Baaghi TV

Tag: حامد میر

  • حامد میر پر قاتلانہ حملے کو 9 سال مکمل مگر انصاف نہ مل سکا

    حامد میر پر قاتلانہ حملے کو 9 سال مکمل مگر انصاف نہ مل سکا

    سینئر صحافی اور کالم نگار حامد میر پر 19 اپریل 2014 کو کراچی میں کیئے گئے حملہ کو 9 سال مکمل ہوگئے ہیں مگر تاحال انہیں انصاف نہیں ملا ہے، ان پر یہ حملہ کراچی میں اس وقت ہوا تھا جب وہ ائیرپورٹ سے گاڑی میں بیٹھ کر جیو دفتر جارہے تھے تاہم راستے میں نامعلوم افراد نے ان کی گاڑی کا تعاقب کیا اور پھر موقع ملتے ہی گولیاں چلا دیں.


    تاہم خیال رہے کہ وہ اس حملہ میں شدید زخمی ہوگئے تھے. حامد میر پر حملے کو نو سال مکمل ہونے پر صحافی ملک رمضان اسراء نے لکھا کہ "حامد میر جیسے معروف صحافی پر قاتلانہ حملے کو نو سال مکمل ہوگئے لیکن ابھی تک انہیں انصاف نہیں ملا ہے تو آپ اب اندازہ لگالیں کہ عام آدمی کا کیا حال ہوگا؟” انہوں نے مزید لکھا کہ "جب مجھے 2014 میں حامد میر پر قاتلانہ حملے کا علم ہوا تو میرے پاؤں سے زمین نکل گئی اور آنکھوں میں آنسو تھے بھاگ کر گھر آیا تو امی نے پوچھا خیریت کیوں رو رہے ہو انہیں بتایا تو وہ فورا جائے نماز پر بیٹھ گئی اور پھر ہم مسلسل دعائیں کرتے رہے۔”


    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج
    جماعت اسلامی سےمذاکرات،عمران خان کی ہدایات پر پی ٹی آئی کی تین رکنی کمیٹی قائم
    بھارتی مسلمان رکن اسمبلی کوبھائی سمیت پولیس حراست میں ٹی وی کیمروں کے سامنے گولیاں ماردی گئیں
    حامد میر اس بارے میں لکھتے ہیں کہ "کراچی میں قاتلانہ حملے کے بعد مجھ پر دباؤ ڈالا گیا کہ پاکستان سے چلے جاؤ جب انکار کیا تو کچھ عرصے کے بعد قتل اور اغوا کے مقدمے میں پھنسایا گیا، پھر توہین رسالت کا الزام لگایا گیا آخر میں بغیر کسی عدالتی حکم کے پابندی لگا دی گئی کسی عدالت سے انصاف نہ ملا”

  • لندن، پی ٹی آئی کارکنان کی مریم اورنگزیب سے بدتمیزی ،گالیاں بھی دیں

    لندن، پی ٹی آئی کارکنان کی مریم اورنگزیب سے بدتمیزی ،گالیاں بھی دیں

    لندن :برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں تحریک انصاف کے حمایتیوں کی جانب سے وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے ساتھ بدتمیزی کا ایک اور واقعہ رونما ہوا ہے۔وفاقی وزیر اعطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب اس وقت لندن میں وزیر اعظم اور دیگر وفاقی وزرا کے ہمراہ موجود ہیں۔

    اتوار کے روز مریم اورنگزیب سینٹرل لندن میں موجود تھیں کہ تحریک انصاف کے حمایتی وہاں آن پہنچے ، تحریک انصاف کے حمایتیوں میں خواتین بھی شامل تھیں جن میں سے کچھ مریم اورنگزیب کو انتہائی برے القابات سے پکار رہی تھیں۔اس سارے عمل کے دوران مریم اورنگزیب نے انتہائی صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاموشی اختیار کئے رکھی۔

    تحریک انصاف کے حمایتیوں کے چلے جانے کے بعد مریم اورنگزیب سے تحریک انصاف کی ہی ایک حمایتی خاتون نے چند سوالات کئے، جن کا انہوں نے شافی جواب دے کر اسے مطمئن کرنے کی کوشش کی۔

