Baaghi TV

Tag: حب ڈیم

  • حب چینل میں کٹاؤ، کراچی کو پانی کی فراہمی 60 فیصد کم

    حب چینل میں کٹاؤ، کراچی کو پانی کی فراہمی 60 فیصد کم

    کراچی کو پانی فراہم کرنے والے حب چینل 112 میں حالیہ بارشوں کے باعث کٹاؤ اور نقصانات سے شہر میں پانی کی فراہمی شدید متاثر ہو گئی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق چینل کی مرمت کے باعث کراچی کینال اور لسبیلہ میں پانی کی سپلائی 60 فیصد کم کر دی گئی ہے۔حب ڈیم سے کراچی کو پہلے 100 ملین گیلن یومیہ پانی فراہم کیا جاتا تھا، جو اب کم ہو کر صرف 40 ملین گیلن رہ گیا ہے۔اس صورتحال کے باعث ضلع غربی، کیماڑی اور وسطی میں پانی کی فراہمی متاثر ہے، جبکہ حب شہر میں بھی پانی کی قلت کے مسائل درپیش ہیں۔

    افغانستان کا ایشیا کپ کے لیے 17 رکنی اسکواڈ کا اعلان

    مودی پھنس گیا، سب کھو دیا، امبانی اڈانی بھی جدا، جلد سی پیک فیز ٹو شروع

    ایران امریکا کے دباؤ کو کبھی قبول نہیں کرے گا، آیت اللہ خامنہ ای

    سرگودھا: پولیس موبائل رولر سے ٹکرا گئی، 1 ملزم جاں بحق، 7 زخمی

  • حب ڈیم سےنئی کنال کی تعمیر کا 87 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے،میئر کراچی

    حب ڈیم سےنئی کنال کی تعمیر کا 87 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے،میئر کراچی

    میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ حب ڈیم سے کراچی کو پانی کی فراہمی کے لئے نئی کنال کی تعمیر کا 87 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے.

    باغی ٹی وی کے مطابق حب ڈیم پر نئی کنال کی تعمیر کے مقام کا معائنہ کرتے ہوئے بیرسٹر مرتضیٰ وہابکا کہنا تھا کہ ہم نے ایک سال کی مدت میں اسے مکمل کرنے کا وعدہ کیا تھا اور انشاء اللہ اگست 2025 ء تک اس کنال سے کراچی کے عوام کو 100 ملین گیلن یومیہ پانی کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی، اس کے علاوہ پرانی کنال کو بھی بحال کیا جا رہا ہے تاکہ اضافی پانی کراچی لایا جاسکے، بلاول بھٹو زرداری اور آصف زرداری کی طرف سے کراچی کے پانی کے مسائل حل کرنے کے وعدے کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کریں گے ،پاکستان پیپلز پارٹی کا ایک ایک کارکن کراچی کے مسائل حل کرنے کے جذبے سے سرشار ہے،حب کنال کی تعمیر کے منصوبے پر کام کرنے والے عملے کو مبارکباد دوں گا ، اسی طرح محنت کریں اور اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں. اس موقع پر سٹی کونسل میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، جمن دروان اور پاکستان پیپلزپارٹی کے دیگر رہنما بھی موجود تھے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ حب ڈیم سے کراچی کو پانی فراہم کرنے والی موجودہ کنال 45 سے 46 سال پرانی ہے جس میں رسائو اور سیپیج کی وجہ سے 100 ایم جی ڈی پانی کی فراہمی ممکن نہیں ہو رہی تھی لہٰذا پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت نے حب ڈیم سے کراچی کے لئے نئی کنال ڈالنے کا منصوبہ بنایا تاکہ شہر میں پانی کی کمی کے مسائل جلد از جلد حل کئے جاسکیں اور نہ صرف یہ کہ نئی کنال کی تعمیر کے ذریعے 100 ملین گیلن یومیہ پانی کی کراچی کو فراہمی یقینی بنائی جاسکے بلکہ پرانی کنال کو بھی ٹھیک کرکے مزید پانی شہر کے مختلف علاقوں کو فراہم کیا جائے، انہوں نے کہا کہ حب ڈیم سے نئی کنال کا ارتھ ورک تقریباً مکمل ہوچکا اور اب یہ منصوبہ تیزی سے تکمیل کی طرف گامزن ہے ،انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی اپنے منشور کے مطابق عوام کی خدمت کر رہی ہے اور پانی و سیوریج سمیت مختلف شعبوں میں ترقیاتی کاموں کا سلسلہ جاری ہے، کراچی کے بنیادی انفراسٹرکچر جس میں سڑکیں ، پل اور انڈرپاسز شامل ہیں، انہیں بہتر بنانے کے لئے سندھ حکومت نے اپنے بجٹ میں رقوم مختص کی ہیں اور تمام ترقیاتی کام شفاف انداز میں بہتر معیار کو یقینی بناتے ہوئے انجام دیئے جا رہے ہیں، کراچی کے شہری خود گواہ ہیں کہ ان کے مسائل حل کرنے کے لئے بلدیہ عظمیٰ کراچی اور دیگر ادارے اپنا کردار ادا کررہے ہیں اور شہر کے مختلف علاقوں میں لوگوں کو درپیش مسائل کے حل کے لئے موثر حکمت عملی اختیار کی گئی ہے جس کے ثمرات شہریوں کو حاصل ہو رہے ہیں۔

