Baaghi TV

Tag: حبس

  • شدید ترین لوڈ شیڈنگ ،بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جائے گا،وارننگ

    شدید ترین لوڈ شیڈنگ ،بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جائے گا،وارننگ

    قصور
    ضلع بھر کے بیشتر دیہی علاقوں میں شدید حبس اور گرمی کے دوران غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی انتہا، عوام سراپا احتجاج
    تفصیلات کے مطابق ضلع قصور اور گردونواح کے دیہی علاقے ان دنوں شدید حبس اور گرمی کی لپیٹ میں ہیں
    دن کے وقت درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکا جاتا ہے اور حبس زیادہ ہونے کے باعث گرمی کا احساس درجہ حرارت 46 سے بھی زیادہ ہوتا ہے
    ایسے میں لیسکو قصور واپڈا کی جانب سے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ حد سے بڑھ گیا ہے خاص کر بیشتر دیہاتوں کے لوگوں کو شاید واپڈا والوں نے انسان نہیں سمجھ رکھا
    دیہاتیوں کے مطابق 18 سے 20 گھنٹے روزانہ بجلی بند رہتی ہے جس سے زندگی مفلوج ہو گئی ہے
    بجلی نہ ہونے کے باعث سرکاری و نجی ٹیوب ویل بند ہیں اور پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے جبکہ گھروں اور کھیتوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے
    اہلیان علاقہ کا کہنا ہے کہ
    ہم گرمی اور پیاس سے تڑپ رہے ہیں جبکہ بچوں اور بزرگوں کی حالت خراب ہو رہی ہے
    بجلی کی بحالی کے لئے بار بار شکایات درج کرائی جاتی ہیں مگر کوئی شنوائی نہیں ہوتی
    رات کو مچھر اور حبس کی وجہ سے نیند نہیں آتی، دن میں دھوپ اور پیاس نے جینا مشکل کر دیا ہے
    واپڈا والوں کا اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو ہم سڑکوں پر نکلیں گے

    عوامی نمائندوں اور مقامی تنظیموں نے لیسکو حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال نہ بدلی تو بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے

  • ساتھ نہ چل سکیں تو راہیں الگ کر لینی چاہیں ارسہ غزل

    ساتھ نہ چل سکیں تو راہیں الگ کر لینی چاہیں ارسہ غزل

    سینئر اداکارہ ارسہ غزل نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے کہا ہے کہ میں ڈرامہ سیریل ”حبس” میں جو کردار کررہی ہوں وہ یہی بتاتا ہے کہ اگر ساتھ نہیں چل سکتے تو ایک ساتھ رہ کر ایک دوسرے کی زندگی اجیرن کرنے سے بہتر ہے کہ ایک دوسرے سے الگ ہو کر رہا جائے۔ ارسہ غزل نے کہا کہ میں نے اپنی زندگی میں اپنے اردگرد بہت سارے ایسے لوگ دیکھے جو ساری زندگی ایک دوسرے کو جھیلتے ہی رہے لیکن الگ نہ ہوئے ان کے بچوں نے ایک سٹیج پر آکر ان سے کہا کہ پلیز آپ دونوں الگ ہوجائیں تاکہ آپ دونوں خوش رہ سکیں ہم روزانہ کے لڑائی جھگڑوں سے تنگ آچکے ہیں۔ ارسہ غزل نے کہا کہ ماں باپ کے

    لڑائی جھگڑوں بچے ہی پریشان ہوتے ہیں۔ ارسہ نے یہ بھی کہا کہ مرد کا رشتہ نہ چلے تو وہ شادی کرلے اور اپنے کم عمر سے شادی کرے تو کوئی نہیں بولتا لیکن کوئی طلاق یافتہ عورت اگر شادی کر لیتی ہے تو اس کو اتنی باتیں سنائی جاتی ہیں کہ اسکا جینا حرام کر دیا جاتا ہے یہ ہماری سوسائٹی کا دوہرا معیار ہے جسے میں پسند نہیں کرتی۔ ارسہ نے یہ بھی کہا کہ جب ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں تو پھر پبلک میں اس بارے میں بات نہیں کرنی چاہیے ایک دوسرے کو چھوڑنا ضروری ہو تو عزت احترام کے ساتھ چھوڑیں۔