Baaghi TV

Tag: حاملہ

  • سیما حیدر  حاملہ مہا کمبھ میلے میں دودھ عطیہ کا اعلان

    سیما حیدر حاملہ مہا کمبھ میلے میں دودھ عطیہ کا اعلان

    پاکستان سے غیر قانونی طور پر بھارت جانے والی سیما حیدر نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ بھارت کے سب سے بڑے مذہبی اجتماع ‘مہا کمبھ میلے’ میں 51 لیٹر گائے کا دودھ عطیہ کریں گی۔

    سیما حیدر، جو دو سال قبل اپنے 4 بچوں کے ساتھ پاکستان سے بھارت غیر قانونی طور پرگئی تھیں، اس وقت اتر پردیش کے شہر گریٹر نوئیڈا میں اپنے بھارتی شوہر سچن مینا کے ساتھ رہ رہی ہیں۔سیما حیدر اور ان کے شوہر سچن مینا کی ملاقات ایک آن لائن گیم "پب جی” کے ذریعے ہوئی تھی، جس کے بعد دونوں نے نیپال میں جا کر شادی کر لی تھی۔ اس کے بعد سیما حیدر نے بھارت میں اپنے نئے زندگی کا آغاز کیا۔ اس دوران سیما حیدر نے اپنے مذہب کی تبدیلی کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ انہوں نے سچن مینا سے شادی کے بعد ہندو مذہب اختیار کیا۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سیما حیدر اور ان کے شوہر سچن مینا نے اعلان کیا ہے کہ وہ بھارتی شہر پریاگ راج میں جاری کمبھ میلے میں 51 لیٹر گائے کا دودھ عطیہ کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ سیما حیدر نے کہا کہ وہ مہا کمبھ میں شرکت کرنا چاہتی تھیں، تاہم حمل کی وجہ سے وہ وہاں نہیں جا سکتیں۔سچن مینا نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کا ارادہ تھا کہ وہ گنگا، جمنا اور سرسوتی ندیوں کے سنگم پر 51 لیٹر گائے کا دودھ پیش کریں، مگر چونکہ سیما حیدر حاملہ ہیں، اس لیے انہیں اس سفر پر جانے سے گریز کرنا پڑا۔

    پیکا ترمیمی بل 2025 قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سے منظور

    غزہ: عمارتوں کے ملبے سے مزید 200 لاشیں اور بنا پھٹے بموں کی بڑی تعداد برآمد

  • مرد استاد کو "حاملہ” ہونے پر سکول سے ملی چھٹی

    مرد استاد کو "حاملہ” ہونے پر سکول سے ملی چھٹی

    بھارتی بہار کے محکمہ تعلیم کی جانب سے ایک انتہائی حیران کن اور غیر معمولی واقعہ سامنے آیا ہے جس نے نہ صرف ریاست بلکہ پورے ملک میں بحث چھیڑ دی ہے۔

    اس بار محکمہ تعلیم نے ایک مرد ٹیچر کو حاملہ ہونے کی بنیاد پر زچگی کی چھٹی دے دی ہے، جسے سن کر ہر کوئی دنگ رہ گیا۔ حاجی پور کے ایک اسکول میں تعینات بی پی ایس سی کے ایک مرد ٹیچر جتیندر کمار سنگھ کو محکمہ تعلیم نے حاملہ ہونے کی بنیاد پر "میٹرنٹی لیو” دے دی۔یہ واقعہ حاجی پور مہوا بلاک کے حسن پور اوستی ہائی اسکول کا ہے، جہاں جتیندر کمار سنگھ کے نام پر زچگی کی چھٹی کی درخواست محکمہ تعلیم کے ای-پورٹل پر منظور کر لی گئی۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ زچگی کی چھٹی صرف خواتین کو دی جاتی ہے جب وہ حمل سے ہوں اور بچے کو جنم دینے والی ہوں، مگر یہاں یہ چھٹی ایک مرد ٹیچر کو دی گئی ہے۔ محکمہ تعلیم اور اساتذہ کے محکمے کی ویب سائٹ پر جتیندر کمار سنگھ کو حاملہ قرار دے کر چھٹی دی گئی، جس نے پورے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

    یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب جتیندر کمار سنگھ کے چھٹی کے ریکارڈ کو دیکھنے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ انہیں زچگی کی چھٹی دی گئی ہے۔ محکمہ تعلیم کے پورٹل پر واضح طور پر یہ ذکر تھا کہ جتیندر کمار سنگھ حاملہ ہیں اور اس وجہ سے وہ چھٹی پر ہیں۔ اس غیر معمولی صورتحال نے لوگوں کو چکرا کر رکھ دیا اور سوشل میڈیا پر اس پر مذاق اڑایا جانے لگا۔

    اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد، حاجی پور بلاک ایجوکیشن آفیسر ارچنا کماری نے اس غلطی کو تسلیم کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک تکنیکی خرابی تھی جس کے باعث مرد ٹیچر کو زچگی کی چھٹی دے دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ "مرد اساتذہ کو ایسی چھٹی نہیں دی جاتی اور یہ صرف خواتین اساتذہ کا حق ہے، جو حمل سے ہوں اور بچے کو جنم دینے والی ہوں۔” ارچنا کماری نے اس بات کا بھی یقین دلایا کہ اس خرابی کو جلد درست کیا جائے گا اور ایسی غلطیاں مستقبل میں نہیں ہوں گی۔

    اس خبر کے پھیلنے کے بعد، ریاست کے مختلف حصوں سے اس پر ردعمل آنا شروع ہو گیا ہے۔ لوگوں نے اس عجیب و غریب واقعے پر حیرانی کا اظہار کیا اور محکمہ تعلیم کی بے احتیاطی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ، کچھ لوگوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر یہ واقعہ ایک مرد ٹیچر کے ساتھ ہو سکتا ہے تو دوسرے معاملات میں بھی ایسی غلطیاں ہو سکتی ہیں۔

