلق/الفصل الثالث

    2.اللہ کا جو بندہ بیوہ اور کسی بے سہارا عورت، اسی طرح کسی مسکین حاجتمند کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرتا ہو، ان کی خدمت کا کوئی کام کرتا ہو تو وہ عمل بھی عبادت ہے، اور اجر وثواب میں اس مجاہد کی طرح ہے جو اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جد وجہد کرنے والا ہے، دونوں کا اجر وثواب برابر ہے ۔ آگے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا خیال یہ ہے کہ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ’’خدمت خلق پر وہ اجر وثواب ملتا ہے جو دن بھر روزہ رکھنے والے کو اور رات بھر عبادت کرنے والے کو دیا جاتا ہے۔”
    متفق علیہ، مشکوٰۃ:۴۲۲/ باب الرحمۃ والشفقۃ علی الخلق

    3. نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”رحم کرنے والوں پر رحمان رحم فرماتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا“
    أبو داود والترمذي وأحمد

    ان احادیث مبارکہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کو اپنی مخلوق سے بہت محبت ہے۔ سو جو اس کی مخلوق کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرے۔ وہ اللہ کا محبوب بن جاتا ہے۔

    اسی کو ایک شاعر نے کہا

    یہ پہلا سبق ہے کتابِ ُہدیٰ کا
    کہ مخلوق ساری ہے کنبہ خدا

    عارف شیرازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

    ز تسبیح وسجادہ و دلق نیست
    طریقت بجز خدمت خلق نیست

    یعنی تسبیح ہاتھ میں لے کر،مصلیٰ پر بیٹھ کر گوشہ میں بیٹھ کر اللہ اللہ کرنے اور گدڑی پہننے کا نام ہی عبادت نہیں ، بلکہ خیر کی نیت سے خیر کے کام انجام دینا نیز ضرورت کے موقع پر مخلوق کے کام آنا بھی نہایت اہم عبادت ہے ۔

    حضرت احمد علی لاہوری رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ میرا ایک پاؤں ریل گاڑی کے پائیدان پر ہو اور دوسرا پلیٹ فارم پر اسی حالت میں مجھے کوئی آواز دے کر پوچھے کہ احمدعلی ذرا گاڑی میں سوار ہونے سے پہلے مجھے یہ بتادیجئے کہ پورے قرآن کا خلاصہ کیا ہے؟ تو میں کہہ دو نگا کہ پورے قرآن کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کو راضی کرو عبادت کے ذریعہ ،محمدالرسول اللہ ؐکو راضی کرو اطاعت کے ذریعہ ،صحابہ کرا م کوراضی کرو محبت کے ذریعہ اور مخلوق خدا کو راضی کروخدمت کے ذریعہ۔

    الغرض یہ دنیا بھی ہمارے لئے جنت بن سکتی ہے، اگر ہم بھائ بھائ بن کر رہیں۔ صرف اپنا ہی فائدہ نہیں،سب کا فائدہ سوچیں۔ دلوں کی نفرتوں کو ختم کریں۔ سندھی پنجابی بلوچی پٹھان ضرور رہیں۔ مگر اس بنیاد پر کسی سے خود کو بہتر نہ سمجھیں، اور نہ دوسروں کو کمتر سمجھیں۔

    اور آخری دردمندانہ گزارش یہ ہے کہ حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے سے بہت نقصان ہوا ہے۔ جس قدر ممکن ہو متاثرین تک اپنی امداد خود پہنچائیں،یا ایسے معتبر رفاہی اداروں کے ساتھ تعاون کریں جو متاثرین تک امداد پہنچا رہے ہیں۔ اور دعا بھی کریں کہ اللہ ان تمام متاثرین کی مدد فرمائے، اور نقصان کا ازالہ فرمائے آمین۔