    سندھ حکومت کادیہی معیشت کو بہتر کرنے کے لیے پروگرام شروع

    شام میں پھنسے پاکستانی لبنانی سرحد پر پہنچ گئے

    محمد البشیر شام کے نگران وزیر اعظم مقرر ہو گئے

    چیمپئنزٹرافی کا شیڈول تیار، ایک سیمی فائنل دبئی میں ہوگا

  • وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی کیلئے اضافی پانی مانگ لیا

    وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی کیلئے اضافی پانی مانگ لیا

    وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کراچی کیلیے حب ڈیم سے 50 ملین گیلن یومیہ اضافی پانی مانگ لیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) سجاد غنی سے وزیراعلی ہاس میں ملاقات کے دوروان کے فور منصوبے اور آر بی او ڈی سمیت کئی اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں وزیربلدیات سعید غنی، وزیر آبپاشی جام خان شورو، وزیراعلی کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف ، سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو اور کے فور منصوبے کے پروجیکٹ ڈائریکٹر عامر مغل نے شرکت کی۔ملاقات کے ابتدا میں مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت سندھ کراچی کو پانی کی سپلائی بڑھانے کیلیے متوازی کینال بنا رہی ہے۔ انہوں نے کراچی کی ضروریات پوری کرنے کیلیے یومیہ 50 ملین گیلن اضافی پانی مختص کرنے پر زور دیا۔چیئرمین واپڈا نے وزیراعلی کو تجویز دی کہ وہ واٹر بورڈ سے کہیں کہ اس سلسلے میں تحریری درخواست جمع کرائے جس پر میئر کراچی مرتضی وہاب نے کہا کہ تحریری درخواست پہلے ہی جمع کرائی جا چکی ہے۔چیئرمین واپڈا نے وزیراعلی سندھ کو بتایا کہ حب کینال کی مرمت کے سلسلے میں واٹر بورڈ پر واپڈا کے 1 ارب روپے واجب الادا ہیں، وزیراعلی نے جواب دیا کہ ان کی حکومت واپڈا کے واجبات کا معاملہ حل کرے گی۔ انہوں نے وزیر بلدیات سعید غنی کو سمری پیش کرنے کی ہدایت کی۔کراچی کو یومیہ 260 ملین گیلن پانی کی فراہمی کے میگا منصوبے کے 4 (فیز1) کے کینجھر جھیل سے کراچی میں تین اختتامی پوائنٹس ہیں جن میں پپری، نیک اور منگھوپیر شامل ہیں۔پروجیکٹ واپڈا بنا رہی ہے اور تکمیل کی تاریخ جون 2026 ہے۔واپڈا کی جانب سے جو تعمیرات کی جا رہی ہیں ان میں کینجھر جھیل پر 650 میلن گیلن یومیہ کا انٹیک اسٹرکچر، کینجھر پمپنگ کمپلیکس کو جانے والے 650 ملین گلین یومیہ گریویٹی چینل، کمپلیکس میں 130 ایم جی ڈی کی 2 پمپنگ اسٹیشنز ہوں گی۔ اس کے علاوہ 260 ایم جی ڈی کی پائپ لائن اور فلٹریشن پلانٹ کے ساتھ 3 آبی ذخائر کی تعمیر بھی منصوبے کا حصہ ہے۔دوسری جانب حکومت سندھ تقسیم اور توسیع کے نظام پر کام کر رہی ہے۔ 