    پشاور ہائیکورٹ کا سینیٹ الیکشن معاملہ جلد حل کرنے کا حکم

    ٹرمپ کا اعلان، خواجہ سراؤں کے لئے مشکلات

  • میں حاملہ نہیں ، اداکارہ اشنا شاہ نے ثبوت بھی دے دیا

    میں حاملہ نہیں ، اداکارہ اشنا شاہ نے ثبوت بھی دے دیا

    معروف اداکارہ و ماڈل اشنا شاہ سےحمل بارے سوال ہوا تو اداکارہ نے اپنی ویڈیو شیئر کر دی اور کہا کہ وہ حمل سے نہیں ہیں

    اداکارہ اشنا شاہ نے حمل کے بارے پوچھے جانے والے سوال پر بطور ثبوت ویڈیو شیئر کی ہے،اداکارہ نے اپنے انسٹا گرام پر ویڈیو پوسٹ لگائی، اداکارہ اشنا شاہ سوشل میڈیا پر اپنے مداحوں کے ساتھ سوال جواب کا سیشن کر رہی تھی کہ اس دوران ایک مداح نے اداکارہ اشنا شاہ نے سوال کر لیا کہ کیا وہ حاملہ ہیں جس پر اداکارہ نے جواب دیا کہ نہیں وہ حمل سے نہیں ہیں.

    بعد ازاں اداکارہ اشنا شاہ نے اپنی ایک ویڈیو انسٹا گرام پر پوسٹ کی جس میں انہوں نے ڈھیلے کپڑے پہن رکھے ہیں اور وہ اپنی قمیض کو پیٹ سے تنگ کر کے اپنی فٹنس دکھا کر یہ بتانا چاہ رہی تھیں کہ وہ حمل سے نہیں ہیں، اداکارہ نے ساتھ پیغام میں کہا کہ "نہیں میں حمل سے نہیں ہوں مگر ناراض ضرور ہوں”.

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ایک لباس کی منفرد تراش خراش کے سبب قیاس آرائیوں نے جنم لیا تھا کہ اداکارہ اشنا شاہ حاملہ ہیں تاہم اداکارہ اشنا شاہ نے افواہوں کی تردید کی تھی اور اب ویڈیو سامنے رکھ کر یہ ثابت کیا کہ وہ حاملہ نہیں ہیں.

    ایف نائن پارک زیادتی کیس؛ مشتبہ پولیس مقابلے کی تحقیقات شروع

     لڑکی کو نیم مردہ حالت میں ساحل پر پھینکا گیا، لڑکی کی موت ساحل پر پڑے پڑے ہوئی

    ایاز امیر کی بہو کا پوسٹمارٹم مکمل،سارہ کے قتل کی وجہ کا تعین نہ ہوسکا

    پہلے مارا، گھسیٹ کر واش روم لے گیا،ایاز امیر کے بیٹے نے سفاکیت کی انتہا کر دی

    خاتون کے ساتھ زیادتی ،عدالت کا چھ ماہ تک گاؤں کی خواتین کے کپڑے مفت دھونے کا حکم

    نرسری وارڈ میں 4 بچوں کے جاں بحق ہونے پر وزیراعلیٰ کا نوٹس

  • 27 برس قبل کمسن لڑکی سے زیادتی کرنیوالے دو بھائیوں کو سزا

    27 برس قبل کمسن لڑکی سے زیادتی کرنیوالے دو بھائیوں کو سزا

    1994 میں جنسی زیادتی کرنیوالے دو بھائیوں کو 27 برس بعد عدالت نے سزا سنا دی

    واقعہ بھارت کا ہے، عدالت نے دو بھائیوں کو دس دس برس قید کی سزا سنائی ہے،دونوں بھائیوں نے 1994 میں ایک 13 سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی کی تھی جس کے نتیجے میں لڑکی حاملہ ہو گئی تھی اور اس نے بیٹے کو جنم دیا تھا. لڑکی سے دو افراد،جو بھائی تھے نے زیادتی کی تھی، اب ان دونوں میں سے لڑکے کا باپ کون تھا؟والد کے تعین کے لئے 2021 میں خاتون نے مقدمہ درج کروایا،اور ڈی این اے کی درخواست دی پولیس نے دونوں بھائیوں کو گرفتار کیا . ڈی این اے کروایا گیا جس سے لڑکے کے باپ کا تعین ہو گیا . تا ہم عدالت میں کیس چلا اور عدالت نے دونوں بھائیوں کو دس بر س قید کی سزا سنائی ہے. شاہجہاں پور میں سرکاری وکیل راجیو ترپاٹھی کا کہنا ہے کہ مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ کے چھ گواہوں پر جرح کی گئی۔

    دونوں ملزمان کئی ماہ تک اس کے ساتھ جنسی زیادتی کرتے رہے
    وکیل نے کہا کہ عدالت نے ملزموں کو آئی پی سی کی دفعہ 452 ، 506 اور 376-(2) جی کے تحت مجرم قرار دیا۔ ،استغاثہ کے مطابق یہ مقدمہ 1994 کا ہے جب متاثرہ لڑکی شاہجہاں پور میں رشتہ داروں کے ساتھ رہ رہی تھی۔لڑکی گھر میں اکیلی تھی اور اسے پہلے بڑے بھائی نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور جانے سے پہلے اس نے دھمکی بھی دی کہ کسی کو بتانا نہیں۔ اگلے دن چھوٹے بھائی نے بھی اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ خوف کی وجہ سے لڑکی نے کسی کو اطلاع نہیں دی۔ دونوں ملزمان کئی ماہ تک اس کے ساتھ جنسی زیادتی کرتے رہے۔ بعد میں زیادتی کا شکار لڑکی اپنے رشتہ دار کے ساتھ لکھنؤ چلی گئی۔ خاتون نے بتایا کہ جب اس کا رشتہ دار ملزم سے ٹکرایا تو اس نے اسے دھمکیاں بھی دیں جس کے نتیجے میں انہوں نے پولیس سے رجوع نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