  • نیا سال مبارک ہو — حافظ گلزارعالم

    نیا سال مبارک ہو — حافظ گلزارعالم

    کل یکم محرم الحرام 1444 ھ کا دن تھا۔ ہجری/ قمری اعتبار سے نئے سال کا آغاز ہوگیا ہے۔ تمام عالم اسلام کو نیا سال بہت مبارک ہو۔ اللہ ہم سب کے لئے اس سال کو رحمتوں برکتوں اور کامیابیوں والا بنائے اور ہر تکلیف سے محفوظ رکھے آمین

    اس سال کو ہجری سال اس لئے کہتے ہیں کہ اس کی ابتدا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپکے صحابہ رضی اللہ عنھم کے مکے سے مدینہ ہجرت کے واقعے سے فرمائ۔واقعہ ہجرت ہی کو اسلامی سال کا سن آغاز منتخب کرنے میں بڑی حکمتیں ہیں۔ یہ واقعہ مسلمانوں کے لیے دینی، تاریخی اعتبار سے خاص اہمیت رکھتا ہے، یہ اہلِ اسلام کو اس دور کی یاد دلاتا ہے، جب ان کو مکّی دور کے ابتلاء وآزمائش کی تنگ زندگی سے نجات ملی اور مستحکم وپائیدار اور مضبوط مستقر ملا، اسلام اور اہل اسلام کو پھولنے پھلنے کا موقع ہاتھ آیا اور یہیں سے مسلمانوں نے پوری دنیا کو رشد وہدایت اور توحید کا عالم گیر پیغام دیا اور دنیا کے ایک بڑے حصے تک اسلام کا پیغام پہنچایا۔

    اسلامی سال کا پہلا مہینہ محرم الحرام ہے۔ جو بڑی فضیلت والا اور حرمت والا مہینہ ہے۔ اس ماہ میں بڑے المناک واقعات بھی پیش آئے جن میں یکم محرم الحرام 24ھ کو شہادت عمر رضی اللہ عنہ اور 10 محرم الحرام 61 ھ کو واقعہ کربلا میں نواسہ رسول حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا المناک سانحہ سرفہرست ہے۔

    سال کے اس پہلے مہینے میں ہی اتنے عظیم دردناک واقعات میں بھی بڑی حکمت ہے۔ ہر مسلمان ان عظیم ہستیوں کی قربانیوں کو یاد کرے۔ کہ راہ حق میں انہوں نے ہر تکلیف اور پریشانی کا مقابلہ کیا۔ یہانتک کہ اپنی جانیں بھی قربان کردیں۔ یہ واقعات ہمیں یہ دعوت فکر دیتے ہیں کہ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان سچا راستہ ، صحیح مقصد، اعلی فکر اپنائے، اور پھر اس مقصد کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردے۔

    اور وہ سچا راستہ صحیح مقصد اعلی فکر ایک مسلمان کی نظر میں یہی ہے کہ وہ اس زندگی کا ہر لمحہ اللہ جل شانہ کی بندگی میں گزارے۔ اور اس رستے میں اس کی جان بھی جائے تو دریغ نہ کرے۔

    میری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی
    میں اسی لئے مسلماں، میں اسی لئے نمازی

    اور بقول مرزا غالب

    جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
    حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا

    اس سال کے پہلے دن یہ چند کام مفید ثابت ہونگے:

    محاسبہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے: حاسبوا انفسکم قبل ان تحاسبوا۔ یعنی اپنے نفس کا محاسبہ کرو، قبل اس کے کہ تمھارا محاسبہ کیا جائے ۔

    یوں تو صبح شام ہر ایک کو اپنا محاسبہ کر نا چاہیئے، مگر اس دن بطور خاص ہم یہ دیکھیں کہ کہیں ہم بے مقصد،فضول زندگی تو نہیں گزار رہے۔ کیا اللہ کے اور اسکے تمام بندوں کے حقوق ہم ادا کررہے ہیں۔ کیا ہم کسی ایسے کام میں تو مبتلا نہیں جس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں، یا جس سے اللہ کے کسی بھی بندے کو ہم سے تکلیف پہنچ رہی ہو؟

