Baaghi TV

Tag: حاملہ خواتین

  • سموگ انسانی صحت کیلئے خطرہ، بچے، حاملہ خواتین اور بزرگ شہری احتیاط برتیں

    سموگ انسانی صحت کیلئے خطرہ، بچے، حاملہ خواتین اور بزرگ شہری احتیاط برتیں

    فضائی آلودگی اور سموگ چھوٹے بچے، حاملہ خواتین اور ضعیف العمر افراد کی صحت اور زندگیوں کو سب سے زیادہ خطرات لاحق ہیں، پاکستان کے مختلف علاقوں میں شدید سموگ کی وجہ سے تمام شہری متاثر ہورہے ہیں تاہم سب سے چھوٹے بچوں کی صحت داؤ پر لگی ہے۔

    صحافیوں سے گفتگو میں پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج و جنرل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ فضائی آلودگی سے بچے اس لیے زیادہ متاثر ہو تے ہیں کیونکہ ان کے پھیپڑے کمزور اور ان کی قوت مدافعت کم ہوتی ہے۔پروفیسر الفرید ظفر نے بتایا کہ آلودہ ذرات بچوں کے پھیپڑوں اور دماغ کی نشونما پر بہت زیادہ اثر انداز ہوسکتے ہیں، آلودہ فضا میں سانس لینے سے دماغی ٹشوز متاثر ہو سکتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جب حاملہ خواتین آلودہ فضا میں سانس لیتی ہیں تو ان کے بچوں کی قبل از وقت پیدائش کا امکان زیادہ ہوتاہے یا سٹل برتھ کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔اسی طرح عمر رسیدہ افراد اور ذیابیطس امراض قلب میں مبتلا مرد خواتین سموگ کی وجہ سے جلد سانس کی بیماری، دمہ اور پھیپھڑوں کی انفیکشن کا شکار ہو سکتے ہیں جو انکے لئے مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔ شہری غیر ضروری طور پر گھروں سے نہ نکلیں، بچوں کو سیر تفریح اور کھیل کے میدانوں میں سموگ کے دنوں میں نہ لیکر جائیں۔ فیس ماسک کا استمعال لازمی کریں، زیادہ مقدار میں پانی پئیں، قہوہ چائے کا استمعال کریں چہرہ آنکھیں تازہ پانی سے دھویں تاکہ سکن الرجی اور آنکھوں کی انفیکشن، جلن سے محفوظ رہ سکیں۔انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ احتیاطی تدابیر پر عمل کریں

  • پریگنینسی میں خواتین کو متلی اور الٹی کیوں آتی ہے؟تحقیق

    پریگنینسی میں خواتین کو متلی اور الٹی کیوں آتی ہے؟تحقیق

    تمام حاملہ خواتین میں سے تقریباً نصف سے دو تہائی کو کسی حد تک خاص طور پر پہلی سہ ماہی میں مارننگ سکنس کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی علامات میں متلی اور الٹی شامل ہیں-

    باغی ٹی وی : اس مسئلے کے لیے طبی زبان میں مارننگ سکنس (sickness) کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے، کیونکہ یہ بیماری دن کے اوائل میں بدترین ہوتی ہے، لیکن یہ دن یا رات کے کسی بھی وقت حملہ کر سکتی ہے مگر اب تک یہ معلوم نہیں تھا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے،اب پہلی بار اس کی ممکنہ وجہ دریافت کی گئی ہے جس سے اس کے علاج میں مدد مل سکے گی۔

    زیادہ تر خواتین کے لیے، مارننگ سکنس حمل کے چوتھے ہفتے کے آس پاس شروع ہوتی ہے اور 12 سے 14 ہفتوں تک ٹھیک ہو جاتی ہے۔ تاہم، 5 میں سے 1 عورت اپنی دوسری سہ ماہی میں اس بیماری کو برداشت کرتی ہے، اور چند خواتین کو اپنی حمل کی پوری مدت تک متلی اور الٹی کا سامنا کرنا پڑتا ہے زیادہ تر معاملات میں، مارننگ سکنس عورت یا پیدا ہونے والے بچے کو نقصان نہیں پہنچاتی ہے۔ تاہم، شدید مارننگ سکنس جس میں وزن میں کمی اور پانی کی کمی شامل ہے، فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔

    امریکا کی سدرن کیلیفورنیا یونیورسٹی کی اس تحقیق میں انکشاف کیا گیا کہ ایک مخصوص ہارمون حاملہ خواتین میں متلی اور الٹیوں کی شکایت بڑھانے کا باعث بنتا ہے، 80 فیصد حاملہ خواتین کو قے اور متلی جیسے اثرات کا سامنا ہوتا ہے اور کچھ میں اس کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے جس کے باعث اسپتال کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

    مارننگ سکنس کی علامات میں متلی، بھوک میں کمی،قے،نفسیاتی اثرات، جیسے ڈپریشن اور اضطراب شامل ہیں،اس نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ جی ڈی ایف 15 نامی ہارمون کی سطح حمل کی پہلی سہ ماہی کے دوران نمایاں حد تک بڑھ جاتی ہے،تحقیق میں قے اور متلی جیسی علامات کو اس ہارمون کی سطح میں اضافے سے منسلک کیا گیا ہے۔

    یہ ہارمون دماغ کے ایک بہت چھوٹے حصے پر کام کرتا ہے اور متلی اور تکلیف کی نشاندہی کرتا ہے جو خواتین میں قے کا سبب بنتا ہے، حاملہ خواتین جو جی ڈی ایف 15 کے لیے زیادہ حساس ہیں وہ دن میں 50 بار متلی اور قے کا تجربہ کرسکتی ہیں۔

    انگلینڈ کی کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر سٹیفن او راہیلی کا کہنا ہے کہ ماں اس ہارمون کے بارے میں جتنی زیادہ حساس ہو گی، وہ اتنی ہی زیادہ بیمار ہو سکتی ہے،یہ جاننے سے ہمیں ایک اشارہ ملتا ہے کہ ہم اسے ہونے سے کیسے روک سکتے ہیں۔

    خیال کیا جاتا ہے کہ 100 میں سے ایک یا کبھی کبھار تین حاملہ خواتین ایچ جی سے متاثر ہوتی ہیں، ایک ایسی بیماری جو جنین کی زندگی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ بہت سی خواتین جو اس کا شکار ہوتی ہیں انھیں پانی کی کمی سے بچنے کے لیے فلیوئڈز کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔

    تحقیق کےمطابق اس ہارمون کی سطح میں کمی یا اس کےافعال کو بلاک کرنے سے مارننگ سکنس کی روک تھام بھی کی جا سکتی ہے ،محققین نے بتایا کہ زیادہ تر حاملہ خواتین کو مارننگ سکنس کا سامنا ہوتا ہے جو خوشگوار تو نہیں ہوتا مگر کچھ خواتین میں اس کی شدت بدترین ہوتی ہے، ہم اب جان چکے ہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔

    ہارمونز کی اعلی سطح، بشمول ایسٹروجن، بلڈ پریشر میں اتار چڑھاؤ، خاص طور پر کم بلڈ پریشر، کاربوہائیڈریٹ کی میٹابولزم میں تبدیلی، بہت زیادہ جسمانی اور کیمیائی تبدیلیاں جو حمل کو متحرک کرتی ہیں،کچھ خواتین کو خدشہ ہے کہ الٹی کی کارروائی سے ان کے پیدا ہونے والے بچے کو خطرہ ہو سکتا ہے الٹی اور ریچنگ پیٹ کے پٹھوں میں دباؤ ڈال سکتی ہے اور مقامی طور پر درد اور درد کا سبب بن سکتی ہے، لیکن الٹی کی جسمانی میکانکس بچے کو نقصان نہیں پہنچائیں گی۔

    متعدد مطالعات سے پتہ چلا ہے کہ اعتدال پسند صبح کی بیماری اسقاط حمل کے کم خطرے سے وابستہ ہے تاہم، طویل الٹی (جو پانی کی کمی اور وزن میں کمی کا باعث بنتی ہے) آپ کے بچے کو مناسب غذائیت سے محروم کر سکتی ہے اور آپ کے بچے کا پیدائش کے وقت کم وزن ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے-

    جرنل نیچر میں شائع تحقیق میں محققین کے مطابق جب ماں کے پیٹ میں بچے کی نشوونما ہوتی ہے تو ایک ہارمون کی سطح بڑھتی ہے، ماں کا جسم اس ہارمون کا عادی نہیں ہوتاخاتون کا جسم اس ہارمون کے حوالے سے جتنا زیادہ حساس ہوگا، مارننگ سکنس کی شدت اتنی زیادہ ہوگی۔

    تحقیق کے دوران مادہ چوہوں میں اس ہارمون کی سطح میں کمی لانے سے مارننگ سکنس کی روک تھام کا تجربہ کامیاب رہا تھا،اب تحقیقی ٹیم کی جانب سے اس طریقہ کار کو خواتین میں آزمایا جائے گا تاکہ معلوم ہوسکے کہ یہ طریقہ کار مارننگ سکنس کی روک تھام کے لیے کس حد تک مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

    اگرچہ پہلے سامنے آنے والی طبی تحقیقات سے ہم یہ تو جاننے میں کامیاب ہوئے تھے کہ حمل کے دوران اس کیفیت یا بیماری کو جی ڈی ایف 15 سے منسلک کیا جاسکتا ہے، لیکن اب یہ معلوم ہو پایا ہے کہ ہم اس کے بارے اب تک بہت سی چیزوں سے نا واقف تھے۔

    نیچر نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس نئی تحقیق میں کیمبرج یونیورسٹی، سکاٹ لینڈ، امریکہ اور سری لنکا کے سائنسدانوں نے حصہ لیا، جس سےمعلوم ہوا کہ حمل کےدوران خاتون کی بیماری کا تعلق بچہ دانی میں بننے والے ہارمون کی مقدار سےہےجتنے زیادہ ہار مو ن پیدا ہوں گے اتنی زیادہ بیماری کی علامات ظاہر ہوں گیں۔

    تحقیق میں انہوں نے کیمبرج کے روزی میٹرنٹی ہاسپٹل میں خواتین کا مطالعہ کیا اور پایا کہ جن خواتین میں جینیاتی قسم ایچ جی کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے ان میں ہارمون کی سطح کم ہوتی ہے جبکہ خون کی خرابی بیٹا تھیلیسیمیا میں مبتلا خواتین جو حمل سے قبل جی ڈی ایف 15 کی بہت زیادہ سطح کا سبب بنتی ہیں، ان میں ہارمون کی سطح کم ہوتی ہے۔ انھیں بہت کم متلی یا قے کا سامنا کرنا پڑا۔

    یونیورسٹی آف کیمبرج میڈیکل ریسرچ کونسل میں میٹابولک ڈیزیز یونٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر او راہیلی نے وضاحت کی کہ ہارمون کو ماں کے دماغ میں اس کے انتہائی مخصوص ریسیپٹر تک رسائی سے روکنا بالآخر اس عارضے کے علاج کے لیے ایک مؤثر اور محفوظ طریقہ کی بنیاد بنے گا۔

  • غزہ،الشفا ہسپتال مسمار،29 ہسپتال بند،50 ہزار حاملہ خواتین کی پریشانی میں اضافہ

    غزہ،الشفا ہسپتال مسمار،29 ہسپتال بند،50 ہزار حاملہ خواتین کی پریشانی میں اضافہ

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ پر بمباری شروع کی، جو آج تک جاری ہے، اسرائیلی حملے میں ہزاروں فلسطینی شہری شہید، لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں، عمارتیں، ہسپتال، سکول، مساجد، چرچ پر بھی بمباری کی گئی، ہسپتالوں کو اسرائیلی فوج نے خصوصی نشانہ بنا لیا، اب اسرائیل نے غزہ کے سب سے بڑے الشفا ہسپتال کو تباہ کر دیا ہے

    اسرائیلی فوج نے الشفا ہسپتال کو محاصرے میں رکھا، اسرائیلی فوج نے ہسپتال میں گھس کر پناہ لئے شہریوں کو گرفتار کیا، ان پر تشدد کیا، انہیں برہنہ کیا گیا اور پھر آج اسرائیلی فوج نے تمام عالمی قوانین کو روندتے ہوئے ہسپتال پر بلڈوزر چلا دیئے،اسرائیلی فوج نے سپیشل سرجریز کی عمارت مکمل تباہ کر دی ہے جبکہ ادویات اور طبی آلات کے گودام کو بھی دھماکے سے اڑا دیا ہے، اس دوران اسرائیلی فوج نے دو سو کے قریب بے گناہ ،نہتے فلسطینی شہریوں کو گرفتار کیا

    اسرائیل مسلسل یہ دعویٰ کر رہا تھا کہ الشفا میں حماس کا ہیڈ کوارٹر ہے تا ہم اسرائیل آج تیسرا دن اس حوالے سے کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا، حالانکہ اسرائیلی فوج کا ہسپتال پر مکمل کنٹرول ہے، اسرائیلی فوجی جعلی ویڈیو جاری کر رہے ہیں جس میں سے ایک ویڈیو کو ڈیلیٹ بھی کیا گیا ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق الشفا ہسپتال میں حماس کا کوئی سراغ نہ ملنے پر الشفاء اسپتال میں حماس کی موجودگی کے دعویٰ غلط ثابت ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں اسپتال میں بڑی تباہی مچائی گئی، بلڈوزر اور فضائی حملوں سے الشفا اسپتال کو زمین بوس کیا گیا

    غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی بلڈوزروں نے ہسپتال کے جنوبی داخلی راستے کے کچھ حصوں کو تباہ کر دیا.اسرائیلی فوجیوں نے الشفا ہسپتال میں موجود عملے اور دیگر شہریوں کو انسانی ڈھال بنا یا ہوا ہے،

    ہسپتالوں پر مسلسل حملے، غزہ میں جہاں اموات میں روز اضافہ ہو رہا ، بچے بھی شہید ہو رہے، ایسے میں غزہ میں پچاس ہزار سے زائد حاملہ خواتین ہیں جو اپنے آنے والے بچوں کے مستقبل کے حوالہ سے فکر مند ہیں، انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ خود بھی اسرائیلی بمباری سے بچ پائیں گی یا نہیں اگر خود مر گئیں تو انکے بچوں کا کیا ہو گا،ڈاکٹر اشرف محمود البشیطی کا کہنا ہے کہ غزہ میں اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق 50,000 حاملہ خواتین انتہائی خطرے میں پڑ جائیں گی، ان حاملہ خواتین کو نہ صرف بچانا ہے بلکہ انکے بچوں کو بھی بچانا ہے،

    اسرائیلی بمباری سے ایک طرف اموات ہیں تو دوسری طرف جو لوگ زندہ ہیں انکی زندگیاں بھی اجیرن بن چکی ہیں، خوراک، پانی کی قلت،ادویات کی کمی بڑے مسائل ہیں تو وہیں کسی بھی وقت اسرائیلی بمباری کا خطرہ بھی سر پر منڈلاتا رہتا ہے،لاکھوں لوگ کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں، ان میں خواتین، بوڑھے بچے سب شامل ہیں، ریلیف کیمپوں میں خواتین کی حالت بارے الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ میں کہا گہا ہے کہ خواتین زیادہ پریشان ہیں، غزہ میں 50 ہزار سے زائد حاملہ خواتین ہیں جنہیں علاج، خوراک کی سہولیات میسر نہیں،حاملہ خواتین زیادہ تکلیف اور خوف میں رہتی ہیں، گھر ملیامیٹ ہو چکے ، ریلیف کیمپوں میں انکو وہ سہولیات نہیں مل رہیں جو ملنی چاہئے،33 سالہ خاتون نیوین الباری جو حاملہ ہیں اور ماں بننے والی ہیں، وہ شدید پریشان ہیں، مسلسل بمباری کی وجہ سے وہ خوفزدہ ہیں کہ انکے بچے کا کیا بنے گا، انکی کمر اور پیٹ میں درد رہتا ہے مگر کوئی انکا علاج کروانے والا نہیں، وہ کیمپ میں رہ کر کسی کو بتا بھی نہیں سکتیں،نیوین کا کہنا ہے کہ میں صرف اس امید سے جی رہی ہوں کہ میرا بچہ محفوظ رہے،نیوین کے مطابق اسے ہائی بلڈ پریشر اور شوگر ہے تاہم یہاں اسے ادویات نہیں مل رہیں.اسرائیلی حملوں سے قبل وہ باقاعدگی کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس جاتی تھیں اور اپنا علاج کروا رہی تھیں لیکن اب تو اپنے خاندان سے بھی کوئی رابطہ نہیں ہے، خاندان کے باقی افراد کہاں ہیں کس حال میں ہیں وہ کچھ نہیں جانتی،

    میں سوچتی ہوں بچے کو کیسے اور کہاں جنم دوں گی ہر طرف تو بمباری ہو رہی،نیوین
    غزہ کے ریلیف کیمپ میں زندگی گزارے والی نیوین کہتی ہیں کہ میں سوچتی ہوں بچے کو کیسے اور کہاں جنم دوں گی، کسی بھی وقت اور کہیں بھی بمباری ہو رہی ہے، کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں،ہمیں نہیں معلوم کب کہاں بم گرے اور سب کچھ ملیا میٹ ہو جائے،میں یقینی بنانے کی کوشش کروں گی کہ میں اور میرا بچہ محفوظ رہے،

    الجزیرہ کے مطابق نیوین اکیلی اس مسئلے کا شکار نہیں بلکہ جنگ زدہ علاقوں میں 50 ہزار حاملہ خواتین ہیں، کئی ایسی ہیں جو حمل کے آخری ماہ میں ہیں اور انکا باقاعدگی سے معائنہ بھی نہیں کیا جا رہا، اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے مطابق تقریبا 50 ہزار حاملہ خواتین علاج معالجہ اور خوراک کی کمی کا شکار ہیں،

    نیوین کا کہنا ہے کہ زخمیوں لاشوں کو دیکھتی ہوں تو خوفزدہ ہو جاتی ہوں، روز دعا کرتی ہوں کہ جنگ ختم ہو جائے تا کہ میرے دنیا میں آنے والے بچے کو میزائل حملوں سے بچایا جا سکے،خان یونس میں ناصر میڈیکل کمپلیکس کے شعبہ امراض نسواں کے میڈیکل کنسلٹنٹ ولید ابو حاتب کے مطابق نقل مکانی کی وجہ سے صحت کے مراکز تک رسائی بہت مشکل ہو گئی ہے،

    وزارت صحت کی طرف سے فراہم کردہ تازہ ترین اعدادوشمارکے مطابق اسرائیلی بمباری سے غزہ کے کئی ہسپتال تباہ ہو چکے، اب غزہ میں 35 میں سے صرف 9 ہسپتال جزوی طور پر کام کر رہے ہیں،اسرائیلی حملوں میں اب تک 12 ہزار کے قریب شہری شہید ہو چکے جن میں ساڑھے چار ہزار بچے شامل ہیں، 29 ہزار سے زائد شہری زخمی ہیں،الشفاء ہسپتال میں 11 نومبر سے اب تک 3 قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں سمیت 40 مریضوں کی ایندھن کی کمی کے باعث موت ہوچکی ہے.