    متاثرہ خاتون کی شادی ہوئی مگر شوہر کو ماضی کا پتہ چلا تو علیحدگی ہو گئی
    دو بھائیوں کی جانب سے زیادتی کے بعد لڑکی حاملہ ہو گئی اور اسکی عمر صرف 14 برس تھی، اس لیے ڈاکٹروں نے اسقاط حمل کرنے سے انکار کر دیا۔ اس نے فروری، 1995 میں ایک لڑکے کو جنم دیا، اور اس کے رشتہ دار نے بچے کو ایک جوڑے کے ذریعہ گود لینے کا انتظام کیا، جس نے اس کی اچھی دیکھ بھال کرنے کا وعدہ کیا۔ رشتہ دار جوڑے کو ان کے آبائی علاقے سے جانتا تھا۔بعد میں اس عورت نے شادی کر لی اور اس کے شوہر سے ایک بیٹا پیدا ہوا۔ چھ سال بعد، اس کے ماضی کے بارے میں جاننے کے بعد، لڑکی کے شوہر نے اسے چھوڑ دیا۔2021 میں، لڑکی کا پہلا بیٹا، جو اب 30 سال کا ہے، اس کے پاس آیا۔ متاثرہ کو شک تھا کہ اس کے گود لینے والے خاندان نے اسے اس کے بارے میں بتایا تھا۔ اس کے بار بار اپنے والد کے بارے میں پوچھنے کے بعد خاتون نے بالآخر اپنے بیٹے کو اپنی ماضی کی زندگی کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد اس نے اسے (متاثرہ) کو ڈی این اے ٹیسٹ کرانے اور مبینہ جنسی زیادتی کے حوالے سے کارروائی کرنے پر آمادہ کیا۔

    واقعہ کا شاہجہاں پور پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا، خاتون نے ایف آئی آر کے لئےعدالت سے رجوع کیا۔ اس نے اپنے بیٹے کے باپ کا تعین کرنے کے لیے دونوں ملزمان کے ڈی این اے ٹیسٹ کی بھی درخواست کی۔ خاتون نے بتایا کہ اس نے سماجی بدنامی کی وجہ سے پہلے پولیس سے رابطہ نہیں کیا تھا لیکن اب ایسا کر رہی ہے کیونکہ اس کا بیٹا، جسے اس نے گود لینے کے لیے چھوڑ دیا تھا، اپنے والد کے بارے میں جاننا چاہتا تھا۔

    جنس معلوم کرنے کیلئے حاملہ بیوی کا پیٹ چاک کرنے والے شوہر کو عمرقید

    بھارت میں مرد ٹیچر نے الیکشن ڈیوٹی سے بچنے کیلئے خود کو ’حاملہ‘ قرار دیدیا

    سفاک شوہر نے حاملہ بیوی اور کمسن بیٹی کو جان سے مار دیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    سوتیلے باپ نے لڑکی کے ساتھ کی زیادتی، ماں‌نے جرم چھپانے کیلیے کیا تشدد

    کم عمر لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کے شوقین جعلی عامل کو عدالت نے سنائی سزا

    کاروبار کے لئے پیسے نہ لانے پر بہو کو کیا گیا قتل

    16 خواتین کو نازیبا و فحش ویڈیو ،تصاویر بھیج کر بلیک میل کرنے والا گرفتار

  • محکمہ بہبود آبادی،عوامی آگاہی کیلئے مسلسل مصروف عمل،تحریر:صباءفاروق

    محکمہ بہبود آبادی،عوامی آگاہی کیلئے مسلسل مصروف عمل،تحریر:صباءفاروق

    محکمہ بہبود آبادی،حکومت پنجاب عوام الناس میں خاندانی منصوبہ بندی، بچوں کی پیدائش میں وقفہ، زچہ و بچہ کی صحت،ماں کے دودھ کی اہمیت سمیت دیگر اہم موضوعات پر آگاہی و شعور کے فروغ کیلئے مسلسل مصروف عمل ہے۔عوام کو آگاہی اور شعور فراہم کرنے کیلئے روایتی ذرائع ابلاغ جیسا کہ ٹی وی چینلز،ریڈیو اوراخبارات سے استفادہ تو اٹھایا ہی جاتا ہے مگر محکمہ بہبود آبادی کے پیغامات کو گھر گھر پہنچانے اور مزید آسان طریقہ سے عوام کو خوشحالی اور صحت کا پیغام سمجھانے کیلئے متعدد جدیدطریقہ جات بھی زیر استعمال لائے جا رہے ہیں ۔

    ٹیلی ویژن،عوامی آگاہی کا مستند ذریعہ
    ٹیلی ویژن آج پاکستان کے ہر گھر موجود ہے اور ہر انسان دن میں کئی بار معلومات، انٹرٹینمنٹ وغیرہ کے حصول کیلئے ٹیلی ویژن دیکھتا ہے۔ ٹی وی چینلز کو ایک وقت میں لاکھوں لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں اور دنیا بھر میں پیغامات کی نشریات کیلئے ٹی وی چینلز کو منفرد اور ممتا ز حیثیت حاصل ہے۔ محکمہ بہبود آبادی عوامی سطح پر شعور و آگاہی عام کرنے کیلئے اب تک ہزاروں پیغامات نشر کر چکا ہے اور اس آگاہی مہم کی بدولت نہایت مثبت نتائج موصول ہو رہے ہیں اور محکمہ مزید آگاہی عام کرنے کیلئے مسلسل مصروف عمل ہے۔