50 میگاواٹ پاور سپلائی کے انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں اور راستے میں منصوبے کے لیے درکار زمینیں حاصل کی جا رہی ہیں۔چیئرمین واپڈ نے کے 4 منصوبے پر پیش رفت کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ منصوبہ قومی اور بین الاقوامی کنٹریکٹرز کے ذریعے 8 مختلف ٹھیکوں کی صورت میں مکمل کیا جا رہا ہی. انٹیک اسٹرکچر، پمپنگ اسٹیشنز، واٹر سپلائی کے نظام، پانی کے ذخائر اور فلٹریشن پلانٹس سمیت تمام منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔
    مجموعی طور پر منصوبے پر 53 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔بات چیت میں حکومت سندھ کے حصے کے ساڑھے 8 ارب روپے کا اجرا بھی زیر بحث آیا جس پر وزیراعلی سندھ نے وزیربلدیات سعید غنی کو ہدایت کی کہ وہ سندھ حکومت کے حصے کے پیسے جاری کرنے کیلیے سمری تیار کریں۔راستے کی 5 کلومیٹر زمین اور عدالتی مقدمات کے سلسلے میں وزیراعلی سندھ نے میئر کراچی مرتضی وہاب کو ہدایت کی کہ اسٹے آرڈرز ختم کرائیں تاکہ منصوبے پر کام کو آگے بڑھایا جا سکے۔اس کے علاوہ آر ڈی 78 پر ایک اور زمین کے تنازعے پر وزیراعلی نے سینئر ممبر بورڈ آف ریوینیو کو ہدایت کی کہ معاوضے کی ادائیگی کا معاملہ حل کیا جائے۔وزیراعلی سندھ اور چیئرمین واپڈ نے وفاقی فنڈز سے بنائے گئے آر بی او ڈی 1 اور آر بی او ڈی 3 منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ آر بی او ڈی 1 منصوبہ لاڑکانہ ، دادو اور جامشورو سے سیم زدہ ، زرعی نکاسی اور سیلابی پانی کو نکالنے کی سہولت فراہم کرتا ہے جبکہ آر بی او ڈی 3 منصوبہ قمبر شہدادکوٹ اور جیکب آباد کا پانی نکالتا ہے۔لوئر انڈس رائٹ بینک اریگیشن اینڈ ڈیرینیج پروجیکٹ ( ایل آئی آر بی پی) خصوصی طور پر آر بی او ڈی 1 منصوبہ 1994 میں سیم اور سیلابی پانی کو سہون کے مقام پر انڈس لنک کینال کے راستے دریائے سندھ میں چھوڑنے کی غرض سے تعمیر کیا گیا تھا۔آر بی او ڈی 1 اور آر بی او ڈی 3 منصوبے بالترتیب 2020 اور 2021 میں مکمل کیے گئے تھے اور محکمہ آبپاشی سندھ کے حوالے کیے جانے تھے تاہم واپڈ کی طرف سے نقصانات کی بحالی اور قرضے کے تنازعات کے باعث منصوبے حکومت سندھ کے حوالے نہیں کیے جاسکے۔وزیر آبپاشی جام خان شورو نے بتایا کہ 2022 کے سیلاب کے دوروان حکومت سندھ نے آر بی او ڈی کی بحالی اور مرمت پرکروڑوں روپے خرچ کیے جس پر وزیراعلی سندھ نے کہا کہ واپڈا یہ پیسے صوبائی حکومت کو ادا کرے۔ملاقات کے آخر میں وزیراعلی سندھ اور چیئرمین واپڈا نے محکمہ آبپاشی اور واپڈا کے اراکین پر مشتمل ماہرین کی کمیٹی کے قیام پر اتفاق کیا۔ یہ کمیٹی آر بی او ڈی 1 اور آ ربی او ڈی 3 کے ایشوز کا جائزہ لے کر منصوبے حکومت سندھ کے حوالے کرنے کی راہ ہموار کرے گی۔