    اسرائیلی حملوں میں طبی عملے کے 202 اور سول ڈیفنس کے 26 اراکین کی موت ہو چکی ہے، طبی عملے کے دو سو سے زائد اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں،1770 بچوں سمیت 3640 شہری لاپتہ ہیں، جن کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں گرنے والی عمارتوں کے ملبے تلے پھنسے، تاحال انکو نہیں نکالا جا سکا، گمان ہے کہ انکی موت ہو چکی ہو گی،اسرائیلی حملے میں دو لاکھ 76 ہزار گھر تباہ ہو چکے ہیں،اسرائیل نے فضائی حملوں میں 60 سے زائد ایمبولینس گاڑیوں کو نشانہ بنایا،

    الجزیرہ کے مطابق ، الشفاء ہسپتال کے اطراف اور السرایا موڑ کی طرف جانے والے تمام راستوں میں صبح سے ہی جھڑپیں جاری ہیں.الصبر محلے اور شیخ رضوان محلے کے مغربی جانب بھی رات بھر جھڑپیں ہوتی رہیں،اس علاقے میں اسرائیل نے بمباری بھی کی،الشفا ہسپتال غزہ کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ہم بہت ہی مشکل ترین حالات میں ہیں اور اس وقت گردوں کے مریض اپنی آخری سانسیں لے رہے ہیں ہم پیاس کے مارے چیخ رہے ہیں اور فوت ہو جانے والوں کو دفن کرنے سے قاصر ہیں،

    الشفا ہسپتال کو تباہ کرنے پرسعودی وزارت خارجہ کا ردعمل سامنے آیا ہے، سعودی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے شہریوں اورطبی عملے کے خلاف انسانی قوانین کی خلاف ورزیوں کا جواب طلب ہونا چاہئے، سعودی عرب اسرائیلی قابض افواج کی طرف سے بچوں، خواتین، شہریوں، طبی سہولیات اورامدادی ٹیموں کے خلاف مسلسل انسانی خلاف ورزیوں اورقابض فوج کی وحشیانہ اور غیرانسانی کارروائیوں کے نتیجے میں بین الاقوامی احتساب کے طریقۂ کارکوفعال کرنے کی ضرورت پرزوردیتی ہے.

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے آبائی گھر پر بمباری کی ہے، غزہ کے علاقے الشطی مہاجر کیمپ میں اسماعیل ہنیہ کے خاندانی گھر پر بم برسائے گئے، اسرائیلی فوج نے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ اسماعیل کے گھر کو نشانہ بنایا گیا ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق جس گھر پر بمباری کی گئی اس گھر میں اسماعیل ہنیہ نے اپنا بچپن گزارا تھا،اسرائیلی فوج کے گھر پرحملے میں ہلاکتوں کے حوالے سے تصدیق نہیں ہوسکی۔

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

  • غزہ میں 50 ہزار حاملہ خواتین،خوراک،ادویات کی کمی کا شکار

    غزہ میں 50 ہزار حاملہ خواتین،خوراک،ادویات کی کمی کا شکار

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل کی غزہ پر بمباری مسلسل جاری ہے، اسرائیلی حملوں میں سات ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ 19 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں،مرنیوالوں میں تین ہزار سے زائد بچے اور 1700 سے زائد خواتین بھی شامل ہیں،

    اسرائیلی بمباری سے عمارتیں ملیا میٹ ہو چکی ہیں، ہزاروں افراد ملبے تلے دبے ہیں جن کو نکالنے کا کام جاری ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق دو ہزار کے قریب شہری لاپتہ ہیں، امکان ہے وہ ملبے تلے دبے ہوں گے.اسرائیل نے فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، گزشتہ شب حملوں میں مزید 21 فلسطینیوں کو شہید کیا گیا،غزہ کے الزیتون محلے میں چار منزلہ مکان پر بمباری سے 10 افراد کی موت ہوئی،خان یونس مہاجر کیمپ میں گھر پر بمباری سے تین شہری شہید اور متعدد زخمی ہوئے،

    اسرائیل جنگ بندی کریگا تو اسرائیلی شہری رہا کریں گے، حماس
    حماس نے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کو غزہ کے ساتھ جنگ بندی کے لئے مشروط کر دیا،خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق روسی دارالحکومت ماسکو میں حماس کا وفد موجود ہے، وفد میں شامل ابو حامد کا کہنا ہے کہ اسرائیلی قیدیوں کو اسوقت تک رہا نہیں کیا جا سکتا جب تک اسرائیل جنگ بندی نہ کرے،اسرائیلی شہریوں کو مختلف گروپس لے کر آئے ہیں، سب اسرائیلی شہریوں کو ڈھونڈنے میں بھی وقت لگے گا

    حماس کا ایک وفد 26 اکتوبر کو روسی دارالحکومت ماسکو پہنچا تھا، ابو حامد کا کہنا 200 سے زائد اسرائیلی شہریوں کو پکڑا گیا ہے جن میں فوجی بھی شامل ہیں،اسرائیلی شہری غزہ میں مختلف مقامات پر قید ہیں، ہمیں انکو تلاش کرنا ہے اسکے بعد رہائی ہو گی،اگر بمباری جاری رہی تو تلاش نہیں ہو سکتی، قیدیوں کی تلاش کے لئے امن کی ضرورت ہے،ابو حامد نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اسرائیلی بمباری سے اب تک 50 قیدی جو اسرائیلی شہری تھے ہلاک ہو چکے ہیں، اگر اسرائیل نے بمباری نہ روکی تو دیگر کی ہلاکتوں کا بھی خدشہ ہے،حماس نے اب تک چار قیدیوں کو رہا کیا ہے،

    تل ابیب اور دیگر شہروں پر حماس کے راکٹ حملے
    دوسری جانب اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب اور دیگر شہروں پر حماس نے راکٹ حملے کیے ہیں،میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس نے پہلی بارمسلسل تین دن تک کئی بار تل ابیب کو نشانہ بنایاہے،حماس کے حملوں سے تل ابیب، یافا اور دیگر اسرائیلی شہروں میں تباہی ہوئی، حماس نے حملے اسوقت کئے جب اسرائیل عسکری کونسل کا اجلاس جاری تھا، حملوں کی وجہ سے اجلاس کو تھوڑی دیر کے لئے روکنا پڑا،القسام بریگیڈ کا کہنا ہے کہ اسرائیل پر تازہ حملے اسرائیلی بمباری کا جواب ہیں.

    اسرائیلی بمباری سے ایک طرف اموات ہیں تو دوسری طرف جو لوگ زندہ ہیں انکی زندگیاں بھی اجیرن بن چکی ہیں، خوراک، پانی کی قلت،ادویات کی کمی بڑے مسائل ہیں تو وہیں کسی بھی وقت اسرائیلی بمباری کا خطرہ بھی سر پر منڈلاتا رہتا ہے،لاکھوں لوگ کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں، ان میں خواتین، بوڑھے بچے سب شامل ہیں، ریلیف کیمپوں میں خواتین کی حالت بارے الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ میں کہا گہا ہے کہ خواتین زیادہ پریشان ہیں، غزہ میں 50 ہزار سے زائد حاملہ خواتین ہیں جنہیں علاج، خوراک کی سہولیات میسر نہیں،حاملہ خواتین زیادہ تکلیف اور خوف میں رہتی ہیں، گھر ملیامیٹ ہو چکے ، ریلیف کیمپوں میں انکو وہ سہولیات نہیں مل رہیں جو ملنی چاہئے،33 سالہ خاتون نیوین الباری جو حاملہ ہیں اور ماں بننے والی ہیں، وہ شدید پریشان ہیں، مسلسل بمباری کی وجہ سے وہ خوفزدہ ہیں کہ انکے بچے کا کیا بنے گا، انکی کمر اور پیٹ میں درد رہتا ہے مگر کوئی انکا علاج کروانے والا نہیں، وہ کیمپ میں رہ کر کسی کو بتا بھی نہیں سکتیں،نیوین کا کہنا ہے کہ میں صرف اس امید سے جی رہی ہوں کہ میرا بچہ محفوظ رہے،نیوین کے مطابق اسے ہائی بلڈ پریشر اور شوگر ہے تاہم یہاں اسے ادویات نہیں مل رہیں.اسرائیلی حملوں سے قبل وہ باقاعدگی کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس جاتی تھیں اور اپنا علاج کروا رہی تھیں لیکن اب تو اپنے خاندان سے بھی کوئی رابطہ نہیں ہے، خاندان کے باقی افراد کہاں ہیں کس حال میں ہیں وہ کچھ نہیں جانتی،