    معلومات کی فراہمی کیلئے پرنٹ میڈیا کا استعمال
    اخبارات کو چونکہ معلومات کا مستند ذریعہ سمجھا جاتا ہے اور معاشرے میں اخبار بینی کا رواج آج بھی اتنا ہی ہے جتنا دہائیوں پہلے تھا۔ محکمہ بہبود آبادی گزشتہ دوسالوں سے اخبارات میں سینکڑوں پرنٹ ایڈز شائع کر چکا ہے جہاں عوام الناس کو خاندانی منصوبہ بندی، جدید اور محفوظ طریقہ جات، ماں بچہ کی صحت، پیدائش میں وقفہ مناسب وقفہ، ماں کے دودھ کی اہمیت، جنسی،ذہنی و جسمانی صحت کے حوالے سے معلومات فراہم کی جاتی ہیںاور معاشرے میں محکمہ بہبود آبادی کی جانب سے دی گئی معلومات کو نا صرف مستند سمجھا جاتا ہے بلکہ ان پر عمل درآمد بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔عوامی سوچ میں تبدیلی لانے اور خوشحال،روشن مستقبل کی جانب قدم بڑھانے کیلئے امیدافزاءنتائج موصول ہوئے ہیں۔

    بذریعہ ریڈیو،عوام تک رسائی
    عوامی سطح پر خاندانی منصوبہ بندی اور دیگر اہم موضوعات پر آگاہی عام کرنے کیلئے ریڈیو اسٹیشنز کی وسیع تعداد زیر استعمال لائی جا رہی ہے۔ محکمہ بہبود آبادی تمام ذرائع ابلاغ کو بروئے کار لاتے ہوئے عوامی آگاہی کیلئے مسلسل مصروف عمل ہے۔چونکہ عوام کی ایک کثیر تعداددوران سفر،دفاتر یاگھروں میں ریڈیو سننا پسند کرتے ہیں اور ریڈیوکئی دہائیوں سے معلومات کا مستند ترین ذریعہ سمجھا جارہا ہے اور اسی افادیت کو مد نظر رکھتے ہوئے محکمہ بہبود آبادی اب تک ریڈیو پر سینکڑوں پیغامات نشر کر چکا ہے۔ اور عوامی سطح پر خوب پزیرائی حاصل ہوئی ہے۔

    ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے آگاہی
    چونکہ دنیا بھر میں ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے آگاہی مہم کا اجراءانتہائی مو ¿ثر طریقہ سمجھا جاتا ہے،افادیت کے پیش نظر پنجاب بھر میں تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر محکمہ بہبود آبادی کے سوشل میڈیا گروپس تشکیل دیئے گئے ہیں جہاں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی پیشرفت،سرگرمیوں اورپیغامات کی تشہیر کی جاتی ہے۔سوشل میڈیا کے ذریعے آگاہی کا مقصد زیادہ سے زیادہ عوام تک پیغام پہنچانے کے علاوہ خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت سے متعلق نوجوان طبقہ تک آسان رسائی بھی ممکن بنانا ہے۔ تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر بنائے گئے ان سوشل میڈیا گروپس کے حوصلہ افزاءنتائج موصول ہوئے ہیں اور نوجوان طبقہ سمیت معاشرے کے ہر طبقہ کی جانب سے محکمہ بہبود آبادی کے پیغامات پزیزائی مل رہی ہے۔

    صوبائی،ضلعی،تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر آگاہی
    عوام الناس اوربالخصوص نوجوان طبقہ میں خاندانی منصوبہ بندی اور دیگر خدمات سے متعلق آگاہی کیلئے قومی سطح پر سیمینارز، صوبائی سطح پر کانفرنسز اورضلعی و تحصیل کی سطح پر میٹنگز کا انعقاد باقاعدگی سے ممکن بنایا جاتا ہے اور ماہرین کے ساتھ طلباءاور دیگر طبقہ جات کی براہ راست گفتگو سے ان کے ذہنوں میں موجودابہام اور روایتی تصورات کا ازالہ سائنسی اورمنطقی دلائل سے ممکن بنایا جاتا ہے۔اس کے علاوہ یونین کونسل کی سطح پر سکھی گھر اور دیگر چھوٹی کمیٹیوں کے ذریعے خواتین اور مردوں تک خاندانی منصوبہ بندی کے جدید طریقہ جات، فوائد اور خوشحالی کے رہنما اصولوں کے بارے آگاہی عام کی جاتی ہے۔

    مقامی زبانوں میں آسان پیغام
    مقامی لوگوں کوخاندانی منصوبہ بندی کی افادیت کے بارے آگاہی فراہم کرنے کیلئے مقامی زبانوں جیساکہ پنجابی، سرائیکی اور پوٹھوہاری وغیرہ میں پیغامات کی تشہیر ممکن بنائی جاتی ہے جس کیلئے ٹی وی، ریڈیو سمیت سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز زیر استعمال لائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ مقامی لوگوں کی سچی کہانیاں،انہی کی زبانی،مقامی زبان میں دیگر لوگوں کو بتائی جاتی ہیں تا کہ عوام الناس غلط فہمیوں کی بجائے حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے خوشحال مستقبل کے بارے 100فیصددرست فیصلہ ممکن بنا سکیں۔

    بذریعہ پتلی تماشہ عوامی سطح پر آگاہی
    محکمہ بہبود آبادی، عوام الناس کو شعور فراہم کرنے کیلئے ضلعی سطح پر پتلی تماشوں کا انعقاد ممکن بنا رہا ہے جس میں بچوں کی کم تعداد،ان کی تعلیم تربیت اور ان کے روشن مستقبل کیلئے والدین کو آگاہی فراہم کی جاتی ہے اس کے علاوہ خاندانی منصوبہ بندی، بچوں کی پیدائش میں وقفہ،زچہ و بچہ کی صحت اور دیگر اہم سماجی معاملات سے متعلق کردار ڈرامہ کی صورت میں شعور عام کر رہے ہیں اور عوامی سطح پر پتلی تماشوں کی نمائش کو بھرپور پزیرائی مل رہی ہے اور عوام ان کرداروں سے سیکھ کر عملی زندگی میں متوازن خاندان اور صحت معاشرے کے ساتھ ساتھ خوشحال پاکستان کی جانب قدم بڑھا رہے ہیں۔