    لندن میں تحریک انصاف کے حمایتیوں کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران کئی مرتبہ نواز شریف کی رہائش گاہ اور ان کے بیٹوں کے دفاتر کے سامنے احتجاج ہوچکے ہیں۔مریم اورنگزیب کے ساتھ رمضان المبارک میں مسجد نبوی ﷺ میں بھی چند افراد نے بدتمیزی کی تھی جس کی ہر سطح پر شدید مذمت کی گئی تھی۔

     

     

    حامد میر نے لندن میں مریم اورنگزیب کےساتھ پیش آنے والے واقعہ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جو خاتون غیر مناسب انداز اپنارہی ہے اس کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ ایسا کرنے والی خاتون کون ہے؟

     

     

    دوسری طرف مریم اورنگزیب نے بھی کچھ ایسے ہی ردعمل کا اظہارکیا ہے ،نفرت اور تفرقہ بازی عمران خان کی سیاست کا ہمارے بھائیوں اور بہنوں پر زہریلا اثر دیکھ کر دکھ ہوا۔ میں ٹھہری رہی اور ان کے ہر سوال کا جواب دیا۔ افسوس کی بات ہے کہ وہ عمران خان کے پروپیگنڈے کا شکار ہیں۔ ہم عمران خان کی زہریلی سیاست کا مقابلہ کرنے اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے اپنا کام جاری رکھیں گے۔

     

     

  • شہباز گل کے حوالہ سے چند سوالات،ہدف کچھ اور ہے

    شہباز گل کے حوالہ سے چند سوالات،ہدف کچھ اور ہے

    شہباز گل کے حوالہ سے چند سوالات،ہدف کچھ اور ہے
    ،اطلاعات کے مطابق اس وقت  پاکستان میں شہبازگل پرتشدد کے حوالے سے ہرطرف بحث ہورہی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ایک طرف ملک میں سیلاب اور بارشیں ہیں ، اس دوران یہ تشدد کی بحث کس نے اور کیوں شروع کروائی باغی ٹی وی کچھ حقائق سامنے لایا ہے

     

    باغی ٹی وی حقائق کے مطابق یہ معاملہ شہبازگل کی رہائی کا نہیں بلکہ کچھ اور ہے ،اس معاملے کے پیچھے پاکستان کی ایک اہم صحافتی شخصیت اور خود عمران خان ہیں جن کا مقصد پاک فوج کو بدنام کرنا ہے

    حقائق کچھ اس طرح ہیں کہ شہبازگل گرفتاری کے بعد تین بار عدالت پیش ہوئے مگرتشدد کا ذکر نہیں ہوا  ، اس کےبعد شہبازگل اڈیالہ جیل منتقل ہوئے جو کہ پنجاب حکومت کے زیرکنٹرول ہے وہاں طبی معائنہ ہوا مگر تشدد کا ذکر نہیں ہوا ، حالانکہ اگرایسی بات تھی تو ضرور اس کا ذکرکیا جانا چاہیے تھا اس کے بعد شہبازگل سے اڈیالہ جیل میں صوبائی وزیرداخلہ کرنل ریٹائرڈ ہاشم کی ملاقات ہوئی لیکن انہوں نے کہا کہا کہ تشدد نہیں ہوا

    باغی ٹی وی حقائق پیش کررہا ہے کہ اصل میں اس سارے کھیل کے پیچھے ایک بہت بڑی صحافتی شخصیت ہے ،یہ حقیقت ہے کہ شہبازگل پر تشدد کی بات سب سے پہلے حامد میر نے کی جس کا مقصد پاک فوج اور ملک کے سلامتی کے اداروں کو بدنام کرنا تھا پھرمنصوبہ بندی کے ساتھ حامد میر کے بعد عمران خان نے تشدد کا ذکر کیااور اس کھیل مین دونوں کی ملی بھگت ہے ، پہلے صحافی حامد میر نے اس کہانی کا آغازکیا پھرعمران خان کو کہا گیا کہ وہ اس معاملے کو آگے بڑھائیں