    میں سوچتی ہوں بچے کو کیسے اور کہاں جنم دوں گی ہر طرف تو بمباری ہو رہی،نیوین
    غزہ کے ریلیف کیمپ میں زندگی گزارے والی نیوین کہتی ہیں کہ میں سوچتی ہوں بچے کو کیسے اور کہاں جنم دوں گی، کسی بھی وقت اور کہیں بھی بمباری ہو رہی ہے، کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں،ہمیں نہیں معلوم کب کہاں بم گرے اور سب کچھ ملیا میٹ ہو جائے،میں یقینی بنانے کی کوشش کروں گی کہ میں اور میرا بچہ محفوظ رہے،

    الجزیرہ کے مطابق نیوین اکیلی اس مسئلے کا شکار نہیں بلکہ جنگ زدہ علاقوں میں 50 ہزار حاملہ خواتین ہیں، کئی ایسی ہیں جو حمل کے آخری ماہ میں ہیں اور انکا باقاعدگی سے معائنہ بھی نہیں کیا جا رہا، اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے مطابق تقریبا 50 ہزار حاملہ خواتین علاج معالجہ اور خوراک کی کمی کا شکار ہیں،

    نیوین کا کہنا ہے کہ زخمیوں لاشوں کو دیکھتی ہوں تو خوفزدہ ہو جاتی ہوں، روز دعا کرتی ہوں کہ جنگ ختم ہو جائے تا کہ میرے دنیا میں آنے والے بچے کو میزائل حملوں سے بچایا جا سکے،خان یونس میں ناصر میڈیکل کمپلیکس کے شعبہ امراض نسواں کے میڈیکل کنسلٹنٹ ولید ابو حاتب کے مطابق نقل مکانی کی وجہ سے صحت کے مراکز تک رسائی بہت مشکل ہو گئی ہے،

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

  • موسم گرما میں حاملہ خواتین کے لئے قدرتی مشروبات

    موسم گرما میں حاملہ خواتین کے لئے قدرتی مشروبات

    گرمیوں کے موسم میں پانی کی اشد ضرورت ہے، خصوصا گرمیوں میں حاملہ خواتین کو اپنی صحت کا خاص خیال رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے، ماہرین صحت کے مطابق حاملہ خواتین کو دوران حمل پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کرنا چاہئے، اس ضمن میں گرمیوں میں پینے کے لئے چار قدرتی مشروبات بتائے گئے ہیں حاملہ خواتین وہ پئیں اس سے انکی صحت بھی اچھی رہے گی اور پیاس بھی نہیں لگے گی

    ناریل کا پانی
    ناریل کا پانی حاملہ خواتین کے لئے گرمیوں میں بہترین ہے، اسکا خواتین کو باقاعدہ استعمال کرنا چاہئے، اس سے جسم میں پانی کی کمی نہیں ہو گی، اس میں ضروری غذاائی اجزا بھی ہوتے ہیں ، ناریل کا پانی حاملہ خواتین کے لئے دیگر پانی کی نسبت فائدے مند ہوتا ہے،
    juice02

    لیموں کا پانی
    پاکستان میں عام سا مشروب، جس کا گرمیوں میں استعمال بڑھ جاتا ہے، لیموں پانی، حاملہ خواتین کو اسکا بھی استعمال کرنا چاہئے، لیموں پانی آسانی سے دستیاب ہو جاتا ہے،حاملہ خواتین کے لئے لیموں پانی انتہائی ضروری سمجھا جاتا ہے

    پھلوں کا جوس
    حاملہ خواتین کو اگر گرمی کی وجہ سے بھوک نہیں لگتی تو پھلوں کا جوس استعمال کریں،گرمیوں کے پھلوں کا ہی جوس خواتین کو استعمال کرنا چاہئے،گرمیوں کے پھل، آم، تربوز، آڑو کا جوس، انتہائی مفید ہے، طبی ماہرین حاملہ خواتین کے لئے تازے پھلوں کے جوس کو انتہائی اہم قرار دیتے ہیں،
    juice03

    سبزیوں کا جوس
    گرمی لگی ہو، پیاس بھی لگی ہو اور کچھ اچھا پینے کو دل کرے ، تو پھر گھر سے باہر جانے کی ضرورت نہیں، کچن میں جائیں اور گھر میں موجود سبزیوں کا جوس بنائیں، اور پی لیں. حاملہ خواتین کے لئے سبزیوں کھیرا، ٹماٹر کا جوس بہت ہی مفید ہے، سبزیاں آسانی سے دستیاب ہو جاتی ہیں، حاملہ خواتین کو دیگر مشروبات کے ساتھ ساتھ سبزیوں کے جوس کا بھی استعمال کرنا چاہئے،سبزیوں کا جوس پیتے وقت سلاد بھی ساتھ کھایا جا سکتا ہے

    juice04

    طالبعلم کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا قاری گرفتار،قبرستان میں گورکن کی بچے سے زیادتی

    راہ چلتی طالبات کو ہراساں اور آوازیں کسنے والا اوباش گرفتار

  • خیبرپختونخوا میں سیلاب کے باعث 25 ہزار حاملہ خواتین متاثر

    خیبرپختونخوا میں سیلاب کے باعث 25 ہزار حاملہ خواتین متاثر

    پشاور: خیبرپختونخوا میں سیلاب کے باعث 25 ہزار حاملہ خواتین متاثر ہوئیں –

    باغی ٹی وی : اطلاعات کے مطابق ملک بھر میں سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں کے باعث لاکھوں حاملہ خواتین مشکلات کا شکار ہیں حفظان صحت نہ ہونے کی وجہ سے زچہ و بچہ دونوں کی زندگیوں کو خطرہ ہے جس کے سدباب کےلیے خیبرپختونخوا حکومت سے 300 سے زائد زچہ و بچہ کیمپس قائم کردئیے ہیں۔

    سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں ایک ہزار 716ریلیف کیمپ کام کررہے ہیں،شرجیل میمن