    نیت: تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ یعنی نیک اعمال کا اجر ہمیں تب ہی ملے گا ،جب ہماری نیتیں درست ہوں۔ لہذا ہر نیک کام کرنے سے پہلے یہ نیت کرلیں کہ میں محض اللہ کی خوشنودی کے لئے یہ کام کررہا ہوں۔

    نظام الاوقات: سال کے ہرمہینے، ہر ہفتے اور ہر دن کے لئے شیڈول بنائیں۔ اعتدال کے ساتھ اپنے تمام اہم کاموں کو ترتیب دیں۔ اعتدال کا مطلب یہ ہے کہ مختلف اوقات میں اتنا ہی کام کریں جو آپ بآسانی کرسکیں۔ نیز تفریح، صحت، اہل و عیال کے لئے بھی مناسب وقت ضرور رکھیں۔

    وقت کی قدر بڑی عظیم نعمت ہے۔ زندگی کا ایک ایک لمحہ بہت قیمتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسکا ہر لمحہ سونے چاندی سے زیادہ قیمتی ہے۔۔ کسی ایک پل میں درست فیصلہ انسان کو فرش سے عرش پر پہنچا سکتا ہے۔۔ اور کبھی اس کے کسی ایک لمحے کی خطا صدیوں لاکھوں انسان بھگتتے ہیں۔۔ ٹیپو سلطان کے مرقد پر رقم رزمی کا یہ شعر اسی بات کو بیان کرتا ہے

    یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
    لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی

    افسوس یہ ہے کہ وقت جس قدر قیمتی سرمایہ ہے اتنا ہی اس کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیا جاتا ہے اور انتہائ بے دردی سے اس عظیم سرماۓ کو فضول کاموں میں ضائع کر دیا جاتا۔ اسی کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "نعمتان مغبون فیھما کثیر من الناس الصحة والفراغ”۔۔ صحت اور فراغت دو ایسی نعمتیں ہیں کہ بہت سارے لوگ ان کے بارے میں دھوکے میں پڑجاتے ہیں۔

    اور فرمایا: "من حسن اسلام المرء ترکہ مالایعنیہ” آدمی کے اسلام کی خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ لایعنی اور فضول کاموں کو چھوڑدے۔۔

    الغرض اس دن اللہ تعالی کی عنایت کردہ بے شمار نعمتوں پر شکر کے ساتھ ساتھ دعا ہے کہ اللہ تعالی اس زندگی کے ایک ایک لمحے کی صحیح قدر کرنے کی توفیق دے، کہ

    یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے
    یہ بڑے نصیب کی بات ہے

  • بکواس مت کیجئے — حافظ گلزارعالم

    بکواس مت کیجئے — حافظ گلزارعالم

    گو کہ یہ عنوان بھی آپکو پہلی نظر میں بکواس لگا ہوگا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ نہایت حکیمانہ مقولہ ہے۔ کیونکہ آپ لاکھ خود کو پڑھے لکھے، مہذب اور سمجھدار سمجھتے ہوں، لیکن اگر آپ بغیر سوچے سمجھے کچھ بھی بول دیتے ہیں تو آپ بہرحال بکواس ہی فرمارہے ہیں۔

    آپ زبان سے وہی بات کہیں جس کے بارے میں آپکو یقین ہو کہ یہ بات سچی ہے،جھوٹ نہیں ہے۔ اچھی ہے، بری نہیں۔ مفید ہے، غیر مفید نہیں ہے۔ کسی کا دل خوش کرنے کیلئے ہے، کسی کی دل آزاری کیلئے نہیں ہے۔اگر آپ ہر دفعہ بولنے سے پہلے ان باتوں کو سوچ کر اچھی گفتگو کرتے ہیں تو مبارک ہو۔