    حقیقت یہ ہے کہ حامد میر اور عمران خان دونوں کا ہدف پاک فوج اور ملک کی سلامتی کے ادارے تھے ، حامد میر عمران خان کے ساتھ مل کر پاک فوج کے خلاف سازشیں کررہے ہیں ، حامد میر اس سارے کھیل کا مرکزی کردار ہے ان حالات میں جب شہبازگل پر تشدد کے حوالے سے میڈیکل رپورٹ بھی آگئی ہے تو یہ بحث اب ختم ہونی چاہیے تھی لیکن یہ دونوں احباب معاملے کو قوم کے سامنے بار بار رکھ رہے ہیں تاکہ قوم ان حقائق پر پاک فوج کے خلاف کھڑی ہوجائے جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں ایک طرف بارشیں اور سیلاب ہے قوم اس میں پھنسی ہوئی ہے عمران خان شہبازگل پر مبینہ تشدد کے معاملے کو ہوا دے رہا ہے تاکہ یہ معاملہ قوم کے سامنے پیش ہو اور قوم اس تشدد کے معاملے پر اپنے جزبات کا اظہارکرے، عمران خان نے اقتدار جانے کے بعد نفرت کی سیاست کی ہے اور اداروں کے درمیان تفریق پیدا کرنے کی کوشش کی ہے، عمران خان کی جماعت کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ بھی اداروں پر مسلسل تنقید کر رہے ہیں، عمران خان اور انکی پارٹی کے رہنماؤں کو ملکی سلامتی سے زیادہ وزیراعظم کی کرسی عزیز ہے

  • کیا حامد میر ملک چھوڑ کر باہر جانے والے ہیں؟

    کیا حامد میر ملک چھوڑ کر باہر جانے والے ہیں؟

    سوشل میڈیا پر آئے روز آپ کو کچھ نہ کچھ ایسا دیکھنے کو ملتا ہے کہ جس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہوتا ماسوائے فیک نیوز پھیلانے کے اسی طرح آج کل سینئر صحافی حامد میر سے متعلق جھوٹی خبر پھیلائی جارہی ہے کہ وہ ملک چھوڑ کر کہیں باہر جارہے ہیں۔
    اسی فیک خبر کا سہارا لیتے ہوئے ایک خودساختہ ٹی وی اینکر حفصہ فیاض نے دعوی کیا کہ: اینکرپرسن سلیم صافی کا استعفی دینے کی اطلاعات ہیں جبکہ صحافی حامد میر کا ایک ماہ چھٹی لیکر باہر جانے کی بھی اطلاع ہے۔

    اس خاتون نے مزید دعوی کیا کہ: ایک معروف چینلز کے تین سینئر اینکرز بھی استعفی دے چکے اور کسی بیرون ملک چلے گئے۔

    اس خاتون کے دعوی کی تردید کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ: "عمران خان کے دور حکومت میں مجھ پر نو ماہ پابندی رہی لیکن میں پاکستان سے نہیں بھاگا تو اس دور میں کیوں بھاگوں گا؟ ہر دور میں مشکلات کا سامنا رہا ہے، آج کل بھی کچھ مشکلات ہیں لیکن میں چھٹی لیکر کہیں نہیں جا رہا ہوں۔”
    حامد میر نے مزید کہا کہ: عمران خان کے دور میں بھی کچھ سیاستدانوں کے انٹرویو سنسر کرائے جاتے تھے اس دور میں بھی کچھ شخصیات کے انٹرویو کرنا مشکل ہے مثال کے طور پر منظور پشتین کا انٹرویو نشر کرنا بہت مشکل ہے منظور پشتین پر وہی مقدمات ہیں جو عمران خان پر بھی ہیں لیکن ایک ٹی وی پر آ سکتا ہے دوسرا نہیں۔