    رپورٹ کے مطابق صرف خیبرپختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں 25 ہزار حاملہ خواتین متاثر ہوئی ہیں، جن کیلئے حکومت کی جانب سے 13 اضلاع میں زچہ و بچہ کیمپس قائم کیے گئے ہیں زچہ بچہ میڈیکل کیمپس کیلئے نیو بورن اور سیفٹی کٹس مہیا کی گئی ہیں، اب تک پندرہ ہزار حاملہ خواتین کی اسکریننگ کی گئی ہے۔

    سیلاب سے متاثرہ خاندانوں میں 20 ہزار زچگیاں متوقع ہیں، متاثرین میں زچہ و بچہ کیسز کی مانیٹرنگ اور رپورٹنگ کیلئے لیڈی ہیلتھ ورکرز کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہے۔

    قوام متحدہ کے بہبود آبادی کے فنڈ (یو این ایف پی اے) کےمطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تقریباﹰ ساڑھے چھ لاکھ حاملہ خواتین کو محفوظ زچگی اور بچوں کی بحفاظت پیدائش کے لیے طبی سہولیات درکار ہیں۔

    ترکش اداکار سیلاب زدگان کی مدد کیلئے کراچی پہنچ گئے

    یو این ایف پی اے کے جاری کردہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ایسی 73 ہزار پاکستانی حاملہ خواتین کے ہاں ستمبر میں بچوں کی پیدائش متوقع ہے۔ اقوام متحدہ کے اس ذیلی ادارے نے زور دے کر کہا ہے کہ ان خواتین کی زچگی کے دوران مدد کے لیے ہنر مند طبی عملے کی ضرورت ہو گی، جو نومولود بچوں کی دیکھ بھال بھی کر سکے۔

    یو این ایف پی اے کے مطابق اس کے علاوہ بہت سی خواتین اور لڑکیوں کے خلاف صنفی بنیادوں پر تشدد کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے کیونکہ تقریباﹰ ایک ملین مکانات کو نقصان بھی پہنچا ہے۔

    پاکستان کا جنوبی صوبہ سندھ سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبوں میں سے ایک ہےہاں حکام نے بہت سے امدادی کیمپ لگا رکھے ہیں تاکہ بے گھر ہو جانے والے سیلاب متاثرین کی مدد اور دیکھ بحال کی جا سکے تاہم متاثرین کا کہنا ہے کہ ان کیمپوں میں حاملہ خواتین کی دیکھ بحال کا مناسب انتظام نہیں۔

    اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ (یو این ایف پی اے) پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ ڈیٹا کے مطابق بلوچستان میں حاملہ خواتین کی تعداد تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار ہے جن میں سے 20 ہزار کے قریب خواتین کے ہاں اگلے ماہ بچوں کی پیدائش متوقع ہے قدرتی آفات میں اوسطاً خواتین کا مردوں کی نسبت جان سے چلے جانے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔

    سیلاب،صورتحال واضح ہونے تک مسافر ٹرینیں نہیں چلا سکتے،خواجہ سعد رفیق

  • سیلاب سے متاثرہ حاملہ خواتین اور بچوں کے لیے ایک ارب روپے مختص

    سیلاب سے متاثرہ حاملہ خواتین اور بچوں کے لیے ایک ارب روپے مختص

    سیلاب سے متاثرہ حاملہ خواتین اور بچوں کے لیے بینظیر نشوونما پروگرام کے تحت ایک ارب روپے مختص کر دیئے گئے ہیں

    بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کے تحت 80 فیصد مستحقین میں 22 ارب 90 کروڑ روپے تقسیم کر دیئے گئے ہیں چیئر پرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرا م شازیہ مری کا کہنا ہے کہ حاملہ خواتین اوربچوں کی غذائی ضروریات پوری کرنے کیلئے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،اب تک شناخت شدہ 80 فیصد خواتین میں امدادی رقم تقسیم کی جا چکی ہے،بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کےتحت جمعہ کو 22ہزار 604 خاندانوں میں امدادی رقم تقسیم کی گئی متاثرہ9 لاکھ 18ہزار121 خاندانوں میں 22 ارب95کروڑسے 30 لاکھ 25ہزارروپے تقسیم کئے گئے، بلوچستان میں ایک لاکھ 11ہزار680 متاثرہ خاندانوں کو 27 کروڑ 92 لاکھ روپے مل چکے ہیں،سندھ میں 5 لاکھ 45 ہزار 505 خاندانوں کو 13 ارب 63 کروڑ 76 لاکھ 25 ہزارروپےمل چکے ہیں،خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 13ہزار851 خاندانوں کو 2 ارب 84 کروڑ 62 لاکھ 75ہزار روپے موصول ہو چکے ہیں پنجاب میں ایک لاکھ 47 ہزار85 خاندانوں کو3 ارب 67 کروڑ 71لاکھ 25 ہزار روپے ملے ہیں

    سندھ میں 16 اضلاع زیادہ اور 5 اضلاع سیلاب سے کم متاثر ہیں، سندھ میں 4 ملین سے زائد بچوں کو فوری غذا کی ضرورت ہے سندھ میں 65 سال سے زائد عمر کے 7 لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد کو خصوصی توجہ کی ضرورت ہے سندھ میں 5 لاکھ 11 ہزار 467 خواتین حاملہ ہیں جو ضروری توجہ چاہتی ہیں.سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں حاملہ خواتین کو صحت کی دیکھ بھال کی ضرورت ہے بلوچستان میں سیلاب متاثرہ خواتین کا شکوہ ہے کہ انہیں امدادی سامان میں سینیٹری پیڈز نہیں مل رہے۔ حاملہ خواتین بھی ضروری دوائیوں سے محروم ہیں۔

    سیلاب کے بعد علاقوں میں تباہی کے مناظر ہیں، گھر تباہ ہو چکا، سامان بہہ چکا، جانور مر گئے، انسان زندہ ہیں لیکن اس امید پر کہ شاید کوئی مدد کو آ جائے، ایسے میں حاملہ خواتین سب سے زیادہ مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ علاقوں میں قریبی ہسپتال نہیں، ٹرانسپورٹ میسر نہیں، سڑکیں بھی تباہ ہو چکی ہیں، اگر کسی خاتون کی ڈلیوری ہونی ہو تو ہسپتال اور طبی عملے کا نہ ہونا، یہ سب سے اذیت ناک مرحلہ ہو گا

    جماعت اسلامی کی الخدمت فاؤنڈیشن سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے بھی سندھ، خیبر پختونخوا، پنجاب کے تمام سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا ہے اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا ہے، سراج الحق نے کراچی میں الخدمت ریلیف کیمپ اور متاثرین سیلاب کے لیے بسائی گئی خیمہ بستی کا دورہ کیا۔ اہل کراچی نے ہمیشہ کی طرح مشکلات میں گھرے اپنے ہم وطن بھائیوں اور بہنوں کے لیے دل کے دروازے کھول دیے ہیں۔ جماعت اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن پر اعتماد قابل قدر اور باعث اطمینان ہے