    آپ مہذب، سلجھے ہوئے، بہترین انسان ہیں، بشرطیکہ آپ نہ صرف گفتار کے، کردار کے بھی غازی ہوں۔ یعنی نہ صرف آپ اچھا بولتے ہوں، اس پر عمل بھی کرتے ہوں، یا کم از کم عمل کرنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔ کیونکہ

    عمل سے زندگی بنتی ہے، جنت بھی جہنم بھی
    یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ نوری

    بہرحال کچھ بھی بولنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لیں کہ کل کسی عدالت میں مجھ سے میرے کہے ہوئے ایک ایک لفظ کا حساب لیا جائیگا۔ اگر بات اچھی ہوئ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

    وَالْـکَلِمَۃُ الطَّیِّبَۃُ صَدَقَۃٌ ’’

    اوراچھی بات بھی صدقہ ہے‘‘ (صحیح بخاری)

    اور صدقہ بڑی عظیم عبادت ہے۔ اور اگر خدانخوستہ آپکی کہی ہوئ بات بری ہوئ تو یہ بڑے خطرے کی بات ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

    ما يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْہِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ
    ( پارہ:26،سورۃ:ق، آیات:17،18)
    ترجمہ: ۔ تم جو بات بھی نکالتے ہو، اس پر نگران موجود ہے

    لہذا آپ کی ایک ہی بری،جھوٹی، غیبت، چغلی یا طنز پر مبنی بات اللہ کی ناراضگی کا سبب بن سکتی ہے۔ حدیث مبارک پڑھیئے:
    حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ مشہور صحابی ہیں، وہ ارشاد فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک پکڑی اور ارشاد فرمایا:

    ’’کُفَّ عَلَیْکَ ہٰذَا‘‘۔۔۔۔۔ ’’اس کو روکو۔‘‘ یعنی زبان کو قابو میں رکھو، یہ چلنے میں بے احتیاط اور بے باک نہ ہو۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ’’وَإِنَّا لَمُؤَاخَذُوْنَ بِمَا نَتَکَلَّمُ بِہٖ‘‘۔۔۔۔۔’’ہم جو باتیں کرتے ہیں کیا ان پر بھی ہم سے مواخذہ ہوگا؟‘‘ باز پُرس کی جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ثَکِلَتْکَ أُمُّکَ یَا مُعَاذُ!‘‘ ۔۔۔۔۔’’اے معاذ!تجھے تیری ماں روئے۔‘‘(عربی زبان کے محاورہ میں یہ کلمہ یہاں پیار ومحبت کے لیے ہے) ’’وَہَلْ یَکُبُّ النَّاسَ فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوْہِہِمْ إِلاَّ حَصَائِدُ أَلْسِنَتِہِمْ‘‘ لوگوں کو دوزخ میں ان کے منہ کے بل زیادہ تر ان کی زبانوں کی بے باکانہ باتیں ہی ڈلوائیں گی،یعنی آدمی جہنم میں اوندھے منہ زیادہ تر زبان کی بے احتیاطیوں کی وجہ سے ہی ڈالے جائیں گے۔( ترمذی)

    زبان کی لغزشوں سے بچنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ انسان خاموشی کی عادت اپنالے۔ دیکھئے حدیث
    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ( مَنْ صَمَتَ نَجَا ) .روى الترمذي (2501)

    ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو خاموش رہا وہ نجات پاگیا (ترمذی)
    پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ بھی یہی تھی کہ آپ بکثرت خاموش رہا کرتے تھے۔سماک کہتے ہیں: میں سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے عرض کیا: کیا آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی محفل میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوتا رہا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ زیادہ تر خاموش رہنے والے اور کم ہنسنے والے تھے(مسند احمد)

    لہذا اگر ہم اس نیت سے خاموش اختیار کریں کہ یہ میرے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے تو دو فائدے ہونگے۔ ایک تو فضول گوئی سے بچیں گے۔ دوسرا یہ کہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرنے وجہ سے ہماری ساری خاموشی عبادت میں لکھی جائیگی۔