    ہتھنی مدھوبالا نے خود کو زخمی کر لیا، سفاری پارک منتقل

    ہتھنی مدھوبالا نے خود کو زخمی کر لیا، سفاری پارک منتقل

    خالد مقبول کا رینجرز ،پولیس اہلکاروں کی شہادت پراظہار افسوس

  • موسلا دھار بارشیں: حب ڈیم میں پانی کی سطح بلند، اپراور لوئرچترال میں بھی ایمرجنسی نافذ

    موسلا دھار بارشیں: حب ڈیم میں پانی کی سطح بلند، اپراور لوئرچترال میں بھی ایمرجنسی نافذ

    سندھ اور بلوچستان کے پہاڑی سلسلے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شدید بارشوں سے حب میں پانی کی سطح بلند ہونا شروع ہو گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : واپڈا حکام کے مطابق ہفتے کی شام حب ڈیم میں پانی کا لیول 329 اعشاریہ پانچ کے شمار پر تھا، ہفتے کی شام تک سندھ کے ضلع دادو، میہڑ سمیت سندھ اور بلوچستان میں واقع کیرتھر پہاڑی سلسلے میں غیر معمولی بارش ہوئی جس سے گزشتہ رات کو ہی پانی کے ریلے حب ڈیم پہنچنا شروع ہوگئے تھے کئی سو کلومیٹر کے کیچمنٹ ایریا سے حب ڈیم میں پانی کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

    واضح رہے کہ کراچی سے جڑے بلوچستان کے علاقے حب میں واقع حب ڈیم سے کراچی کے مختلف علاقوں کو پینے اور دیگر استعمال کے لیے جبکہ بلوچستان کے مختلف علاقوں کو آبپاشی کے لیے پانی فراہم کیا جاتا ہے گزشتہ سال غیر معمولی بارشوں کی وجہ سے حب ڈیم مکمل بھر گیا تھا۔

    نئی دہلی: دریائےجمنامیں پانی کی سطح میں ایک بارپھراضافہ

    دوسری جانب مون سون بارشوں اورسیلاب کےباعث اپراور لوئرچترال میں ایمرجنسی نافذکردی گئی سیکریٹری ریلیف کےمطابق ایمرجنسی ضلعی انتظامیہ کی درخواست پرنافذ کی گئی ہےدونوں اضلاع میں ایمرجنسی کا نفاذ 15 اگست تک ہوگاایمرجنسی متاثرہ اضلاع میں ریسکیو، ریلیف آپریشن اور بحالی کیلئے لگائی گئی۔ بارش اور سیلاب کے باعث لوئر چترال میں 39 اور اپر چترال میں 19 گھروں کو نقصان پہنچا ہے اس حوالے سے حساس علاقوں میں سیاحوں،مسافروں اور مقامی افراد کو غیر ضروری سفر کرنے سے گریز کا مشورہ دیا گیا ہے۔