    حامد میر کی تردید کے بعد شبیر جان نے انہیں لکھا کہ: عمران خان کے دور میں آپ پر پابندی جیو نے لگائی تھی ناکہ عمران خان نے اور اگر جیو نے نہیں لگائی تو پھر جنرل رانی نے لگائی ہوگی جس کا آپ نے اپنے بیان میں ذکر کیا تھا۔

    اسلام آباد کے صحافی سید عون شیرازی کہتے ہیں کہ: جس حامد میر کو میں جانتا ہوں اُسکا جینا مرنا اسی ملک میں ہے کیونکہ حامد میر جی دار آدمی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا: حامد میر پر ہر دور میں الزامات لگائے جاتے ہیں اور انہیں سرخرو ہونےکی عادت ہے۔

  • میرے نام سے بنائے گئے تمام فیس بک پیجز جعلی ہیں:حامد میر

    میرے نام سے بنائے گئے تمام فیس بک پیجز جعلی ہیں:حامد میر

    اسلام آباد:میرے نام سے بنائے گئے تمام فیس بک پیجز جعلی ہیں:اطلاعات کے مطابق سینیئر صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ میرے نام سے بنائے گئے تمام فیس بک پیجز جعلی ہیں اور میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے ، یہ بات انہوں نے حامد میر کے نام سے موجود پیجز سے پوسٹیں شیئر ہونے کے بعد کی

     

     

    اس حوالے سے حامد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری اپنے ایک پیغام میں کہا کہ میں کئی بار وضاحت کر چکا ہوں اور اب دوبارہ دہرا رہا ہوں کہ میرے نام پر کوئی فیس بک پیج نہیں ہے۔ کچھ لوگ جعلی فیس بک اکاؤنٹس پر میرا نام اور تصاویر استعمال کر رہے ہیں۔

    حامد میر نے کہا کہ وہ اس حوالے سے کئی بار پہلے بھی باور کرا چکے ہیں کہ وہ ان جعلی صفحات کو ہٹانے میں ناکام رہے۔ انہوں نے ایک جعلی صفحہ کی تصدیق کی۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اس حوالے سے بہت وضاحتیں دے چکے ہیں

    ادھر ذرائع کے مطابق حامد میر کا کہنا تھا کہ ان کے نام سے کئی لوگوں نے اپنے سوشل میڈیا پیجز بنا رکھے ہیں ، جن کے ذریعے ایسا کرنے والے ان کا نام غلط استعمال کررہے ہیں اور وہ اس قسم کے تمام پجیز سے برات کا اعلان کرتے ہیں

    یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں فیک آئی ڈیز سے پوسٹیں اورمواد شیئر کیا جاتا ہے جس کا یقینی طور پر نقصان اس شخص کو ہوتا ہے جس کے نام سے وہ پیجز ہوتے ہیں

  • مفتاح صاحب،عوام کو ریلیف چاہئیے کہانیاں نہیں، حامد میر

    مفتاح صاحب،عوام کو ریلیف چاہئیے کہانیاں نہیں، حامد میر

    مفتاح صاحب،عوام کو ریلیف چاہئیے کہانیاں نہیں، حامد میر
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صحافی و اینکر حامد میر نے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو کھری کھری سنا دیں

    نومنتخب وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تاریخ کا سب سے زیادہ بجٹ خسارہ اور سب سے زیادہ تجارتی خسارہ ، بلند ترین مہنگائی ، گندم اور چینی جو ہم برآمد کرتے تھے درآمد کرنے پر مجبور ، روپے کی قیمت میں تاریخی کمی، زرمبادلہ کے ذخائر میں ریکارڈ کمی اور اسد عمر صاحب کہہ رہے ہیں کہ معیشت اچھی ہے؟ غلط بیانی کی بھی حد ہوتی ہے

    صحافی حامد میر نے مفتاح اسماعیل کی ٹویٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جناب مفتاح صاحب ہم سب جانتے ہیں معیشت کی حالت بہت بری ہے آپکو بھی سب پتہ تھا اسکے باوجود آپ تحریک عدم اعتماد لائے اور معیشت برباد کرنے والوں کو ہٹایا اب ہمیں تباہی کی کہانی مت سنائیں یہ بتائیں کہ آپ اس معیشت کو کیسے اور کتنے عرصے میں سنواریں گے؟ عوام کو ریلیف چاہئیے کہانیاں نہیں

    دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے یہ سمجھ نہیں آیا کہ یہ بد عنوان حکومت تھی یا نااہل تھی گیس سیکٹر کا کوئی سرکلر ڈیٹ نہیں تھا، آج 1500 ارب سے زیادہ کا سرکلر ڈیٹ بتایا گیا ،عمرا ن خان نے ایک پیسہ بھی قرض ادا نہیں کیا ساڑھے 7 ہزار میگا واٹ پاور پلانٹ بند رکھے گئے ہیں پانچ ہزار500 میگا واٹ پیسے کی کمی اور2 ہزار میگاواٹ مرمتی کام کے باعث بند رکھے گئے، وزیراعظم نے کھاد اسمگلنگ کے معاملے کی انکوائری کرنے کی ہدایت کی آج رات مجھے آئی ایم ایف جانا پڑے گا،

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    عمران خان کا دور اقتدار،دعوے کیا کئے؟ کام کیا کیا؟ کیا ہو گا خان کا بھی احتساب؟

    عمران خان کا ٹویٹر سپیس پر عوام سے مخاطب ہونے کا فیصلہ

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

    10 سالہ بچے کے ساتھ مسجد کے حجرے میں برہنہ حالت میں امام مسجد گرفتار

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ڈیجیٹل میڈیا ونگ ختم،ملک میں جاری انتشار اب بند ہونا چاہیے،وفاقی وزیر اطلاعات

    پارلیمنٹ لاجز میں صفائی کرنے والے لڑکے کو مؤذن بنا دیا گیا تھا،شگفتہ جمانی

    کابینہ ڈویژن نے وفاقی کابینہ سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کر دیا

    توقع ہے باہمی مشاورت سے تمام چیلنجز پر قابو پا لیں گے،وزیراعظم کا کابینہ اجلاس سے خطاب

    مفتاح اسماعیل نے بھی پریس کانفرنس میں خط لہرا کر بڑا دعویٰ کر دیا

  • وزیراعظم عمران خان کا چیلنج:اپوزیش کی طرف سے حامد میر نے قبول کرلیا:ڈی چوک کا مقام تجویز

    وزیراعظم عمران خان کا چیلنج:اپوزیش کی طرف سے حامد میر نے قبول کرلیا:ڈی چوک کا مقام تجویز

    اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان کا چیلنج:اپوزیش کی طرف سے حامد میر نے قبول کرلیا:ڈی چوک کا مقام تجویز،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی طرف سے پاکستان کی معیشت کو بہتر کرنے کے حوالے سے اپنی پالیسیوں کے دفاع میں جو مناظرے کا چیلنج اپوزیشن کودیا گیا تھا وہ حامد میر نے قبول کرلیا ہے

    حامد میر نے اس حوالے سے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے جو معیشت کے حوالے سے دعوے کیے ہیں اور ساتھ ہی اپوزیشن کو چیلجن کیا ہے وہ اس چیلنج کوقبول کرتے ہیں اور اس سلسلے میں اسلام آباد کا معروف ڈی چوک مناظرے کی جگہ ہوگا

    حامد میر نے کہا کہ "میں وزیراعظم عمران خان کیساتھ لائیو انٹرویو کیلئے تیار ہوں، اور اگر وزیراعظم چاہیں تو شہبازشریف اور بلاول کو میں دعوت دے سکتا ہوں”۔

    ان کاکہناتھاکہ اگر وزیراعظم عمران خان اپوزیشن لیڈر کا سامنا کرنے کو تیار نہیں تو پھر میں ان کیساتھ اکیلا انٹرویو کرسکتا ہوں۔اپوزیشن نے بھی وزیراعظم کا یہ چیلنج قبول کیا لیکن کہاہے کہ اگر حکومت کی کارکردگی بارے ایماندارانہ خیالات چاہیں تو وزیراعظم کو راولپنڈی کے راجہ بازار کا دورہ کرنا چاہیے ۔