    پولیس کی زیادتی، خواجہ سراؤں نے ملک گیر احتجاج کی دھمکی دے دی

    پلاسٹک بیگ پر پابندی لگی تو خواجہ سراؤں نے ایسا کام کیا کہ شہری داد دینے پر مجبور

    کرونا لاک ڈاؤن، شادی کی خواہش رہی ادھوری، پولیس نے دولہا کو جیل پہنچا دیا

    کیا فائدہ قانون کا، مفتی کو نامرد کیا گیا نہ عثمان مرزا کو،ٹویٹر پر صارفین کی رائے

    لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو، وزیراعظم عمران خان کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    نوجوان جوڑے پر تشدد کیس، پانچویں ملزم کو کس بنیاد پر گرفتار کیا؟ عدالت کا تفتیشی سے سوال

    اقوام متحدہ کے مطابق ساڑھے چھ لاکھ حاملہ پاکستانی خواتین کو محفوظ زچگی کے لیے فوری طبی امداد کی ضرورت ہے صرف ستمبر کے مہینے میں ہی ایسی 73 ہزار حاملہ خواتین کے ہاں بچوں کی پیدائش متوقع ہے

    دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ وفاقی حکومت نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی حاملہ خواتین اور بچوں کے لیے خصوصی غذائی ساشے متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے غذائی ساشے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں موجود غذائی قلت کی شکار حاملہ خواتین اورلاغر بچوں کو فراہم کیے جائیں گے پہلے فیز میں مخصوص اضلاع کی 4 لاکھ خواتین، اور بچوں کو طبی معائنے کے بعد غذائی ساشے فراہم ہوں گے ہر فرد کو 7 عدد غذائی ساشے فراہم کیے جائیں گے

  • سیلاب سے متاثرہ خاندانوں میں 65 ہزار خواتین حاملہ، سراج الحق بھی خاموش نہ رہ سکے

    سیلاب سے متاثرہ خاندانوں میں 65 ہزار خواتین حاملہ، سراج الحق بھی خاموش نہ رہ سکے

    سیلاب سے متاثرہ خاندانوں میں 65 ہزار خواتین حاملہ، سراج الحق بھی خاموش نہ رہ سکے

    اس بات کا انکشاف امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کیا، سراج الحق نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں بتایا گیا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں میں 65 ہزار خواتین حاملہ ہیں دو ماہ میں خواتین کے بچے ہونے والے ہیں، وہ گھروں سے محروم ہیں، انکا کیا ہو گا حکمران آپس میں لڑنے کی بجائے سیلاب زدگان کی مدد کریں حکومت توجہ دے ورنہ یہ بے گھر حاملہ خواتین کسی انسانی المیے کا شکار ہوسکتیں ہیں ـ

    سیلاب کے بعد علاقوں میں تباہی کے مناظر ہیں، گھر تباہ ہو چکا، سامان بہہ چکا، جانور مر گئے، انسان زندہ ہیں لیکن اس امید پر کہ شاید کوئی مدد کو آ جائے، ایسے میں حاملہ خواتین سب سے زیادہ مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ علاقوں میں قریبی ہسپتال نہیں، ٹرانسپورٹ میسر نہیں، سڑکیں بھی تباہ ہو چکی ہیں، اگر کسی خاتون کی ڈلیوری ہونی ہو تو ہسپتال اور طبی عملے کا نہ ہونا، یہ سب سے اذیت ناک مرحلہ ہو گا

    جماعت اسلامی کی الخدمت فاؤنڈیشن سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے بھی سندھ، خیبر پختونخوا، پنجاب کے تمام سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا ہے اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا ہے، سراج الحق نے کراچی میں الخدمت ریلیف کیمپ اور متاثرین سیلاب کے لیے بسائی گئی خیمہ بستی کا دورہ کیا۔ اہل کراچی نے ہمیشہ کی طرح مشکلات میں گھرے اپنے ہم وطن بھائیوں اور بہنوں کے لیے دل کے دروازے کھول دیے ہیں۔ جماعت اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن پر اعتماد قابل قدر اور باعث اطمینان ہے

    پولیس کی زیادتی، خواجہ سراؤں نے ملک گیر احتجاج کی دھمکی دے دی

    پلاسٹک بیگ پر پابندی لگی تو خواجہ سراؤں نے ایسا کام کیا کہ شہری داد دینے پر مجبور

    کرونا لاک ڈاؤن، شادی کی خواہش رہی ادھوری، پولیس نے دولہا کو جیل پہنچا دیا

    کیا فائدہ قانون کا، مفتی کو نامرد کیا گیا نہ عثمان مرزا کو،ٹویٹر پر صارفین کی رائے

    لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو، وزیراعظم عمران خان کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    نوجوان جوڑے پر تشدد کیس، پانچویں ملزم کو کس بنیاد پر گرفتار کیا؟ عدالت کا تفتیشی سے سوال

    اقوام متحدہ کے مطابق ساڑھے چھ لاکھ حاملہ پاکستانی خواتین کو محفوظ زچگی کے لیے فوری طبی امداد کی ضرورت ہے صرف ستمبر کے مہینے میں ہی ایسی 73 ہزار حاملہ خواتین کے ہاں بچوں کی پیدائش متوقع ہے

    دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ وفاقی حکومت نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی حاملہ خواتین اور بچوں کے لیے خصوصی غذائی ساشے متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے غذائی ساشے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں موجود غذائی قلت کی شکار حاملہ خواتین اورلاغر بچوں کو فراہم کیے جائیں گے پہلے فیز میں مخصوص اضلاع کی 4 لاکھ خواتین، اور بچوں کو طبی معائنے کے بعد غذائی ساشے فراہم ہوں گے ہر فرد کو 7 عدد غذائی ساشے فراہم کیے جائیں گے

  • سیلاب کی تباہ کاریاں اور حکمرانوں کی لاپرواہیاں: ساڑھے چھ لاکھ حاملہ خواتین کی زندگیاں خطرے میں

    سیلاب کی تباہ کاریاں اور حکمرانوں کی لاپرواہیاں: ساڑھے چھ لاکھ حاملہ خواتین کی زندگیاں خطرے میں

    کراچی:جنسی اور تولیدی صحت کے ادارے اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ (یو این ایف پی اے) نے سیلاب سے متاثر ہونے والی خواتین کی تاریک تصویر پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان علاقوں میں کم از کم ساڑھے 6 لاکھ حاملہ خواتین کو، جن میں سے 73 ہزار کے ہاں آئندہ ماہ ولادت متوقع ہے، زچگی کی صحت کی خدمات کی اشد ضرورت ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارے نے یہ بھی متنبہ کیا کہ بہت سی خواتین اور لڑکیاں صنفی بنیاد پر تشدد کے بڑھتے ہوئے خطرے میں ہیں کیونکہ سیلاب میں تقریباً 10 لاکھ مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔

     

    ادارے نے کہا کہ اگلے مہینے تک 73 ہزار خواتین کے ہاں پیدائش متوقع ہے اور ان کو ماہر دائی، نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال اور مدد کی ضرورت ہوگی۔ ادارے نے کہا کہ حمل اور بچے کی پیدائش ہنگامی حالات یا قدرتی آفات کے ختم ہونے کا انتظار نہیں کر سکتی کیونکہ ایسے میں ایک عورت اور بچے کو سب سے زیادہ دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔یو این ایف پی اے پاکستان کے قائم مقام نمائندے ڈاکٹر بختیار قادروف نے کہا کہ یو این ایف پی اے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ حاملہ خواتین اور نئی ماؤں کو انتہائی مشکل حالات میں بھی زندگی بچانے والی خدمات ملیں، شراکت داروں کے ساتھ کام کر رہا ہے۔

    اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق سندھ میں ایک ہزار سے زائد صحت کی سہولیات کو جزوی یا مکمل طور پر نقصان پہنچا، جب کہ بلوچستان کے متاثرہ اضلاع میں صحت کی 198 سہولیات کو نقصان پہنچا۔ ادارے نے کہا کہ سڑکوں اور پلوں کو پہنچنے والے نقصان نے لڑکیوں اور خواتین کی صحت کی سہولیات تک رسائی کو اور متاثر کردیا ہے۔ ڈاکٹر بختیار قادروف نے کہا کہ ہم انسانی ہمدردی کے چیلنج والے حالات کے باوجود مکمل طور پر کام کرنے کے لیے آلات اور انسانی وسائل کے ساتھ صحت کی سہولیات کی حمایت جاری رکھیں گے۔

    دنیا میں تیل کی قیمت گررہی جبکہ حکومت مہنگا کررہی. شیخ رشید

    اپنے ہنگامی ردعمل کو تیز کرنے کیلئے یو این ایف پی اے پاکستان نے سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخواہ اور پنجاب میں فوری ترسیل کے لیے8 ہزار 311 ڈگنٹی کٹس، 7 ہزار 411 نوزائیدہ بچوں کی کٹس، اور 6 ہزار 412 کلین ڈیلیوری کٹس خریدیں۔اقوام متحدہ کے ادارے نے کہا ہے کہ وہ صنفی بنیاد پر تشدد کی روک تھام اور ردعمل کی خدمات کو بھی ترجیح دے رہی ہے، جس میں طبی اور نقسیاتی مدد بھی شامل ہے۔اقوامِ متحدہ کمیشن برائے انسانی حقوق نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان پہنچایا ہے۔

     

    بارشوں اور سیلاب سےسندھ میں 100کلو میٹر چوڑی جھیل وجود میں آگئی،ناسا نے تصویر…

    اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین فلیپو گرانڈی نے عالمی برادری سے کہا کہ وہ اس تباہی سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے ردعمل میں اپنا تعاون بڑھائے۔یو این ایچ آر سی نے پناہ گزین دیہاتوں کے ساتھ ساتھ میزبان کمیونٹیز کو 71 ہزار سے زیادہ ہنگامی امدادی اشیا فراہم کی ہیں، جن میں خیمے، پلاسٹک کی ترپالیں، سینیٹری مصنوعات، کھانا پکانے کے چولہے، کمبل، شمسی لیمپ اور سونے کی چٹائیاں شامل ہیں۔ایک بیان میں کہا گیا کہ مزید برآں ادارے نے 10 ہزار بوریاں بھی فراہم کیں تاکہ گھرانوں کو ان کے گھروں کے ارد گرد دفاعی تحفظ فراہم کیا جا سکے، اب تک 15 لاکھ ڈالر سے زیادہ کی امداد فراہم کی جاچکی ہے لیکن مزید امداد کی ضرورت ہے۔

  • حمل کے دوران کورونا ویکسین لگوانا محفوظ ہے یا نہیں؟،نئی تحقیق کے نتائج سامنے آگئے

    حمل کے دوران کورونا ویکسین لگوانا محفوظ ہے یا نہیں؟،نئی تحقیق کے نتائج سامنے آگئے

    برطانیہ کی جانب سے جاری ڈیٹا کے مطابق دوران حمل کوویڈ 19 سے بچاؤ کے لیے ویکسینیشن کرانے والی خواتین کو کسی قسم کے منفی اثرات کا سامنا نہیں ہوتا اور بچے کی پیدائش میں مسائل نہیں ہوتے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق یوکے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کی اس تحقیق میں جنوری سے اگست 2021 کے دوران بچوں کو جنم دینے والی 3 لاکھ 55 ہزار 299 خواتین کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی۔ان میں سے 24 ہزار 759 خواتین نے کم از کم کووڈ ویکسین کی ایک خوراک بچے کی پیدائش سے قبل استعمال کی تھی۔

    نتائج متعدد دیگر تحقیقی رپورٹس سے مطابقت رکھتے ہیں جن سے تصدیق ہوتی ہے کہ حمل کے دوران ویکسین کا استعمال ماں اور بچے دونوں کے لیے محفوظ ہے۔

    ڈیٹا سے ثابت ہوتا ہے کہ مردہ بچوں کی پیدائش کی شرح ویکسینیشن اور ویکسینیز استعمال نہ کرنے والی خواتین میں لگ بھگ یکساں تھی۔یہی مماثلت کم پیدائشی وزن کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں کی شرح میں بھی دریافت ہوئی۔

    کرونا کی نئی قسم، اسد عمر نے خطرے سے آگاہ کر دیا

    دوسری جانب کورونا کے نئے ویریئنٹ ’اومیکرون‘ کے پھیلاؤ کے متعلق سب سے پہلے خبردار کرنے والوں میں سے ایک افریقی ڈاکٹر کا کہنا ہے ’او می کرون‘ کی علامات بہت ہی معمولی ہیں اور یہ وائرس 40 سال یا اس سے کم عمر کے افراد کو متاثر کر رہا ہے۔

    ساؤتھ ایفریقن میڈیکل ایسوسی ایشن کی سربراہ ڈاکٹر اینجلیک کوئیٹزی نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے کلینک میں سات ایسے مریض دیکھے جن کی علامات ڈیلٹا سے مختلف تھیں مریضوں کے پٹھوں میں ہلکا درد، خشک کھانسی اور گلے میں خراش تھی۔

    "اومی کرون” تشویش کا باعث تو ہے لیکن بے چینی کی وجہ نہیں،امریکی صدر