    ملک کے مختلف حصوں میں آج بھی موسلا دھار بارش کی پیشگوئی

  • حب ڈیم سے اضافی پانی کو اسپل ویز کے ذریعے محفوظ طریقے سےخارج کیا جا رہا ہے

    حب ڈیم سے اضافی پانی کو اسپل ویز کے ذریعے محفوظ طریقے سےخارج کیا جا رہا ہے

    واپڈا کے جی ایم پراجیکٹس کا کہنا ہے کہ حب ڈیم مکمل طور پر محفوظ ہے-

    باغی ٹی وی : جی ایم پراجیکٹس کا کہنا ہے کہ حب ڈیم پر واپڈا کی ٹیم چوکس ہے اور آنے والے پانی کو مانیٹر کر رہی ہے حب ڈیم مکمل طور پر محفوظ ہے اور ڈیم میں آنے والے اضافی پانی کو محفوظ طریقے سے خارج کیا جا رہا ہے۔

    خیال رہے کہ کراچی اور بلوچستان کے علاقوں کو پانی فراہم کرنے والے بلوچستان کے حب ڈیم میں پانی کی سطح مکمل بھر جانے کے نمبر 339 فٹ سے بھی ساڑھے 3 فٹ بلند ہو گئی۔

    واپڈا ذرائع کے مطابق پیر کی رات حب ڈیم میں سطح آب 342 سے 343 فٹ کے درمیان تھی، یہی وجہ ہے کہ اسپل ویز سے پانی کافی تیزی سے خارج ہو رہا ہے اور ندی میں سیلابی صورتحال ہے، اسپل ویز سے پانی کے اخراج کے باعث حب ندی کے اطراف کی آبادیوں سے لوگوں کا انخلا کرنا پڑا۔

    دوسری جانب محکمہ موسمیات نے آج سندھ سمیت پنجاب اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آج کراچی، سکھر، لاڑکانہ اور جیکب آباد میں بارش کا امکان ہےاس کے علاوہ اسلام آباد، پنجاب، خیبرپختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی بادل برس سکتے ہیں اسلام آباد اور راولپنڈی کے ندی نالوں میں طغیانی اور نشیبی علاقے زیرآب آنے کا خطرہ ہے۔

    محکمہ موسمیات نے ہدایت کی ہے کہ مسافر اور سیاح موسمی حالات کومدنظررکھ کرسفرکریں اورسفرکے دوران مزید محتاط رہیں۔

    دوسری جانب بلوچستان میں وقفے وقفے سے موسلا دھار بارشیں جاری ہیں جس کی وجہ سے ندی نالوں میں طغیانی ہے سیلابی ریلوں سے بیشتر رابطہ سڑکیں بہہ گئی ہیں جبکہ اہم شاہراہیں متاثر ہوئی ہیں طوفانی بارشوں اور سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 127 ہوگئی ہے۔

  • حب ڈیم سےکراچی کو پانی سپلائی کرنے والی نہر میں شگاف:ہنگامی حالت کا اعلان

    حب ڈیم سےکراچی کو پانی سپلائی کرنے والی نہر میں شگاف:ہنگامی حالت کا اعلان

    کراچی :حب ڈیم سےکراچی کو پانی سپلائی کرنے والی نہر میں شگاف پڑگیا اور متاثرہ حصے سے بہنے والا پانی قریبی گوٹھوں کی جانب بہنے لگا ہے۔جس کی وجہ سے حکام نے اس علاقے میں ہنگامی حالت کا اعلان کردیا ہے ،