    سابق وزرائے اعظم شاہد خاقان عباسی اور پیپلزپارٹی کے راجہ پرویز اشرف نے کہا ہےکہ اس طرح کی بحث کے لیے بہترین جگہ پارلیمنٹ ہے جو کہ گزشتہ ساڑھے تین سال سے ٹھیک سے نہیں چلائی گئی لیکن ابھی بھی وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک سے اس کی پوزیشن کی وضاحت ہوسکتی ہے ۔

    شاہد خاقان عباسی کا کہناتھاکہ ” ہم چیلنج قبول کرتے ہیں اور ڈی چوک پر رسمی بحث کے لیے تیار ہیں”۔ پرویز اشرف کاکہناتھاکہ ” ہم پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بحث کرتے ہیں، اب بھی تیار ہیں لیکن میرے خیال میں اب اس کیلئے جانے کا وقت ہے”۔

  • حامد میر:خیرآپ کے مقدرمیں ہی نہیں:آپ وہ ہیں کہ جس کی شرسے لوگ ڈرکراس کی عزت کرتے ہیں:کنول شوزیب

    حامد میر:خیرآپ کے مقدرمیں ہی نہیں:آپ وہ ہیں کہ جس کی شرسے لوگ ڈرکراس کی عزت کرتے ہیں:کنول شوزیب

    لاہور:حامد میر:خیرآپ کے مقدرمیں ہی نہیں:آپ وہ ہیں کہ جس کی شرسے لوگ ڈرکراس کی عزت کرتے ہیں : شوزیب:خیرآپ کے مقدرمیں ہی نہیں:ایم این اے کنول شوزیب نے حامد میر کی شرارتوں سے تنگ آکران شرانگیزیوں سے محفوظ رہنے کے لیے ایسی بات کہہ دی کہ اب حامد میر کے پاس سوائے معافی کے کوئی راستہ ہی نہیں بچا

    اطلاعات کے مطابق سوشل میڈیا سمیت دیگرچینلزپرپی ٹی آئی ایم این اے کنول شوزیب کے خلاف جاری مہم کے پیچھے سازش کرنے والوں کا پتہ لگ چکا ہے اور اب تو وہ چہرے کھل کرسامنے آگئے ہیں کہ جن کے بارے میں ہرزبان سے یہ الفاظ سننے کو مل رہے ہیں کہ یہ وہ شخص ہے کہ لوگ اس کی شر سے بچنے کےلیے اس کوسلام کرتے ہیں

     

    اس حوالے سے پی ٹی آئی کی خاتون ایم این اے کنول شوزیب بڑے دکھ کے ساتھ کہتی ہیں کہ حامد میراگرآپ کے اندر انسانیت نام کی کوئی چیز ہوتی تو آپ پہلے الزامات کی تحقیق ضرور کرتے لیکن افسوس کہ آپ کے مقدر میں خیر نہیں ہے

    کنول شوزیب کہتی ہیں کہ آپ پولیس لیکر میرے گھر تشریف لے آتے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاتا ؟ ان محترمہ کو سمجھائیں کہ اگر کوئ انٹرویو نہ دینا چاہے اور کہے کہ آپ نے جتنا انٹرویو کیا ہے یہ ڈلیٹ کر دئیں میں آپکے چینل کو انٹرویو نہیں دینا چاہتی اور آپ کہیں کہ نہیں ہم چلائیں گے تو؟

     

    آگے چل کر وہ شرپسندی سے تنگ آکر مزید کہتی ہیں کہ :شکر ہے کی میں میل MNA نہیں ورنہ کوئ بعید نہیں کہ یہ محترمہ مجھ پر کوئ اور الزام بھی لگا جاتیں انکو پیش کی گئ چائے ابھی تک پڑی ہے اب ان پر ہتک عزت کا رقبہ کرواؤں گی تو پھر آزادی صحافت پر حملہ ہو جائے گا اور میڈیا پر قدغن کا ڈرامہ بھی کوئی جج صاحب سے پوچھ کر بتائے کہ میں کیا کروں