    مگر اس تمام مضمون سے یہ نتیجہ نکالنا بھی ہرگز درست نہیں کہ ہم "صم بکم” ( گونگے بہرے) رہیں۔ دین بہرحال اعتدال کا نام ہے۔ اور اس باب میں اعتدال یہ ہے کہ ہم فضول گوئی سے اجتناب کرتے ہوئے خاموش تو رہیں۔ مگر جب بولنے کا موقعہ ہوتو ضرور بولیں۔ اچھا بولیں۔

    صاف بولیں ۔ برمحل بولیں۔ خاموشی اور کلام میں اعتدال لانے کیلئے بشر بن حارث رحمہ اللہ کا یہ قول مفید ثابت ہوگا۔ آپ فرماتے ہیں
    إِذَا أَعْجَبَكَ الْكَلَامُ فَاصْمُتْ وَإِذَا أَعْجَبَكَ الصَّمْتُ فَتَكَلَّمْ

    "اگر تمہیں بولنا پسند ہو تو خاموش رہا کرو اور اگر تمہیں خاموش رہنا پسند ہو تو بولا کرو۔”
    [حلية الأولياء وطبقات الأصفياء – ط السعادة، جلد ۸، صفحہ نمبر ۳۴۷]

  • سراپا عدل رضی اللہ عنہ (حیات، فضائل اور شہادت) — حافظ گلزارعالم

    سراپا عدل رضی اللہ عنہ (حیات، فضائل اور شہادت) — حافظ گلزارعالم

    کیا آپ کو معلوم ہے؟

    وہ کون شخصیت ہیں جو انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں۔ جن کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا۔ جنھیں سروردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے مانگا تھا۔ جو اپنی رائے دیتے اور اللہ اسی رائے کے موافق قرآن کی آیات نازل فرماتے۔ جو محبوب رب العالمین صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سسر ہیں ، جو ہجری تقویم کے بانی ہیں۔جن کے دور خلافت میں عراق، مصر، لیبیا، سرزمین شام، ایران، خراسان، مشرقی اناطولیہ، جنوبی آرمینیا اور سجستان فتح ہو کر مملکت اسلامی میں شامل ہوئے اور اس کا رقبہ بائیس لاکھ اکاون ہزار اور تیس (22,51,030) مربع میل پر پھیل گیا۔ جن کے دور خلافت میں پہلی مرتبہ یروشلم فتح ہوا، اس طرح ساسانی سلطنت کا مکمل رقبہ اور بازنطینی سلطنت کا تقریباً تہائی حصہ اسلامی سلطنت کے زیر نگین آ گیا۔ جنھوں نےاپنی مہارت، شجاعت اور عسکری صلاحیت سے ساسانی سلطنت کی مکمل شہنشاہیت کو دو سال سے بھی کم عرصہ میں زیر کر لیا، نیز اپنی سلطنت و حدود سلطنت کا انتظام، رعایا کی جملہ ضروریات کی نگہداشت اور دیگر امور سلطنت کمال خوش اسلوبی اور مہارت و ذمہ داری کے ساتھ نبھایا، جو خلیفہ وقت ہونے کے باوجود روکھی سوکھی کھایا کرتے، کپڑوں پر پیوند لگے ہوتے، زمین پر استراحت فرماتے مگر رعب و دبدبہ اتنا کہ قیصر و کسری پر آپ کا نام سن کر ہی کپکپی طاری ہوجاتی، جو جس راستے سے جاتے شیطان اس رستے کے قریب بھی نہ پھٹکتا ۔ جن کے بارے میں خاتم النبیین صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: مرے بعد اگر کوئ نبی ہوتا تو یہ ہوہوتے۔ یہ ہیں سیدنا ابوحفص عمر فاروق بن خطاب عدوی قرشی رضی اللہ عنہ۔