    اِن ہاو س سٹوڈیو کاآغاز
    محکمہ بہبود آبادی کی جانب سے اِن ہاوس سٹوڈیو کا بھی آغاز کیا گیا ہے جہاں ماہرین خاندانی منصوبہ بندی، جدید اور محفوظ طریقہ جات، ماں بچہ کی صحت، پیدائش میں وقفہ مناسب وقفہ، ماں کے دودھ کی اہمیت، جنسی،ذہنی و جسمانی صحت کے حوالے سے عوام کو اہم معلومات فراہم کرتے ہیں جس کو بعدازاں ڈیجیٹل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر پوسٹ کیا جاتا ہے تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک محکمہ کا پیغام پہنچا کر خوشحال کل اور صحت مند آج کے خواب کو عملی تعبیر فراہم کی جا سکے۔

    ورکرز بھی متوازن سوچ کے فروغ کیلئے مصروف عمل
    محکمہ بہبود آبادی کی جانب سے خاندانی منصوبہ بندی اپنا کر خوشحال پاکستان کی تشکیل کیلئے ہر میدان میں رائے عامہ ہموارکی جا رہی ہے جہاں محکمہ بہبود آبادی کے ہر ورکرکی تربیت اس انداز میں ممکن بنائی گئی ہے کہ وہ انفرادی و اجتماعی طور پر اپنے دوست احباب، رشتے داروں اور اپنی کمیونٹی میں خاندانی منصوبہ بندی کے فروغ کیلئے آگاہی فراہم کر رہا ہے۔ ورکرزخاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے معاشرے میں قائم فرسودہ خیالات اور غلط فہمیوں کا سائنسی اور منطقی انداز میں ازالہ کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ لوگوں کو نہ صرف خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے آگاہی فراہم کر رہے ہیں بلکہ وہ خاندانی منصوبہ بندی کے قابل بھروسہ اور جدید طریقہ جات تک بھی عوامی رسائی ممکن بنا رہے ہیں تاکہ معاشرے میں نئی سوچ کے فروغ سے ایک خوشحال پاکستان کی تشکیل ممکن بنائی جا سکے۔یہ ورکرز کی محنت کے ہی نتائج ہیں کہ خاندانی منصوبہ بندی کو اپنانے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور عوام الناس زیادہ بچوں، بیٹوں کی خواہش سمیت دیگرفرسودہ خیالات ترک کررہے ہیں۔ آگاہی کے اشتہارات سے محکمہ،لوگوں کی ذہن سازی اس انداز سے کر رہا ہے کہ وہ اب والدین بچوں کی تعداد کا تعین کرتے وقت زیادہ تعداد کی بجائے ان کی بہتر تعلیم تربیت اور اچھی صحت کو ترجیح دیتے ہیں۔

    عوامی سوچ اور رویوں میں واضح تبدیلی
    محکمہ بہبود آبادی لوگوں کے رویوں میں مثبت تبدیلی لانے کیلئے مسلسل مصروف عمل ہے۔محکمہ،عوام الناس کے سماجی رویوں میں تبدیلی لانے کیلئے قومی ذرائع ابلاغ جیسا کہ الیکٹرانک،پرنٹ،سوشل اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کامیابی سے آگاہی مہم کو فروغ دے رہا ہے۔محکمہ اپنی آگاہی مہم میں بیٹیوں کی تعلیم تربیت اور ان کے مساوی حقوق کے بارے عوام الناس میں شعور اجاگرکر رہا ہے۔ بچوں کی زیادہ تعداد کی بجائے،ان کی بہتر تعلیم و تربیت پر بھی زور دیا جا رہاہے۔ عوامی رویوں میں تبدیلی لانے کیلئے خواتین کی خود مختاری اور انہیں تعلیم تربیت کی فراہمی کو اولین ترجیح بنایا گیا ہے جہاں فرسودہ روایات و پرانی سوچ کی بجائے اپنوں کے روشن کل کی بات عوام تک پہنچائی گئی ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی کی جدید اور محفوظ سہولیات چھوٹے خاندان کے روشن کل کی مضبوط بنیاد قرار دی گئی ہیں۔ عوامی سطح پر بچوں کی پیدائش میں وقفہ اور بچوں کی کم تعداد یقینی بناکر ان کے روشن مستقبل کی تشکیل کیلئے بھی رائے عامہ بنائی گئی ہے۔آئیں!خاندانی منصوبہ بندی اپنا کر چھوٹے خاندان کو خوشیوں اور صحت کی مضبوط بنیاد فراہم کریں اور خوشحال پاکستان کی تشکیل کیلئے اپنا کردارادا کریں کیونکہ سوچ میں تبدیلی سے ہی ممکن ہے متوازن خاندان، خوشحال پاکستان

    saba

    ماحولیاتی تبدیلیوں سے پاک پنجاب کیلئے پر عزم
    محکمہ بہبود آبادی،عوام الناس کو ماحولیاتی تبدیلیوں اور ان کے مضر اثرات سے بچاوءکیلئے بھی آگاہی عام کر رہا ہے۔ دنیا بھر میں جنگلات کارقبہ تیزی سے کم ہورہاہے، آتش زدگی اوردیگرقدرتی وانسانی عوامل سے جنگلات کیلئے خدشات اورخطرات بڑھ رہے ہیں،اس صورتحال کے تناظرمیں انسانی صحت اورغذائی سلامتی کے تحفظ کیلئے اقدامات ضروری ہیں۔ ماحولیات اورایکونظام کے تحفظ کیلئے کئے جانے والے عالمی معاہدوں پرعمل درآمد کیاجائے۔اس وقت ماحولیاتی تبدیلیوں سے دنیا کی 40 فیصدآبادی کو خطرات لاحق ہیں اس تناظرمیں ایکونظام کی بحالی کیلئے تمام ممالک کواپنامشترکہ لائحہ عمل اختیارکرنا پڑے گا۔عالمی ماحولیاتی اداروں کی تحقیق کے مطابق کسی بھی ملک کے خشک رقبے کا 25فیصد جنگلات پہ مشتمل ہونا نہایت مناسب اورانسانی زندگی کیلئے انتہائی ضروری تصور کیا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں 3.3فیصد جنگلات موجود ہیں جو کہ تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔

    متوازن غذا اور نفسیاتی صحت،سب سے پہلے
    محکمہ بہبود آبادی کے زیر نگرانی کوالیفائیڈ نیوٹریشنسٹ اورسائیکالوجسٹ ضلعی سطح پر اپنی خدمات فراہم کر رہے ہیں جو متوازن غذا کی افادیت، غذائی مسائل سے نجات،حاملہ خواتین کیلئے ضروری غذائی اجزاءکے علاوہ ذہنی،جسمانی اور جنسی صحت کے تحفظ کے حوالے سے اہم خدمات سر انجام دہے رہے ہیں۔ عوام الناس بالخصوص خواتین کو نفسیاتی مسائل کے آسان حل بتائے جاتے ہیں،ورزش سمیت دیگر معمولات میں ہم آہنگی اور ذہنی سکون کے حوالے سے اہم نکات پر زور دیا جاتا ہے۔

    عوامی صحت،ہماری اولین ترجیح
    محکمہ بہبود آبادی،صحت عامہ کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ڈینگی، نمونیا، وبائی امراض سے متعلق ویکسینیشن،متوازن غذا،ماں بچہ کی صحت سے متعلق اہم معلومات اور ماں کے دودھ کی اہمیت سمیت دیگر اہم مسائل سے متعلق بھی معلومات ڈیجیٹل اور قومی میڈیا کے ذریعے آگاہی عام کر رہا ہے۔ جس کا مقصد عوام الناس کو صحت کے حوالے سے نئی معلومات فراہم کر کے نہ صرف خوشحال بلکہ صحت مند معاشرے کی تشکیل ممکن بنانا ہے.

    saba farooq

  • مرد ،عورت بن کر بچے کو جنم دے گا.اگلے ماہ مارچ میں ہو گی بچے کی پیدائش

    مرد ،عورت بن کر بچے کو جنم دے گا.اگلے ماہ مارچ میں ہو گی بچے کی پیدائش

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مرد کے حاملہ ہونے کی خواہش پوری ہو گئی، مرد اگلے ماہ مارچ میں اپنے بچے کو جنم دے گا

    واقعہ بھارت کا ہے، بھارتی میڈیا نے اس واقعہ کو رپورٹ کرتے ہوئے کہا کہ دو خواجہ سراؤں کی دوستی ہے، ایک خواجہ سرا مرد تھا، اس نے اپنا آپریشن کروایا اور ٹرانسپلانٹ کے‌ذریعے عورت بنا، بھارتی ریاست کیرالہ کے علاقے کوزی کوڈ کے رہنے والے مرد نے عورت بن کربچے کو جنم دینے کی خواہش کا اظہار کیا جو اب پوری ہو رہی ہے، طبی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ بھارت میں پہلا ایسا واقع ہے کہ مرد ،عورت بن کر بچے کو جنم دے گا

    سہد اور جیا پاول ، دونوں خواجہ سرا کوزی کوڈ سے تعلق رکھتے ہیں اور دوست ہیں، انکی دوستی نے ہی انہیں آپس میں ایک ساتھ رہنے پر مجبور کیا، خواجہ سرا جوڑا اب مارچ میں پہلے بچے کی آمد پر پرجوش ہے،جیا، کوزی کوڈ میں کلاسیکل ڈانس ٹیچر ہیں وہ تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ جب ہم نے تین برس قبل ایک ساتھ رہنا شروع کیا تو ہم نے سوچا کہ ہماری زندگیاں دوسرے خواجہ سراؤں سے الگ ہونی چاہئے، زیادہ تر جوڑے معاشرے کے ساتھ ساتھ ان کے خاندانوں کی طرف سے بے دخل کیے جاتے ہیں ہم ایک بچہ چاہتے تھے تاکہ ہم دونوں کے بعد بھی اس دنیا میں کوئی شخص ہو، اسلئے انہوں نے طویل مشاورت کی اور بچہ پیدا کرنے کے فیصلے پر پہنچے

    سہد کی عمر 23 برس ہے اور جیا کی عمر 21 برس ہے، وہ تین سالوں سے ایک ساتھ ہیں، دونوں نے اپنی ہارمون تھراپی کروائی ہے، جیا کا کہنا ہے کہ تبدیلی کے عمل کے تحت سہد کی چھاتیوں کو ہٹا دیا گیا وہ اگلے ماہ جنم دینے کے بعد مرد بننے کا اپنا سفر جاری رکھے گی میں اپنا ہارمون علاج جاری رکھ رہا ہوں ڈلیوری کے چھ ماہ یا ایک سال بعد سہد بھی ٹرانس مین بننے کے لیے اپنا علاج دوبارہ شروع کرے گا

    جیا کا کہنا ہے کہ اسے کوزی کوڈ کے گورنمنٹ میڈیکل کالج ہسپتال کے ڈاکٹروں سے مدد ملی جہاں اگلے ماہ بچے کی پیدائش ہونے والی ہے چونکہ سہد نے دونوں چھاتیاں نکال دی ہیں، اس لیے ہم امید کرتے ہیں کہ بچے کو میڈیکل کالج کے بریسٹ دودھ بینک سے دودھ پلائیں گے

    سہد ترواننت پورم کا رہنے والا ہے اور اکاؤنٹنٹ کے طور پر کام کرتا تھا او اب چھٹی پر ہے سہد اور جیا نے اپنی خواجہ سرا کی شناخت سے آگاہ ہونے کے بعد اپنی ابتدائی جوانی میں اپنے خاندانوں کو چھوڑ دیا تھا یہ جوڑا اب کوزی کوڈ میں رہتا ہے