     

    کنول شوزیب اپنے خلاف لگنے والے الزامات سے تنگ آکر مزید لکھتی ہیں کہ "آپ نے بغیر تحقیق کئے یہ الزام لگا دیا کہ آپکے گینگ کی رکن بتول راجپوت جنکو گھٹیا صحافت کیوجہ سے پہلے بھی چینلز نے نکال دیا تھا انھیں میں نے حبس بے جا میں رکھا اس کو آزادی صحافت کہیں گے؟ نوبت یہ ہے کہ اب آپ لوگوں کو گھروں میں گھس کر بلیک میل کریں گے اغوا کا الزام لگا دیں گے؟

    یاد رہے کہ متنازعہ اینکرحامد میرنے بھی ٹویٹ کے ذریعے الزام لگایا تھا کہ خاتون اینکر بتول راجپوت کو پی ٹی آئی کی ایم این اے کنول شوزیب نے انٹرویو کے بعد یرغمال بنا لیا اور کہا کہ انٹرویو ڈیلیٹ کرو

    جس کے جواب میں‌ مجبور ہوکر کنول شوزیب نے اپنی مظلومانہ درخواست عرض گزار کی ہے

  • دھرنے میں حامد میر کے ساتھ زیادتی ہوگئی

    اسلام آباد:جہاں ایک طرف ملک میں جنسی زیادتی کے بعد بے دردی سے قتل کرنے کے واقعات نے ملک کی فضا کو سوگوار کیا ہے وہاں بعض لوگوں کے ساتھ سیاسی اور صحافتی زیادتی کی بھی خبروں نے بہت زیادہ صورت حال پچیدہ کردی ہے ،لوگ کسی کےوقار کو نہیں دیکھتے اور نہ چاہتے ہوئے بھی ایسےافعال سرانجام دیتے ہیں جس سےحامد میر جیسےصحافی کو بھی پریشانی لاحق ہوتی ہے اور یہ کسی بھی صورت ٹھیک اورجائز نہیں
    https://www.facebook.com/237645676897746/posts/423344978327814/

    اطلاعات کے مطابق آج اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمن کے دھرنے میں‌ پاکستان کے معروف صحافی حامد میر کے ساتھ مولانا فضل الرحمن کے دو ملاوں نے اس وقت زیادتی کردی جب وہ عمران خان اور مولانا فضل الرحمن کے دھرنے میں فرق بتاتے ہوئے رومانوی گفتگوکررہے تھے ،

    ذرائع کے مطابق ایک موقع پر حامد میر نے فرق بتاتے ہوئے کہا عمران خان کے دھرنے کوماہرانہ انداز سے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ عمران خان کے دھرنے میں پرفیوم کی مختلف اقسام خوشبوئیں آتی تھیں لیکن اس دھرنے میں عطر کی خوشبو آتی ہے

    کسی بھی وقت چوہدری برادران مولانا کو مناسکتے ہیں، ملاقات شروع ، مولانا بھی تیار

     

    معروف صحافی کے ساتھ زیادتی اس وقت ہوئی جب وہ اپنے ہونٹوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے زنانہ اندز سے کہہ رہے تھے کہ اس دھرنے میں مختلف قسم کی لپ سٹکس بھی ہونٹوں پر لگی ہوتی تھی اور اسی اثنا میں ایک نوجوان آگے بڑھ کر حامد میر کے دائیں گال پر لپک کر زبردستی کرتے ہوئے بوسہ لے لیا ،

    بریکنگ:دھرنا ختم ہو سکتا ہے، ٹائم فریم نہیں دے سکتا: فضل الرحمان

    اسی اثنا میں بائیں طرف ایک اور نوجوان نے حامد میر کے ساتھ زبردستی کرتے ہوئے اس انداز سے بوس وکنار کیا کہ دیکھنے والے بھی شرم کے مارے دیکھ نہ سکے مگر کیمرے کی آنکھوں نے یہ سارا منظر محفوظ کرلیا ،