    واٹر بورڈ ذرائع کے مطابق ناردرن بائی پاس دعا ہوٹل کے قریب حب نہرکا حصہ ٹوٹا ہے، اس نہر سےکراچی کو پانی فراہم کیا جاتا ہے۔متاثرہ حصے سے بہنے والا پانی قریبی گوٹھوں کی جانب جا رہا ہے، شدید بارش کی وجہ سے یہ حصہ ٹوٹا ہے، پانی عیسٰی اور خمیسو گوٹھ میں داخل ہوسکتا ہے، ایک گھنٹہ گزرنے کے باوجود انتظامیہ نہیں پہنچ سکی، ذرائع کے مطابق کراچی میں پانی کی سپلائی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

    دوسری جانب پولیس کا کہنا ہےکہ پانی منگھوپیرکے غیر آباد علاقے میں جا رہا ہے، شگاف کو پرکرنے کے لیے مشینری لائی جارہی ہے، حب کینال کی مرمت تک پانی کی فراہمی بند کردی گئی ہے۔پولیس کے مطابق تاحال منگھوپیر کی کسی رہائشی آبادی کے متاثر ہونےکی اطلاع نہیں ہے۔

    اتوار کی علی الصبح سے کراچی اور گرد و نواح میں وقفے وقفے سے کہیں ہلکی تو کہیں تیز بارش کا سلسلہ جاری ہے۔کراچی میں اس قدر بارش ہورہی ہے کہ کراچی بارش سے پانی پانی ہوگیا ہے

    کراچی میں مون سون بارشوں کا تیسرا اسپیل اپنے اثرات دکھا رہا ہے، اتوار کی علی الصبح سے شہر کے مختلف علاقوں اور گرد و نواح میں وقفے وقفے بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں مون سون کے تیسرے اسپیل کے دوران اب تک سب سے زیادہ بارش آج سب سے زيادہ بارش قائد آباد ميں 86.5 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔رات سے مختلف علاقوں میں کہیں ہلکی تو کہیں درمیانی بارش کا سلسلہ جاری ہے ،یوں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے ذیادہ بارش قائدآباد میں 21 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی

    گڈاپ ٹاؤن20، گلشنِ حدید10، صدر9، کیماڑی8، نارتھ کراچی6.2، سعدی ٹاؤن6 ملی میٹر، جناح ٹرمینل، گلشنِ معمار، کورنگی میں 5.2، پی اے ایف فیصل بیس 4.5 ملی میٹر ایئرپورٹ اولڈ ایریا، یونیورسٹی روڈ3.6، ڈی ایچ اے فیزٹو3.4 ملی میٹر،گلشن حديد62، پی اے ايف مسرور بيس پر 54.5 ، کيماڑی ميں 54 ملی ميٹر بارش کی گئی ۔

    بارش کے پانی نکاسی نہ ہونے کی وجہ سے سرجانی ٹان ، نارتھ کراچی اور نیو کراچی میں حالات سب سے زیادہ خراب ہیں۔ کئی سڑکوں پر پانی جمع ہے جب کہ گڑھے جوہڑ بنے ہوئے ہیں۔

    کوہ سلیمان کے علاقے بغل چر میں بارشوں سے لینڈ سلائیڈنگ اور آمد و رفت کا راستہ بند

    دوسری جانب شہر کے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو دُہری اذیت کا سامنا ہے۔محکمہ موسمیات نے کراچی سميت اندرون سندھ ميں بارشوں کا موجودہ سلسلہ 26 جولائی تک جاری رہنے کی پيشگوئی کی ہے۔

    مون سون بارشوں سے متعلق محکمہ موسمیات کا تازہ الرٹ جاری

    شہر کے دورے کے دوران وزیر اعلیٰٓ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ محکمہ موسمیات نے تیز بارش کی پیش گوئی کی ہے، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ بارش رحمت والی ہو زحمت نہ ہو، لوگوں سے گزارش ہے کہ غیر ضروری باہر نہ نکلیں۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ جب بارش تیز ہوتی ہے تو سڑکوں پر پانی جمع ہوجاتا ہے۔ حکومت سندھ کے وزرا اور انتظامیہ کے لوگ سڑکوں پر ہیں، کوئی بھی صورتحال ہو انتظامیہ کو ہر جگہ موجود پائیں گے۔