    راہ چلتی طالبات کو ہراساں اور آوازیں کسنے والا اوباش گرفتار

  • 15 سالہ کمسن بچی سے زیادتی کے نتیجہ میں پیدا ھونے والی بچی کو قتل کر دیا گیا

    15 سالہ کمسن بچی سے زیادتی کے نتیجہ میں پیدا ھونے والی بچی کو قتل کر دیا گیا

    15 سالہ کمسن بچی سے زیادتی کے نتیجہ میں پیدا ھونے والی بچی کو قتل کر دیا گیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے شہر سرگودھا میں درندگی، سفاکیت اور جلاد پن کا ایک اور دلخراش واقعہ سامنے آیا ہے

    سرگودھا میں 15 سالہ کم سن بچی سے دو اوباشوں کی زیادتی کے نتیجہ میں پیدا ھونے والی بچی کو قتل کر دیا گیا تھانہ مڈھ رانجھا کی حدود نصیر پور کلاں میں دو دن کی نوزائیدہ بچی کے قتل پر اہل علاقہ میں شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے، دو اوباش ملزمان 15سالہ کی گونگی لڑکی مصباح کو مسلسل زیادتی کا نشانہ بناتے رہے جس سے وہ حاملہ ہو گئی بچی کی پیدائش کے دو دن بعد زیادتی کرنے والے بلال اور مناظر نے گناہ چھپانے کے لئیے بچی کو گلہ دباکے قتل کر دیا تھانہ مڈھ رانجھا پولیس نے نوزائیدہ بچی کو قتل کے شواہد ملنے پر مقدمہ درج کر لیا

    مقدمہ میں زیادتی کرنے والے اوباش بلال حسن اور مناظر علی اور زیادتی کا شکار لڑکی کا والد جگا بھی شامل ہے، دودن کی بچی کو قتل کے بعد اندھیرے میں دفنا بھی دیا گیا پولیس نے مخبر کی اطلاع پر زنا اور قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا تاحال زیادتی اور قتل کرنے والے ملزمان گرفتار نہ ھو سکے

    قبل ازیں سرگودھا پولیس نے قحبہ خانہ پر ریڈ کر کے رنگ رلیاں مناتے تین ملزمان و خواتین سمیت جسم فروشی کا مکروہ دھندہ کروانے والی نوشین عرف نوشی کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا اور 11 ہزار وٹک رقم بھی برآمد کر لی ۔ نوشین عرف نوشی مقامی لڑکیوں کے علاوہ دیگر اضلاع گجرات ، منڈی بہاوالدین ، پنڈی بھٹیاں اور نوشہرہ سے بھی لڑکیاں منگوا کر سپلاٸی کرتی تھی ۔ اور ملزمہ کافی عرصہ سے بااثر افراد کی پشت پناہی میں خفیہ طور پر جسم فروشی کا اڈہ چلا رہی تھی ۔ جس کیخلاف تھانہ جھال پولیس نے ریڈ کر کے ملزمان کو گرفتار کر لیا ۔ ناٸکہ نوشین عرف نوشی سمیت دیگر ملزمان کیخلاف جسم فروشی کی دفعات کے تحت مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ھے

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    جسمانی تعلقات سے بھی کیا پھیل سکتا ہے کرونا وائرس؟

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    اچھی نوکری کا جھانسہ دے کر غیر ملکی لڑکی سے کیا گیا گھناؤنا کام

    سرگودھا سے 151 لڑکیاں بازیاب،21 قحبہ خانوں سے ملیں،ڈی پی او کا سپریم کورٹ میں بیان

  • بے اولاد ہیں، بچہ خرید لیں، بچے پیدا کرنے کی فیکٹری، تہلکہ خیز انکشاف

    بے اولاد ہیں، بچہ خرید لیں، بچے پیدا کرنے کی فیکٹری، تہلکہ خیز انکشاف

    بے اولاد ہیں، بچہ خرید لیں، بچے پیدا کرنے کی فیکٹری، تہلکہ خیز انکشاف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایک ایسی فیکٹری کا انکشاف ہوا ہے جہاں سامان نہیں بلکہ بچے پیدا کئے جاتے ہیں

    یہ فیکٹری نائیجریا میں ہے ، جہاں بچہ پیدا کرنے کے لئے باقاعدہ ایک فیکٹری چلائی جا رہی ہے جس کو بے بی فیکٹری کا نام دیا گیا ہے، بے بی فیکٹری میں بے بی فارمنگ کے نام سے گھناؤنا دھندہ ہو رہا ہے، بے بی فیکٹری میں کم عمر لڑکیوں کو بھی لایا جاتا ہے اور انہیں انکی مرضی کے بغیر حاملہ کیا جاتا ہے، چودہ برس کی لڑکیاں بھی اس بے بی فیکٹری میں حاملہ ہو چکی ہیں اور انہوں نے بچے کو جنم دیا ہے

    بے بی فارمنگ فیکٹری میں بچے پیدا کرنے کا سلسلہ بے اولاد جوڑوں کے لئے شروع کیا گیا تھا جو اب پھیل چکا ہے، غریب خواتین اپنی بیٹیوں کے اس بے بی فارمنگ فیکٹری میں بھیج دیتی ہیں ، اگر بیٹا پیدا ہو تو اسکی قیمت زیادہ ملتی ہے، اور اگر بیٹی ہو تو اسکا ریٹ کم ہوتا ہے، بچوں کو بے اولاد جوڑوں کو فروخت کیا جاتا ہے اور ماں بچہ جنم دینے کے بعد دوبارہ تیار ہوتی ہے کہ وہ دوبارہ ماں بنے اور اسے اس کے عوض قیمت ملے، بے اولاد جوڑے بھی اس بے بی فارمنگ فیکٹری میں منہ مانگی قیمت دینے کے لئے تیار ہوتے ہیں، اس بے بی فارمنگ فیکٹری میں لڑکیوں کو لالچ دلا کر لایا جاتا ہے ، کئی لڑکیوں کو اس فیکٹری میں سمگل کر بھی لایا گیا ہے