    آپ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد، تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں، عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، آپ کا شمار علماء و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا۔ آپ کا عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا اور ان کے لقب فاروق کی دیگر وجوہ تسمیہ میں ایک وجہ یہ بھی بنی۔

    آپ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ آپکی ہر صفت بے مثال تھی۔ اسلام لانے سے قبل پڑھے لکھے عظیم سرداروں میں اور بہادر ترین افراد میں آپکا شمار ہوتا تھا۔ اور اسلام لانے کے بعد اپنی ساری سرداری، بہادری، عدالت، ذکاوت ، سخاوت رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے قدموں پر قرباں کردی۔

    نام و نسب
    سلسلہ نسب یہ ہے: عمر بن خطاب بن نفیل بن عبد العزی بن رباح بن عبداللہ بن قرط بن زراع بن عدی بن کعب بن لوی بن فہر بن مالک آپ کا لقب فاروق، کنیت ابو حفص، لقب و کنیت دونوں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عطا کردہ ہیں۔ آپ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جا ملتا ہے

    پیدائش
    امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ آپ کی ولادت شریف عام الفیل کے تیرہ سال بعد ہوئی ۔ (تاریخ الخلفاء :ج1،ص43)
    مشہور روایت کے مطابق آپ ہجرت سے چالیس برس قبل پیدا ہوئے۔ آپ کے بچپن کے حالات نا معلوم ہیں۔ کسے معلوم تھا کہ آج کا یہ بچہ کل بائیس لاکھ مربع میل پر حاکم ہوگا، اور شرق و غرب میں اسکے نام کا ڈنکا بجے گا۔

    تعلیم
    عرب میں نسب دانی،سپہ گری،پہلوانی اور مقرری کا نہ صرف رواج تھا بلکہ یہ امور باعث شرافت سمجھےجاتے تھے۔ چنانچہ آپ کے باپ دادا نامور نساب تھے، آپ نے اپنے والد سے نسب دانی سیکھی۔ پہلوانی اور کشتی میں بھی کمال حاصل کیا، یہانتک کہ عکاظ کے دنگل میں آپ اپنی پہلوانی کے جوہر دکھاتے۔ عکاظ جبل عرفات کے قریب ایک مقام تھا جہاں ہر سال اہل فن اپنے کمالات کا اظہار کرتے تھے۔ آپ بہترین مقرر اور اعلی شاعر بھی تھے۔ اور آپ کا شمار ان سترہ افراد میں ہوتا ہے جو بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔

    قبول اسلام
    ابتداء اسلام میں آپ اسلام اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شدید ترین مخالفین میں سے تھے۔ یہانتک کہ اپنی کنیز لبینہ کے اسلام لانے پر انکو سخت ترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ مگر

    اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے
    اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دباؤگے