    بارش برسانے والا ہوا کے کم دباؤ کا سسٹم سندھ میں داخل ،محکمہ موسمیات

    شادمان نالے میں خاتون کے ڈوبنے کے واقعے کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس واقعےکا مجھے بہت افسوس ہے، نالوں کی صفائی کا کام پورا سال چلتا رہتا ہے، شادمان نالے پر کام پہلے بھی چل رہا تھا۔

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ شہر کی صورتحال قابو میں ہے، کراچی شہرکی سڑکیں اور انڈر پاسز کلیئر ہیں، بلدیاتی عملہ میدان میں موجود ہے، سڑکوں کے اطراف جمع پانی کی نکاسی کی جاری

  • حب ڈیم سے حب ندی میں مزید ڈیڑھ لاکھ کیوسک پانی آنے کا خدشہ

    حب ڈیم سے حب ندی میں مزید ڈیڑھ لاکھ کیوسک پانی آنے کا خدشہ

    حب ڈیم کے کیچمنٹ ایریا میں پانی کے ریلوں کی آمد اور اسپل وے سے پانی کا اخراج جاری ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ڈی سی افتخار احمد نے بتایا کہ حب ڈیم سے پانی کے اخراج کے باعث حب ندی سے 44 ہزار کیوسک کا ریلہ گزر رہا ہےحب ڈیم سے حب ندی میں مزید ڈیڑھ لاکھ کیوسک پانی آنے کا خدشہ ہے حب ندی کے قریب واقع رہائشیوں کیلئے حفاظتی اقدامات کئے گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ جی ایم واپڈا عامر مغل نے 2 روز قبل بتایا تھا کہ سندھ بلوچستان میں بارشوں کے بعد کراچی کو پانی سپلائی کرنے والا حب ڈیم مکمل بھر گیا ہے حب ڈیم مکمل 339 فٹ بھر گیا ہے، 3 سال کا پانی ذخیرہ ہوگیا ہے اور اب ڈیم کا اضافی پانی حب ندی کے راستے سمندر میں گر رہا ہے اس سے قبل ڈیم 2007 اور 2020 میں بھرا تھا۔

    واپڈا ذرائع کا کہنا تھا کہ حب ندی کے کنارے آباد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے حب ڈیم اور ندی کے اطراف سیکورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں، غیر متعلقہ افراد کو ڈیم اور ندی کی جانب جانے کی اجازت نہیں ہےقبل ازیں کمشنر قلات، ڈپٹی کمشنر لسبیلہ اور ایکسین ایر گیشن نے حب ڈیم کے دورے میں اسپیل وے کا جائز ہ لیا تھا۔

  • کراچی:حب ڈیم میں پانی کی سطح بلند ہو گئی،آئندہ تین روز میں مزید بارشیں، اربن فلڈنگ کا خطرہ

    کراچی:حب ڈیم میں پانی کی سطح بلند ہو گئی،آئندہ تین روز میں مزید بارشیں، اربن فلڈنگ کا خطرہ

    مون سون کے پہلے اسپیل میں بارشوں کے بعد حب ڈیم میں پانی کی سطح بلند ہو گئی-

    باغی ٹی وی : حکام کے مطابق حب ڈیم میں پانی کی سب سےکم سطح 229 ہے،حب ڈیم میں پانی کی سطح میں 15.5 پوائنٹ کااضافہ ہوا اضافے کے بعد حب ڈیم میں پانی کی سطح 337.5 تک پہنچ گئی بارشوں سےقبل حب ڈیم میں پانی 322 پوائنٹ پرموجود تھا-

    حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مزید بارش ہوئی تو حب ڈیم کاپانی اوورفلو ہو جائے گا، اوورفلوہونےکےبعد پانی کار ساو گڈانی کی جانب ہوجائےگا،حب ڈیم اوورفلوہونےمیں صرف 1.5کااضافہ باقی ہے،ڈیم میں پانی کی سطح کی آخری حد339پوائنٹ تک ہے-

    دوسری جانب محکمہ موسمیات نے آئندہ تین سے چار روز میں شہر میں ایک بار پھر موسلا دھار بارشوں کا امکان ظاہر کیا ہے۔

    چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز نے کہا کہ اندرون سندھ میں کل صبح سے بارشیں ہوسکتی ہیں جب کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں اگلے تین سے چار دن میں اچھی بارشیں متوقع ہیں۔

    چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز نے بتایا کہ 30 جون سے ملک بھر میں معمول سےزیادہ بارشیں ہوئی ہیں اور 5 سے 11 جولائی تک شہر میں 342 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ ہوئی شہر میں آئندہ تین سے چار روزکے دوران کم از کم 60 سے 70 ملی میٹربارشیں ہوسکتی ہیں جس سے شہر میں اربن فلڈنگ کا خطرہ ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق 14 جولائی سے مون سون کا مضبوط سسٹم سندھ میں داخل ہوسکتا ہے اور مون سون سسٹم 18 جولائی تک اثرانداز رہے گا اس کے علاوہ ٹھٹھہ، بدین، عمرکوٹ اور میرپورخاص سمیت دیگر اضلاع میں 18 جولائی تک بارشوں کا امکان ہے، تیزبارشوں کے باعث نشیبی علاقے زیرآب آسکتے ہیں۔

  • بارشوں سے حب ڈیم میں پانی کی سطح میں اضافہ، پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 5.6 فٹ رہ گئی

    بارشوں سے حب ڈیم میں پانی کی سطح میں اضافہ، پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 5.6 فٹ رہ گئی

    کراچی: مون سون کی حالیہ ہونے والی بارشوں کے بعد حب ڈیم میں پانی کی سطح میں 11 فٹ کا اضافہ ہو گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : چیف انجینئر واٹر بورڈ کے مطابق حالیہ ہونے والی تیز بارشوں کے بعد ڈیم میں سطح آب 333.4 فٹ ہو گئی ہے جب کہ اس سے قبل ڈیم میں پانی کی سطح 322 فٹ تھی۔

    وزیر اعلی ٰپنجاب حمزہ شہباز کا ایس او ایس ویلج کا دورہ، بچوں اورسٹاف کو عیدی بھی دی

    چیف انجینئر واٹر بورڈ نے بتایا کہ حب ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 339 فٹ ہے جبکہ حب ڈیم بھرنے میں تقریباً 5.6 فٹ باقی رہ گیا ہے-

    ایم ڈی واٹر بورڈ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ڈیم میں پانی کی سطح میں اضافہ شہر کے لیے اچھی خبر ہے، حب ڈیم سے ڈسٹرکٹ ویسٹ میں پانی کی فراہمی میں مزید بہتری آئے گی۔

    ماحولیاتی تبدیلی شہری علاقوں کیلئے بڑا چیلنج ہے،سپریم کورٹ

    انہوں نے مزید کہا کہ حب ڈیم سے شہر کو یومیہ 100 ایم جی ڈی پانی فراہم کیا جاتا ہے،حب ڈیم بھرنے کے بعد شہر کو یومیہ 100 ایم جی ڈی پانی کے حساب سے تین سال تک فراہمی جاری رہے گی۔

    یاد رہے گزشتہ سالوں میں بھی بارشوں کے باعث حب ڈیم بھر گیا تھا جس کے بعد حب ڈیم کے اسپل ویز کھول دیئے گئے تھے۔

    آئی ایم ایف ہماری ناک سے لکیریں نکلوا چکا ہے،وزیرداخلہ رانا ثنااللہ