    بے بی فارمنگ فیکٹری میں انڈونیشیا، یوکرین سمیت کئی دیگر شہروں سے بھی لڑکیوں کو لایا جاتا ہے، بے بی فارمنگ کا دھندہ پہلے خفیہ کیا جاتا تھا مگر اب سرعام کیا جا رہا ہے، ایک رپورٹ کے مطابق سال 2011 میں ایک چھاپے کے دوران سیکورٹی اہلکاروں نے 32 حاملہ خواتین کو رہا کروایا تھا، بے بی فارمنگ فیکٹری میں آنے والی لڑکیاں اپنی مرضی سے اسقاط حمل بھی نہیں کروا سکتیں کیونکہ انکے ملک کا قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا،

    غیرت کے نام پر سنگدل باپ نے 15 سالہ بیٹی کو قتل کر دیا

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    یہ ہے لاہور، ایک ہفتے میں 51 فحاشی کے اڈوں پر چھاپہ،273 ملزمان گرفتار

    طالبعلم کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا قاری گرفتار،قبرستان میں گورکن کی بچے سے زیادتی

    راہ چلتی طالبات کو ہراساں اور آوازیں کسنے والا اوباش گرفتار

    نائیجریا کی بے بی فارمنگ فیکٹری سے بچ جانے والی ایک خاتون نے کہانی سنائی ہے، خاتون کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کو سمگل کر کے بے بی فارمنگ فیکٹری تک پہنچایا گیا ،وہاں انکی عصمت دری کی جاتی ہے پھر حمل ہونے پر انہیں ایک خیمے میں چھوڑ دیا جاتا ہے اور بچہ پیدا ہونے پر بچے کو فروخت کر دیا جاتا ہے، مریم کہتی ہیں کہ نایجیریا کی شمالی مشرقی ریاست میں آئی ڈی پیز کے کیمپ سے باہر نکلی تو انہیں ایک خاتون جو آنٹی کیکی کے نام سے مشہور ہیں انہوں نے کہا کہ کیا وہ گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کریں گی جس پر میں نے رضا مندی کا اظہار کیا، اسی کام کے لئے ایک اور دوست کو بھی تیار کیا، آنٹی کیکی ہم دو لڑکیوں کو اپنے علاقے میں لے گئی اور بارہ گھنٹے کے طویل سفر کے بعد ہمیں ایک گھر میں پہنچا دیا گیا جہاں ایک کمرہ لڑکیوں سے بھرا ہوا تھا ان میں سے اکثر حاملہ تھیں

    مریم کا کہنا تھا کہ ہم تو سمجھ رہی تھی کہ گھر کی صفائی کا کام جیسے ہمیں بتایا گیا تھا ویسا ہو گا لیکن یہان پہنچ کر پتہ چلا کہانی کچھ اور ہے رات کو سب لڑکیوں کو الگ الگ کمرے دے دیئے گئے جو حاملہ تھیں وہ سب ایک کمرے میں تھیں، رات ہوئی تو دروازہ کھلا ایک شخص اندر آیا اور اس نے کپڑے اتارنے کا کہا ، میں نے منع کیا تو میرے ساتھ زبردستی زیادتی کی،میری دوست کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، وہ رات ہم نے مشکل سے گزاری ،میری دوست کے ساتھ زیادتی کرنے والا انتہائی سفاک تھا جس نے ساری رات درندگی کا مظاہرہ کیا، جب میرے ساتھ زیادتی ہوئی تو میں نے چیخنے چلانے کی کوشش کی لیکن میرے منہ پر کپڑا رکھ دیا گیا ، تھپڑ مارے گئے، میری آنکھوں میں آنسو تھے لیکن کسی کو ترس نہ آیا،

    مریم کا کہنا تھا کہ ایک ہی روز میں انہیں کئی مردوں نے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا، اس کام کے الگ سے پیسے مردوں سے لئے جاتے اور جب لڑکیاں حاملہ ہو جاتیں تو انکو پھر الگ کر دیا جاتا اور انکے بچوں کو فروخت کیا جاتا، مریم کا کہنا تھا کہ ایک ماہ کے اندر وہ دونوں حاملہ ہو گئیں۔ لیکن پھر بھی ان کی عصمت دری کی گئی۔ جہاں یہ بے بی فیکٹری تھی وہان سے بھاگنا مشکل تھا کیونکہ سیکورٹی سخت تھی تا ہم کوشش جاری رکھی اور ہم وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہوئیں

    سفاک باپ نے بیٹا نہ ہونے پر 3 کمسن بیٹیوں کو قتل کر دیا

    پولیس کی زیادتی، خواجہ سراؤں نے ملک گیر احتجاج کی دھمکی دے دی

    پلاسٹک بیگ پر پابندی لگی تو خواجہ سراؤں نے ایسا کام کیا کہ شہری داد دینے پر مجبور

    کرونا لاک ڈاؤن، شادی کی خواہش رہی ادھوری، پولیس نے دولہا کو جیل پہنچا دیا

    کرونا لاک ڈاؤن، گھر میں فاقے، ماں نے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،سب کی ہوئی موت

    دس برس تک سگی بیٹی سے مسلسل جنسی زیادتی کرنیوالے سفاک باپ کو عدالت نے سنائی سزا

    شادی شدہ خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے بعد ملزمان نے ویڈیو وائرل کر دی

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    لڑکی کو برہنہ کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کو پولیس نے عدالت پیش کر دیا

    کیا فائدہ قانون کا، مفتی کو نامرد کیا گیا نہ عثمان مرزا کو،ٹویٹر پر صارفین کی رائے

    لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو، وزیراعظم عمران خان کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    نوجوان جوڑے پر تشدد کیس، پانچویں ملزم کو کس بنیاد پر گرفتار کیا؟ عدالت کا تفتیشی سے سوال

    ویڈیو کس نے وائرل کی تھی؟ عدالت کے استفسار پر سرکاری وکیل نے کیا دیا جواب

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ملزم عثمان مرزا کو عدالت نے کہاں بھجوا دیا؟

    دو سو افراد نے ایک ساتھ برہنہ ہو کر تصویریں بنوا کر ریکارڈ قائم کر دیا