    مشرکین مکہ نے اسلام کو روکنے کی جتنی تدبیریں اختیار کیں، اسلام اتنا ہی پھیلنے لگا ۔ یہ صورتحال دیکھ کر مکہ کے مشرک سرداروں نے فیصلہ کیا کہ کہ معاذاللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کیا جائے،جسکے لئے کوئ تیار نہ ہوا۔ مگر عمر رضی اللہ عنہ اس پر آمادہ ہوئے، اور تلوار لے کر نکل پڑے۔ رستے میں آپ کے بدلے تیور دیکھ کر نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہاں جارہے ہیں، آپ نے کہا محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو قتل کرنے( معاذاللہ)،یہ سن کر نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا پہلے اپنے گھر کی تو خبر لیجئے آپکی بہن فاطمہ اور بہنوئ سعید بن زید رضی اللہ عنھما بھی اسلام قبول کرچکے ہیں۔ یہ سن کر آپ کے غصے کی انتہا نہ رہی، شدید غصے کی حالت میں گھر گئے، دیکھا کہ آپکی بہن قرآن کریم کے اجزاء لیکر تلاوت کرہی ہیں۔ انہوں نے آپکو دیکھتے ہی وہ اجزاء چھپائے،مگر آپ نے آواز سن لی تھی، آپ نے کہا مجھے پتہ چل گیا ہے کہ تم دونوں مرتد ہوگئے ہو، یہ کہہ کر اپنے بہنوئ سعید سے دست وگریباں ہوئے،بہن فاطمہ رضی اللہ عنھا بچانے آئ تو انہیں بھی اتنا مارا کہ لہولہان کردیا۔ بہن نے کہا جو کرسکتے ہو کرلو،ہم دین اسلام نہیں چھوڑ سکتے۔ ان الفاظ نے آپ کے دل پر گہرا اثر کیا۔ اور بہن کا خون آلود بدن دیکھ کر مزید دل نرم ہوا۔ فرمایا: لاؤ، مجھے دکھاؤ تم کیا پڑھ رہے تھے۔ فاطمہ رضی اللہ عنھا نے قرآن کریم کے اجزاء سامنے رکھے، جن پر یہ آیات تھیں:

    سبح لله ما فی السموت والأرض وھو العزیز الحکیم
    ( جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے۔ اور وہ غالب حکمت والا ہے)
    ایک ایک لفظ پر ان کا دل اسلام کی طرف مائل ہوتا گیا۔ اور جب اس آیت پر پہنچے:
    آمنوا باللہ ورسولہ
    ( اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آؤ)
    تو بے اختیار زبان پر کلمہ جاری ہوا:
    اشھد أن لا الہ الا اللہ وأشھد أن محمداً رسول اللہ
    آپ کے اسلام کا سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نعرۂ تکبیر بلند کیا، آپ کے ساتھ سب صحابہ نے بھی خوشی سے اللہ اکبر کہا۔
    آپ کے اسلام لانے سے تاریخ اسلام کا نیا دور شروع ہوا،مسلمانوں کو حوصلہ ملا، اسلام کو قوت ملی۔ عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں
    "فلما أسلم عمر قاتل قریشا حتی صلی عند الکعبۃ وصلینا معہ”
    ” جب عمر رضی اللہ عنہ اسلام لاۓ تو قریش کا مقابلہ کیا یہانتک کہ ببانگ دہل کعبۃ اللہ میں نماز پڑھی، اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز ادا کی۔

    سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کے اسلام لا نے کے بعد6 نبوی میں سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام قبول کیا ،اس وقت آپ کی عمر مبارک ستائیس 27 سال تھی ۔ (تاریخ الخلفاء :ج1،ص:43۔ الاکمال فی اسماء الرجال)

    فضائل
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر آپکے وہ فضائل بیان فرماۓ،جو آپ ہی کا خاصہ ہیں جن میں سے چند یہ ہیں:

    1-میرے بعد جو دو(خلفاء )ہیں، ان کی اقتداء کرو یعنی ابوبکر اورعمر رضی اللہ عنہما ۔ (جامع الترمذی)
    2-بے شک اللہ تعالی نے عمررضی اللہ عنہ کی زبان اور قلب پر حق کو جاری فرمادیا ہے ۔ (جامع الترمذی)
    3-عمر! شیطان تم کو دیکھتے ہی راستہ کاٹ جاتا ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح المسلم)
    4-میری امت میں اللہ کے دین کے معاملے میں سب سے سخت عمر ہیں۔( جامع الترمذی )
    5-حضرت علی رضی الللہ عنہ سے روایت ہے ، فرمایا:” بے شک عمر فاروق جب کوئی بات کہتے یں تو قرآن اُن کی بات کی تصدیق کے لیے نازل ہوتا ہے ۔”
    6-حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: ’’ یا رب ! اسلام کو خاص عمر بن خطاب ؓ کے ذریعے غلبہ وقوت عطا فرما۔‘‘ (المستدرک حاکم)

    شہادت
    مدینہ منورہ میں ایک پارسی غلام تھا،جس کا نام ابو لؤلؤ فیروز تھا۔ اس نے آپ سے شکایت کی کہ میرے آقا مغیرہ بن شعبہ نے مجھ پر بڑا بھاری محصول مقرر کیا ہے۔ آپ نے پوچھا کتنا؟ اس نے کہا روزانہ دو درہم۔ آپ نے کہا کیا کام کرتے ہو؟ اس نے کہا بڑھئ، رنگسازی اور لوہار کا کام۔ آپ نے کہا تین پیشوں کے حساب سے یہ محصول تو مناسب ہے۔ وہ غلام آپکے اس فیصلے پر سخت ناراض ہوا۔

    ایک دن فجر کی نماز کی امامت کے لئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ بڑھے، جونہی نماز شروع کی۔ فیروزنے اچانک گھات سے نکل کر آپ پر چھ وار کئے، ایک وار آپکےناف کے نیچے لگا۔ حضرت عمر نے فورا حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کو ہاتھ سے پکڑ کر آگے کیا، انہوں نے نماز مکمل کی۔ اور آپ اس دوران لہولہان حالت میں تڑپتے رہے۔

    فیروز کو اس دوران پکڑنے کی کوشش کی، مگر اس نےاس خنجر سے اور افراد کو بھی زخمی کیا، اور جب پکڑا گیا تو اس نے خودکشی کی اور جہنم واصل ہوا۔
    سب سے پہلے آپنے پوچھا کہ میرا قاتل کون ہے؟ آپکو بتایا گیا کہ فیروز نظامی پارسی غلام۔ آپ نے الحمدللہ کہا، کہ شکر ہے کوئ اسلام کا دعویدار میرا قاتل نہیں۔

    ایک طبیب بلایا گیا جس نے آپکو نبیذ اور دودھ دیا، دونوں چیزیں زخم کی راہ سے باہر نکل آئیں۔ آپ کو یقین ہوگیا کہ اب آپ جانبر نہیں ہوسکتے، لہذاحضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے اجازت چاہی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں جگہ عنایت کردیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے روتے ہوۓ کہا کہ یہ جگہ میں نے اپنے لئے رکھی تھی۔ مگر میں آج آپکو خود پر ترجیح دیتی ہوں۔

    آپ نے فرمایا: "یہی میری سب سے بڑی آرزو تھی”

    تین دن بعد آپکا انتقال ہوا۔
    انا لله وانا الیہ راجعون

    مشہور تاریخی روایات سے یہی بات ثابت ہے کہ 23 ہجری 26 یا27 ذوالحجہ کو نماز فجر میں سیدنا فاروق اعظمؓ پر ابولؤلؤ فیرزو مجوسی ملعون نے حملہ کیا اور تین دن کے بعد یکم محرم الحرام کو امیرالمومنین سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے جام شہادت نوش فرمایا۔صحیح قول کے مطابق بوقت شھادت انکی عمر مبارک 63 سال تھی ۔ آپؓ کی مدتِ خلافت دس سال،چھ ماہ تین دن پر محیط ہےیکم محرم الحرام کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پہلو میں دفن کئے گئے۔

    حضرت علی رضی اللہ عنہ آپکے جنازے پر آئے اور فرمایا: دنیا میں مجھے سب سے محبوب وہ شخص تھا جو اس کپڑے میں لپٹا ہوا ہے۔

    حضرت ام ایمن رضی اللہ عنھا نے کہا: اب اسلام کمزور ہوگیا۔

    سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: اب میں اسلام پرروتا ہوں۔ آپکی موت سے اسلام میں وہ دراڑ آئ جو کبھی بھری نہیں جاسکتی۔
    اللہ ہمیں آپکے نقش قدم پر چلائے۔ آمین

    آپ کی مرقد پر بے شمار رحمتیں ہوں ۔ آمین